Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

آج موسم صبح سے ہی بہت زیادہ خراب تها کبهی کبهی ایک دم سے ہی موسلا دار بارش شروع ہوجاتی جو سب کچھ بهیگو ڈالتی…
اگر ہم ملک ویلا پر نظر ڈالیں تو اسکا منظر کچھ یوں ہے کہ سب لوگ گارڈن میں لکڑی کے بنے گهر میں بیٹهے تهے گهر کہنا مناسب نہ ہوگا کیونکہ تین دیواریں تهی اور ایک چهت تهے باقی آگے سے سارا کهلا تها جس میں تین پینچ بنے تهے جبکہ پانچ کرسیاں تهی اور درمیان میں ایک چهوٹا سا لکڑئی کا ٹیبل تها ان پانچوں کرسیوں پر سعید صاحب حماد صاحب شازیہ بیگم سعدیہ بیگم اور رامز بیٹهے تهے جبکہ مصطفی اندر سے کرسی لاکر بیٹها تها باقی پالٹی پتهر کے بنے بینچوں پر بیٹهی تهی اور مختلف لزومات کے ساتھ بارش انجوائے کررہی تهی

“آج موسم ہے آشیقانہ…
اے محبوب کہیں تلک نہ ناجانا…..”
احتشام نے بیٹهے بیٹهے اپنا راگ شروع کیا اسکے اس گانے سے سبکے قہقے گونجے تهے اور مصطفی نے اسکو گردن سے دبوچا تها جو اسکے ہاتھ کے نیچے ہی بیٹها تها
“تو باز آجا…”
اسنے ہنستے ہوئے کہا اور اسکی گردن کو آزاد کیا اور نفی میں سرہلایا گویا کہ رہا ہوں مجهے سنگر بننے سے کوئی مائی کا لال نہیں روک سکتا مصطفی اس سے پہلے کچھ کہتا..
شہرام گهر سے گارڈن کی طرف نکلتے دروازے سے آیا اور جلدی سے چلتا ہوا اس ہٹ میں داخل ہوا اور پلر کے ساتھ ٹیک لگاتا ایک پیر پیچهے ٹکایا اور ہاتھ سینے پر باندهے باہر تیز سے تیز تر ہوتی بارش کو دیکهنے لگا سب نے اسکی سرخ آنکهوں کو دیکها اور اسکی سنجیدگی نوٹ کی

“کیا بات ہے شہرام….؟”
حماد صاحب نے اسکو پوچها سب اسکی طرف متوجہ تهے شہرام نے سعید صاحب کی طرف دیکه کر کچھ اشارہ کیا
“آپ سب چلو شاباش کمروں میں موسم کافی تهنڈہ ہوگیا ہے بیمار ہوجاو گے….”
سعید صاحب نے ان سب چهوٹی پارٹی کو اندر بهیجا تو احتشام زرش آبریش اور پریہان وہاں سے چلے گئے
“ہاں بولو کیا ہوا…؟”
اب مصطفی نے اسکو مخاطب کیا
“وہ بلاسٹ معارج نے کروایا تها….”
اسنے رامز کی طرف دیکها
“ہاں معلوم ہے….”
رامز نے کندهے اچکائے
“وہ اکیلا اس کهیل میں شامل نہیں…”
اسنے ٹهنڈی آہ بهرتے خود کو کمپوز کرناچاہا
“پهر بتاو پهیلیاں کیوں بهجا رہے ہو…؟”
سعید صاحب نے اپنے گوک مول بات کرتے بیٹے خو کہا
“اس بلاسٹ میں و-وشما بهی شامل ہے….”
اسنے رامز سے نظریں چراتے ہوئے کہا وہاں بیٹهے ہر نفوس کو گویا سانپ ہی سونگ گیا ہو
“ہوش میں تو ہو شہرام….”
سعدیہ بیگم کو سب سے پہلے ہوش آیا تو بولیں
“میں ہوش میں ہوں مما….”
“شہرام آر یو شیور….؟”
مصطفی کو یقین نہ آیا تها
“اسنے ایک نظر سبکو دیکهتے پهر بت بنے رامز کو دیکها اور اپنا فون نکال کر اییکوائس سنائی
جس میں اسکے الفاظ تهے
(“ہیلو ہاں کل اسکی بیوی گهر سے باہر نکلے گی…..نہیں نہیں اس بلاسٹ میں کسی طرح وہ مرنی چاہیے ورنہ سب مجھ پر شک کریں گے……”)
اس وائس کو تو سب اچهے سے پہچان گئے تهے
“یہ ایک نہیں اور بهی کئیں کیں ہیں……”
اسنے ایک اور کهولی
(“ہاں شاباش بلاسٹ میں مرئے وہ اور وہ زندہ نہیں بچنی چاہیے اس رامز کا دو سالہ بیٹا بهی مرجائے کوئی ٹینشن نہیں….”)
اس بات پر سب پر سکوت طاری ہوگیا تها رامز سے وہاں رکنا محال ہوگیا جانے لگا تو شہرام نے اسکو بازو سے تهاما
“بهائی اپکو سب فیس کرنا ہوگا….”
اسنے اسکو ضبط کرتے ہوئے کہا
“وہ ایسا کیوں کررہی ہے….؟”
اسنے آنکهوں میں جهلکتی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا
“میں بتاوں گا نہیں سناوں گا کیونکہ اسکے گهٹیا الفاظ ادا کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں…”
یہ کہتے اسنے ایک اور وائس کهولی
(“ہاں وہ گهر کی سب سے بڑئی بہو ہے اسکے صدمے میں ایک دو سال تو نکاح کینسل ہوہی جائے گا…. “)
سعید صاحب نے کرسی کو مضبوطی سے تهاما تها
“بابا…..”
رامز اگے بڑها تها اور انکے ہاتهوں کو تهاما
“بابا اگر وہ زندہ رہی تو ہماری خوشیاں ہمیں کها جائے گی…”
رامز نے غیر ہوتی سعید صاحب کی حالت دیکهتے ہوئے کہا
“کیا کہ رہے ہو رامز ہوش میں تو ہو….؟”
شازیہ بیگم اسکی بات پر تڑپی تهیں اور سعید صاحب کو دیکها جنکی نظریں ہنوز باہر بارش پر تهیں یہ طوفان انکے دل میں برپا طوفان کے سامنے کہیں دب سا گیا تها
“رامز ہم سمجهائیں گے تو وہ سمجھ جائے گی….”
سعدیہ بیگم نے روتے ہوئے کہا
“اگر بهابهی جی اسنے سمجهنا ہوتا تو سمجھ چکی ہوتی وہ بہت آگے نکل چکی ہے….”
حماد صاحب نے ایک نظر بارش کو دیکهتے ہوئے کہا
“تو کیا کرنا ہوگا….؟”
مصطفی نے شہرام کی طرف دیکهتے ہوئے پوچها
“جو ضروری ہوا وہ کریں گے لیکن ہمیں اسکو عدالت کے حوالے نہیں کرنا جو کرناہوگا نکاح کے بعد کروں گا….”
اسنے موبائل پاکٹ میں ڈالتے ہوئے کہا
“اگر اسنے نکاح میں کچھ گڑبڑ کی تو.. .؟”
رامز اب پلٹا تها
“فکر مت کریں سب میرے انڈر ہے…”
اسنے سب کو تسلی دی
سعید صاحب خرسی سے اٹهے تهے اور چلتے ہوئے اس موسلادار بارش میں جا کهڑئے ہوئے
“بابا سردی لگ جائے گی…”
اتنی ٹهنڈ میں بارش میں بهیگتا دیکھ شہرام جلدی سے اگے بڑها لیکن سعید صاحب نے اسکو باہر آنے سے ہاتھ کے اشارے سے روکا تو اسکے قدم وہی تهمے اور بےبس نظروں سے اپنی ماں کو دیکها
کتنے ہی آنسووں سعید صاحب کی انکهوں سے گرئے تهے لیکن جو بارش میں معلوم نہ ہو سکا شہرام نے مٹهیاں بهینچی تهی اسکو غصہ ارہا تها وشما پر سب سر جهکائے بیٹهے تهے کوئی کسی کے دل میں مچتے طوفان سے بےخبر نہ تها بس ایک سہی وقت کا انتظار تها
………………………….
آبریش مصطفی کے کمرے میں داخل ہوئی تو کمری خالہ تهی ٹیرس پر دیکها تو مصطفی سینے پر ہاتھ باندهتا باہر دیکھ رہا تها جہاں ہلکی ہلکی بارش ہورہی تهی
مسکراتی ہوئی پیچهے سے جاکر اسکو ہگ کیا تو مصطفی کے لب خودبخود مسکرائے
“سردی لگ جائے گی یہاں کیوں کهڑئے ہیں…”
اسنے اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا
“ایسے ہی…”
اسنے کندهے اچکائے
“تم کیسے آئی…؟”
اسکو خاموش پاکر مصطفی بولا
“گزر رہی تهی سوچا شوہر شریف کا دیدار ہوجائے….”
اسنے مسکراتے ہوئے شرارت سے کہا تو مصطفی کهل کر مسکرایا بےشک اسنے اسکی ٹینشن رلیز کردی تهی
“اچهااا اب شوہر شریف کا تو یوں دیکهنے سے کام نہیں چلے گا…”
اسنے اسکی کمر کے گرد حصار باندهتے ہوئے کہا تو وہ کهلکهلائی
“کیسے چلے گا….؟”
وہ بهی شرارت پر آمادہ ہوا
“دیکهو نہ موسم کتنا رومینٹک ہے اور بیوی بهی تو کیوں نہ اہمم اور….”
اسنے ایک آنکھ دباتے ہوئے لوفرانہ انداز میں کہا اور بات ادهوری چهوڑی جس سے آبریش پوری سرخ ہوئی
“مصطفی امی بلارہیں تهیں نیچے یہ کہنے آئی تهی…..”
اسنے منہ بناتے اصل بات بتائی تو مصطفی نے قہقہ لگایا
“مطلب ایک تیر سے دو شکار بهیجا امی نے اور سویٹ ہارٹ نے کہا کہ وہ ہمارا خود سے دیدار کرنے آئی ہیں…”
اسنے اسکی ناک کے ساتھ اپنی ناک مس کرتے ہوئے کہا تو وہ دوبارہ کهلکهلائی
“بارش میں نہائیں….”
اسنے اسکو کهینچ کر ساتھ لگاتے ہوئے کہا
“نہیں باہر سردی ہے میں نہیں نہانا….”
اسنے جهرجهری لیتے ہوئے کہا
“میں ہوں نہ نہیں لگنے دوں گا….”
بس ایک مصطفی اور دوسرا اسکی رومینٹک باتیں ابریش کا دل چاہا اپنا سر ہی پیٹ لے
“مصطفی چلیں شاباش امی بلارہی ہیں….”
اسنے آنکهیں دیکهائیں تهی تو وہ بنا اسکو موقع دئیے اسکے چہرے پر جهکا اور اسکی آنکهوں پر باری باری اپنے لب رکهے اور پهر اسکی گالوں کو چوما اسکی نیت اور خراب ہوتی وہ اسکو دهکا دیتی ہنستی ہوئی وہاں سے نکل گئی پیچهے بالوں میں ہاتھ پهیرتا وہ بهی باہر چلا گیا
………………………….
“سکینہ ایک ک……”
شہرام جو بنا دیکهے امی کہتا اندر داخل ہوا تها پریہان کو دیکھ کر الفاظ منہ میں ہی رہ گئے اور مسکرایا پریہان بهی دیکھ کر مسکرائی
“کچھ چاہیے تها….؟”
اسنے اسکو دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے پوچها
“سکینہ سے چائے کا کہنے آیا تها…”
“ہم میں بنادوں….”
اسنے اسکو یوں محبت پاش نظروں سے دیکهتا پاکر پلکوں کی باڑ گراتے ہوئے کہا اور وہ تو گویا قربان ہی ہوگیا
“ضرور یہ تو میرے لئیے شرف کی بات ہے…”
اسنے مسکراتے ہوئے کہا تو پریہان نے چائے کیلیے پانی اوپر چڑہایا
“اب تو بس جلدی سے نکاح ہوجائے….”
اسنے ٹهنڈی آہ بهرتے ہوئے کہا تو پریہان شرم سے چہرہ جهکا گئی
“ہممم شرما لو جتنا شرمانا ہے کیونکہ میری جان نکاح کے بعد تمہیں شرم لیس کردوں گا…..”
اسکی بات پر پریہان کا چہرہ سرخ ہوا اور اسکو گهورا پر اسکی مسکراتی نظریں اور مسکراتے لب اسکو چہرہ موڑنے پر مجبور کردیا
“اوفف شہرام گهورنا بند کریں ورنہ جائیں میں چائے بهجوا دوں گی…”
اسکو مسلسل گهورتا پاکر اسنے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا تو وہ منہ کهولے اسکو دیکهنے لگا
“یار گهور کب رہا ہوں میں تو پیار سے دیکه رہا ہوں…”
اسنے آخر میں لب دبائے تهے تو گهورتے ہوئے اسنے اسکو چائے پکڑائی
“چلیں چلتے ہیں….”
اسنے چکن فریج میں رکهتے ہوئے اس سے کہا تو وہ بهی سر اثبات میں ہلاتا اسکے ساتھ چلنے لگا
………………………….
رات کا کهانا خاموشی سے کهایا گیا تها وہاں ٹیبل پر بیٹهے ہر نفوس کے چہرے پر سنجیدگی چهائی ہوئی تهی سوائے احتشام کے جسکو شرارتیں سوجھ رہی تهیں اور پریہان کو چین لینے نہیں دے رہا تها کسی نے کچھ نہ کہا پر موقع کی نزاکت کو دیکهتے ہوئے مصطفی نے احتشام کو ٹوکا تو وہ منہ بناتا کهانا کهانے لگا اور پهر کوئی شرارت نہ کی جانتا تها مصطفی کے ہاتھ نیچے بیٹهاہے ایک آد مارنے سے بهی مصطفی گریز نہ کرتا
………………………….
“وشما کب تک یوں ایسے ہی بیٹهو گی…..”
وشما کو یوں بارش میں بیٹها دیکھ معارج نے پوچها
“آپکو مسئلہ ہے….؟”
اسنے نہایت بدتمیزی سے کہا پر معارج عادی تهے اسکے سو کوئی فرق کہ پڑا
“شہرام چاہیے تو بیچ میں آئی ہڈی کو نکال باہر کیوں نہیں پهینکتی….”
انہوں نے اسکے پاس بیٹهتے ہوئے بارش میں بیهگتے ہوئے کہا اسکی بات پر وشما نے لہوزد آنکهوں سے اسکی طرف دیکها
“بابا آج تو یہ بات کہی دوبارہ مت کہیے گا….”
وہ چلائی تهی
“تم پریہان سے اتنی محبت کیوں کرتی ہو…؟”
اسنے نہوست سے کہا
“کیونکہ وہ آپکی بیٹی کے جینے کی وجہ ہے وہ نہ ہوتی تو میں مرچکی ہوتی سمجهے آپ….”
آخر میں چلائی تهی
“کیا مطلب…؟”
انہوں نے الجهتے ہوئے ہوچها
“وہ میری گڑیا ہے بابا وہ چهوٹی سی تهی پر اپنے گول مٹول چہرے اور ننے ننے ہاتهوں سے مجهے چهوتی ایسا کچھ کہ گئی تهی کہ آپکی بیٹی زندگی کی طرف آئی ورنہ میں نے تو مرنے کی ٹهان لی تهی وہاں رہنے کی وجہ صرف وہی تهی بس وہی اور آپ چاہتے ہیں میں اسے ختم کردوں بےشک وہ میرے عشق کے بیچ حائل ہے لیکن اور بهی بہت سے طریقے ہیں دوبارہ کوئی ایسی بات مت کہیے گا….”
انکو آخر میں وارن کرتی وہاں سے چلی گئی پیچهے وہ سوچ میں پڑ گئے اور فون نکالا
“ہاں حازق مجهے وہ چاہیے…”
انہوں نے ایک نظر پیچهے دیکهتے ہوئے کہا
“ہاں جب مناسب وقت لگے اور جتنے چاہو گے رقم ملے گی …”
اسنے کمینگی سے کہا
“ہاں بلینک چیک لے جانا اور جتی چاہو رقم لے لینا لیکن مجهے وہ چاہیے میرے بیڈ پر اس ایس پی کو تو مزہ چکهانا ہے….”
کچھ آگے سے ایسا کہا گیا اسکے چہرت کے تاثرات بدلے
“جو کہا ہے وہ کرو فکر نہیں کرو اس لڑکی کو یوز کرکے تمہیں ہی دوں گا…..”
اسنے خباثت سے کہا اور فون رکھ دیا