No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
شام کے پانچ بج رہے تهے جب آبریش کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی دهیرے سے اپنی آنکهیں کهولتی چهت کو گهورنے لگی شاید دماغ ابهی مکمل طور پر بیدار نہ ہوا تها کچھ زور ڈالنے پر یاد آیرا پریہان نے اسکو میڈسن دی تهی اور کافی ہائی ڈوز دیا تها جو اسکی آنکھ پانچ بجے کهلی تهی
مصطفی اور اپنی جانے والی گفتگو کو یاد کرتی دو آنسووں نکلے تهے پهر جلدی سے صاف کرتی اٹهی تهی لیکن بیڈ کے کونے میں پڑئے ایک باکس کو دیکھ کر اسکو حیرت ہوئی
اسنے باکس اٹهایا اور اسکو کهولا تو اندر ریڈ بلڈ ساڑهی تهی اسنے حیرت سے دیکها پهر اندر موجود ایک چٹ نکالی جس پر لکها تها
“جب اٹهو تو نہا کر تیار ہو جانا میں بازار ہوں کچھ دیر تک آجاوں گی…..”
یہ پریہان نے رکها تها اسکو لگا شاید مصطفی کو اس پر رحم آگیا ہو ٹهنڈہ آہ بهرتی اسنے باکس کو پرئے دهکیلا تها اور پهر سے لیٹ گئی
ابهی اسکو لیٹے مشکل سے پندرہ منٹ ہی گزرئے ہونگے کہ پریہان آندهی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوئی آبریش کو ایسے لیٹے دیکھ اپنی کمر پر ہات ٹکاتی اسکو دیکهنے لگی جو ایک نظر اسکو دیکهتی پهر سے آنکهیں بند کر چکی تهی
“ابهی تک لیٹی ہو تم ڈریس کیسی لگی…..؟”
اسنے ٹیبل پر کچھ بیگز رکهتے ہوئے اس سے پوچها
“یہ سب کس لیے میں کیا کروں….؟”
وہ اٹھ کر بیٹهتی ہوئی بولی
“یہ سب مصطفی کو منانے میرا مطلب مصطفی بهائی کو منانے کیلیے…..”
آبریش کے منہ سے مصطفی مصطفی کی گردان سن کر اسکے منہ سے بےساختہ نکلا تها
“کیا مطلب ہے تمہارا..؟ اس سے کیسے مانے گا…..؟”
اسنے گهورتے ہوئے کہا کیونکہ اسکو ابهی بهی سمجھ میں کچھ نہ آیا تها
“زرا ادهر کهسکو….”
پریہان نے آنکهیں پٹپٹاتے ہوئے کہا
“نہیں مجهے نہیں کهسکنا…..”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا
“اچها چلو مت کهسکو میں ہی آتی ہوں….”
اسنے مسکرا کر کہا اور آبریش کے بالکل پاس ہوکر بیٹهی آبریش نے سوالیہ نظروں سے دیکها جیسے پوچھ رہی ہو کہ اب بتاو
پریہان اسکی نظروں کا مفہوم سمجهتی شیطانی مسکراہٹ پیش کرتی اسکے کان کے قریب جهکی وہ جیسے جیسے اسکو پلین بتا رہی تهی آبریش سرخ ہورہی تهی
پلین بتانے کے بعد جب اسنے پیچهے ہوکر آبریش کا چہرہ دیکها تو مسکراہٹ دبانا مشکل ہوگیا
“یہ کیا بکواس ہے پریہان یہ سب میں نہیں کروں گی اپنی ڈریس اٹهالو….”
اسنے زبردست گهوری سے نوازتے ہوئے کہا تو پریہان نے گندہ سا منہ بنایا کیونکہ بیچاری نے بچتے بچاتے آرڈر کیا تها یہ ڈریس
“کیوں….؟”
“ان سب سے کیا ہوگا بهلا پری….؟”
وہ سوالیہ نظروں سے دیکهنے لگی
“جب بهائی تمہارا دوآتشہ حسن دیکهیں گے تمہاری ان نشیلی آنکهوں میں کهو سے جائیں گے اور….”
“بس بس پریہان میں کہ رہی ہوں ناولز پڑهنا چهوڑ دے……”
وہ جو بیچاری پوری ناولز کے ڈائیلوگز میں گم تهی اسکے ٹوکنے پر ہوش میں آئی
“اچها چهوڑو نہ یار جلدی سے تیار ہوجاو مجهے یقین ہے بهائی مان جائیں گے……”
“پریہان مان جائیں گے پر جو تم کہ رہی ہو میں وہ نہیں کروں گی باقی پلین ٹهیک ہے…..”
اسنے کها جانے والی نظروں سے دیکهتے ہوئے کہا
“کیا نہیں ہوگا ایک کس ہی تو کہی ہے ویسے بهی بهائی تمہارے شوہر ہیں…..”
اسنے انتہائی بےباقی سے کہا تو آبریش اسکو گهورنے لگی
“اچها اب ایسے نہ دیکهو مجهے معلوم ہے میں خوبصورت ہو،….”
اسنے ایک ادا سے کہا
“میں ایسا کچھ نہیں کروں گی بےشرم کہیں کی شرم کرلو کچھ تو…..”
آبریش نے اسکی بات کو اگنور کرتے اسکو شرم دلانی چاہی پر جیسے پریہان میں اب شرم باقی نہ رہی تهی
“آپ کے بهائی کا ہی تو اثر ہے….”
اسنے معصومیت سے کہا
“میرا بهائی خیر اتنا بےشرم نہیں….”
اسنے اپنے بهائی کی سائیڈ لی یہ جانتے ہوئے بهی کہ اگر مصطفی کم نہیں تو وہ بهی پریہان کا شوہر تها اسکو بہتر معلوم ہوگا
“جی اتنا ہی بےشرم ہے….”
اسکو جیسے اسکی سائیڈ لینا گناہ لگا اسی لیے تڑخ کر بولی
“اوفف کچھ تو شرم کرلو کوئی ایسے بهی کہتا ہے…..”
آبریش کا دل چاہا اپنا سر ہی پیٹ لے
“ایسے ہی کہتا ہے وہ ہمارے شوہر ہیں اب ان سے کیا شرمانا مجھ سے تو گهٹ گهٹ کر نہیں جیا جاتا…..”
اسنے اپنی بات کر سر پیر توڑا تها
“اس میں گهٹ گهٹ کر جینے والی کونسی بات ہے…..؟
“یہ ناولز پڑهنے والے ہی جان سکتے ہیں تم جیسے بےزوق نہیں ہونہہہ…..”
ہائے اسکی ادائیں آبریش کو اپنا سر پیٹنے پر مجبور کررہی تهیں
“پریہان پهر سوچ لو مجھے ڈر لگ رہا ہے……”
اسنے اصل بات بیان کی
“کونسا ڈر..؟ کیسا ڈر…؟ شوہر ہیں بهائی تمہارے اور تم انکے پاس وہ تمہارے پاس ہی آئیں گے اور ایک عدد آہممم سے کچھ نہیں ہوجاتا لوگ ناجانے کیا کیا کرجاتے ہیں…..”
وہ شروع ہوئی تهی تو بس ختم ہونے کا نام نہ لی اور آبریش اسکو منہ کهولے دیکهنے لگی جو بس آج پٹری سے اترئی ہوئی تهی وہ پریہان جسکو رومینٹک ہونا پسند تها تها
“ہائے سات سلام ہیں شہرام تجهے…..”
آبریش بس سوچ کرہی رہ گئی
“اب بیٹهی کیوں ہو میں زرا بهائی کا کمرہ ٹپ ٹاپ کر آوں…..”
وہ آنکھ مارتی اٹهی
“مصطفی تو آنہیں گئے…..”
“نہیں مما نے بتایاہے کہ وہ رات آٹھ بجے تک ائیں گے فکر ناٹ اسی لیے یہ پلین بنایا ہے اور باقی تیرے حوالے سے بهی میں دا گریٹ پریہان سب سنبهال کے گی….”
اسنے بیگز چیک کرتے ہوئے کہا آبریش بیچاری صرف گهور ہی سکی جو سارے پلینز مینز گهٹیا پلینز بقول آبریش کے بنا چکی تهی
“اٹهو نا یار….”
اسکو یوں ہی بیٹهے دیکھ اسنے دوبارہ سے کہا
“دوبارہ سوچ لے پریہان اگر تیرا بهائی نہ مانا ساری تیاری اور سارے رومینس کا بیڑا غرق ہوجائے گا…..”
وہ رونی شکل بنا کر بولی
“فکر مت کرو رومینٹک انداز میں سوری بولو گی تو بهائی مان جائیں گے…..”
اسنے الماری سے کچھ نکالتے ہوئے کہا
“اللہ کرئے شہرام کے ہاتھ تو ایسے لگے….”
آبریش کو کچھ نہ سوجها تو یہی کہ دیا
“تو کیا وہ ہر وقت ہی رہتیں ہیں موقع نہیں چهوڑتے ڈونٹ وری عادت ہوگئی ہے ویسے بهی شوہر ہے میرا خیر ہے….”
وہ مصروف سے انداز میں بولی
“شرم نہیں آتی میرے بهائی کی ایسی باتیں میرے سامنے کررہی ہو…..”
“تو کیا ہوا اگر وہ ہے نہیں تو پهر کہو ویسے میرا بهائی بهی تو رومینٹک ہے بہت زیادہ….”
اسنے فلائنگ کس دیتے ہوئے کہا
“اچها میں جارہی ہوں آدهے گهنٹے تک واپس آتی ہوں….”
یہ کہتی جانے لگے کہ دوبارہ پلٹی
“ہاں اگر کس سے کام نہ بنے تو ساڑهی کو زیادہ پنز نہ لگائیں…..”
یہ کہتی جهپاک سے باہر بهاگی تهی اسکی بات کا مطلب سمجهتی وہ چلائی تهی اور شرم سے سرخ چہرہ ہاتهوں میں تهاما تها
………………………….
پریہان سارا سامان مصطفی کے کمرے میں رکهتی اب اسکا رخ اپنے کمرے کا تها کیونکہ کچھ چیزیں جو آبریش کو معلوم نہ تهی وہ اسکے کمرے میں تهی
پریہان اپنے دهیان میں جارہی تهی جب کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں کهینچا
“اوفف شہرام آپ بهی شرم……”
وہ جو اپنی رفتار میں بول رہی تهی اسکے ماتهے پر زخم کو دیکھ کر خاموش ہوئی
“یہ کیا ہوا….؟”
آگے بڑهتی اپنے اور اسکے بیچ ایک قدم کے فاصلے پر کهڑئی ہوتی اسنے اسکے زخم کو چهوتے ہوئے کہا
“بس وہ چهوٹی سی چوٹ ہے ڈونٹ وری…..”
اسنے مسکرا کر کہا
تو پریہان نے وہ رہا سہا فاصلہ بهی ختم کیا اور اسکے کندهوں ہر ہاتھ رکهتی ساتھ اپنی ایڑهیاں اٹهاتی اوپر ہو کر اسکے زخم پر اپنے لب رکھ دئیے پهر خود ہی شرما کر پیچهے ہوئی
“دوا تو اچهی لگائی اب ماتهے کہ علاوہ جو ہونٹ پر زخم یے اسکا کیا….؟”
اسکی بات پر اسنے اسکے ہونٹ دیکهے جو بالکل سہی تهی گهورتی ہوئی جانے لگی لیکن تب تک وہ اسکو گرفت میں لے چکا تها اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو اسکے بالوں میں پهنساتا اور دوسرے سے کمر پر گرفت سخت کرتے اسکی سانسوں کو قید کرچکا تها
پریہان نے مزاحمت کی لیکن بےکار تهی پهر خود بهی اسکے گلے میں ہاتھ ڈالتی اسکو محسوس کرنے لگی لیکن اسکی پکڑ سخت سے سخت ہورہی تهی اسکو اب اپنی کمر میں اسکی انگلیاں پیوست ہوتی محسوس ہورہی تهیں جبکہ ہونٹ پر جلن شروع ہوگئی تهی پر وہ اسکی گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش بهی نہیں کرسکتی تهی کیونکہ وہ ہلتی تو گرفت سخت ہو جاتی
کچھ دیر رحم آنے کے بعد پیچهے ہوا تو پریہان لمبے لمبے سانس لینے لگا جبکہ شہرام کی سانسیں بهی تیز ہوگئیں تهی
“جاو اس سے پہلے میں بےخود سا ہوں اگر میں مدہوش ہوا تو صبح سے پہلے اس کمرے سے تم نہیں نکل سکتی…..”
اسنے شوخ پن سے اسکے اسکے ہونٹوں کو دیکهتے ہوئے کہا جس پر لپ گلوز مدهم ہوگیا تها وہ موقع پاتی وہاں سے بهاگی تهی اسکو کیا معلوم تها وہ جو پہلے ابریش کے ساتھ مزاق مزاق میں شوخ ہوگئی تهی وہ سچ بهی ہوسکتا ہے
پیچهے شہرام نے خود کو آئینے میں دیکها تو لب بےساختہ اپنے ہونٹ پر لگے اسکے لپ گلوز کو دیکھ کر مسکرایا اور انگوٹهے کی مدد سے صاف کیا اور پهر اپنے کپڑئے لیتا واشروم میں گهس گیا کیونکہ وہ کچھ دیر پہلے ہی آیا تها
………………………….
پریہان تقریباً ایک گهنٹے کی مصروف ترین تیاری کے بعد اسنے کمرے کا جائزہ لیا تو خود ہی شرما گئی ایسا کمرہ سجا کر اب اسکا ارادہ آبریش کو دیکهنے کا تها
کمرے کی لائیٹس اوف کرتی آبریش کے کمرے میں آئی تو آبریش ساڑهی پہنے ہلکا سا میک اپ کئیے بیٹهی تهی
“ہممم کچھ کمی ہے….”
خود سے بڑبڑاتی ریڈ بلڈ لپسٹک اٹها کر اسکی طرف ائی
“میں نے لگائی ہوئی ہے….”
اسنے پیچهے کو ہوتے ہوئے کہا
“تهوڑی ڈارک ہونی چاہیے….”
اور اسکے انکار کے باوجود وہ اسکی لپسٹک ڈارک سے بهی ڈارک کی تهی
“اب پرفیکٹ….”
یہ کہتی اسکا جائزہ لیا اور دادی اماں کی طرح اسکی بلائیں لی
“یار ایک بار پهر سوچ لے مصطفی غصہ نہ ہو جائیں….”
اسکو یہی ڈر کهائے جارہا تها
“کچھ نہیں ہوتا ایویں غصہ ہوں گے بهائی..بلکہ وہ تو آج اپنے ہوش کهو بیٹهیں گے….”
اسنے مسکراتے ہوئے اسکی گال چومتے ہوئے کہا تو وہ مزید چهینپ گئی
“شہرام بهی ایسے ہی تیرے ساتھ کرئے گا ہائے اورر تو نہیں….”
اسکو کہتی رونی شکل بناتی شیشے میں دیکها اور پریہان اسکی بات پر کچھ دیر پہلے والی اپنی اور شہارم کی ملاقات یاد کرکے چهینپ گئی اور شرمادی
“اوئے تجهے کیا ہوا…؟”
اسکو یوں ہلکا ہلکا مسکراتے دیکھ اس سے پوچها تو وہ گڑبڑائی
“کچھ نہیں میں تو تیرا انجام دیکھ کر مسکرا رہی ہوں….”
اسنے آنکھ مارتے ہوئے کہا
“چل تو جا بهائی آتے ہی ہونگیں اگر کوئی کمرے میں کمی ہو تو بتا دیں ٹهیک ہے میں تیرے کمرے میں انتظار کررہی ہوں…”
اسنے اسکے بیڈ پر پهیلتے ہوئے ایک ہاتھ اٹها کر اسکو حکم دیا تو وہ اسکو گهورتی شیشے میں دیکهتی جانے لگی
“یار وہ موبائل اتار کر دیتی جائیں….”
اسنے ٹیبل پر چارجنگ پر لگے فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ اسکو پکڑاتی کنفیوز کنفیوز سے کمرے سے باہر جهانکا تسلی کے بعد دهڑکتے دل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی تو کمرہ دیکھ کر اسکی گهبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا گهبراہٹ پر قابو پاتی پریہان کے پلین کے مطابق وہ ٹیرس پر جاکر کرسی پر بیٹھ گئی
………………………….
سب اس وقت ڈنر کرنے کیلیے بیٹهے تهے سوائے آبریش اور مصطفی کے مصطفی تو باہر سے ہی کرکے آئے گا جبکہ آبریش کے پوچهنے پر پریہان نے کہا کہ وہ سوگئی ہے اسنے کهانا کهلا دیا ہے
سب خشگوار ماحول میں کهانا کهارہے تهے شہرام اپنی نظروں سے پریہان کے چہرے کے ہرنقوش کو چهوتا سنگین گستاخی کررہا تها اس سے بےخبر وہ احتشام کے ساتھ گپوں میں مصروف تهی یا شاید جان کر انجان بن رہی تهی
“رامز تم وشما سے کہو ہمیں اس سے ملنا ہے…..”
سعید صاحب کے رامز کو مخاطب کرنے پر سب انخی طرف متوجہ ہوئے جبکہ شہرام کے چہرے کے تاثرات بگڑئے تهے
“کیوں بابا….؟”
رامز کی بجائے شہرام کی طرف سے سوال ہوا
“مجهے اس سے پراپرٹی اور کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں بےفکر رہو سبکے سامنے کروں گا……”
انہوں نے تحمل سے جواب دیا لیکن ادهر شہرام کا ضبط جواب دے رہا تها رامز فلحال خاموش تها
“بابا کوئی ضرورت نہیں اس مکار عورت کو بلانے کی میں اسکو اس گهر میں ایک منٹ کیلیے برداشت نہیں کرسکتا….”
وہ غصے سے بولا
“شہرام حد میں رہو وہ لڑکی کوئی اور نہیں میری جان سے عزیز بیٹی ہے….”
وہ بهی دهاڑئے تهے
“وہ جان سے عزیز بیٹی جو سبکی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے….”
وہ بهی شہرام تها کہاں چپ رہ سکتا تها
“شہرام خاموش ہو جاو…..”
حماد صاحب اسکو غصہ ہوتے دیکھ بولے تهے اسنے ایک نظر اپنے چاچو کو دیکها اور آٹھ گیا
“ہماری بات سنو شہرام….”
شہرام جو جانے لگا تها انکی بات پر اسکے قدم فوکے اور پلٹ کر انکو دیکها
“میں کسی خاص مقصد کیلیے بلا رہا ہوں اور اپنی زبان کو اسکے خلاف استعمال کرنے کیلیے قابو میں رکها کرو یہ نہ ہو میں وہ کربیٹهو جو تم نے سوچا بهی نہ ہو….”
انکی بات پر ایک افسوس بهری نظر ان پر ڈالتا بنا کسی کی آواز کو نوٹ کرتا گهر سے ہی نکلتا چلا گیا
“رامز سن لیا تم نے یا تم بهی شہرام کی طرح ہی غصہ کرو گے….؟”
انہوں نے اب رامز کو مخاطب کیا جو کهانا کهانے میں مصروف ہوگیا تها
“جی چهوٹے ابو میں کردوں گا کال پریشان مت ہوں….”
اسنے مسکرا کر کہا تو سب کهانے کی طرف متوجہ ہوگیا
پریہان کا دل بجه سا گیا تها شہرام کے جانے سے جانتی تهی وہ غصے میں ہے اب وہ رات بهر گهر نہیں آئے گا وہ بس اسکو غصے میں دیکهتی پریشان ہورہی تهی
………………………….
مصطفی کو آتے آتے رات کے نو بج گئے تهے تهکا ہارا جب کمرے میں داخل ہوا جیسے ہی اندر داخل ہوا ٹهٹهک کر رہ گیا پورا کمرہ موم بتیوں کے جلنے کی وجہ سے روشن تها جگہ جگہ پهول بکهرئے ہوئے تهے اور ٹیبلز اور ناجانے کہاں کہاں پریہان نے کینڈلز لگائیں ہوئیں تهی جو کچھ دیر پہلے آبریش نے جلائیں تهی
آہستہ آہستہ قدم اٹهاتا اندر داخل ہوا کوٹ بیڈ پر ٹکاتا سامنے شیشے پر نظر گئی تو ایک چٹ لگی تهی
“آئی ایم سوری….”
آگے سیڈ ایموجی تهی سر جهٹکٹا اسنے سائیڈ ٹیبل پر دیکها وہاں بهی ایک چٹ موجود تهی
“آئی لویو…..”
اس چٹ پر لکهے لفظوں کو زیر لب دہرایا تها اور اچانک بیڈ پر نظر گئی جس پر پهولوں سے “ایس” “آر” “وائے”..لکها تها
اسکے لب مسکرائے تهے لیکن جلدی ہی سکیڑ لئیے تهے یہ تو اسنے بیڈ پر کوٹ رکهتے وقت غور نہیں کیا
شرٹ کو پینٹ سے آذاد کرتا اوپر والے دو بٹن کهولے تهے ٹیرس سے آتی روشنی کی طرف متوجہ ہوا
بےاختیار قدم اس طرف بڑهائے تو اسکو مزید حیرت کا جهٹکا لگا آبریش چہرہ دوسری طرف کئیے کهڑئی تهی شاید وہ اسکی موجودگی سے انجان تهی
“یہ کیا ہے سب کچھ صاف کرواو سب….”
وہ جو آنکهیں بند کئیے کهڑی تهی اسکی آواز پر پلٹی تهی
“مم-مصطفی….”
اسکی گهبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تها مصطفی کی نظریں اسکے چہرے کا طواف کررہی تهیں جو آج غضب ڈها رہی تهی
“منانے کا طریقہ برا نہیں….”
مصطفی نے سوچا تها اور اس پر سے نظریں ہٹائیں جو چہرہ جهکائے کهڑی تهی
“یہ صاف کرواو سب تب تک میں نیچے ہوں….”
اس دفعہ آواز میں نرمی تهی اور کہ کر پلٹا کہ آبریش نے اسکے ہاتھ کو پکڑا اسکے پکڑنے پر وہ پلٹا تها
“آئی ایم سوری مصطفی….”
وہ نم آواز میں بولی تهی مصطفی کو بےتحاشہ اس پر پیار آیا اور اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آذاد کروانا چاہا جو مشکل نہ تها پر شاید مصطفی بهی نہیں چاہتا تها اس سے دور ہونا
“آبر یار تم نے میرا دل بہت بری طرح توڑا….”
وہ دکھ سے بولا تو آبریش نے اسکی طرف دیکها جہاں اب غصہ نہیں بےبسی دکھ تکلیف تهی وہ اس وقت اسکے دل کو زخمی کررہا تها وہ غمزدہ سا اسکو بہت تکلیف پہنچا رہا تها وہ بهی اب اسکی مزید ناراضگی براداشت نہ کرسکتی تهی
تو ایک جهٹکے سے اسکی شرٹ کو کهینچ کر اسکو تهوڑا جهکایا اور کچھ خود کی ایڑهیاں اونچی کرتی اسکے لبوں پر جهکی اور نرمی سے اپنے ہونٹ رکهتی پیچهے ہونے لگی لیکن مصطفی نے سختی سے اسکو گرفت میں لےلیا تها
شاید کتنوں دنوں کی تڑپ وہ آج مٹانا چاہتا تها
اسکے لمس میں شدت تهی جیسے وہ اسکو خود سے دور رہنے کی سزا دے رہا ہو لیکن آہستہ آہستہ شدت کم ہوگئی تهی اور نرمی نے جگہ لے لی تهی جیسے ساری ناراضگی ختم ہوگئی ہو
نرمی اور بہت پیار سے دور کرتا اسکا چہرہ دیکها جو اسکے ڈریس کی طرح سرخ ہوگیا تها اور لمبے لمبے سانس لے رہی تهی
“مصطفی نے اپنی پشانی اسکی پشانی سے ٹکالی تهی اب دونوں کی تیز سانسیں ایک دوسرے کو محسوس ہورہی تهیں
ماحول کی اس خاموشی میں دونوں کے دلوں کی دهک دهک اس ماحول میں ایک شور سا برپا کررہی تهیں
کچھ دیر یوں ہی خود کو محسوس کرنے کے بعد وہ اسکو اپنی گود میں اٹها چکا تها کمرے میں موم بتیوب کی روشنی اس سین کو اور خوبصورت بنا رہی تهی نرمی سے اسکو بیڈ پر لیٹاتا اس پر جهکا تها اور کتنے ہی پل اسکو محسوس کیا تها
اسکے چہرے پر محبت بکهیرتا اب اسکی گردن تک پہنچ گیا تها جب آبریش نے اسکو پکارا تو اسنے سر اٹها کر اسکی طرف دیکها
“ناراض تو نہیں…..؟”
وہ اسکے کندهوں ہر ہاتھ رکهتی ہوئی بولی
“کیا میرے لمس سے تمہیں لگتا ہے کہ ناراضگی ہوگئی اب باقی….”
وہ شرارت سے بولا تها
“آئی ایم سوری ہر چیز کیلیے مصطفی میں دوبارہ ایسا کبهی نہیں کہوں گی آئی لو یو سو مچ….”
وہ محبت سے اور کچھ شرمندگی سے بولی
“بولنا بهی مت اس دفعہ ضبط سے کام لیا ہے اگلی دفعہ جان لےلوں گا….”
وہ سنجیدگی سے بولا
“لے لیں اب تو ویسے بهی آبریش مصطفی آپکے لیے جیتی ہے….”
وہ سکی آنکهوں میں دیکهتے ہوئے بولی تو وہ اسکو دیکھ کر کهل کر مسکرایا اور اپنی شرٹ کے سارے بٹن کهول کر اتاری تهی اسکی اس حرکت پر وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی تهی
وہ مکمل طور پر اس پر جهک چکا تها
وہ اس پر جهکا اپنی شدتیں لٹا رہا تها کہ اسکو اپنا کنفها نم سا محسوس ہوا تو اسنے چہرہ اٹهایا
“کیا ہوا رو کیوں رہی ہو….؟”
اسنے اسکا چہرہ تهماتے ہوئے کہا تو اسنے پلکیں جهکائیں
“ڈر لگ رہا ہے…؟”
اسنے نرمی سے پوچها تو اسنے اثبات میں سر ہلایا
“شش ڈرو نہیں ابهی میرا آہممم کرنے کا ارادہ نہیں وہ سب رخصتی کے بعد صرف کچھ پل تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں….”
اسکی بات پر وہ خاموش ہوگئی تو مصطفی دوبارہ مصروف سا ہوگیا اور خود ہی پهر کچھ دیر بعد اس سے دور ہوگیا تو وہ اٹھ کر بیٹهی اور اسکے کندهے پر اپنا سر رکها
“ہممم مصطفی میں کمرے میں جارہی ہوں…”
وہ معصومیت سے بولی تو مصطفی اسکو لیے ہی پیچهے کی طرف گرا
“اتنی جلدی بهی کیا ہے…..”
اسنے اپنی گال اسکی گال سے مس کرتے ہوئے کہا تو اسکی داڑهی کی وجہ سے وہ کهلکهلائی تهی
“بس کریں میں چلتی ہوں…..”
اسکو دهکا دیتی اٹهی تهی مصطفی بیڈ پر لیٹا اسکو دیکھ رہا تها جو ٹیبل پر پڑئی اپنی شال اٹها کر اپنے گرد لپیٹ رہی تهی
“آئی لو یو آبر….”
وہ جو شال درست کررہی تهی اسکی جزبات سے چور آواز پر شرمیلی سے مسکراہٹ سے باہر بهاگ گئی جبکہ مصطفی تهوڑا سا اوپر کهسکتا اوندهے مبہ لیٹ گیا تها اور پهول اٹها کر اپنے اوپر بکهیرنے لگا
………………………….
آبریش شرمیلی سی اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے پریہان مسکرا کر اسکو دیکھ رہی تهی
“میں نے کہا تها نہ بهائی مان جائیں گے….”
اسنے بیڈ سے اٹه کر بیٹهتے ہوئے کہا تو وہ ہنستی ہوئی اسکے پاس آکر بیٹهی
“تهینک یو سو مچچچچچچچچچ……”
اسکو کس کر گلے لگاتی بولی تو وہ کهلکهلا کرہنسی
“ویسے مبارک ہو اور ہاں میں کچھ نہیں پوچهوں گی پرسنک وغیرہ….”
اسنے شرارت سے کہا تو وہ مسکرا کر چہرہ جهکا گئی
“ہاں ویسے تم بتانا چاہو تو نو پرابلم…”
اسکی بات کا مطلب سمجهتی اسکو گهورا تها اور آٹھ کر الماری سے کپڑئے نکالنے لگی
“تم کدهر….”
پریہان کو اٹهتے دیکھ اسنے پوچها
“اب کمرے میں اب تو تم ٹهیک ہو نہ…..”
اسنے شوز پہنتے ہوئے کہا
“نہیں یار بهی میرے پاس سوجا…..”
اسنے اسکی طرف دیکهتے ہوئے گویا منت کی تهی
“نا بابا یہ نہ ہو کہ تم مصطفی بهائی سمجھ خر ہگ کرلو ویسے ایک منٹ ایک منٹ کہیں تم مجهے مصطفی بهائی تو نہیں سمجھ رہی کہ….”
وہ مزید کچھ بولتی آبریش کی طرف سے پڑنے والے کشن نے اسکی بولتی بند کی تهی اور خود آبریش واشروم میں گهس گئی تهی
“ویسے بهی میں کونسا جارہی تهی صرف پانی پینے کیلیے اٹهی تهی…”
وہ واشروم کے دروازے کے پاس ہوتی ہوئی بولی تو آبریش اندر ہی کهڑئی مسکرائی تهی وہ خقد کو خوش قسمت ترین محسوس کررہی تهی اتنی اچهی ننند پلس بهابهی ملنے پر جو اسکا اتنا خیال رکهتی تهی کہ جان چهڑکتی تهی اسکو خود کے ہونے پر فخر تها
………………………….
