Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“ہاں گل خان کیا خبر ہے…..؟”
شہرام نے کرسی پر بیٹهتے ہوئے پولیس کیپ ٹیبل پر رکهتے ہوئے اس سے پوچها
“سر آج آپکو اس ریپ کے سلسلے میں اس لڑکی کے گهر والوں سے ملنا تها…”
“ہاں یاد ہے مجهے جاوں گا….”
اسنے سر پیچهے ٹکاتے ہوئے کہا
“اسکے علاوہ سر بائیک چوری کا کمپلین آیا تها….”
“اچها تو ایک آدمیوں کو کام پہ لگاو اور ایک گهنٹے میں بائیک ڈهونڈه کر دو….”
اسنے حکم صادر کیا
“سر لگا چکا ہے ہم آپ فکر مت کریں…”
“ہممم گڈ….”
“سر آپکا تو کچھ دنوں تک نکاح ہے آپ چهٹیاں نہیں کرئے گا…..؟”
اسکو اج بهی اون ڈیوٹی دیکھ گل خان سے رہا نہ گیا تو پوچها
“ہاں دو دنوں تک کروں گا چهٹیاں….”
اسنے مسکراتے ہوئے کہا
“اور ہاں گل خان تم سب تیاری رکهنا اور وقت پر پہنچ جانا…..”
“فکر مت کرئے سر ہم سب تیار کر چکا ہے بهروسے مند آدمیوں کو سب سمجها دیا یے سب چوکنا رہیں گے….”
اسنے ادب سے کہا
“گڈ یہیں امید تهی اور مجهے وہ جو گهر میں چوری کی ریپورٹ آئی تهی وہ دیکهاو….”
اسکی بات پر گل خان نے اسکو فائل دی تو وہ چیک کرنے لگا
………………………….
“السلام و علیکم! ……”
حارز نے گهر داخل ہوتے ہوئے بلند آواز میں کہا
“وعلیکم اسلام…..”
مسکرا کر کہتی ایک نظر پولیس یونیفارم میں ملبوس اپنے شوہر کو دیکها جو کل سے غائب تها
“خریت آپ کل سے گهر نہیں آئے….؟”
اسنے اسکے پاس بیڈ پر بیٹهتے ہوئے پوچها
“ہاں کام تها اچها سنو….”
یہ کہتے گندہ سا منہ بناتے اسنے عذوبہ کو دیکها
“جی….”
“پریہان کو سب معلوم ہوگیا….”
اسنے تهنڈی آہ بهرتے ہوئے کہا
“واٹ..تو پهر اسکا ریکشن کیا تها….”
ریکشن کے نام پر اسکے چہرے کے تاثرات بگڑئے اور سب بتانے لگا پهر ایک نظر اپنی بیوی کو دیکها جو ہنس ہنس کر پاگل ہورہی تهی
“عذوبی تمہارے شوہر کو تهپڑ پڑا اور تم ہنس رہی ہو…..”
اسنے خفگی سے کہا
“ہاں کیونکہ ہنسنے والی بات ہے اور اچها ہوا آپ دونوں نے بهی تو اس پیاری سے لڑکی کے ساتھ اچها نہ کیا…”
اسنے ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا تو اسنے گهورا
“پیاری لڑکی نہیں بدتمیز کہیں کی کوئی ایسے مارتا ہے ایک تو میں نے اسکی جان بچائی اوپر سے اسنے ایک لگادی….”
اسنے اپنی گال پر ہاتھ رکها
“وہ حملہ کس نے کروایا تها….؟”
عذوبہ سیریس ہوئی
“معارج….”
اسنے اس سے نظریں چرائیں تهی کیونکہ جانتا تها ابهی اسکا نام سن کر اسی آنکهیں نم ہو جائیں گی
“بابا ایسا کیوں کررہے ہیں وہ کیا یہ برئے کام چهوڑ نہیں سکتے…..”
اسنے نم آنکهوں سے کہا
“وہ صرف دردناک ناک موت کے قابل ہے میری جان تم اپنے باپ کے کالے دهندهوں اور کرتوتوں کی وجہ سے رنجیدہ مت ہوا کرو….”
اسنے اسکی کو انگلیوں کی مدد سے چهوا
“مجهے شرمندگی ہوتی ہے جب آپ انکا زکر کرتے ہیں شرم آتی ہے حارز….”
اسنے اسکے کندهے پر سر رکها تها
“تم کیوں شرمندہ ہوتی ہو…..”
“تم جانتے ہو انہوں نے اپنی بیوی تک کو بیچ ڈالا اس پیسے کے لالچ میں اور جب میں نے انکی وجہ سے گهر چهوڑا تو انکو کچھ خاص فرق نہ پڑا کیونکہ میں کونسا انکے کالے دهندهوں میں کام کرتی تهی….”
اسنے روتے ہوئے کہا
“میں اکیلی ہوگئی تهی اگر اپ نہ ملتے اور مجهے لگا تها میرا سچ جان کر اپ چهوڑ دیں گے لیکن آپ نے میرا ساتھ دیا حارز آئی لویو سو مچ……”
اسنا اپنا گلابی چیرہ اٹها کر کہا تو حارز کچھ کہنے لگاکہ اسکا فون بجا دیکها تو شہرام کا تها عذوبہ نے اپنے انسووں صاف کئیے تهے

“ہاں کیا ہوا بول…..”
“تونے نکاح پر لازم آنا ہے…..”
اسنے سیدهے سے کہا
“نا بابا نا تیری اس ہونے والی بیوی سے ایک اور چپیڑ کهانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں….”
اسکی بات پر شہرام کا قہقہ گونجا
“کچھ نہیں کہتی تونے انا ہے تیرے بنا میرا نکاح ناممکن ہے حارز….”
اب یہ سنجیدگی سے بولا
“میں نے نہیں آنا وہ تو مجهے کچا ہی چبا جائے گی….”
اسنے منہ الٹا سیدها بناتے ہوئے کہا
“بهابهی کو فون دے زرا….”
اسکی بات پر فون کو گهورتا ہوا اسنے عذوبہ کو پکڑایا تها
“بهابهی آپ نے حارز نے ضرور آنا ہے….”
“فکر مت کریں بهائی حارز آئے نہ آئے میں تو ضرور آوں گی….”
اسی بات ہر حارز نے منہ بنایا
“جی مجهے بهی تو وہ گڑیا دیکهنی ہے جسنے میرے شوہر کی گال لال کی….”
عذوبہ نے ہنستے ہوئے کہا تو شہرام کا بهی قہقہ گونجا جبکے حارز نے گهورا تها
“جی ٹهیک ہے بهابهی جی….”
اسکے کہنے پر اسنے فون حارز کو پکڑایا تها
“اب آجائیں گے….”اسکی ناراضگی بهری آواز گونجی
“اوکے جانو ٹائیم سے آنا….”
پیار سے کہتا اسنے کال بند کی تهی اور وہ بس فون کو گهور کر ہی رہ گیا
………………………….
“تم نے آنا ہے میرب آنا ہے اور بس آنا ہے…..”
احتشام نے دروازے کو بند کرتے ہوئے زور سے بول کرکہا
“اوففف احتشام میں کیا کرنے آوں گی…؟”
اسکی ایک ہی رٹ سے جهنجهلا کر بولی
“میری بہن کا نکاح ہے اور تمہیں آنا ہے اب سمجهی…..”
اسنے چباتے ہوئے کہا
“ہاں تو میں کیا کہوں گی کون ہوں میں…؟”
اسنے احتشام کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا
“کہ دینا آپکی فیوچر میں ہونے والی بہو….”
اسنے شرارت سے کہا ادهر میرب کا دل کیا اسکا سر پهاڑ دے
“میں سیریس ہوں احتشام…..”
اسکی سنجیدگی بهری اواز سن کر احتشام نے بهی مزید کوئی مزاک نہ کیا
“میری جان پری سے میری بات ہوچکی ہے تم اسکی دوست بن کر آو گی اور وہ رات کو تمہیں خود ہی کال کرلے گی….”
“لیکن….”
وہ ابهی بهی کنفیوز تهی
“اچها میرو یار مصطفی بهائی بلا رہے ہیں بعد میں بات کرتا…..”
فون بند کرتا باہر گیا جہاں مصطفی لائیٹس والوں کی کلاس لے رہا تها مینز کام کروا رہا تها
“جی بهائی….”
اسنے احترام سے کہا
“اوپر چهت پر جاو دیکهو اس لائیٹ لگانے والوں کو سہی کررہے ہیں کام….”
اسکو حکم دیتا سیڑهیوں پر پهول لگاتے شخص سے مخاطب ہوا کہ تب ہی آبریش اسکے لیے کافی لیکر آئی اسکو جواب دیتا مسکرا کر ابریش کو دیکها جو سجاوٹ دیکھ رہی تهی
“یہ سجاوٹ تو سیم ویسی نہیں جیسے ہمارے نکاح پر تهی….”
اسنے ایک نظر ہال کو دیکهتے ہوئے کہا
“جی جان یہ شہرام کا ہی حکم تها….”
اسنے کافی کا گهونٹ بهرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دی لیکن اسکے قدموں کو زنجیر تب لگی جب مصطفی نے اسکی کلائی پکڑئی تو اسنے پیچهے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے دیکها
“تهینکس….”
محبت پاش نظروں سے دیکهتا وہاں سے چلا گیا اور پیچهے وہ مسکراتی لاونچ میں چلی گئی جہاں اسکی امی بلا رہی تهی
………………………….
شہرام اپنے کمرے میں داخل ہوتا کیپ اتار کر بیڈ پر رکهی تهی اور دراز سے چارجر نکالتا فون چارجنگ پہ لگانے کے بعد اپنی شرٹ کے بٹن کهول رہا تها کہ دروازہ کهلنے کی آواز پر پیچهے پلٹا تو حیرت سے اس آنے والی شخصیت کو دیکهتا دوسری طرف مڑتا شرٹ کے بٹن جس رفتار سے کهول رہا تها اسی رفتار سے بند کئیے اور واپس اسکی طرف پلٹا جو سینے پر ہاتھ باندهے کهڑئی تهی

“تم یہاں کیا کررہی ہو….؟”
“تمہارا نکاح ہے اور اپنا نکاح اپنی دوست اپنی کزن کے بغیر ہی کرو گے…..”
اسنے سینے پر ہاتھ باندهے کہا تو اسنے سنجیدگی سے اسکو دیکها
“تم قابل نہیں اسکے کہ شہرام ملک کے نکاح میں شرکت کرو…..”
اسنے پتهریلے لہجے میں کہا
“قابل تو میں بہت چیزوں کے ہوں پر تم نے سمجها نہ…..”
باہر جو پریہان اپنے کمرے میں سے نیچے جارہی تهی ہلکا سا دروازہ کهلنے اور پهر اندر سے آتی آواز سن کر ٹهٹهکی
“جاو یار دماغ خراب نہیں کرو….”
وہ پہلے ہی بہت تهکا ہوا تها اسکو ابهی سونا تها پر یہ چڑیل ہائے شہرام ملک کی بدقسمتی
“شہرام ابهی بهی وقت ہے مجهے اپنالو میں مرجاوں گی تمہارے بنا….”
اسنے انکهوں میں ڈهیر سارے انسووں لئیے کہا
“اپنا لیتا اگر تم کسی برئے کام میں ملوث نہ ہوتی اگر ہوتی بهی پهر بهی اپنا لیتا اگر پریہان سے مجهے محبت نہ ہوتی تو…..”
اسکی بات پر باہر کهڑئی ہستی کی آنکهوں سے دهیر سارے آنسووں نکلے تهے اور وشما نے آنسووں بهری انکهوں سے اسکی طرف دیکها
“آئی لویو سو مچ شہرام میں سب چهوڑ دوں گی لیکن تم مل جاو….”
“نہیں مل سکتا وشما سو پلیز گیٹ لاسٹ….”
اسنے سرد لہجے میں کہا
“شہرام تم ایسا مت کرو دیکهو میری طرف میری محبت کو یوں مت دهتکارو….”
اسنے اسکے سامنے ہاتھ جوڑئے تهے شہرام نے بےساختہ اس سے نظریں چرائیں تهی اسکے دل کو بہت کچھ ہوا تها لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتا تها
“یہ تمہاری محبت نہیں تمہاری ضد مجهے پانے کی ورنہ محبت قربانی مانگتی ہے جو تم نہیں دے سکتی…..”
اسنے اسکو افسوس سے دیکهتے ہوئے کہا
“شہرام پلیز مت کرو میرے ساتھ مرجاوں گی میں…..”
روتے ہوئے ہاتھ چوڑتے ہوئے نیچے بیٹهی تهی
“وشما سٹینڈ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ….”
جو بهی تها وہ اسکو یوں روتا تو نہیں دیکھ سکتا تها اخر بچپن ساتھ گزارا تها ہر دکھ درد کے ساتهی تهے ایک عرصہ ساتھ رہے ہیں اور بہت اچهے دوست بهی تهے
“شہرام میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے….”
اسنے نیچے بیٹهے ہی چہرہ اٹها کر سرخ چہرے سے اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا جسکو اسکی حالت پر افسوس ہورہا تها
“اور میں پریہان سے دس سال سے محبت کرتا ہوں سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا اسکو چهوڑنے کا….”
اسنے اس سے نظریں پهیرتے ہوئے کہا
“اور میں جو تمہارے لیے جیتی ہوں اور تمہارے لیے ہی مرتی ہوں اسکا کیا…..”
اسنے اٹهتے ہوئے چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا
“ہم بہت اچهے دوست تهے تمہاری آنکهوں میں محبت اچهے سے دیکه لی تهی لیکن میں تمہاری اور اپنی دوستی نہیں کهونا چاہتا تها لیکن تم نے ہماری دوستی کو داغدار کردیا…..”
اور بےشک شہرام کو بہت صدمہ پہنچا تها اسکے اس عمل سے…..
“شہرام میں تمہارے عشق میں جنونی ہوگئی ہوں تم نہ ملے تو میرے جنون سے تم بہت کچھ کهو دو گے…..”
اسنے اسکی انکهوں میں آنکهیں ڈالتے ہوئے اٹل لہجے میں کہا وہ اسکو یہی باور کروانے آئی تهی لیکن وہ اسکو دیکھ کہ بہک گئی تهی اور اس سے پهر سے اسکو مانگا تها
“اور میں اس وجہ کو ہی ختم کردوں گا……”
اشارہ اسکی طرف تها اگر وہ ضدی تهی تو یہ بهی شہرام ملک تها اپنے غصے اپنے انداز سے سبکو بهسم کرنے والا
“یاد رکهانا نکاح ہورہا ہے کیونکہ میں چاہتی ہوں اور ہاں ابهی بہت کچھ باقی ہے شہرام میری جان جسٹ ویٹ اینڈ واچ……”
یہ کہتی مڑئی تهی اسکو مڑتا دیکھ پریہان پلر کے پیچهے ہوئی تهی اسنے وشما کی پشت کو دیکها تها اور آپنا چہرہ بےدردی سے رگڑتی کمرے میں داخل ہوئی شہرام بیڈ پر سر ہاتهوں میں گرائے بیٹها تها اسنے چہرہ اٹها کر پریہان کو دیکها تو سختی سے آنکهیں مہچ کر کهولیں کیونکہ اسکے حلیے سے معلوم ہورہا تها جیسے وہ سب سن چکی ہو

“جانتا ہوں سب سن چکی ہو تم…”
اسنے اٹهتے ہوئے کہا
“آپ چهوڑ دیں مجهے وشما آپی سے شادی کرلیں…..”
اسنے اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے کہا تو شہرام نے قہر آلود آنکهوں سے اسکی طرف دیکها پهر اپنے چہرے پر ہاتھ پهیر کر خود کو کمپوز کیا تها
“پریہان پلیز سٹاپ اٹ میں کوئی بحث وغیرہ یا غصہ نہیں کرنا چاہتا….”
اسنے بات پلٹنی چاہی
“شہرام آپی کو دیکهیں وہ اپ سے بےانتہا محبت کرتی ہیں….”
اسنے نم آواز کے ساتھ کہا
“اور جو میں تم سے محبت کرتا ہوں اسکا کیا…..؟”
“میں اپی کو ایسے نہیں دیکھ سکتی…..”
اسنے چہرہ جهکا کرکہا
“تو کیا تم مجهے تل تل مرتا دیکھ سکتی ہو….؟”
اب کی دفعہ بےبسی تهی آواز میں اسکی بات پر اسنے چہتہ اٹها کراسکو دیکها تها
“شہرام مجهے چهوڑ دیں کیونکہ آپ جانتے ہیں میں آپی کو یوں نہیں دیکھ سکتی…..”
اسکی بات پر اسنے اسکو بازوں سے تهاما تها
“فضول کی ضد نہیں کرو شاباش جاو کمرے میں…..”
اسنے اسکا چہرہ تهپتهپایا تها
“انکی زندگی برباد ہوجائے گی آپکے بنا….”
“میرے ساتھ بهی وہ خوش نہیں رہ پائے گی مجهے حاصل کرلے گی لیکن میری محبت اسکا کیا جو صرف تمہارے لیے ہے…میرا دل وہ اسکی طرف کیسے مائل ہوسکتا ہے وہ صرف تمہارے کیے دهڑکتا ہے پری……..”
اسنے گہرہ سانس لےکر کہا جیسے وہ ان سب سے اب نجات چاہتا ہو
“اور اگر اس سے شادی کرلی تو تین تین زندگیاں برباد ہوجائیں گی میری وشما کی اور تمہاری….اور کیا تم میرے بنا خوش رہ پاوو گی……”
اسنے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکو لاجواب کیا تها
“آپی کہ حالت نہیں دیکهی جاتی…”
اسنے روتے ہوئے کہا اور یہاں شہرام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تها
“آپی اپی اپی….جہنم میں جائے وہ وہ صرر دکھ دینا جانتی ہے جسکے لیے تم اتنا تڑپ رہی ہو نہ اسکو تنہاری پرواہ نہیں ہے پریہان کیوں اسکے لیے اپنے انسووں بہا کر اپنا اور میرا دل جلا رہی ہو…..”
اب کے وہ چلایا تها اور پریہان سہمی تهی
“سن لو میری ایک بات کان کهول کر اگر سوبارہ دور جانے کا سوچا بهی تو اگلی سانس تمہیں نصیب نہ ہوگئی…..”
وہ جو اسکو پیار سے سمجهانا چاہتا تها لیکن پریہان کو ایک ہی ضد پر اڑا دیکھ مجبوراً اسکو غصہ کرنا پڑا اسکو روتا دیکھ اسنے ٹهنڈی سانس بهری تجی اور اسکے ہاتھ تهامے تهے
“چلو خاموش ہوجاو ہمارے نکاح کی تیاری کرو میں صرف تمہیں خود میں مشغول ہوتا دیکهنا چاہتا ہوں ٹهیک ہے…..”
اسنے محبت سے کہا تو اسنے اثبات میں سرہلایا
“آہممممم آہممممم….”
کسی کے گلہ کنگهارنے پر دونوں نے دروازے کی طرف دیکها جہاں احتشام شرارت بهری مسکراہٹ سے انکو دیکھ رہا تها پریہان نے جلدی سے ہاتھ کهینچے تهے اور چہرہ صاف کیا

“اوئے ہانی تو کیوں رو رہی ہے ویسے بهی ابهی نکاح ہونا ہے اگر رخصتی بهی ہوتی تو تونے کونسا اس گهر سے رخصت ہونا تها رو تو ایسے رہی ہے جیسے جارہی ہو کہی….”
اسنے مزاق میں کہا تو شہرام ہنسا جبکہ پریہان نے گهورا
“اور سب بڑوں نے منا کیا تها تم دونوں کو ملنے سے کہتے ہیں شادی سے پہلے دونوں ملیں تو دلہن پر روپ نہیں آتا اس پر تو پہلے بهی نہیں انا تها اب تو زرا وی نہیں آنا…..”
اسنے دادی اماں کی طرح ہاتھ اٹهاتے ہوئے کہا تو شہرام کا قہقہ گونجا اور پریہان اسکے پیچهے بهاگی تهی اسکا ارادہ بهانپتا احتشام پہلے ہی نودو گیارہ ہوگیا تها
………………………….