Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode02

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode02

امروزیہ آفندی شروع سے بچوں سمیت گاؤں سے باہر رہی تھیں. .کبھی اسلامآباد,کبھی گُجراں والا,کبھی کوٸٹہ اور کبھی کہاں. .وجہ ان کے شوہر ملک سیال کی آرمی جاب تھی. ..
انکے بچے انکا فخر تھے.
انہوں نے شروع سے بچوں پر بہت توجہ دی..خود بھی ہر فن مولا تھیں. ..بچے بہت ذہین تھے انکی توجہ سے نکھر کر سامنے آئے. .پڑھائی ہوتی ہا غیر نصابی سرگرمیاں. .وہ ہر چیز میں ماہر تھے..ڈرامہ کلب,سنگنگ, سپورٹس, تقریری مقابلہ سب میں پیش پیش. ..
بیٹی کو وہ خود مختار بنانا چاہتی تھیں. نمرہ ماں کے بہت تھی.انہوں نے چھوٹی عمر سے ہی خصاصاً اسکی پرورش پر دھیان دیا..تاکہ جوانی میں قدم رکھتے ہوئے اسے اچھائی برائی کا فرق پتا ہو. شعور ہو..
ہمارے ہاں مائیں بیٹیوں پر ویسے توجہ نہیں دیتیں جیسے دینی چاہیے. .اگر بچیوں کو ٹھیک وقت پر صحیح اور غلط کی تمیز سکھائی جائے تو وہ کوئی غلط قدم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچیں. .جبکہ ہماری مائیں جھجھک اور شرم میں کھل کر بات کرنا ضروری نہیں سمجھتیں. .اور اکثر پھر وہ باتیں وقت اور زمانہ سمجھا دیتا ہے پر تب پانی سر سے گزر چکاہوتا ہے. .. کتنے ہی بچے زمانے کے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں. .
اس کے بر عکس امروزیہ بیگم نے بیٹی کو ہر اونچ نیچ سمجھائی..وہ ایک پڑھی لکھی, اور سمجھدار تہذیب یافتہ عورت تھیں. .خود ساتھ ایک سکول کی پرنسپل تھیں. .
انکی محنت رائیگاں نہیں گئی..یہی وجہ تھی کہ آج انکے بچوں کا خاندان بھر میں ایک نام تھا..سب انکو سراہتے..نمرہ نے میڑک میں بورڈ ٹاپ کیا اور ایف ایس سی میں بورڈ میں تیسری پوزیشن لی. .
وہ خاندان کی پہلی ڈاکٹر تھی .
جسکا ایڈمیشن اسکالرشپ پر ہوا تھا..نمرہ کو وجاہت آفندی سے کافی لگاؤ تھا..وہ انکو بڑے نانا جان کہ کر بلاتی. وہ لوگ کافی کافی عرصے بعد حویلی جاتے..
وجاہت آفندی بھی نمرہ کی بہت حوصلہ آفزائی کرتے..آخر اسکی ذہانت اور کامیابی کی بدولت برادری میں انکا سر مزید اُٹھ گیا تھا.
🌸🌸🌸🌸🌸
ٹھک ٹھک. .
دروازہ ناک ہوا.
کم ان. .وہ مصروف سی بولی. .
کام ہو گیا بیٹا ؟؟امروزیہ بیگم نے اندر آتے ہوئے پوچھا. .
جی بس لاسٹ ٹاپک ہے. .
وہ تیزی سے کچھ لکھتے ہوئے بولی..
خیریت ؟؟کوئی کام ہے؟؟وہ پین چھوڑ کر بولی..
ہاں. ..وہ حیدر بھائی ہیں نا..انکی بہن کی شادی ہے نیکسٹ ویک..
وہ بولیں. .
حیدر انکل وہ گاؤں والے ؟؟
اسنے دریافت کیا..
ہاں. .
تو مجھے بھی جانا ہوگا؟؟اسنے پوچھاِ.
یقیناً..سب نے جانا ہےِ.تمہارے بابا کے بھی رشتہ دار لگتے ہیں. .حویلی کے ساتھ گھر ہے..حویلی سے بھی سب جائیں گےِ..
ہو ں ں ںں!!اچھا..
کیوں تم نہیں آنا چاہ رہی؟؟امروزیہ بیگم نے پوچھا. .
ہوں نہیں. ایکچولی ماما اسماء بھی ہوگی..
نہیں مطلب مجھے نہیں پتا اسے کیا ہوا ہے..پر.وہ مجھے ایسے گھورتی ہے جیسے……..
جیسے؟؟انہوں نے پوچھا
جیسے میں نے اسکی پھپھی بھگائی ہو! !😛
فضول مت بولا کرو. ..وہ خفگی سے بولیں ..
تو انکی بیٹی کو بھی محسوس ھونے لگا تھا..وہ سوچنے لگیں. .
ظاہر ہے جہاں آپ پر رشک اور تعریف کرنے والے ہوتے ہیں وہیں حسد اود جلن کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں. .سب کبھی بھی ویل وشر نہیں ہوتے..
اسماء اسکی خالہ کی بیٹی تھی. .وہ نمرہ کی ہم عمر تھی. .شروع سے نمرہ کو سب سراہتے..کیو نکہ وہ لاہق اور ذہین تھی.اور اسماء کو اب نمرہ کی موجودگی چبھنے لگی تھی. اسماء پڑھائی میں نارمل تھی جسکی وجہ سے اسکی امی اسکو ڈانٹتیں. .
لیکن بچپن میں وہ فیل نا کرتی..اسے اچھی لگتی تھی پیاری سی نمرہ..وہ انتظار کرتی کب چھٹیاں ہوں اور وہ آئے تاکہ وہ مل کر کھیلیں. .
پر جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اسے نمرہ سے خار ہوگئ. .وجہ نمرہ کی خوبصورتی بھی تھی..اسماء بھی کافی خوش شکل تھی پر نمرہ کے سامنے ماند پڑ جاتی. ..
نمرہ اس سب سے بےخبر اسکے رویے پر سوچ کے رہ جاتی..ایک دو بار اسنے جاننے کی کوشش کی اور پوچھا بھی..یار میری کوئی بات بری لگی ؟؟
پر جب اسکا رویہ بدستور روڈ رہا تو وہ بھی چپ ہوگئ اگنور کرنے لگی..کیونکہ کسی کے پیچھے لگنا نمرہ کی طبیعت اور مزاج کے خلاف تھا..وہ نمرہ سیال تھی..وہ تو لوگوں کو پیچھے لگانا جانتی تھی..ناکہ خود کسی کے پیچھے لگنا..
🌸🌸🌸🌸🌸
وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی. .آنسو بھی بہہ بہہ کے اب تھم چکے تھے. .
وہ چاہ کر بھی خدا سے شکوہ نا کر پائی..کبھی یہی سب تو اسنے دعاؤں میں مانگا تھا..اسی شخص کو..اسکے ساتھ کو…لیکن اسکی دعائیں ایک عرصے بعد ایسے قبول ہونی تھی. .یہ تو اسکے گمان تک میں نا تھا.
وہ اس.شخص کو مسیحا کہے یا دشمن ؟؟؟
دشمن!! جواب ایک پل سے بھی پہلے حاضر تھا.
دشمن کبھی مسیحا یا محافظ نہیں ہوا کرتے نمرہ!
جو کچھ اسنے کیا وہ تو شاید دشمن بھی نہیں کرتے..ذلت,دھتکار صرف یہی دیا ہے اسنے تمہیں. ….
ہاں دھتکارا تھا اس نے مجھے..ٹھکرایا تھا..میری ذات کرچئ کرچی کر دی..میری عزتِ نفس کو روند ڈالا…
یہ مسیحا یا محافظ کیسے ہو سکتا ہے؟
اور اج مجھے اسی کے ساتھ باندھ دیا گیاِِاسکے سر پر مسلط کر دیا گیا..میری ذات کو بوجھ بنا کر
اسی پر ڈال دیا گیا…
یہ احساس ہی اسکی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے لیے کافی تھا..
اسکی انا پر بہت کاری ضرب لگی تھی..
سر درد سے پھٹنے لگا. .وہ اٹھی. .بیڈ پر سادہ پرنٹڈ. سوٹ پڑا تھا جو عریبہ رکھ کر گئی تھی..وہ سوٹ لے کر باتھروم میں گھس گئی..تھوڑی دیر بعد وضو کر کے اور چینج کر کے نکلی ..
اب جائے نماز ڈھونڈنے کی باری تھی. .تھوڑی تگ و دو کے. بعد الماری س
کے دراز سے مل گئی..
وہ نماز پڑھنے لگی. .دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اسے اپنے ہاتھ خالی لگے..کیا مانگوں ؟؟
آنسوؤں کا پھندا گلے میں اٹک گیا..
اللہ میں تو اپنی عزت تیرے پاس امانت رکھوائی ہے..تو امین ہے میرے مالک..بےشک تو امانت میں خیانت نہیں کرتا…
مجھے رسوائی سے بچا لینا میرے اللہ. ….. اس گناہ کی سزا نا دینا جو مجھ سے سرذد نہیں ہوا…
سر میں درد کی شدید لہر اٹھی..
اسنے بہت مشکل سے جائے نماز تہہ کر کے جگہ پہ رکھی..اور آکر صوفے پر بیٹھ گئی..وہ آہستہ آہستہ لیٹتی گئی اور نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی.
_________
آج وہ تینوں چھٹی کے بعد شاپنگ کرنے آئی
تھیں کیونکہ نمرہ کو ویک اینڈ پر شادی اٹینڈ کرنے جانا تھااپنے گاؤں.
اسنے ایک انتہائی خوبصورت لہنگا پسند کیا..لہنگا مختلف رنگوں کا تھا..پنک, فیروزی, گرین, پرپل, اور اورنج کا امتزاج..ساتھ چھوٹی سی چولی تھی اٹھتے ہوئے پیلے رنگ کی..بوٹ گلے پہ باریک بیل بنی تھی گولڈن کام سےِ..باقی پورا ڈریس سادہ ہی تھا..پر نہایت ڈیسنٹ …
بس ایک ہی لوگی؟؟بارات کا کیا کروگی؟؟ ایمن نے پوچھا
یار گھر میں تین چار نیو ڈریس پڑے ہیں..اسکی بھی ضرورت نہیں تھی لیکن میرا لہنگا پہننے کا موڈ بن رہا تھا سو یہ موقع اچھا تھا…
ویسے نمو! !یہ سوٹ بھی بہت کریگا تجھ پہ…تو پتلی جو ہے..
مقی نے اپنا خیال ظاہر کیا..
چھوٹی سی فٹنگ والی چولی جہاں ختم ہوتی تھی..وہیں پیٹ پر سے لہنگا شروع ہوتا..یہنی پہن کر وہ ایک فراک کی لک دیتا تھا…
چلو پیٹ پوجا کئ باری…
وہ پورا مال گھوم گھوم کے تھک چکی تھیں. .
سیدھا ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہوئیں. .. اور ایک خالی ٹیبل پہ برجمان ھو گئیں.
ویٹر نے مینیو انکو دیا. .لارج پیزا,کولڈ ڈرنکس اور کچھ سنیکس آرڈر کرکے وہ باتوں میں مشغول ہوگئیں…..اتنے میں ریسٹورنٹ میں 3 4 لڑکوں کا ایک گروم داخل ہوا..
ایک طرف دو لڑکیاں برجمان تھیں.لڑکے انکی طرف بڑھ گئے…انکے ٹیبل پر پہنچ کر ان میں سے ایک لڑکاان لڑکیوں کے ساتھ خالی کرسی پر ایسے بیٹھا جیسے بہت بےتکلفی ہو ان.کے درمیان. ..جبکہ لڑکیوں نے منہ اٹھا کر حیرانگی سے پہلےاس لڑکے کو دیکھا اور.پھر ایک دوسرے کو.گویا ایک دوسرے سے پوچھ رہیں ہوں کہ کیا.تم جانتی ہو اسکو؟؟؟
لڑکے نے دانت نکالے..ارے ارے !اکیلے کیوں بیٹھی ہیں؟؟
تھوڑی لفٹ ہمیں بھی کروا دیں..
دو لڑکیاں ایک دم بوکھلا گئیں. .اور خوفزدہ ہونے لگیں.
ایک نے ہمت کی..
کون.ہو تم لوگ ؟؟کیا چاہیئے ؟؟
ارے اپ تو غصہ کرنے لگیں. ..
میں تو ڈر گیا..اسنے ڈرنے کی اداکاری کی..
کون ہیں ہم؟؟ابھئ جان جائینگی…اور چاہتے تو ہم اپکو ہی ہیں…اسنے خباثت سے آنکھ دبائی..جس پر اسکے باقی ساتھی بھی ہسنے لگے….
لڑکے نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا….
ارے اس حسن پہ کون نا مر جائے..وہ پھر گویا ہوا جبکے لڑکی تھر تھر کانپنے لگی…
نمو وہ دیکھ….مقی نے نمرہ کو بلایا جو پیزا سے بھرپور انصاف کرنے میں مصروف تھی…
ہوں کیا؟؟.اسنے پوچھا…
چونکہ نمرہ کی کمر دروازے کے سامنے تھی اور منہ دوسری طرف سو وہ کچھ بھی دیکھ نا پائی…
اُولو…پیچھے دیکھ اپنے..وہ لڑکا کب سے تنگ کر رہا.اس اکیلی لڑکی کو اور کوگ بس گھوری جارہے ہیں…
نمرہ نے چونک کر منہ پیچھے کی طرف موڑا…
سامنے ہی حارث اپنے دو تین آوارہ چمچوں کے ساتھ بیٹھا.ہنس دھا تھا…
نمرہ کی نظر اسکے ہاتھ پر گئی..جہاں اسنے لڑکی کا ہاتھ جکڑ رکھا تھا..
وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھی…اور بھاگنے کے سے انداز میں اس ٹیبل تک گئی..
ارے اپنے حسن کا خراج تو وصول کرلو..پھر چھوڑ دونگا..
حارث کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی..وہ یہ بولتے ہی اپنے لب لٹکی کے ہاتھ پہ رکھنے ہی والا تھا کہ………
چٹاخ.!!!!!!!!!!!!!!!
نمرہ ایک زوردار تھپڑ اسکے گال پر چڑ چکی تھی..وہ کرسی سے ایک طرف ڈھلکا…
ہاں کیا بک رہے تھے؟؟خراج وصول کر لے؟؟
پہلے تم تو اپنی ان حرکتوں کا خراج وصول کر لو…ِیہ کہتے ہی اسنے ایک اور تپھڑ جڑ دیا..
حارث آنکھوں میں خون اتارتا.کھڑا ہوا ……
تمہاری اتنی ہمت….وہ نمرہ پہ برسا..جبکہ اسکے دمچھلوں کو گویا سانپ سونگ چکا تھا….
اسنے اپنے سامنے اس نازک سی لڑکی کو دیکھا. …
کیا ہوا؟؟تمہاری ہمت کا خراج پیش کیا میں نے تو بس؟؟کیا پسند نہیں آیا؟؟
وہ.آنکھیں پٹپٹا کر نہایت معصوم بنتے بولی…….
الے الے رونا نہیں…😛
جبکہ آس پاس بیٹھے لوگ اسکی ایکٹنگ سے محضوظ ہوئے…
حارث نے سر سے پیر تک اسکا جائزہ لیا اور خباثت سے ہنساِ کر گویا ہوا..
چیز تو تم بھی مست ہو…….چلو چوڑ دیا اسے..تم ہی ہماری رات کو.رنگین کر دوِ……اسکے باقی دوست بھی نمرہ کو گھورنے لگے…
ابھی.کرتی ہوں….یہ کہتے ہی اسنے زوردار آواز دی…
مینیجر…مینیجر….
بیرے ہڑبڑا کر حاضر ہوئے..
جی میم؟؟
مینیجر کو بلاو…وہ دھاڑی….
ججی..جی میم!!
وہ بھاگ کر اندر گیا…اور آپ سب منہ کیا دیکھ رہے ہیں ؟؟؟.پولیس کو فون کریں. ..اتنی تو ہمت ہوگی ہی آپ سب “مردوں” میں. ….اسنے مردوں پر زور دے کر کہا گویا انکو شرمندہ کیا..مقی اگے بڑھی..
چھوڑ نمی چل..مت منہ لگ ان کتوں کے..بھونکنے دے..
ایمن آگے ہوتے ہوئے بولی…….
واو ساتھ بونس بھی ہے باس…اسکا ایک ساتھی ایمن کو گندی نظروں سے دیکھتے بولا…..
نمرہ نے پہلے اسے اور پھر حارث کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا…
ارے تم جیسی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جو خوامخواہ لڑکوں کے آگے پیچھے منڈلاتی ہیں. .بے بی پہلے بتا دیا ہوتا تو میں ڈائریکٹ تمہارے پاس ہی آجاتا….
اوے کدو کے منہ والے..شکل تیری ایسی ہے کہ جمعرات کو بھی کوئی ترس کھا کے پھوٹی کوڑی نا دے…اپنی یہی مٹر جیسی آنکھیں مٹکانا بند کر …. جنکو گھر والے دوسری بار سالن تک نہیں دیتے..وہ باہر ایسے ہی پھونڈیں مار کر اپنی احساس کمتری کو دباتے ہیں. ..
اتنے ميں مینیجر پہنچا…
ہم معزرت خواہ ہیں میم…
وہ شرمندگی سے بولا…..
آپ کی معزرت کا اب میں اچار ڈالوں ؟؟؟
چولہے میں گئی آپکی معزرت…
اور ریسٹورنٹ……
فورن انکو پولیس کے حوالے کریں. ..یہ آپکے پبلک ریسٹورنٹ کا حال ہے….
جی جی میم…..
اور تم..چلو میرے ساتھ…وہ اس لڑکی کو مخاطب کر کے بولی..
دیکھ لونگا تمہیں تو…حارث آگے بڑھ کر بولا..
اچھا میں بھی انتظار کرونگی….
وہ ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئیں….
تمہارے منہ میں زبان نہیں ہے؟؟یا خدا ناخواستہ. ہاتھ پاؤں سے معزور ہو؟؟ایک لگانی تھی الٹے ہاتھ کی…ہمت ہی نا ہوتی اسکی….تم لوگوں کے اسی ری ایکشن سے تو اور شیر ہوتے ہیں ایسے کمینے. …
وہ اس.لڑکی پر چڑھ دوڑی…
وہ میں ڈر گئی تھی…شکریہ آپ سب کا….وہ مشکور ہوئی…
یار وہ پہلے ڈسٹرب ہے اور تم الٹا اسی کو…..
آپ جائیں اسکا تو میٹر آؤٹ ہو تو نا جگہ دیکھتی ہے نا وقت…
ایمن نے اس لڑکی کو کھسکنے کا مشورہ دیا جس وہ فوراً عمل پیرا ہوئی…
🌸🌸🌸🌸🌸
حارث غصے سے پاگل ہو رہا.تھا…
اسکی اتنی ہمت؟؟تھی کون کمینی؟؟ہاتھ لگے دوبارہ ایک منٹ لگائے بغیر وہ حشر کرونگا کہ منہ چھپاتی پھرے گی…
ریلیکس بڈی…اسکے دوست نےشانے پر ہاتھ رکھا…
اس وقت وہ اسلام آباد کے ایک بہت بڑے اور گمنام بار میں بیٹھے شراب کے نشے میں دھت تھے…
ہوں……وہ اتنا ہی کہہ سکا…
اتنے میں اسے اپنی پاکٹ میں موبائل کی وائبریشن محسوس ہوئی…اسنے جیب سے موبائل نکالا…
مام کالنگ….
سکرین پر جگمگا رہا تھا…
اسنے کال کاٹ دی پر پھر سے انے لگی..اسنے کال اٹینڑ کی اور شور سے ذرا سائیڈ پر ہو کر کال سننے لگا..
یس؟؟وہ بےزاری سے بولا
کہاں ہو؟؟وقت دیکھا ہے..ِ
وہ غصے سے بھرے لہجے میں کھانے کو دوڑیں. ..
کلب میں آیا.ہوں. …
کلب؟؟اس.وقت…؟؟
اور کیا دن.کو اتا؟؟وہ چڑگیا
یہ تمہارا لندن نہیں ہے…فوراً گھر پہنچو..اور تا لیہ کا بھی پتا کروِ.
یہ پاکستان ہے..سمجھے…
وہ تڑاخ سے فون رکھ چکی تھیں جبکہ حارث دانت پیس کر رہ گیا.
🌸🌸🌸🌸🌸🌸
فرحان کہاں جارہے ہو بیٹا؟؟
آمنہ بیگم نے ملازموں کو شام کے کھانے کا بتا کر کچن سے نکلتے ہوئے پوچھا…
امی اشعر سے کام ہے ذرا بلال چاچو کے گھر تک جا رہا تھا…
کوئئ بات ہے؟کوہی کام تھا اپکو ؟؟….
دو ماں بیٹا لاؤنج میں بیٹھ چکے تھے…
ہاں بیٹا …شادی ہے چار پانچ دن بعد حیدر صاحب کی بہن کی…تم جانتے ہو کتنا آنا جانا.ہے انکا ہم سب کے ہاں…..
جی!ہم ساتھ دے رہے ہیں تیاریوں میں. .پرسوں چکر لگایا تھا دادا جان کے ساتھ مین نے اور اشعر نے….
ہاں اچھا ہے..تم شروع سے ہاسٹل میں رہے ہو اتنا آناجانا نہیں ہے نا زیادہ جان پہچان. .پر اب تو.آگئے ہو سو سب سے گھل مل جاؤ..شادی پہ بھی بہت سے رشتہ دار آئیں گے…
جی میں سمجھ گیا آپ فکر نا کریں ….
تمہاری ممانی اور دونوں بچے بھی آگئے ہیں پاکستان …بلکہ مہینے سے آئے ہوئے ہیں. .اسلام آباد میں اپنے میکے میں ہیں شاہد شادیاں پر آئیں…
ہوں. اچھا…یہ تو اچھی بات ہے….
اتنے میں اشعر کی کال انے لگیِِ….
اوکے امی اشعر ویٹ کر رہا ہے میں چلتا ہوں. .
ہاں ٹھیک ہے جاؤ…
🌸🌸🌸🌸🌸
تو کدھر کا ارادہ ہے آج؟؟
اشعر نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا…
یار بائیکنگ کا موڈ ہے..بہت ٹائم ہوگیا ہے ویسے بھی….
پھر ڈنر ڈن کر…
برہان نولا
ہاں چل جیتا تو ڈنر ڈن……..
تو ہارتا کب ہے؟؟ اشعر نے حیرانی سے پوچھا….
ہارنا تو نہیں
سیکھا پر جنگ لڑے بغیر ہی فتح کا اعلان کرنا تو.بے وقوفی ہوگی نا……..
وہ تینوں
آج کافی دنوں بعد آوٹنگ پر نکلے تھے…جب تک ہاسٹ
میں تھے تینوں آزادی سے شہر کا چپہ چپہ گھومتے…
فرحان بائیک ریسنگ کا دیوانہ تھا.ِ..بائیکنگ کی دنیا میں کافی نام تھا اسکا…
جبسے حویلی شفٹ ہوئے تھے انکے کندھوں پر ذمہداریاں آگئی تھیں. .وہ خود بھی کام کے ماملے میں سیرئس رہتے..سو اب وقت ملا تو چل پڑے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *