Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

……تین روز بعد……..

احتشام اور شہرام کی گاڑئی آگے پیچهے گراج میں آکر روکی اور دونوں گاڑیوں سے سب باہر نکلے
“آپکو کیا لگتا ہے بابا اور بڑئے ابو کا کیا ریکشن ہوگا….؟”
احتشام نے پرشانی سے سبکو پوچها تو سب نے اسکی طرف دیکها
“ہمم معلوم نہیں ہاں البتہ میں نے سبکو گهر میں اطلاع دے دی ہے سب ہمارے استقبال میں لاونچ میں ہی کهڑئے ہونگے….”
رامز نے مسکرا کر کہا تو سب نے مسکراہٹ دبائی سوائے احتشام اور میرب کے میرب تو کنفیوز تهی البتہ احتشام کی شکل رونے والی ہوگئی تهی
“رامز بهائی….”
احتشام نے پکارا تو وہ چلتے چلتے ہی پیچهے مڑ کر سوالیہ نظروں سے دیکها
“تو کیا میں کلمہ پڑھ لوں….؟”
اسکی بات پر سبکے قہقے گونجے اور لاونچ میں داخل ہوئے رامز کے کہے کے مطابق سب بڑئے وہی تهے اور انکو اندر آتا دیکھ ان چاروں نے ایک تگڑئی گهوری سے نوازا تها

“آوو برخودارو تم لوگوں کا ہی انتظار تها….”
سعید صاحب نے طنز کیا
“ادهر آو نہ زرا تم….”
انہوں نے احتشام کو اشارہ کیا تو وہ کڑوا گهونٹ بهرتا آگے گیا اسکے جاتے ہی میرب پریہان کا ہاتھ پکڑ کر اسکے تهوڑا پیچهے ہوئی
“احتشام سعید صاحب سے کچھ فاصلے پر کهڑا ہوا تها
“اتنے بڑئے کب سے ہوگئے جو ایسا فیصلہ کرنے لگے ہاں..اور رامز مصطفی شہرام تم تینوں بچے نہیں تهے جو میری بچیوں کو بهی ساتھ لے گئے اور اس کم عقل انسان کا ساتھ دیا…..”
وہ سب پر گرج رہے تهے سب خاموشی سے کهڑئے تهے
“بڑئے ابو وہ آہہہ….”
وہ جو کچھ مزید بولتا اپنا کان سعید صاحب کی گرفت میں دیکهتا کراہ گیا اور بات بیچ میں ہی رہ گئی
“کیا وہ ہاں کیا وہ….؟”
انہوں نے گهورتے ہوئے کہا تو پریہان نے ٹهنڈی آہ بهری کے اسکو ہی اب کچھ کرنا ہوگا پهر اپنے پیچهے کهڑئی میرب کو دیکھ اسکے ہونٹ مسکرائے

“ارے بڑئے ابو اس سے تو ملیے….”
اسنے میرب کا ہاتھ پکڑ کر سامنے کرتے ہوئے کہا تو وہ گڑبڑا گئی اور سعید صاحب اسکا کان چهوڑ کر میرب کی طرف آئے
“ماشاءاللہ تو آپ ہیں ہماری بہو رانی….”
لہجے میں نرمی دیکھ میرب کو تهوڑا حوصلہ ہوا اور اثبات میں سر ہلایا

