Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

شہرام تیزی سے سیڑهیاں اتر رہا تها اور سیڑهیوں کے ساتھ موجود ایک کمرے کو چهوڑ کر دوسرے کمرے کے سامنے رکا جسکو تالا لگا ہوا تها اسنے جیب میں ہاتھ ڈالتے چابی کو ٹٹولا اور پهر تالا کهولنے کے بعد دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا
بہت سے یادوں نے اسکو آن گهیرہ تها اور نم آنکهوں کو زور سے بند کرکے کهولا تها اور پهر دروازہ بند کرتا واپس مڑا

سامنے بیڈ کے پیچهے بڑئی سی صائم کی پک لگی تهی جس میں وہ ہنس رہا تها خوبصورت بیلو آئیز میں چمک تهی تو شاید نہیں یقیناً یہ صائم کا کمرہ تها ہر چیز ترتیب سے تهی ہر مہینے آبریش اور پریہان مل کر خود اس کمرے کی صفائی کیا کرتی تهیں

صائم کی یر چیز ویسی تهی جیسے وہ چهوڑ کر گیا تها اسکے کپڑئے پرفیومز جوکہ اب ایکسپائر ہوچکے ہونگے

شہرام تهکے سے انداز سے شکنوں سے محفوظ چادر کو دیکها اور پهر بیڈ پر بیٹها تها سائیڈ ٹیبل سے صائم اور وشما کی منگنی کی پک اٹهائی تهی

“صائم بهائی ہم آپکو بہت یاد کرتے ہیں آپ کیوں چلے گئے آپ تو کہتے تهے آپ ہماری جان نہیں چهوڑیں گے اور….”
ایک کرب سے پک کو دیکهتے ہوئے کہا اور ٹیبل پر واپس پک رکهی

یقیناً آج پهر وہ بہت اداس تها جو صائم کے کمرئے میں موجود تها سب اسکے کمرے میں کم آیا کرتے تهے چابی صرف شہرام مصطفی اور وشما کے پاس موجود تهی وشما تو ہر روز آیا خرتی تهی جبکہ سعید صاحب کا داخلہ منع تها کیونکہ وہ جب یہاں آتے تو اکثر بیمار ہوجاتے ہو باقی بهی جب انکو صائم کی یاد ستاتی وہ اس کمرے میں آکر اپنے دل کا غبار نکال لیتے

“وشما کہتی ہے مم-میں نے آپکو مارا ہے بهائی…وہ ایسا کیسے کہ سکتی ہے میں بهلا کیسے مار سکتا ہوں….وہ مجھ سے بدلا لینا چاہتی ہے میرے بهائی کی موت کا یہ جانتے ہوئے بهی قتل اسکے باپ نے کیا ہے میں نے نہیں پر ناجانے اسے باپ نے کیا سکهایا ہے کہ وہ مجھے قاتل سمجهتی ہے….”
وہ ٹیبل پر پڑئی پک کو دیکھ کر بولا اسکی آنکهوں سے کتنے ہی آنسووں نکلے تهے

“بهائی یہ سب کیا ہورہا ہے میں بہت اکیلا پڑ گیاہوں دشمنوں کو تو انکی اوقات دیکها دوں پر اس دفعہ آپکی محبت آپکا عشق میرے مقابل ہے میں کیا کروں ہار گیا ہوں بهائی….”
وہ بچوں کی طرح رو رہا تها

“میں نے نہیں مارا بهائی وہ کیوں نہیں سمجھ رہی اور وہ شادی کرکے مجھ سے بدلہ لینا چاہتی ہے میں یہ نہیں کرسکتا …..”
“آپ بتائیں وہ کیسے یقین کریے گی میرا ناجانے ایسا کیا ہوگیا ہے وہ مجھ سے کیا سب سے بدزن ہوگئی ہے کسی کی نہیں سنتی وہ آپکی محبت اب گناہوں میں مبتلا ہے بهائی میں کیا کرو پلیز آپ آجائیں….”
وہ اب چہرہ ہاتهوں میں چهپائے کسی چهوٹے معصوم بچے کی طرح رو رہا تها ضرور آج پهر وشما سے اسکی بحث ہوئی تهی جو یوں پهر تنہا ہوگیا یے وہ وشما کو سنا تو دیتا تها اسکو مار بهی لیتا تها پر خود وہ کیسے برداشت کرتا تها وہی جانتا تها
………………………….
…ماضی…
ایک سال ہوگیا تها انکہ وفات کو سب معمول پر چل رہا تها ہر پہلے جیسا نارمل نہیں ہر کسی میں سنجیدگی آگئی تهی البتہ احتشام اور پریہان کبهی کبهار سنجیدگی کو کم کردیتے رامز زیادہ تر اسلام آباد میں رہتا ہفتے میں ایک دفعہ گهر آتا اسلام آباد کا کام اس نے سنبهالا ہوا تها تو شہرام ٹرینگ کیلیے لاہور تها اسکے ایک دو مہینے ہی باقی تهے جبکہ مصبفی بهی بزنس کی طرف راغب تهاصطفی اور آبریش کا نکاح جو صائم اور وشما کی شادی پر تها وہ تو کہیں گم ہی ہوگیا سعید صاحب نے اب انکا نکاح ایک ماہ بعد کا علان کیا تها

