No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
صبح پریہان جب نیچے آئی تو اسکی آنکهیں سرخ تهیں ہلکی ہلکی سوجی بهی ہوئی تهیں جو ساری رات نہ سونے اور رونے کی گواہی تهیں شہرام کو اسکو یوں دیکھ بہت دکھ ہوا لیکن غلطی بهی پریہان کی اپنی تهی (بقول شہرام) پریہان نے اسکی طرف دیکها تک نہ تها
“چلو احتشام یونیورسٹی نہیں جانا…..”
اسنے نیچے آتے ساتھ احتشام سے کہا
“تو بیٹا ناشتا تو کرلو…..”
اسکی امی نے کہا
“امی بجوک نہیں وہی کرلوں گی اور آٹھ جاو مسٹر احتشام……”
اپنی امی سے کہتی احتشام کو گهورا تها
“یار ایک تو تیرا یہ فرسٹ لیکچر پورے تین دن عزاب ہوتا میرے لیے میرافرسٹ فری ہوتا تیری وجہ سے ناشتا بهی ٹهیک نہیں ہوتا…..”
اسنے منہ ٹیڑها کرتے ہوئے کہا تو سب کے چہروں لر مسکراہٹ آئی سوائے پریہان کے
“اٹھ رہا ہے یا نہیں اگر نہیں اٹهنا تو بتا دے میں خود چلی جاتی ہوں…..”
اسکنے بےرخی سے کہا اسکی بات پر سب نے حیرت سے اسکو دیکها اور شہرام بهی اسی کو دیکھ رہا تها وہ جانتا تها یہ شہرام سے دور بهاگنے کی وجہ سے ایسے کررہی ہے
“کیا ہوا ہے…کسی نے کچھ کہا ہے آنکهیں بهی سوجهی سوجهی لگ رہی ہیں…..؟”
حماد صاحب نے فکر مندی سے کہا
“کچھ نہیں ہوا بابا بس رات ٹیسٹ کی وجہ سے دیر سے سوئی تهی نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے ایسے ہے……”
بنا گڑبڑائے اسنے بہت سفاکی سے جهوٹ بولا تها کہ شہرام نے اسکو لاجواب نظروں سے دیکها تها
” اٹھ جاتا ہوں یار ابهی تو ناشتا بهی نہیں کیا…”
اسکو خود کو گهورتا پاکر اسنے منہ بناکر کہا
“ٹهیک ہے میں چلی جاتی ہوں….”
“روکو…..”
پریہان جو مڑنے لهی تهی شہرام کی آواز پر رکی اور اب پہلی دفعہ اسنے اسکو دیکها تها لیکن فورا نظریں پهیر لی تهیں
“چهوٹے ابو میرا اسکی یونیورسٹی والی سائیڈ پہ ہی کام ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں چهوڑ دوں اسکو….؟”
اسنے اجازت طلب نظروں سے حماد صاحب کی طرف دیکها اسکی بات پر سبکے چہروں پر مسکراہٹ چهاگئی اور پریہان نے خونخوار نظروں سے گهورا کہ وہ اس سے بهاگنا چاہتی ہے اور اب اسی کے ساتھ جائے گی
“ارے میرے شیردل میرے ٹائیگر بهلا مجهے کیا اعتراز ہوگا…..؟”
انہوں نے اسکو مسکرا کر دیکھ کرکہا تو وہ بهی مسکراتا ہوا آٹھ گیا پریہان پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی کیونکہ اسکو پہلے معلوم تها اسکے بابا انکار کرہی نہیں سکتے
شہرام باہر آیا تو پریہان پہلے ہی جیپ میں موجود تهی مسکراتا ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا پریہان ایسے بیٹهی تهی جیسے کچھ ہوہی نہ رہا ہو شہرام نے بهی ایک نظر اسکو دیکھ سکون سے جیپ سٹارٹ کی تهی راستہ بالکل خامقشی سے کٹ رہا تها لیکن شہرام جیپ بہت سلو چلا رہا تها پریہان بار بار ٹائم دیکھ رہی تهی کیونکہ اسکو دیر ہورہی تهی
“شہرام جلدی کریں مجهے دیر ہورہی ہے…..”
آخر اسکو کہنا ہی پڑگیا اور شہرام کے لب پهیلے
“اپنا حشر کیا بنا لیا ہے رات میں میں نے تمہارے ساتھ ایسا کچھ کیا تو نہیں تها…..”
اسکی بات کا الٹا جواب دیا تها اور اخر میں شرارت سے کہا تها اپنی بات کا الٹا جواب سن اسکو غصہ چڑها
“شہرام میں نے کہا ہے مجهے دیر ہورہی ہے گاڑی تهوڑی سپیڈ سے چلائیں…..”
اسنے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا تو شہرام نے گاڑی سائیڈ پہ روکی
“یہ کیا بدتمیزی ہے شہرام…….”
اسکو گاڑی سائیڈ پہ روکتی دیکھ اسنے حیرت سے کہا
“اب میں تم سے تسلی سے بات کروں گا…”
اسنے اسکی طرف مڑتے ہوئے کہا
“پر مجهے بات نہیں کرنی مجهے جانا ہے….”
یہ کہ کر اسے سیٹ بیلٹ کهولنا چاہی
“تم میری مرضی سے ہی جاو گی یہ گاڑی تب چلے گی یا تب اسکا دروازہ کهلے گا جب تم میری بات سن لوگی….”
اسنے سینے پر ہاتھ باندهے اسکو کہا
“آپکی مرضی…..ہر جگہ آپکی مرضی پهر میری زندگی تو نہ نہ ہوئی یہ آپکی جنونی محبت نے میری جان لےلینی ہے پاگل ہوجاوں گی میں….”
اسنے بهرائی آواز میں کہا اور اخر میں اپنا سر پکڑا تها
“تمہاری زندگی ہی ہے بس تم میری ہو تم کرو جو کرنا ہے لیکن میری ہوکر تم مجھ پر بهی ایسے حکم چلا سکتی ہو میں بلکل ناراض نہیں ہونگا تمہارے جیسے اور رہی بات جنونی محبت کی تو ویسی تم بهی کرو نہ…..”
اسنے بہت پیار سے اسکے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
“آپ سے محبت..واہ محبت نہیں جیسے جنونی ہیں ڈر لگتا ہے مجهے آپ سے….”
اسنے اپنے ہاتھ اسکے ہاتهوں سے نکالنا چاہے پر گرفت مضبوط تهی
“تو مت ڈرو مجھ سے محبت کرو ایک بار میری ہوجاو تو تمہاری قسم تم سے بہت پیار کروں گا بہت زیادہ کہ اپنے ہونے پر رشک کرو گی…..”
اسنے اسکا چہرہ اٹها کر اسکی آنکهوں میں دیکهتے ہوئے محبت سے کہا تو وہ بهیگی پلکوں سے اسکو تکنے لگی
“پهر کبهی زخم نہیں دوں گا رونے نہیں دوں گا کبهی نہیں یوں ڈراوں گا تم میرا عشق ہو بس اس چیز سے ڈر لگتا ہے کہیں تم مجھ سے دور نہ ہوجاو کوئی تمہیں مجھ سے چهین نہ لے میں مرجاوں گا تمہارے بنا…….”
اسنے اسکا چہرہ تهامتے ہوئے کہا
“ش-شہرام مجهے دیر ہورہی ہے….”
اسنے اسکی محبت دیتی آنکهوں سے گهبراتے ہوئے کہا
“کوئی بات نہیں میں سر سے کہ دوں گا وہ تمہیں لیکچر دے دیں گے….”
اسنے اسکا چہرہ تهپتهپاتے ہوئے کہا تو یہ چہرہ جهکا گئی
“اب تو نہیں ڈر لگ رہا….؟”
“اگر ا-آپ ڈراو نہ تت-تو نہیں لگے گا…..”
اسنے معصومیت سے کہا تو شہرام ہنسا
“نہیں ڈراتا اب کبهی نہیں ڈراوں گا میری جان ہاں بس ایک چیز کی کمی ہے….”
اسنے آخر میں شرارت بهری نظروں سے دیکها
“کیا….؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“سمائل…..”
اسنے ہاتھ کے اشارے سے خود بهی مسکراتے ہوئے کہا تو وہ ناچاہتے ہوئے بهی ہنس دی اور اسکا ڈمپل نمودار ہوا جو اسنے ناجانے کتنے دنوں بعد دیکها تها
“بس اس پہ فدا ہوا تها…..”
اسنے اسکے ڈمپل پر انگلی رکهتے ہوئے کہا تو وہ چہرہ پیچهے لےگئی
“چچ-چلیں اب…؟”
“اب کیا کریں گے اتنی جلدی جاکر فرسٹ لیکچر تو گیا سیکنڈ فری ہے اب میرے ساتھ رہو نہ….”
اسنے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو پریہان نے گهورا
“زیادہ پهیلنے کی ضرورت نہیں ہے چلیں….”
اسنے آنکهیں دیکهاتے ہوئے کہا تو اپنی کوئین کے معصومانہ انداز پر ہنستا ہوا گاڑی سٹارٹ کی
شہرام کی محبت اپنی کوئین کا دل بدلنے میں کامیاب ہورہی تهی اب وہ اسکو کسی گلاب کی طرح رکهنا چاہتا تها اب کبهی اسکی آنکهوں میں انسووں نہیں دینا چاہتا تها اب جو بهی پریہان کی انکهوں میں آنسووں دے گا شہرام اسکی زندگی ہی چهین لے گا
………………………………
“ہاں گل خان کیا خبر ہے جو کہا تها وہ کیا….؟”
شہرام نے کرسی پر بیٹهتے ساتھ کہا
“جی سر ہم نے انکے ایک اڈے کا پتا لگا لیا ہے اور ایک بهروسے مند آدمی کو رکهوالی کیلیے بهیجا ہے جیسے موقع ملے گا ہم اٹیک کردے گا……”
گل خان نے پرجوش ہوتے ہوئے کہا تو شہرام ہنسا
“فکر نہیں کرو کسی کو نہیں چهوڑیں گے….”
اسنے فائل اٹهاتے ہوئے کہا
“سر جو فائل آپ نے اٹهایا ہے اس میں سب ڈیٹیل موجود ہیں…..”
“ٹهیک ہے میں دیکھ لیتا ہوں اور ہاں وہ یونیورسٹی کے کیس کا کیا بنا….؟”
اسنے آخر میں فکرمندی سے پوچها کیونکہ وہ پریہان کی یونیورسٹی تهی
“سر ہم نے حارز کو لگایا ہوا ہے یونیورسٹی میں اور پتیہان بی بی پر بهی نظر رکهے ہوئے ہے….”
اسکی بات پر اسنے ہاں میں سر ہلایا
“ہاں مجهے بتایا تها حارز نے خیر باقی کے اڈوں کی معلومات اکهٹی کرو معارج کو چهوٹے چهوٹے جهٹکے دینے ہیں…..”
اسنے دلفریب مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہا تو گل خان نے ہاں میں سرہلایا
……………………………..
“احتشام….”
احتشام جو میرب کو الریڈی دیکھ چکا تها پر اگنور کرتا آگے بڑھ گیا تها میرب نے اسکو پیچهے سے اواز دی کیکن وہ ان سنی کرتا چلتا گیا رکا نہ میرب آنکهوں میں آنسووں لیے اسکی طرف بهاگی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا
“جی کیا مسئلہ ہے…..؟”
اسنے اپنا ہاتھ چهڑواتے ہوئے بےرخی سے کہا تو اسکی آنکهوں میں اور پانی جمع ہوگیا
“آئی ایم سوری پلیز ایسے نہیں کرو….”
اسنے نم آواز میں کہا احتشام اسکی طرف دیکهنے سے گریز کررہا تها وہ نہیں چاہتا تها وہ ابهی نرم پڑئے احتشام میرب کی سوچ بدلنا چاہتا تها
“پلیز دیکهو نہ میری طرف….”
اسکا چہرہ اپنے ہاتهوں سے اپنی طرف کیا تو احتشام نے اسکے ہاتھ جهٹک دیے اور دوبارہ سے چلنے لگا کچھ آنسووں میرب کی گال پر پهسلے تهے دوبارہ اسکے سامنے جاکر کهڑی ہوئی تهی اگر احتشام بروقت نہ رکتا تو ضرور ٹکر ہوجاتی
“آئی ایم سوری….”
اسنے روتے ہوئے کان کو ہاتھ لگاکر کہا تو احتشام نے محبت پاش نظروں سے اسکو دیکها اور اسکے انسووں صاف کیا
“اچها چلو خاموش ہوجاو….”
اسکے انسووں صاف کرتے ہوئے کہا
“ناراض تو نہیں….”
“نہیں…”
“چلو پهر کنٹین چلتے ہیں….”
اسنے خوش ہوتے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
“نہیں لیکچر ہے پہلے وہ تو لے لیں….”
“اسکا مطلب ابهی بهی ناراض ہو…”
اسنے نم اواز میں کہا
“نہیں ہوں یار….”
“تو پهر چلو نہ….”
“اوفف اچها چلو….”
اسکا ہاتھ پکڑ کر مسکرا کرکہا تو وہ بهی.مسکراتی ہوئی اسکے ساتھ چلنے لگی