“ماشاءاللہ ہیرہ ہو اور تمہیں بیٹا اس الو کے پٹهے میں کیا نظر آیا جو اس سے شادی کی….”
سعید صاحب کی بات کر سبکے قہقے گونجے احتشام نے رونی شکل بنا کر اپنے باپ کو دیکها جو وہ بهی ہنس رہے تهے
“بابا آپ ہنس رہے ہیں گالی آپکو ہی گئی ہے….”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا تو انہوں نے گهورا
“منہ بند رکهو اپنا….”
انہوں نے ٹوکا تو وہ سعید صاحب کی طرف متوجہ ہوا
“بیٹا ہمیں رامز نے بتایا تمہارے بابا کا ہمیں بہت افسوس ہوا اللہ انکی مغفرت فرمائے اور جنت میں اونچا مقام عطا فرمائیں آمین….”
سب نے یک زبان کہا تها تو میرب نے آنکهوں میں آئی نمی کو پیچهے دهکیلا تها
“ارے رونا نہیں فکر نہیں کرو بچے ہم ہیں نہ سب آپکے اپنے یہ آپکے بہن بهائی ہم ماں باپ اور یہ کم عقل برخودار آپکے شوہر نامدار. …”
آخر میں انہوں نے احتشام کو طنز کیا تو وہ بیچارہ اپنا سا منہ کے کر رہ گیا
“چلو بچے آپ پریہان کے کمرے میں آرام کرو تب تک آپکا روم راشدہ سے کہ خر صاف کروا دیتا ہوں آپ رات کے کهانے پر سب سے تسلی سے مل لیجئیے گا…..”
حماد صاحب کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“ماشا بہت پیاری بچی ہے میری بہو….”
شازیہ بیگم نے اسکا ماتها چومتے ہوئے کہا تو سعدیہ بیگم نے بهی اسکا ماتها چوما اور پهر پریہان اسکو اپنے کمرے میں لے گئی جبکے باقیوں نے بهی اپنے اپنے کمروں کی راہ لی تهی
………………………….
وشما اج پهر اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹهی ایک ایلبم گود میں رکهے بیٹهی تهی
اسنے صفحہ پلٹا تو پیچهلے صفحوں کہ طرح اس پر بهی اسکے بےشمار آنسووں نکلے تهے
یہ اسکی منگنی کی پک تهی جس میں اسکے ایک طرف مصطفی تو دوسری طرف شہرام کهڑئے ہنس رہے تهے اور یہ گهور رہی تهی

“مصطفی شہرام….”
اسنے اپنے دونوں ہاتهوں سے انکی پکس کو چهوا تها اور پهر جلدی سے صفحہ پلٹا اور اسکے رونے میں روانگی آئی اس میں صائم اور وشما کی منگنی کی پک تهی دونوں کسی بات پر ہنس رہے تهے

“صائم آئی کو یو صائم میں اپکو بہت یاد کرتی ہوں کیوں مجهے تنہا چهوڑ گئے آپکے بنا آپکی وشما ادهوری ہے صائم مجهے بهی ساتھ لیجاتے……”
وہ روتے ہوئے اسکی پک کو دیکھ کر بول رہی تهی
“آپکا بدلہ لینا صائم مجھ پر فرض ہے آپکے قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچانا ہی میری زندگی کا مقصد ہے شہرام کا سب کچھ چهین لوں گی میں سب کچھ. …”
اسنے اسکی پک پر کس کرتے ہوئے کہا

“جیسے شہرام نے آپکو مجھ سے چهین لیا اس طرح میں اس سے ہر وہ چیز چهین لوں گی جسکو وہ سب سے زیادہ پسند کرتا ہے اس سے ہر چیز چهین لوں گی اسکو تڑپا تڑپا کر ماروں گی میں صائم آپکے بهائی کو زندہ نہیں چهوڑوں گی……”
وہ روتے ہوئے مسلسل بول رہی تهی اسکے لہجے سے شہرام کیلیے نفرت ٹپک رہی تهی

“آپ جانتے ہیں صائم میرے لیے اس سے خوشی کی اور کیا بات تهی کہ میری پریہان شہرام کے مقدر میں ہو لیکن میرا بدلہ میری آنکهوں کے سامنے اجاتا کے جس وجہ سے مجهے اسکی خوشی زہر لگتی یے اسکو پهنسانے کیلیے میں نے کیا کچھ نہ کیا لیکن وہ میرے ہاتھ نہ آیا لیکن وہ بہت جلد اپنے پیاروں کے لیے تڑپے گا جیسے میں صرف اپ کے لیے پل پل تڑپتی ہوں…..”
ایلبم بند کرتی سینے سے لگایا تها اور ویسے ہی روتی روتی اوندهے منہ لیٹ گئی تهی اب کتنی ہی یادیں اسکی اور صائم کی اسکے آنکهوں کے سامنے گهوم رہی تهیں اور اسکو شہرام سے شدید نفرت ہورہی تهی
………………………….
…ماضی…
سب پروان چڑھ گئے تهے وشما البتہ انکے ساتھ بہت اٹیچ ہوگئی تهی اسکو اپنی ماں کی کمی رزا محسوس نہیں ہورہی تهی
“وشما…..”
وشما جو مصطفی سے لیپ ٹاپ لینے جارہی تهی اسکی اواز پر مسکرائی لیکن مسکراہٹ چهپاتی فوراً پلٹی
“جی….”
“بات سنو کچھ بات کرنی کے….”
اسنے سر کهجاتے ہوئے کہا وشنا نے محسوس کیا آج نیلی آنکهیں الگ پیغام دے رہی ہیں
“جی میں سن رہی ہوں…”
اسنے گهبرا کر کہا تو صائم نے اردگرد دیکها پهر اسکا ہاتھ پکڑتا اپنے کمرئے میں لےگیا اور دروازہ بند کرکے اسکی طرف پلٹا وشما کو تنہائی میں اس سے خوف نہ آیا تها کیونکہ وہ جانتی تهی وہ اسکے لیے پاک جزبے رکهتا ہے اسنے آج تک اسکی نظروں میں خود کیلیے حوس نہ دیکهی تهی

