Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“پریہان جی….”
پریہان جو اپنے دهیان میں گراونڈ کی طرف جارہی تهی جہاں اسکی فرینڈز اسکا انتظار کررہی تهیں کہ کسی نے اسکو پیچهے سے آواز دی جانی پہچانی آواز پر ٹهنڈی آہ بهرتی پیچهے مڑی اور سینے پر ہاتھ باندهتی اسکو دیکهنے لگی
“جی کیا ہے….؟”
اسکو یوں خاموش پاکر پریہان نے جهنجهلا کر پوچها
“لیکچر تو فری ہے کیا آپ میرے ساتھ ایک کپ چائے پئیں گی اگر اپ چاہیں….”
اسنے ہچکچاتے ہوئے پوچها اور اخر میں اس سے پوچها کہ کہی وہ برا ہی نہ منا جائے اسکی بات پر اسنے اسکی طرف دیکها اور پهر دوسری طرف
“لیکن….”
“پلیز…..”
حازق پریہان کی بات بیچ میں ٹوک کر بولا تو پریہان کو ہار ماننی پڑئی اور کنٹین کی جانب چل دئیے
“مس پریہان آپ مجھ سے اتنا دور کیوں بهاگتی ہیں……”
حازق نے چائے کی چسکی لیتے پریہان سے پوچها
“کیونکہ آپ یہ بات اچهے سے جانتے ہیں میں آپکو پسند نہیں کرتی….”
دوٹوک انداز تها
“تو ساتھ رہیں گی کرنے لگیں گی میں اتنا بهی برا نہیں….”
اسکی بات پر پریہان نے اسکو دیکها گوری رنگت بلیک آئیز ہلکی ہلکی داڑهی بڑی بال جسکو نفاست سے سیٹ کیا ہوا وہ واقع ہی اتنا برا نہ تها لیکن سامنے پریہان ملک تهی جو دل و جان سے بهی زیادہ شہرام سے محبت کرتی تهی بهلا شہرام کے مقابلے میں اسکو کوئی اچها لگ سکتا تها یہ سوچتی اسنے چہرہ جهکایا تها

“ہاں اتنے بهی برے نہیں ہو لیکن حازق….”
اتنا کہ کر ٹهہری تهی اور حازق کی طرف دیکها جو بغور اسکے جواب کا منتظر تها
“لیکن حازق میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں……”
اسنے بنا ہچکچائے اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا
“آپ…آپ مزاق کررہی ہیں…؟”
“تمہیں میرے چہرے سے کہی سے بهی لگتا ہے میں تمہیں مزاق کررہی ہوں….”
پریہان نے چائے کا آخری سپ لیتے اس سے پوچها تو وہ نفی میں سرہلاگیا
“تو بس پهر جس سے میں محبت کرتی ہوں اسکو تمہارا علم ہوا تو تو وہ تمہیں چهوڑے گا نہیں…”
یہ کہتی بیگ کندهے پر لٹکاتی رکی نہیں تهی وہاں سے چلی گئی حازق کی نظروں نے اسکا دور تک تعاقب کیا تها
“ہونہہ چهوڑے گا نہیں شہرام کا بچہ…”
استہزایہ ہنسا تها اور فون نکالا تها
“ہیلو معارج صاحب سے بات کرنی ہے…”
اسنے کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا
“معارج صاحب بزی ہیں….”
دوسری طرف سے کسی نے کہا
“ان سے کہو حازق کا فون ہے ساری مصروفیت چهوڑ کر بات کریں گے….”
اسنے چباتے ہوئے کہا تو اسنے اوکے کہتے معارج سے اسکا زکر کیا اور ایسا ہی ہوا معارج کام چهوڑ کر اس سے بات کرنے لگا
“بول حازق….”
“معارج صاحب اس بلبل کے پر کاٹنے پڑیں گے اس ایس پی کی رانی بہت اڑ رہی ہے….”
اسکی بات پر معارج کا قہقہ لگا
“فکر مت کر اس ایس پی سے بدلا باقی ہے اسنے میرے مین اڈے کو تباہ کردیا میں اسکی بلبل کو ہی استعمال کروں گا اسکے خلاف….”
“معارج صاحب وہ شہرام کی جان ہے مجهے نہیں لگتا شہرام اسکو آنچ تک بهی آنے دے گا یقین اسنے اسکی پروٹیکٹ کیلیے لوگوں کو متعین کیا ہو…..”
اسکی بات پر معارج سوچ میں پڑگیا
“بات تو پتے کی کی ہے لیکن معارج جو چاہتا ہے وہ کرکے رہتا ہے بس تو اس بلبل پر نظر رکھ باق کام میرے ہیں….”
یہ کہ کر اسنے فون بند کردیا تها اور حازق بند فون کو دیکهنے لگا اسکے چہرے پر ایک دم سے مسکراہٹ پهیلی تهی اور اسنے کچھ سوچ کر ایک میسج کسی کو سینڈ کیا تها
………………………….
شہرام گهر میں بنی لائبریری میں موجود کسی کتاب کا مطالع کررہا تها کہ ایک دم سے دروازہ کهلنے اور پهر دروازہ لاک ہونے کی آواز آئی آواز پر پلٹا تو اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا کیونکہ وشما تهی برا سا منہ بناتے دوبارہ کتاب پر دهیان دیا کیونکہ جانتا تها اب یہ بکواس ہی کرئے گی

وشما شہرام کی پشت اپنی طرف دیکهتی اسکو پیچهے سے ہگ کیا تها شہرام کا صفحہ پلٹتا ہاتھ رکا تها اسکو وشما سے ایسی امید بالکل بهی نہ تهی غصے سے اسکے حصار کو توڑتا پلٹا تها اور بنا موقع دئیے ایک تهپڑ اسکے منہ پر رسید کیا تها کہ اس اچانک افتاد پر وہ سنبهل نہ سکی اور لڑکهڑا کر نیچے گرئی منہ پر ہاتھ رکهتی اسنے شہرام کو دیکها جو شعلہ برساتی آنکهوں سے اسکو ہی دیکھ رہا تها

“تمہاری شرم بالکل مرگئی ہے وشما….”
وہ اسکو دیکھ کر چلایا تها اسکے یوں چلانے پر بهلا وہ کیسے خاموش رہتی ایک دم سے اٹهتی آکر اسکے گریبان سے پکڑا تها
“ہاں مرگئی ہے شرم..مرگئی ہے…..”
وہ بهی اس سے دگنا چلائی تهی
وہ تو شکر تها کہ لائبریری اتنی بری تهی اور ساونڈ پروف تهی کہ آواز باہر نہیں جاتی تهی
“اپنی اوقات میں رہو وشما ورنہ تمہاری اوقات یاد دلانے میں ایک پل کی بهی دیری نہیں لگاوں گا……..”
اسنے اپنے گریبان سے اسکے ہاتھ سختی سے ہٹاتے ہوئے کہا
“میں اپنی اوقات میں ہی ہوں ایس پی شہرام ملک اور….”
اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی شہرام نے سختی سے اسکے بازووں کو پکڑا تها کہ وہ کراہ اٹهی تهی کیونکہ شہرام نے اسکو وہاں سے پکڑا تها جہاں گولی لگی تهی
“شرم کرلو کچھ تو دوسروں کے سامنے شرافت کا ڈهونگ رچنے والی میرے سامنے شرافت کے سارے پردے چاک کرچکی ہے…..”
اپنی لہو زد آنکهیں اسکی آنسووں بهری آنکهوں میں گاڑتے ہوئے اسنے ایک ایک لفط چبا کرکہا
“تمہارے سامنے ہی کئیے ہیں نہ کسی اور کے سامنے تو نہیں نہ کئیے…..”
بےشرموں کی طرح مسکراتی اسنے اسکی آنکهوں میں دیکهتی اسکو مزید تپا گئی تهی
“کچھ شرم باقی ہے تو میری نظروں سے دور ہوجاو بےشرم عورت……”
اسنے افسوس سے کہ کر ایک جهٹکے سے اسکے بازووں کو چهوڑا تها
“میری بےشرمی نظر آرہی ہے اور میری محبت وہ……”
اسنے ایک قدم اسکی طرف لیتے ہوئے کہا
“محبت..محبت نہیں حوس ہے یہ اس حوس کو محبت کا نام دینا حماقت ہوگی تم صرف اپنی حوس پوری کرنا چاہتی ہو بس اور کچھ نہیں…..”
اسنے غصے سے اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا
“حوس ہی سہی کردو پوری….”
اسنے اپنی شرٹ کا پہلا بٹن کهولتے ہوئے کہا تو شہرام نے غصے سے اسکے بازووں کو مڑوڑتے ہوئے پیچهے کمر کے ساتھ اتنی بےدردی سے لگائے تهے کہ وہ درد سے بلبلا اٹهی
“کیوں گناہ گار بن رہی ہو اور مجهے بهی اس گناہ میں ملوث کرنا چاہتی ہو تم جیسی حوس پرست عورتوں کا ٹهکانا صرف جہنم ہے…..”
اسنے اسکے بازووں کو مزیں مڑوڑتے ہوئے کہا کہ وشما کہ کاجل بهری انکهوں سے آنسووں نکلے تهے
“تم سے میری جنونیت اس قدر بڑه گئی ہے کہ اب واپسی کی کوئی امید نہیں نہ کوئی راہ ہے……”
اسنے درد بهرے چہرے سے اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا
“مجھ سے دور رہو باخدا قسم زندہ دفنادوں گا…..”
اسنے غصے سے چباتے ہوئے کہا
“دفنا دو تمہارے بنا ویسے بهی زندگی مشکل ہے……”
اسنے بےشرمی سے کہا
“عورت کو اسکی حد پتا ہونا چاہیے مس وشما جو دوسروں کے سامنے بےباکی سے کام لیتی ہیں وہ اکثر دوسروں کی خواب گاہ میں موجود ہوتی ہیں…..”
“تو ہونا چاہتی ہوں نہ میں تمہاری خواب گاہ میں موجود اور دیکهو..دیکهو تم بهی دور نہیں رہ سکتے مجھ سے تکلیف کے بہانے چهوا تو سہی…..”
انکهوں میں درد ہونے کے باوجود ہونٹوں پر مسکراہٹ تهی
“پاگل ہو کیا تم…..؟”
اسنے غرا کر کہا
“ہاں پاگل ہوں بالکل تمہارے لیے…”
پاگل بنے کی حد کو چهورہی تهی وشما
“تو دفن ہوجاو اس پاگل پن میں ہی….”
غصے سے اسکو چهوڑتا وہاں سے چلا گیا تها اگر وہ کرسی کا سہارا نہ لیتی تو یقین دوبارہ گرجاتی

“تم میری بارہا توہین کرتے ہو ایس پی شہرام تم سمجهتے ہو وشما سے دور بهاگ جاو گے وشما نے تمہارے لیے خود کو اتنا جنونی بنالیا ہے کہ اب اسکو اپنی عزت تک کی پرواہ نہیں اگر تم مجهے نہ ملے تو اس ہستی کو مٹا دوں گی جسکے بارے میں تم سوچو گے….”
غصے سے کہتی اپنے حلیے کو دیکها ٹائیٹس کے اور شارٹ فراک سیولیس بازو اور سرخ لپ اسٹک بالوں کو کهلے چهوڑے وہ اسکے لیے اتنا سج کر ائی تهی ورنہ وہ تو سبکے سامنے سادہ حلیے میں رہتی تهی اسکو اب یہاں سے نکلنا تها کسی کی بهی نظروں میں یوں اس بےباک حلیے میں ائے بغیر اسنے اپنے ہونٹوں سے لپ اسٹک رگڑی تهی جو کے اردگرد بهی پهیل گئی تهی اسنے اپنے کندهے پر موجود سٹرپ کو دیکها جو ہلکا سا جهٹکا دینے سے کهل سکتی تهی غصے سے مٹهیاں بند کی
“میں تمہارے لیے یوں آئی تهی اور تم….”
خود سے بڑبڑاتی خود بهی باہر چلی گئ
………………………….
“یار کچھ کهلا ہے دو….”
آبریش جو اسکی الماری کے کپڑے سیٹ کررہی تهی مصطفی کی بات پر پلٹ کر اسکو دیکها جو بیڈ پر نیم دراز تها اور سائیڈ پر لیپ ٹاپ پڑا تها جس پر کام کررہا تها
“کیا کهانا ہے….؟”
اسنے الماری کے پٹ بند کرتے ہوئے کہا
“وہ سنا نہیں گانا سیلی کیندی میٹهے وچ کی لوو گے میں وی چٹ دے نے آکه دیتا پاریاں….”
آخر میں اسنے فلائنگ کسی بهی دی تهی کہ آبریش نے گهورا
“بےشرمی کا اگر آیوارڈ ہوتا نہ تو مسٹر مصطفی وہ ایوارڈ آپکو ہی ملتا….”
اسنے گهورتے ہوئے کہا
“چلو شکر کرو یہ ایوارڈ بهی تمہارے شوہر کے نصیب میں ہوتا……”
وہ بهی آگے مصطفی تها شرم جسکو کبهی انی ہی نہیں تهی
“پورے بےشرم پائے گئے ہیں آپ….”
“الحمدللہ….”
اسنے مسکرا کر آنکھ مارتے ہوئے کہا تو وہ گهورتی ہوئی باہر چلی گئی لیکن پیچهے سے اسکو مصطفی کا قہقہ ضرور سنائی دیا تها