Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

“کہاں سے ملی اسکی لاش…..؟”
وشما نے اپنے سامنے پڑی لاش کو دیکهتے ہوئے معارج سے پوچها جو روتا ہوا اپنی بیٹی کو دیکھ رہا تها وشما کو تو اسکے یہ آنسووں بهی نقلی لگے
“گهر کی بیک سائیڈ سے…”
اسنے اپنا سر تهامتے ہوئے کہا
“چلو اسکا بهی قصہ ختم ہوا….”
لاپرواہی سے کہتی اٹهی اور سیب اٹها کر کهانے لگی اسکے دل میں ان کے لیے کوئی احساس باقی نہ تها وہ تو مروتن رو بهی نہ سکی جب کوئی احساس ہی نہ تها
“کیا تمہیں تمہاری بہن کے مرنے کا زرا افسوس نہیں….؟”
وہ غصے سے بولا افسوس تو اسکو بهی اسکے مرنے کا نہیں بلکہ آدهی جائیداد جو اسکے نام تهی یعنی بلحہ کے وہ ہاتھ سے نکلنے کا افسوس تها جو وشما کے نام ہوگئی تهی وہ کل ہی تو اس سے جائیداد کے پیپرز پر سائن کروانے والا تها اور ادهر

“نہیں…”
وہ ہر تاثر سے پاک چہرے کے ساتھ بولی
“بہت کوئی پتهر دل ہو وشما….”
“اووو بس کریں معلوم ہے جتنا آپکو بلحہ کے مرنے کا دکھ ہے معلوم ہے سب مجهے آپکو دکھ صرف جائیداد ہاتھ سے جانے کا ہے جو میرے نام ہوگئی ہے فکر مت کریں وہ جائیداد میں آپکو ہرگز نہیں دوں گی اتنے اندهے ہیں دولت کے پیچهے توبہ ہے معارج صاحب جو ہے حرام اسی پہ تو گزارہ ہی نہیں افسوس…”
نفی میں سر ہلاتی اچهی خاصی باتیں سناتی باہر نکل گئی پیچهے وہ دانت پیس کر ہی رہ گیا

“فصول اولاد ہے ماں جیسی بےوقوف ہوتیں ساری تو اب تک میں امیر ترین بندہ ہوتا دنیا کا ایک ویسے مرگئی دوسری کا تو کچھ اتا پتا نہیں خیر اس سے کیا تعلق وہ اچهی نکلی جائیداد سب چهوڑ گئی اور یہ وشما اسکو تو میں مار بهی نہیں سکتا…..”
غصے سے بڑبڑا کر اپنے آدمی کو اندر آواز دی اب اسکی لاش کا بهی تو کچھ کرنا تها
“جی سر…”
“بنا کسی کو خبر ہوئے اسکو دفنا دو…”
اسنے اسکے پاس سے اٹهتے ہوئے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا باہر چلا گیا
………………………….
“مجهے معارج کی دو دن تک ساری خبر چاہیے وہ کیا ڈیل کرنے لگا آج کل میں….”
وہ علی اور گل خان کو حکم دے رہا تها جنہوں نے اثبات میں سر ہلایا
“سر وشما آج کل دلاور کے کلب جاتی ہے اور وہاں ایک روم میں دلاور اور کچھ لوگوں سے گفتگو کرتی ہے …..”
علی نے تین چار دن جو بات نوٹ کی اسکے گوش گزار کردی
“ہممم ضرور وہ کوئی اہم ڈیل کا سوچ رہے ہیں مجهے پل پل کی خبر چاہیے علی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا….”
اسنے پرسوچ انداز میں کہتے آخر میں دهمکی دی
“اوکے سر آپ فکر مت کریں میں دو دن تک سب انفو نکلواتا ہوں…..”
اسنے تابعداری سے کہا تو اسنے اثبات میں سر ہلایا

“حمزہ کا کیا بنا….؟”
“سر آپ کے کہنے کے مطابق اسکے گهر چار پانچ رشتے بهیج دیے ہیں ان میں سے شاید وہ کسی لڑکی کو پسند کر لے لیکن اسکا کہنا ہے وہ کسی اور کو پسند کرتا تها جو کہ اب نکاح شدہ ہے…..”
علی اور گل خان نے شہرام کی شکل دیکھ کر مسکراہٹ دبائی تهی
“اس حمزہ کے بچے کا کچھ کرنا ہوگا میں نہیں چاہتا کوئی بهی میری بیوی کے بارے میں سوچے……”
اسنے چباتے ہوئے کہا
“فکر ناٹ سر ہوجائے گا کام….”
اسکی بات پر اسنے سیگرٹ سلگائی تهی مطلب دونوں اب جاسکتے ہیں وہ دونوں بهی وہاں سے نودو گیارہ ہوئے
………………………….
شام پانچ بجے کا وقت تها سب بچہ پارٹی اس وقت لاونچ میں موجود تهے جبکہ سعید صاحب اور حماد صاحب کمروں میں تهے اور شازیہ بیگم اور سعدیہ بیگم رات کے ڈنر کی تیاری کررہیں تهی
رامز ایک فائل تیار کررہا تها جبکہ مصطفی لیپ ٹاپ پہ کام زرش سعد کو سنبهال رہی تهی جبکہ پریہان اور میرب پڑھ رہے تهے شہرام بهی کسی فائل میں گم تها اور آبریش فون یوز کررہی تهی البتہ احتشام غائب تها ضرور کوئی کارنامہ کررہا ہوگا

“مصطفی احمد صاحب سے میری بات ہوگئی ہے وہ کل اس سلسلے میں ہمارے ساتھ ڈیل کریں گے…..”
“اچها کون کررہا ہے میٹنگ….؟”
اسنے پوچها
“سعید بابا کہ رہے تهے وہ دیکھ لیں گے باقی حماد چاچو بهی ہونگے تمہارا کل عروبہ سے لنچ فکس ہے….”
اسکی لنچ والی بات پر آبریش کے کان کهڑئے ہوئے اور اسنے چہرہ اٹها کر پہلے رامز اور پهر مصطفی کو دیکها
“ہاں رامز میں عروبہ سے مل لوں گا کچھ پوائنٹس پر بهی بات کرنی ہے….”
اسکہ بات پر دونوں دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہوا اور آبریش اب مصطفی کو ایسے دیکھ رہی تهی جیسے کچا چبا جائے گی پهر بعد میں پوچهنے کا سوچ دوبارہ موبائل چلانے لگی

“کیا بات ہے احتشام آج چپ چپ ہو اور منہ کیوں لٹکا ہوا تها….”
احتشام کو منہ لٹکا کر اندر آتے دیکھ شہرام بولا تو سب نے ایک نظر اسکو دیکها اور دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ دهپ سے اسکے ساتھ بیٹها
“ہاں کر آیا ہوگا کوئی کارنامہ…..”
پریہان نے منہ چڑہاتے ہوئے کہا تو اسنے گهورا
“منہ مت لگ میرے……”
اسنے گهورتے ہوئے کہا تو اسنے زبان چڑہائی
“کیا کارنامہ کیا ہے احتشام ملک….”
شہرام نے فائل کو بند کرتے ہوئے پوچها

“بس کچھ نہیں کیا ایویں ہی بڑئے ابو نے ڈانٹ دیا…..”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا
“بابا نے ڈانٹا ہے…اینڈ یو نو وہ فضول نہیں ڈانٹتے کوئی کارنامہ تو جناب نے کیا ہوگا…”
اسنے مسکراہٹ دبائی تهی
“بس گانا گا رہا تها اور تو کچھ نہیں….”
اسکی معصومیت برقرار تهی

“بڑئے ابو گانا گانے سے بهی نہیں ڈانٹتے احتشام انہوں نے گانا گانے سے تو کبهی نہیں ڈانٹا وجہ اور ہے…..”
مصطفی نے تیزی سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
“سچی مصطفی بهائی گانا گارہا تها….”
اسے سچی پر زور دیا
“ضرور کوئی واہیات گانا ہوگا….”
“بهائی میں اپکو ایسا لگتا ہوں….؟”
اسنے معصومیت سے کہا
“جی بالکل….”
مصطفی نے اپنی مسکراہٹ کنٹرول کرتے ہوئے کہا تو وہ بچارہ اپنا سا منہ کے کر رہ گیا

“ویسے کونسا گانا تها زرا ہمیں بهی تو بتاو…..”
اس دفعہ زرش بولی تهی
“بهابهی اتنے مزے کا گانا تها….”
وہ پرجوش ہوا تها
“اچها کونسا نواب صاحب نے گایا تها کہ چهوٹے ابو نے اسکی تعریفیں کردیں….”
اب کے رامز نے فائل سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا
“سچی گاوں….؟”
وہ اور پرجوش ہوا
“جی جی ہم منتظر ہیں ملک احتشام کا گانا سننے کیلیے….”
شہرام نے طنز کیا تو وہ ہنسا
“جی تو عرض ہے اہممممم اہمممم……”
اسنے گلا کهنگارا تها

“میں مراسی میرا پیو مراسی
میرا دادا مراسی
آپاں سارے مراسی ہاں
کیونکہ میں مراسی میرا پیو مراسی….”

“شٹ اپ احتشام…..”
مصطفی نے غصے سے اسکو ٹوکا تها سبکے منہ پر دبی دبی ہنسی تهی
“بب-بهائی وہ تو سب نے کہا تو گایا….”
وہ مظلومیت سے بولا اور شہرام کو مدد طلب نظروں سے دیکها جس نے کندهے اچکائے تهے
“تو یہ گانا مینز بکواس گانا گاو گے دانٹ پڑئے گی اچها ہوا بڑئے ابو نے ڈانٹا…..”
اسنے گهورتے ہوئے کہا

“بهائی اب آپ تو مت ڈانٹیں…..”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا
“حرکتیں تمہاتی اچهی ہیں نہیں کام درست کرلو ڈانٹ نہ پڑئے….”
“بهائی بس کردیں اب تو میں شادی شدہ ہوں میری بیوی کا ہی خیال کر لیں…”
وہ تو رونے والا ہی ہوگیا تها اسنے ایک نظر میرب کو دیکها جو مسکراہٹ دبائے بیٹهی تهی
“بڑئے ابو نے سہی کہا تها مت ماری گئی تهی جو معصوم سی بچی تیرے جیسی لفنٹر کے ساتھ باندھ دی….”
اور یہاں سبکا قہقہ پورے لاونچ میں گونجا تها اور احتشام تو بس رونے والا تها
“بہت برئے ہیں آپ سب لوگ اب بس جب میں سیریس ہوا سب پچهتائیں گے اور یاد رکهیے گا میری ہنسی کو ترسیں گے اور تجهے بعد میں پوچهتا ہوں جسکی بتیسی بند نہیں ہورہی…”
سبکو کہتا آخر میں میرب کو وارن کرتا وہاں سے واک آوٹ کرگیا
“اسکی حرکتیں کبهی نہیں سدهر سکتیں یہ کسی دن پٹے گا میرے ہاتهوں….”
مصطفی غصے سے بولا تها اور کام میں متوجہ ہوگیا جبکہ شہرام احتشام کے پیچهے گیا تها یقیناً آج بستی کچھ زیادہ ہوگئی تهی

“پریہان کا شامی کباب یہاں بیٹها ہے میں پورا گهر ڈهونڈه رہا تها…..”
شہرام پچهلی سیڑهیوں میں بیٹهے احتشام کے پاس بیٹهتے ہوئے بولا
“شہرام بهائی آپ….”
اتنا کہ کر چہرہ جهکا گیا
“ناراض ہو مصطفی سے….؟”
“نہیں تو…”
وہ دوسری طرف دیکهتے ہوئے بولا
“جانتا ہوں زیادہ ڈانٹ دیا پر یار خود ہی اپنے گانے پر غور کرو…..”
“تو آپ سب نے ہی کہا تها…”
وہی معصومیت…..
“اچها چل غصہ چهوڑ….”
اسنے اسکے کنفهے کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا

“ہاں جیسے میں تو غصے میں رہ سکتا ہوں دراصل بیستی کی خیر ہے بهائی کم از کم میری منکوحہ کا ہی خیال کر لیتے….”
ہائے معصومیت شہرام تو غش کهاتا رہ گیا
“مطلب ایک کان سے سنی دوسرے سے نکال دی…..”
وہ حیرت سے بولا
“تو اور کیا….”
وہ شرارت سے بولا

“سدهر جا احتشام….”
پیچهے سے مصطفی بولا تها جو اس سے بات کرنے آیا تها کیونکہ اسکو بهی احساس تها کہ وہ زیادہ ڈانٹ چکا تها
تو احتشام نے دانت دیکهائے
“بهائی جتنا مرضی ڈانٹ لو پر میرب کا خیال کرلیا کریں….”
اسکی بات پر وہ احتشام کے دوسری طرف بیٹها
“کہ تو ایسے رہا ہے جیسے ڈانٹ کا اثر ہو….”
اسنے اسکے کندهے پر دهپ رسید کی تو وہ ہنسا
“چلو چلتے ہیں لاونچ میں….”
مصطفی نے کہا تو وہ دونوں بهی اٹهے

“واہ نواب صاحب تو کہ رہے تهے انکی ہنسی کو ترسیں گے…….”
ان دونوں کے ساتھ احتشام کو اندر آتا دیکھ میرب نے طنز کیا
“وہ تو بس مصطفی بهائی نے معافی…مم-میرا مطلب انہوں نے کہا اب نہیں دانٹتا تو آگیا….”
مصطفی کی گهوری پر اسنے شوخی میں کہی گئی بات چینخ کی تو سب ہنس دیے اور اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئے
………………………….
شہرام شیشے کے سامنے نگ سگ سا تیار کهڑا تها اور بالوں کو ہاتهوں کی مدد سے سہی کررہا تها پولیس یونیفارم میں ہمیشہ کی طرح وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تها کہ دروازے سے پریہان اندر داخل ہوئی

“واہ آج سورج کہیں مغرب سے تو نہیں نکلا پریہان شرام نے ہمارے کمرے کو شرم بخشا….”
اسنے پیطهے ڈریسنگ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بنا کچھ کہے اسکے سینے سے آلگی
“لگتا ہے واقع سورج مغرب سے نکلا ہے….”
اسنے اسکے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے کہا لیکن وہ خاموش رہی

“کیا ہوا کوئیں چپ ہو اور خریت….؟”
اسنے اب کے اسکے سر پر پیار کرتے ہوئے پوچها
“آپ آج فری ہیں کیا….؟”
“ہمممم شام چار بجے تک ہو جاوں گا….”
“مجهے سینیما لے چلیں گے میرا فلم دیکهنے کو بہت دل ہے بابا نے منع کیا ہے کہ اکیلی نہیں جانا اور آبریش میرب نے انکار کردیا ہے احتشام ڈرامے کرتا ہے میں نے اسکے ساتھ نہیں جانا….”
اسنے معصومیت سے کہا

“اووو تو کام ہے اسی لیے یاد کیا ہے مجهے لگا میری بیوی کو اپنے معصوم شوہر پر ترس آیا ہے تو آئی ہے….”
اسنے اسکو پیچهے کرتے خفگی سے کہا
“شہرام…”
“اچها ٹهیک ہے….”
وہ سنجیدگی سے اسکی بات کاٹ کر بولا
“ناراض ہوگئے….؟”
“میں کیوں ہونے لگا…”
“شہرام مجهے آپکے ساتھ جانا تها اسی لیے آپکے پاس آئی ہم کہیں اور چلے جائیں گے جہاں آپ کہیں…..”
وہ جلدی سے بولی تو شہرام نے مسکراہٹ دبائی
“اچها….”
وہ ایک لفظ میں بولا
“شہرام مت کریں نہ ایسا….”
وہ اسکا ہاتھ تهامے رونے والی شکل بناتے ہوئے بولی تو اسکی شکل دیکھ کر شہرام کی ہنسی چهوٹ گئی اور اسکو گلے سے لگایا

“ہاہاہاہاہا میری شرارتی بیوی مزاک کررہا تها…..”
اسکی بات پر اب اسنے پیچهے ہوتے خفگی سے اسکو دیکها اور پهر اسکو ہنستا دیکھ خود بهی ہنس دی
“ڈمپل یہ مجهے دے دو….”
وہ محبت سے بولا
“میں تو ساری آپکی ہوں یہ ڈمپل کیا چیز ہے…..”
وہ بهی اسی کے لہجے میں بولی تو وہ کهل کر ہنسا
“بہکاتی ہو تم مجهے….”
اسکا ہاتھ تهامتا باہر چلا گیا تو وہ ہنس دی
………………………….
میرب کندهے پر بیگ لٹکائے کمرے سے نکلی کہ کسی نے اسکو کهینچ کر دوسرے دوبارہ اسی خے کمرے میں لایا تها
“احتشام یہ کیا بدتمیزی ہے…”
وہ اسکو گهورتے ہوئے بولی
“کل بڑا ہنس رہی تهی شوہر کی بستی پر….”
اسنے اسکا حجاب میں لپٹا چہرہ دیکها
“ہاں تو تمہاری حرکتیں ہی ویسی ہیں اور تمہیں کونسا بستی لگتی….”
اسنے ہنستے ہوئے کہا
“زیادہ نہیں ہنسی آتی….”
اسنے اسکو کمر سے کهینچ کر پاس کرتے ہوئے کہا تو وہ گڑبڑائی

“احتشام چهوڑو مجهے….”
اسنے اپنا آپ چهڑوانا چاہا
“اب ہنسو….”
“احتشام پلیز…..”
وہ منت پر اتری
“میرا تو ارادہ نہیں چهوڑنے کا….”
“تم بہت برئے ہو….”
وہ خفگی سے بولی

“ہاں جانتا ہوں تم ناراض ہو کہ اتنا ان رومینٹک شوہر ملا ہے جب سے نکاح ہوا ایک عدد کس تک نہیں کی ہاں ان رومینٹک تو ہوں میں بٹ اب بیوی کے سامنے کیا شرمانہ…..”
کہتے ساتھ بنا اسکو موقع دیے دونوں گال چومے تهے اسکے گال دهک اٹهے تهے وہ دل تیز تیز دهڑکنے لگا

“مم-میں نے ایسا کب کہا….؟”
وہ گڑبڑائی
“اچها مطلب اتنا سا پیار پسند نہیں آیا….”
کہتے ساتھ اسنے اسکا ماتها چوما تها
“احتشام پلیز…..”
وہ اسکی بڑهتی جسارتوں سے گهبرا کر بولی
“مطلب یہ بهی پسند نہیں آیا ایک اور آئیڈیا ہے میرے پاس….”
کہتے ساتھ اسکے لبوں پر جهکا اور اسکے لفظوں کو قید میں لے لیا وہ اسکی گرفت میں مچلنے لگی وہ جیسے مچلتی گرفت سخت سے سخت ہوتی آخر ترس کها کر اسنے اسکو آزاد کردیا
جب پیچهے ہوا تو وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی
چہرہ شرم سے سرخ ہوچکا تها

“یہ چهوٹی سی سزہ نیکسٹ ٹائم بڑی سزہ ملے گی ڈئیر وائفی اور نیچے آو پهر چلتے ہیں یونیورسٹی…..”
کہتا اسکے کمرے سے نکل گیا پیچهے اپنا شرمایا سرخ عکس شیشے میں دیکهتی خود ہی شرما دی
“اوفف احتشام آپ بهی رومینٹک ہیں ورنہ آپ جیسا ان رومینٹک بندہ میں نے کبهی نہیں دیکها تها خیر اوففف….”
خود سے بڑبڑاتی بیگ اٹهاتی کمرے سے باہر نکلی
………………………….
“ہاں حارز کیا وہ آہم خبر تهی…..”
اسنے حارز کے پاس بیٹهتے ہوئے کہا وہ اب پریہان کو گهر ڈراپ کرتا اسکے پاس آیا تها رات کے آٹھ بج گئے تهے پریہان خے ساتھ گهومتے گهومتے

“معارج تین دن بعد لڑکیوں کی سپلائے کرنے والا ہے….”
اسنے سپاٹ لہجے میں کہا
“خبیث انسان….”
شہرام غصے میں بڑبڑایا تها
“کہاں سپلائے….؟”
“یہ نہیں بتایا اس نے مجهے اسنے کہا ہے جتنے کم لوگوں کو معلوم ہوگا اتنا ہی وہ لوگ بچ سکیں گے یہ اسکو اور اسکے ایک خاص آدمی کو معلوم ہے بس….”
اسنے سنجیدگی سے کہا

“کہیں تیرے پر شک تو…؟”
وہ بات ادهوری چهوڑ گیا
“نہیں اگر ہوتا وہ مجهے اتنی آہم ڈیل کبهی مت بتاتا….”
“تو تیرا کیا کام ہے…..؟”
“میرا کام جس یونیورسٹی میں ہوتا ہوں وہاں کی لڑکیوں کو اغواہ کروانا ہے اسکے بعد اور بهی دوسری یونیورسٹیز کی لڑکیوں کا کام دوسرے لوگوں پر زمے ہے ہم یہ اپنی فورس کے ذریعے نہیں روک سکتے…..”
اسنے تفصیل سے اسکو آگاہ کیا

“ہمیں کچھ کرنا ہوگا ان لڑکیوں کو بچانا ہوگا ہر حال میں…..”
“کیا حل ہے کوئی تیرے پاس…؟”
حارز کی بات پر اسنے سیگرٹ سلگائی تهی مطلب وہ اب سوچ رہا ہے

“ہاں ایک کام ہو سکتا ہے….”
اسنے تقریباً پانچ منٹ بعد کہا
“کیا….؟”
“اگر ان لڑکیوں میں تو پریہان….”
“نہیں شہرام کبهی نہیں….”
وہ شہرام کی بات بیچ میں ٹوک کر بولا
“اسکے علاو کوئی حل نہیں اگر ایسا کریں گے تو ہی ہم ان سب کو بچا سکیں گے….”
وہ تحمل سے بولا
“تو اسکو خطرے میں ڈالے گا اسکی زندگی خطرے میں مت ڈال….”

“اور وہ جو لڑکیاں ہیں انکی زندگی کا کیا…..؟”
“تو جزباتی ہو رہا ہے وہ تیری بیوی ہے….”
وہ اسکو احساس دلا رہا تها کہ جزبات میں بہ خر کوئی قدم مت اٹهائے جس سے نقصان ہو
“وہ بهی کسی کی بیوی بیوٹی ماں بہن ہوگی…حارز یہی حل ہے ورنہ ہم اسکی ڈیل کو ناکام نہیں بنا سکتے صرف ایک ہی حل ہے…..”
اسنے اسکو سمجهانا چاہا

“شہرام پریہان کیا مانے گی مطلب….”
وہ پریشانی سے بولا
“فکر مت کرو میں اس سے بات کروں گا تم پریشان مت ہو مجهے یقین یے وہ سمجهے گی…..”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا
“اور مصطفی کو بتاو گے…..؟”
حارز نے اب اس سے یہ سوال پوچها
“تجهے کیا لگتا ہے….؟”
اسنے الٹا اسی سے سوال کیا
“مجهے لگتا یے بتا دینا چاہیے وہ ویسے بهی ہمارے ہر کام سے واقف ہے اسکو بتانا چاہیے وہ بهی کوئی حل پیش کرئے گا…لیکن کیا وہ پریہان جی والے پلین سے متفق ہوگا…..؟”
اسنے آخر میں پهر سوال کیا

“فکر مت کرو اسکو مجھ پر پورا یقین ہے میں جو بهی کروں گا سہی کروں گا وہ جانتا ہے میں پریہان سے بہت محبت کرتا ہوں اسکو خطرے میں ڈالا ہے تو ضرور کچھ سوچا ہوگا…..”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا

“کب بتائے گا….؟”
“آج رات پریہان سے بات کروں گا کل ہم مصطفی سے بات کریں گے اسکی خبر صرف گل خان اور علی کو ہو اگر پریہان مان گئی کل ہم پریہان خے ساتھ مل کر پلین بنائیں گے ڈونٹ وری….”
اسکی بات پر وہ متفق ہوا اور عذوبہ کی لائی گئی چائے پینے لگے