Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode38

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode38

نمرہ کے پاس مقدس کی.لسٹ.موجود تھی..اسنے.کچھ چیزیں.خریدیں اور.ویسے ہی واک کرنے.لگی….
اسکا دل.عجیب ئو.رہا تھا…فلحال اسکا لوٹنے کا.دل.نا تھا..اسنے موبائل.نکال.کر.دیکھا.تو.بیٹری ڈیڈ تھی…رات کو استعمال کرنے کے بعد اسنے چارج نا کیا تھا…
اتنے میں مغرب کا.وقت ہونے لگا..ہلکا ہلکا اندھیرا چھانے لگا تھا…نمرہ کو.واپسی کا.خیال آیا تو وہ واپسی کے لیے چل.دی…
💖💖🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
فرحان میٹنگ سے فارغ ہو کر سیدھا اس.ریسٹورنٹ گیا تھا…..
اسنے.گاڑی پارک کی جو اسے ابھی کمپنی کی طرف سے ملی تھی…
اندر جا کر.نگائ دوڑائی تو اسے.کہیں بھی بلاول اسکی فیملی یا نمرہ نا.دکھی تھی….
اسنے.اچھی طرح.دیکھا ہر وہ کہیں نا.تھی…
اسنے.موبائل.نکال کر نمرہ کو کال کی مگر اسکا نمبر بند تھا…
.چیک کیا.کہ.شاید کوئی پرانا نمبر ئو.بلاول.کا….مگر بے سودِ….اسنے فوراً اپنی فیس بک کھوکی کیونکہ بکاول وہاں ایڈ تھا…
اسنے فوراً اسجو میسج کیا…صد.شکر وہ آن لائن تھا…
کدھر ہو.تم.لوگ؟؟ نمرہ کہاں.ہے؟
فرحان.نے ہوچھا تھا…
ہم گھر آگئے یار کال آگئی تھی امی کی…
بھابھی تو.چلی.گئی تھیں. .
اسنے.بتایا…
کہاں چلی گئی؟؟ فرحان.نے فوراً پوچھا تھا…
وہ کہہ رہی تھیں شاپنگ کرنی ہے تھوڑی..میں نے کافی انسسٹ کیا.کہ ڈراپ کر دوں.مگر انھوں.نے.انکار کر دیا..اب.تک گھر چلی.گئی ئونگی…
اسنے فرحان.کو.بتایا…..
اوکے ٹھیک…
فرحان جو اطمینان ئوا…
وہ فوراً گاڑی نکال.کر.فلیٹ کی طرف بڑھ گیا…
مگر یہ کیا.جب وہ پہنچا تو آگے سے دروازہ باہر سے لاک.تھا…
اسنے دوسری چابی.سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا …گھر میں خاموشی تھی…
نمرہ؟؟
اسنے آواز.دی.مگر جوئی جواب.نا آیا…
اب.سہی.معنوں میں اسکو.پریشانی نے آن.گھیرا تھا…ہورا گھر.دیکھا.مگر وہ ہوتی تو.ملتی نا…اسنے دوبارہ کال کی.مگر فون آف تھا…
فرحان کا دل زور زور سے دھڑکنے.لگا تھا…وہ کہاں.دیکھتا اسکو؟؟ کدھر تھی وہ؟؟ اس دیارِغیر میں اکیلی اوہر سے رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا…
دوبارہ اٹھا اور باہر نکل گیا…وہ آس پاس کی سڑکوں ہر گاڑی دوڑاتا دیکھنے لگا…
ہر لڑکی کو وہ مڑ مڑ کر دیکھتا…
اسکو شدید ٹینشن ہونے.لگی تھی…اور نمرہ کی کاہرواہی ہر غصہ بھی آنے.لگا تھا…ملک وجاہت نے خصوصاً اسے اسکا خیال رکھنے کا.کہا تھا….
کہاں ہو آخر تم….
فرحان نے دل میں پوچھا تھا….
اگر وہ کسی مشکل میں ہوئی؟؟ اللہ نا.کرے…
اس سے آگے وہ نا سوچ سکا…ایک تو دوسرا.ملک اوپر سے یہاں.کا آزاد.ماحول….
