Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

اسلام آباد کا منظر صبح سے ہی آبرآلود تها وقفے وقفے سے بارش ہورہی تهی بارش کچھ تیز نہ تهی بس کچھ دیر بعد چار بوندیں زمین پر گر اپنا دیدار کروا رہی تهی سبز پتوں پر بوندوں کا گرنا انکو نکهار رہا تها اور پهر بارش کا سڑک پر گرنا عجیب شور برپا تها
لیکن مال روڈ کے پاس واقع پولیس سٹیشن سے زیادہ خوفناک قسم کا شور تها اسکی چینخوں کی آواز اس قدر بلند تهی کہ درخت پر بیٹهی چڑیوں نے بهی اپنے چهوٹے بچوں کو اپنے پروں میں لےلیا تها

“بشیر آحمد…..”
رعب دار آواز گونجی
“یس سر….”
مودبانہ انداز تها
“کچھ بولا کہ نہیں…..”
اس آفیسر نے پینسل انگلیوں میں گهماتے چئیر پر گهومتے ہوئے کہا
“نہیں سر…”
اس بار آواز میں احترام کے ساتھ شرمندگی تهی اسکی بات پر وہ آفیسر ایک جهٹکے سے اٹها اور پینسل کو ٹیبل پر پهینکتا ایک جهٹکے سے دروازہ کهولتا اندر داخل ہوا
سامنے خون سے لت پت نڈهال شخص رسیوں سے بندها ہوا تها اگر وہ بندها نہ ہوتا تو اب تک گرچکا ہوتا

“بشیر آحمد تم سے ایک چهوٹا سا کام نا ہو سکا….”
اس آفیسر نے بشیر احمد کے ہاتھ سے ڈنڈہ پکڑتے ہوئے کہا
تو وہ شرمندہ سا چہرہ جهکا گیا
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں اس لڑکی کے ساتھ زیادتی تم نے کی تهی…؟ اگر نہ بولے تو جس سے اس لڑکی کی زندگی برباد کی ہے وہ سپئیر پارٹ ہی نہیں چهوڑوں گا…….”
اسکی بات پر اس ملزم نے کڑوا گهونٹ بهرا تها جانتا تها اس آفیسر سے رحم کی کوئی امید نہ ہوگی اسکی بات پر بشیر احمد نے حیرت سے اپنے آفیسر کو دیکها تها
“بب-بتاتا ہوں بب-بتاتا ہوں….”
آفیسر کو نشانہ باندهتے اور ڈنڈہ گهماتے دیکھ اسنے ڈرتے ہوئے اور اٹکتے ہوئے کہا
“یہ ہوئی نہ شرافت والے مجرموں والی بات….”
اسنے مسکراتے ہوئے اسکو دیکھ کر کہا
“بشیر احمد اسکا بیان ریکوڈ کرو…..”
اسنے حکم صادر کیا تو بشیر احمد نے اسکو سلیوٹ کیا اور وہ آفیسر کمرے سے باہر نکل گیا
اور واپس کرسی پر بیٹھ کر اسکو جهولنے لگا اور پهر سامنے ٹیبل پر پڑا ایک لفافہ اٹهایا جس میں اسکا ٹرانسفر آرڈر تها جو کہ اسنے خود اپنا اپنے شہر کراچی کروایا تهااسنے ایک بہت اہم کیس حل کیا تها جس کے بدلے اسنے اپنے ٹرانسفر کی خواہش پیش کی تهی
وہ لفافہ دوبارہ سامنے ٹیبل پر رکهتا کرسی کی پشت کے ساتھ سر ٹکائے آنکهیں موندیں تهی

“کین آئی کم ان سر…..”
پرجوش آواز گونجی
“یس گل خان کم ان…”
اس اواز کو تو یہ آفیسر لاکهوں میں بهی پہچان سکتا تها
“سر ہم نے سنا ہے آپکا ٹرانسفر کراچی ہوگیا ہے…؟
اسنے جهجهکتے ہوئے پوچها
“ہاں گل خان سہی سنا ہے….”
“سر کیا ہم بهی آپ کے ساتھ جاسکتا ہے…”
“گل خان تم نے میرے ساتھ ٹهیکہ نہیں لیا جہاں میں جاوں وہاں تم…..”
“پر سر ہمکو آپ کے ساتھ عادت ہے کوئی نیا آفیسر آئے گا وہ اپنی مرضی سے لوگ رکهے گا ہمارا کوئی ویلیو ہی نہ ہوگا….”
“ہمم یہ بات تو ٹهیک ہے لیکن تمہارے بیوی بچے….”
“سر ہمارا رہائش کراچی کا ہے ہمارا وہاں گهر بهی ہے ہم کو یہاں نوکری لگا تو ہم آیا اگر اب آپ سفارش کرئے گا تو ہم آپکے ساتھ کراچی ٹرانسفر ہوجائے گا….”
اسنے تفصیل سے آگاہ کیا

“ٹهیک ہے گل خان تیاری پکڑ لے ایس پی شہرام ملک کے ساتھ کهجل کهوار ہونے کی….”
اسنے شرارت سے کہا تو وہ بهی ہنستا ہوا چلا گیا اور شہرام نے فون اٹها کر ایک پک نکالی تهی جسکو دیکھ اسکی آنکهوں کو سکون ملا تها
“میری پری میرے دل کی ملکہ بہت جلد تمہارے پاس ہونگا…”
پک پر انگوٹها پهیرتا لمبی سانس کهینچتا سیگرٹ پیکٹ سے نکالی تهی اور سلگائی تهی
………………………………

“ہانی اٹهه جاو دیر ہورہی ہے جانا نہیں آج…؟”
ابریش اسکے بکهرے کمرے کو سمیٹتی ہوئی اسکو آوازیں دے رہی تهی
“اٹها ہی دیا نہ آخر آبر یار…”
ٹیڑها منہ بناتی کمبل سے اٹهی تهی اور بنا کپڑے لیے واشروم میں گهسی تهی
“ارے کپڑے تو لیتی جاو…”
“وہ تم پکڑا دینا نا….”
واشروم سے زرا سا سر نکالتی آنکھ مارتی بولی تهی اور آبریش نے گهورا تها
جلدی سے شاور لینے کے بعد باہر نکلی تهی آبریش اسکی بوکس سمیٹ رہی تهی
“کروا دی نا دیر موٹی…”
ہانی نے زبان چڑہاتے ہوئے کہا تو آبرش نے گهورا
“میں کب سے آوازیں دے رہی تهی پر ناجانے میڈم کن خوابوں میں گهوم رہی تهی…”
اسنے کمر پر ہاتھ ٹکاتے پونی بناتی ہانی سے کہا تو اسنے دانت دیکهائے تهے
گوری رنگت بڑی بڑی پلکیں سرخ ہونٹ اور ہونٹ کے اوپر موجود تل قیامت اور اسکے بعد گال پر پڑنے والا گڑها اسکی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگارہا تها

“ہانی کسی دن تمہیں نظر لگ جائے گی….”
آبریش نے فکر مندی سے کہا
“نہیں لگتی تمہاری دعائیں ہیں نہ….”
اسنے اسکی گال پر کس کرتے ہوئے کہا اور بیڈ سے اپنا بیگ اٹهایا آبریش ہنس دی تهی اور پهر دونوں نے نیچے کی راہ لی
………………………………
“السلام و علیکم….”
پریہان نے سب کو کهانا کهاتا دیکھ بلند آواز میں سلام کیا تها تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ پهیلی تهی سوائے احتشام کے جس نے ٹیڑها منہ بنایا تها جو کہ پریہان کی نظروں سے چهپا نہ رہا تها
“ہاں ہاں جل لو تم شامی کباب…”
اسنے ایک ادا سے بیگ کرسی پر لٹکاتے کرسی پر بیٹهتے ہوئے کہا
“جلن اور تم سے منہ دهو کر آو…”
اسنے سر کو جهٹکا دیتے ہوئے کہا
“اچها منہ دهو کر آوں پهر جلو گے…؟”
اسنے ٹیبل پر کہنیاں ٹکاتے شرارت سے کہا
“ہاں منہ دهوکر او گی تو چہرے پر ملا ہوا گوبر اتر جائے گا…..”
وہ بهی احتشام تها کہاں پیچهے رہ جاتا
“گوبر لگاتی ہوگی تیری بیوی…”
اسنے گهورتے ہوئے کہا
“بس تو اس سے بهی جل جائیں….”
اسنے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو پریہان نے گهورا تها سب انکی نوک جهوک بہت فرصت سے سن بهی رہے تهے اور دیکھ بهی رہے تهے
“اینیمل کے منہ والا….”
اسنے زبان دیکهاتے ہوئے کہا
“ہانی کبهی شرافت کے زبان بهی استعمال کرلیا کرو….”
شازیہ بیگم پریہان کی امی نے گهورتے ہوئے کہا
“لو اماں ایک زبان ہے میری وہ یوز کرتی ہوں ساتھ شرافت کی زبان کہاں سے لاکر یوز کروں دو زبانیں ایک وقت میں امپوسیبل جانو….”
اسکی بات پر سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ تهی اور شازیہ بیگم نے سخت گهوری سے نوازا تها
“چل احتشام یونیورسٹی نہیں جانا جو مزے سے بیٹهاہے….”
پریہان نے بیگ اٹهاتے ہوئے احتشام سے کہا
“میں نے نہیں جانا آج…..”
اسنے جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا
“کیوں تیرا ویاں ہے….؟”
“اتنی قسمت کہا….”
اسنے تهمڈی اہ بهرتے ہوئے کہا
“تو اٹهو جانا نہیں…؟”
“نہیں آج بهائی آرہے ہیں میں نہیں جانا…..”
“کونسا تیرا پانچواں بهائی آرہا ہے لنگور….”
اسنے کمر پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے کہا
“زبان تو تیری اپنی ہے ہی نہیں….”
اسے غصے سے کہا
“اپنی ہے یہ دیکھ. …”
اسنے زبان باہر نکال کر دیکهاتے ہوئے کہا تو سب نے مسکراہٹ چهپائی تهی کسی نے بهی انکی بات میں حصہ نہ لیا تها
“ہانی شہرام بهائی آرہے ہیں…..”
اسنے گهورتے ہوئے کہا
“کیا شہرام بهائی سچی کب کیسے کیوں کس لیے…؟
ایک ساتھ اتنے سوال کر دیے تهے
“آج شام میں ائیروپلین میں اور باقی دو فضول سوالات کا جواب نہیں…..”
اسنے چباتے ہوئے کہا
“ہاں تو تم نے کونسا انکو لوریاں سنانی ہیں….”
اسکی بات پر سب کے فلگ شفاف قہقے گونجے تهے
“پریہان تمیز سے بات کرو….”
اسکی امی نے خونخوار نظروں سے گهورتے ہوئے کہا
“اماں تمیز کا نمبر نہیں ہے….”
یہ کہ کر وہ چهپاک سے باہر بهاگی تهی
“اماں دیکهیں کیسے رونک لگائے رکهتی ہے مت ڈانٹا کریں…”
مصطفی نے ہنستے ہوا کہا
“کہ تو ایسے رہے ہیں مصطفی بهائی جیسے اسکو ڈانٹ کا اثر ہوتا ہو….”
احتشام نے منہ ٹیڑها کرتے ہوئے کہا
“تو بهی تمیز سے رہا کر بڑی بہن ہے تیری….”
“واللہ بهائی خود پہلے پنگا لیتی ہے اور کیا کوئی بڑی بہن والی بات ہے اس میں پاگل خانے بهیجنے کی کمی ہے…..”
“احتشام…..”
حماد صاحب نے ٹوکا تها تو وہ دانت دیکهاتا کهانا کهانے لگا
………………………………
یہ ہے ملک ویلا جس میں تین فیملیز رہتی ہیں تینوں بهائی ایک ہی گهر میں رہتے تهے سب سے بڑے حامد صاحب تهے انکی شادی انکی خالہ زاد شمائلہ سے ہوئی تهی لیکن بدقسمتی سے دو سال پہلے انکا کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تها انکے دو بچے تهے زامر اور وشما…زامر کی شادی اسکی کلاس فیلو زرش سے ہوئی تهی اور انکا ایک ایک سالہ بیٹا احمد بهی ہے
اسکے بعد سعید صاحب جنکی شادی انکی کلاس فیلو سعدیہ سے ہوئی تهی انکے بهی دو ہی بچے تهے شہرام اور آبریش
اور سب سے اخر میں حماد صاحب جنکی شادی انکی چچا زاد شازیہ بیگم سے ہوئی تهی اور انکے تین بچے ہیں مصطفی پریہان اور احتشام…..
زامر اور مصطفی نے اپنے والد کے ساتھ کر مل سارا بزنس سنبهالا ہوا ہے جبکہ وشما کی سڈڈیز مکمل ہو چکی ہے آبریش کی بهی ہوچکی ہے لیکن اسکو ابهی ڈگری ملنا باقی ہے اسکے بعد شہرام صاحب نے پولیس کی نوکری جوائن کی اور احتشام اور پریہان دونوں یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہیں
اور سب سے مین بات مصطفی اور آبریش کا نکاح آبریش کے فائنل ائیر میں ہوا تها لیکن ابهی رخصتی نہ ہوئی تهی