Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

کالی رات تهی ہر سو خاموشی تهی صرف جانوروں کے شور کی آواز تهی اور ہوا کی سرسراہٹ تهی جو خاموشی میں ارتعاش پیدہ کررہی تهی خوفناک ماحول تها اور وہ اندها دهند اس ماحول میں بهاگ رہی تهی کبهی پیچهے پلٹ کر دیکهتی تو کبهی آگے
اسے اب جانوروں کی آواز زیادہ تیز سنائی دے رہی تهی جیسے وہ بالکل اسکے قریب پہنچ رہے ہوں اور جهپٹ کر اسکو نوچ ڈالیں گے پیچهے پلٹتی تو کوئی نہ ہوتا صرف آوازیں ہوتیں
پیچهے دیکھ کر بهاگتی آگے کسی وجود سے بری طرح ٹکرائی وہ وجود نہ پکڑتا تو یہ زمین بوس ہوچکی ہوتی
اسنے چہرہ اٹها کر اس وجود کو دیکها
“شہرام….”
بڑبڑاتی اسکے چہرے کو چهوا تها کہ ایک دم سے انے والی آوازوں سے پیچهے پلٹی پیچهے اب جانور نہیں چند نقاب پوش لوگ تهے جو ہاتهوں میں بندوق تهامے بندوقوں کا رخ انکی طرف کئیے کهڑے تهے

“مم-مجهے بب-بچا لیں….”
اسنے اٹکتی ہوئی آواز میں اسکی شرٹ کے کالر کو پکڑتے ہوئے کہا
تو شہرام نے اسکو پیچهے کرتے اسکے سامنے چٹان کی طرح کهڑا ہوگیا تها
“شہرام وہ آپکو مار دیں گے…شہرام خاموش کیوں ہیں بولیں کچھ تو…..؟”
اسنے اسکو مسلسل خاموش پاکر پیچهے سے جهنجهورتے ہوئے کہا
“شہرام وہ گولی چلانے لگے ہیں….”
اسنے اسکو دوبارہ جهنجهورا تها اور اتنے میں گولی چلی تهی جسنے شہرام کے سینے کو چیر کر رکھ دیا تها
“شہرام…..”
پریہان چینخ مارتی اٹهی تهی دهڑکن بہت تیز تهی اتنی سردی میں بهی اسکا جسم اسکا چہرہ پسینے سے شرابور تها اسنے بےساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکها بہت برا خواب تها جو اسنے دیکها تها
اسنے ہاتھ مارکر سائیڈ لیمپ جلایا تها اور کانپتی ہاتهوں سے پانی گلاس میں انڈیلا تها غٹاغٹ پی گئی
“شہرام…..”
اسکا نام ہولے سے پکارتی بےآواز رونے لگی
“یااللہ اس خواب سے پہلے میری جان لے لیتے آپ…..”
اسنے روتے ہوئے چہرہ اوپر اٹهایا تها اسکو کمرے میں گهٹن محسوس ہورہی تهی اسنے لمبا سانس لیا تها اور صرف دل ایک خواہش کررہا تها شہرام کو دیکهنے کی آنسووں پونجهتی اٹهی تهی اور دوپٹہ اٹهاتی اپنے شانوں پر پهیلایا تها اور قدم غیرارادائی طور پر شہرام کے کمرے کی جانب بڑئے تهے

اسنے ہاتھ بڑہا کر اسکے کمرے کا ہینڈل گهمایا تو دروازہ کهلتا چلاگیا کمرے میں اندهیرا تها اور صرف صیرو بلب کی روشنی تهی کمرے میں اس روشنی میں اسکی نظر سامنے بےخبر سوئے وجود پر پڑئی جسکے سینے تک کمبل تها اور وجود پر شرٹ موجود نہ تهی صرف کالی بنیائن نے اسکے جسم کو تهوڑا سا ڈهکا ہوا تها

اپنے منہ پر ہاتھ رکهتی اسنے اپنے آپ کو رونے سے روکا تها کیونکہ روکر اسکو جگانا نہیں چاہتی تجی ہوکے سے دروازہ بند کرتی چهوٹے چهوٹے قدم لیتی اسکے پاس جاکر بیٹهی اور اپنا کانپتا ہوا دائیاں ہاتھ بڑها کر پہلے اسکے چہرے کو چهوا اور پهر اسکے دل کے مقام کو دیکها جہاں گولی لگی تهی اور بےساختہ اس نے اپنا ہاتھ وہاں رکها تها
جسے فوراً شہرام نے تهاما تها اور اپنی سرخ آنکهیں جهٹ سے کهولیں تهی پریہان نے دوسرا ہاتھ اپنے منہ پر رکها تها

“پری کیا ہوا تم…..؟”
وہ جو گہری نیند میں سویا ہوا تها ایک دم سے اسکو نیند میں اپنے وجود پر کچھ محسوس ہوا آخر پولیس والا تها ہر وقت چوکنا رہنے والا پہکے اسکع اپنا وہم لگا لیکن جب وہ ہاتھ اسکے سینے پر آیا اسنے جهٹ سے تهاما تها پر پریہان کو دیکھ کر اسکے ماتهے پر پڑنے والے بل ٹهیک ہوئے تهے اور اب پریشانی نے جگہ لےلی تهی

“کچھ نن-نہیں….”
اسکی آواز کہیں گهہری کهائی سے آتی معلوم ہوئی
“تم اس وقت کیا کررہی ہو یہاں….؟”
اسنے اٹهتے ہوئے پوچها
“روئی ہو…..؟”
اسنے اسکی سرخ آنکهوں کو دیکهتے ہوئے مزید پریشانی سے پوچها تو اسکے رونے میں مزید اضافہ ہوا
“شش-شہر-شہرام…..”
ہچکیوں کے درمیان آواز ٹوٹی تهی
“ہاں بولو میری جان….”
اسنے تڑپ کر اسکا چہرہ تهاما تها
“مم-مجهے کبهی مم-مت چهوڑئیے گا….”
اسنے روتے ہوئے کہا
“نہیں کبهی نہیں چهوڑوں گا…..”
اسنے اسکے آنسووں پونجهتے ہوئے پیار سے کہا
“کیا بات ہے کیوں پریشان کررہی ہو مجهے بتاو خدارا کیا ہوا ہے….؟”
اسنے اسکا چہرہ تهام کر اوپر کرتے ہوئے کہا
“آپ مم-مجه سے دور ہو رہے تهے….”
اسنے بچوں سے انداز میں کہا
“خواب دیکها ہے کوئی….؟”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا
“برا خواب تها….؟”
اسنے پهر ہاں میں سرہلایا
“کیا دیکها ہے بتاو مجهے شاباش….”
اسنے پچکارتے ہوئے کہا
“مم-میں نے دیکها کہ آپ..آپ کو گگ-گولی لگی ہے اور آپ مم-مجھ سے دور ہو چکے ہیں…..”
یہ کہتی پهر سے چہرے ہاتهوں میں چهپائے رونے لگی شہرام نے ہونٹ دانتوں تلے دبایا تها
“خواب ہے میری جان یوں رو نہیں دیکهو میں سہی ہوان زندہ تمہارے پاس….”
اسنے اسکا چہرہ اٹهاتے اپنے دونوں ہاتھ اٹهاتے اسکو کہا تو اسنے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر پهیرے تهے اور زور زور سے نفی میں سر ہلایا

“شہرام مم-میری وجہ سے لگی مم-مجهے پچاتے ہوئے مم-میں قصور وار ہوں….”
اسکے رونے میں تیزی آئی تهی
“ششش سویٹ ہارٹ بالکل ٹهیک ہوں اور اللہ کے حکم سے میں تمہیں کبهی نہیں چهوڑوں گا کبهی تم سے دور نہیں جاوں گا….”
اسنے ہولے سے اسکی گال سہلاتے ہوئے کہا تو وہ سرخ آنکهیں اور سرخ چہرے سے اسکو دیکهنے لگی
“آپ کبهی دور مت ہونا پریہان مرجائے گی شہرام……”
یہ کہتی اسنے اپنا سر اسکے سینے پر رکها تها ایک رات کا درمیانہ پہر اوپر سے اندهیرا کمرے میں تنہائی اور پهر محبوب وہ بهی اتنے قریب اسنے زور سے آنکهیں میچ کر کهولی تهیں
“پریہان خاموش ہوجاو یار….”
اسنے اسکو بازووں سے تهامتے خود سے دور کرتے ہوئے کہا
تو وہ بهیگی بهیگی پلکوں سے اسکو دیکهنے لگی شہرام نے نظریں چرائی تهیں
“دیکهو میں ٹهیک ہوں جاو جاکر آرام سے سو جاو کیونکہ میں تو اب سووں گا نہیں….”
اسنے مسکرا کرکہا
“کیوں آپ کیوں نہیں سوئیں گے…..”
اسنے پلکیں چهپکاتے ہوئے کہا
“کیونکہ اس دل کو بےچین کردیا ہے مجهے بےچین کردیا ہے اب نیند کہاں آئے گی….”
اسنے ٹهنڈی آہ بهرتے ہوئے کہا تو پریہان نے شرمندگی سے چہرہ جهکایا
“جاو سو جاو میں نہیں چاہتا بےخودی میں کچھ کر بیٹهوں….”
اسکے ماتهے پر اپنے ہونٹوں کا لمس چهوڑتے ہوئے کہا تو وہ بال کان کے پیچهے کرتی جانے کیلیے اٹه گئی لیکن پهر پلٹی تو شہرام نے سوالیہ نظروں سے دیکها اور پهر اسکی نظروں کا تعاقب کیا جو اسکے سینے پر موجود تهیں اسنے کمبل اوپر کیا تها
“جاو کچھ نہیں ہوا مجهے ٹهیک ہوں زہن کو پرسکون کرو….”
اپنا سینہ کور کرتے ہوئے اسنے کہا تو وہ اثبات میں سرہلاتی چلی گئی پیچهئ شہرام نے سر بیڈ کے ساتھ ٹکایا تها اور سائیڈ لیمپ جلایا تها کهڑی پر نظر دوڑائی تو سوئیاں چار بجا رہی تهیں
کمبل سائیڈ پر کرتا اٹها تها اب اسکا ارادہ فریش ہونے کے بعد کچھ کام کرنا اور اور پهر باجماعت نامز ادا کرکے جوگنگ پہ جانے کا تها کیونکہ اب نیند اس سے کوسوں دور تهی اور اوپر سے پریہان کی ٹینشن الگ تهی وہ اسکو روک نہیں سکتا تها کیونکہ ابهی وہ یہ حق نہیں رکهتا تها نہ چهونے کا نہ روکنے کا وہ یہ جانتا تها پریہان کمرے میں جاکر بےچین رہے گی پر جلد سو جائے گی لیکن یہ اب بےچین رہنے والا تها…..

پریہان کمرے میں آئی شہرام کو دیکھ اسکو کچھ تسلی ہوئی تهی تہجد کی نماز کی نیت سے واشروم میں گهسی تهی اور کچھ ہی دیر میں دوپٹے کو حجاب کے اسٹائل سے باندهے باہر نکلی تهی پاک شفاف چہرہ پانی سے تر تها ٹهنڈی آہ بهرتی تہجد ادا کرنے لگی
………………………….
شہرام صبح تقریباً آٹھ بجے سویا تها اور اب بارہ بجے اسکی آنکھ کهلی تهی اٹهتا نیچے کی تیاری پکڑنے لگا لیکن سستی تهی کہ جانہیں رہی تهی
“یار مجهے نہیں نہانا….”
خود سے بڑبڑاتا پاوں میں چپل پہنی تهی اور اٹها تها کہ ایک دم سے ڈولا تها کہ اسنے بیڈ کا سہارا لیا
“نہانا ہی پڑئے گا….”
خود سے کہتا کپڑے لیتا واشروم میں گهس گیا
….شہرام نیچے ایا تو کوئی بهی اسکو نظر نہ آیا کچن میں نظر دوڑائی تو آبریش کچن میں جوس بنارہی تهی
“سب کہاں گئے ہوئے ہیں….؟”
اسنے ٹوکری میں سے سیب اٹهاتے ہوئے کہا
“سب آفس باقی امی اور چهوٹی امی کمرے میں ہیں زرش بهابهی کے اور احتشام یونیورسٹی…..”
اسنے مسکرا کر جواب دیا
“پریہان….؟”
“دوست کی طرف گئی ہے….”
اسکی بات ہر اسکا چہرہ مرجها سا گیا تها
“چهوٹی امی کہ رہی تهیں اگر آپ کو ٹائم ملے تو پریہان کو کے آنا نہیں تو ڈرائیور کو بهیج دیجئیے گا. …”
اسنے مسکراہٹ دوباتے ہوئے کہا
“اوکے میں لے اووں گا فری ہی ہوں….”
اسنے جوس کا گلاس اٹهاتے ہوئے کہا
“ناشتہ دوں….؟”
“نہیں….”
یہ کہتا جانے لگا کہ آبریش کی آواز پہ رکا
“کدهر جارہے ہو…..؟”
“بهابهی کے کمرے میں….”
یہ کہتا پلٹا
“پهر یہ جوس لیتے جاو میں آتی ہوں…..”
اسنو اسکو ٹرے پکڑائی تو وہ لیتا ہوا چلاگیا پیچهے سے آبریش ہنسی تهی
………………………….
“ہاں یہ مال ٹهیک ہے….”
وشما نے کچھ لوگوں کو دیکهتے ہوئے کہا
“میم بلاسٹ کی تیاری مکمل ہے…..”
وشما کے پاس ایک آدمی آتا ہوا رازداری سے بولا
“گڈ بلاسٹ بہت بڑا ہونا چاہیے کراچی کا یہ بلاسٹ سب کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہیے……..”
اسنے شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“فکر نہیں کریں میم معارج صاحب سب انتظامات کو ایک دفعہ خود دیکھ چکے ہیں……”
اسکی بات پر اسنے ہاں میں سر ہلایا
“بلحہ(معارج کی بیٹی) صاحبہ آئی ہیں ملنے کو…..”
کسی نے اکر کہا
“آرہی ہوں…. “
اسنے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا تها
………………………….