مسلسل بیس منٹ سے وہ ہاگلوں کی طرح ڈرائیو کرتا اسکو ڈھونڈ.رہا تھا..
اگر وہ مجھے.نا.ملی.تو؟؟ نہی نہی…ایسا.نہی.ہوسکتا…
اب اتنی.فکر کیوں فرحان.شاہ؟؟ جب تک وہ تمہارے سامنے تھے تمہارے ساتھ تھی تب کبھی تم.نے قدر نا کی تو اب یہ بے بسی کیوں؟؟ اسے کھونے کا ڈر.کیوں آخر؟؟
ضمیر نے اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا…
ہاں ہے.مجھے.فکر…کیوں.کہ…..
کیوں.کہ….
ہاں محبت کرتا ئوں.میں نمرہ سیال سے…عشق ہے وہ میرا…. نہی جی سکتا اس کے بغیر…
بالآخر ر وہ مان گیا تھا..وہ سچ جو وہ پچھلے تین سال سے جھٹلا.رہا تھا….
مانتا ئوں تکلیف دی ہے اسکو….پر ایک بار یا اللہ ایک بار مل.جائے وہ..تو.ایک بار.مجھے.میری نمرہ دے دے ….میں. .میں سب سہی کر دوں.گا…
وہ..وہ چاہتی ہے.نا.میں.معافی.مانگوں جھکوں اس کے آگے..میں.مانگوں گا معافی…جھک جاؤں گا..چھوڑ دونگا اپنی ضد اپنی انا…پر اسکو.نہی.کھو.سکتا میں. .بہت مشکل.سے دوبارہ ملی.ہے وہ..اب.نہی برداشت اسکی دوری….
وہ اظہار کر.رہا تھا.محبت بالآخر اپنا آپ منوانے میں آج.کامیاب ٹھہری تھی……انا.کا بت پاش پاش ہوا تھا جبکہ.دل تو اس وقت رو رہا تھا….
اس وقت وہ ایک ہارا ہوا انسان.لگ رہا تھا…وہ فرحان.شاہ جو اپنی” میں”کے آگے کچھ نا.دیکھتا تھا نا سنتا تھا…اس وقت وہ اس.لڑکی.کے.لیے رو رہا تھا…
لوٹ آؤ نمرہ…یہ فرحان شاہ کچھ نہی پمہارے بغیر……فرحان.شاہ کی سانسوں میں.بستی ئو.تم…عادی.ئو.گیا ہوں.تمہارا..
میں تمہارے تمام گلے شکوے دور کر دونگا..بے تحاشا.پیار دوں گا تمہیں. ..بس ایک بار مل جاؤ…..
اسے ساتھ ساتھ غصہ. بھی آرہا تھا…اسکا دماغ سخت خراب ئونے لگا تھا…ضرورت ہی کیا تھی اسے.نمرہ کی.ماننے کی آخر…
پچھلے چالیس.منٹ میں آس ہاس کی کوئی جگہ نا چھوڑی تھی اس نے…کہاں کہاں.کی.خاک نا چھانی تھی…وہ پاگلوں کی طرح اپنے بیوی کو دھونڈ رہا تھا…پر وہ کہیں نا تھی…
بالآخر اسنے پولیس.ٹیشن جانے کا.سوچا…
اسنے جیب سے.موبائل نکالنے کے لیے ئاتھ ڈالاتو جیب خالی تھی…
افف…ڈیمممم….
اسنے سٹیرنگ ویل پر مکا دے مارا..وہ اسکا نمبر ٹرائے کرنے کے بعد.فون گھر ہئ چھوڈ آیا تھا….
اسنے گاڑی فلیٹ کے راست پر ڈال دی…. فون.لے کر وہ پولیس سٹیسن جانے کا ارادہ رکھتا تھا..
