No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
“ہم کیا خبر ہے گل خان……”
شہرام نے اپنی کرسی پر بیٹهتے ہوئے کہا وہ تقریباً ایک ہفتے کے بعد اپنی ڈیوٹی پر آیا تها اور گل خان سے ڈیٹیل میں سب جاننا چاہتا تها
“سر خبریں تو بہت سا ہے ہم آپکو سب بتائے گا……”
اسنے خوشی میں کہا اسکے چہرے سے خوشی جهلک رہی ہے
“کیا بات ہے خوش ہو….؟”
اسنے بهی ہنستے ہوئے کہا
“معارج کی شکست پہ خوشی تو ہوگی ہی…..”
گل خان کی بجائے حارز نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا تو شہرام کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“بےشک اللہ ہمیشہ انصاف کے ساتھ ہوتا ہے معارج کےلیے تو ابهی یہ ایک چهوٹا سا ٹریلر تها…”
شہرام نے پینسل انگلیوں میں گهماتے ہوئے کہا
“سر معارج کو بہت دهچکا لگاتها اس چهوٹے سے حملے کا خاموش نہیں بیٹهے گا…”
“تو گل خان اسکو خاموش کروانا کون چاہتا ہے جلد بازی میں کوئی غلطی کرئے اور وہی غلطی ہمارے لیے فائدے مند ہے….”
حارز بولا تها
“مبارکباد دینا تو بنتا ہے کیوں حارز اور گل خان…..”
شہرام نے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا
“کیوں نہیں شیرو….”
“کیوں نہ سر ہم اسکے گهر جاکر اسکو مبارکباد دے……”
گل خان نے خوش ہوتے ہوئے اسکی خوشی دیکھ وہ دونون بهی ہنسے تهے گل خان ایسا کی تها ہمیشہ شہرام کی جیت پر ایسے ہی شہرام سے بهی زیادہ خوش ہوتا تها
“ہم تابعدار گل خان…..”
شہرام نے سر کو خم دیتے تابعداری سے کہا تو ان تینوں کے قہقے بهی کمرے میں گونجے
“سر ایک اور بات….”
باتوں کے دوران گل خان بولا
“کیا….؟”
شہرام نے چائے کا گهونٹ بهرتے ہوئے پوچها
“معارج کے کچھ اڈوں کا معلوم ہوا جو لاہور میں واقع ہیں اگر اپکو وقت ملے تو لاہور کا جائزہ لےلیں نہین تو میں جاوں گا صورتحال کا جائزہ لینے…..”
گال خان نے تفصیل سے آگاہ کیا تها
“نہیں گل خان میں بهی جاوں گا ہمارے جانے سے پہلے لاہور میں کچھ بندے تعینات کردو اور ہم جائیں گے تو ایک دو دهچکے دے کر آئیں گے….”
اسکی انکهوں میں ایک چمک تهی
“شہرام میں بهی چلوں گا….”
“نہیں حارز تمہاری یہاں ضرورت زیادہ ہے تم یہاں کے موجود اپنے کام ادهورے نہیں چهوڑو اور اپنے اللہ کے بعد تم پر اپنی فیملی اور اپنی جان پریہان کے حوالے سے یقین کرتا ہوں….”
اسکی بات پر حارز کو اپنے دوست پر فخر ہوا
“جیسا تم مناسب سمجهو….”
“گل خان کب تک جانا ہے….؟”
شہرام اب گل خان کی طرف متوجہ ہوا تها
“سر دو دن بعد کی تیاری کی ہے باقی جب کہیں…..”
“اوکے اور ہاں سنو آج ہی کچھ آدمیوں کو بهیج دو…..”
اثبات میں سر ہلاتا گل خان پلٹا تها کہ یاد انے پر پهر شہرام کی طرف متوجہ ہوا
“اور سر ایس پی اریش کے کہنے پر آپکو لاہور جانے سے پہلے چهٹی دی گئی ہے….”
اسکی بات پر شہرام منہ کهولے اسکو دیکهنے لگا
“ابهی ایک ہفتے بعد اج تو ایا ہوں دو اور چهٹیاں…….”
اسکی بات پر حارز گل خان نے مسکراہٹ دبائی تهی
“اچها جاو گل خان…”
حارز سے مسکراہٹ چهپانا محال ہوگیا تو گل خان کو حکم صادر کیا اور ساتھ میں شہرام کی طرف سے ملنے والی گهوری قبول کی تهی
………………………….
“اوو میری بہن کو نیند ائی ہے سورہی ہے….”
احتشام لاونچ میں داخل ہوتا پریہان کو صوفے پر لیٹا دیکها تو بولے بنا رہ نہ سکا
“ہاں آجا کردے میری نیند حرام….”
پریہان نے آنکهوں سے بازو ہٹاتے اسکو گهورتے ہوئے کہا تو وہ ہنستا ہوا اسکے پیروں کے پاس بیٹها
“شامی کباب مجهے نیند ائی ہے یہاں سے دفع ہو جا…..”
