No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
آج سنڈے تها اور معمول کے مطابق سب ہی گهر پر موجود تهے یہاں تک کہ شہرام بهی موجود تها
صبح گیارہ بجے گا وقت تها اور تقریباً سب ہی لاونچ میں موجود تهے لیکن شہرام کے علاوہ وہ کچھ دیر پہلے ہی اٹھ کر کمرے میں گیا تها رامز مصطفی سعید صاحب اور حماد صاحب لاہور میں ہونے والی میٹنگ کے بارے میں بات کررہے تهے جبکہ سعدیہ بیگم اور شازیہ بیگم کپڑوں کا رولا لیے بیٹهی تهیں باقی بچہ پارٹی ایک طرف پریہان کے راگ سن رہی تهیں
“ٹوٹے ہیں اس طرح سے آواز تک نہ آآآآآآآآآ……”
گانے کے دوران ہی اسکو چینخ مارتے اور صوفے پر کهڑے ہوتے دیکھ سب نے حیرت سے دیکها شازیہ بیگم نے اپنا دل تهاما تها یوں پریہان کو چینخ مارتے لیکن احتشام کو ہنستے دیکھ سب نے دونوں کو گهورا تها کیونکہ احتشام صاحب نے اسکی گود میں نکلی چهپکلی پهینک دی تهی اور پریہان میڈم جو گانا گا رہی تهی گود میں کوئی چیز گرنے سے چلا اٹهیں چهپکلی سے اسکو ڈر تو نہیں لگتا تها پر اچانک اسکی گود میں کچھ گرنے سے چلائی تهی
“تم دونوں کا علاج مشکل ہے….”
شازیہ بیگم نے اپنے دونوں سپوتوں کو گهورتے ہوئے کہا اب سبکے چہروں پر مسکراہٹ تهی اور اپنے اپنے کام میں مگن ہوگئے تهے پر پریہان نے احتشام کو ملامتی نظروں سے دیکها تها جسکی بتیسی ابهی بهی بند نہیں ہورہی تهی پریہان نے آنکهوں ہی آنکهوں میں اسکو وارن کیا تها اور احتشام صاحب نے فلائنگ کس دیتے اس وارنگ کو قبول کیا تها
ان سب کو باتوں میں مگن دیکھ وشما اٹهی تهی اور باہر نکل گئی اور زینے چڑتی شہرام کے کمرے کا رخ کیا بنادروازہ کھٹکھٹاتی اندر داخل ہوئی دروازہ بند کیا لیکن اندر کوئی موجود نہ تها واشروم سے پانی کے گرنے کی آواز سے سمجھ گئی تهی کہ شہرام واشروم میں موجود ہے اسکے لب مزید پهیلے تهے کیونکہ یہ اچهے سے واقف تهی کہ شہرام بنا شرٹ کے ہی باہر نکلے گا اسنے قدم آگے بڑها کر سائڈ ٹیبل پر پڑی شہرام کی پک اٹهائی اور بہت غور سے اسکو دیکهنے لگی
“یوں ہی تو نہیں مجهے تم سے محبت….”
مسکرا کر کہتی اسکی پک رکهی کہ دروازہ کهلنے کی آواز سے پیچهے پلٹی اور توقع کے عین مطابق شہرام شرٹ کے بغیر باہر نکلا تها بس وائٹ بنیائن اسکے بدن پر تهی وشما پلکیں چهپکائے اسکو دیکھ رہی تهی جو آج قیامت برپا کررہا تها
“تت-تم مم-مجهے نہیں معلوم تها کمرے میں ہو ورنہ شرٹ پہن کر باہر آتا سوری….”
اسکو یوں یک ٹک دیکهتا پاکر اسنے گڑبڑا کرکہا کیونکہ وہ کبهی اسکے سامنے یوں نہیں آیا تها
“کوئی بات نہیں مجهے تو تمہیں ایسے دیکهنا بهی منظور ہے…..”
وہ خو بیڈ کی طرف بڑهنے لگا تها اسکی بات پر رک کر ناسمجهی سے اسکو دیکها تو یہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے قدم قدم لیتی اسکے پاس گئی اور اسکے قریب ہوکر کهڑی ہوگئی اسکا یوں قریب ہوکر کبڑی ہونا شہرام کو کچھ غلط نہیں بلکہ سب کچھ غلط کی علامت دے گیا تها
“مطلب فیوچر میں بهی تو ایسے ہی دیکهنا ہے….”
اسنے اسکی بنیائن پر شہادت کی انگلی پهیرتے بےباکی سے کہا تو شہرام کو اسکی بےباکی دیکھ غصہ چڑها
“یہ کیا بدتمیزی ہے تم مجھ سے محبت کرتی تهی یہ تو جانتا تها پر اتنی بےشرم ہوگی یہ معلوم نہ تها….”
اسنے اسکا ہاته پیچهے کرتے ہوئے کہا
“بےشرمی صرف تمہارے لیے ہے ورنہ باقیوں سے پوچھ لو میں بہت سگهڑ اور شریف ہوں….”
اسنے انکهیں پٹپٹاتے ہوئے کہا
“تم میری پچپن کہ دوست تهی اس لے آج تک کچھ نہیں کہا پر آئیندہ اگر یوں میرے کمرے میں دکهی تو مجھ سے برا کچھ نہیں ہوگا سہی سلامت کمرے سے باہر نہیں جاو گی….”
اسنے انگلی اٹها کر وارن کیا وشما کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“سہی سلامت جانا بهی کون چاہتا ہے میں تو ڈوبنا چاہتی ہوں تم میں تمہاری محبت میں بےشک ابهی ڈبوکر دیکھ لو……”
یہ کہ کر اسنے اسکی بنائیں کس مٹهیوں میں جکڑتی چہرہ اسکے قریب کرتی بالکل اسکے قریب ہوکر کهڑی ہوگئی اسکی اتنی بےشرمی پر شہرام نے مٹهیاں پهینچی تهیں
“جب گهر والوں کو معلوم ہوگا کہ اتنی سگهڑ بیٹی وہ جو کبهی اوف تک نہیں کرتی میرے کمرے میں آکر اتنی بےشرمی سے میرے ساتھ ناجائز تعلقات بنانے کا کہ رہی ہے تو ان پر کیا بیتے گی کبهی سوچا ہے…..؟”
اسنے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا
“مجهے کسی کی پرواہ نہیں تمہارے علاوہ صرف تم چاہیے جائز یا ناجائز اس سے بهی فرق نہیں پڑتا…”
اسنے ایڑهیاں اٹهاتے شہرام کے لبوں کے قریب جهکتے ہوئے کہا خود پر اسکو یوں جهکتا دیکھ اسنے اسکے ہاتھ جهٹکے تهے اور اسکو پیچهے دهکا دیا تها
“تم جیسی بےشرم بےباک لڑکی میں نے آج تک نہیں….”
اسکا بس نہیں چل رہا تها کہ وہ وشما کو شوٹ کردے
“دیکهنا بهی مت ورنہ اسکو راکھ کردوں گی….”
اسنے خود کے یوں جهٹک جانے پر غصے سے کہا
“دفعہ ہوجاو اس سے پہلے میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو…..”
اسنے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا تو وہ دل جلانے والی مسکراہٹ پیش کرتی کمرے سے چلی گئی پیچهے شہرام نے اپنا سر تهاما تها اور ڈریسنگ پر پڑا سب کچھ ہاتھ مار کر نیچے گرا دیا تها
“پہلے مجهے تم سے ہمدردی تهی تمہارے محبت سے ہمدردی تهی لیکن اب آئی ہیٹ یو سو مچ….”
یہ کہ کر ہمیشہ کی طرح سیگرٹ سلگائی تهی
………………………………
مصطفی جو نہا کر نکلا تها کچھ سوچ کر اسکے ہونٹ مسکرائے اور اسنے فون اٹها کر آبریش کا نمبر ملایا
“جی مصطفی…..”
آبریش کی حیرت بهری آواز گونجی
“جانو ایک کپ چائے اور ساتھ تم کمرے میں آنا….”
محبت سے لبریز لہجے میں کہا تو آبریش نے فون کو ایسے گهورا جیسے فون نہیں مصطفی خود ہو
“آرہی ہوں…..”
چبا کرکہتی فون رکها تها اور ادهر مصطفی زور سے ہنسا تها اور دوسرے دروازے سے نکلتا ٹیرس پر چلا گیا تها اتنی سردی میں سرد ہوا اسکے جسم کو چهورہی تهی اسکو سردی کا احساس ہورہا تها پر اسکو ایسا موسم شروع سے پسند تها(گرم خون ہے جوان گا ہاہاہاہا)
“مصطفی بهائی مانا جوان بندے ہیں پر یوں بنا شرٹ کے اس ٹهنڈ میں اوپر سے سرد ہوا میں کهڑے ہونا جوانوں کو بهی ڈهیر کردے گا….”
احتشام جو گارڈن میں ابهی فون سن کرکهڑا تها کہ اچانک نظر مصطفی کے کمرے پر پڑئی تو اسنے شرارت سے کہا
“زیادہ بول نہ ورنہ پیٹے گا میرے سے….”
مصطفی نے ہنستے ہوئے کہا
“ہاں ہاں سب کا زور میرے پر ہی چلتا ہے…”
اسنے منہ بناتے اونچی آواز میں کہا تو مصطفی زور سے ہنسا تو احتشام بهی ہنس دیا اور اندر چلا گیا کہ اتنے میں ابریش دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئی مصطگی مسکراتا ہوا ٹیرس سے کمرے میں آیا آبریش جو چائے رکھ کر واپس پلٹی تهی اسکو بنا شرٹ کے دیکھ اسنے گهورا تها
“دروازہ کھٹکھٹایا بهی تها کہ نواب اپنی حالت درست کرلیں لیکن پهر بهی شرٹ نہیں پہنی….”
اسنے چباتے ہوئے کہا تو مصطفی ہنستا ہوا اسکے پاس آیا اور اسکو کمر سے کهینچ کر اپنے حصار میں لیا
“تم کو لگتا ہے میں شرٹ پہنتا….”
“مجهے علم تها آپکی بےشرمی کا پر میں نے کہا شاید…..”
اسنے اسکے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا تو مصطفی نے اپنا ماتها اسکے ماتهے سے رگڑا
“باہر سردی ہے نہ….”
مصطفی کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتی اسنے گهبراتے ہوئے کہا
“ہاں ہے لیکن تمہارے قریب محسوس نہیں ہورہی….”
اسنے خمار زدہ لہجے میں کہا تو آبریش چہرہ جهکا گئی کہ اچانک نظر اسکے گلے پر موجود لاکٹ پر گئی اسنے اس لاکٹ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دیکها کہ سیم آبریش کے هلے میں موجود لاکٹ جیسا ہے بس اس پر “اے” لکها تها اسکو یوں لاکٹ کی طرف دیکهتا پاکر مصطفی مسکرایا
“واو اپ نے بهی یہ پہنا ہوا ہے….؟”
اسنے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھ کرکہا
“تمکو پہنایا تها تو فرض تها مصطفی پر بهی….”
اسنے اسکے چہرے پر آنے والی آوارہ لٹوں کو پیچهے کرتے ہوئے کہا تو آبریش نے محبت پاش نظروں سے اسکی طرف دیکها اور آگے بڑه کر ایڑهیاں اٹهاتی اسکو ہگ کیا تها کہ مصطفی نے بهی گهیرا تنگ کیا تها
“آئی لویو مصطفی….”
اسنے اسکو مزید زور سے پکڑتے ہوئے کہا
” لویو ٹو…..”
اسنے اسکے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا
“آبر….”
پیار سے پکارا گیا
“جی….”
اسنے اسکے سینے سے سر اٹها کرکہا تو مصطفی کی سیدهی نظر اسکے ہونٹوں پر گئی اسکو نظریں دیکھ اسنے آپنی آنکهیں میچیں تهی شاید آج وہ خود بهی اس سے دور نہیں جانا چاہتی تهی مصطفی کا ایک ہاتھ اسکے کمر اور دوسرا چہرے موجود تها اور اس پر جهکا تها آبریش نے سختی سے اسکی بنیائن کو پکڑا تها جب مصطفی کو لگا کہ آبریش کی گرفت ڈهیلی پڑ رہی ہے تو اسنے اسکو نرمی سے خود سے الگ کیا تو وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی مصطفی نے بہت نرمی سے اسکو باہوں میں اٹهایا تها اور بیڈ پر لٹا کر اس پر جهکا تها اسکی گردن پر جهکتا اسکے شولڈر سے کپڑا ہٹایا تها اور وہاں بهی اپنے لب رکھ دیے اس پر جهکے تقریباً اسکو دس منٹ ہوئے تهے کہ جب اسکو لگا کہ اگر وہ تهوڑا اور اسکے قریب رہا تها تو آپے سے باہر ہوجائے گا سو نرمی سے اس سے الگ ہوا اور بیڈ پر پڑی شرٹ اٹها کر پہننے لگا آبریش کی دهڑکن بہت تیز چل رہی تهی سرخ چہرے کے ساتھ بیٹهی تو مصطفی اسکی طرف مڑا اور اسکے ماتهے پر لب رکهتا کمرے سے باہر نکل گیا اور پیچهے وہ اسکے لمس کو گردن شولڈر چہرے پر محسوس کرتی اور شرما گئی اور بیڈ کے سائڈ ٹیبل پر پڑی جائے کو دیکها جو ٹهنڈی ہوگئی تهی بیڈ سے اٹهتی نیچے گرا اپنا دوپٹہ اٹهایا اور کپ اٹهاتی باہر چلی گئی
………………………………
تقریباً شام کے چار بج گئے تهے شہرام اپنا غصہ ٹهنڈہ کرتا جب نیچے ایا شاید باہر جانے کی تیاری تهی کہ لاونچ سے گزرنے لگا کہ اسکو پریہان کا چہرہ نظر آیا جو مزے سے بریانی کهارہی تهی اسکا موڈ خودبخود فریش ہوگیا تها مسکراتا ہوا لاونچ میں داخل ہوا تو پریہان اکیلی بیٹهی تهی اسکو اتا دیکھ پریہان کا منہ کی طرف جاتا ہاتھ رکا اور اسنے چمچ پلیٹ میں رکھ کر شہرام کو دیکهنے لگی شہرام چهوٹے چهوٹے قدم کیتا اسکے پاس آیا اور بالکل اسکے قریب ہوکر بیٹھ گیا کہ پریہام سے سانس لینا محال ہوگیا
“اکیلے اکیلے بریانی….؟”
اسکی گهبراہٹ سے محفوظ ہوتے اسنے شرارت سے کہا
“آ-آپ بهی کهالیں….”
اسنے پلیٹ اگے کرتے ہوئے کہا تو اسنے ہاتھ کی مدد سے چاولوں کا نوالا منہ میں ڈالا
“ش-شہرام یہ چمچ لے لیں…”
اسنے پیار سے کہا کیونکہ وہ ہاتھ سے کهاتا اسکو بہت پیارا لگا تها یہ نہیں تها کہ وہ اسکو پہلی دفعہ کهاتا دیکھ رہی تهی بس اسکے اظہار کے بعد آج دیکها تها
“ہاتھ سے کهانا سنت ہے….”
اسنے مسکراتے ہوئے کہا تو پریہان شرمندہ ہوئی اور اسنے بهی چمچ سائڈ پر رکهتے ہوئے ہاتھ کی مدد سے نوالا منہ میں ڈالا تو شہرام مسکرایا اور ہاتھ میں نوالا لیتا پریہان کے منہ کے سامنے کیا تو اسنے ہچکچا کر اسکو دیکها تو شہرام نے آنکهوں سے اشارہ کیا تو پریہان نے نوالا منہ میں ڈالا باقی انگلیوں پر موجود چولوں کو اپنے منہ میں ڈالا تو پریہان شرم سے اور سرخ ہوگئی اسکو سرخ ہوتا دیکھ شہرام کو مزہ آرہا تها تبهی اور پاس ہوکر بیٹھ گیا کہ وہ اسکی سانسوں کی تپش چہرے پر محسوس کررہی تهی اسکی دهڑکن کی آواز بخوبی سن رہی تهی اور اپنی دهڑکن بهی شور برپا کئیے ہوئے تهی
“اتنا کیوں گهبراتی ہو یار…؟”
اسنے اسکے بال کان کے پیچهے کرتے ہوئے پیار سے کہا
“کب گبهرائی میں….؟”
اسنے چراتے ہوئے کہا تو شہرام نے چہرہ اسکے پاس کیا
“اچها ابهی ایک پیار بهرا جملہ بول دیا تو میڈم کا اگلا سانس لینا محال ہو جانا ہے….”
اسنے چہرے پر جهولنے والی آوارہ لٹ کو اپنی انگلی پہ لپیٹتے ہوئے کہا تو وہ چهینپ گئی
“پتا نہیں میں تم سے اتنا پیار کیوں کرنے لگا ہوں ناجانے کیوں…”
اسنے ایک اور نوالا اپنے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا
“آپ کا دماغ خرب ہوگیا ہے بس اور کچھ نہیں…”
اسنے منہ تیڑها کرتے ہوئے کہا پر شہرام کے قہقے پر اسنے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی تهی اور جلدی سے پانی کا گلاس انڈیلا تها
“سنو پری….”
پیار سے پکارا تها اور اسکے پکارنے پر تو وہ فدا ہی ہوگئی تهی
“جج-جی بولیں….”
اسنے معصومیت سے کہ کر نوالا منہ میں ڈالا
“ایک عدد کس ملے گی….”
اسنے نارمل سے انداز میں کہا اور اسکے ایسا کہنے پر اسکا نوالا ہی حلق میں اٹک گیا اور بری طرح کهانسنے لگی شہرام نے پانی کا گلاس اسکے لبوں سے لگایا تو اسکو کچھ سانس آیا اور حیرت سے اسکو دیکهنے لگا
“اچها دے دو نہ یار….”
اسنے اسکے ہونٹوں کہ طرف دیکهتے ہوئے کہا اس سے پہلے وہ کچھ بولتی شہرام نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی
“خاموش بالکل…..”
یہ کہتا جهکنے لگا لیکن باہر سے اتی آوازوں سے ہوش کی دنیا میں آیا پریہان کا تو سانس لیناہے دوبالا ہوگیا تها شہرام کے اتنا بےباکی سے کہنے اور دوسرا باہر سے آوازیں جیسے ادهر ہی کوئی آرہا ہو اور تیسرا شہرام کا اسکے اتنا قریب بیٹهے ہونا اسکے چہرہ کا رنگ اڑتا دیکھ مسکراتا پوا اس سے فاصلے پر بیٹها اور پلیٹ اپنے اور اسکے درمیان رکهتا مزے سے کهانے لگا کہ اتنے میں احتشام مصطفی اور آبریش لاونچ میں داخل ہوئے
“ارے واہ رائیس کهائے جارہے ہیں….”
احتشام کہتا ہوا آبریش اور مصطفی کے ساتھ بیٹها شہرام نے مسکرا کر دیکها پر پریہان تو مسکرا بهی نہ سکی اور احتشام مصطفی اور ابریش ناجانے فون میں کیا دیکهنے پر مصروف ہوگئے مصطفی ناجانے انکو کیا دیکها رہا تها انکو مصروف دیکھ شہرام نے پلیٹ کے پاس پڑا پریہان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکها تو وہ اسکو دیکهنے لگی اسکے دیکهنے پر شہرام نے مسکراہٹ دبانے کیلیے ہونٹ دانتوں تلے دبایا تها
اسکو گهراتی جانے کیلیے اٹهی پر ایک قدم سے زیادہ نہ چلا گیا اسنے پیچهے پلٹ کر دیکها تو دوپٹہ شہرام کے ہاتھ کے نیچے تها اور وہ اسکو پہار بهری مسکراہٹ سے دیکھ رہا تها پریہان نے ان تینوں کی طرف دیکها جو مصروف تهے کسی کا دهیان ادهر نہیں تها اسنے گهور کر شہرام کو دیکها جس پر شہرام نے اسکو آنکھ ماری اور ایک فلائنگ کس دی جس پر پریہان کا منہ کهلا کا کهلا رہ گیا اسنے گڑبڑا کر دوبارہ ان تینوں کی طرف دیکها جو ابهی بهی مصروف تهے آپس میں اسنے پهر التجایا نظروں سے شہرام کر دیکها جسکو شیاد ترس آگیا تها اور اسے دوپٹہ چهوڑ دیا تها اسکے چهوڑتے ہی وہ دوسو کہ سپیڈ سے گئی تهی
پیچهے شہرام ایک گلاس پانی کا پیتا پلیٹ اٹهاتا اٹها شاید کچن میں جانے لگاتها
“شہرام بهائی اگر نہیں کهانی تو مجهے دیتے جائیں…”
احتشام نے دانت دیکهاتے ہوئے کہا تو شہرام پلیٹ اسکو پکڑائی اور لاونچ کے ساتھ اٹیچ واشروم سے ہاتھ دهونے چلا گیا جب باہر ایا تو لاونچ میں باری باری سب ارہے تهے کچھ بات کرنے لگا کہ فون پر بجنے والی رنگ ٹیون کی طرف متوجہ ہوا دیکها تو گل خان کا تها اسنے فون اٹهایا فون اٹهاتے ہی آگے سے سننے والی خبر سے اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی تهی
