Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

آج شہرام نے پورے چار سال بعد ملک ویلا میں آنا تها ہر کسی کے چہرے پر خوشی تهی ہر پکوان شہرام کی پسند کی پکی تهی
شہرام نے اپنی جیپ ملک ویلا کے سامنے روکی جو اسکو ائیروپلین سے اترتے ساتھ دی گئی تهی جیپ سے اتر کر اسنے مسکرا کر گهر کو دیکها کہ چوکیدار کی آواز پر مڑہ اور اسکو کس کر گلے سے لگایا یہ انکا بہت پرانا اور وفادار چوکیدار تها

“چچا یہ جیپ اندر کردیں اور سامان بهی لے آئیں….”
اسنے چابی کریم چچا کو تهماتے ہوئے کہا اور خود اندر کی راہ لی دروازے سے اندر قدم رکهتے ہی اسکے لب اور کهل اٹهے تهے کیونکہ سامنے ہی سب اسکے استقبال میں تهے جلدی سے اگے بڑا اور سب بڑوں سے ملنا لگا سبکی آنکهوں میں پانی جمع تها اپنے لخت جگر کو پورے چار سال بعد دیکھ رہے تهے

“اور ٹائیگر کیسا ہے….؟”
حماد صاحب نے اسکے سینے پر ہاته مارتے ہوئے کہا
“اپکی طرح چهوٹے ابو….”
اسکی بات پر سب کے چہرے کهل اٹهے تهے
“بهئی شیر تو اور خطرناک ہوکر آگیا ہے…”
رامز نے گلے ملتے ہوئے کہا
“جی رامز بهائی یہ تو آپکا پیار ہے جس نے مجهے ایسا بنایا….”
اسنے بهی جوابا احترام سے کہا
“اوئے مصطفی تو تو نکاح کے بعد کتنا بدل گیا ہے(حلانکہ ایسا کچھ نہ تها)….”
اسنے گرم جوشی سے اسکے گلے لگتے ہوئے کہا
“یہ تو تیرا حسن نظر ہے جو میں خوبصورت لگ رہا ہوں…”
اسنے آنکه مارتے ہوئے کہا تو سب ہنس دیے
“اللہ نظر بد سے بچائے مجهے….”
احتشام نے شہرام سے ملتے ہوئے کہا تو سب کے قہقے گونجے اور شہرام نے ایک مکا احتشام کی پیٹه پر جڑا تها
زرش بهابهی کو سلام کرتا آبریش سے ملا اور پهر وشما سے پر ایک شخص کی کمی تهی جسکی تلاش میں اسنے نظریں دوڑائیں تهی

“کسکو ڈهونڈه رہے ہیں ایس پی شہرام….؟”
پریہان نے پیچهے سے ڈراتے ہوئے کہا لیکن وہ بالکل نہ ڈرا تها بلکہ ہنسا تها
“کسی کو بهی نہیں…..”
ڈرائینگ روم کی طرف چلتے ہوئے اسنے اسکی طرف مسکرا کر دیکھ کر جواب دیا
“جهوٹ مت بولیں شہرام اپکی نظریں کسی کی متلاشی ہیں….”
اسنے شرارت سے کہا تو وہ دوبارہ ہنسا تها
“مس پریہان ابهی آیا ہوں میں آپ بےوجہ کا شک کررہی ہیں پلیز اس ملزم کو بخش دیں….”
اسنے تابعداری سے کہا تو وہ کهلکهلا کرہنسی اور دونوں اکهٹے ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے

“آو ہانی ہم چائے بنا کرلاتی ہیں سب کیلیے….”
آبریش نے پریہان سے کہا تو دونوں کچن میں چلی گئیں
“شہرام کتنے کیوٹ ہوگئے ہیں نہ….؟”
پریہان نے آبریش سے کہا تو آبریش ہنس دی
“اچها کتنے کیوٹ….”
اسنے شرارت سے کہا
ہمیشہ.غلط ہی سوچنا چڑیل وہ بهائیوں جیسے ہیں اسی لیے کہا….”
اسنے گهورتے ہوئے کہا تو ابریش نے قہقہ لگایا اور پریہان نے منہ ٹیڑها کیا

ٹرالی میں چائے مختلف قسم کے لزومات سجائے پریہان اور آبریش ڈرائینگ روم میں داخک ہوئیں اور سب کو چائے سرو کرنے لگی
“شہرام آپکو اسلام آباد میں زیادہ مزہ آتا تها یا یہاں…؟”
“ڈئیر کزن اببی تو آیا ہوں اور وہاں کچھ خاصا مزہ مہ تها فیملی میں زیادہ مزہ آتا ہے…”
اسنے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا
“جس طرح کے آپ سڑو ہیں آپکو ماحول سے فرق تو نہیں پڑتا ہوگا….”
“پریہان تمیز سے اڑتی جارہی ہے…”
شہرام کی بجائے شازیہ بیگم نے گهورا کر کہا تها
“کیوں شازیہ بچی کے پیچهے پڑی رہتی ہو….”
سعدیہ بیگم نے طرف داری کی تهی
“ہے نہ بڑی امی دیکھ لیں….”
اسنے نقلی کے انسووں صاف کیے سب کے طہروں پر مسکراہٹ تهی
“بچہ تهکا ہوا آیا ہے آتے ساتھ اسکا دماغ خراب کررہی ہے….”
شازیہ بیگم نے کہا
“اماں بچہ کونسا پیدل آیا ہے جو تهکا ہوا ہے اور دماغ انکا خراب ہوتا جنکے پاس ہو کیوں شہرام….”
ساتھ شہرام کو بهی مخاطب کیا لیکن جلد سمجھ آنے پر زبان دانتوں تلے دبا گئی اور اماں کا ہاتھ جوتی کو پڑتا دیکھ چهپاک سے ڈرائنگ روم سے نو دو گیارہ ہوئی تهی لیکن پیچهے سے اسکو سب کے قہقے سنائی دیے تهے

“اسکا میں کیا کروں میرا تو بی پی کسی دن شارٹ کردے گی یہ لڑکی نہیں کسی کا لحاظ….”
شازیہ بیگم نے سر پکڑا تها
“ارے بهابهی بچی ہے ابهی یہی تو شرارتوں کی عمر ہے….”
سعید صاحب نے ہنستے ہوا کہا
“رہنے دیں بڑے ابو پاگل ہے ایک عدد جهٹکے کی ضرورت ہے اسکو بس مجهے آپ حکم کریں….”
احتشام نے ٹانگ اڑائی تهی
“اور بیٹا جی جو جهٹکے اپکے بهائی اور والد صاحب دیں گے انکے لیے بهی تیار رہنا…”
رامز نے چائے کا گهونٹ بهرتے ہوئے کہا
“جب رامز بهائی ہو ساتھ تو پهر ڈرنے کی کیا بات…”
احتشام نے ہاتھ بلند کرکے کہا
“بیٹا یہی تو ڈر ہے رامز خود تجهے پهینٹی لگائے گا….”
مصطفی نے ہنستے ہوئے کہا
“اسکا مطلب کوئی میرے ساتھ نہیں لو میری وشما آپی ہیں نہ…..”
اسنے پاس بیٹهی وشما کے گرد بازو پهیلاتے ہوئے کہا تو وشما نے گهورا
“احتشام مجهے تو دور رکھ…”
“ہاں کسے کہ رہا ہوں سب سے زیادہ وشما آپی کی ہی تو لاڈلی ہیں مس پریہان….”
“بس شہرام بهائی اب آپ ہی بچے ہیں…”
اسنے رونی شکل.بناتے ہوئے کہا
“ہاہاہاہا فکر نہ کر میں تیرے ساتھ ہوں مائے بوائے…”
شہرام نے ہنستے ہوئے کہا
“تو بس پهر آپکا پولیس سٹیشن اتنا بڑا ہوگا کہ ہم دونوں رہ سکیں….”
“کیا مطلب…”
اسنے نا سمجهی سے کہا
“کیونکہ ہمیں پریہان کو کچھ کہنے پر گهر سے نکال دیا جائے گا….”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا تو سب کے قہقے ایک بار پهر گونجے تهے اور سب بڑوں نے ہمیشہ ایسے خشیوں کی دعا کی تهی
………………………………
ڈنر کرنے کے بعد سب گهر کی سائڈ پر بنے گارڈن میں بیٹهے گپوں میں مصروف تهے اور ساتھ چائے اور دیگر لزومات سے لطف اندوز بهی ہورہے تهے
حماد صاحب سعید صاحب مصطفی رامز اور شہرام آپس میں باتوں میں مگن تهے سعدیہ اور شازیہ بیگم بهی اپنی باتوں میں مگن تهیں باقی سب وشما آبریش پریہان زرش اور ان چاروں میں گهسا ہوا احتشام یہ بهی ایک دوسرے کی ٹانگ کهینچنے میں مشغول تهے

“آبر سنو…؟”
وشما نے پاس بیٹهی آبریش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“جی اپی…”
“پانی پلا دو بچے….”
وشما نے ایک سالہ احمد کی هال پر کس کرتے ہوئے کہا
“جی آپی لاتی ہوں…”
اسنے آٹھ کر جگ دیکها جو خالی تها تو جگ اٹهاتی کچن میں پانی لینے چلی گئی
مصطفی یہ سب دیکھ رہا تها تو اسکو شرارت سوجهی فون کا بہانا بناتا اٹها اور گارڈن والی سائڈ سے نکلتے دروازے سے گهر کے اندر داخل ہوا اور کچن میں جهانکا تو آبریش فریج کهول کر پانی کی بوتل نکال رہی تهی اسنے آبریش مصطفی کو دیکھ نہ پائی تهی اسنے آگے بڑه کر لائٹ اوف کی تو ایک دم سے اندهیرا چها گیا

“اوفف لائٹ کو کیا ہوا….”
خود سے بڑبڑاتی بوتل کو سائڈ پر رکها اور لائٹر ڈهونڈهنے لگی جوں ہی اسنے ہاتھ لائٹر کی طرف بڑهایا اسکو اپنی کمر پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا اسکی دهڑکن تیز ہوگئی تهی جب اسکو لگا اسکی کمر پر گرفت سخت ہوگئی ہے تو اسنے جیسے ہی چینخ مارنے کیلیے منہ کهولا ویسے ہی اسکا ارادہ بهانپتے مصطفی نے اپنا بهاری ہاته اسکے منہ پر رکها

“ششش میں ہوں سویٹ ہارٹ….”
مصطفی نے پیچهے سے ہی کان میں سرگوشی کی
“ہاتھ ہٹا رہا ہوں چینخنا مت….”
اسنے دوبارہ سرگوشی کی تو آبریش نے زور سے سر ہلایا تو اسنے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اسکا رخ اپنی طرف کیا اب اسکا ایک ہاتھ اسکی کمف اور دوسرا چہرے پر تها اور آبریش خونخوار نظروں سے اسکو گهور رہی تهی

“مصطفی ایسے بهی کوئی کرتا ہے جان نکال دی تهی میری آپ نے…”
اسنے اسکو گهورتے ہوئے اپنے دهڑکتے دل کو سنبهالتے ہوئے کہا تو مصطفی ہنسا
“تم مجهے اگنور نہ کرتی تو یوں مجهے نہ کرنا پڑتا….”
اسنے ہاتھ اسکی گردن پر لاتے ہوئے کہا اب اسکی چار انگلیاں گردن پر جبکہ انگوٹها اسکی گال پر تها
“مم-میں نے کب اگنور کیا…..؟”
اسنے چہرہ جهکاتے ہوئے کہا
“صبح سے تو کررہی ہو یو نو مجهے تمہارا زرا سا بهی اگنور کرنا بہت برا لگتا ہے…..”
اسنے اسکی گال کو انگوٹهے کی مدد سے سہلاتے ہوئے کہا
“نہیں مم-مصطفی دراصل میں مصروف….”
“شششش مجھ سے زیادہ کچھ امپورٹنٹ نہیں تمہارے لیے…..”
اسنے اسکی بات کاٹتے ہوئے وہ انگوٹها اسکے ہونٹوں پر رکهتے ہوئے کہا
“سس-سوری….”
اسنے کانپتی ہوئی آواز سے کہا
“ایسے نہیں سبکے سو جانے کے بعد ایک کپ کافی لانا کمرے میں…..”
اسنے معنی خیزی سے کہا تو اسنے سختی سے آنکهیں میچیں
“چلو شاباش اب اپنی گهبراہٹ پر قابو پاو اور پانی کی بوتل لو اور جاو….”
اسکی گال سے اپنی گال مس کرتا پیچهے ہوا تو وہ تیز تیز سانس لینے لگی
“جاو ورنہ خود پر قابو نہیں پاسکوں گا….”
اسکی بات پر وہ بوتل اٹهاتی کچن سے بهاگی تهی اور مصطفی نے مسکرا کر اپنے بالوں میں ہاتھ پهیرا تها اور خود بهی کچن سے باہر نکل گیا

تقریبا ایک بجے سب اپنه اپنے کمروں میں چلے گئے تهے کیونکہ اب نیند ستانے لگی تهی لیکن آبریش کی نیند تع کہیں گم ہی ہوگئی تهی کچن میں کافی بناتی اسکا دماغ سائیں سائیں کررہا تها اسکا دل گهبرا رہا تها اس وقت کمرے میں جانے کو کمرے میں تو وہ پہلے بهی جاتی تهی پر آج مصطفی نے صاف لفظوں میں وارننگ دی تهی
کافی کپ میں انڈیل رہی تهی کہ اسکو اپنے پیچهے آواز سنائی فی پلٹی تو پریہان تهی اسے دماغ میں گهنٹی بجی

“کیا ہوا آبر اس وقت کچن میں اور کافی….”
اسنے پانی پیتے ہوئے اسکو دیکھ کر کہا
“ہاں…ہاں یہ مصطفی کیلیے ہے ایسا کرو یہ تم اپنے کمرے میں جاتے ہوئے مصطفی کو پکڑاتی جانا مجهے بهوک لگی ہے میں کچه کهالوں….”
اسکی بات پر اثبات میں سرہلاتی اسکے ہاته سے کافی پکڑئی اور کچن سے چلی گئی آبریش نے گہرہ سانس خارج کیا
“مصطفی آپکو کل منالوں گی….”
خود سے کہتی فریج میں پڑا جوس نکال کر پینے لگی
………………………………
مصطفی جو بیڈ پر نیم دراز تها دروازہ کهٹکنے کی آواز پر اسکے لب مسکرائے تهے
“یس…”
اسکی اجازت پر پریہان اندر داخل ہوئی اسکو داخل ہوتا دیکه اسکے لب سکڑئے تهے
“آپ کیوں لے آئی میری جان…”
اسنے بیڈ سے اٹهتے ہوئے کہا
“وہ آبر نے کہا تها….”
اسکی بات سن اسنے محض اثبات میں سرہلایا تها
“آپکو نیند آئی ہے….”
مصطفی نے مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھ سے کپ پکڑتے ہوئے کہا
“آپکی انکهیں سرخ ہیں…”
اسکے سر پر پیار کیا تها
“جی بهائی جان اسنے اسکے سینے پر سر رکهتے ہوئے کہا تو اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی
“چلیں میں چلتی ہوں….”
مسکرا کر کہا تو مصطفی بهی مسکرا دیا اسکے جاتے ہی مسکراہٹ غائب ہوئی تهی اور غصے سے ایک میسج ٹائپ کیا تها لیکن پهر کچھ سوچ کر کٹ کردیا اور بےدلی سے کافی پینے لگا کافی کی تو اسکو طلب تهی لیکن ساتھ کسی اور چیز کی بهی تهی پر ہائے رے قسمت