گاڑی ہارک کر کے وہ تقریباً بھاگتا ئوا فلیٹ تک گیا….جو لہ دوسری منزل ہر تھا…
جلدی سے چابی.نکالی اور.مین ڈور کھول.کر اندر داخل ہوا.گیلری عبور کر کے وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو صوفے ہر دو شاپنگ بیگز دیکھ.کر ٹھٹھکا تھا…
اپنے.میں کچن سے.کھٹ ہٹ کی آواز آئی..وہ تقریباً بھاگتا ہوا کچن جو.لپکا تھا….
سامنے نگاہ اٹھائی تو وہ آرام سے پلیٹ میں فروٹس کاٹ رہی تھی…
اسے سامنے دیکھ جو تو ایک لمحہ اسکو خواب لگا…مگر پلک جھپکنے پر. اندازہ.ہوا وہ خواب.نا.تھا بلکہ.وہ واقعی اس کے سامنے تھی….اوور کوٹ اور مفلر وہ اتار چکی تھی…نرم سے سلیپرز.پہنے…بلیک جینز اور سفید کرتے میں. ..آدھے بالوں لو.کیچر میں مقید کیئے…باقی بال کمر.سے سے سات آٹھ انچ.نیچے جا رہے تھے….
تمام کا ایک سیلاب تھا.ِِِخوشی, تشکر, بےیقینی, اطمینان اور طیش…تمام جذبات نے مل کر ایک جذبے کو.ابھارا تھا…وہ تھا غصہ….وہ اگلے ہی لمحے شدید بھڑکا تھا…..
.وہ ادھر پاگلوں کی طرح اسکو ڈھونڈتا پھر رہا تھا اور یہ مھترمہ موبائل آف.کیئے مزے اور بے فکری سے فروٹس انجوائے کر رہی تھیں. ..وہ ایک دم اس پر لپکا تھا….
نمرہ نی.نگاہ اٹھائی تو فرھان.اسکی طرف آرہا تھا…
آگئے آپ..
وہ ابھی بول ہی سکی تھی کہ فرحان کی آنکھوں نے اسکی زبان روک دی..بے تحاشا سرخ آنکھیں. … اور غصے سے بھرا.چہرہ…
انکو کیا.ئوا؟؟؟
اسنے.فوراً نمرہ کو دونوں کندھوں سے جھپٹا تھا….
کہاں تھی تم؟؟ وہ دھاڑا تھا…اس قدر زور سے.کہ وہ کانپ گئی..پورے فلیٹ میں اسکی آواز گونجی تھی….
مم..میں…
وہ ابھی بول ہی نا.ہائی کہ.وہ پھر سے دھاڑا….
کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں کہاں.کہاں مارا مارا.نہی.پھرا میں. ..کوئی فکر ہے تمہیں. …
ایک دم.فرحان.نے اسکا.منہ دبوچا تھا….
بہت شوق.ہے.نا.تمہیں اپنی خود.سری دکھانے.کا…میری بات نا.ماننے کا….
اسکی آنکھیں خون آلود ہو رہی تھیں. …جبکہ.سانسیں ہموار نا.تھیں. …
نمرہ کا جبڑا درد.کرنے.لگا..اسنے اسکا ہاتھ جھٹکنا چاہا مگر فرحان نے بہت سختی سے دبوچا.تھا.اسکو…..
منع.کیا تھا نا اکیلی مت جانا…کہا.تھا.نا.انتظار.کرنا.میرا ادھر..تو آخر سن.کیوں نہی لیتی میری بات…کیوں ہر بار ضد کرتی ہو …
اسنے اسکا منہ مزید قریب کیا تھا..جبکہ اسکی.لگاتار دھاڑ نمرہ کی سانسیں.ہوا.کر رہی تھی..شدید.تکلیف اٹھنے لگی تھی اسکے.جبڑوں میں. .آنکھوں میں نمی ابھری تھی…
اسے تو.اندازہ ہی نا تھا ئوا.کیا…
چھ…چھوڑیں مجھے….نمرہ.نے ایک دم دھکا دیا تھا اسکو…دور ہٹیں..مت ہاتھ لگائیں. .کیا کیا ہے مین نے..اور کیوں.نا.جاتی اپنی مرضی سے میں اپکی بات ماننے کی پابند نہی ئوں…
وہ بھی.جواباً چینخی تھی….
