Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

“پریہان تمہیں آج یونیورسٹی نہیں جانا….؟”
اسکو سستی سے کهانا کهاتے دیکھ شازیہ بیگم نے پوچها
“نہیں…..”
وہ جب سے ٹیبل پر کهانا کهانے کیلیے بیٹهی تهی صرف اب بولی تهی وہ بهی ایک لفظ اسنے سعید صاحب کو دیکها تک نہ تها
“کیوں….؟”
مصطفی کی طرف سے پوچها گیا
“مجهے آج کہیں جانا ہے بهائی….”
“کہاں جانا ہے….؟”
اس دفعہ سعید صاحب بولے تهے تو اسنے ایک نظر انکو دیکها
“شہرام سے ملنے….”
یہ کہتی اٹه کر چلی گئی جب سب ٹهنڈہ آہ بهر کر رہ گئے تهے کیونکہ آج کل گهر کا ماحول حد سے زیادہ سنجیدہ تها
………………………….
“تو نے بلحہ کو کیوں چهوڑ دیا ہے….؟”
مصطفی حارز اور شہرام کی اس وقت کانفرنس کال کررہے تهے کہ مصطفی نے پوچها
“جو معلومات چاہیے تهی وہ دے چکی ہے مزید اسکو مہرے کے طور پر استعمال کریں گے مصطفی….”
اسنے سوینگ پول میں پهولوں کی پتیاں پهینکتے ہوئے کہا اسکا فون اسکی جیب میں تها جبکہ اسنے ہینڈ فری لگائی ہوئی تهی
“اچها ٹهیک ہے میں بعد میں کال کرتا ہوں بابا بلا رہے ہیں…..”
مصطفی کہتا کال کٹ کی تهی اور سیکرٹری کے ساتھ باہر نکل گیا
“ٹهیک ہے تو خیال رکھنا میں یہاں سب سنبهال لوں گا……”
حارز نے بهی کہ کر فون بند کیا تها
اور شہرام نے ایک نظر اپنی سجاوٹ کو دیکها تها ابهی اسکا کافی کام باقی تها لیکن ابهی گیارہ بجنے میں بهی کافی وقت تها سو یہ ہر کام آرام سے کرسکتا تها پر اسکو ایک اور گفٹ بهی تو لینے جانا تها اپنی جان کیلیے جسکے لیے اسکو کم از کم تیس منٹ تو درکار ہونے چاہیں تهے
………………………….
پریہان نہا کر باہر نکلی اور خود کو شیشے میں دیکها وہ اس وقت شہرام کی دی ہوئی لانگ فراک پلس چوڑی پچامے میں تهی بالوں کو تولیے سے رگڑتی پیچهے چهوڑئے تهے اور تیار ہونے کیلیے ڈریسنگ کے سامنے بیٹهی
اور شہرام کی دی ہوئی سرخ چوڑیا پہنے لگی پهر کاجل لگاتی ہلکے سے لپسٹک لگائی تهی بالوں کی الجهنے نکالتی دیکها تها کہ اب کیا کرئے لیکن وہ اس سمپل میں بهی غضب کی لگ رہی تهی
بالوں کو آگے سے رول کر کهلے چهوڑے تهے
پجر بلیک ہیل والی شوز گورے پاوں میں پہنتی کهڑئی ہوئی تهی پهر اسنے کندهے پر دوپٹہ سیٹ کیا اور شال اپنے اوپر اوڑنے کے بعد کمرئے سے باہر نکلی
تقریباً گیارہ بجنے میں پندرہ منٹ رہ گئے تهے گهر سے باہر نکلی جہاں ڈرائیور اسکا انتظار کررہا تها اسکو دیکهتے ہی ڈرائیور نے گیٹ کهولا تها جیسے ہی وہ بیٹهی ڈرائیور نے اپنی سیٹ سنبهالی اور پهر گاڑی اپنی منزل کی طرف گامزن کرلی
………………………….
پریہان وہاں پہنچی تو شہرام بلیک پینٹ شرٹ میں آنکهوں پر گوگلز لگائے سینے پر ہاتھ باندهے کهڑا تها اسکو دیکھ کر ہی اسنے سمائل پاس کی اور اسکے ہوش ربا سرابے میں کہیں گم سا ہوگیا
پریہان ڈرائیور کو واپس بهیجتی اسکے پاس آئی تهی پریہان اسکی نظروں سے کنفیوز ہورہی تهی جو کب سے اسکو گهورے جارہا تها

