No Download Link
Rate this Novel
Episode 58
“شش-شہرام….”
وہ اسکو پکارتی اسے گلے سے لگی تهی اور پهر اسکے گلے میں باہیں ڈالے سامنے دیکهنے لگی
“یہی تهی نہ آخری خواہش….؟”
وہ اسکے کان کے قریب جهکتے ہوئے بولا تو اسنے نم آنکهوں سے زور شور سے اثبات میں سر ہلایا
اور پهر سامنے دیکها یعنی وہ اسکی یر خواہش سے منظور تها اسکو بہت بہت شوق تها بائیک پر بیٹهنے کا لیکن اسکا یہ شوق پورا نہ ہوسکا
“آپکو کیسے معلوم مم-مجهے بائیک پر بیٹهنے کا بہت شوق ہے…؟”
وہ پرجوش سی بولی
“شہرام کی جان میں نے کہا تها نہ میں تمہاری ہر خواہش کو جانتا ہوں
“چلیں…”
اسنے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
“ان کپڑوں میں ہی….”
اسکی بات پر اسنے اسکے کپڑوں کو دیکها
“ہاں چلو…”
یہ کہتا دونوں آگے بڑے اور شہرام نے بائیک پیچهکے دروازے سے بایر نکالی تهی اور بائیک سٹارٹ کی
“بب-بیٹهوں…؟”
اسنے فرسٹ ٹائیم بیٹهنا تها اور وہ ڈر بهی رہی تهی
“ہاں نہ سویٹ ہارٹ…”
اسنے گردن موڑ کر اسکو دیکهتے ہوئے کہا تو وہ ڈرتے ڈرتے بیٹهی اور اسکی کمر سے قمیض کو بچوں کی طرح پکڑا تها شہرام لب پهیلے تهے
“میری جان اپنا فراک سنبهال کر بیٹهنا بائیک میں نہ آجائے….”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا اور فراک کو اچهے سے کوور کیا
جیسے ہی اسنے بائیک چلانا شروع کی ویسے ہی اسکی پکڑ میں مضبوطی آرہی تهی
شہرام نے سپیف تیز کی تو اسکی چینخ نکلی
“آہہہ شہرام آہستہ…..”
وہ اسکو پیچهے سے زور سے پکڑتی ہوئی بولی
“ڈرو نہیں بہت مزہ آئے گا….”
اسنے اپنی کمرپر موجود ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر دبایا تها اور واقع کچھ ہی دیر میں وہ در کو بهولے انجوائے کررہی تهی
“شہرام سب کتنا حسین لگ رہا ہے نہ…”
وہ اشتیاق سے بولی تو وہ مسکرایا
“یہ میری جان….”
کچھ دیر اسکو سڑکوں پر گهومانے کے بعد وہ اسکو سمندر والی سائیڈ پر لے آیا تها
“آوو سمندر کا نظارہ انجوائے کرتے ہیں…”
اسنے بائیک روکتے ہوئے کہا تو وہ اتری اور شہرام نے اتر کر اسکا ہاتھ پکڑا تها اور بیچ والی سائیڈ پر لے آیا اب وہ آہستہ آہستہ ریت پر چل رہے تهے پریہان نے اپنی سینڈل اتاری تهی تو شہرام نے بهی اپنی چپلی جو وہ چینج کرچکا تها اتاری تهی
اور پهر دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگے تیز ہوائیں پریہان کے جوڑے میں سے نکلے بالوں کو اڑا کر چہرے پر لا رہی تهیں
شہرام نے اسکے بالوں کو کان کے پیچهے کیا کیونکہ اس سمندر سے زیادہ خوبصورت نظارہ اسکو پریہان کے چہرے کی خوشی لگ رہا تها
“ایک وہ اتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوبرو توبہ!
اُس پہ چُھونے کی۔۔۔ آرزو توبہ!!
ہاتھ کانپیں گے روح مچلے گی!
جب وہ آئے گا ۔۔۔۔۔۔روبرو توبہ!!
چاند تاروں سے رات سجتی ہوئی!
تیری آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تُو توبہ!!
لب نہیں اُس کی آنکھ بولتی ہے!
ایسا ۔۔۔۔۔۔اندازِ گفتگو توبہ!!”
پریہان اسکی طرف مڑتی اسکے ہاتھ پکڑتی ایک جزب سے بولی اور وہ تو قربان ہی ہوگیا تها
“قربان شم میری جان….”
اسنے اسکا چہرہ دونوں ہاتهوں سے تهامتے ہوئے کہا
“شہرام آپ نے مجهے ہر خوشی دی میری ہر خواہش پوری کی مجهے آپکی محبت کا علم نہیں اور میں اتنا جانتی ہوں میں جتنی بهی محبت کرلوں پر اپ سے زیادہ نہیں کرسکتی آپ نے ثابت کیا آپ سے محبت کا انتخاب غلط نہ تها میری محبت غلط نہ تهی….”
وہ اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکهتی اسکی آنکهوں میں دیکهتے ہوئی بولی تو شہرام نے اسکے ماتهے پر لب رکهے
“اور میں مکمل اس دن ہوگیا تها جب تم میری زندگی میں شامل ہوگئی تهی میری ساری خواہشات ختم ہوگئیں تهی اور اسکے بعد جو خواہش تهی وہ تم سے تم تک تهی….”
وہ بهی محبت سے لبریز لہجے میں بولا تو اسنے اسکے سینے پر رکها چاند نے بهی شرما کر خود کو بادلوں میں چهپا لیا تها سمندر کا ان تک پہنچتا پانی انکے پاووں کو بهیگو رہا تها پر انکو ہوش ہی کہاں تهی
“چلو چلتے ہیں بیمار نہ پڑ جاو کہیں…”
یہ کہتے ساتھ وہ دهیرے دهیرے اسکے ساتھ چلنے لگی
پهر اسکو آئس کریم کهیلاتا اب وہ گهر کی راہ لے رہے تهے سڑک پر اکا دکا ہی گاڑیاں تهی وہ بهی برائے نام رات کے بارہ بجے یہ جگہ سنسان تهی
وہ پیچهے سے اسکو ہگ کیے بیٹهی تهی اور نظاروں سے لطف اندوز ہورہی تهی کہ کچھ یاد آنے پر پیچهے ہوئی
“شہرام گاڑی روکیں….”
اسکے اچانک کہنے پر وہ گهبرایا اور گاڑی روکی وہ اتر کر اسکے سامنے آئی
“کیا ہوا میری جان تم ٹهیک ہو…؟”
وہ پریشانی سے بولا
“جی میں ٹهیک ہوں…
وہ اسکو پریشان دیکھ بولی
“پهر کیا ہوا….؟”
اسنے سوالیہ نظروں سے دیکها
“وہ نہ وہ مجهے بهی بائیک چلانی ہے پلیز شہرام پلیز پلیز….”
وہ خود کو گهورتا پاکر منت سماجت پر اتر آئی تهی
“نو وے کوئین…”
وہ ہتمی لہجے میں بولا
“پلیز نہ شہرام میری جان میں تو آپکی معصوم سی بیوی ہوں نہ ہیں نہ….؟”
آنکهیں مٹکاتی کہتی آخر میں تصدیق چاہی تهی وہ بےخبر انداز میں کہتی اسکو مدہوش کررہی تهی
“جی میری جان سے عزیز میری معصوم بیوی..لیکن جان ہم گرجائیں گے اگر تم چلاو گی بائیک….”
اسنے پیار سے اسکی سرخ ہوتی گال سہلاتے ہوئے کہا
“نہیں گریں گے نہ آپ ہیں نہ…”
وہ فل فل مکهن لگا رہی تهی
“یار بیوی قسمے ہم گرجائیں گے اور بائیک تم چلاو گی میں کیسے بچاوں گا….”
وہ معصومیت سے بولا
“ہاں تو صاف صاف کہیں آپ یہ بائیک نہیں دینا چاہتے آپکو کونسا فکر ہے کہ آپکی بیوی کا کچھ کرنے کو من ہے…”
وہ آنکهوں میں آنسووں لائے دوسری طرف منہ موڑتے ہوئے کہا وہ دونوں سٹرک کے بیچو بیچ کهڑئے تهے
“لیکن یار گر گئے تو ہڈی پسلی ٹوٹ جائے گی تو میں معزور سا اپنی بیوی سے پیار کیسے کروں گا…”
وہ مظلومیت سے بولا اسکو واقع ہی اس بات کی فکر تهی
“شہرام…”
وہ صدمے سے بولی
“جی شہرام کی جان…”
“پلیز نہ شہرام پلیز یہ لاسٹ فرمائش سمجھ کر پوری کردیں پلیز پلیز پلیززززز….”
وہ اسکا بازو پکڑتی منتیں کررہی تهی کہ ناچار جی اسکو ماننا پڑا اور ٹهنڈہ آہ بهرتا نیچے اترا
“چلو بیٹهو…”
اسکے کہتے ہی وہ اپنا فراک اوپر کرتی بیٹهی تهی
تو شہرام نے دوسری طرف آتے ہینڈل پکڑتے ہوئے بائیک سٹارٹ کی تهی اور اسکے پیچهے بیٹها
“یااللہ گرنے کے بعد اتنی مہلت دے دینا کہ کلمہ پڑھ سکوں…”
وہ اسکے پیچهے بیٹهتا ہوا اگے اسکے دونوں ہاتهوں کے اوپر ہاتھ رکهتا ہینڈل کو تهاما تها
“شہرام…”
پریہان نے چہرہ پیچهے موڑتے ہوئے گهورا تو شہرام نے اسکی گال پر کس کی تو اسنے مزید گهورا
“چلو جان چلاتے ہیں اور انجوائے کرتے ہیں آخری سفر…
کہتے ساتھ آہستہ آہستہ بائیک چلنا شروع ہوئی
“جان مجهے کیوں لگتا ہے ہم گرجائیں گے….”
شہرام نے اسکے کان کے وریب سرگوشی کی البتہ سانس پریہان کا بهی سوکها ہوا ہے
“اچها اچها سوچیں نہ شہرام…اور پهر پریہان ہو ساتھ تو پهر ڈرنے کی کیا بات…”
ڈر وہ خود بهی رہی تهی
“جان یہی تو ڈر ہے…”
بینڈل بال بال ڈولے جارہا تها
اور پهر دونوں کی چینخ ایک ساتھ گونجی تهی
“آہہہ میری کمر….”
شہرام نیچے لیٹا کراہ رہا تها
اور برابر میں گری پڑی پریہان کو دیکها جو اسکو ہی دیکھ رہی تهی
“ٹهیک ہو تم…؟”
اسنے فکر مندی سے پوچها
تو وہ کچھ دیر اسکو دیکهنے کے بعد قہقہ لگاتی ہنسنے لگی جبکہ شہرام نے اسکو ہنستے دیکھ گهورا تها اور پهر خود بهی ہنسنے لگا
وہ تو شکر تها بائیک انکے اوپر نہیں گری تهی ورنہ کچھ نہیں بچنا تها دونوں کا
“ہاہاہاہاہا شہرام کتنا مم-مزہ آیا نہ ہاہاہاہاہا….”
وہ ہنستے ہوئے مشکل سے بولی
“ہاں ہاں بہت مزہ ایک پولیس افیسر کی ہڈی پسلی ایک کر دی میں حیران ہوں پهولوں سے نازک لڑکی کو کچھ نہیں ہوا….
اسنے حیران ہوتی ہوئے کہا زیادہ کچھ تو اسے بهی نہیں ہوا تها وہ تو اچها تها سپیڈ اتنی کم تهی کہ پیدل جاتا بندہ ان سے آگے گزر جاتا
“ہاہاہاہا شہرام مجهے تو بہت مزہ آیا….”
وہ کب سے ہنسے جارہی تهی
“یار بتیسی بند کر اور اس مرحومہ کو تو دیکھ کچھ بچا کہ نہیں اسکا…”
شہرام نے ویسے لیٹے لیٹے ہی سر اٹها کر نیچے زمین بوس ہوئی گاڑی کو دیکها
پریہان نے بهی ہنستے ہوئے اپنا سر اٹهایا اور شہرام کا بازو نیچے کرتی اس پر اپنا سر رکها تها اور اسکی طرف کڑوٹ لیٹی اسکے سینے پر اپنا ہاتھ رکها تها
“واللہ یار کیوں مجهے یہی شروع کروانا چاہتی ہو ویسے بهی سڑک کے بیچو بیچ لیٹے ہیں..ویسے میں ہو بهی جاوں گا نو پرابلم ہاں پهر تمہیں ہی پرابلم ہوگئی…
اسنے آخر میں شرارت سے کہا تو وہ مزید کهلکهلائی تهی
“نہ مجهے کیا پرابلم ہونی…”
وہ اسی کہ انداز میں بولتی اسکو اس دفعہ حیران کرگئی تهی
“او مائے گاڈ یہ چاند کہاں سے نکلا ہے کوئین اوف مائے ہارٹ رومینٹک باتیں….”
اسنے سر جهکاتے اسکے چہرے کو دیکهتے ہوئے بهرپور ایکٹنگ کی تو وہ پهر ہنسی
“جی میرے پیارے شوہر آپکا ہی اثر ہے…”
وہ شرارت ہر امادہ تهی
“بہت اچها اثر پڑرہا ہے میرا بس تهوڑی اور ٹریننگ کی ضرورت ہے…”
اسنے جهک کر کان میں سرگوشی کرتا کان لی لو کو چوما تها تو وہ شرما دی
“شہرام میں آپکے ساتھ یونہی ہر لمحہ خوبصورت یادگار گزارنا چاہتی ہوں…”
اسکی گال پر اپنا ہاتھ رکهتی ہوئی بولی
وہ دونوں تو ایسے لیٹے تهے جیسے انکا کمرہ ہو ارگرد کی کوئی ہوش نہ تهی اور ویسے بهی جگہ سنسان پڑئی تهی
“اور میری بهرپور کوشش ہوگی تمہارا ہر لمحہ یادگار گزرے میں کوشش کروں گا میرے ساتھ گزارا ہر وقت تمہیں ہمیشہ یاد رہے….”
اسنے اسکے ماتهے کے ساتھ اپنا ماتها ٹکایا تها
“چلیں شہرام چلتے ہیں….”
کچھ دیر بعد پریہان اٹهتے ہوئے بولی تو وہ بهی اٹها تها
اور آٹھ کر بائیک اٹهائی تهی
جسکی سائیڈ والی لائٹس ٹوٹ گئیں تهی نیو بائیک اس وقت کهٹارا لگ رہی تهی
دو تین بار سٹارٹ کرنے کے بعد بائیک سٹارٹ ہوگئی تهی
“اب بهی چلاو گی…؟”
اسنے اسکی طرف مڑتے ہوئے کہا تو وہ پهر ہنسی
“ضرور مجهے آتی ہے چلانی آپ نے دیکهی تو ہے ابهی….”
اسکی بات پر اسنے جهرجهری لی تهی اور بائیک پر بیٹها
“جان بتیسی بند کرو اور بیٹهو….”
اسنے مسلسل اسکو ہنستے دیکھ کہا دل تو اسکا بهی باغ باغ تها وہ اسکی وجہ سے آج بہت خوش تهی وہ دیکھ چکا تها ایک سیکنڈ کو بهی اسکی سمائل غائب نہ ہوئی اور یہی تو مقصد تها اسکا اور ویسے بهی وہ بیوی تهی اسکی
………………………….
صبح چھ بجے کے وقت وہ چہرے پر نقاب چڑہائے گهر کی بیک سائیڈ سے اندر داخل ہوا اور بڑی مہارت سے ایک کندهے پر بیگ لٹکاتا پائپ سے کهڑکی تک پہنچنے کا رستہ ناپنے لگا وہ اس گهر کے کونے کونے سے واقف تها لیکن معارج کے مرنے کے بعد وہ یہاں نہیں آسکتا تها
وہ ارگرد جهانکتا اوپر چڑنے لگا کهڑکی کے پاس پہنچتا ایک ہاتھ سے پائپ تهامتا دوسرے سے بیگ سے کهڑکی کهولنے کا سامان نکالنے لگا
کہ اسکا ہاتھ پسلا لیکن پروقت اسنے پکڑا اور شکر کا کلمہ پڑها تها
“شہرام کے بچے خود مزے سے سورہا ہوگا چول کسے پاسے دا…”
اسکو ہزار گالیوں سے نوازتا اسنے کهڑکی کهولی اور پڑدے ہٹاتا اندر داخل ہوا کمرہ پوری اندهیرے میں ڈوبا ہوا تها اسنے فون نکال کر اسکی ٹارچ چلائی اور پورے کمرے کو دیکها تها
پهر ہر چیز چهان مارنے لگا لیکن وہ کوئی ایسا سوراخ نہیں چهوڑ رہا تها کہ معلوم ہو کوئی یہاں آیا تها
اسنے الماری کهولی تهی اور اس میں موجود ایک دراز کو دیکها جو نہیں کهل رہا تها
“سالے بیڑا گرک ہو تو کیوں نہیں کهل رہا…”
اسنے اس دراز کو گهورتے ہوئے کہا اور اپنی لیجنڈ قسم کی چابی نکالتا الٹے پنگے دیتا اسکو کهولا تها
اسکو اس وقت اپنی لیجنڈ چابی بہت پیاری لگی تهی جو مشکل میں کبهی کام نہیں آئی تهی پر آج آگئی تهی
وہ اس میں موجود سارے کاخذات کو دیکهنے لگا اور انکی پکس کهینچنے لگا کیونکہ ابهی اسکے پاس وقت نہیں تها سب پڑتا
گارڈز کی تبدیلی کی وجہ سے وہ بچ بچا کر اندر داخل ہوا تها اور پانچ منٹ تک کڑی سیکیورٹی لگ جانی تهی پهر اسکا نکلنا مشکل ہوجانا تها
اسکی نظر سارے کاخذات کے نیچے پڑئے ایک کارڈ پر گئی اور اسنے وہ اپنے فون میں ڈالنا چاہا کہ باہر سے کچھ آوازیں آئیں
اسنے جلدی سے کارڈ نکالتے دراز بند کرنے کے بعد الماری بند کی تهی اور پهر کمرے کو دیکھ کر کهڑکی پر موجود پردوں کے پیچهے چهپا
کہ اتنے میں ہی کوئی اندر داخل ہوا یقیناً وشما تهی کیونکہ اسکے علاوہ کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہ تهی
وشما نے ایک دراز سے کچھ نکالا تها اور باہر چلی گئی حارز نے ٹهنڈہ آہ بهرئی تهی کہ اسنے دهیان نہیں دیا نیچے بیڈ کی سائیڈ پر پڑئے اسکے بیگ پر جو جلدی میں اٹها نہیں سکا تها
وہ سارا جائزہ لیتا بیگ اٹها کر جیسے آیا تها ویسے جانے لگا کیونکہ اسکے پاس ایک منٹ تها اور وہ بنا کسی کی نظروں میں آئے نکل چکا تها
………………………….
شہرام خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تها کہ مسلسل فون پر ہونے والی بیل نے اسکی نیند میں خلل پیدہ کیا تهااسنے کوفت ست فون اٹهایا
“کہاں دفن ہے کب سے فون کررہا ہوں…؟”
بنا شہرام کو موقع دیے حارز بولا تها
“تیرے سسرال…”
وہ جل کر بولا
“وہ…وہ تو میں ہو آیا ہوں اور کمینے ابهی تک آیا نہیں…؟”
“یار ابهی تو ٹائم نہیں ہوا…”
وہ کوفت سے بولا
“جی ایس پی صاحب ٹائیم پر نظر دوڑاو زرا دس بج گئے ہیں…”
اسکے چبا کر کہنے پر وہ اچهلا تها
“کیاااا….”
چینختے ساتھ اسنے ٹائم دیکها جہاں واقع دس بج گئے تهے وہ نماز پڑھ کر سویا اب اسکی آنکهیں بیدار ہوئیں تهی
“ایک خبر ہے جلدی پہنچ….”
اب وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ بهی جلدی سے اٹها تها
………………………….