وشما پہلے سے کچھ بولنے لگی تهی وہ بهی پریہان ساتھ جو اسکی جان نہ چهوڑتی تهی اور کبهی کبهی مسکرا بهی دیتی اور یہی مسکراہٹ کیلیے وہ انتهک محنت کرتی تهی
سب کے چہیتے بابا اور لاڈلے بیٹے کی موت نے انکو گہرا صدمہ دیا تها انکی خوشیاں اجڑ گئیں تهی
………………………….
“جی کون بات کررہا ہے….؟”
وشما کا انداز اب لیے دیے والا تها
“میں بیٹا معارج تمہارا باپ…..”
وشما جو مصروف سے انداز میں پریہان کے نوٹس بنا رہی تهی یہ الفاظ سن کر اسکے ہاتھ ساکت ہوئے تهے
“معارج….”
وہ زیر لب بڑبڑائی تهی کتنے عرصے بعد اسنے اپنے باپ کی آواز سنی تهی پر اسکو کوئی خوشی نہ تهی کوئی فرق نہ پڑتا تها
“ہاں تمہارا باپ….”
“کس لیے فون کہا ہے میرے باپ نے سوری خود غرض انسان نے….”
اسنے طنز کیا اور معارج مٹهیاں بهینچ کر رہ گیا
“بیٹا سعود میرا جگرہ دوست اور تمہارا ہونے والا شوہر اسکا افسوس….”
“بہت جلدی نہیں یاد آیا…..”
وہ اسکی بات بیچ میں ٹوک کر بولی
“یاد تها اسی لیے نہیں فون کیا کہ تم میری بات نہ سنو….”
“وہ تو اب بهی نہیں سنوں گی دوبارہ مت کرئیے گا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…”
وہ غصے سے بولی

“پلیز بات سنو بہت اہم بات ہے صائم اور سعود کی موت کے متعلق…..”
وہ جو فون بند کرنے لگی تهی اسکے الفاظ پر رکی
“کک-کیا…..؟”
اور اسکے سوال پر معارج کے چہرے پر مسکراہٹ پهیلی
“ایسے نہیں ثبوت کے ساتھ کچھ دکهانا ہے میں پتا بتاتا ہوں یہ گهر کا پتا ہے یہاں پہنچ جانا….”
اور گهت اڈریس بتاتا فون بند کیا تها اور وشما کچھ دیر سوچنے کے بعد جلدی سے کام کرنے لگی کہ فری ہوکر چلی جائے
………………………….
ڈرائیور کو واپس بهیجنے کے بعد اب وہ تیزی سے گهر کی جانب بڑهنے لگی کیونکہ اسنے ڈرائیور کو کچھ فاصلے پر گاڑی رکوا کر بهیج دیا تها
سر پر موجود چادر درست کرتی اسنے اس عالیشان گهر کو دیکها پر اسکو زرا فرق نہ پڑا کیونکہ انکا گهر کونسا کسی سے کم تها

“جی میڈم جی کون ہو آپ…؟”
گارڈ اسکو دیکھ کر بولا تو وشما نے ناگواری سے اسکو دیکها
“میں وشما….”
“اوو بی بی جی آپ جی ہمیں صاحب نے کہا تها آپ آئیب تو فوراً اندر بهیج دوں….”
اسنے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے کہا اور اندر ڈرائینگ روم میں بیٹهایا
“آپ یہاں بیٹهیں میں معارج صاحب کو بلا کر لاتا ہوں…..”

کچھ ہی دیر میں معارج وہاں پہنچا
“میری بچی….”
وہ خوشی مصنوعی خوشی سے اسکی طرف بڑها تو وشما نے ہاتھ اٹها کر روک دیا اور کهڑئی ہوئی
“جلدی بتائیں کس کیے بلایا ہے….؟”
وہ چباتے ہوئے بولی
“کیا زرا خوشی نہیں اپنے باپ سے ملنے کی….”
“نہیں معارج صاحب جس لیے بلایا ہے بولیں….”
وہ بنا لحاظ کیے بولی
“بیٹهو کچھ کهاو تو پیو تو باپ کے گهر….”
“ٹائم ویسٹ مت کرئیں….”
کہتے ساتھ بیٹهی تو وہ بهی زہر پیتا اسکے پاس تهوڑئے فاصلے پر بیٹها

“تمہیں کیا لگتا ہے سعود اور صائم کو کس نے مارا…..؟”
“وہ ایک ایکسیڈنٹ تها….”
وہ کرب کو چهپاتے ہوئے بولی
“میری معصوم بچی کو تو بےوقوف بنا رہے ہیں…..”
اسنے افسوس سے کہا تو وہ ناسمجهی سے دیکهنے لگی
“کیا مطلب ہے آپکا….؟”

“وہ یہ کہ ان دونوں کو مارا گیا ہے ناکہ ایکسیڈنٹ تها…..”
“یہ کیا بکواس ہے…..؟”
وہ چینخی تهی
“بیٹا یہ سچ ہے میں نے اس بارے میں معلوم کرویا کیونکہ مجهے تمہاری فکر تهی….”
(ڈرامے باز)
“کون کرسکتا ہے یہ…..؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“شہرام…..”
“بس ایک لفظ نہیں…..”
وہ ابهی بولا ہی تها کہ وشما غصے سے کهڑئی ہوئی اور چلائی

“میں جانتا تها میری معصوم بچی میرا یقین نہیں کرئے گی وہ ان فریبی لوگوں….”
“میں نے کہا بکواس بند کریں اپنی ایک لفظ نہیں سنوں گی…..”
وہ پهر سے غصے سے چلائی تهی تع معارج سہما
“مجهے معلوم ہے تمہیں یقین نہیں میرے پاس پروف ہے…..”

وہ بهی کہتا اٹها اور فون پر کچھ کهول کر آگے کیا وشما نے جیسے دیکها اسکی آنکهیں پهےی کی پهٹی رہ گئیں

“نن-نہیں یی-یہ سچ نہیں…”
اسکے ہاتھ سے فون گرا تها
“یہی سچ ہے میری بچی شہرام نے ہی مارا ہے تمہارے صائم کو…..”
“نہیں وہ ایسا نہیں ہے وہ نہیں مار سکتا….”
کہتی ساتھ نیچے سے دوبارہ فون اٹها کر پکس ادهر ادهر کرنے لگی
ایک پک میں شہرام نے صائم کے پیٹ پر ہاتھ رکها ہوا تها تو دوسری پک میں وہ چاقو نکال رہ تها جبکہ تیسری پک میں چاقو شہرام کے ہاتھ میں تها اور وہ ہوا میں لہرا رہا تها

“نہیں ہے یہ سچ….”
وہ روتے ہوئے صوفے پر بیٹهی تهی
“یہ نظروں کا دهوکہ ہے میں مرکر بهی شہرام پر شک اور آپ پر یقین نہیں کر سکتی…..”
“فکر نہیں ایک اور ثبوت ہے….”
اسنے کہتے ساتھ ایک آدمی کو منگوایا جو لنگڑا تها اور ایک ٹانگ نہیں تهی لکڑیوں کے سہارئے چلتا ہوا اندر داخل ہوا

“یہ کون ہے…؟”
“اسکو شہرام نے پیٹا ہے”
“مم-مطلب….؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“تم بولو….”
معارج نے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا
“میم جی اس لڑکے نے ہی مارا ہے انکو میں نے اپنی آنکهوں سے دیکها تها جب انہوں مجهے دیکھ لیا تو اٹها کر قید کردیا اور بہت پیٹا یہاں تک میری ایک ٹانگ کاٹ دی میری…..”
وہ شخص روادا سنانے لگا اور اسکے سامنے ایک وڈیو دیکهائی جس میں شہرام اس آدمی کو پیٹ رہا تها اور وشما کا اب سر پهٹ رہا تها
“اسنے کک-کیوں مارا…؟”
“دولت کیلیے اور سب کتنا پیار کرتے گهے صائم سے حسد سے مارا ہے….”
اسکی بات پر بےیقینی سے دیکها تها
“نہیں….”
خود سے بڑبڑاتی وہ بےیقینی سے اٹهتی وہاں سے چلی

“واہ اچهی ایکٹنگ تهی….”
معارج نے وشما نے جانے کے بعد کہا
(یہ تو سچ تها شہرام نے اسکو پیٹا تها اور اسکی ٹانگ کاٹ دی تهی لیکن وہ معارج کا آدمی تها جس نے صائم پر گولی چلائی تهی اور خود اپنا گناہ شہرام کے سامنے قبول کیا تها اور جب مارا تو ایک وڈیو بنا لی تهی وہ وشما کو شہرام کے خلاف کر چکے تهے اس بات کا انکو یقین تها اور جو چاہا وہ ہو رہا تها)
………………………….
“شہرام نے ایسا کیوں کیا…؟ نہیں میں شک نہیں کروں گی وہ اپنے بهائی کو نہیں مار سکتا….”
وہ کمرے میں ہاتهوں میں سر گرا کر بیٹهی تهی
“لیکن وہ پکس…چلو وہ تو چهوٹیں تهی لیکن وڈیو وہ آدمی….”
“یااللہ یہ سب کیا ہے کچھ سمجھ نہیں آرہی….”
اسنے اپنا سر تهاما تها

“ایک منٹ انہوں نے کہا تها کہ صائم اور سعود بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اگر ہوا تها تو وہ چاقو وہ پکس….اسکا مطلب….”
خود سے بڑبڑاتی بیڈ پر گرئی تهی
“شہرام یہ کیا کیا تم نے اپنے بهائی اپنے تایا ابو کو مار دیا شہرام آئی ہیٹ یو ایسا کیوں کیا مجهے یقین نہیں لیکن ہر چیز تمہارئے خلاف گواہی دے رہی ہے تم نے کیوں دور کیا صائم کو مجھ سے…..”
وہ روتے ہوئے مسلسل بول رہی تهی
“اب میری باری ہے اب بدلہ لیا جائے گا انتقام ہوگا اور خون کا بدلہ خون ہوگا….”
بیڈ سے اٹهی تهی اور سرخ آنکهوں سے شیشے میں اپنے عکس کو دیکها تها اور بڑبڑائی تهی

اور پهر اسکے بعد وہ معارج سے ملنے لگی رہتی تو اپنے آپ میں تهی لیکن مطلب سے انکو منہ لگالیتی البتہ بلحہ سے کچھ خاص نہیں تهی پر عذوبہ سے کبهی ہنس کر بات کر لیتی وہ مختلف تهی
اور پهر وشما انکے کالے دهندهوں میں ملتی چلی گئی عذوبہ نے بہت روکا لیکن وہ نہ مانی پهر ایک دن معارج نے عذوبہ کو بہت مارا تو وہ گهر چهوڑ کر چلی گئی جس سے اسکو خاصا فرق نہ پڑا اور پهر اسکی ملاقات حارز سے ہوئی جس نے اسکو ہر بات کے جاننے کے باوجود قبول کیا

جبکہ وشما کے اندر بدلے کی آگ پل رہی تهی اسنے شہرام کو ڈرانے کیلیے بہت حملے کروائے پر وہ ہر دفعہ اتفاق سمجھ کر بهول جاتا پر وہ ناواقف تها اپنے سب سے قریبی دشمن سے
(ماضی تو ہوا ختم اب سب کلئیر کچھ رہ گیا ہو تو پوچھ سکتے ہیں کمنٹ میں کوئی بهی سوال)
………………………….
“معارج کا کچھ کرناہی ہوگا شہرام…..”
حارز نے اپنے سامنے بیٹهے شہرام سے کہا
“ہاں کیونکہ اب وہ حد پار کررہا ہے…..”
چائے بناتا مصطفی بولا
وہ تینوں اس وقت فلیٹ کے کچن میں موجود تهے وہ دونوں کرسیوں پر بیٹهے تهے جبکہ مصطفی چائے بنا رہا تها
“اور وشما…..؟”
شہرام کی طرف سے سوال ہوا
“یار کیا کہیں اب میرے دل کا ایک نہ ایک کونا وشما سے ہمدردی کرتا ہے….”
مصطفی چائے کپوں میں انڈیلتے ہوئے بولا

“وہ مجهے زمہ دار سمجهتی ہے…”
“کس چیز کا….؟”
“صائم بهائی کی موت کا……”
اسکی بات پر مصطفی نے اپنے ہاتھ روک کر پلٹ کر اسکو دیکها
“وہ ابهی بهی وہی ہے یہ گند ضرور معارج نے بهرا ہوگا لیکن کیسے یقین کرلیا اس نے….؟”
اسنے چائے اسکے اور حارز کے سامنے رکهتے ہوئے کہا
“معلوم نہیں کبهی واضع اظہار بهی تو نہیں کرتی دشمنی کا بس شادی کرنا چاہتی ہے وہ یہ سمجهتی ہے مجهے کچھ معلوم نہیں…..”
اسکی بات پر مصطفی سر ہلاتا کرسی پر بیٹها تها

“کیا ہم اسکا زہن صاف نہیں کرسکتے…..؟”
اب کہ حارز بولا تها
“وہ کسی چیز کا بتاتی بهی تو نہیں اور ہم کچھ نہیں کہ سکتے اسکو… جانتے ہو صائم بهائی کو تکلیف ہوگی…..”
مصطفی بولا تها تو وہ دونوں خاموش ہوتے چائے پینے لگے

“اوو شٹ…..”
مصطفی اپنے فون پر سیکرٹری کی کال آتا دیکھ جلدی سے اٹها تها
“کیا ہوا….؟”
وہ دونوں ہڑبڑائے
“بیغیرتو میری دو بجے کی میٹنگ تهی اور پانچ منٹ رہ گئے ہیں باتوں میں لگا دیا کمینو ابهی فون نہ آتا تو میں تو لیٹ تو ہو گیا ہوں مزید ہو جاتا……”
اپنی سیکرٹری کو دس منٹ تک کا آنے کا کہتا ساتھ ان سے بهی کہ رہا تها جو منہ کهولے اسکو دیکهنے لگے نہیں مطلب خود وہ باتوں میں لگا ہوا تها

“نہیں اب دیر نہیں ہورہی…..”
اسکو جلدی جلدی سے چائے پیتے دیکھ حارز بولا تها
“نہیں یار ہورہی ہے لیکن چائے تو نہیں نہ چهوڑ سکتا ہوں…..”
چائے کے دیوانے کو دیکھ دونوں نے نفی میں سر ہلایا کہ اس سے بحث مطلب دماغ خراب جو وہ نہیں کرنا چاہتے تهے
“میں جارہا ہوں اللہ حافظ….”
اپنا کوٹ اٹهاتا ان دونوں کو مارتا باہر نکل گیا جبکہ وہ دونوں جہاں سے ابهی گیا تها اس دروازے کو گهور کر رہ گئے
“کمینہ….”
شہرام بڑبڑاتا چائے پینے لگا
………………………….
“گل خان سامنے والی لڑکی دیکھ…..”
علی نے اپنے ساتھ کهڑئے گل خان سے کہا
“سوہنی ہے نہ….”
گل خان کی بجائے شہرام بولا تو علی نے پیچهے پلٹ کر دانت دیکهائے تهے
“وہ تو سر بس ایسے ہی کہ دیا….”
“ہاں تو میں نے کیا کہا ہے سہی تو کہا پیاری ہے بس واہیات ہے…..”
اسنے ایک ناگوار نظر اس لڑکی پر ڈالتے ہوئے اس سے کہا
“جی سر سوہنی ہے….”
“ہممم ہے بٹ واہیات ہے بیٹا ڈریسنگ دیکھ زرا اسکی ایسوں کے ہزاروں افئیرز ہوتے ہیں دور رہ اس سے…..”
اسنے سمجهایا تها گویا
“ارے سر میں کیا کرنا اسکا…..”
اسنے سر کهجاتے ہوئے کہا
“بیٹا تیرے لائق بهی نہیں کوئی اور ڈهونڈه ویسے بهی پچهلی والی سے سبق نہیں سیکها….”
اسنے فائل کو دیکهتے ہوئے کہا
“وہ تو سالی لوٹ گئی عزت….مم-میرا مطلب سر مجهے آئی مین میرے پیسوں کو…..”
وہ اپنے دهیان میں بولا پر شہرام کی گهوری پر بیچارہ گڑبڑا گئی
“کیا لوٹ گئی تجهے کنجوس الٹا بیچاری کو تجهے پیسے دینے پڑتے تهے اسکو….”
اسنے گهورتے ہوئے کہا
تو اس دفعہ گال خان اور حارز دونوں ہنسے تهے
“سر بس کردیں میں اتنا بهی فقیر نہیں….”
اسنے معصومیت سے کہا تو شہرام بهی ہنسا
“اچهاا علی مجهے بلحہ کی پوری پوری ریپورٹ چاہیے….”

“فکر ناٹ سر میری پوری پوری نظر ہے…”
اسنے تابعداری سے کہا
“ہاں لڑکیوں پر تیری ویسے بهی رہتی ہے…..”
اسنے پهر مزاق اڑیا علی ٹهرکی قسم کا تو نہ تها البتہ ہر خوبصورت لڑکی سے اسکو سچے والی(بقول علی) کے محبت ہو جاتی تهی اور ہمیشہ شہرام سے اسکے ساتھ شادی کی دعائیں لیتا جو ناکام جاتیں
………………………….