“شش-شہرام….”
اسنے اسکے بازو کو ہلایا تها تو وہ ہوش میں آیا
“باخدا آج بندے کی جان لینے کا ارادہ ہے…..”
اسنے دل پر ہاتھ رکهتے ہوئے کہا تو وہ کهلکهلائی
“چلو چلتے ہیں….”
اسنے جیپ کا دروازہ کهولا تها تو وہ بیٹهی
“اب میرے پاس تو جیپ ہی ہے….”
اسنے بیٹهتے ہوئے اس سے کہا
“خوش قسمتی ہے مجهے جیپ پسند ہے اس میں سفر کرنا…..”
اسکی بات پر ہنسا اور اسنے گاڑی سٹارٹ کی
“ہم کہاں جائیں گے….؟”
“لانگ ڈرائیو..لنچ..ڈنر…شاپنگ…اور ایک سرپرائز ہے…”
اسے پیار سے کہا تو وہ مسکرائی اور دونوں ہلکی پهلکی باتیں کرنے لگے پریہان کو تو ویسے بهی اسکی سنگت بہت پسند تهی آخر اسکا شوہر تها اور اب تو اسکو بےانتہا محبت تهی شہرام سے اور شہرام بهی تو دیوانہ تها اپنی پری کا اپنی کوئین کا..
………………………….
ایک دو گهنٹے گهومنے کے بعد شہرام نے جیپ ایک جگہ پر روکی تهی اور اسکی طرف مڑا
“کیا ہوا….؟”
اسنے اسکو اپنی طرف دیکهتا پاکر پوچها
“محبت…نہیں محبت نہیں عشق….”
شہرام محبت سے چور لہجے میں بولا تها تو اسکا دل زور سے دهڑکا اسکے لب پبڑپهڑائے تهے چادر سر سے ڈهلک چکی تهی تو شہرام نے آگے بڑھ کر اسکے ماتهے پر اپنے لب رکهے
اور سامنے پڑئی سرخ پٹی اٹهائی تهی اور اسکی آنکهوں پر باندهنے لگا

“یہ کیا کررہے ہیں شہرام….؟”
اسنے اسکے ہاتهوں پر ہاتھ رکهتے ہوئے کہا
“سرپرائز دینا ہے جان….”
اسکے کان میں سرگوشی کرتا پیچهے ہوا اور جیپ سٹارٹ کی
“شہرام راستے میں موجود لوگ کیا سوچیں گے….؟”
اسنے فکرمندی سے کہا
“یہی کہ لڑکی کتنی خوش قسمت ہے اور یہی کہ ناجانے ایسا کیا سرپرائز ہے…..”
اسکی بات پر وہ خاموش ہوگئی
“زیادہ دماغ پر زور نہ ڈالو یہ راستہ سنسان ہے…..”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا
اور پهر پانچ منٹ جیپ میں مکمل خاموشی رہی پهر جیپ ایک جگہ رکی اور دوسری طرف آکر پریہان کو اپنے بازووں میں اٹهایا تها

“شہرام…..”
وہ منمنائی تهی
“سویٹ ہارٹ یہاں ہیل والی جوتی سے گرجاو گی…..”
اور بنا اسکی سنے اندر کی جانب بڑها اور پهر اسکو نیچے اتارا اسکے سماعتوں سے خوبصورت ترین خوشبو ٹکرائی تهی
“میں اتاروں….”
اسنے پٹی کی طرف ہاتھ بڑجاتے ہوئے کہا
“ضرورت نہیں میں اتار دیتا ہوں….”
کہتے ساتھ پٹی اتاری تو پہلے تو اسکو سہی سے نظر نہ آیا پر جب نظر آیا اسکی آنکهیں پهٹی کی پهٹی رہ گئیں اسنے شہرام کی طرف دیکها جو مسکرا رہا تها

“یی-یہ میرے لیے…؟”
اسنے خوش ہوتے بےیقینی سے پوچها تو اسنے اثبات میں سر ہلایا تو خوش ہوتی منہ پر ہاته رکها تها اور سامنے دیکها
سامنے راہداری میں ریڈ اور وائٹ پهول کهلے ہوئے تهے اور اتنے پهول تهے نیچے زمین کا زرہ بهی نظر نہ آرہا تها
“بہت بہت بہت خوبصورت…..”
کہتی جهکی اور پهول اٹها کر اوپر اچهالے تهے پهر خود ہی کهلکهلا اٹهی
اور پهر جهک کر اپنی ہیل والی جوتی اتار کر نیچے رکهی اور پہلا قدم پهولوں پر رکها تو اسکو عجیب سا احساس ہوا اسکے چہرے سے مسکراہٹ ایک پل کیلیے غائب نہ ہوئی تهی
فراک اٹهاتے پهولوں کے اوپر شاہانہ انداز میں چل رہی تهی
پهر جهک کر اپنی مٹهیوں میں پهول اٹها کر اوپر پهینکے تهے کچھ اسکے اوپر گرئے تو کچھ تهوڑا فاصلے پر گرئے پهر خود ہی کهلکهلاتی گول گول گهومنے لگی
شہرام اس خوبصورت منظر میں کهو سا گیا تها اتنا خوبصورت منظر اسنے کبهی نہ دیکها تها نہ ہی پریہان کو اتنا خوش…وہ بس اسکو مسکراتا ہوا اس منظر کو انجوائے کررہا تها