فرحان پھر سے آگے بڑھا…اسکا دھکا دینا اوپر سے بد زبانی…!!!!!!!!!
وہ مزید بھڑک گیا….
ہو میری بات سننے.اور ماننے.کی پابند تم…سمجھی..بالکل ہو…اور یہ کیا ہر وقت ہاتھ نا لگائیں…
کیوں نا لگاؤں ہاتھ…. بیوی ہو تم میری..سمجھی…لگاؤں گا ہاتھ…غیر نہی ہوں کوئی….
اسنے اسکی کمر کے گرد بازو کر کے دوبارہ اسکو.اپنی.گرفت میں لیا تھا….دونوں میں ایک انچ کا فاصلہ بھی نا رہا تھا…..
کہاں کئاں نہی ڈھونڈھا میں نے تمہیں. … کتنا خوار ہوا ہوں میں… برے خیالات اوع وسوسوں کے ساتھ ہر پل تمہاری سلامتی کی دعا مانگتا….
فرحان نے طیش میں اپنے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی.انگلی اٹھا کر اسکے ماتھے پر رکھی تھی….
سمجھتی کیا ہو تم …یہ دماغ اور زبان صرف غصہ کرنے کے.لیے چلتا ہے کیا؟؟؟
آئندہ مجھے.بتائے بغیر کہیں جانے کا سوچا بھی تو ٹانگیں توڑ دونگا سمجھی….
وہ پھر.سے دھاڑا تھا…
نمرہ کی آنکھیں رواں ہونے کو تیار تھیں. ..
فرحان ایک لمھہ گزرے بغیا ایک دم آگے کو جھکا.تجا اور اسکے لبوں پر اپنے لب رکھے تھے…
نمرہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا…آنسو اب رواں ہو چکے تھے….
اسنے اسکے.کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکو پیچھے دھکیلنا چاہا تھا..مگر وہ ایک لمبا چوڑا مرد تھا جبکہ.وہ نازک سی لڑکی….
اسنے فرحان سے سینے پر دھڑا دھڑ مکے رسید کرنے شروع کر دیئے…
فرحان نے اسکے دونوں ہونٹوں کو سختی.سے اپنے عنابی لبوں کے درمیان لیا تھا…اسکی.مزاحمت کرنے کی وجہ سے اسنے اپنا ئاتھ جو نمرہ کی.کمر کے گرد تھا اسے ہٹا کر دونوں ہاتھوں میں اسکے دونوں ہاتھ لیے اور اسے جھٹکے سے چند قدم.کے فاصلے پر موجود دیوار کے ساتھ لگایا تھا….اسکی دونوں ہاتھ وہ.دیوار سے لگا چکا تھا….جبکہ اسے ہونٹوں. کو
اپنے لبوں.میں اسنے زور سے دبایا تھا گویا.مزاحمت روکنے کا.اشارہ تھا یہ….
ایک.منٹ گزرا پھر دوسرا…نمرہ کو.اپنا.سانس بند ہوتا.مھسوس.ئوا تھا….وہ جو کچھ لمحوں کے لیے پر سکون.ہوئی تھی.دوبارہ سے ہلی.تھی….
فرحان نے دھیرے سے اسکے لب آزاد کیے تھے….اور اگلے.لمھے زور سے اسے خود میں بھینچا تھا….
وہ دونوں بے خودی.کی.کیفیت میں تھی…
🔥🔥بے خودی بے سبب نہی غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے🔥🔥
بہت ڈر گیا تھا میں ِ.مجھے لگا تمہیں کھو دیا میں نے… سانس لینا مشکل.لگ رہا تھا مجھے….
مجھے چھوڑ کر مت جانا..کبھی بھی نہی..تمئاری دوری برداشت نہی کر پاؤنگا میں.
وہ اسکو زور سے خود میں بھینچے اسکی کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں اپنا حال بیان کر رہا تھا….