“وہ بات کیا گهماو پهراوں مطلب وہ آئی لو یو….”
پیچهے سے پهول نکال کر اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا تو اسکی ہارٹ بیٹ تیز ہوئی اور اسکو اور پهول کو دیکھ کر چہرہ جهکا کر اپنا نچلا ہونٹ کچلا
“لو نہ یار….”
اسکی بات ہر اسنے کانپتے ہاتهوں سے پهول پکڑا
“میں نے بابا سے بات کرلی ہے وہ سعود ابو سے ہماری بات کریں جانتا ہوں تمہاری طرف سے انکار نہ ہوگا پر وہ کیا کہتے ہیں اظہار محبت ضروری ہے نہ….”
وہ ایک ہی سانس میں سب کہ گیا تها اور وہ منہ کهولے اسکو دیکهنے لگی پهر مسکرا کر اسکو دیکها
“مجهے تو خوئی اعتراض نہیں….”
شرما کر کہتی وہاں سے بهاگ گئی اور صائم نے اپنے دل پر ہاتھ رکها تها

گورا رنگ بهورے بال کے ساتھ بهوری داڑهی اور پهر اس پر پرکشش نیلی آنکهیں وہ گهر میں موجود ہر فرد سے زیادہ خوبصورت تها اس پر اسکی مسکراہٹ جان لیوا اور وہ پهر مسکرایا تها اور خود بهی باہر چلا گیا

سعید صاحب نے سعود صاحب سے بات کرلی تهی بهلا اسکا کسی کو کیا اعتراض ہونا تها اور دیکهتے ہی دیکهتے انکی منگنی کردی گئی تهی انکی شادی انکی سٹڈی کے بعد ہونا طے پائی تهی پر طرف خوشی کا سماع تها

ہاں البتہ پریہاں وشما سے سخت ناراض ہوئی تهی وہ اپنی دوست کو کسی خے ساتھ شئیر نہیں خرنا چاہتی تهی اسی لیے سخت ناراض ہوئی تهی اتنا کہ وشما کے دو کس کرنے پر مان گئی تهی
………………………….
“یار آبر ایک کپ چائے ہو جائے….”
مصطفی اسکے کمرے میں داخل ہوتا پیچهے سے حصار میں لیتے ہوئے کہا تو وہ دهیمے سے مسکرائی
“آپ جائیں میں لاتی ہوں….”
اسکی کندهے پر نرم گرم سانسیں محسوس خرتی گهبرا کر کہا اور اس سے دور ہوئی لیکن ہائے قسمت دوپٹا مصطفی کے ہاتھ میں ہی رہ گیا اب وہ گهبرائی سی بنا دوپٹے کے دوسری طرف مبہ کرکے کهڑئی تهی
مصطفی نے اسکے گرین دوپٹے کو دیکها اور پهر اسکی پشت کو دیکھ کر مسکرایا

مصطفی نے دوپٹہ پٹکے کہ طرح گلے میں لپیٹا تها اور وہ ایسے کافی ہینڈسم لگ رہا تها

“یار یہ دوپٹہ تو بہت کام کی چیز ہے میں تو یہی دوپٹہ اپنی مہندی پر پٹکے کے لحاظ سے گلے میں لوں گا سہی ہے نہ….”
اسنے ایک نظر خود کو شیشے میں دیکهتے ہوئے اس سے کہا تو وہ شرما دی پهر مصطفی اپنے گلے سے اسکا دوپٹہ نکالتا اسکے شانوں پر پهیلایا تها اور پیچهے ہوا
“میں یہی ہوں جاو چائے لے آو…”
اسنے مسکرا کر کہا تو وہ جلدی سے باہر نکل گئی اور پیچے مصطفی اسے بیڈ پر اوندهے منہ گرا تها اسکی ایک ٹانگ بیڈ پر جبکہ دوسری تهوڑی سی نیچے لٹک رہی تهی

“آبریش یار مصطفی کہاں ہے..؟ وہ کمرے میں بهی نہیں ہے….”
شہرام کی جهنجهلائی سی آواز کچن میں گونجی
“وہ دراصل میرے کمرے میں ہیں چائے بنانے آئی تهی میں انکے لیے…..”
اسکو شرمندگی ہورہی تهی شہرام کو یہ بتاتے ہوئے اور شہرام اسکے لہجے میں شرمندگی محسوس کرچکا تها تو مسکرایا
“ٹهیک ہے میرے لیے بهی ایک کپ لے آنا اپنے کمرے میں ہی….”
اسکی گال کهینچ کر کہتا چلا گیا
“اوفف مصطفی آپ بہت برئے ہیں….”
خیالوں میں اس سے کہتی پهر خود ہی مسکرا دی تهی

شہرام کمرے میں داخل ہوا تو مصطفی کو یوں کیٹے دیکھ اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی اسنے صوفے سے تین کشنز اٹهائے اور رکه کر اسکی کمر پر مارا
مصطفی کوئی چیز کمر پر لگنے سے ہڑبڑا کر پلٹا لیکن اگلا کشن اسکے منہ پر لگا تها اس سے پہلے تیسرا بهی لگتا مصطفی نے کیچ کیا تها اور شہرام کو دیکها جو ہنس رہا تها اسنے اپنا ناک مسلتے اسکو تگڑئی گهوری سے نوازا تها

“لانت تیری منہوس شکل پہ…..”
مصطفی بے گهورتے ہوئے مسلسل ہنستے شہرام کو دیکھ کر کہا
“کمینے میری بہن کے کمرے میں کیا کررہا ہے…..؟”
شہرام نے مصنوعی گهوری سے کہا
“اوئے یہ میری بیوی کا کمرہ ہے…”
وہ دوبارہ سیدها لیٹتا ہوا بولا
“جی نہیں یہ پہلے میری بہن کا کمرہ ہے….”
اسنے ایک اور کشن اسکے سینے پر مارا اور اگلا کشن شہرام کی طرف پهینکا گیا جو اسنے بہت مہارت سے کیچ کیا تها
“ہوگئی تیری بہن لیکن اب میری بیوی ہے….”
اسکو اپنے ساتھ بیٹهتا دیکھ مصطفی نے بهی اٹه کر بیٹهتے ہوئے کہا
“ہونہہ آیا بڑا بیوی والا….”
شہرام نے ناک سے مکهی اڑائی تهی
“اچهااا بڑئے بڑئے چول دیکهے پر تیرے مقابلے میں سب پهیکے ہیں…”
اسنے اسکی کمر پر ایک دهپ رسید کرتے ہوئے کہا تو شہرام کا قہقہ لگا

“اچها مجهے کچھ دیکهانا تها اس لیے پورا گهر دهونڈه لیا پر لانتی میری بہن کے کمرے میں ہے….”
اسنے فون نکالتے ہوئے شرارت سے کہا تو بیچارہ مصطفی محض گهور ہی سکا اور فون کو دیکها جہاں اب شہرام اسکو کچھ دیکها رہا تها

کہ تب ہی آبریش آئی اور جگہ جگہ کشنز دیکھ اسنے افسوس سے اپنے بهائی اور شوہر کو دیکها کیونکہ یہ اچهے سے واقف تهی کہ انکی جنگ عظیم چہارم شروع ہوئی گی
اسنے دونوں کپ مصطفی کے اشارے پر ٹیبل پر رکها اور سارے کشنز انکی جگہ پر رکهے
کہ پریہان آبریش کو آوازیں دیتی کمرے میں داخل ہوئی

مصطفی اور شہرام کو دیکها تو انکو دیکھ کر مسکرائی اور دوبارہ آبریش سے مخاطب ہوئی
“چلو میں تمہیں کچھ دیکهاتی ہوں….”
اسنے شہرام کی نظروں سے گهبرا کر کہا جو تکر ٹکر اسکو دیکھ رہا تها وہ اس وقت پرپل شافٹ قمیض جبکہ پرپل ہی ٹراوزر میں گیلے کهلے بال وہ سیدها اسکے دل میں اتر رہی تهی

“پرپل پری….”
شہرام نے اپنے خیالوں میں اسکو نئے نام سے مخاطب کیا
“اوئے سالے بہن ہے میری….”
مصطفی نے پیچهے سے اسکے دهپ رسید کرتے ہوئے کہا تو وہ ہوش میں ایا
“اوو جا بیوی ہے وہ میری….”
وہ کہاں پیچهے رہنے والا تها
“اچهاا میری بیوی تیری بہن تو تیری بیوی تیری ہی بیوی….”
وہ گهورتے ہوئے بولا
“تو اور کیا میری بیوی اسکو نہیں دیکهوں تو کسکو دیکهوں….”
شہرام نے شرارت سے کہا
“تو آبر بهی میری بیوی ہے تجهے کیا مسئلہ ہو رہا تها تب…”
مصطفی کہاں پیچهے رہتا اور وہ دونوں ان کی ایسے باتوں سے سرخ ہورہی تهیں

“اوفف خاموش ہوجاو دونوں سمجهے اور ہاں ہم تم دونوں کی بیویاں نہیں منکوحے ہیں سمجهے دونوں…..”
آبریش انکو دوبارہ سے لڑتے دیکھ غصے سے بولی تهی اور پریہان کا ہاتھ پکڑ کر جانے لگی کے دوبارہ پلٹی
“خبردار جو میرا کمرہ دوبارہ گندہ کیا تو….”
مصطفی اور شہرام دونوں کو بیڈ پر پڑئے تکیے اٹهاتے دیکھ آبریش انگلی اٹها کر بولی تو دونوں نے واپس تکیے وہی رکه دیے تو آبریش باہر چلی گئی
اسکے جاتے ہیں دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکها اور قہقہ لگا کر ہنسے پهر دوبارہ شہرام اور مصطفی شہرام کے موبائل کی طرف متوجہ ہوگئے
………………………….
“آو بیٹا ڈنر نہیں کرو گے….؟”
شہرام باہر جاتا دیکھ سعدیہ بیگم بولیں تو سب شہرام کی طرف متوجہ ہوئے
“نہیں مما میں باہر سے کرلوں گا مجهے بہت ارجنٹ کام ہے….”
اسنے مسکرا کر کہا
“اچها مصطفی مجهے میری جیپ کی چابی نہیں مل رہی اپنی گاڑئی کی چابی دے….”
اسکی بات پر وہ اثبات میں سرہلاتا جیب سے چابی نکال کر اسکی طرف پهینکا جسکو کیچ کرتا سبکی طرف ایک مسکراتی نظر ڈالٹا باہر چلا گیا

شہرام جو ابهی گاڑی میں بیٹها تها کہ اسکا فون رنگ ہوا اسنے دیکها تو حارز کا فون تها
“کب تک آرہا ہے….؟”
اسکے فون اٹهاتے ہی حارز بولا تها
“بس پانچ منٹ میں…..”
شہرام گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا
“ٹهیک ہے جلدی پہنچ یہ بلحہ بہت بےتاب ہورہی ہے…..”
اسنے سامنے بیٹهی بلحہ کو دیکهتے ہوئے کہا البتہ بلحہ نہ پہچان سکی کیونکہ اسکا چہرہ ڈهکا ہوا تها
“آرہا ہوں اس چڑیا کے پر کاٹنے….”
کہتے ساتھ اسنے فون رکها تها
“حوصلہ دئیر بلحہ شہرام آرہا ہے….”
یہ خہتا باہر چلا گیا اور پیچهے وہ پهر سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی