Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

“احتشام بابا کی طبیعت ٹهیک نہیں رہتی وہ کہتے ہیں رشتہ لے آو اب تم جلدی…..”
وہ دونوں اس وقت بیگز کندهے پر لٹکائے گراونڈ میں دهیرے دهیرے چل رہے تهے
“کیا ہوا ہے انکل کو….؟”
اسنے اسکی طرف دیکهتے ہوئے پوچها
“انکو ہارٹ کا مسئلہ ہے اب تو زیادہ پین ہوتی ہے….”
اسنے پریشانی سے کہا
“اچها تم پریشان مت ہو میں اگلے ویک تک سبکو بتاوں گا اگلے ویک ہی لے آوں گا ٹهیک ہے…..”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا تها
“چلو آئس کریم کهاتے ہیں پهر تمہیں وہی سے گهر چهوڑ دوں گا….”
اسنے اسکے کندهے پر ہاته رکهتے ہوئے کہا وہ اسکو اسکی سوچوں سے نکالنا چاہتا تها
“پریہان کس کے ساتھ جائے گی…؟”
“وہ آج نہیں آئی….”
“ہمممم…..”
اسکی بات پر محض وہ اتنا ہی بول سکی
“چلو آئس کریم پارلر چلتے ہیں پهر گهر چهوڑ دوں گا…..”
اسنے اسکے کندهے کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دی اور اسکے ساتھ چلنے لگی
………………………….
“سعد پهوپهو کی جان ابهی تم بہت چهوٹے ہو اتنی مرچی والی کیسے کهاو گے….”
پریہان آخری سیڑهی پر سعد کو گود میں لیے بیٹهی تهی جسکے ہاتھ میں لیز تها اسکی بات پر وہ لیز کو دیکهنے لگا
“تمہیں مرچی لگے گی لاو پهوپهو کهالیتی ہے نہ تمہاری….”
وہ اصل بات پر آئی تهی اور ایک لیز نکال کر کهائی تهی وہ بس ٹکر ٹکر اپنی پهوپهو کو دیکھ رہا تها
سامنے سے آتے شہرام نے اسکی آخری بات سنی تهی اور اپنی چالاک بیوی کی بات پر ہنسا اور وہی سینے پر ہاتھ باندهے کهڑا ہوگیا
“تمہیں پتا ہے اتنی مرچی بچوں کی صحت کیلیے ٹهیک نہیں ہوتی لاو مجهے دو میں کها لیتی ہوں نہ……”
اسنے سعد کے ہاتھ سے لیز پکڑتے کهانے لگی شہرام حیرت سے اسکو دیکھ رہا تها

“پریہان…..”
شہرام کی صدمے بهری آواز گونجی وہ جو ایک اور ٹکڑا منہ کی طرف لیجارہی تهی اسکے پکارنے پر اسکا ہاتھ رکا اور اسکی طرف دیکها سعد بهی اپنی لیز لیتا وہاں سے بهاگا تها
“شہرام کو بهی ابهی انا تها….”
افسوس اسکے دیکهنے کا نہیں بلکہ لیز مکمل نہ کهانے کا تها
“واہ مسسز شہرام ایک بچے سے لیز ٹهگ کر کهارہی ہے….”
اسنے ایک آئی برو اچکا کر کہا تو وہ منہ بناتی کهڑئی ہوئی
” تو اس میں کیا ہے اسنے کونسا کها لینی تهی……”
اسنے منہ بنایا تها
“اووووو….”
شہرام نے اوو کو لمبا کهینچا تها
“ہاں تو اور کیا اچهی بهلی میں کها رہی تجی ڈسٹرب کردیا الٹا لیز بهی گئی میری….”
اسکی بات پر وہ حیرت سے منہ کهولے اسکو دیکهنے لگا نہیں یعنی اسکو لیز کے جانے کا دکھ تها
“تم میری یعنی ایس پی شہرام کی بیوی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو….”
اسکی حیرت کم نہیں ہورہی تهی
“بیوی ہوگئی تو کیا ہوا اب بندہ لیز کهانا چهوڑ دے….”
“اوہہہ میری جان تم میری بیوی ہو حکم کرو یہاں ڈهیر لگادوں لیز کے پیکٹس کے….”
وہ پیار سے بولا
“ڈهیر تو میں بهی لگا لوں پر وہ مزہ نہیں جو مزہ کسی سے چهیننے یا مانگ کر کهانے میں آتا ہے…..”
وہ ایک ادا سے بال جهٹکتے ہوئے بولی اور وہ صدمے سے منہ کهولے اسکو دیکھ رہا تها پهر جلدی سے منہ بند کرتا آگے بڑها اور دو قدم کے فاصلے پر کهڑاہوا
“ایس پی شہرام ملک کی ناک کٹوا دی تم نے…….”
وہ افسوس سے سر دائیں بائیں ہلاتے ہوئے بولا
“ایوں اپکے منہ پر ناک تو لگی ہوئی ہے….”
وہ انکهیں پٹپٹاتی شرارت سے بولی تهی پر وہ شہرام ملک تها اسکو ہرانا مشکل کام تها
“کہاں لگی ہے زرا چهو کر تو بتاو نہ…..”
وہ اسکو جیکٹ سے کهینچ کر پاس کرتے ہوئے بولا اور پریہان نے سٹپٹا کر اسکے سینے پر ہاتھ رکها تها اور اسکو خود سے دور کیا اسکے دور ہوتے ہی وہ تیزی سے زینے چڑهتی اوپر چلی گئی تهی جبکہ شہرام نفی میں سر ہلاتا سعید صاحب کے کمرے کی طرف چل دیا
………………………….
“بهائی جیسا آپ مناسب سمجهیں آپکا حکم سر آنکهوں پر…..”
حماد صاحب ڈرائیونگ کررہے تهے جب انہوں نے سعید صاحب کی کسی بات کا جواب دیا
“مجهے پورا یقین تها تم بهی جانتے ہو مجهے سب بچے عزیز ہیں اور وشما کیلیے صائم کی آنکهوں میں محبت مجهے نظر آئی ہے میں بهائی صاحب سے بات کروں گا…..”
انکی بات پر حماد مسکرایا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا سامنے انکو زمین پر گری ایک چیز نظر آئی
“سعید بهائی وہ کیا ہے….؟”
حماد صاحب نے گاڑئی روکتے ہوئے کہا تو سعید صاحب بهی سامنے موجود زمین پر پڑئی کوئی چیز کی طرف متوجہ یوئے
“چلو دیکهتے ہیں….”
انکی بات پر وہ بهی باہر نکلے دونوں اس زمین بوس ہوئی چیز کے پاس پہنچے تو وہ کوئی چیز نہیں بلکہ ایک وجود تها
“حماد صاحب نے جیسے ہی سیدها کیا دونوں کو حیرت کا شدید جهٹکا لگا
“شمائیلہ بهابهی….”
سعید صاحب نے پکارا تها حماد صاحب نے دیکها تو نہ ہوا تها پر نام لینے سے معلوم ہوا یہ معارج کی بیوی ہے
“بهابهی آپکو کیا ہوا ہے اٹهیں…..”
سعید صاحب نے انکا کندها جهنجهوڑا تها
“بهائی انکو ہاسپٹل لیجانا ہوگا ہمیں….”
حماد صاحب نے کہا تها اور پهر سعید صاحب کے اشارے سے اسکو گود میں اٹهایا تها
تقریباً پدس منٹ کی مسافت کے بعد وہ لوگ اسپتال میں موجود تهے
انہوں نے سعود صاحب کو بهی کال کردی تهی وہ بهی دس منٹ میں ہاسپٹل پہنچ گئے تهے
“کہاں ہیں بهابهی….؟”
سعود صاحب نے آتے ساتھ پوچها
“وہ اندر ڈاکٹر چیک کررہے ہیں…..”
“کیا ہوا…..؟”
انکی بات پر حماد نے سب بتایا تب ہی ڈاکٹر باہر نکلا اور اپنے چہرے سے ماسک ہٹایا

“جب آپ لائے تهے انکو یہاں انکو دو تین سانسیں ہی باقی تهیں اور اب افسوس سے کہنا پڑه رہا ہے وہ اس دنیا میں نہیں رہیں…..”
ڈاکٹر کی بات پر وہ تینوں شاک سی کیفیت سے اسکو دیکهنے لگے
“ایک اور ضروری بات…..”
وہ داکٹر تهوڑا ہچکچایا تها پر وہ ڈاکٹر تها اسکو سب بتانا ہی تها
“جی کیا….؟”
“وہ یہ کہ…..”
اتناکہ کر ڈاکٹر رکا تها
“کہ انکے ساتھ تشدد ہوا ہے انکے ساتھ کئی لوگوں نے ریپ کیا ہے اور مار پیٹ کی ہے جگہ جگہ بلیڈز کے نشانات ہیں اسکے علاوہ انکی عمر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شادی شدہ ہیں ہم نے ڈی این اے چیک کروایا لیکن…باقی اپ خود سمجھ دار ہیں کچھ فارمیلیٹیز کے بعد آپ لاش لیجا سکتے ہیں…..”
وہ انکا کندها تهپتهپاتا چلا گیا تها
“معارج نے اپنی بیوی کے ساتھ یہ کیا کیا….؟”
سعود صاحب وہاں موجود بینچ پر بیٹهے تهے
“بهائی صاحب کوئی اتنا گهٹیا کیسے ہو سکتا ہے……”
سعید صاحب دکھ سے بولے تو وہ چہرہ جهکا گئے انکی آنکهوں سے دو آنسووں نکلے تهے جنکو وہ کمال مہارت سے چهپا گئے تهے
………………………….
ٹهاہ ٹهاہ….
سعود صاحب کا بهاری ہاتھ معارج پر اٹها تها
“یہ گهٹیا حرکت تم کیسے کرسکتے ہو افسوس ہے اپنی ہیرے جیسی بیوی کو گنوا دیا…..”
سعود کا دو تهپڑ لگانے کے بعد بهی اس پر سے غصہ کم نہ ہوا تها اور اسکا کالر دبوچا سامنے ہی معارج کی بیوی کفن میں موجود تهی زیادہ لوگ نہ تهے بس بیس پندرہ ہونگے
“شرم آنی چاہیے تمہیں چهیی تمہیں دوست کہنا بهی اب گناہ ہے….”
وہ نفرت اور حقارت سے اسکی طرف دیکهتے ہوئے بولے
انکی خاموشی سب عیاں کرگئی تهی
“ہم باہر ہیں کندها ہم دیں گے خبردار جو تو آگے بهی بڑها تو…”
یہ کہتے تینوں باہر چلے گئے تهے
“سالی کمینی مر گئی چار پیسے اور کما کر دے جاتی تو کیا تها….”
وہ ایک نظر لاش کو دیکهتا ہوا بڑبڑایا اور چہرے پر ہاتھ پهیرہ جہاں سعود صاحب کا ہاتھ چهاپ چهوڑ گیا تها
“سعود تو اس تهپڑ کی قیمت چکائے گا بہت جلد…..”
اسنے غصے سے کہا اور ایک نظر لوگوں کو دیکها جو نفرت سے اسکو دیکھ رہے تهے بنا انکی طرف دهیان دئیے وہ اندر کی طرف بڑھ گیا اور لوگ تبصروں ہر شروع ہو چکے تهے جنکا کام ہی یہی تها
………………………….
پورے کمرے میں چینخوں کی آواز تهی وہ چلا چلا کر تهک چکی تهی پر کوئی اسکی ایک بهی نہ سن رہا تها کوئی ہوتا تو سنتا لیکن اگر کوئی تها بهی تو بہرہ بنا ہوا تها
“کون ہو تم لوگ کیوں لائے ہو مجهے یہاں…؟”
وہ پهر سے چلائی تهی چلا چلا کر اس گلا بیٹھ گیا تها وہ کرسی کے ساتھ بندهی خود کو کهولنے کی کوشش کررہی تهی

“آواز نیچی رکهو یہ نہ ہو زبان کاٹ دوں….”
کوئی شخص کمرے میں داخل ہوا اور بےزاریت سے بولا
“کون ہو تم….؟”
اس لڑکی کے چہرے پر روشنی پڑهنے کی وجہ سے وہ اسکو دیکھ نہیں پارہی تهی
“میری جان میں ہوں جسکو پانے کیلیے تم نے کیا کیا نہیں کیا اب میں آیا ہوں تو پوچھ رہی ہو کون ہو…..”
وہ شخض اسکی بات کا مزاق بناتے ہوئے بولا اور تهوڑا آگے آیا اب اسکا چہرہ اس لڑکی کو صاف واضع نظر آرہا تها وہ اس شخص کا چہرہ دیکھ کر دهنگ رہ گئی تهی

“مم-مصطفی…..”
اسنے مصطفی کا نام زیرلب دہرایا تها اور بار بار پلکیں جهپک کر دیکھ رہی تهی شاید خواب ہو
“کیا ہوا یار میں مصطفی ہی ہوں…”
وہ ہنس کر بولی
“کک-کیوں لائے ہو مجهے یہاں…..؟”
وہ حلق کے بل چلائی تهی مصطفی جتنا زور سے وہ چلائی تهی اتنا زور سے ہنسا تها

“ہاہاہاہاہا یار خود ہی تو مجهے چاہتی تهی پانا کہ میری بیوی کو بهی بدگمان کرنا چاہا مس نشا علی نہیں بلحہ معارج…..”
اسکی بات پر اسکے چہرے کا رنگ فق ہوا تها مطلب وہ جان چکے تهے کہ یہ نشا نہیں بلکہ بلحہ ہے
“حیران مت ہو ہمارے لیے جاننا کچھ مشکل نہیں….”
پیچهے سے شہرام آکر بولا تها
“اگر معلوم ہو ہی گیا ہے تو ایس پی اور مصطفی میرا باپ تم لوگوں ک چهوڑے گا نہیں……”
وہ دوبارہ چلائی تهی اور چلانے کے بعد کهانسنے لگی
“ہاہاہاہا ہم چاہتے بهی نہیں کہ وہ ہمیں چهوڑے…..”
شہرام ہنسا تها
“غلطی کی ہے بلحہ معارج کو اگواہ کرکے وشما آپی اور بابا نہیں چهوڑیں گے….”
وشما کے نام دونوں کے چہرے سنجیدہ ہوئے تهے
“وشما کو ہم دیکھ لیں گے اور رہی بات معارج کی اسکی موت تو پکی ہے…..”
مصطفی سنجیدگی سے بولا تها
“تم دونوں مرو گے میں ماروں گی….”
“ارے دیکهو تو کہ کون رہی ہے جو خود ابهی پنجرے میں قید ہے…”
شہرام حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا اور پهر دونوں نے قہقہ لگایا اور مصطفی نے آگے بڑھ کر ایک تهپڑ لگایا تها اور اسکے منہ پر پٹی باندهی تهی وہ غصے سے مصطفی کو دیکھ رہی تهی
“میری جان یہ تهپڑ میرا دل کیا تو مارا….”
اسکے چہرے پر آئے بال کان کے پیچهے کرتے ہوئے بولا اور باہر چلا گیا جبکہ شہرام بهی ایک قہر بهری نظر سے اسکو دیکهتا مصطفی کے پیچهے ہی باہر چلا گیا تها

“شہرام اب اسکا کیا کرنا ہے….؟”
مصطفی نے صوفے پر بیٹهتے ہوئے پوچها
“اسکو ابهی مار نہیں سکتے یہ معارج کی خاص ہے ضرور کچھ جانتی ہوگئی زیادہ محنت نہیں کریں گے اس پر اگر نا بتائے تو مار دیں گے کیونکہ معارج کا معلوم کرنا ہمارے لیے زیادہ مشکل نہیں…….”
اسکی بات پر مصطفی نے اثبات میں سر ہلایا
“تم فکر مت کرو اور کام پر دهیان دو میں بهروسے مند آدمی کو اسکی رکهوالی پر لگا دوں گا اور شاید معارج کو اسکی خبر ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی بیٹی کو ڈهونڈهنے میں مصروف ہوجائے…….”
اسکی بات پر شہرام نے پرسوچ نظروں سے اسکی طرف دیکها
“ہمم ٹهیک جو مناسب لگے تجهے….”
“چلو چلتے ہیں مجهے میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے ایک…..”
مصطفی کہتا اٹها تو وہ بهی اٹها تها
………………………….”بابا آپکو کیا ہورہا ہے……؟”
میرب اپنے والد کو ہلاتے ہوئے بولی جو درد سے کراہ رہے تهے
“بابا م-میں کچھ کرتی ہوں ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں بابا اٹهیں حوصلہ کریں….”
وہ روتے ہوئے بولی جنکی آنکهوں سے آنسووں رواں تهے
وہ اس وقت کیسے لیکر جاتی ایک بجے کا وقت تها اگر اکیلی اپنے والد ساتھ کہی غلط ہاتهوں کگ جاتی تو..یہ سوچ آتے ہی اور رونے لگی کہ اب کیا کرئے پهر کچھ سوچ آتے اسنے جلدی سے فون نکالا تها

بیل مسلسل جارہی تهی لیکن دوسری طرف سے کوئی بهی نہیں اٹها رہا تها
“پلیز پک اپ دا کال احتشام….”
خود سے بڑبڑاتی اسنے دوبارہ کال کی اس دوفعہ تیسری بیل پر اٹها لیا گیا تها
“کیا ہوا اس وقت جاناں….؟”
اسکی نیند سے ڈوبی آواز سنائی دی اسکی آواز سن اسکو مزید رونا آیا
“ا-احتشام….”
اسکی روتی آواز سن کر اسکی نیند بهک سے اڑئی تهی
“کیا ہوا میرب….؟”
اسنے اٹهتے ہوئے پریشانی سے پوچها
“بابا ٹهیک نہیں ہیں جلدی آجاو پلیز….”
وہ روتے ہوئے بولی
“میں پانچ میں آرہا ہوں رو مت….”
یہ کہتا جلدی سے اٹها تها چابی اٹهاتا جلدہ سے زینے اترا تها اور سیڑهیوں کے ساتھ بنے دروازے سے باہر نکلا تها اس دروازے سے وہ ڈائیرکٹ اپنی گاڑئی خے پاس پہنچا تها اسنے گاڑئی سٹارٹ کی اور جیسے ہی گیٹ کے پاس پہنچا گارڈ نے جلدی سے گیٹ کهولا اسے لگا شاید احتشام دوستوں کے ساتھ جارہا ہے کیونکہ رامز مصطفی شہرام احتشام کبهی کبهی اس وقت بهی کام کی وجہ سے جایا کرتے تهے