Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode01

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode01

نمرہ سیال ملک ولد ملک وقار سیال ,آپکو ملک.
فرحان شاہ آفندی کے نکاح میں, سکہ رائج الوقت پانچ لاکھ. روپے ,دیا جاتا ھے! کیا آپکو قبول ہے؟
الفاظ تھے یا پگھلا ھوا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈیلا. جا رھا تھا؟
اسکی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھی. یہ کسی گناہ کی سزا تھی یا شاید اس کے رب کی کو ئی آزمائش ؟.
پر ایسی آزمائش؟؟؟💔
آنسو تھے کہ ھر بن تو ڑ کے امڈ آنے پہ تلے. ھوئے تھے.
اتنی کڑ ی آزمائش کہ جس شخص کا ذکر تو دور کی بات جس کا خیا ل بھی اس کے انگ انگ میں زہر گھول دیتا, اسی شخص کو اسکی ہستی کا سرپرست بنایا جا رہا تھا……
نہی میرے اللہ نہی….وہ بے اختیار سسک اٹھی…
پر کہتے ہیں نا کہ ہر گھڑی قبولیت کی تھوڑی ہوتی ہے. ..
شاید اب وقت بھی بےرحم تھا..
ویران آنکھیں, کپکپاتے ہونٹ, کانپتے ہاتھ,.خو فزدہ چہر…وہ بے بسی کی مکمل تصویر بنی ھوئی تھی پر کسی کو کچھ دکھائی کیوں نہیں دے رہا تھا؟وہ جو اسکی معصومیت سے واقف تھے وہ خاموش کیوں تھے؟
صرف اس لیے کہ وہ مشکوک ہوئی تھی؟اسکا کردار……
کیا قصور تھا اسکا؟ ہاں اس کا پاک دامن أج پاک ہونے کے باوجود داغ دار بنا دیا گیا تھا..بغیر جرم کے بھیِ اور بس یہی ہواِِ…….
اسے بھی اس انا پرست کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا….. وہ شخص جسکو اگر دنیا میں کچھ عزیز تھا تو وہ صرف اسکی “انا”…ہاں صرف اسکی “میں”…..
لیکن یہی انا اور ضد.تو نمرہ کی. ذات کا بھی خاصا تھیجسے وہ self respect(عزت نفس)کا نام دیتی تھی…پر آج اس کے الفاظ کو بے موت مار دیا گیا تھا.آج اسکا وجود ہارا ھوا بکھرا ہوا تھا..اسکو اپنی ضد ھڑ دھرمی سب بےکار لگے ِِ…….
مولوی صاحب دوبارہ بولے,”کیا.آپکو قبول ہے؟”
امروزیہ بیگم اگے بڑھیں…بولو بیٹا قبول ہے. .
اسنے بےبس ہو کر ماں کو دیکھا..
چہرے پر سرخ دوپٹے کا گھونگھٹ تھا.پر وہ تو ماں تھیں گھونگھٹ کے پیچھے کوئی اور دیکھ پاتا یا نہیں پر انہوں نے دیکھ لیا. .
مجھے معاف کر دینا میری بچی……
انکی بیٹی انکا مان تھی انکا غرور تھی. .انکی سہیلی تھی..اور وہ جانتی تھیں کہ وہ مر کے بھی ایسا کوئی کام کرنے کا نہیں سوچ سکتی جس سے اسکے ماں باپ کا سر جھکے….
وہ تو ایک بےضرر سی گڑیا تھی..
قبو..قبول ہے!!!!!!
آزر آفندی نے پین اسکی طرف بڑھایا اور بالآخر کپکپاتے ہاتھوں سے ساٸن کر دے..
مبارک ہو. .
اور وہ لوگ باہر بڑھ گیے. ..
وہ خاموشی سے آنسو بہانے لگی…
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
اف اللہ پھر لیٹ ہوگئ تو خیر نہیں. …
بائے. ماما
خیر سے جاو. ..اللہ کامیاب کرے..
امروزیہ بیگم نے بیٹی کو دعا دی..
وہ گیٹ سے نکلی تو کاشان انتظار کر رہا تھا..
اسکو شرارت سوجھی..
ایک سیکنڈ بھائی! !آپ کار سٹارٹ رکھیں…ایمرجنسی میں بھاگنا بھی پڑ سکتا ہے 😉
اور وہ سمجھ گیا
نمرہ بڑی ہو جاو اب یار..پر وہ وھاں ہوتی تو سنتی نا..وہ ساتھ والے گھر کے گیٹ پر گئی اور بیل پر ایسا ہاتھ رکھا جیسے اس سے زیادہ ضروری کام اس وقت دنیا میں کوئی نہیں. ..
کون ہے حوصلہ رکھو آرہی ہوں…
لاؤنج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور بس اسی کا شاید انتظار تھا اسے ……جب تک إنے والا گیٹ پر ایا..وہ جا چکی تھی..
….ہوں یہ اسی نمرہ کا کام ہوگا..
خاتون نے برا سا منہ بنایا..
پھر.خود ہی مسکرا دیں..
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
اسلام علیکم! !
اسنے ڈائننگ پر سبکو سلام کیا…
وعلیکم اسلام! !!
کہاں کا ارادہ ہے آج برخوردار. ..؟؟؟آفس یا یونیورسٹی ؟؟
دادا جان نے اپنے پوتے کو مخاطب کیا. ….
پہلے یونیورسٹی جانے کا ارادہ ہے کچھ اسائنمنٹ دینی ہیں.
.then آفس. کا چکر انشاءاللہ. …
Good!!!
وہ فریش سا.بیٹھا ناشتہ کرنے لگا!!!آمنہ بیگم نے اپنے وجہہ بیٹے کو دل ہی دل.میں دعا دی اور نظر اتاری..
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
وہ تینوں کینٹین میں بیٹھی انے جانے والوں کو دیکھنے میں مصروف تھیں. ..ساتھ ساتھ نمرہ اور مقدس پکوڑوں سے بھرپور انصاف کر رہی تھیں…
اوے نمو!!.وہ دیکھ سنڈریلا!!
ایمن نے پاس.سے.گزرتی لاریب کی طرف اشارہ کیا..
لاریب انہی کے
batch. کی اسٹوڈنٹ تھی
پر نمرہ سے خار کھاتی تھی
جسکی وجہ اسکا کرش crush
تھا..نومان. .وہ بھی انہی کے
Batch
کا تھا..لیکن نمرہ کے پیچھے رہتا..جبکہ نمرہ اسی کسی خاطر.میں نا.لاتی..
او ہائے نمرہ…لاریب بھی اسکو دیکھ چکی تھی سو گزرتے ہوئے پنگا لینا ضروری سمجھا..
او ہایے لا..پھُررررررر
نمرہ کے منہ میں سٹرا تھا جس.سے وہ انہماک سے لیچی جوس پینے میں مصروف تھی..لاریب کے بلنے پر منہ سے سٹرا نکالے بغیر بول پڑی…اور نتیجاِِ پائپ میں موجود جوس سیدھا لاریب کے منہ پر پڑا.
او مائے گاڈ!!!لاریب نے دکھ سے اپنے میک اپ سے تھونپے چہرے اور نیو ڈریس کو دیکھا..
او سوری!!
نمرہ اتنے سکون اور معصومیت سے بولی. جبکہ پاس بیٹھی مقدس کے لیے اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا..
وہ اایکچولی تم نے مجھے کھانے کے دوران بلایا نا تو…….ہوگیا…
ہاں تمہیں نہی پتہ کھانے پہ نو کمپرومائز. ..کیوں نمو!!
مقدس بولی
ہا بل..پھرررررر
ایک بار پھر وہ جان بوجھ کے کارنامہ کر چکی تھی…پاس سے گزرتے اسٹوڈنٹس. اسکی شرارت کو انجوائے گر رہے تھے. ..جبکہ لاریب غصے سے بھری چل دی.”دیکھ لونگی تمہیں نمرہ سیال”
وہ دانت پیس کر بولی
شور..پر پلیز ملک بھی بولا کرو نو..نمرہ سیال ملک..
وہ.دانت دکھاتی ہوئی گویا ھوئی..
جبکہ مقرس ہنس ہنس کر پیٹ پکڑ چکی تھی..
ناٹ فیئر نمو!! ایمن خفا ہوئی..
یار ایمن…میری مما پتا کیا کہتی ہیں..تم جانتی ہو پر چلو ایک بار پھر بتاتی ھوں
بیٹا کسی سے خود خوامخواہ کبھی بھی پنگا نا لو..پر اگر کوٸی زبردستی پنگا لے تو. ..
اسنے مقدس عرف مُقی کی طرف دیکھا. .
اسے پھر بخشو بھی نا!!!!وہ.اور مقی ایک ساتھ بولیں. .
پتہ نہیں تم ڈاکڑ بن گئی تو کیا ھوگا!!
ایمن خفگی سے گویا ھوئی
وہی ہوگا جو منظورِخدا ہو گا میری جان!
چلو اب..کلاس کا ٹائم ہے
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
نکاح کے بعد اسے عریبہ فرحان کے کمرے میں لے آئی..
کمرہ انتہائی خوبصورت انداز میں سیٹ تھا..چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی کمرے کے مقیم کے اعلی. ذوق کی گواہ تھی…
اسنے ایک خالی سی نگاہ کمرے میں دوڑائی…
بیٹھ جائیں بھابھی!!عریبہ بولی..
بھابھی!!!اس لفظ.پر وہ چونکی
اسنے ایک نظر عریبہ پر ڈالی..پھر اپنے نازک تن پر موجود خوبصورت ریڈ برائیڈل لہنگا چولی پر.
یہ اپکے ہی نصیب میں تھا..اور جچ بھی بہت رہا ہے آپ پر..
وہ خوش اخلاقی سے گویا ہوئی…
عریبہ کی شادی تھی کچھ عرصہ بعد..برات کا ڈریس لینے وہ نمرہ کو ساتھ لے کر گئی تھی کیونکہ نمرہ کی چوائس کو سب سراہا کرتے..یہ لہنگا بھی اسی کو پسند آیا تھا..
عریبہ یہ دیکھو..یہ کیسا ھے؟
واؤ یار..اٹس بیوٹیفل
عریبہ سراہے بغیر نا رہ سکی..
یہ مجھے کیوں نظر نہیں آیا؟؟
کیونکہ مجھے آگیا!! 😂😂
بالکل! عریبہ بولی..میں بالکل ٹھیک انسان کو ساتھ لائی ہوں..وہ گردن اکڑا.کر بولی..
ہاہاہاہا..سہی جناب..تو پھر فائینل کر دیں؟؟؟؟
نمرہ نے پوچھا..
اگر اپکو اپنے لیے لینا ہو تو…….؟؟؟؟
جانے کیوں عریبہ نے پوچھا..
تو میں بھاگ کر خرید لیتی یہ…نمرہ چہک کر بولی..
بھابھی! !کہاں کھو گئئ؟؟؟
وہ چونک کر حال میں واپس.آئی…
ہوں ں کہیں نہیں…بس شوپنگ والا دن یاد.آگیا..وہ تلخی سے مسکرائی…
بھابھی ہمیں نصیب کا تو نہیں نا پتہ ھوتا…یہ إپ کی ھی قسمت میں تھا شاید اسی لیے آپکو اتنا پسند آیا تھا..
چلیں اب آرام کریں. .اور بالکل پریشان نہ ہوں. .بھائی بہت اچھے ہیں. ..
ہوں. ..
اوکے میں چلتی ہوں. .
عریبہ جا چکی تھی..
وہ وہیں زمین پر بیٹھتی تھی
_______
وہ اس وقت لان میں کھڑا گہری سوچ میں محو تھا. اج شام رونما ہونے والا واقعہ اسکے ذہن کی سکرین پر کسی فلم کی طرح چلنے لگا. وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا.
اسے اسکا بےساختہ خود سے لپٹنا یاد آیا.
تو کیا وہ آج بھی مجھ پر اعتبار کرتی ہے ؟؟
شاید ہاں.
دل نے دہائی دی.
وہ صرف ایک لاشعوری عمل تھا بس!!
دماغ مخل ہوا
اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ یونہی لپٹ جاتی اس سے بھی ؟؟
یہ سوچ ہی اسکو غصے سے دھواں دھواں کر گئی.
نہیں. ..دل نے نفی کی. .
شاید وہ اب بھی مجھ پر بھروسہ کرتی ہو یقین کرتی ہو! !
محبت کرتی ہو! !.
دل نے گواہی دی
“محبت” !!!!!!!!!!!
اس سب کے بعد بھی. ..”ناممکن”
دماغ نے دلیل دی.
پر وہ معصوم ہے. .
اسکا دل پاک ہے..دل پھر بضد ہوا.
ہوں. کیا خبر. ……
کیا تم واقعی بےخبر ہو فرحان شاہ ؟؟کیا تم نہیں جانتے وہ وہاں کیوں گئی ؟؟؟کیسے گئی ؟؟ کیوں سب نے آج اس پر سوال اٹھائے ؟؟ کیوں اسکے کردار پر انگلیاں اٹھیں ؟؟کیا تم واقعی اتنے لاتعلق ہو ؟؟؟
ضمیر نے اسےجھنجھوڑ کر آئینہ دکھایا تھا. ..حقیقت کا آئینہ! !
حقیقت بہت تلخ تھی وہ بدستور نگاہ چرانے پر مجبور ہوگیا. ..
نہیں یہ سب اسکی اپنی ضد اور ہڈ دھرمی کا نتیجہ ہے. ..دماغ غلطی ماننے سے انکاری تھا. .
مرد تھا نا. .اسکی انا کیسے گوارہ کرتی کہ وہ غلطی تسلیم کر لے. .سر خم کر دے. .اس نازک سی لڑکی کے سامنے جھک جائے. .
دل اور دماغ کی جنگ میں بالآخر دماغ آج پھر فاتح قرار پایا. ..
4 سال سے دماغ اور دل کی تکرار میں دماغ جیت رہا تھا..انا روک رہی تھی ..اک بار اور سہی! !!
🌸🌸🌸🌸🌸
یار آج گھر جلدی جانا ہے.
مُقی بولی
کیوں ؟؟ابھی تو مجھے باتیں کرنی تھیں. .
نمرہ بولی.
یارا آج آپی کے سسرال والے آرہے ہیں سو امی نے صبح ہی حکم جاری کیا کہ زبان کو بریک لگانا اور جلدی واپسی کی کرنا.یو نو کچن کا کام!
تو آج آپ کچن کو اپنے سگھڑاپے کا شرف بخشنے والی ہیں! !
ایمن شرارت سے بولی.
میری جان جاتی ہے کچن سے. .پتہ نہیں یہ ٹی وی میں کیسے اتنی تھونپا تھانپی کر کے کچن ميں ناچ ناچ. کر کام کر رہی ہوتی ہیں ؟؟
مُقی منہ بسور کر بولی. .
ہائے گوپی بہو یاد دلا دی. .ا
ایمن گویا ہوئی.
تم کیا سوچ رہی ہو؟اسنے نمرہ سے پوچھا. .
یہی کہ جاننا تو مجھے بھی ہے! !
کیا ؟؟دونوں بیک وقت بولیں
وہی سستا نشہ جو وہ کرتی. ہیں اتنا چہک کر کچن میں کام کرنے کے لیے! !!😅
😂
تینوں ہنسنے لگیں. .
وہ تینوں بچپن سے ساتھ تھیں. پہلے سکول پھر کالج اور اب میڈیکل کالج میں بھی ساتھ. تینوں کا فرسٹ ایئر تھا.مقدس اور نمرہ دونوں ذرا شرارتی تھیں جبکہ ایمن ان کے مقابلے میں سنجیدہ مزاج کی تھی..پر اسکے باوجود یہ دوستی قائم تھی. ..
نمرہ اور ایمن بھائیوں کی اکلوتی بہنیں تھیں جبکہ مقدس کی تین بہنیں اور دو بھائی تھے. لیکن نمرہ اور ایمن اس کے لیے بہنوں سے بڑھ کر تھیں. ..
نمرہ پیٹ کی بہت ہلکی تھی جبتک ہر بات تفصیل سے انکے گوش گزار نا کرتی اسکو سکون نا آتا…
چلو چلیں کہیں مہمانوں کے سامنے کلاس ہی نا ہو جائے تمہاری. …
🌸🌸🌸🌸🌸
وہ آج کافی دن بعد یونی ایا تھا .اسنے اشعر کو میسج کیا. اور وہ دو منٹ میں حاضر.
کوئیک سروس مین! ! وہ شرارت سے بولا. .
بس آپ نے بلایا ہم چلے آئے 😁
اسنے دانت دکھائے. .
اور اپ نے جسکو نہیں بھی بلایا وہ بھی چلے ائے 😂😁
اسکا اشارہ فرحان کے پیچھے سے آتی ردا کی جانب تھا.
ہائے فرحان! !کیسے ہو؟اتنے دن بعد ائے ہو, ائی رئیلی مسڈ یو! !وہ تھوڑا آگے بڑھ کر بولی..
اہممممممم…..اشعر نے گلا کھنکھکاد کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا ضروری سمجھا. .
اوکے گائز مجھے چلنا ہوگا. …فرحان بولا
اب کدھر شہزادے ؟
اشعر نے دریافت کیا.
یار آفس کا چکر لگانا ہے. .چلے گا ساتھ؟؟
ہاں اوکے پر اسکے بعد سیدھا گھر. .آج تائی جان نے بریانی بنائی ہوئی ہوگی. .
ندیدے! !!
بائی دا وے برہان شاہ صاحب کدھر ملیں گے؟؟.اشعر نے پوچھا
داداجان نے زمینوں پر بھیجا ہے. .
فرحان نے بتایا. .
برہان فرحان کا چھو ٹا. بھائی تھا..جبکہ اشعر اسکا چچازاد..
فرحان سب سے بڑا تھا تینوں میں. اشعر اس سے چند ماہ چھوٹا جبکہ برہان دونوں سے سال ڈھیڈ چھوٹا تھا. تینوں بچپن کے ساتھی تھے. ایک ساتھ سکول جانا. ساتھ کھیلنا. .ساتھ رہنا…
کزنز کم بھائی زیادہ تھے.
🌸🌸🌸🌸🌸
ملک وجاہت آفندی اور ملک احمد آفندی دونوں بھائی تھے.ملک وجاہت بڑے جبکہ ملک احمد چھوٹے تھے. انکا شمار گاوں کے رئیس لوگوں میں ہوتا. گاؤں میں سب سے ذیادہ ذمین ان دو بھائیوں کی تھی.
ملک وجاہت آفندی کے چھ بچے تھے. چار بیٹے آذر آفندی, بلال آفندی, داور آفندی اور ارشد آفندی. .
دو بیٹیاں رفعت اور ثروت.
آذر آفندی کے دو بچے تھے. .حور اور ارحم. دونوں چھوٹے تھے. بڑے ہونے کے باوجود انہوں نے شادی باقی بھائیوں کے بعد کی.وجہ انکی تعلیم کی تکمیل تھی…
بلال آفندی کے 4 بیٹے تھے. ..ملک فرحان شاہ آفندی, برہان شاہ آفندی. ….ثوبان اور رایان آفندی. .یہ دونوں 9 کلاس کے طالبعلم تھے.
ایک بیٹی عریبہ برہان کے بعد… ابھی ایف ایس سی سے فارغ ہوئی تھی.
علی. آفندی کے دو بیٹے تھے. اشعر اور زریاب جبکہ ارشد کے بچے ابھی چھوٹے تھے.
جبکہ رفعت کے دو جوان بیٹے تھے باسط اور شاہ زیب اور ثروت کا صرف ایک چھوٹا سا بیٹا تھا.
حویلی شہر سے ذرا فاصلے پر تھی.اسی لیے فرحان اور برہان 7 کلاس سے ہی ہاسٹل میں رہتے تھے. میٹرک میں اشعر بھی چلا گیا..اب سبکی یونیورسٹی کا آخری سال تھا سو داداجان کے حکم پر سب واپس آئے.
فرحان شاہ سب کزنز میں بڑا اور داداجان کا بےانتہا لاڈلا پوتا تھا. دادا اسکی کوئی خواہش رد نا کرتے.
چھ فٹ دو انچ قد, مضبوط چوڑے کندھے, کسرتی جسم, کھڑی ناک, اور بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں! !وہ ایک حسین اور وجہہ مرد تھا. اس کے ساتھ ساتھ زمہدار بھی.
ملک احمد آفندی چھوٹے بھائی تھے. انکے تین بیٹے اظہر آفندی, عمران آفندی ,عبید آفندی اور دو بیٹیاں امروزیہ اور ہما تھیں.
اظہر کے دو بچے تھے.
عشاء 8 سال کی اور اظہان.5 کا
عمران کے تین بیٹے شہریار,حسان اور عالیان تھے.
عبید کی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی تھی اور اب خدا ان کے گھر میں رحمت
بھیج رہا تھا.
ہما کے دو بیٹے تھے. حسن اور حسام.دونوں یونی ختم کر چکے تھے.جبکہ ایک بیٹی اسماء بی ایس کی اسٹوڈنٹ تھی.
امروزیہ کے تین بچے تھے. بڑا بیٹا کاشان سی اے کے تھرڈ ائیر میں تھا. .
اس سے چھوٹی نمرہ میڈیکل کے فرسٹ ائیر میں.
سب سے چھوٹا ارسلان میٹرک کا اسٹوڈنٹ تھا.
وجاہت آفندی اور احمد آفندی کی حویلیاں امنے سامنے تھیں. شادیوں کے بعد دونوں نے بچوں کو الگ الگ گھر بنانے کا کہا تا کہ اتفاق رہے اور کوئی ناچاقی نا ہو.
وجاہت آفندی کی حویلی کے دائیں طرف آذر اور بلال کے بنگلے تھے جبکہ بائیں جانب علی اور ارشد کے.
اسی طرح احمد آفندی کی حویلی کے ایک طرف اظہر اور عمران جبکہ دوسری جانب عبید کا بنگلہ تھا.
اس طرح ایک گلی بن جاتی جس کے آمنے سامنے دو حویلیاں اور ان.سب کے بنگلے تھے.ساتھ ایک طرف بڑا سا میدان تھا جہاں سب بچے مل کر کھیلتے. جھولے بھی لگوائے گئے تھے..گلی کے آگے ایک بڑا گیٹ لگا ہوا تھا..باہر سے وہ ایک گھر لگتا جبکہ اندر اس ایک گھر کے کئی گھر تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *