No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
“اووفف شامی کباب کے بچے اٹهو نہ یار میری آج فرسٹ کلاس ہونی ہے…..”
پریہان کب سے احتشام کو کہ رہی تهی جو کان ہی نہیں دهر رہا تها سکون سے کهانے میں مصروف تها
“احتشام…….”
اسنے رونی شکل بناتے ہوئے کہا ایک تو اسکی واقع کلاس تهی دوسرا یہ شہرام کے نیچے آنے سے پہلے گهر سے نکل جانا چاہتی تهی شہرام کا سامنا کرنا اب اسکے لیے دهوبر ہوگیا تها
“ہاں جی میری بڑی بہن مجهے کچھ کہا….؟”
اسنے سلائس اٹهاتے ہوئے اسکی طرف دیکھ کر سیریس انداز میں کہا لیکن آنکهوں میں شرارت ناچ رہی تهی
“چل نا احتشام….”
اسنے اسکے بازو سے کهینچتے ہوئے کہا تو سب ہنس دیے
“چلو چلتے ہیں….”
احتشام نے سلائس اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا جس سے پریہان نے بائٹ لی اور باقی احتشام نے کهایا اور آٹھ گیا جانے کیلیے تو پریہان نے سکھ کا سانس لیا
………………………………
“شامی کباب وہ میرب ہے نہ…..”
پریہان نے گیٹ سے اندر انٹر ہوتی میرب کو دیکھ کرکہا جسکو احتشام الریڈی دیکھ چکا تها
“ہاں وہی ہے اسکا تو آج دماغ سیٹ کرتا ہوں…..”
اسنے یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا میں کار پارک کرتے ہوئے کہا
“تونے کلاس نہیں لینی…..؟”
اسنے اسکی طرف گهومتے ہوئے کہا
“فری ہے فرسٹ کلاس…..”
اسنے ہاتھ سٹیرنگ پر جمائے میرب پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا
“پر اسکی تو ہوگی نہ کلاس….”
اسنے سمجهداری کا مظاہرہ کیا اور احتشام نے میرب سے نظریں ہٹاتے اسکو گهورا تها
“شاید ہماری ایک ہی کلاس ہے…..”
اسنے چباتے ہوئے کہا تو پریہان نے سر کهجایا
“چل جلدی کر مجهے دیر ہورہی ہے…..”
پریہان نے بیگ اٹهاتے ہوئے کہا
“کائنڈلی آپ اتریں میڈم کار اپنی جگہ پر کهڑی ہے….”
اسنے گهورتے ہوئے کہا تو پریہان نے دانت دیکهائے
“بدتمیز کمینہ….”
اسکو زور سے بیگ مارتی فورا کار سے باہر نکلی اور فل سپیڈ سے بهاگی تهی کیونکہ وہ ابهی احتشام کے ہاتھ نہیں لگنا چاہتی تهی اور پیچهے احتشام اپنا بازو مسلتا ہوا کار سے باہر نکلا اور بیگ نکالتا کندهے پر لٹکاتا میرب کی طرف قدم بڑهائے
میرب بڑے آرام سے بیگ میں کچھ ڈهونڈهتی آہستہ آہستہ جارہی تهی کیونکہ آج کلاس نہ تهی کہ احتشام نے اسکو بازو سے کهینچ کر اپنے سامنے کیا اس اچانک افتاد پر میرب بوکهلا گئی
“کل کیوں نہیں آئی آئی مین پرسوں….؟”
اسکے اس اچانک پڑنے والے سوال سے میرب گڑبڑا کر رہ گئی تهی اسنے اردگرد دیکها یہاں کم لوگ ہی موجود تهے
“پ-پلیز احتشام چچ-چهوڑیں…..”
اسنے التجا کی
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں….”
اسنے دانت کچاتے ہوئے کہا
“پلیز…..”
یہ کہ اسنے اپنا بازو چهڑوایا تها اور وہاں سے تیز تیز قدم لیتی جانے لگی احتشام ٹهنڈی آہ بهرتا اسکے پیچهے بهاگا اپنا بیگ گهاس پر پهینکتا اسکا بازو پکڑ دوبارہ اپنی طرف کهینچا تها
“کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں بهاگ رہی ہو مجھ سے دور….”
آواز میں غصہ تها
“آپ اگر چاہتے ہیں میں یہ یونیورسٹی بهی چهوڑ دوں تو بتادیں یوں بہانے تو تلاش نہ کریں….”
اسنے آنکهوں میں آنسووں لیے کہا اس جگہ پر اکا دکا ہی لوگ تهے
“یہ فضول بکواس کیوں کرتی ہو….”
اسنے اسکے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے ہوئے کہا
“یہ بکواس نہیں ہے….”
اسنے آنکهیں زور سے بند کرکے کہا
“یار محبت کرتا ہوں میں تم سے….”
اسنے بےبسی سے کہا
“مت کریں نہ…..”
اسکی اواز میں دگنی بےبسی تهی
“کیوں….؟”
“میں آپکے قابل نہیں میرے اور اپکے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے…”
اسکی بات پر احتشام نے غصے سے اسکا دوسرا بازو بهی دبوچا تها
“تمہارا دماغ خراب ہے کیا اس دماغ میں ایک بات گهستی نہیں تمہارے میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں مجهے ہمافے سٹیٹس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میری بہن کو بهی تم پسند آئی ہو اور تم ہو کہ….”
اسکا بس نہیں چل رہا تها کہ میرب کو کچھ کردے
“یو ڈیزرو بیٹر….”
اسنے نم آواز میں کہا
“آئی اونلی ڈیزرو یو سمجهی اب میں تم سے بات بهی نہیں کروں گا تمہیں مجھ سے اتنا مسئلہ ہے میری محبت سے اتنا مسئلہ ہے اب صرف تب ہی بات ہوگئی جب تم پورے حق سے میرے کمرے میں موجود ہوگی…..”
غصے سے اسکے بازووں کو جهٹکا دیتا بیگ زمین سے اٹهاتا وہاں سے چلا گیا اور کنٹین میں چلا گیا اب جانتا تها کسی لیکچر میں بهی اسکا دل نہیں لگنا تها
………………………………
“کین آئی کم ان سر….؟”
گل خان نے اجازت طلب کی
“یس کم ان گل خان….”
شہرام نے فائل پر نظریں گاڑتے ہوئے اجازت دی
“سر معارج صاحب کے لوگ ائے ہیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں….”
اسکی بات پر فاتحانہ مسکراہٹ لیے اسنے گل خان کو دیکها
“تو بهیجو انکو….”
اسنے کہنیاں ٹیبل پر ٹکاتے ہوئے کہا تو وہ تابعداری سے سرہلاتا باہر چلا گیا
“اوو تو ہے یہاں کا نیا ایس پی…..”
ان دو آدمیوں میں سے ایک آدمی بولا
“ہاں کیوں کوئی شک…..”
اسنے دونوں ہاتهوں کی انگلیاں آپس میں پهنساتے ہوئے کہا
“نہیں ایس پی بس معارج صاحب کے اصولوں کے مطابق چلنا…..”
ان میں سے دوسرا آدمی بولا
“کیوں تم لوگوں کے معارج صاحب میرا باپ لگتا ہے….”
“اوئے زبان سنبهال کر بات کر…..”
ایک کی اواز گونجی
“نہیں کرتا کیاکر لے گا…….”
شہرام نے کرسی پر جهولتے ہوئے کہا
“شرافت سے رہنا یہاں ورنہ…..”
“ورنہ کیا….؟”
اسکی بات بیچ میں ٹوک کر بولا
“ورنہ انجام اچها نہیں ہوگا…..”
اسنے انگلی اٹها کرکہا
“انگلی نیچی کرکے بات کر میرے سامنے کیونکہ میں انگلی توڑنے میں ایک پل کی دیری نہیں لگاوں گا بےشک تو معارج کا آدمی ہو یا پرائم منسٹر کا…”
اسنے اطمینان سے کہ انکو طیش دلایا تها
“اوئے ایس پی تمیز سے بات کر ورنہ تیرا ٹرانسفر ایسی جگہ کرواوں گا تجهے تیرا باپ یاد اجائے گا….”
“تیری اتنی اوقات نہیں تو میرا ٹرانسفر کروائے اور نکلتا بن یہاں سے….”
اسنے انگلی اٹهاتے انکو آوٹ ہونے کا اشارہ کیا تو انہوں نے جو معارج سے کال ملا کر فون جیب میں رکها تها اور وہ سب سن رہا تها فون نکال کان سے لگایا
“صاحب اس ایس پی کی دو گز لمبی زبان تو سن ہی لی ہوگئی….”
ان میں سے ایک نے شہرام کو گهورتے ہوئے کہا جو خوبصورت مسکراہٹ لیے انکو ہی دیکھ رہا تها
“ہمارے سرکار تمہیں ملنے کو بلارہے ہیں….”
اس آدمی نے فون کان سے ہی لگائے ہوئے کہا
“تیرے باپ کا نوکر نہیں جو دو ٹکے کے لوگ بلائیں اور میں بهاگتے ہوئے جاوں بات کس نے کرنی اسنے تو وہ خود آئے میں تو نہیں جانے والا….”
اسنے سر پیچهے ٹکائے جهولتے ہوئے دل جلانے والی مسکراہٹ پیش کرتے ہوئے کہا تو وہ جل بهن ہی گئے اور اس ادمی کو معارج نے دوسری طرف کیا کہا تها کہ یہ فون جیب میں رکهتا گهورتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور پیچهے شہرام کے ماتهے پر بل پڑئے تهے
“تم دیکهتے جاو میں کیا کرتا ہوں…..”
یہ کہتے اسنے دوبارہ فائل کهولی تهی
………………………………
احتشام کنٹین میں بیٹها بیٹها اکتا گیا تها اسکو تقریبا ایک گهنٹہ ہوگیا تها اب اسکا سر بهی پهٹ رہا تها اسنے آٹھ کر کنٹین سے نکلتے ہوئے پریہان کو فون کیا
“ہاں بولو احتشام کیا ہوا….”
وہ جو دوسری کلاس لینے جارہی تهی احتشام کا فون دیکھ اسکو حیرت ہوئی
“کتنے لیکچر ہوگئے ہیں اور کتنے رہ گئے ہیں….؟”
“ایک ہوگیا ہے دوسرا لینے جارہی ہوں دو رہ گئے ہیں….”
“میں گهر جارہا ہوں اگر انا ہے تو آجا ورنہ میں ڈرائیور کو بهیج دوں گا….”
اسنے ماتها مسلتے ہوئے چلتے ہوئے کہا
“کیوں خریت تم نے کلاس نہیں لینی…؟”
پریہان چلتی چلتی رکی
“نہیں سر درد ہے آچها آنا ہے یا ڈرائیور بهیجوں….؟”
“میں آرہی ہوں….”
کندهے اچکاتی فون رکها اور دوستوں سے کہتی وہاں سے چلی گئی
………………………………
“یار فائل گهر بهول گیا ہوں…..”
رامز کمرے میں داخل ہوتا زرش سے بولا
“میں نے صبح سامنے ہی رکهی تهی آپ بهول گئے….”
اسنے فائل اسکو تهماتے ہوئے کہا
“ہائے تمہیں کتنا خیال ہے نا…..”
اسنے فائل پکڑ کر بیڈ پر رکهتے اسکے ہاتھ تهام کر کہا
“جی بہت خیال ہے پر فلحال ابهی کام ہے سو جائیں واپس آفس….”
اسنے اسکا ارادہ بهانپتے اپنے ہاتھ چهڑواتے ہوئے کہا
“یار زر چلا جاتا ہوں….”
اسنے مڑ کر دروازہ لاک کرتے ہوئے کہا تو زرش جانے لگی کے رامز نے اسکے کمر سے کهینچ کر پیچهے کیا
“ایسے کیسے جاناہے یار تم نے…..”
اسنے اسکے کان میں سرگوشی کی اور جهکا اس سے پہلے جهکتا سعد کے رونے کی آواز اسکے کانوں میں پڑی اور پیچهے ہوتا بیڈ پر لیٹے سعد کو دیکها
“یار تجهے کیسے معلوم ہوجاتا ہے کہ میں اپنی بیوی کے پاس جارہا ہوں آلینے دے تیری بیوی…..”
اسنے ایک سالہ سعد کو گهورتے ہوئے کہا تو زرش اسکی بات سن کر ہنسی اور رامز اسکو بهی گهورتا فائل اٹهاتا کمرے سے نکل گیا پیچهے زرش ہنستی مسلسل روتے سعد کو اٹهایا جو اسکے اٹهاتے ہیں خاموش ہوگیا تها
………………………………
آج پریہان کے شور شرابے پر گهر میں مہندی والی آئی اور سب کو باری باری مہندی لگارہی تهی شہرام جو گهر ایا کچن سے پانی پیتا لاونچ میں جهانکا جہاں مہندی والی زرش کو مہندی لگارہی تهی اسکی نظر پریہان پر گئی جو چہرے پر آنے والے بال بہت مشکل سے چہرہ جهٹک کر پیچهے کررہی تهی اور اپنی مہندی کو دیکھ دیکھ کر خوش ہورہی تهی شہرام یک ٹک اسی کو دیکھ رہا تها ہ
پهر انکهیں زور سے میچتا وہاں سے چلا گیا لاونچ میں موجود کسی بهی شخص کو شہرام کی موجودگی کا احساس نہ ہوسکا
شہرام کمرے میں آتا زور سے دروازہ بند کیا اور لاک کرتا غصے سے یونیفارم کی شرٹ اتارتا صوفے پر پهینکی تهی اور بیڈ کے ساتھ موجود دراز سے ایک چابی نکالی تهی اور بیڈ کے بالکل سامنے موجود الماری کو اس چابی کی مدد سے کهولا تها اور سامنے الماری کو دیکھ اسکی آنکهو کو ٹهنڈک پڑی تهی کیونکہ سامنے الماری میں پریہان کی بےشمار تصویریں لگی تهیں چہرے پر حسین ترین مسکراہٹ تهی اسنے ہاتھ بڑها کر اسکی تصویروں کو چهوا تها یہ بےشک یہاں موجود نہ تها پر اسکے ہر ایک سیکنڈ کی اسکو خبر تهی یہ تصویریں اسنے تب لگائیں تهی جب یہ آبریش اور مصطفی کے نکاح پر آیا تها
تصویروں کو دیکهتا ہوا پیچهے پیچهے قدم لیتا پیچهے بیڈ پر گرا تها نظریں ہنوز پکس پر ہی تهیں اسنے بیڈ پر ہاتھ مارتے لائٹر اٹهایا تها اور جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر ایک سگریٹ نکال اسنے لبوں میں دبائی تهی اور لائٹر کی مدد سے جلائی تهی ایک بڑا کش لیتا سگریٹ کو انگوٹهے اور شہادت کی انگلی میں رکها تها نظریں ایک سیکنڈ کو بهی پریہان کی پکس سے نہ ہٹی تهیں
“تم بہت خوبصورت ہو…تم صرف میری ہو صرف ایس پی شہرام ملک کی…..”
اسکی پکس کو دیکهتے کہا اور ایک بڑا کش لگا کر دهواں ہوا میں چهوڑا تها
“تم میری دیوانگی میری جنونیت بن گئی ہو ضد محبت عشق پیار سب کچھ تم ہو شہرام ملک تم سے شروع ہو تم تک ہی ختم ہوتاہے…تم سے شادی کرکے تمہیں سب سے چهپا کررکهوں گا کسی کی نظر تم تک نہ پڑنے دوں گا یہاں تک کے گهر والوں کی بهی تم صرف مجهے سوچو مجهے سمجهو مجهے دیکهو مجهے چاہو مجھ سے ہی پیار کرو تمہیں اپنی باہوں میں قید کرکے رکهوں گا تمہیں اپنے پاس رکهوں گا اور میرے عشق کی انتہا دیکهو تو یہ ہے کہ……”
اتنا کہ اٹها تها اور چهوٹے چهوٹے قدم لیتا اس الماری کے پاس گیا تها
“میرے عشق کی انتہا یہ ہے کہ اگر تم مجھ سے دور بهاگنے کی کوشش کرو گی تو تمہیں بهی سزا دینے سے باز نہیں آوں گا تمہیں اپنا بنانے کیلیے کچھ بهی کرسکتا ہوں تمہیں ازیت بهی دے سکتا ہوں……”
اسنے دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر لا جو ہاتھ میں سگریٹ موجود تهی اسکو پریہان کی تصویر پر لگایا تها جہاں پر وہ جلتی ہوئی سگریٹ لگائی وہاں سے اسکی تصویر جل گئی تهی
“آرہا ہوں تمہیں کچھ دیر کیلیے اپنی پناہوں میں لینے کیلیے…..”
الماری لاک کرتا خود سے بڑبڑایا تها اور ساتھ والی الماری سے اپنے کپڑے نکالتا واشروم میں گهس گیا
………………………………
“مصطفی…..”
مصطفی جو گارڈن میں بیٹها لیپ ٹاپ پر کام کررہا تها اسکو کچھ سمجھ مہں نہیں آرہا تها کیا کرئے آبریش کے پاس آکر اسکا نام پکارنے پر مسکرایا اور دیکها کہ آبریش نے اپنے ہاتھ پیچهے چهپائے ہوئے ہیں
“جی میری جان….”
اسنے محبت سے لبریز لہجے میں کہا
“یہ دیکهو کیسی ہے…..؟”
اسنے اپنے مہندی سے بهرے ہاتھ اسکے سامنے پهیلاتے ہوئے کہا تو مصطفی لیپ ٹاپ سامنے ٹیبل پر رکهتا اسکے ہاتھوں کو تهاما تها
“بہت خوبصورت…..”
“اچها اس میں آپکے نام کا پہلا حرف لکهوایا ہے ڈهونڈهیں کہاں ہے….؟”
اسنے اپنے ہاتھ مزید اسکے سامنے پهیلاتے ہوئے کہا
“میرا نام…..؟”
اسنے ااپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“ہاں نہ….”
اسنے پرجوش ہوتے ہوئے کہا
“پر وہ تو یہاں ہے نہ….”
اسنے اسکے دل کے مقام پر اپنی شہادت کی انگلی رکهتے ہوئے کہا تو وہ شرماتی ہوئی چہرہ موڑ گئی
“اوفف ڈهونڈیں نہ مصطفی…..”
اسنے شرمندگی مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو مصطفی نے ہنستے ہوئے اسکے ہاتھ تهامے تهے اور اپنے نام کا پہلا حرف تلاش کرنے لگا
“یہ دیکهو…..”
اسنے تقریبا ایک منٹ بعد اسکے دائیں ہاتھ کی ہتهیلی پر موجود ایم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“اووففف میں نے اتنا چهپا کر لکهوایا تها آپ نے پهر بهی ڈهونڈه لیا….”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا تو مصطفی اسکے پاس ہوکر بیٹها
“مصطفی تمہاری قسمت تمہارے دل تمہاری روح تمہاری دهڑکن ہر جگہ موجود ہے اسکو تلاش کرنا کچھ مشکل نہیں جتنی بار تمہارا دل دهڑکتا ہے اتنی بار ہی مصطفی بهی جیتا ہے جہاں تمہاری دهڑکن رکے گی وہاں مصطفی کی رکے گی…..”
اسنے اسکے بال کان کے پیچهے کرتے ہوئے کہا اور اسکے ماتهے پر لب رکهے
“مم-مصطفی ایسے مت کیا کریں….”
اسنے ڈرتے ہوئے دهڑکتے دل کے ساتھ کہا
“کیوں….؟”
“آپ کی محبت میں کیسے سہ پاوں گی….”
اسنے اسکی آنکهوں میں دیکهتے ہوئے کہا
“تم صرف مصطفی سے محبت کرنا باقی میرا کام ہے….”
اسنے اسکے پاس جهکتے ہوئے کہا تو وہ فورا اٹھ گئی اور مصطفی سر کهجاتا مسکرا دیا
“اللہ ہی اپ سے بچائے….”
شرم سے سرخ ہوتی وہاں سے بهاگی تهی لیکن پیچهے اسکو مصطفی کا قہقہ سنائی دیا تها
………………………………
پریہان مہندی بهرے ہاتهوں کو دیکهتی اور سامنے ٹیبل پر موجود پانی کو دیکها
“کیسے پیوں….؟”
اسنے رونی شکل بناتے ہوئے خود سے ہی کہا کہ اسکو اپنے پیچهے آواز سنائی دی پیچهے مڑ کر دیکها تو شہرام دروازہ لاک کررہا تها اسکی تو روح ہی فناہوگئی
“یی-یہ کک-کیا کررہے ہیں….؟”
اسنے اسکو لاک کرتا دیکھ بوکهلا کر پوچها
شہرام دروازہ لاک کرکے پیچهے مڑہ جواب دینے ہی لگا کہ بنا دوپٹے کے موجود پریہان کو دیکھ اسکی زبان کو بریک لگی تهی پریہان کو جب محسوس ہوا کہ وہ کس حلیے میں کهڑی ہے تو دوسری طرف منہ کرلیا اور بیڈ پر موجود دوپٹے کو بےبسی سے دیکهنے لگی کہ خود ہی اڑ کر اسکے اوپر اجائے
شہرام مسکراتا ہوا پاس آیا اور بیڈ سے دوپٹہ اٹها کر پریہان کا رخ اپنی طرف کیا اسکے قیامت ڈهاتے سراپے سے نظریں چراتا اسکے شانوں پر دوپٹہ پهیلایا تها
“یی-یہ کیا طریقہ ہے کک-کسی کے کمرے مم-میں آنے کا…..”
اسنے ڈرتے ہوئے کہا
میں کسی کب سے ہوا……؟”
اسنے گال پر انگلی تکاتے سوچنے کے انداز میں کہا
“پلیز شہرام جائیں کوئی آجائے گا……”
اسنے کانپتی ہوئی آواز سے کہا
“تو آجائے ڈرتا نہیں اور ویسے بهی ڈرو نہیں لاک ہے….”
اسنے اسکی طرف قدم بڑهاتے ہوئے کہا اور پریہان پیچهے قدم لیتی دیوار کے ساتھ جالگی اسکا بس نہیں چل رہا تها دیوار کے اندر گهس جائے یا کہیں غائب ہوجائے
شہرام نے آگے بڑھ کر اسکا ڈرنا اگنور کرتا اسکے مہندی سے سجے ہاتهوں کو دیکها پریہان نے کهینچنا چاہا پر گرفت سخت تهی مہندی دیکھ شہرام کے ماتهے پر بل پڑے تهے
” میرا نام کدهر ہے…؟اس مہندی کا فائدہ جس میں میرا نام نہیں….؟”
اسنے اسکی کلائیوں پر گرفت سخت کرتے ہوئے کہا اور ٹیبل پر موجود مہندی اٹها کر اسکے بائیں ہاتھ کی ہتهیلی پر بہت خوبصورتی سے “ایس” لکها پریہان کی کسی بهی مزاحمت کو خاطر میں نا لاتے اسنے لکها تها اور لکهنے کے بعد جائزہ لے رہا تها
“اب بہت خوبصورت….”
اسنے مسکراہٹ اسکی طرف اچهالتے ہوئے کہا
“شہرام چلے جائیں پلیززززز……؟”
اسنے آنکهوں میں آنسووں لیے کہا
“کچھ کررہاہوں نہیں نہ تو ڈر کیسا….؟”
“اچها ادهر او….”
اسکو خاموش اسنے اسکو شانوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹهایا اور گلاس میں پانی انڈیل کر اسکے پاس لایا
“لو پیو….”
اسنے گلاس اسکے لبوں کے پاس لاتے ہوئے کہا تو وہ سہمی سی اسکو دیکهنےگی
“میں وہی شہرام ہوں کچھ بهی نہیں بدلا صرف اپنی محبت کا اظہار کیا ہے باقی وہی ہوں تمہارا دوست جیسے تم مزک کرتی تهی وہی سو یہ لو پیوں…..”
اسنے پیار سے آخر میں پچکارتے ہوئے کہا تو وہ پانی پینے لگی پانی پینے کے بعد اسکے گلاس ٹیبل پر رکها اور اسکو دیکهنے لگا اسکو یوں دیکهتا پاکر اسنے چہرہ جهکایا تها
“شہرام جائیں پلیز نہیں تنگ کریں مجهے….”
اسنے بےبسی سے کہا
“اور جو اتنے سالوں سے تم نے مجهے تنگ کیا ہوا ہے وہ کیا میں نے تو ابهی کچھ بهی نہیں کیا….”
اسنے اسکا چہرا تهام کر اپنے چہرے کے قریب کرتے ہوئے کہا
“مجهے آپ سے ڈر لگنے لگا ہے….”
وہ جو اسکے لبوں پر فوکس کر رہا تها اسکی بات پر نشیلی آنکهوں سے اسکی طرف دیکها
“کیوں اب میرے سر پر کچھ عجیب شے لگ گئی ہے….”
اسنے مزاک سے کہا تو پریہان نے گهورا
“اچها بولو کیوں ڈرنے لگی ہو….؟”
اسنے اسکے بال کان کے پیچهے کرتے ہوئے کہا
“میں نے کبهی ایسا تصور بهی نہیں کیا تها کہ آپ مجهے…..”
اسنے بات ادهوری چهوڑی تهی
“کیامجهے…..؟”
اسنے شرارت سے کہا تو اسنے نم آنکهوں سے اسکی طرف دیکها
“اوئے رونا نہیں مجهے صرف تمہیں چپ کروانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یقین تمہیں پسند نہیں آئے گا…..”
اسنے اسکو رونے سے باز رہنے اور پهر اخر میں شرارت سے کہا تو پریہان نے چہرہ موڑ لیا
“اچها بتاو تمہیں کیا مسئلہ ہے کیا میری محبت پر شک ہے….؟”
اسنے اسکے بالوں کو کان کے پیچهے کرتے اب سیریس انداز میں پوچها
“ایسی بات نہیں ہے لیکن میں نے اپ کے بارے میں ایسا کبهی نہیں سوچا مجهے تو ابهی بهی یہ مزاک لگتا ہے….”
اسنے نم آواز میں کہا
“میں جانتا ہوم تم شاک میں ہو اتنے ہینڈسم بندے نے پرپوز کیا….”
اسنے پهر شرارت سے کہا تو غصے سے اسکو گهورتی اسکے پاس سے اٹهی تو شہرام اسکو بازو سے کهینچے اپنی طرف کیا تها اور کمر سے کهینچ کرپاس کیا تها ایک پریہان کے ہاتهوں ہر مہندی تهی دوسرا شہرام کی قربت سے اسکے حوش اڑ رہے تهے
“آئی لویو بس اتنا یاد رکهو اور کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں اگر سوچنا ہی ہے تو مجهے سوچو صرف…”
اسنے سیریس انداز میں کہا تو وہ چہرہ جهکا گئی
“یو آر اونلی مائن اس دماغ میں بیٹها لو مجهے سختی پر مجبور مت کرنا ابهی یہ میرا پیار ہے تو پیار سے ہی سمجھ جاو سختی کروں گا تو کسی کا چہرہ تک نہیں دیکهنے دوں گا….”
اسنے ماتهے پر محبت کی مہر لگاتا باہر چلا گیا اور وہ آنسووں سے بهری آنکهیں لیے بیڈ پر بیٹهی آنسووں صاف کرنے لگی لیکن ہاتهوں پر مہندی دیکھ اور رو دی