“آو نہ شہرام…..”
اسنے تهوڑئے فاصلے پر کهڑئے شہرام سے کہا تو وہ مسکرایا اور جهک کر اپنی شوز بهی اتاری اور اسکی شوز بهی اٹها کر ایک سائیڈ پر رکهتا پهولوں کے اوپر قدم رکها تها اور چلتا چلتا اسکے پاس ایا
“تمہیں اچها لگا….؟”
اسکو کمر سے کهینچ کر قریب کرتا ہوا بولا
“بہت بہت بہت اتنا کہ بتا نہیں سکتی سب کچھ بہت خوبصورت ہے آئی لو یو شہرام….”
یہ کہتی اسکے سینے سے لگی تو اسنے بهی گهیرہ تنگ کیا
“اور تم ہر منظر سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو…..”
شہرام نے اپنے دل کا حال بیان کیا تو وہ چہرہ اٹهاتی ہنس دی اور جهک کر پهول اٹها کر اپنے اور اسکے اوپر پهینکے تو اس بار شہرام اور کهل کر مسکرایا
“چلو آو کچھ اور دیکهاتا ہوں…..”
کہتے ساتھ جهک کر اٹهایا تها اس بار اسنے بهی کوئی مزاحمت نہ کی اور اسکے گلے میں بازو ڈالتی اردگر دیکهنے لگی
کہ شہرام اسکو گهر کی بیک سائیڈ پر بنے پول کہ طرف لایا اور اسکو نیچے اتارا

“واو اوسم سین کمال واو شہرام بہت خوبصورت……”
اسنے خوش ہوتے ہوئے پول کو دیکها پورے پول میں وائٹ اور ریڈ روز تهے
“شہرام آپ بہت اچهے ہیں….”
اسکو سمجھ نہیں آرہا تها اسکا شکریہ کیسے ادا کرئے پورے گهر میں اندهیرہ تها جگہ جگہ بس موم بتیوں کی روشنی ہی تهی پورا گهر بند تها اسی لیے باہر سے کوئی روشنی اندر نہ آرہی تهی اسی لیے گهر میں رات سا سماع تها اگر کوئی اس گهر میں رہے تو اسکو معلوم ہی نہ ہو کہ صبح کب ہوئی اور رات کب

“تم خوش شہرام ملک بهی خوش…..”
اسکا چہرہ تهامتے ہوئے کہا تو وہ شرما کر چہرہ جهکا گئی
“ظلم ہے بیگم ایسی اداوں سے تو میں بہکوں گا جبکہ قسم سے میرا سوائے تمہیں سرپرائز دینے کے اور کوئی ارادہ نہیں تها….”
اسکی ناک کو لبوں سے چهوتے ہوئے اسنے کہا تو اسکا چہرہ شرم سے اور جهک گیا

“شش-شہرام کیا ہم اس پول میں پاوں رکه کر بیٹه سکتے ہیں….؟”
اسنے اپنے خواہش ظاہر کرنا چاہی
“ہمم سردی تو ہے پر خیر ہے چلو…..”
یہ کہتا ساتھ جهک کر اپنی پینٹ کو نیچے سے فولڈ کیا تها جبکہ پریہان نے بهی اپنا چوڑی پجامہ تهوڑا سا اونچا کیا البتہ تنگ تها زیادہ اونچا نا ہوا اور فراک سنبهالتی شہرام کے ساتھ پانی میں پاووں رکهے تهے

“شہرام آپکو وائٹ روز پسند ہیں نہ….؟”
اسنے جان بوجھ کر پوچها تها کیونکہ جانتی تجی وائٹ روز شہرام کو بہت پسند ہیں تبهی جب بهی اسکو روز دیتا تو وائٹ ہی دیتا تها
“ہاں بہت بہت زیادہ لیکن تم سے زیادہ نہیں….”
اسکے لہجے میں صرف اور صرف محبت تهی
“شہرام آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں……؟”
“اتنی محبت کرتا ہوں جتنی ہر سمندر کے کنارے پر ریت ہوتی ہے یا اس سے بهی کئی گنا زیادہ….”
“اپنی پولیس جاب سے بهی زیادہ….؟”
اب اسنے شرارت سے کہا تو وہ ہنسا
“ہاں میری جان تم واحد ہو جسکو میں اپنی پولیس جاب سے بهی زیادہ محبت کرتا ہوں….”
اسنے اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا
“اسی لیے اپنی جاب چهوڑنے کیلیے بهی تیار تهے…..”
اسکی بات کر اسنے کندهے اچکائے اور پهر ہنس دیا تو وہ بهی ہنس دی

پریہان کی نظر شہرام کے سرخ ہونٹوں ہر ٹهہری اور ٹهہر ہی گئی کیونکہ جتنی سیگرٹ شہرام پیتا تها اسکے ہونٹوں کو کالا ہونا چاہیے تها شہرام اپنے چہرے پر اسکی نظریں دیکھ اسکی طرف دیکها تو اسکی نظریں اپنے ہونٹوں پر دیکھ اسکے چہرے پر دلفریب تبسم پهیلا

“جان اتنے اچهے لگ رہے تو کس کر لو آئی پرومس غصہ نہیں کروں گا…..”
اسکی بات پر وہ ہوش میں آئی اور شرم سے چہرہ جهکا گئی
“ایسی بات نہیں ہے….”
“پهر کیسی بات ہے….؟”
“وہ دراصل آپ اتنی سیگرٹ پیتے ہیں آپ کے ہونٹ کالے کیوں نہیں….؟”
اسکا معصوم سا سوال شہرام کو شدید ترین گستاخی کیلیے اکسا رہا تها پر ضبط کرگیا
“مجهے کیا معلوم….”
اسنے کندهے اچکاتے ہوئے کہا تو پریہان اسکی لو دیتی نظروں سے بچنے کیلیے سر اسکے کندهے سے ٹکا لیا تو شہرام نے اسکے گرد حصار باندها

کچھ پل یوں ہی گزر گئے کہ شہرام کو یاد آیا اسنے راستے میں کہا تها اسکو بهوک لگی ہے
“چلو کوئین کهانا کهاتے ہیں…..”
اسکو پیچهے کرتا اٹها اور اسکی طرف ہاتھ بڑھایا
تو پریہان اسکا ہاتھ تهامتی اٹهی
“مجهے تو یاد ہی نہیں…”
یہ کہتی پهولوں پر اسکا ہاتھ تهامے چلنے لگی دونوں کے پیر گیلے ہونے کی وجہ سے پتیاں انکے پیروں کو لگ رہی تهیں
شہرام اسکا ہاتھ تهامتا ایک خوبصورت ٹیبل کے پاس رکا اور کرسی کهینچ کر اسکو بیٹهنے کا اشارہ کیا اور اسکے لیے کهانا نکالنے لگا پریہان نے اسکو روکنا چاہا پر اسنے اسکو گهور کر خود ہی روک دیا اور پهر دونوں کهانا کهانے لگے

“کهانا کهانے کے بعد تمہیں میں گانا سناوں گا…..”
اسنے کهانا کهانے کے دوران ہی کہا
“سچی…”
وہ پرجوش آواز میں بولی کیونکہ شہرام کی آواز بہت اچهی تهی وہ اکثر اسکو گانا گانے کیلیے کہتی لیکن وہ ٹال دیتا اور اسکی آواز کا مزاک بناتا جو بولنے میں اچهی تهی گانے میں بلکل بےسری تهی پر پریہان کو پرواہ ہی کب تهی
“مچی….”
اسی کے انداز میں کہتا کهانا کهانے لگا
………………………….
پریہان اکیلی بیٹهی اردگرد کا اب مکمل طور پر جائزہ کے رہی تهی اسکو یاد آیا یہ وہی فلیٹ ہے جہاں حارز کو اس سے تهپڑ پڑا تها تو یاد کرتی ہنس دی
شہرام کہنے کے مطابق اندر روم سے گٹار لینے گیا تها
“لو جان میں آگیا….”
کہتے ساتھ اپنی کرسی اسکے پاس گهیسٹی اور پاس ہوکر بیٹها اور گٹار کو گود میں رکها
تو وہ تهوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکائے اسکو دیکهنے لگی
“ایسے دیکهو گی تو گانا نہیں بالکہ آہم کا ارادہ ہورہا ہے….”
اسنے آنکھ دباتے ہوئے کہا تو اسنے گهورا
“آہممم آہممم…..”
شہرام اپنے گلے کو صاف کرنے لگا اور گٹار بجانا شروع کیا کوئی نہیں کہ سکتا اسنے لاسٹ ٹائم سعود صاحب کے انتقال سے پہلے بجایا تها
شہرام کے ہاتھ تیزی سے گٹار پر چل رہے تهے اور پریہان اسکے سحر میں گم ہورہی تهی

“بس آج حقیقی کردے تو..
جو میرے دل کے خواب ہیں..
تیرے جسم کو اپنا کر بیٹها..
تیری سانس میں میری سانس ہے..”

شہرام اتنا کہ کر رکا تها اور پریہان کے سرخ چہرے کو دیکها جو اسکے بولے گئے الفاظوں کا مطلب سمجهتی سرخ ہوچکی تهی اسکا دل زور زور سے دهڑک رہا تها

“بس آج حقیقی کردے تو..
جو میرے دل کے خواب ہیں..
تیرے جسم کو اپنا کر بیٹها..
تیری سانس میں میری سانس ہے..
مدہوش مجهے کردے..
مجھ میں تو پیار بهر دے..
جنت سی اپنے ساتھ ہے جو ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہے
آج تیرا میرا ساتھ ہے
ہر لمحہ اپنے پاس ہے”
(فیورٹ سونگ)

گانا گنگنا رہا تها کہ پریہان اٹه کر جانے لگی کہ شہرام نے اسکا ہاتھ تهاما تها اور گٹار کو ٹیبل پر رکهتا خود بهی اٹها تها پریہان کا کانپتا اور ٹهنڈہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں محسوس کرتا مسکرایا تها اور اسکا ہاتھ چهوڑا تها

“پریہان پیچهے دیکهو….”
اسکے پکارنے پر بهی وہ نہ پلٹی
“جان دیکهو نہ…”
اسنے مزید پیار سے کہا تو وہ دل تهامتی پیچهے پلٹی تو شہرام کو گهٹنوں کے بل بیٹها دیکھ اب اسکی سانس رک رہی تهی
“شش-شہرام…..”
اسکے پکارنے پر شہرام نے پیچهے موجود ہاتھ سامنے کیا تها اور اس مخملی ڈبیا کو کهول کر اسکے سامنے کیا تو پریہان پوری آنکهیں کهولے اسکو دیکهنے لگی
کیونکہ وہ ڈبیا پهولوں سے بهری ہوئی تهی اور اوپر ایک نگ والی خوبصورت اور قیمتی انگوٹهی پڑئی تهی
“واو….”
اسنے منہ سے بےساختہ نکلا تو شہرام نے اپنا ہاتھ آگے بڑهایا اسنے پہلے اسکے بڑهے ہاتھ اور پهر اسکی طرف دیکها تو اسنے اثبات میں سر ہلایا تو اسنے نم آنکهوں سے اسکے ہاتھ میں اپنا بائیاں ہاتھ رکها تها شہرام نے بہت پیار سے اسکی تیسری انگلی میں انگوٹهی پہنائی تهی اور اسکو بڑئے استحاق سے چوما
اور کهڑئے ہو کر اسکی آنکهوں سے بہنے والے آنسووں صاف کیے

“یہ آنسووں…؟”
اسنے اسکی نم آنکهوں میں دیکهتے ہوئے کہا
“یہ تو ایسے ہی نکل رہے ہیں میں روکنا چاہتی ہوں پر نہیں رک رہے شاید میری خوش قسمتی پر رشک کررہے ہیں….”
وہ بهی بنا پلک چهپکائے اسکو دیکهتے ہوئے بولی
“بیوی ہو میری تم اور میرا عشق میرا بس چلے دن رات تمہیں ایسے سرپرائز دیتا رہوں پر وہ کیا ہے نہ میرا دل بےقابو ہوجاتا ہے جسکو روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے…”
اسنے اسکی بار باری دونوں گا چومتے ہوئے کہا تو وہ کهلکهلائی
اور پهر دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ تهامے ان پهولوں پر چلنے لگے
وہ لوگ صبح لانگ ڈرائیونگ کے بعد ایک یا دو بجے یہاں ائے تهے اب انکو چار بج چکے تهے یہاں کہ شہرام بولا
“چلیں اب….”
اسکی آواز پر اسکی طرف دیکها اور اثبات میں سر ہلایا اور پهر دوسری طرف قدم بڑهائے شہرام نے بہت پیار سے اسکو شوز پہنائے اور پهر خود بهی پہنے پهر اسکو شال دی جو پریہان نے اچهے سے اپنے اوپر اوڑهی تهی اور دونوں گهر سے باہر نکلے تهے
………………………….
“کتنا مزہ آیا نہ…..”
اسکی بات پر ڈرائیونگ کرتے شہرام نے اسکی طرف دیکها
“ہاں نہ بہت….”
اسنے پیار سے کہا تو اسنے نظریں سامنے سٹرک پر مرکوز کیں تهی
“ہم کب تک جائیں گے….؟”
“میری چاچو سے بات ہوگئی ہے تم فکر نہیں کرو…..”
“آپ کب تک گهر آئیں گے….؟”
اسنے اداسی سے کہا
“معلوم نہیں….”
شہرام نے کہا
“آپ بےقصور تهی ساری وشما آپی کی غلطی تهی…..”
اسنے نم انکهوں سے اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا
“شش اسکے لیے رونے کی ضرورت نہیں اور میرا موڈ بہت اچها ہے اسکا زکر کرنے کی ضرورت نہیں میں اتنا بیسٹ ڈے ایسے خراب نہیں کرنا چاہتا…..”
اسکی بات پر وہ خاموش ہوگیا

ابهی پانچ منٹ ہی گزرے تهے ایک دم سے گولی چلی تهی اور انکی جیپ کا ٹائر پهٹا تها پریہان کی چینخ نکلی جبکہ شہرام نے گاڑی سنبهالنا چاہی بہت مشکل سے گاڑی سنبهلی
“پریہان جهکو….”
ابهی اتنا کہ کر جهکے تهے کہ گولیوں کی گولا باری شروع ہوگئی پریہان بند آواز سے رونے لگی
شہرام نے اسکو چپ رہنے کا اشارہ کہا اور دو گنز نکالیں کچھ ہی دیر میں گولیوں کے چلنے کی آوازیں بند ہوگئیں تهی

“شہرام یہ کک-کون ہیں….؟”
اسنے آہستہ آواز میں پوچها
“شش فکر مت کرو اللہ کے بعد مجھ پر بهروسا رکهو….”
کہتا تهوڑا سا سر اٹها کر دیکها تها اسکی جیپ کا شیشہ چکنا چور ہوگیا تها شکر ہے انکے اوپر نہیں گرا البتہ دور دور تک شیشے کے ٹکڑے بکهرئے ہوئے تهے
“پریہان جیسا کہوں گا ویسا کرنا ابهی خاموش رہنا میری جان کچھ بهی ہوجائے بس ایک بات یاد رکهنا شہرام تم سے بےپناہ عشق کرتا ہے جب تک خود نہیں مرجاتا تمہیں نقصان نہیں پہچے گا….”
اسکے ماتهے پر مہر لگاتا تهوڑا سا اور اوپر ہوا اور اسکے منہ پر ہاتھ رکها کیونکہ وہ گولی چلانے والا تها اور اسنے چینخنا تها

شہرام نے اٹهتے ہوئے بنا موقع دییے دو گولیاں چلائی تهیں جو انکی جیپ کی طرف آتے دونوں لوگوں کو زمین بوس کرچکی تهی
“پریہان آدمی زیادہ ہیں اور میرے پاس ایک گن میں چار گولیاں ہیں زندگی کا کوئی بهروسا نہیں لیکن تمہیں نکلنا ہے ہمت نہیں ہارنی تم یہاں سے جاو گی میں سنبهال لوں گا سب…..”
“میں آپکو چهوڑ کر نہیں آہہہہہہ….”
اسکا فقرہ منہ میں ہی رہ گیا جب انکی گالی پر گولی چلی اور وہ چلائی شہرام نے اسکا اور اپنا سر مزید جهکایا تها ایک بار پهر گولیوں کی بارش کردی تهی لیکن جو بهی تها وہ انکو ایسے مارنے کا ارادہ نہیں رکهتا تها اسی لیے آدهے سے زیادہ گولیاں زمین پر لگ رہی تهیں

“ایس پی باہر آجاو ہم سیدهے سیدهے بات کرتے ہیں….”
ایک شخص کی آواز گونجی
“میں باہر جارہا ہوں تم باہر مت نکلنا….”
“نہیں میں اپکے ساتھ رہوں گی اکهٹے جئیں گے تو اگر موت قسمت میں ہے اکهٹے ہی مریں گے…..”
اسنے روتے ہوئے کہا تو اسکے اسرار کے باوجود وہ نہ مانی جب باہر سے دوبارہ آواز گونجی
“ایس پی کیا سنائی نہیں دیا….”
اسکی بات پر بےبسی سے اسکی طرف دیکها اور پهر مجبوراً اسکو بهی اپنے ساتھ باہر نکلنے کی اجازت دی
دونوں باہر نکلے تو سامنے تقریباً بیس لوگ تهے اور چار گولیاں تهیں اسکی گن میں

“ایس پی میں جانتا ہوں تیرا دماغ اس وقت چیتے کی رفتار سے چل رہا ہے لیکن تو مکمل طور پر ہمارے گهیرے میں ہے بهاگنے کا کوئی چانس نہیں…….”
اسکی بات پر شہرام اس سیریس کنڈیشن میں بهی مسکرایا
“اور تو جانتا ہے ہمیں کس نے بهیجا ہے اس لیے بنا مزاحمت کے خود کو ہمارے حوالے کردے معارج کو تو زندہ چاہیے اور تیری یہ خوبصورت بیوی بهی…..”
اسنے شہرام کے پیچهے کهڑئی پریہان کی طرف بهی خباثت سے دیکهتے ہوئے کہا تو شہرام کی آنکهیں غصے سے لہو زد ہوئیں تهی
“تجهے کیا لگتا ہے میں مزاحمت کروں گا…….؟”
شہرام اسکو باتوں میں لگانا چاہتا تها ساتھ بنا اسکی نظروں میں ائے بهاگنے کی ترقیب سوچ رہا تها

“ہاں تو کرے گا ایس پی لیکن مارا جائے گا ویسے تو تو معارج کو زندہ چاہیے لیکن اسنے کہا تها اگر تونے کوئی مزاحمت کی تو بےشک تجهے ٹپکا دیں لیکن تیری بیوی معارج کو اپنے بستر پر بالکل سہی سلامت چاہیے…..”
اسکی بات پر جہاں پریہان نے اسکی شرٹ کو مٹهیوں میں کس کر جکڑا تها وہی شہرام کا دماغ گهوما تها
“تیری اتنی ہمت خبیث کی اولاد میں تجهے زندہ گاڑ دوں گا اگر تو نے اسکو ہاتھ لگانے کا سوچا بهی تو…..”
شہرام بهڑکا تها اور چلایا تها ایک پل کیلیے تو وہ شخص سہم سا گیا تها پر پهر جلدی خود کو سنبهالا اور دو شخص کو آگے جانے کا اشارہ کیا
شہرام قائم ہو کر کهڑا ہوا تها
وہ دونوں شخص جیسے ہی اسکے پاس پہنچے اور ایک نے ہاتھ بڑھایا شہرام نے اسکا بڑها ہوا ہاتھ تهاما اور اسکو مڑوڑ کر اسکی کمر سے لگایا تها جبکہ دوسرے ہاتھ سے گن دوسرے شخص کے دماغ پر چلائی تهی جس سے وہ موقع پر گرگیا جبکہ اس پہلے شخص کو تین چار مکے مارے تهے وہ وہی نڈهال ہو کر گرگیا

“ایس پی اگر ایک اور آدمی کا خود بہایا تو ان سب کی بندوق میں موجود گولیاں تیرے سینے پر پیوست کردوں گا…..”
وہ خود ڈر کر ایک قدم پیچهے ہوا تها اور چلایا تها جبکہ شہرام طنزیہ ہنسا
“ہمت ہے تو خود آ…..”
“پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں خود آوں یعنی خود کی موت کو آواز دوں….”
وہ تو شر تها یہ شخص حوصلے میں تها کہ سبکے پاس گنز ہیں ورنہ وہ شہرام سے کافی ڈر رہا تها
“تو ڈر رہا ہے مجھ سے ہاہاہاہا آجا خود آکر مجهے لےجا….”
شہرام نے قہقہ لگایا تها

“اے ایس پی موت تیرے سامنے ہے تو ہنس رہا ہے…..”
اسکی روح ویسے ہی فنا ہورہی تهی
“چچچچ معارج نے اپنے جیسے ڈرپوک آدمی ہی پالے ہوئے ہیں…..”
اسنے افسوس سے کہا تو اس شخص نے پانچ آدمیوں کو آگے جانے کا اشارہ کیا
انکو آتا دیکھ شہرام کو اب فیصلہ کرنا تها کیا کرنا ہے کیونکہ گولیاں تین تهیں
آگے بهی دشمن پیچهے بهی دشمن اور اردگرد جنگل اور اسنے جنگل کو چنا تها

“پری میں جب کہوں گا تمہیں جنگل کی طرف بهاگنا ہے….”
اسنے گردن پیچهے کو کرتے ہوئے کہا
“مم-میں آپکے ساتھ جج-جاوں گی….”
“میری جان فکر نہیں کرو اپنے ساتھ لیکر جاوں گا…..”
اسکو پیار سے کہا

اور سامنے دیکها ان پانچوں میں سے ایک آگے بڑها جسکو شہرام نے مکا مارا تها ایک دو پهر تین اسکو مارنے کے بعد شہرام پیچهے ہٹا کے اسکے چہرے پر مکا مارا تها کسی شخص نے شہرام کو کچھ نہیں ہوا تها البتہ پریہان چینخی تهی

شہرام انے اسکے منہ پر دو مکے رسید کیے تهے ایک تو اسکی گن نیچے گر گئی تهی اور انکے ساتھ بهیڑ رہا تها کہ ایک شخص نے پریہان کی طرف قدم بڑهائے شہرام نے پهرتی سے نیچے جهک کر گن اٹهائی اور سامنے موجود چاروں مین سے دو کو گولی مارنے کے بعد ایک کے سر میں ماری اور جلدی سے پیچهے پریہان کی طرف مڑا اور اسکی طرف جاتے شخص کو گولی ماری تهی اور روتی پریہان کا ہاتھ پکڑا تها

“شہرام…..”
پریہان شہرام کے پیچهے آتے شخص کے ہاتھ میں خنجر دیکهتے ہوئے چینخی اسکی چینخ پر شہرام مڑ کر اسکے ہاتھ سے خنجر پکڑنے لگا لیکن تب تک اس شخص نے اسکے سینے پر خنجر کسی لکیر کی مانند پهیرہ تها پریہان پهر سے چینخی تهی
اس سے پہلے وہ شہرام کو خنجر کهنپتا شہرام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکی طرف موڑا تها اور دل کے مقام پر خنجر مارا تها جس سے وہ شخص بهی ڈهیر ہو گیا
شہرام نے شرٹ اتاری تهی اور اپنے زخم پر باندهی تهی اسکی وائٹ بنیان خون سے رنگ چکی تجی اسکا خون پہلے بهی بہت ضائع ہوچکا تها اب اسکو مزید ضائع ہونے سے روکنا تها تو اسنے شرٹ باندهی

“پریہان بهاگنے کا وقت آگیا ہے بنا پیچهے دیکهے میرا ہاتھ تهامے بهاگنا ہے تمہیں….”
اسنے اپنے درد کو اگنور کرتے ہوئے کہا
“لیکن آپکا زخم….”
اسنے روتے ہوئے کہا
اتنا وقت نہیں تها وہ اسکو جواب دیتا سو مضبوطی سے اسکا ہاتھ تهامتا جنگل کی طرف بهاگا تها

“پکڑو ان سب کو بهاگنے نہ پائیں معارج چهوڑئے گا نہیں ہمیں….”
وہ شخص چلایا تها سب انکے پیچهے بهاگے تهے
“پهیل جاو سب…..”
اس شخص کی آواز شہرام کو سنائی دی تو دلکشی سے مسکرایا کیونکہ وہ انکو بکهیر چکا تها اٹس مین وہ انکا کام تمام کرسکتا تها لیکن وہ فلحال بهاگنا چاہتا تها کیونکہ پریہان کہ زندگی کیلیے وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تها اسنے شرٹ کو کس کر باندها تها تاکہ بهاگنے سے خون نہ نکلے لیکن پهر بهی خود اسکی کالی شرٹ کو بهیگو چکا تها درد بهی شدت اختیار کررہی تهی

شہرام ایک جگہ پر رکا تها اور اپنی شرٹ کو دیکها
“شہرام آپ….”
وہ روتے ہوئے اتنا ہی بول سکی جب شہرام نے اتنے درد میں بهی اسکو مسکرا کر دیکها تها
“کوئین میری جان پریشان ہونے کی ضرورت نہیں…..”
“لیکن بهاگنے سے اپکو درد ہورہا ہوگا….؟”
اسنے پریشانی سے کہا
“ہاں ہو رہا یے ویسے ایک حل ہے میرے پاس…..”
اسنے اردگرد دیکهتے ہوئے کہا
“کیا…..؟”
“وہ یہ جب ہم اب بهاگیں گے تم مجھ سے رومینٹک باتیں کرتا…..”
اسنے آنکھ دباتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ حیرت سے اسکو دیکهنے لگے جو اب اسکا ہاتھ تهامے دوبارہ بهاگنے کی تیاری میں تها کیونکہ کچھ لوگوں کی آوازیں نزدیک سے آرہی تهیں

“دیکهو اس سالے کو ادهر ہوگا کہیں….”
اسکی جان پر بن گئی تهی اگر ہاتھ نہ آتا تو معارج زندہ نہ چهوڑتا…..

شہرام مسلسل پیچهے دیکھ کر بهاگ رہا تها آگے پهسلن والی جگہ تهی اب دونوں کو احتیاط سے اترنا تها اگر گر جاتے تو ضرور انکو کافی چوٹیں آجاتی
شہرام نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تهاما تها
“کچھ بهی ہو ہاتھ مت چهوڑنا…..”
“وہ رہے دونوں….”

پیچهے سے آواز آنے پر دونوں پلٹے اور آگے بڑهنے لگے کہ پیر نہ سنبهل سکے اور دونوں نیچے گرئے وہ اس وقت ڈهلوان والی جگہ سے جہاں سے گرئے تهے وہ دونوں گھسیٹتے ہو نیچے جارہے تهے جبکہ پریہان کی چیخیں عروج پر تهیں شہرام نے اسکو سینے میں بهینچا ہوا تها اسکا زخم بری طرح سے نیچے گهسیٹنے سے درد ہورہا تها پر اسکو پریہان کو مزید چوٹیں لگنے سے بچانا تها

دو منٹ بعد وہ دونوں برابر والی جگہ پر رکے تهے اور زمین پر لیٹے تیز تیز سانس لے رہے تهے
“پریہان کیا تم ٹهیک ہو….؟”
اپنے درد کو بهولے اٹه کر وہ اسکو دیکهنے لگا وہ بهی اٹهی تهی
گهسیٹتے ہوئے گرتے انکے انجر پنجر ہل کر رہ گے تهے
“ہاں….”
اسکے جواب پر اسنے اسکے کندهے کو دیکها جہاں سے اسکی فراک پهٹ گئی تهی اسکے ہاتهوں پر کافی رگڑیں آئیں تهی

“مجهے معاف کردو یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے…..”
اسکے کندهے پر ہونٹ رکهتے ہوئے اسنے کہا تو وہ آنسووں بهری آنکهوں سے اسکو دیکها اور اسکے سینے پر اپنے ہونٹ رکهے
“آپ کے ساتھ ہر زخم منظور ہے…”
اسکی جواب پر اسنے اسکے چہرے کو دیوانہ وار چوما تها
“رکنا نہیں چاہیے ہمیں انہیں معلوم ہیں ہم یہی ہونگے وہ اگر رہے ہونگے ڈهلوان سے بےشک آرام سے لیکن وہ جلد پہنچ جائیں گے….”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا اور اٹهی تهی اسکے پیروں پر بهی چوٹ آئی تهی بهاگنے سے کیونکہ شوز تو وہ گاڑی میں ہی اتار چکی تهی

“کیا بهاگ لو گی…؟”
“ہاں شہرام چلیں….”
اسکے جواب پر دونوں پهر سے بهاگنے لگے کیونکہ اب یہاں سے وہ لوگ ڈهلوان اترتے ہوئے نظر ارہے تهے
“آہہہہ…..”
پریہان رکی تهی
“کیا ہوا…؟”
اسکو پتهر پر بیٹها کر پوچها
“میرا پیر….”
اسنے پیر آگے کیا جہاں اتنے زخموں کے ساتھ کانٹا چبها تها شہرام نے وہ کانٹا نکالنا چاہا لیکن اسنے پیر پیچهے کرلیا
“یار نکلوا لو ورنہ درد ہوگا…..”
کہتے ساتھ اسکے پاس بیٹها اسنے نفی میں سر ہلایا تو بنا اسکی مزاحمت کو خاطر میں لائے اسنے کانٹا نکالا تو اسکی چینخ لگی
“وہ ادهر سے آئی ہے چینخ….”
دونوں کی سماعتوں سے یہ آواز ٹکرائی تهی
“چلو بهاگنا ہوگا….”
“نہیں بهاگا جائے گا…..”
تهوڑا سا بهاگنے کے بعد وہ رکی تهی
“بهاگو جب تک بهاگا جائے میری جان پر ایک بات یاد رکهنا میرا ہاتھ مت چهوڑنا…..”
اسکے ساتھ آہستہ آہستہ بهاگتے ہوئے بولا

“وہ رہے دونوں…..”
آواز پر دونوں پلٹے وہ ان سے کچھ ہی فاصلے پر تهے وہ تقریباً دس لوگ تهے
“رن فاسٹ…..”
وہ دونوں تیز بهاگنے لگے لیکن بار بار مڑ کر دیکهنے لگے
یہ دیکهے بنا کہ سامنے ایک گہری کهائی آرہی ہے
اور پهر دونوں بنا آگے دیکهتے بهاگتے جارہے تهے جب انکے پیر کے نیچے سے زمین ختم ہوئی تهی اور اس دفعہ اکیلی پریہان نہیں بلکہ دونوں کی چینخ گونجی تهی
………………………….