Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

“میں تو بہت بور ہوگیا ہوں پریہان کے بغیر تین دن ہوگئے ہیں….”
احتشام اس وقت میرب اور آبریش دونوں کے درمیان گهسا بیٹها تها
اور اسنے اپنا سر میرب کے کندهے پر رکها ہوا تها جبکہ آبریش نے احتشام کے کندهے پر اپنا سر رکها ہوا تها
“ہاں مجهے بهی یاد آرہی ہے….”
آبریش بهی افسردہ سی بولی
“صبح بات کی تهی میں نے کہا تها جلدی آجاو کہتی ایک دو دن تک آوں گی…”
میرب کی آواز میں بهی افسردگی تهی

“بڑی بےوفا ہے بهول گئی ہے لگتا ہے آلینے دے اسکو تو میں بتاوں گا….”
اسنے غصے سے میرب کے کندهے سے اپنا سر اٹهاتے ہوئے کہا تو آبریش نے بهی اپنا سر اٹهایا تها
“ہونہہہ الٹا وہی تجهے سبق سیکها دیتی ہے…”
آبریش نے گویا مزاق بنایا
“ایسی بات نہیں ہے بهابهی جی وہ بہن ہے میری عزت کرتا ہوں میں اسکی ورنہ وہ میری جان سے مارا گیا ایک تهپڑ نہ برداشت کرسکے….”
اسکی بات پر وہ دونوں منہ کهولے اسکو دیکهنے لگیں
“تمہیں تو میں بعد میں بتاتی ہوں…”
آبریش نے اٹهتے ہوئے کہا کیونکہ اسکو اندر سے آواز پڑی تهی آبریش کے جانے کے بعد میرب اٹهی کہ احتشام نے اسکا یات پکڑا
“تم کہاں جارہی ہو…”
اسنے اسکے ہاتھ کو جهٹکا دیا کہ وہ نیچے بیٹهی اور اسکو گهورا

“زیادہ بےشرم نہیں ہوتے جارہے تم…”
“بالکل نہیں اور ویسے بهی منکوحہ ہو میری اتنا تو بنتا ہے نہ…”
اسنے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو وہ گهور کر دهپ رسید کرتی اندر چلی جبکہ احتشام ہنسا تها
………………………….
مصطفی کرسی پر بیٹها پریہان کا ہاتھ تهامے سامنے کسی چیز کو دیکھ کم گهور زیادہ رہا تها
کہ پریہان نے ہولے سے اپنی آنکهیں کهولیں اسکا بخار کچھ قدرے کم تها
“بب-بهائی….”
اسکی آواز پر ہوش میں آیا اور مسکرا کر اسکو دیکها
“کیسی طبیعت یے میرے بچے کی…”
اسنے اسکے سر پر ہاتھ پهیرتے ہوئے کہا
“ٹهیک ہوں…”
اسنے بهی مسکرا کر کہا
“چلو میں کهانا لاتا ہوں کها لینا….”

“بهائی شہرام نہیں آئے….؟”
اسکی بات پر مصطفی کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور شہرام جو اندر داخل ہونے والا تها اسکے سوال پر باہر ہی رک گیا
“آیا تها…”
اسنے چہرہ جهکا کر کہا
“تو وہ مجھ سے کیوں نہیں مل رہا مجهے اسکی بهی ضرورت ہے….”
اسنے نم آنکهوں سے کہا تو مصطفی نے تڑپ کر اسکو دیکها

“میری جان تم سو رہی ہوگی اسی لیے نہیں ملا…..”
“میں سارا دن تو نہیں سوتی..کیا وہ مجھ سے خفا ہیں…؟”
اسکی بات پر شہرام نے لب بهینچے تهے اور ایک نظر دروازے کو دیکها
“نہیں وہ تم سے ناراض کیوں ہوگا….”

“بب-بهائی اس سے کہو مجھ سے ملے جو ناراضگی ہے میں دور کر دوں گی..اگر..اگر انکو لگتا ہے کہ میرے ساتھ کچھ غلط….”

“شششش….”
اسنے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے اسکو خاموش کروایا تها
اور شہرام کے دل کو بہت کچھ ہوا وہ تو اپنی شرمندگی کی وجہ سے نہیں مل رہا تها اسنے تو یہ سب سوچا نہ تها

“بهائی کی جان ایسا کیوں سوچ رہی ہو خاموش ہوجاو دوبارہ کبهی ایسا مت سوچنا اور شہرام کے دل میں ایسا کچھ نہیں ہے…”
اسنے اسکے آنسووں صاف کرتے ہوئے کہا

“نہیں بهائی انکو لگتا ہے شاید میں اپنی عزت کی حفاظت….”
“پریہان….”
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے مصطفی غصے سے بولا
“کیا ہوگیا ہے تمہیں ہمیں معلوم ہے تم پاک صاف ہو تم پر کسی غلیظ شخص نے کچھ نہیں کیا……”
اسنے اب اسکو پیار سے کہا تها باہر شہرام نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی تهی اور سینے پر ہاتھ باندهتا آنکهیں موندیں تهیں

“شہرام کی جان ایسا کیوں سوچ رہی ہو اگر کبهی تمہاری عزت پر زرا سی خروش آبهی جاتی تب بهی شہرام ملک تمہارا ساتھ نہیں چهوڑتا اپنی محبت دگنی کردیتا…..”
وہ خود سے دل میں کہ رہا تها کہ اپنے کندهے پر کسی کا ہاتھ محسوس کرکے اسنے اپنی آنکهیں کهولیں جو کچھ حد تک سرخ ہوچکیں تهی…

“پریہان کو تمہاری ضرورت ہے وہ تمہاری غیر موجودگی کا کچھ اور ہی مطلب نکال چکی ہے جاو سنبهالو یار اسکو میں نہیں دیکھ سکتا اسکو ایسے میرا دل ڈوبتا ہے..میں کهانا لینے جارہا ہوں تم اندر جاو….”
اسنے اسکا کندها تهپتهپاتے ہوئے کہا تو اسنے اثبات میں سرہلایا اور مصطفی باہر چلا گیا

شہرام نے کچھ دیر اپنے ہاتهوں کو دیکها اور دهیرے سے دروازہ کهول اندر داخل ہوا تو نظر اس دشمن جاں پر پڑی جو آنکهیں موندے لیٹی ہوئی تهی
وہ اس کرسی پر بیٹها جہاں مصطفی پہلے بیٹها تها اور اسنے اسکا ہاتھ تهاما
پریہان اپنے ہاتھ پر اپنے محرم کا لمس محسوس کرتی آنکهیں کهولیں کتنے آنسووں نکل کر تکیے میں جزب ہوئے تهے

“ششش یار مت رو…”
اسنے اٹهتے ہوئے بیڈ پر بیٹهتے ہوئے اسکی آنکهیں صاف کیں تهی اور باری باری آنکهوں کو چوما
“آپ کیوں نہیں مل رہے تهے مجھ سے جانتے ہیں کتنا یاد کررہی تهی….”
وہ مزید روتے ہوئے بولی

“میری جان میں شرمندہ تها کہ میری وجہ سے تم اس حال میں پہنچی میری وجہ سے تمہاری عزت خطرے میں تهی تمہاری جان خطرے میں تهی اس شرمندگی نے تمہارا سامنا نہیں کرنے دیا….”
وہ اسکا ہاتھ سچ بتارہا تها اپنا دل بهی ہلکا کررہا تها اب وہ رونہ بهولے حیرت سے اسکو دیکھ رہی تهی

“شش-شہرام…..”
“جی میری جان….”
“سچ میں ایسا تها مم-مجهے لگا کہ کہیں آپکو لگا کہ….”
“بسسس سن چکا ہوں تمہارے فضول خرافات کوئی اور وقت ہوتا تو اسکی سزہ دیتا پر ابهی میں خود تمہاری سزا کا حقدار ہوں….”
اسنے اسکی گال پر تهپڑوں کے نشانات پر ہاتھ کی پشت پهیرتے ہوئے کہا

“شہرام مجهے کوئی گلا نہیں سب قسمت میں تها آپکی کیا غلطی ویسے بهی میں ٹهیک ہوں اور یہ سزہ کم ہے کہ مجهے آپکی دوری برداشت کرنی پڑی….”
اسنے اپنی گال پر پهرتے اسکے ہاتھ کو تهاما تها

“بہت بڑی سزہ تهی….”
اسنے اسکے پهٹے ہونٹ پر نرمی سی اپنے ہونٹ رکهتا پیچهے ہوا تو وہ چہرہ جهکا گئی
“اب کبهی دور نہیں کروں گا….”
اسنے اسکے ماتهے کے ساتھ اپنا ماتها ٹکایا اور آنکهیں موندیں تهی وہ بهی اپنی آنکهیں موند گئی
“آئی لو یو شہرام کی جان تمہارے ساتھ برا کرنے والے کو بہت جلد جہنم واسل کروں گا…”
اس سے کہتا اسکا ماتها چومتا پیچهے ہوا تها تو وہ بهی اٹهی اور اسکے سینے پر اپنا سر رکها تها کتنا سکون تها محرم کے آغوش میں ہر چیز ہر زخم بهول گیا تها
………………………….
“میڈم جی معارج صاحب اس وقت شہرام کی قید میں ہیں پر یہ خبر نہیں ہو سکی کہاں ہے….”
“مطلب پریہان معارج صاحب کے پاس ہی تهی…..”
“جی….”
اسکے اس جواب پر وشما نے مٹهیاں بهینچی تهیں
“کہاں پر پریہان…؟”
“میم وہ شہرام کے پاس….”
“اچها تم اسکا پیچها کرتے رہنا….”
اسنے کہ کر فون بند کیا تها

“ہر دفعہ شکست نہیں ہوسکتی شہرام پریہان کو تجھ سے دور کرکے رہوں گی میں اپنی جان کو تم جیسے قاتل کے حوالے ہر گز نہیں کروں گی پریہان میری جان ہم مل کر تمہارے بلیو آئیز والے پرنس کا بدلہ لیں گے….”
اسنے غصے سے کہا اور گهر سے باہر نکلی
………………………….
اس واقع کو ایک ہفتہ گزر چکا تها وہ لوگ گهر بهی آچکے تهے اور سب سے ملنے کے بعد اسنے احتشام کی ناراضگی بهی دور کی تهی سب ٹهیک تها شکر تها کسی کو کچھ معلوم نہ ہوا تها نہ ہی پریہان نے کچھ بتایا تها
اسکے لیے یہی کافی تها وہ انکے کام آئی اسکی وجہ سے بہت سی لڑکیوں کی عزت بچ گئی
اور معارج کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جارہا تها وہ واقع اپنی موت کی بهیک مانگتا تها اس سے اسکا سب کچھ چهین لیا گیا تها اور ہر طرف معارج کے فرار کی خبر شہرام نے خود پهیلائی تهی
………………………….
“مصطفی کی جان ایک خوشخبری سناوں….”
مصطفی آبریش کے کمرے میں آتا اسنے اسکو پیچهے سے ہگ کرتے ہوئے کہا
“کیا…؟”
اسنے گردن موڑ کر اسکو دیکهتے ہوئے پوچها
“آج بابا اور بڑئے ابو ہماری رخصتی کی بات کررہے تهے ہے نہ خوشی والی بات….”
وہ اسکی گال کے ساتھ اپنی گال رگڑتا ہوا بولا
اسکی داڑهی کی چبهن سے وہ کهلکهلائی تهی
“بتاو نہ خوشی والی بات ہے نہ…؟”
اسکو خاموش دیکهتے ہوئے اسنے پوچها
“مجهے کیا معلوم…”
اسنے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو مصطفی نے خفگی سے گهورا لیکن اسکو ہنستا دیکھ اسکی شرارت سمجها تها

“کرلو بدمعاشیاں رخصتی کے بعد پوچهوں گا…”
اسی گال پر کاٹتا پیچهے ہوا تو وہ گال مسلتی اسکو گهورنے لگی اور وہ خوبصورت سی سمائل پاس کرتا باہر چلا گیا جبکہ وہ بهی مسکرا دی تهی
………………………….
“تمہیں معلوم ہے پریہان صدیقی انکل نے بتایا کہ حمزہ کی شادی ہے آپ سبکو آنا ہوگا…”
آبریش اسکے پاس بیٹهی اسکو بتارہی تهی
“کون حمزہ….؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“ہائے جسکی وجہ سے شہرام نے اتنا رولا ڈالا وہ بندہ یاد نہیں تجهے…”
احتشام نے اندر آتے ٹانگ اڑائی جو انکی بات سن چکا تها
“اچهااا وہ تو میں کیا کروں…”
اسنے لاپرواہی سے کہا
“تو یار چلیں گے تم تو لازم جانا حمزہ کے دل پر نمک چهڑکنا….”
آبریش نے شرارت سے کہا تو پریہان نے گهورا جبکہ احتشام ہنسا
“بدتمیز میں تو نہیں جانے والی ایویں مجهے غصہ آئے گا اور شہرام بهی غصہ ہونگے….”
“ہائے ابهی سے پیا جی کے غصے کا ڈر کے….”
اسنے اسو کندهے سے کندها مارتے ہوئے چهیڑا

“میری چهوڑو اپنی سناو جسکی رخصتی کی باتیں چل رہی ہیں…”
اب اسکی باری تهی
“ہاں معلوم ہے بهئی اور ایک نہ ایک دن تو ہونی ہی ہے…”
وہ شرمائے بغیر بولی کیونکہ جانتی تهی اگر یہ شرمائی تو یہ دونوں اسکو تنگ کریں گے اب تینوں مستیوں میں شروع ہوگئے تهے
………………………….
“معارج کا قصہ کب ختم کرنا ہے…”
حارز نے اپنے سامنے نڈهال معارج کو دیکهتے ہوئے پوچها
“جب تک سارا بدلہ پورا نہ ہوا…اور وشما کے سامنے ماروں گا….”
اسنے ایک نفرت بهری نظر معارج پر ڈالتے ہوئے کہا
“لیکن وشما کو کیسے معلوم ہوگا…؟”
مصطفی نے ان دونوں کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے پوچها
“اسکی ضرورت نہیں اسکے آدمی ہمارے پر نظر رکهے ہوئے ہیں دونٹ وری وہ جو چاہتے ہیں وہ خبر دیتے رہیں گے….”
اسنے استہزایہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا تو وہ دونوں بهی ہنسے

“اچها سن حمزہ کی شادی ہے تو جائے گا….؟”
مصطفی نے مسکراہٹ دبائے اسکو پوچها حارز نے بهی ہنسی روکی تهی
“بهاڑ میں جائے حمزہ میں قتل نہ کردوں اسکا…..”
اسنے تپ کرکہا تو ان دونوں نے قہقہ لگایا تو شہرام انکو گهورتا جیپ میں بیٹها
“نہیں پهر بهی….”
حارز نے بهی اسکے دهپ رسید کرتے اپنی جیپ کا رخ کیا تها
“تم دونوں ضائع ہوجاو گے مجھ سے خبیثو…”
وہ چباتے ہوئے بولا تو دونوں کا قہقہ پهر سے گونجا

“دیکهی یار اگر تیرا دل ہے حمزہ کی شادی پر جانے کا تو ہم میں سے کوئی نہیں روکے گا….”
مصطفی نے اسکی جیپ کے دروازے پر دونوں ہاتھ رکهتے اسکی طرف تهوڑا جهکتے ہوئے کہا
اس سے پہلے شہرام اسکے منہ پر ایک مکہ جڑتا وہ ہنستا ہوا پیچهے ہوا اور اپنی گاڑی میں بیٹها وہ بهی ان دونوں کو ہنستا دیکھ ہنسا تها

“پاگل….”
انکو دیکهتے ہوئے کہا اور جیپ سٹارٹ کی تهی اور تینوں کی گاڑیاں آگے پیچهے نکلیں تهی
………………………….