Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode48

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode48

صبح وہ تینوں کافی لیٹ اٹھی تھیں……..
ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو.کر وہ ایمن کو پارلر لے گئی تھیں….
چونکہ سالار لوگوں نے مہندی گاؤں سے لانی تھی تو انکی آمد مغرب تک متوقع تھی…..
زیادہ لیٹ ہوناواپسی پر مسئلہ بن سکتا تھا…..
ظہر کے وقت وہ پارلر آگئی تھیں….
ایمن کا انھوں نے برائیڈل فیشل کروایا تھا جبکہ مقدس اور نمرہ نے فریش لک کے لیے سادہ فیشلز کروائے…
وہ شادی کے بعد پہلی بار دوبارہ پارلر آرہی تھی….اسے اچھے سے یاد تھا کیسے وہ دونوں اسے پکڑ کر پارلر لے آئی تھیں اور اسکے چہرے پر پتا نہی کون کون سا فیشل.کروایا تھا…
اسکے بعد ایمن کا خوبصورت مگر نیچرل سا میک اپ کیا گیا تھا….
نمرہ اور مقدس بھی تیار ہوئیں…
اس دوران عصر ہو چکی تھی…
اور پھر وہ مغرب سے گھنٹہ پہلے واپسی کے لیے نمکل پڑیں…..
گھر داخل ہوئیں تو پورا گھر بےتحاشا خوبصورتی سے پھولوں سے سجا دیا گیا تھا…
ہر طرف رنگ بکھرے تھے جیسے بہار سی چھا گئی ہو…
مغرب کی کچھ دیر بعد ہی لڑکے والے مہندی لے کر پہنچ چکے تھے..
سفید کرتا شلوار پر کالی واسکٹ پہنے وجیہہ چہرہ لیے سالار کافی خوش لگ رہا تھا…..
انکا استقبال کر کے نمرہ اور.مقدس کو ایمن کی امی نے اسے لانے.کا کہا تھا…
وہ.دونوں.ایمن.کو.لینے چل.دیں…
سالار کی نگاہ سامنے آتی ایمن.پر اٹھی تو اسکی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی….
یلو کے ساتھ فیروزی اور پلم کنٹراسٹ کو خوبصورت گوٹے والا ٹخنوں تک آتا شیفون کا انگرکھا سٹائل فراک پہنے, پاؤں میں.کولہ پوری چپل, بالوں کی میسی بریڈ بنائے جس سے بہت سی لٹیں نکال کر تھوڑی تھوڑی کرل کی گئی تھیں. … جبکہ چٹیا میں چھوٹے چھوٹے تازہ موتیے کے پھول لگائے گئے تھے….
بڑئ بڑی گھنیرئ مڑی ہوئی پلکوں کو مسکارے سے مزید دلکش بنائے , کاجل کی دھار سے لبریز. وہ آنکھیں سیدھا سالار کا دل دھڑکا گئی تھیں…
ماتھے پر تازہ پھولوں. کر جھومر ایک طرف لٹکایا گیا تھا اور کانوم میں بندے تھے…
ہاتھوں میں.مہکتے گجرے, وہ نے تحاشا پیاری لگ رہئ تھی….
جبکہ مقدس نے آج اورنج اور پنک کلر کا لہنگا ہہنا تھا…جو اسکی.دودھیا رنگت پر خوب کھل رہا تھا…
نمرہ نے فرحان کا خریدہ ہوا ڈریس زیب تن کیا تھا…جو پرپل گرین یلو اورنج اور فیروزی کے امتزاج کا گھٹنوں سے نیچے آتا امبریلا فراک تھا جس کا فرنٹ اوپن تھا…فراک کے ساتھ کھلا پلازو تھا جو پہنے ہوئے لہنگے کی کل دیتا تھا…نازک پاؤں میں گوٹے کے پھول والے کھسے تھے…کانوں میں لٹکتے لمبے لمبے سٹائلش بندے….اور کلائیوں میں تازہ پھولوں کے گجرے پہنے وہ کوئی پری معلوم ہوتی تھی…میک اپ سے انکا حسن.مزید دو اتشہ ہو.گیا تھا…
ایمن.کی.نگاہ سالار کی جانب اٹھی تو ایک پل دونوں.کی نظریں ٹکرائی تھیں. .مگر اگلے ہی لمحے وہ نگاہ جھکا گئی…
اسے وہ سب یاد آیا تھا سالار کا فضول بات کرنا ..اسکا رویہ…اتنے جکدی بھلائے جانے کے قابل نا تھا…
اسے لا کر سالار کے ساتھ بٹھا دیا گیا تھا…
سالار نے قرےب ہو کر اسکے کان میں سرگوشی کی تھی…
ماشاءاللہ آپ حسین ہیں…
جبکہ اسکی بات سن.کر اور اس.قدر.قریب پا.کر ایمن کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں..
اسنے سالار کی.بات کا کوئی جواب.نا.دیا..
سارے کزنز بھی ساتھ تجے جن میں معاذ بھی تھا…. مگر اس دن کے برعکس سالار ہنس ہنس کر معاذ سے گپیں لگا رہا تھا…
ایمن.کوحیرت ہی تو ہوئی تھی کبھی اسکی وجہ سے وہ اس سے روڈ ہو جاتا اور اب خود….
اسے افسوس ہوا تھا…
جبکہ ایمن کا.بے.تاثر رویہ سالار کو سمجھا گیا تھا کہ وہ اس سے خفا تھی…
ایمن کے گاؤں سے لوٹ جانے کے بعد جب سالار. سے معاذ.ایمن.بھابھی ایمن بھابھی کہہ کر باتیں.کرتا تو اسے اندازہ ہوا تھا اسنے کتنی غلط بات کر دی تھی ایمن.سے غصے میں..مگر اب وہ واپس جا چکی تھی…
وہ پشیمان ہوا تھا. …
ایمن کی ناراضگی دیکھ کر اسے اندازہ ہو رہا تھا اسے منانے کے لیے سالار کو پاپڑ بیلنے پڑیں گے…
ایمن کی.طبیعت ایسی تھی ہی.نا کہ وہ بلاوجہ کسی سے ناراض ہوتی یا نخرہ دکھاتی…وہ ایک نہایت سلجھی ہوئی نرم سی لڑکی تھی اور کسی حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند…..
رسم شروع کی گئی تو سن.نے ایمن اور سالار کو مہندی لگائی .اور منہ میٹھا کروایا….
ساتھ ساتھ ینگ پارٹی کا ہلہ گلہ اور مذاق بھی جاری تھا….
نمرہ اور مقدس نے سالار سے اچھی خاصی بھاری رقم بٹوری تھی….
جبکہ ایمن.کی ساس تو بہو اور بیٹے کی بلائیں لیتی نا تھکتی تھیں…وہ جناتی تھیں وہ سالار کی محبت تھی…
بالآخر دس بجے کے قریب وہ لقگ لقٹ گئے تھے کیونکہ سفر کرنا تھا اور کل ہی بارات بھی تھی…
ایمن کمرے میں آئی اور. پھولوں کی جیولری اتارنے لگی….
نمرہ اس کے پاس بیٹھ گئی تھی…
ایمن تو ابھی تک ناراض ہے ساکار بھائی سے؟؟؟
اسنے.فکرمندی سے پوچھا تھا..
اس سے کیا فرق پڑتا ہے نمی…ہواتا تو وہی ہے جو یہ مرد چائتے ہیں… جب انکا دل کیا مجھ پرانگلی اٹھا لی اور اب ایسے بی ہیو کر رہے تھے جیسے کوئی بات ہی نا.ئو…
اسنے دکھ سے کہا تھا…
جانتی ہوں…
ننرہ نے سانس خارج کر کے کہا تھا…
میں تجھے کہتی تھی نا.بار بار تو فرحان.بھائی سے روڈ مت ئو..تب مجھے تیری تکلیف کا اندازہ نہی تھا اب ملی ہے تو پتہ چلا…تو سہی تھی…
ایمن نے.نمرہ کا ہاتھ تھاما تھا..
ہنہ..مگر سہی ہو کر بھی کیا ملا مجھے؟؟
اسنے جواب دیا تھا…
مگر نمرہ تجھے فرحان.بھائی نے وہ تکلیف تو نا.دی نا..انھوں.نے کبھی تجھ پر غلطی سے بھی شک نہی کیا..نا کوئی سوال….ہمیشہ اعتماد تو کیا نا…
ایمن.نے اسے سمجھایا تھا
اعتماد توڑ کر اعتماد کیا ہے نا…اور اب چاہتے ہیں معاف کر دوں…
نمرہ نے سر جھکا کر کہا تھا.
کیا؟؟ انھوں.نے.معافی مانگی تجھ سے؟؟
ایمن.کو حیرت ہوئی تھی کہ.فرحان اور معافی….
اتنے میں مقدس بھی چینج کر کے باتھ روم سے.نکلی اور انکے پاس چلی آئی…
ہاں مانگی..ہی سیڈ سوری ٹو می…
نمرہ نے بلا تاثر جواب دیا تھا…
کب ہوا یہ؟؟ مقدس بیچ میں کودی تھی…
جب ہم لندن گئے تھے…
نمرہ نے بتایا تھا…
اور تو اب پھوٹ رہی ہے سب..کتنی میسنی ئو گئی تو نمی…
مقدس.نے اسکے بال کھینچے تھے…
اب ایسا بھی کیا تھا منہوس جو اعلان کرتی آکر…
ننرہ نے اسکے ئاتھ سے اپنے بال لئے تھے…
تو تو نے کیا.کہا نمی؟؟
ایمن.نے پوچھا تھا
میں نے یہی کہا میں معاف نہی کر سکتی..ِنمرہ نے شانے اچکا کر جواب دیا..
پر کیوں؟؟
ایمن نے پوچھا تھا..
کیونکہ میں چاہتی ہوں انکو بھی پتہ چلے بے بسی کسے کئتے ہیں….اعتماد توٹنا کیا ئوتا ہے… دھوکہ دہی انسان کو کیسے توڑتی ہے…کسی پر اندھا اعتبار کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے…. برداشت کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے…اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو پھر سے خود اکھٹا کر کے اہنے ہاتھوں سے پیوند لگانا کتنا تکلیف دہ مرحلہ ہے….. کیسا محسوس ہوتا ہے جب کوجی آپکی ذات کو ٹھوکر مارتا ہے… اپکو اپکی ہی نظروں میں پستی مں دھکیل دیتا ہے… آپ کے وجود کو ٹھکراتا ہے…کتنی کاری ضرب لگتی ئے اہنی انا پر… کتنی بری طرح.اپکی عزتِ نفس.روندھی جاتی ہے..مجروح کیا جاتا ہے آپکو…اتنا آسان نہی ہوتا ایمن…بالکل آسان.نہی.ہوتا…
کیا کچھ.نا تھا نمرہ.کی آواز میں دکھ, کرب, تکلیف
وہ دونوں ایک دم مرجھا سی گئی تھیں..سچ ہی تو کہتی تھی وہ….
لیکن نمی…تو سمجھداری سے کام لے نا میری جان..تو تو.سمجھدار ہے نا…اگر فرحان.بھائی.نے غلطی.کی تو وہ پچھتا بھی رہے ہیں.. تو تو وہ غلطی مت دہرا نا… کتنا وقر ضائع کر دیا تم.دونوں.نے…حالانکہ وہ تجھے چاہتے ہیں اور تو انکو…
ایسا نا.ئو.دیر ہو جائے اور تو پچھتا بھی نا.سکے…
ایمن.نے اسے سمجھایا تھا…
نہی ایمن وہ.مجھے.نہی چاہتے..نا کل چاہتے تھے.نا آج چاہتے ہیں…دکھ اسی بات کا تو ہے …معافی تو مانگ لی مگر کیوں؟؟
کیونکہ وہ چار پانچ.ماہ میں ہی عاجز آنے لگے تھے شاید… مردوں کی وہ.برداشت کہاں.ہوتی ہے.جو.عورت دکھاتی ہے….
ان دو ڈھائی سالوں.کے آگے یہ چند ماہ.تو.بہت کم ہیں…
اسنے بھیگی آواز میں.جواب دیا تھا…
نمی تو بھلا.دے سب… تو بھی انکی طرف قدم بڑھا تو وہ بھی چاہینے لگیں گے تجھے… تو مو و آن کر تو سہی… مضبوط بن نا..تو.بہت مضبوط ہے ..بہت ظرف ہے تیرا..بہت ہمت والی ہے ہم جانتے ہیں…ا
اب کی بار مقدس نے اسکا کندھا تھام کر سمجھایا تھا…
نہی.کر سکتی مو و آن…ہر بار میں.ہی.موو آن.کیوں کروں.آخر؟؟ پہکے بھی مو و آن کرنا میرے حصے میں ایا..کہ.مو و آن جرو.زندگی پڑی ہے…مضبوط بنو..اور بنی نا.میں…
پر اب نہی.بن سکتی…کیا ملا اس.سب سے مجھے..جب خود کو.سنبھالنے لگی تو پھر سے کیا ہوا؟؟ وہیں.واپس دھکیل دیا گیا مجھے…..
اسی جگہ ہر…اسی کھائی میں…اسی انسان کے ساتھ…
ایمن مجھے احساسِ کمتری ہوتا ہے جانتی ہے.کیوں..کہ.میں.اس.انسان.کے ساتھ زبردستی جوڑی گئی ئوں….اسکو.میرا وجود.برداشت کربا پڑتا ہے…
اسنے کہا تھا…
اگر ایسا ہوتا تو وہ معافی ہی نا.مانگتے نمی..تو غلط سوچ رہی ہے شاید…
اسنے سمجھایا تھا
معافی تو تب مانگی جب میان.نے مانگی…
وہ.بے خیالی میں.بول.گئی تھی…
کیا.مطلب؟؟ تو.نے.کیوں.مانگی.معافی؟؟
دونوں.نے اجھنپے سے پوچھا تھا
نمرہ ایک دم.گڑبڑا.گئی..
کچھ نہی..اسنے ٹالنا چاہا…
سیدھی برح ہھوٹ اب..
مقدس.نے کہا تھا…
کیونکہ.میں.نے تھپڑ مارا.تھا انکو…
نمرہ نے جواب.دیا تھا..
واٹ؟؟؟ پر.کیوں؟؟؟
وہ.دونوں چیخ ہی چیخ ہی تو پڑی تھیں..
یہ تھپڑ اس وقت ہی لگانا چاہیت تھا جب وہ اس دب وہ سب.کہہ کر گئے تھے..
نمرہ مے.منہ.بنا.کر.کہا تھا..
ہر اب کیوں.مارا پھر؟؟
ایمن.نے پوچھا تھا..
کیونکہ. …..
وہ بولتے بولتے رکی تھی…
ایک دم.ہی اسکو.بے تحاشا.شرم آئی تھی…
کیونکہ ؟؟؟ ان دونوں.نے.بے.صبروں.کی.طرح اکٹھا پوچھا تھا
انھوں.نے.بد تمیزی کی تھی.میرے ساتھ…
نمرہ.نے.نگاہیں جھکا کر جواب دیا…
جبکہ.گال سرخ ہونے.لگے تھے..
اہممممم…کس.قسم.کی.بد تمیزی…
مقدس نے آنکھ دبا کر پوچھا تھا…
جبکہ ایمن.کے چہرے ہر بھی.مسکراہٹ آئی تھی…
تو بلش کر رہی.ہے نمی…
ایمن.نے اسکے گال دیکھ کر.کہا.تھا…
دفا ہو.جاؤ تم.دونوں..
وہ ایک دم.بگڑی تھی…
نہی.ذرا بد.تمیزئ کی.ٹائپ.تو.بتا دے..ایمن کو بھی ذرا آئیڈیا ہو جائے گا..کل کلاں کو اسانی.ئوگی..ِمقدس.نے دونوں.کو.چھیڑا تھا…
چہ بیٹا تو.نکل..بچے ایسی.باتیں.نہی.سنتے…
نمرہ مجھے بتائے گی صرف…
ایمن.نے.مقدس.کو.باہر کیا تھا…
چل.اے بڑی آئی تو… وہ مجھے بھی بتائے گی…
نمی بتا.نا.پلیز….
مقدس نے کہا تھا..
دیکھ یہ ایمن.ایویں..تو وہ.کر جو.تیرا.دل.کرتا…
اسکی.باتوں.میں.نا.آ…فرحان.بھائی نے ویسے کیا.کیا.تھا…
وہ پھر سے اسے بہلاتی پوائنٹ پر لائی تھی…ِ
انھوں.نے.زبردستی…
اس سے آگے وہ.نا.بولی…
جبکہ اسکی بات سن.کر ایمن.اور مقدس نے آنکھیں.پھاڑے پئلے اسے پھر ایک دوسرے کو.دیکھا تھا…
واٹ؟؟ انھوں.نے.تیرے.ساتھ زبردستی…کی…
مقدس نے غمو غصے سے ہوچھا تھا…
وہ.شاید اسکی بات کا غلط مطلب.کے گہی تھی…
نمرہ.نے ایک.دم اسے.دیکھا تھا..وہ جان.گئی تھی دو.دونوں.کیا.سمجھ بیٹھی ہیں..
نہی..ویسا کچھ نہی جو.تم.لوگ سمجھ.رہے ہو…
He kissed me!
اسنے جلدی سے فرحان.کی.وکالت کی.تھی..
وہ خود نہی.جانتی تھی وہ ایسا.کیوں.کر رہی ہے مگر فرحان.کو.ایمیج خراب ئونا.اس.سے برداشت نا.ئوا تھا..
واٹ….
وہ دونوں حیرت سے چیخ پڑی تھیں…
او ایم.جی…بلے بلے…
مقدس نے خوشی سے دونوں.ہاتھ اٹھا کر لڈی کے سے.انداز میں اوپر کیے…
نمرہ ایک.دم لال ہوئی تھی…
اور ابھی تو کہہ.رہی ہے وہ تجھ سے پیار نہی.کرتے…پاگل…
ایمن.نے.مسکراتے ہوئے اس کے سر پر چپت لگائی تھی…
چل اب اٹھ اور چینج.کر اس.سے ہہکے یہ مقی.مزید.پٹری سے اتر کر سب ہی اگلوا لے تجھ سے..
ایمن.نے اسے وارن.کیا تھا…
نمرہ نے.جلدی سے مقدس کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کر دانت.نکال.رہی تھی…
اہممم…ہاؤ رومینٹک نا…اتنا ہینڈ.سم بندہ..ہائے…
مقدس.نے اسے.مزید.چھیڑا.تھا…
جوتا دیکھا ہے نا.میرا..ِنمرہ.نے گھور کر کہا تھا…
ہاں اب.تو مجھے جوتے.نا.دیکھا..ادھر دکھاتی نا.آنکھیں جب دکھانی.تھیں. .. وہاں.تو چلی نہی.اب مجھ ہر دعب ڈال.رہی ہے…
مقدس کب باز.آنے والی تھی…
نمرہ اسے.گھورتی ہوئی چینج کرنے چل.دی…
وہ نکلی تو ایمن.نے.بھی چینج.کیا.اور وہ تینوں.سونے لیٹ گئیں…
مقدس اور ایمن جلد ہی نیند میں.محو.ہو گئی تھیں.جبکہ.نمرہ کی آنکھوں.سے.نیند خاصی دور.تھی..
نا چاہتے ہوئے بھی وہ فرحان.کے متعکق.سوچنے لگی تھی…شادی سے اب.تک کی تمام باتیں…اسے اپنا.کمرہ یاد آیا جہاں.وہ زبردستی اسکو اپنے پہلو میں.سلاتا تھا…
مگر کبھی وہ بولا تو.نا.تھا کہ وہ اسے چاہتا ہے…
سوچتے سوچتے وہ نیند کی.وادیوں.میں.اتر گئی…
🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶🎶
اگلی صبح وہ ایمن.کے ساتھ ٹائم.پر پارلر چلی گئی تھیں… بارات دن.کے وقت ہی آنی تھی…
نمرہ اور مقدس نے ایمن.کے ساتھ ہی.جانا تھا اور.کل ولیمہ اٹینڈ کر.لے.واپس آنا تھا..فرحان برہان اشعر اور عریبہ نے.بھی.کل انا تھا…
ایمن تیار.ہو.چکی تھی…
سرخ رنگ کی خوبصورت برائیڈل میکسی جس پر گولڈن کام.نہایت مہارت سے کیا.گیا.تھا….اسکا نازک سراپا نہایت دلکش لگ رہا تھا…
بالوں کی.سائیڈ بریڈ.بنائے , سونے سے زیورات سے لدی , بڑی آنکھیں خوبصورت میک اپ.سے.مزید دلنشیں.ہو.چکی.تھیں. …
نمرہ اور مقدس نے تو اسے دیکھتے ہی نظر اتاری تھی….
اور پھر وہ.سیدھا.اسکے.ہمراہ ہال میں.چل.دیں…
بارات بھی کچھ دیر.بعد.آچکی تھی….کھانا وغیرہ کھانے کے.بعد.بالآخر رخصتی کا وقت بھی آن پہنچا تھا…
نمرہ اور مقدس اس کے ہمراہ ہی گئی تھیں…
کافی سفر.کرنے کے بعد.وہ لوگ اسکے گاؤں.کی.حدود میں.داخل.ہوئے تھے….
تازہ ٹھنڈی مہکتی ہوا, سرسبزوشاداب کھیت, جگہ.جگہ لگے پانی.کے ٹیوب.ویل, درخت ہریالی یہ.سب.بہت دل.ربا تھا…
دور.سورج اب.واپسی کا سفر طہ کرتا اسمان ہر سرمئی رنگ کے قوسوقزح بکھیر رہا تھا…
شاندار استقبال کے بعد کچھ رسمیں.کی.گئیں….
پھر ایمن.کو.اسکے.کمرے میں.چھوڑنے.کچھ کزنز.اور.نمرہ مقدس گئی تھیں…
سرخ گلابوں.سے سجا کمرا نہایت فسوں خیز.منظر پیش کر رہا تھا…
انھوں.نے.اسے آرام.سے بیڈ.ہر بٹھا دیا.تھا…
عشاء کا.وقت قریب تھا…
چل.بھئی…اب.ہم.تو چلے….سالار بھائی کا ویٹ.کریں.آپ …
مقدس.نے کزنز کا خیال کرتے ہوئے.ذرا حد میں.رہ کر اسے چھیڑا تھا…
بیسٹ آف لک.فار.یور.نیو.لائف… انشاءاللہ سب بئت اچھا ئواگا.ِِاللہ تجھے ڈھیروں خوشیاں دے..
نمرہ.نے اسے گلے.لگا کر دعا دی تھی….
وہ.دھیما.سا.مسکرا.دی…
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
کمرے کا.دروازہ ہولے.سے.کھلا تھا…
نظریں.جھکائے بیٹھی اس نازک.سے گڑیا.نا.نگاہ اٹھانے.کی.کوشش.نا.کی.تھی..
قدموں کی.چاپ.اسے.بتا.گئی.تھی.آنے والا.سالار تھا…
دروازہ بند.کئے وہ دھیمے قدم.اٹھاتا اسکی جانب بڑھ ریا تھا…
ایمن.کی.ہتھیلیوں میں.ایک.دم.نمی آئی تھی….
دل شدت سے دھڑکنے لگا تھا…..
جبکہ.آنکھ.اٹھانے.کی.ہمت ہی کب تھی…
سالار.نے.سامنے.دیکھا تو.چند پل نگاہوں.کا.زاویہ نا.بدل سکا تھا…
سرخ پھولوں کے احاطے میں سرخ میکسی پہنے وہ اسے ان.تمام پھولوں سے زیادہ حسین پھول لگی تھی….
کالی شیروانی کا.اوہر.کے بٹن کھولتا وہ اس.کے.قریب آیا تھا اور اس.کے.سامنے.بیڈ پر بیٹھ گیا.تھا…
انگشتِ شہادت سے ہولے.سے اسکا.چاند سا.چہرہ ٹھوڑی سے چھو.کر.اوپر.کیا تھا…
نگاہوں کی.تشنگی مزید بڑھی تھی….
جبکہ ایمن.کا.باقاعدہ گھبراہٹ نے آن.گھیرا تھا…
اسنے ہاتھ بڑھا کر ایمن.کا.ہاتھ تھاما.تھا مگر اگلے ہی پل ایمن.نے اپنا ہاتھ پیچھے کو.کھسکایا تھا…
سالار.نے.چونک.کر اسے.دیکھا.تھا..
وہ ایک.دم.بیڈ سے کھڑی ہوئی تھی….
سالار بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا…
کیا.ہوا؟؟؟
سوال آیا تھا..
ایمن.نے.زخمی سی.نگاہ اس پر ڈالی تھی…
مجھے چینج.کرنا.ہے…
سادہ سے لہجے میں.جواب آیا تھا…
ابھی اسنے قدم اٹھایا ہی تھا کہ ایک دم جھٹکے سے اسے.پیچھے کھینچا.گیا تھا…وہ بالکل اس افتاد کے لیے تیار.نا تھی ….
سیدھا سالار کے پہاڑ جیسے.وجود کو حصہ بنی تھی….
سالار نے اسکے گرد حصار.باندھا تھا…
اور اسکی گردن.پر جھکا تھا…ِ
جانتا ہوں.غلط کیا.ہے میں.نے…. معاف کر دو.پلیز…
سرگوشی نما آواز میں گزارش کی گئی تھی..
ایمن کے نین.نمکیں.پانیوں سے بھرنے.لگے تھے….
سالار چھوڑیں مجھے…
خود کو اسکی.گرفت سے نکالنے.کی.ناکام کوشش.کرتے کہا.گیا تھا…
سوری میری.جان…
دوبارہ.سے کہا.گیا تھا…
وہ ایک.دم رک.گئی.تھی…
سالار نے اسکی خوبصورت آنکھوں میں.جھانکا تھا.جہاں.سمندر.سا بھرنے لگا تھا…
آپ مے بہت غلط کیا ہے میرے ساتھ…
ایمن.نے ضبط سے کہا تھا…
جانتا ہوں.تبھی تو اپنی.محبت سے.شرمندہ ہوں…
ساکار.نے جان.نچھاور.کرتے لہجے میں.کہا تھا…
آپ نے.مجھ پر شک کیا…بہت ہرٹ کیا.ہے آپ نے…
شکوہ قائم.تھا…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *