No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
“شہرام اٹه جاو نہ سب تیار ہونے کیلیے جاچکے ہیں کمروں میں….”
آبریش نے شہرام کے کمرے میں داخل ہوتے اسکے اوپر سے کمبل کهینچتے ہوئے کہا تو وہ انگڑائی لیتا اٹها
“اچها ایسا کر میرے کپڑے بهی نکال دے….”
اسنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا تو وہ اسکی الماری کی طرف پلٹی
“بلو پینٹ اور پرپل شرٹ نکال دینا ویسے مصطفی کیا پہن رہا ہے….؟”
اسنے اٹهتے ہوئے سوال کیا
“ہاں اسکو بهی ابهی نکال کر دے کر آئی ہوں وہ بلیک پینٹ اور بلیک ہی شرٹ….”
جواب دیتی کپڑے اسکو تهمائے تهے تو وہ سر کو خم دیتا کپڑے تهماتا واشروم میں گهس گیا تو آبریش بهی بیڈ شیٹ سیٹ کرتی تیار ہونے کیلیے چلی گئی لیکن جب گزر احتشام کے کمرے کے سامنے سے ہوا تو اسکا دماغ چکرا گیاکیونکہ اسکے کمرے میں کپڑے بکهرے پڑے تهے کچھ بیڈ پر تو کچھ زمین بوس تهے تو کچھ دروازے پر لاوارس پڑئے اسکو منہ چڑها رہے تهے
“احتشام یہ کیا حشر کیا ہے کمرے کا….؟”
وہ جو الماری میں سر دئیے کهڑا تها اسکی بات پر پلٹ کر اسکو دیکها اور خود بهی اپنا کمرہ دیکها
“ڈیسائیڈ نہیں ہورہا کیا پہنو….”
اسنے معصوم شکل بناتے سر کهجاتے ہوئے کہا
“تو تو ایسے کررہاہے جیسے تیری منگنی ہو….”
اسنے اپنے ماتهے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
“بتادو نہ بهابهی کیا پہنو….”
اسنے رونی شکل بناتے ہوئے کہا
“پیچهے ہو دیکهتی ہوں……”
اسکو پیچهے کرتی الماری دیکهنے لگی
“مصطفی بهائی اور شہرام بهائی کیا پہن رہے ہیں….؟”
“شہرام بلو پینٹ اور پرپل شرٹ مصطفی بلیک پینٹ شرٹ….”
“تو ایس کرو بلو پینٹ اور بلیک شرٹ نکال دو…”
اسنے مزے سے بیڈ پر بیٹهتے ہوئے کہا
“بلیک شرٹ نکال دو پینٹ یہ پڑئی ہے…”
اسنے زمین بوس ہوئی پینٹ کو اٹهاتے ہوئے کہا تو اسنے نکال کر اسکو تهمائی
“جاو نہالو میں تمہارا کمرہ سمیٹ دیتی ہوں….”
اسکو کمرہ سمیٹتا دیکھ آبریش بولی
“اوو میلی پالی سی باجی بهابهی….”
پیار سے اسکے گال کهینچتا چهپاک سے واشروم میں بهاگ گیا پیچهے سے وہ مسکراتی اسکا کمرہ سمیٹنے لگی
………………………….
“کیا مطلب پریہان نہیں جارہی….؟”
شہرام نے آبریش کو دیکھ کر حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ سوال کیا وہ جو ٹاپس کانوں میں پہن رہی تهی اسکی طرف پلٹی
“مجهے کیا پتا….”
اسنے اپنا کام کردیا تها
“اسکی تو….”
غصے سے کہتا اسکے کمرے سے نکلا تها اب ارادہ پریہان کی کلاس اپنے طریقے سے لینے کا تها اور آبریش نے اپنی ہنسی روکی تهی
“بدتمیز لڑکی جانا نہیں لاہور جانے سے پہلے تهوڑا ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا ہوں اور یہ ہے کہ….”
غصے سے بڑبڑاتا اسکے کمرے میں داخل ہوا لیکن اگلا منظر دیکھ اسکا حلق تک کڑوا ہوا تها کیونخہ سامنے وشما پریہان کے پاس بیٹهی تهی اب مڑنا بهی حماقت تهی سو چلتا ہوا پریہان کے پاس جابیٹها
“کیوں نہیں جانا….”
اپنا لہجہ نارمل رکهتے ہوئے کہا
“میرا دل نہیں….”
اسنے بہانا بنایا
“دل بہت الٹا نہیں کررہا….”
اسنے اسکے ساتھ جڑ کر بیٹهتے پیچهے سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا تها یہ اسنے ایسے کیا تها کہ وشما دیکھ نہ سکی تهی اور ویسے بهی وشما کی نظریں تو شہرام کے چہرے کا طواف کررہی تهیں پریہان کا دل حلق میں آنے کو تها اسنے وشما کو دیکها لیکن اسکا دهیان نہ تها اور پهر منت بهری نظروں سے شہرام کو دیکها
“نہیں جانا….؟”
دوبارہ سوال ہوا
“آ-آپ جائیں میں تیار ہوتی….”
اسنے بهاری آواز میں کہا
“گڈ گرل…”
اسکا چہرہ تهپتهپاتا اسنے وشما کی دیکها جو ہوس بهری نظروں سے اسکو دیکھ رہی تهی اسکو دانت کچاتے دیکھ اسنے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ تها
“وشما اسکو تیار کروا کر نیچے لے آنا….”
سپاٹ لہجے میں چبا کر کہتا باہر چلا گیا
“چلو پری میری جان اب تو تیار ہونا ہی پڑئے گا ایس پی شہرام کا حکم ہے….”
اسنے شرارت سے کہا تو وہ کهلکهلا کر ہنسی
………………………….
“ہاں ٹهیک ہے سب تیاری مکمل ہے….؟”
وشما ناجانے کس سے کال پر بات کررہی تهی
“جسکو چاہے اڑا دو فکر نہیں پر پریہان کو کچھ ہوا تو میں تم لوگوں کا نام و نشان مٹا دوں گی……….”
اسنے غصے سے کہا
“شہرام کو چهوٹا سا دهچکا دینا ضروری ہے اسنے میرے ساتھ اچها نہیں کیا….”
آگے سے ناجانے کیاکہا گیا کہ اسکے تاثرات بدلے
“پریہان کو کچھ نہ ہو بس اس چیز کا خیال رکهنا میں اسکو زرا آنچ بهی برداشت نہیں کروں گی ایک خروچ کے بدلے تمہیں ہزار خروچیں دوں گی…..”
یہ کہتی بنا اگلے کی سنے اسنے فون بند کیا تها اور کپڑے لیتی واشروم میں چلی گئی
………………………….
“واو کیا سین ہے چلو ایک ایک پک تو بنتی ہے نہ…..”
سمندر کے پاس پہنچتے احتشام کو پکس کا دورہ پڑگیا تها
“ہاں چلو….”
پریہان نے اسکو کهینچتے ہوئے کہا تو مختطلف مخطلف زاویوں سے پکس بنانے لگے ساتھ میں انہوں نے ابریش کو بهی شامل کرلیا تها
“واووووو……”
پریہان سمندر کو دیکھ کر مبہوث ہی رہ گئی تهی
سمندر اسکی کمزوری تهی یہ اکثر ضد کرکے اکیلی ڈرائیور کے ساتھ آجایا کرتی تهی اور گهنٹوں پتهروں پر بیٹھ کر اسکو تکتی تهی
باہوں کو پهیلاتی اسنے ٹهنڈی ہوا خارج کی تهی شہرام کو شدت سے خواہش ہوئی کہ اسکو پیچهے سے ہگ کرلے پر خواہش خواہش ہی رہ گئی سب بڑئے نیچے چٹائی بیچهائے بیٹه گئے تهے شہرام نے نیچے سے پینٹ فولڈ کی تهی اور مصطفی کی پینٹ کو دیکها جسکی آلریڈی فولڈ تهی مصطفی جب بهی پینٹ شرٹ پہنتا تها ہمیشہ نیچے سے فولڈ ہی رکهتا تها
“آوو احتشام وہاں پکس کهینچتے ہیں….”
آبریش نے احتشام کا بازو کهینچتے ہوئے اونچے نیچے پتهروں کی طرف اشارہ کیا
“نہ بهئی پہلے اپنے شوہر سے پوچھ لیں کہ وہ اجازت دیتے ہیں میرے ساتھ پکس بنانے کی یا نہیں…..”
اسنے شرارت سے بلند آواز میں کہا کہ مصطفی بخوبی سن لے اور مصطفی کے ساتھ باقیوں نے بهی سنا تها اور ہنسے تهے مصطفی نے اسکو گهورا تها اور پهر خود بهی ہنس دیا آبریش نے اسکے سر پر چپٹ لگائی تهی
“اوفف آبر باجی اپ میں ہانی جیسی بات بات پر مارنے والی روح کہاں سے آگئی….”
اسنے سر سہلاتے ہوئے کہا
“چلو…”
اسنے اسکو بازو سے زبردستی کهینچتے ہوئے کہا تو وہ بهی چلنے لگا
پریہان اپنی جینز کو نیچے سے فولڈ کرتی آگے سمندر کی جانب بڑهنے لگی یہ دیکهے بغیر کے اسکی آدهی آدهی پنڈلیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں پر اسکو اس چیز سے کہاں خبر تهی
“پریہان زیادہ آگے مت جاو….”
آبریش کی آواز گونجی تهی پر وہ سن کب رہی تهی ہوش میں تب آئی جب کسی نے اسکو بازو سے پکڑ کر کهینچا تها
“آگے جاو گی تو ڈوب جاو گی…..”
شہرام نے چہرے پر فکرمندی لاتے ہوئے کہا
“شہرام تمہارے ہوتے کیسے ڈوب سکتی ہے یہ…..”
جواب پریہان کی بجائے آبریش نے دیا جو ان سے پندرہ بیس فٹ کے فاصلے پر کهڑی تهی اسکی بات پر دونوں اسکی طرف متوجہ ہوا تو پریہان چهینپ کر چہرہ جهکاگئی اور شہرام فاصلے پر کهڑا ہوا
“اب وہاں کیا کهڑے ہو آو نہ….”
آبریش نے اپنی بات کا رخ موڑتے ہوئے کہا
“چلو ایک سیلفی لیتے ہیں….”
احتشام نے ان تینوں سے کہا تو وہ تینوں اسکے ساتھ کهڑے ہوگئے اور پهر ایک سیلفی کہ بجائے بےشمار سیلفیاں لی گئیں سیلفیوں کا نشہ تب ٹوٹا جب شہرام کے فون پر بیل بجی
“ہمارے ساتھ بهی کچھ سیلفیاں لے لیں شہرام….”
شہرام جو فون سن کر فون جیب میں ڈالنے لگا پیچهے پلٹا
“کیا مسئلہ ہے….”
بلا کی کرختی تهی
“سب کے ساتھ لے رہی ہو آخر میں پهر بهی تمہاری کزن ہوں….”
نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اس نے کہا
“رستہ ناپو اپنا ورنہ پبلک میں بهی لحاظ نہیں کروں گا…..”
یہ کہ کر سائیڈ سے ہوگا چلا گیا
“پبلک تو دیکهی گی اور دیکهو گے تم بهی آج ایس پی شہرام…”
ضبط سے کہتی بڑوں کے ساتھ جابیٹهی
“ماما میں وہ وہاں جارہی ہوں…..”
پریہان نے انکے پاس آتے شازیہ بیگم سے کہا وہ تقریباً آدهے چالیس فٹ کے فاصلے پر موجود اونچے پتهروں کی بات کررہی تهی
“بچے کافی دور نہیں….”
سعید صاحب بولے تهے
“بڑے ابو جلدی آجاوں گی….”
اسنے مسکرا کر تسلی دی تو اسکی امی نے اجازت دے دی
“یہ لیں گرما گرم آئس کریم. …”
احتشام نے آنکھ دباتے شرارت سے آہستہ آہستہ سبکو آئس کریم تهماتے ہوئے کہا تو مصطفی اعر شہرام نے نفی میں سر ہلایا کہ اسکا کچھ نہیں ہوسکتا
“چهپکلی کدهر ہے…..؟”
احتشام کو اپنے شرارت والی لڑکی نظر نہ ائی تو پوچها
“تمیز سے بولا کرو بڑی بہن ہے …”
حماد صاحب نے ڈانٹا تها پر یہاں اثر کسکو تها
“وہ وہاں ہے…..”
زرش نے ان پتهروں کی طرف اشارہ کیا تو احتشام کے ساتھ شہرام نے بهی دیکها تها جو پتهروں پر بیٹهی سمندر کو دیکھ رہی تهی
“یہ اتنی دیوانی کیوں ہے سمندر کی….؟”
زرش کی طرف سے سوال ہوا تها
“بیگم یہ شروع سے ایسی ہے….”
رامز نے کہا
………………………….
“چلو اسکو لے آو اور کچھ کها لو….”
سعدیہ بیگم نے کهانے کا سامان نکالتے ہوئے کہا
“میں لاتی ہوں…”
وشما اٹهی تهی
“ضرورت نہیں میں لے آتا ہوں….”
شہرام نے اسکو ٹوکا تها اور قدم اسکی جانب بڑها دئیے تهے
“کیا ہوا سویٹ ہارٹ تنہا بیٹهی کو…..”
شہرام نے اسکے پاس بیٹهتے اسکا ہاتھ تهامتے ہوئے کہا تو وہ چونکی
“آپ کب آئے….؟”
اسکا ایسے پوچهنا اسکو زرا اچها نہ لگا
“یہ سمندر….ہونہہ اس سمندر میں اتنا گم تهی مجھ سے غافل ہو….”
اسنے نرمی سے اسکا بازو تهامتے ہوئے شکوہ کیا تو وہ شرمندگی سے چہرہ جهکا گئی
“مجھ سے زیادہ یہ سمندر اہم ہے تمہارے لیے اس سے زیادہ محبت ہے….؟”
تهوڑی سی گرفت سخت ہوئی تهی اسکا سر اور جهکا تها اسکے سوال پر اسنے نفی میں سف ہلایا
“چلو چلتے ہیں سب بلا رہی ہیں….”
اسکا بازو چهوڑتا اٹهنے لگا کہ اسنے اسکا ہاتھ پکڑا تو وہ دوبارہ بیٹها
“ناراض ہوگئے…..؟”
“نہیں ہونا چاہیے کیا….؟”
الٹا سوال کیا تها
“سوری….”
اسنے ہونٹ کچلتے ہوئے کہا
“ان نرم گداز ہونٹوں کے ساتھ یوں ظلم تو مت کرو ابهی تو میں نے بهی انکی نرماہٹ محسوس نہیں کی….”
اسکے مزید قریب ہوکر بیٹهتا انگوٹهے کی مدد سے اسکا ہونٹ ازاد کروایا تها یہ گهر والوں سے اتنے دور تهے کے کوئی یہ نہیں دیکھ سکتا تها کہ یہ کیا کررہے ہیں..
“کک-کوئی دیکھ لے گا چلیں…”
اسنے رهوڑا سا پیچهے کهسکتے ہوئے کہا پر اب اگر تهوڑا سا مزید پیچهے ہوتی تو گرجاتی
“دیکهنے دو….”
یہ مزید آگے ہوا تها پر اسکو گهبراتا اور انکهیں بند خرتا دیکھ اسکا قہقہ گونجا تها
“ہاہاہاہا چلو چلتے ہیں….”
یہ کہتا اٹها اور نیچے اتر کر اسکی جانب ہاتھ بڑہایا جسکو بڑے استحاق سے اسنے تهاما تها وشما یہ دیکھ رہی تهی
“کہیں شہرام پریہان سے تو…نہیں نہیں تم اپنی گڑیا پر کیسے شک کرسکتی ہو وہ تو کزنز ہیں پہلے بهی ایسے ہاتھ وغیرہ پکڑ ہی لیتے….”
اسنے ان کو آتا دیکھ کر سوچا تها پهر خود ہی اپنی سوچ کو نفی کیا تها
ان دونوں کو دیکهتی اسکا تسلسل اسکے فون پر ہونے والی رنگ ٹیون نے توڑا فون کٹ کردیتی اگر ضروری نہ ہوتا
“میں یہ فون سن لوں زرا….”
یہ کہتی اٹهی تهی
“ہاں بولو…”
آگے سے ناجانے کیا کہا گیا کہ اسکے تاثرات بدلے
“یہ کیا بکواس ہے….؟”
اسکی اواز بلند ہوئی تهی پهر اردگرد دیکهتی دهیمی ہوئی تهی آواز
“سارے پلین کا بیڑا غرق کردیا….”
اور اگلی بات سن کر اسنے مٹهیاں بهینچی تهی
“آرہی ہوں میں…. اچها… ہاں مطلب اور صبر کرنا ہوگا…..”
کہتی غصے سے فون بند کیا تها
“چهوٹی امیوں دراصل میری دوست ہوسپٹل میں ہے اسکا اپریشن ہے تو وہ میں ایمرجنسی میں جارہی ہوں….”
اسنے بہانا گڑہ تها
“زیادہ پریشانی تو نہیں…”
حماد صاحب نے پوچها
“نہیں چهوٹے ابو میں چلتی ہوں….”
یہ کہتی چلی گئی تو اسکو جاتا دیکھ شہرام نے سکه کا سانس لیا تها
کهانا کهانے کے بعد اب انہوں نے فٹ بال سنبهالا تها جو وہاں موجود پهیری والے سے احتشام نے خریدہ تها
“لو آجاو بهی سب میدان میں آج پریہان شہرام بهائی مصطفی بهائی اور اور دا چیمپئین رامز بهائی آجائیں میرے جانباز کهلاڑیوں جتنے بهی جانباز بن جاو مجھ کم استاد ہوں یار….”
فٹ بال کو پیر سے ادهر ادهر کرتا اسنے ان کو مخاطب کیا ساتھ اپنی تعریف میں کوئی کثر نہ چهوڑی تهی
“دیکھ لیتے ہے چول انسان کون کتنا چیمپئین ہے……”
شہرام نے اسکو گردن سے دبوچا تها
“ہاں شہرام آپکے مقابل پریہان دی گریٹ ہے….”
اسنے زبان چڑہاتے ہوئے کہا
“یار رامز مجهے تو لگتاہے ہم الگ سے کهیل لیتے ہیں…”
مصطفی نے فٹ بال احتشام کے پیر سے فٹ بال لیتے ہوئے کہا
“ہاں ہاں مصطفی یہ فٹ بال بهی نیا لے آئیں…..”
اسنے فٹ بال کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا
“اوئےےےے بهائیو غصہ کس چیز کا آو کهیلتے ہیں…..”
احتشام ان دونوں کے آگے آتا ہوا بولا
“چلو فر…..”
رامز نے فٹبال درمیان میں پهینکا تها اور پهر گیم شروع ہوا پریہان دو سالہ چیمپین رہ چکی تهی اور احتشام نے حال ہی میں یونیورسٹی میچز کا ایوارڈ جیتا تها مصطفی اور شہرام بهی کم نہ تهے اور رامز کا تو فیورٹ کهیل یہی تها وہ بات الگ تهی اسکو چهوڑے کافی عرصہ ہوگیا تها سب اشتیاق سے انکو دیکھ رہے تهے کهیلتے کهیلتے پانی کی تیز ہوتی لہروں میں بهی پہنچ چکے تهے
شہرام سے بال کهینچنے کے چکر میں پریہان گری تهی اسکے گرنے پر سب ہنسے تهے پریہان نے ہنستے ہوئے شہرم کو نیچے سے ہی ٹانگ ماری تهی وہ جو فٹبال کو کک مارنے میں تها اس حملے پر گرا تها اور وہ تینوں فتبال چهوڑے انکو دیکھ کر ہنسنے لگے
پریہان نے پانی اسکے اوپر پهینکا تها اور پهر شہرام کیسے پیچهے رہتا انکو شرارت سوجهی تو ان تینوں کو بهی دونوں نے نیچے کهینچ لیا اب پانچوں پانی میں بچوں کی طرح انجوائے کررہے تهے اور سارے بهیگ چکے تهے سب کهلکهلا رہے تهے دور سے دیکهتی اانکی فیملی نے دائمی خشیوں کی دعا کی تهی
شام قریب تهی تو پانچوں پانی سے باہر نکلے کیونکہ لہریں تیز ہوگئی تهی اور خطرناک بهی
“نہیں مجهے نہیں نکلنا….”
وہ چاروں اٹه چکے تهے پر پریہان کا دل نہ تها
“بہن لہریں تیز ہیں اٹه جاو….”
رامز نے کہا تها
“بهائی آپ آجائیں پهر میں اکیلی نہیں ہونگی….”
اسنے شرارت سے کہا
“یہ ایسے باز نہیں آئے گی اسکا کچھ کرنا ہوگا…..”
شہرام کہتا بازوو کو مزید اوپر کیا تها اور اسکو ایک بازو سے پکڑ کر کهینچنا شروع کیا اور پریہان کی چینخے عروج پر تهی اور احتشام صاحب وڈیو پر زور دیا ہوا تها ساتھ ہنسنے میں بهی رامز اور مصطفی کے بهی قہقے بلند تهے اور شہرام بهی ہنستا ہوا اسکو کهینچتا لے جارہا تها دور بیٹهے انخی فیملی بهی پریہان کو دیکھ کر ہنس رہے تهے
“شہرام پانی سے نکل آئے ہیں اب چهوڑ دیں میرے کپڑے…..”
پریہان دوبارہ چلائی تهی.
“خاموش ہوجاو وڈیو برباد کررہی ہو خاموش نہ ہوئی تو شہرام بهائی اب ٹانگوں سے کهینچیں گے…. “
اسنے ایسے ٹوکا جیسے بہت ضروری کام کررہا ہو اور پریہان دسٹرب کررہی ہو پریہان نے دانت کچائے تهے اور آخر شہرام نے اسکو گهر والوں کے پاس لاکر ہی چهوڑا تها
“ظالم ایس پی….”
اسنے لیٹے لیٹے ہی اسکی طرف دیکهتے ہوئے کہا تو سب کے قہقے بلند ہوئے
“چلو چلتے ہیں شام ہورہی ہے….”
سعید صاحب کہتے اٹهے تهے تو سب اٹهے اور جانے کیلیے تیار ہوگئے اور ان کی شرارتیں ابهی بهی جاری تهیں
پریہان جو آگے آگے قدم بڑها رہی تهی تو شہرام نے اسکو ہاتھ سے پکڑ کر پیچهے کهینچا
“کیا ہے…..؟”
اسنے پهولے منہ سے کہا اب یہ دونوں سب سے اخر.میں تهے
“ایک گانا یاد ایا ہے سوچا سنا دوں تو ناراضگی ختم ہوجائے….”
اسنے شرارت سے کہا
“کونسا….؟”
اسنے بهولے پن سے پوچها
“بهیگا یہ بدن تیرہ پانی میں اگ لگائے پر یہاں تو میرے دل میں آگ لگی ہے…”
اسکے کان میں کہتا پیچهے ہوکر اسکے چہرے کو دیکهنے لگا جو سرخ ہورہا تها
“اچها نہیں پسند آیا ایک اور گانابهی ہے یاد آیا….”
وہ جو غصے سے جانے لگی تهی اسکو بازو سے کهینچ کو پهر پاس کیا
“سن تو لو…”
“اچها بولیں…”
اپنے بازو کو اسکے ہاتھ میں قید دیکھ ہار مانتے ہوئے کہا
“چهو بهی لے لب میرے ضد نہ کر بےوجا….”
یہ کہتا فوراً وہاں سے آگے رامز کے ساته چلنے لگا اور اس سے لے کر سعد کو اٹهایا اور پیچهے وہ دونت پیس کررہ گئی