کیا.کچھ نا.تھا اسکی آواز میں…
اسے.کھو دینے کا ڈر, اسے پا لینے کا.تشکر,
اسکے مل جانے کی خوشی., سامنے ہونے کا سکون….
نمرہ کو اپنی پسلیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں. …
ایک تو وہ اس پر چینخا چلایا…پھر اسکی مرضی کے خلاف جا کر وہ “حرکت” اور اب یہ سب…. وہ پل میں کیا سے کیا ہو جاتا تھا…
اسنے دوبارہ مزاحمت کی تھی…
فرحان نے اسکو آہستہ سے خود سے الگ کیا…اسکی الگ کرنے کی دیر تھی کہ سناٹے میں ایک آواز گونجی….
چٹاخ!!!!!!
نمرہ کا.ہاتھ اٹھا تھا اور فرحان کے گال پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا….
یہ سب ایک لمحے میں کیسے ہوا ان دونوں کو اندازہ نا.تھا….
مگر تھپڑ مارنے کے بعد جیسے وہ ہوش میں آئی …اسنے فوراً اپنا ہاتھ دیکھا …..
یہ…یہ کیا.کر دیا تھا اسنے؟؟؟
اسے ایک دم.احساس.ئوا تھا…مگر اب وہ ایسا کر چکی تھی….
اسکی سانسیں اتھل.پتھل تھیں ِِِِ…
وہ شدید طیش اور صدمے میں تھی مگر یہ کرنے کا تو وہ سوچ بھی نہی سلتی تھی…اسنے ٹرانس.کی سی کیفیت میں اپنا ہاتھ پھر دیکھا….
جبکہ فرحان شاہ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے..اسنے ایک.دم.نگاہ اٹھا کر اسکا چہرہ دیکھا…جو آنسوؤں سے بھرا ئوا تھا…
دونوں کی نظریں چار ہوئیں. …
مم…میں…میں نے…..
وہ سکتے میں جیسے کچھ بولنا چاہ رہی تھی یا وضاحت دے رہی تھی..
مگرر الفاظ نے ساتھ نا.دیا…
ایک دم.سے وہ سائیڈ سے.نکلتی وہاں سے بھاگی تھی….اور فوراً جاکر کمرے میں بند ہوئی تھی….
اسنے جلدی سے دروازہ لاک کیا تھا…آنسو تھمے نا تھے…
دروازہ لاک کر کے وہ وہیں بیٹھتی چلی گئی….اسنے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دیکھا تھا..
یہ..یہ کیا.ہو.گیا مجھ دے؟؟
اسنے ایک دم نفرت سے اپنے ہونٹ رگڑے تھے جہاں فرحان کے ہونٹوں کا لمس بری طرح اسے جھلسا رہا تھا….
وہ روتے ہوئے بے دردی سے انھیں رگڑے گئی تھی….وہ اس کے ساتھ ایسی کوئی “حرکت” کیسے کو سکتا تھا…
وہ یقین.نہی کر پا رہی تھی…کیونکہ اب تک.جب جب وہ اس کے قریب آنے کی کوشش کرتا وہ اسے جھٹلاتی آئی تھی…اور وہ زبردستی نہی کرتا تھا..مگر اب!!!!
جبکہ باہر کھڑے فرحان کو اب تک یقین.نا آیا تھا کہ وہ اسکو اسکی اس.جسارت پر تھپڑ جیسے تمغے سے نواز چکی تھی….
🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼
نمرہ مغرب کے قریب گھر آئی تو گھر لاک تھا…اسنے لاک کھولا اور شاپنگ بیگ صوفوں پر رکھے اور فریش ئونے چل.دی….
فرحان کو گھر نا.ہا کر وہ سمجھی وہ ابھی تک فارغ نا.ئوا ہو گا…جبکہ درحقیقت وہ گھر کا.چکر لگا کر اب انتہائی پریشانی کے عالم میں سڑکیں چھان رہا تھا….
فریش اور ہلکی پھلکی ہو کر وہ کچن میں آئی. اور فروٹس دھو کر کاٹنے ہی لگی تھی کہ فرحان اچانک سامنے آیا….
آپ آگئے…
ابھی وہ بولنے بھی نا پائی تھی کہ اسکی نظر اسکی سرخ آنکھوں.اور خونخوار تیوروں پر پڑی….مگر اسکے کچھ نھی سوچنے سمجنے سے ہہکے وہ اس کی جانب لپکا اور اس پر چڑھ دوڑا تھا
_______
اسنے دانستہ طور.پر اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنا گال چھوا تھا جہاں.وہ اپنی انگلیوں کی چھاپ چھوڑ کر گئی….
اگلے ہی لمحے شیدید ترین لاوہ ابلا.تھا ان کے اندر…. اسنے یہ سب کیوں.کیا.تھا؟ محض اس لیے کیونکہ.اسنے.اس.پر اپنا حق جتایا تھا… شوہر ہونے کا چھوٹا سا حق…اپنی محبت اور جذبات کا ابھار اس.پر ظاہر کیا تھا…. ہاں.اسے نہی پتا تھا.کیسے.اظہار کرنا.ئوتا ہے… اسنے.تمام ایموشنز.کے زیرِ عصر ایسا کیا تھا…وہ روک نہی پایا تھا خود کو….اسے محسوس کرنا.چاہتا تھا…خود کو.یقین دھانی کروانا.چاہتا تھا کہ وہ واقعی اس کے سامنے تھی سہی سلامت…ورنہ گزشتہ ایک گھنٹے نے اسکی زندگی گھما کر رکھ دی تھی…. کن کن.تکالیف سے نا گزرا تھا وہ…اسے کھونے جا ڈر شدید تھا….
اور کیا ہی کیا تھا اسنے ایسا؟؟؟ وہ اسکی شرعی اور قانونی بیوی تھی… وہ اس سے بھی بہت زیادہ کا حق رکھتا تھا مگر اسکی عزت کرتا تھا…اسکی بات کی ویلیو کرتا تھا….
انا اپنی جگہ مگر اسنے کبھی بھی ایک کم ظرف مرد کی طرح محض عورت کا غرور توڑنے اور عقل ٹھکانے لگانے کے لیے خود کو مسلط نا کیا تھا اس پر…. اسکی نسوانیت کو مہرہ بنانے کا وہ سوچ بھی نہی سکتا تھا….
مگر وہ محبت کرتا تھا اس سے…اسے بھی اپنے محبوب کر قرب کی چاہ تھی خاص کر جب وہ اپکا محرم ہو….
مگر اب اسے اندازہ ہوا تھا اس انا کی جنگ نے شاید بہت دور کر دیا تھا ان دونوں کو….انکے رشتے کو وہ دیمک کی طرح کھانے لگی تھی….
ان میں فاصلے لا رہی تھی….
مگر وہ اپنا دور ہو چکے ہوں گے اس بات کا ادراک تو ابھی ہوا تھا اسکو….وہ ادراک کروا کر گئی تھی…..مگر قصور وار کون تھا؟؟؟
فرحان شاہ…اندر ے ایک آؤاز آئی تھی…
ہاں کس حد تک وہی تو تھا … وہ اس سے بڑا ہو کر بڑا پن نا دکھا پایا تھا …. اسنے بھی تو کوئی کسر نا رکھ چھوڑی تھی… مگر…
وہ پھر شاید اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہو
ا تھا….
وہ غصے سے روم کی طرف لپکا تھا…اسنے زور سے دروازہ بجایا تھا….
وہ جو اندر بیٹھی ابھی تک منہ پر ہاتھ رکھی سسک روکنے کی کوشش کر رہی تھی ایک دم خوفزدہ ہوئی….مگر خاموش رہی…
فرحان.نے دوبارہ دروازہ پیٹا تھا….
دروازہ کھولو.نمرہ!! وہ دھاڑا تھا….مگر بے سود…اسکا میٹر مزید آؤٹ ہوا تھاِ..
I said open the door dammit!!
اسنے دروازے پر مکا دے مارا تھا….
If you will not open it right now, i will not restrain my self!!!!
جاری ہے 🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *