No Download Link
Rate this Novel
Episode 65
اسکے چہرے کے تاثرات بگڑ رہے تهے وہ ایک دم سے لڑکهڑایا تها اور پهٹی پهٹی آنکهوں سے وڈیو دیکهنے لگا
“بهائی یہاں کیا کررہے ہو جلدی چلیں بڑئے ابو آپکے متعلق فیصلہ…..”
احتشام جو اپنی ہی دهن میں بول رہا تها شہرام کو ساکت کهڑا دیکھ اور چہرے کے تاثرات دیکھ اسکی زبان کو بریک لگی
“شہرام بهائی…..”
اسنے آگے بڑھ کر اسکا کندها ہلایا کہ شہرام میں جنبش ہوئی لڑکهڑایا تها کہ احتشام نے جلدی سے تهاما
“بب-بهائی کیا ہوا آپکو….؟”
اسنے اب پریشانی سے پوچها لیکن وہ تو گم سم سا کهڑا تها احتشام اسکو چهوڑتا اندر بهاگا تها اور لاونچ میں داخل ہوا سب خوش گپیوں میں مصروف تهے
احتشام مصطفی کے پیچهے کهڑا ہوا اور صوفے پر دونوں ہاتھ رکهتا آگے کو جهکا
“بهائی جلدی چلیں شہرام بهائی ٹهیک نہیں لگ رہے…..”
اسکی فکر مند آواز سن کر اسنے پلٹ کر اسکو دیکها اور اثبات میں سر ہلاتا اٹها اور سامنے بیٹهے رامز کو اشارہ کیا تو وہ بهی اٹها تها اور وہ تینوں لاونچ سے نکل کر بهاگ کر گارڈن میں گئے تهے شہرام ابهی بهی اسی حالت میں تها
“شیرے کیا ہوا ہے یار….؟”
مصطفی نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تو وہ خالی خالی نظروں سے اسکو دیکهنے لگا
“سب برباد ہوگیا…..”
وہ کهوئے سے لہجے میں بولا
“کیا کہ رہا ہے تو..؟….”
اب انکو حقیقتاً شہرام کی حالت دیکھ کر پریشانی ہوئی تهی اور پهر اسکے ہاتھ میں موجود موبائل پر نظر گئی تو مصطفی نے موبائل پکڑا اور وہاں کهلی ہوئی وڈیو پلے کی
وہ بهی جیسے جیسے دیکھ رہے تهے انکی حالت بهی کچھ مختلف نہ تهی
“پپ-پریہان….”
احتشام صرف اتنا ہی کہ سکا باقی وہ دونوں پهٹی پهٹی آنکهوں سے وڈیو کو دیکھ رہے تهے جس میں پریہان انہی کپڑوں میں ایک کرسی پر بندهی ہوئی تهی اور ہاتھ سے قطرہ قطرہ خون نکل رہا تها
“مم-مصطفی اسنے پهر چهین لیا مجھ سے وہ جیت گئی مصطفی…..”
شہرام ایک دم سے چلایا تها مصطفی نے آگے بڑھ کر اسکو گلے لگایا
“شہرام ہوش سے کام لے میرے بهائی ہم…ہم ڈهونڈه لیں گے….”
شاید وہ خود کو تسلی دے رہا تها وہ بکهرا سا کچھ بڑبڑا رہا تها اور پهر اسکو پیچهے دهکا دیا
“میں وشما کی جا لے لوں گا اگر اسکو کچھ ہوا تو…..”
وہ پهر سے چلایا تها سرخ آنکهیں لہو اگل رہی تهیں
“آآآآآ……”
وہ اونچی چلایا تها اور موبائل اٹها کر زمین پر دے مارا نیچے گهاس ہونے کی وجہ سے زیادہ فرق نہ پڑا تیز تیز سانس لیتا نیچے بیٹها اور اپنے بالوں کو نوچنے لگا مصطفی خود بکهر سا گیا تها اور رامز اور احتشام ابهی تک ساکت کهڑئے تهے
سب لوگ جو لاونچ میں بیٹهے تهے شور کی آواز سن کر حیرت سے لاومچ سے باہر نکلے اور گارڈن سے آتے شور کی آواز سن کر سب گارڈن کی طرف گئے لیکن وہاں سبکو پریشان اور شہرام کی حالت دیکھ کر انکو کچھ غلط کا احساس ہوا
“مم-مصطفی شہرام کو کیا ہوا ہے……؟”
سعید صاحب نے اسکی حالت دیکھ کر پوچها
“کها گئی ہے آپکی بیٹی میری خوشیوں کو….”
شہرام انکو دیکھ کر چلایا تها تو انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکها
“صرف آپکی وجہ سے بابا وہ..وہ اس حد تک پہنچ گئی ہے آپکی دی گئی چهوٹ کی وجہ سے…..”
وہ کهڑا ہوتا ہوا پهر سے چلایا
“شہرام….”
رامز ہوش میں آتا اسکو پکڑا تها
“چهوڑیں بهائی آج انکو انکی غلطی کا احساس دلانا چاہیے جس سانپ کو انہوں نے پالا وہ آج ڈس چکا ہے….”
وہ رامز کی گرفت سے نکلتا ہوا پهر سے چلایا تها سب دم سادهے اسکو سن رہے تهے
“بب-بیٹا….”
سعید صاحب کے الفاظ ٹوٹے تهے
“نہیں ہوں میں آپکا بیٹا صرف وہ..وہ دو ٹکے کی لڑکی وہ منہوس وہ ہی آپکی بیٹی ہے جو سب تباہ کرگئی ہے آج…..”
اسکی آواز پورے گارڈن میں گونج رہی تهی
“شہرام ہوش سے کام لو….”
حماد صاحب اسکو مزید بدتمیزی کرتا دیکھ جلدی سے بولے
“کک-کیا کردیا ہے اسنے….”
سعید صاحب ٹوٹے سے لہجے میں بولا
“لے گئی ہے وہ میری زندگی مجھ سے دور…..”
چلانے سے اب اسکی آواز تبدیل ہورہی تهی
“پریہان….”
سبکے ہاتھ بےساختہ اپنے دلوں کو گئے تهے
“کک-کیا کہ رہے ہو شہرام کہاں ہے پریہان…..؟”
حماد صاحب نے شہرام سے پوچھ کر مصطفی کو ہلایا تو اسنے بنا کچھ بولے اگے بڑھ کر نیچے گرا شہرام کا فون اٹهایا جو چل رہا تها اسنے وڈیو چلا کر انکے سامنے کی اس میں ہمت نہ تهی کہ انکو بتا سکتا
سعید صاحب لڑکهڑائے تهے پاس کهڑئی آبریش نے جلدی سے انکو پکڑا
“دیکها بابا یہ ہوتا ہے سانپ کا ڈسنا…جتنی مرضی سانپ کی مدد کرلو آخر میں وہ آپکو ہی ڈسے گا…..”
وہ اب آہستہ آواز میں بولا تها سب لاجواب سے کهڑئے تهے سہی ہی تو کہ رہا تها سعدیہ بیگم آبریش اور شازیہ بیگم مسلسل رو رہیں تهی
“وہ کچھ نہیں کرئے گی اسکو…”
سعید صاحب ایک امید سے بولے
“بابا ابهی بهی اس ناگن سے امید ہے آپکو افسوس…..”
شہرام طنزیہ ہنسا تها
“شہرام میری بچی کو بچا لو شہرام…”
شازیہ بیگم روتے ہوئے بولیں
“چهوٹی امی میں اس بیغیرت عورت کو جہنم واسل کروں گا اور پریہان کو بچاوں گا ضرور….”
وہ ایک نظر سعید صاحب کو دیکهتے ہوئے اس دفعہ دهیمی آواز میں بولا پر لہجہ سبکا ٹوٹا ہوا تها
………………………….
پریہان دهیرے دهیرے ہوش میں آرہی تهی اسنے ہولے سے آنکهیں کهولیں تو ہر طرف اندهیرہ ہی تها اسنے خود کو ہلانا چاہا تو بندهے ہونے سے اسکے دماغ میں جهماکا ہوا اسکو دهیرے دهیرے سب یاد انے لگا
کہ وہ اس میسج کی وجہ سے گارڈن میں گئی وہاں کهڑئی شہرام کا انتظار کررہی تهی کسی نے پیچهے سے آکر اسکو منہ پر رومال رکها لیکن پریہان نے سانس روک لی تهی اور اسکو دهکا دے کر پیچهے ہوئی اور بهاگنے لگی کہ کسی نے اسکا ہاتھ کهینچا اسکی ہاتھ پر کچھ بہت ضور سے چبها تها اور ایک تهپڑ کسی نے اسکو مارا تها اور دوبارہ اسکے منہ پر رومال رکها اور اسکے بعد کچھ یاد نہیں تها اسکو
“کون لایا ہے مجهے یہاں کهولو….”
وہ کرسی پر زور سے ہلتی ہوئی حلق کے بل چلائی
“کهولو….”
وہ پهر سے چلائی تهی
“چهوڑو مجهے کون لایا ہے یہاں….”
وہ پهر سے حلق کے بل چلائی تهی کہ دروازہ کهلا تها باہر سے آتی روشنی سے اسنے آنکهیں بند کیں تهی اور پهر کچھ دیر بعد اسنے آنکهیں کهولیں تو سامنے موجود ہستی کو دیکھ اسنے آنکهیں بند کرکے دوبارہ کهولیں تهی جیسے یقین کرنا چاہتی ہو..
“آ-آپ….”
وہ اٹک کر بولی
“جی میری جان میں….”
وشما قدم قدم لیتی اسکے پاس آئی
“مجهے ان سب کی امید نہیں تهی وشما آپی….”
وہ بےیقینی سے روتے ہوئے بولی
“کرلو یقین میں تمہیں چهوڑ دوں لیکن….”
وہ کہتے ساتھ رکی اور جهک کر اسکے آگے آئے بال پیچهے کیے
“لیکن تمہیں شہرام سے خلا لینا ہوگا….”
“مر کر بهی نہیں لوں گی سمجهیں آپ….”
وہ اسکی بات پوری ہونے سے پیلے حلق کے بل چلائی
“تو پهر یہی رہو کیونکہ دور تو میں اسکو تم سے کردوں گی….”
وہ مسکرا کر بولی
“اللہ نے چاہا تو ایسا نہیں ہوگا…اور جہنم میں جائیں آپ جیسی بدکردار زلیل عورت گهٹیہ آہہہ….”
وشما کے تهپڑ سے اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تهے اور چہرہ اٹها کر وشما کو دیکها وہ اس وقت کمزور نہیں پڑنا چاہتی تهی حالانکہ اسکا ہونٹ پهٹ چکا تها
“اپکا یہ تهپڑ مجهے خاموش نہیں کروا سکتا آپ جیسی گهٹیا عورت سے یہی امید تهی….”
“پریہان…”
وشما نے ایک اور تهپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا تها پریہان کے البتہ پندرہ طبق روشن ہوگئے تهے
“ایک بات کان کهول کر سن لو میں شہرام سے اسکی ہر پیاری چیز چهین لوں گی جیسے اس نے چهینا تها مجھ سے میں تمہیں بهی اس سے چهین لوں گی…..”
وہ اسکو بالوں سے پکڑتے ہوئے بولی
“آپکے اندر موجود حسد اپکی جلن نے آپکو اس مقام پر پہنچا دیا ہے وشما آپی….”
وہ زور سے ہلتے ہوئے بولی
“چهوڑ دو شہرام کو پریہان میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں نہیں کهونا چاہتی تمہیں….”
اب کہ وہ اسکی گال کو چهوتے ہوئے بولی پریہان نے چہرہ پیچهے کیا تها
“اور میں شہرام سے محبت کی انتہا پر ہوں وشما آپی اب موت کے علاوہ کوئی ہمیں الگ نہیں کرسکتا اب چهوڑنے کا سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا……”
وہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ بولی
“الگ تو ہوگے تم دونوں دیکهنا وشما ہر چیز چهین لے گی شہرام سے….”
“اگر مجهے شہرام سے دور کرنا ہے تو آپکو مجهے مارنا ہوگا….”
وہ تحمل سے بولی
“ماروں گی تو ضرور پر تمہیں نہیں تمہیں تو چاہ کر بهی وشما نہیں مار سکتی….”
مسکرا کر اسکا گال تهپتهپاتی باہر چلی گئی
“اللہ میاں بچا لیں پلیز شہرام کو بهیج دیں پلیز ہمیں الگ مت کرئیے گا…..”
وہ روتے ہوئے بولی
………………………….
وہ سب اسوقت لاونچ میں بیٹهے تهے مصطفی رامز حارز ہر ممکن کوشش کررہے تهے البتہ شہرام لاونچ میں ادهر سے ادهر چکر لگانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہا تها
مقصد غصہ ٹهنڈہ کرنا اور دماغ چلانا تها جو ایک بار چلتا تو پریہان کو ڈهونڈهنا مشکل کام نہ تها حارز بهی یہی موجود تها
“مصطفی وشما کو کام کرو….”
وہ ٹہلتا ہوا ایک دم سے رک کر بولا تو اسنے فون ملایا رات کے دس بج چکے تهے سب انہی شافی کے کپڑوں میں موجود تهے یہاں تک کے آبریش بهی اسی بهاری ڈریس میں موجود تهی
تیسری بیل پر کال اٹها لی گئی تهی
“ہیلو……”
وشما کی پرجوش سی آواز گونجی
“وشما میری بہن کہاں ہے….؟”
مصطفی غصے کو قابو میں کرتے ہوئے بولا
“میرے پاس….”
وہ مزے سے بولی
“چهوڑ دو اسکو وشما….”
وہ ابهی بهی آرام سے بولا
“اتنی فکر کیوں کررہے ہیں سب وہ کسی غیر پاس نہیں اپنی آپی پاس ہے مصطفی….”
اسخے اطمینان میں بهی زرا فرق نہ آیا تها
“کیا چاہتی ہو….؟”
“شہرام طلاق کے پیپرز بهیجے….”
اور یہ بات سب کو سلگا گئی تهی شہرام غصے میں بولتا مصطفی نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
“تمیاری موت کا سرٹیفیکیٹ ہیں وہ بهیج دیں…..”
مصطفی کی یہ بات وشما کو تڑپا گئی تهی پر اسنے خود کو کمپوز کیا
“ارے میرے پیارے دوست مصطفی آج تمہارا ولیمہ تها انجوائو کرو بیوی کے ساتھ تم کن چکرو میں پڑه گئے ہو دیکهو میں تمہاری خوشیاں برباد نہیں کرنا چاہتی یہ نہ ہو بعد میں میری جان تم مجهے بلیم دو کہ دیکهو وشما تمہاری وجہ سے میں اپنی بیوی کے ساتھ ٹائیم سپینڈ بهی نہ کرسکا….”
اسکی بات سبکا حلق تک کڑوا کرگئی تهی
“ویسے وہ کدهر ہے شہرام اسکی تڑپتی ہوئی آواز سننے کو ترس گئی ہوں میں اسکو دو اور تم پلیز انجوائے مارو….”
وہ ابهی بهی ریلیکا انداز میں بولی
“وشما میری پری کدهر ہے…..”
وہ غصے سے بولا تها
“ہائے میری جان تمہاری آواز کو تو ترس گئی تهی میں…..”
اسکے بےشرمی والے الفاظ سن کر اسنے ایک نظر نفوس پر ڈالی
“وشما اسکو چهوڑ دو ورنہ زندہ زمین میں دفن کردوں گا….”
وہ غرا کر بولا تها
“دفنا دو لیکن میرے ساتھ اپنی بیوی کو بهی دفنانا…..”
“وشما میں جان لے لوں گا تمہاری اگر اسکو زرا خروش بهی آئی تو….”
وہ غصے سے دوبارہ بهڑکا تها
“ششش آواز نیچی پریہان کی جان پیاری ہے نہ تو خاموش رہو….”
“بکواس بند کرو میری بیوی کا بتاو…”
وہ غصے سے دوبارہ چلایا
“لاش مل جائے گی….”
سبکے ہاتھ بےساختہ اپنے دلوں کو گئے تهے شہرام کا دل دہل سا گیا تها
“آہ وشما کاش تم سچائی کو سمجهتی آج حالات کچھ اور ہوتے وشما کبهی حقیقت کو جانا ہوتا…..”
وہ تهکے سے لہجے میں بولا
“بس شہرام سب حقیقت جانتی ہوں میں تمہاری میرے صائم کو میرے بابا کو مارا ہے تم نے……”
وہ چلائی تهی
سب پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑئے یہ کیا کہ رہی تهی وہ..سوائے مصطفی اور حارز کے کیونکہ انکو ہی اس الزام کا معلوم تها
“وشما کیا تمہیں مجھ پر اپنے شہرام پر یقین نہیں اپنے اس دو ٹکے کے باپ کی بات پر یقین کرلیا مجھ پر نہیں…..”
وہ غصے سے بولا تها
“مجهے کسی کی بات پر یقین نہیں سارے ثبوت ہیں میرے پاس….”
“ثبوت..واہ وشما آنکهوں دیکها کبهی چهوٹ بهی ہوتا ہے وشما ثبوت تو میرے پاس بهی ہی لیکن جهوٹے نہیں….”
“مجهے تمہاری کسی بکواس پر یقین نہیں….”
وہ قطع لہجے میں بولی
“مرجاو پهر…کیونکہ اب وشما تمہار قتل فرض ہے میں پریہان کو ڈهونڈه تو لوں گا لیکن یاد رکهنا تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا….”
“معلوم ہے ڈهونڈه لو گے تم مجهے میں بهی تیار ہوں آجاو تم میری جان سب تمہاری آنکهوں کے سامنے تم سے چهینوں گی جیسے تم نے چهینا ہے…..”
وہ بهی وشما تهی کہاں پیچهے رہنے والی تهی
“اوکے ملتے ہیں جتنے گهنٹے ہیں عیاشی مار لو کیونکہ تمہاری موت آرہی ہے….”
اسنے غصے سے چلا کر فون بند کیا تها اور شکوہ کناں نظر سے اپنے باپ کو دیکها سعید صاحب کو اپنا آپ گنہگار محسوس ہورہا تها
………………………….
شہرام کو اور باقی سبکو ڈهونڈهتے انکو صبح فجر ہوگئی شہرام نے ساری رات سیگرٹ پهونکی تهی اور گاڑی چلائی تهی
اسنے فجر کی آذانیں سنیں تو گاڑی ایک مسجد کے سامنے روکی
وہ جانتا تها صرف ایک ہی ذات ہے جو اسکی مدد کرسکتی ہے اور بےشک اس میں شک نہیں وہی ذات ہے جو ہماری مشکلات کا خاتمہ کرتا ہے
نماز ادا کرکے باہر آیا تو چہرہ آنسووں سے تر تها وہ آج پهر رو رہا تها اسکے لیے صائم کی موت کے بعد وہ جتنی بار بهی رویا تها صرف اسکے لیے صرف اسکے لیے…..
وہ گاڑیوں کو کراچی کی سڑکوں پر دوڑا رہا تها کہ اسکا فون رنگ ہوا ان ناون نمبر دیکھ کر اسنے جلدی سے اٹها
“میری جان جانتی ہوں تم ڈهونڈه رہے ہو اور تم ڈهونڈه لو گے….”
“وشما اپنی خیر منا لو….”
“سویٹ ہارٹ اپنی بیوی کی آواز سنو گے…..؟”
“نہیں مجهے نہیں سننی….”
وہ ضبط کرتا ہوا بولا وہ اب اسکے سامنے تو کم از کم کمزور نہیں پڑنا چاہتا تها
اور دوسری طرف وشما نے کڑوا گهونٹ بهرا مطلب بڑئے طوفان کی نشانی دے رہا تها اسکا یوں نظر انداز کرنا
“چلو شہرام ڈهونڈهنا بند کرو میں تمہیں جلد از جلد اپنے روبرو دیکهنا چاہتی ہوں جگہ کی لوکیشن سینڈ کررہی ہوں یو ہیو اونلی ففٹین منٹس ملتے ہیں پهر…..”
بنا اسکی سنے اسنے کال کٹ کی تهی ٹهیک دو منٹ بعد اسکو لوکیشن مل رہی تهی اسکے ماتهے کی رگیں تن گئیں تهی یہ وہ گهر تها جس میں صائم اور اسکی منگنی ہوئی تهی مطلب آج آر یا پار وہ اس وقت پانچ منٹ کے فاصلے پر تها مطلب بہت کلوز تها….اسنے لوکیشن مصطفی اور حارز کو سینڈ کی….اور گاڑی سپیڈ سے دوڑانے لگا
………………………….
اسنے گهر کے سامنے گاڑی روکی گن ہاتھ میں پکڑتا اترا تها اور اندر کی جانب قدم بڑهائے جیسے ہی اندر داخل ہوا لیکن اندر اندهیرہ تها
“ارے وہ آئے خدا کی رحمت
کبهی ہم انکو دیکهتے کبهی انکے تڑپے ہوئے چہرے کو”
اسکو ایک کمرے سے آواز آئی گن ہاتھ میں تهامے اندر داخل ہوا لیکن کمرے میں بالکل اندهیرہ تها
“پری….”
وہ بلند آواز میں چلایا
“آئیں دلہے راجا…..”
پیچهے سے آواز آنے پر پلٹا تها اور وشما نے ساری روشنیاں چلائی تهیں اسنے آنکهیں چهپک کر کهولیں تهی اور سامنے اس کمینی(بقول شہرام) کو دیکها
“میری پری کہاں ہے….؟”
وہ اسکی طرف بڑها اسکی پشت پریہان کی طرف تهی اس لیے وہ اسکو دیکھ نہ سکا اور پریہان کے چلانے کی آواز بهی اس تک نہیں پہنچ رہی تهی
“چچچچ عاشق کی حالت تو دیکهو ایک رات میں ہی…..”
اسنے اپنے ہاتھ میں پکڑئی گن ہونٹوں پر رکهتے ہوئے کہا تو اسنے غصے سے اسکو دیکها
“بکواس بند کرو جلدی بولو…”
اسنے غصے سے کہا
تو وشما ہنسی تهی اور آنکهوں سے پیچهے کی طرف اشارہ کیا وہ پلٹا تو پریہان پیچهے کرسی سے بندهی رو رہی تهی اسنے اگے بڑهنا چاہا لیکن آگے شیشہ تها
“میری جان….”
اسنے شیشے کو بجایا تها لیکن نہ وہ اسکی آواز سن سکتا تها نہ یہ اسکی آواز سن سکتی تهی
“وشما کهولو دروازہ….”
وہ اسکی طرف موڑا تو وہ اسکے پاس آکر رکی
“طلاق دو اسکو آئی پرامس کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاوں گی اور….”
لیکن شہرام کے تهپڑ نے اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی
“اےے حد میں رہو اپنی دوبارہ ہاتھ مت اٹهانا شاید بهول چکے ہو پریہان میری قید میں ہے….”
وہ چلائی تهی آنکهیں حد درجہ سرخ تهیں لیکن شہرام سے زیادہ نہیں
“یو شت یور بلڈی ماوته….”
اسنے اسکا منہ دبوچہ تها لیکن اگلے ہی پل شیرام نے سختی سے آنکهیں میچیں تهی اور اسکو گرفت ست ازاد کیا آنکهوں کو مسلتا دوبارہ کهولا تو کمرہ اندهیرے میں ڈوبا ہوا تها اسنے آنکهوں کو دوبارہ مسلا جس میں وہ مرچ ڈال گئی تهی اسکی آنکهوں میں جلن ہورہی تهی لیکن اگر وہ وہ بروقت آنکهیں نا بند کرتا تو ساری مرچیں آنکهیں میں ڈل جاتیں لیکن پهر بهی آنکهوں میں جلن ہورہی تهی
دروازہ کهولتا باہر بهاگا تها اور پریہان کو آوازیں دینے لگا کہ اسکو پریہان کی چینخ سنائی دی اس آواز کے تعاقب میں گیا اور ایک دروازہ کهولا اور رک گیا کیونکہ سامنے وشما بندهی ہوئی پریہان کے سر پر اپنی تهوڑی ٹکائے کهڑئی تهی
“آجاو ہیر کے رانجهے….”
وہ گهومتی ہوئی اسکے پاس آئی شہرام تو سلگ گیا تها پریہان کا پهٹا ہونٹ اور چہرے پر موجود نشانات دیکھ کر
“شش-شہرام. …”
وہ ٹوٹے سے انداز میں روتے ہوئے بولی
“وشما چهوڑ دو اسکو لو میری جان چاہتی ہو نا لے لو…..”
اسکے سر پر گانی گن دیکھ کر اسنے ہاتھ اٹهائے تهے
“تمہارے پیاروں کی جان چاہتی ہوں تمہیں تڑپتا ہوا دیکهنا چاہتی ہو شہرام…”
اسنے جنونیت سے کہا شہرام کو اتنا اندازہ ہوگیا تها وہ سائیکو لڑکی کچھ بهی کرگزرے گی
“میں نے صائم بهائی سعود بابا کو نہیں مارا وشما سچائی پہچانو….”
اسنے دو قدم آگے لیتے ہوئے کہا
“شہرام دور رہو….”
اسنے اسکو آگے بڑهتے دیکھ کہا تو وہ وہی رکا اور اسکا دهیان بٹانا چاہا
“ٹهیک ہے یہی کهڑا ہوں تم گن ہٹاو….”
اسنے رکتے ہوئے کہا
“طلاق دو اسکو….”
“ٹهیک ہے دے دوں گا….”
اسکی بات پر پریہان نے حیرت سے اسکو دیکها تو شہرام نے اسکو آنکهوں ہی آنکهوں سے تسلی دی
اور اسکا دهیان بٹا دیکھ اسنے اپنی گن ماری تهی جو سیدها اسکے ہاتھ پر لگی دونوں کی بندوقوں نیچے گریں تهی اس سے پہلے وہ گن پکڑتی اسنے وشما کو دبوچا اور اسکے چہروں پر دو تین تهپڑ رسید کیے جس سے وہ زمین پر گرئی اسکے بےشمار طبق روشن ہوئے تهے
شہرام نے جلدی سے پریہان کو کهولا جیسے ہی اسکے ہاتھ کهلے اسنے اسکو کس کر گلے لگایا تها
“بس بہت ہوگیا….”
وشما کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکها تو وشما ہاتھ میں گن لیے ہونٹ سے نکلتا خون صاف کیا
“وشما گن پهینکو….”
شہرام نے اس جنونی لڑکی کو کہا
“نہیں آج آر یا پار آج تم نہیں بچو گے….”
وہ چلائی تهی
“وشما آپی مجهے مار دیں….”
وہ شہرام کے آگے آئی تهی
“پریہان سائیڈ پر ہو…”
شہرام نے اسکو سائیڈ پر کرنا چاہا لیکن اسنے شہرام کو پیچهے دهکا دیا تها
“پری میری جان میں تمہیں مارنا نہیں چاہتی پیچهے ہو جاو…”
وشما جلدی سے بولی تهی وہ جتنا مرضی مضبوط بن جاتی لیکن وہ پریہان کو نہیں مار سکتی تهی
“پریہان پیچهے ہٹو….”
شہرام نے اسکو پیچهے دهکا دیا اس سے پہلے وہ گولی چلاتی پریہان دوبارہ اگے آئی تهی
“شہرام سے پہلے آپکو مجهے مارنا ہوگا…”
وہ شہرام کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے بولی
“پریہان سائیڈ پر ہوجاو….”
اسنے کہتے ساتھ آنکهیں بند کیں تهی آور گولی چلائی شہرام نے پریہان کو دهکا دیا تها گولی کی آواز سے یر طرف سناٹا پهیل گیا تها امدر داخل ہوتے رامز مصطفی حارز سعید صاحب حماد صاحب اور باقی پولیس فورس جو باہر تهی سب ساکت ہوگئے تهے سب کے دل دہل گئے تهے
اسنے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اٹهایا جو خون سے لت پت ہوگیا تها اور پهر وہ وجود نیچے گرتا چلا گیا