اسنے پیر اسکے بازو پر دو تین دفع زور سے مارتے ہوئے کہا تو اسنے اپنا بازو سہلایا
“ہٹ چهپکلی ایسے کوئی مارتا ہے کیا….؟”
اسنے اپنابازو مسلتے ہوئے کہا
“تو تو خود مجهے زلیل کرنے ایا ہے نکلتا بن یہاں سے…..”
اسنے ایک اور دفع اسکو مارا تها
“یار بهائی ہوں تیرا چهوٹا سا….”
اسنے رونی شکل بناتے ہوئے کہا تو پریہان گهورتے ہوئے دوبارہ اپنی آنکهوں پر بازو رکها تها
“اے پریہان….”
اسکو کہاں سکون تها پریہان کو تنگ کئیے بغیر سو دوبارہ مخاطب کیا
“کیا مسئلہ ہے….؟”
اسنے بازو ہٹاتے دوبارہ گهورا تها
“کرلے نہ شرارت….”
اسنے آنکهیں زور سے میچ کرکہا تو پریہان نے اپنے دانت کچائے تهے
“دفع ہو میں کمرے میں جارہی ہوں تو تو باز نہیں آئے گا….”
یہ کہ کر وہ جانے لگی کہ احتشام نے اسکو بازو سے کهینچ کر پاس بیٹهایا تها
“کیا ہے….؟”
“تجهے اس سے کیا جو بهی ہے…”
احتشام صاحب کا الٹا ہی جواب تها جو پریہان کو تپا گیا تها
“مرجا کیتے جاکر…”
اسنے اسکے کندهے پر مکا جڑا تها
“قتل کرئے گی مجھ معصوم کا….”
اسنے اپنا کندها سہلایا تها
“احتشام یا تو خود یہاں سے نکل ورنہ مجهے جانے دے…..”
اسنے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
“نہیں جاتا کیا کرلے گا…..”
اسنے زبان چڑهائی تهی اور بس پهر پریہان صاحبہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تها اور بن بادل آنسووں کی برسات شروع ہوگئی تهی
“اوئے چهپکلی رو کیوں رہی ہے….؟”
اسنے ہڑبڑا کرکہا تو وہ اسکے سینے سے لگ کر مزید رونے لگی
“پریہان مجهے ڈر لگ رہا ہے میری بہن بول کیا ہوا ہے….؟”
اسکو مزید پریشانی نے آن گهیرا تها
“پریہان میں لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں کیا ہوا ہے..؟ کسی نے کچھ کہا تها…؟ مجهے بتاو میں اسکا قیمہ کردوں گا جسنے میری بہن کو تکلیف پہچائی ہے…..”
اسنے اسکا سر سہلاتے ہوئے پچکارتے ہوئے کہا وہ جو بهی تها جتنا بهی تنگ کرلے پر اسکو روتا نہیں دیکھ سکتا تها آخر کو بہن تهی اور پریہان اب کیا بتاتی کہ اسکو شہرام کی بہت یاد آرہی تهی
“بب-بس سس-سر میں درد تها….”
پیچهے ہوتی اسنے انسووں صاف کرتے ہوئے کہا
“اوو مائے گاڈ پریہان میں تو ڈر ہی گیا رکو میں تمہارے لیے چائے بناکرلاتا ہوں….”
اسنے فکر مندی سے آنسووں صاف کرتے ہوئے کہا
“نہیں میں ملازمہ سے کہ دیتی ہوں…”
“ضرورت نہیں میں خود بناکر لاتا ہوں…”
اسنے ماتهے پر بوسا دیتا کچن کی طرف چلا گیا اور اپنا غم بهلاتی اسکو اپنے بهائی پر بہت پیار ایا اور خود کو اتنا خوش قسمت سمجھ رہی تهی یہ جانے بغیر ابهی اسکی زندگی میں بہت امتحان باقی ہیں ابهی سب سے بڑے امتحان سے گزرنا تها اور یقین وہ امتحان سبکی زندگیاں اجاڑ سکتا تها خاص کر پریہان کی
………………………….
اسلام و علیکم!کیسے ہیں آپ سب لوگ..؟ اچها تو یہ چهوٹی سی قسط انجوائے کرئیں اور انشاءاللہ رات میں لانگ قسط کے ساتھ حاضر ہونگی یہ چهوٹی سی قسط بس تهوڑا سا انجوائے کرنے کیلیے رات میں لانگ قسط دوں گی اور کوئی یہ نہ کہے کہ رائٹر نے چهوٹی قسط دی ہے میں پہلے کہ رہی ہوں رات میں لانگ قسط دوں گی….اور سنائیں کیسی گزر رہی ہیں چهٹیاں….؟ یار باتیں شاتیں ہی کرلیا کرو…خیر اللہ آپ سبکو سلامت رکهے آمین….
