Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

“آپکو پتا ہے شہرام مجهے لگا تها آج پهر اس بورنگ ڈرائیور کے ساتھ گهر جانا ہوگا….”
اسنے لیز کا ٹکڑا منہ میں رکهتے ہوئے منہ بناتے ہوئے کہا
“اسی لیے آج میں اپنی جان کو خود لینے آیا ہوں ساتھ لانگ ڈرائیونگ پر بهی جائیں گے…..”
اسنے اسکے ہاتھ سے لیز کا ٹکڑہ کهاتے ہوئے کہا
“ہائے کتنا مزہ آئے گا نہ….”
اسنے پرجوش انداز میں کہا تو شہرام نے مسکرا کر اسکو دیکها اور سامنے نظر دوڑانے لگا
پریہان ایک لیز کا ٹکڑہ خود کهاتی تو دوسرا شہرام کو کهلاتی ساتھ فر فر چلتی زبان اسکی

“یار کول ڈرنک بهی پلا دو….”
اسنے بظاہر تو سنجیدگی سے کہا البتہ شرارت آنکهوں میں واضع تهی
“میں کیسے پلاوں یہ خود پئیں…..”
اسنے گڑبڑا کر کہا
“جان میں تو ڈرائیونگ کررہا ہوں پلا دو نہ….”
اسنے مظلومیت سے کہا تو پریہان نے ناچار جی بهی کولڈرنک کهولی
“اچها رکو….”
اسکو روکتا اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑهائی اور رش سے گاڑئی نکالی دون منٹ بعد اب اسنے پریہان کو دیکها اب روڈ پر بهی اکا دکا گاڑیاں تهیں
“اب تو رش نہیں خود پی لیں….”
“یار سوچ لو میں پهر کولڈرنک نہیں پیوں گی….”
اسنے وارن نظروں سے کہا تو پریہان نے گهورتے ہوئے کولڈرنک اسکے لبوں سے لگائی اسے پینے خے بعد اسنے خود بهی پی اور پهر ایک اور لیز کا پیکٹ کهولا شہرام بہت اچهے سے جانتا تها کہ اسکو لیز بہت پسند ہے اسی لیے اسکو یونیورسٹی سے پک کرنے سے پہلے اسنے بیکری سے اسکے لیے کافی لیز کے پیکٹس خریدے تهے

شہرام کا فون رنگ ہوا دیکها تو حارز کا تها
“ہاں بول….”
“اچها…اچها میں آرہا ہوں….”
پریہان نے نوٹ کیا اب اسکے چہرے پر سنجیدگی اور آنکهوں میں غصہ تها
“پریہان میری جان ہم پهر کبهی لانگ ڈرائیو پر چلیں گے ابهی بہت ضروری کام ہے….”
اسنے مسکرا کر کہا
“لیکن آپ نے کہا تها کہ آپ میرے ساتھ گهومنے چلیں گے…”
اسنے ناراضگی سی کہا
“شہرام کی جان میں پهر کبهی لے جاوں گا بیت زیادہ گهوماوں گا ابهی مجهے کام ہے یارا….”
اسنے گاڑی واپس موڑتے ہوئے کہا
“جائیں اتاردیں مجهے یہی پہ میں خود چلی جاتی ہوں….”
ناراضگی ہنوز برقرار تهی شہرام اسکی ناراضگی دیکھ کر مسکرایا

“یار سوری نہ ناراض تو مت ہو….”
“آپکو کونسا فرق پڑتا ہے میری ناراضگی سے جائیں آپ کام پر اپنے…. آپ نے کہا تها آپ اپنی جاب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں دیکھ لی بس آپکی محبت….”
اسی بات پر شہرام نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کی
“ہاں جان تم سے ہی محبت ہے بس بہت ارجنٹ کام ہے….”
“تو جائیں نہ روکا کس نے اتاردیں مجهے یہی پہ…..”
اسنے پیچهے سے بیگ اٹهاتے ہوئے کہا
“یار…اچها ایک شرت پر لانگ ڈرائیو پر چلیں گے…..”
اسے مسکراہٹ دبائی تهی

“کونسی….؟”
“ایک کس دو گی تو…”
وہ جانتا تها کہ اس بات پر وہ ضد نہیں کرئے گی لیکن یہ کیا….
“ہاں ٹهیک ہے منظور ہے کرلینا کس ایک کیا دو کرلینا….”
اسکی بات سن شہرام نے رونی شکل بنائی
“امتحان لے رہی ہو یار میرا…”
“نہیں تو اب مان لی شرت اب کیا ہے…..”
وہ معصومیت سے بولی
“گهر چهوڑ دیتا ہوں میری جان میں پهر لے چلوں گا….”
“بدتمیز بہت برئے ہیں آپ جائیں آپ….”
اسنے غصے سے لیز سے بهرا پیکٹ باہر پهینکا اور پهر خود ہی احساس ہونے پر سر تهام لیا
“آپکی وجہ سے لیز بهی گئی….”
اب اسے رونی شکل بنائی تهی
“پلیز یار سمجهو….”
وہ اسکو ہر گز ناراض نہیں کرنا چاہتا تها
پریہان کو واقع لگا اسکو بہت ضروری کام ہے کیونکہ وہ تو اسکے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے کا موقع ڈهونڈهتا تها
اور خاموش ہوگئی

“شہرام آپ یہی اتار دیں میں یہاں سے پیدل چلی جاوں گی آپ کام کر لیں….”
اسنے اس دفعہ مسکرا کر پیار سے کہا مقصد یہ بتانے کا تها کہ وہ ناراض نہیں
“نہیں میں چهوڑ دیتا ہوں….”
“کوئی بات نہیں پانچ منٹ کا سفر ہے میں پیدل چلی جاوں گی آپ پریشان مت ہوں….”
“پکا….؟”
اسنے گاڑی روکی تهی
“پکا میری جان…”
وہ اسی کے لہجے میں بولی تو شہرام ہنسا
“میسج کردینا گهر پہنچ کر….”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا اور بیگ احا کر گاڑی سے نکلی
“اللہ کے امان میں….”
پریہان اسکو کہتی آگے بڑھ گئی جبکہ شہرام نے گاڑی موڑی تهی

پہلے والی نرمی کہیں گم ہوگئی تهی
“آج تو تم زندہ نہیں بچو گی بلحہ آج تیرا قتل فرض ہوگیا ہے مجھ پر کمینی…..”
غصے سے بڑبڑا رہا تها اور گاڑی کی سپیڈ بڑها دی
………………………….
“یہ پانچوں لڑکیاں کل ٹرک میں لے جانا انکی قیمت بہت لی ہے ہم نے کوئی نقصان نہ ہو….”
بلحہ نے ایک آدمی کو کہا
دروازہ ناک ہونے کی آواز ہر بلحہ آگے بڑھ کر دروازہ کهولا اور سامنے کهڑئے شخص کو دیکھ کر اسکے اوسان خطا ہوئے

“شش-شہرام. …”
اور شہرام کا اگلا تهپڑ اسکے چودہ نہیں پچس طبق روشن ہوگئے تهے وہ تهپڑ کی تاب نہ لاتی ہوئی زمین پر گری اسکے بهاری ہاتھ سے اسکا سر گهوم گیا تها اسکا ہونٹ پهٹ گیا تها
باقی کی ٹیم اندر داخل ہوگئی تهی اور کچھ نے باہر سے قبصے میں لے لیا تها اندر صرف تین لوگ تهے جو ہتهیار لیس بیٹهے تهے اور پکڑئے گئے

شہرام نے قہر برساتی نظروں سے اسکو دیکها اور نیچے بیٹھ کر اسکو بالوں سے جکڑتے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تها

“تجهے شرم نہ آئی تو بهی تو عورت تهی تو کیسے ان عورتوں کو بیچ سکتی ہے حرام خور….”
ایک اور تهپڑ مارا تها
“تم تمہاری بہن سب تهپڑوں کے لائق ہو….”
بالوں سے زور سے پکڑتے اسکو اٹهایا تها وہ کراہ اٹهی تهی
“تو کیسے یہ کرسکتی ہے کمینی….”
اسنے ایک اور تهپڑ مارا تها اس سے پہلے وہ گرتی شہرام بازووں سے دبوچ چکا تها
“گل خان….”
شہرام چلایا تها

“یس سر….”
“اس بیغیرت عورت کو لے جاو فلیٹ میں اور نائلون کی رسی کا انتظام کرو میں آرہا ہوں آج اسکا قصہ ختم ہوگا….”
اسنے گل خان کی طرف دهکا دیتے ہوئے نفرت سے کہا کیونکہ وہ غصے میں اسکو مار دیتا لیکن وہ اسکو آسان موت نہیں دینا چاہتا تها

“علی ان لڑکیوں کو باحفاظت انکے گهر پہنچا دو اور سبکو حقیقت بتانا کہ ان میں لڑکیوں کا قصور نہیں جانتا ہوں کچھ کہ گهر والے شاید انکو دوبارہ اکسیپٹ نہ کریں…..”
اسنے افسوس سے ان لڑکیوں کو دیکها جو رو رہی تهیں ناجانے کیا ہوتا اگر انکو علم نہ ہوتا تو وہ ناجانے کن کن کی حوس کا نشانہ بنتی
“عورت کے نام پہ یہ دهپا ہے بلحہ تجهے ابهی مارنا نہیں چاہتا تها لیکن شاید تو اسی قابل ہے……”
اسکا غصہ کم نہ ہو رہا تها

“سر انکا کیا کرنا ہے….؟”
عمیر نے ان نڈهال آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جنکو یہ بیت مار چکے تهے
“انکی اور خاطر توازو کرو لے جاو اسٹیشن……”
کہتا حارز کے ساتھ باہر نکل گیا
“زوہیر….اس گهر کو آگ لگا دو کچھ نہ بچے اسکا ایسے کردو جیسے یہاں کچھ ہو ہی نہ…..”
اسکو حکم صادر کرتا حکومت کی طرف سے ملی اپنی نیو جیپ میں بیٹها
………………………….
“بلحہ میں گهما پهرا کر نہیں پوچهوں گا بول وشما کے زہن میں تیرے باپ نے کیا گند بهرا یے میرے خلاف….”
اسنے بیلٹ ہاتھ میں لپیٹتے ہوئے پوچها
“مم-مجهے علم نہیں….”
وہ ڈر کر بولی اور پهر شہرام نے پوری جان سے اسکو بیلٹ ماری تهی کہ اسکی چینخ پورے کمرے میں گونجی
“بلحہ میں لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں….”
اسنے اسکے گرد گهومتے ہوئے کہا
“مم-میں بس اتنا جانتی ہوں کوئی پکس اور وو-وڈیو دد-دیکهائی تهی وشما کک-کو….”
وہ در کر بولی
“کیسی پکس اور کیسی وڈیو….”
اسنے حیرت سے پوچها
“پپ-پکس میں تت-تم صائم کو چچ-چاقو مم-مار رہے تهے مم-مطلب تمہارے ہاتھ مم-میں چاقو تها وڈیو کا پتہ نہیں مم-مجهے…..”
وہ روتے ہوئے ٹوٹے پهوٹے لفظوں میں بولی
“اسکے سامنے وہ چاقو والا سین لہرایا
“اوو یو فول لیڈی وشما…..”
وہ منہ میں بڑبڑایا تها اب وڈیو کیا تهی وہ اسکو جاننا تها

“علی اسکو کرسی کے ساتھ نائیلون کی رسی سے باندھ دو جتنا ہلے گی وہ اتنا ہی اس میں پیوست ہوگی…..”
اسنے نحوست سے کہا
کہ اتنے میں حارز اندر داخل ہوا
“شہرام ہوگیا کام….”
اسنے بلحہ کو اگنور کرتے ہوئے کہا
“ح-حازق….”
بلحہ نے بےیقینی سے اسکا نام پکارا تو شہرام اور حارز دونوں اسکی طرف متوجہ ہوئے

“ارے میری پیاری دوست بلحہ تم یہاں….”
اسے دل جلانے والی مسکراہٹ سے کہا تو شہرام ہنسا
“تو وہ تم تهے غدار تم ہی کی وجہ سے اب تک ہمیں شکستیں ہورہی تهی حازق میں تجهے مار دوں گی….”
وہ چلائی تهی
“ہاں میں ہی تها…”
اسنے زور شور سے اثبات میں سرہلایا
“اور ہاں ایم ناٹ حازق یار ایم حارز…..”
اسے اسی غلط فہمی دور کی
“تم آہہہ…..”
وہ اس سے پہلے کچھ بولتی رسی اس میں پیوست ہوئی تهی اور اسکی چینخ نکلی
“علی اسکا پورا پورا خیال رکها چلو حارز….”
ایک نحوست بهری نظر بلحہ پر ڈالتا علی کو حکم دیا اور حارز کو چلنے کا کہا

“کچھ معلوم ہوا….؟”
“ہاں…”
اور وہ سب بتانے لگا..
“اچها کتنی بےوقوف ہے وشما یار اور وڈیو کنسی ہے……؟”
“وہ تمہیں معلوم کرنا ہوگا….”
اسکی بات پر حارز نے اثبات میں سر ہلایا
“میں ڈهونڈه لوں گا….”
اسکے کہنے پر پهر دونوں فلیٹ سے باہر نکلے
…………………………