Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

پریہان کمرے میں ادهر سے ادهر ٹہل رہی تهی اور بار بار فون کو دیکهتی پر فون اسکو زبان چڑہا رہا تها اسنے فون بیڈ پر پهینکا تها اور دهپ سے بیڈ پر بیٹهی
“اوفف شہرام مجهے نیند آرہی ہے لیکن آپکا میسج نہیں آیا…..”
اسنے منہ بناتے ہوئے فون کو گهورا جیسے بیچارے کا قصور ہو کہ جان بوجھ کر فون میسج نہیں شو کررہا
“آئی میری کمر…”
اسنے کمر کو دوبایا تها اور منہ میں بڑبڑائی پانچ چھ گهنٹے لگاتار بیٹهنے اور پهر اسکے بعد بهی یہ لیٹی نہ تهی اب اسکی کمر درد کررہی تهی یہ کمرے میں آکر بهی نہ لیٹی تهی کیونکہ جانتی تهی اگر لیٹی تو سمجهو سو گئی اور اگر سو گئی تو شہرام کی دهمکی اسنے سوچ کر ہی جهرجهری لی
اسی خیالوں میں میسج کہ ٹیون بجی تو اسنے جلدی سے فون اٹهایا اور میسج شہرام کا ہی تها جو منٹ تک آنے کا کہ رہا تها
مسکرا کر فون رکهتی اسنے اٹه کر دوپٹا سیٹ کیا اور چادر اٹهاتی اپنے اردگرد لپیٹی تهی اور خود کو آئینے میں دیکها وہ ابهی بهی ویسی ہی تیار تهی
پهر دروازہ کهولتی اردگر جهانکا اور شوز اتارتی ہاتھ کی انگلیوں میں اسکو سٹرپٹس سے لٹکاتی آہستہ آہستہ لہنگا اٹهاتی چلنے لگی اور اردگرد دیکهنے لگی کوئی ہے تو نہیں….
اگر چائے نہ بنانی ہوتی تو وہ پیچهے کی طرف سے اترتی سیڑهوں سے اتر جاتی پر افسوس…
پورا گهر اندهیرے میں ڈوبا ہوا تها یقیناً سب سوئے ہوئے تهے سارا دن کام کی وجہ سے تهکے ہوئے تهے کچن میں جاتی ایک لائیٹ جلائی اور چائے کیلیے دودھ اوپر چڑہایا کچھ ہی دیر میں وہ چائے بناتی کچن سے باہر نکلی اور دهیرے سے لان سے نکلتے دروازے کی طرف بڑهی جیسے ہی باہر نکلی اسکو شہرام نظر ایا جو سینے پر ہاتھ باندهے مسخرا کر اسکو دیکھ رہا تها اسکے دل کی ڈهڑکنیں تیز ہوئیں تهی

شہرام دهیرے سے چلتا ہوا اسکے پاس آیا اور اسکو کندهوں سے تهاما
“یقیناً آج تمہارے سارے انتظام تهے رخصتی کروانے کے اور دیکهو بہت مشکل سے خود پر کنٹرول کیا تها…..”
اسکی بات کرتے منہ سے دهواں نکل رہا تها سردی کافی بڑھ رہی تهی اسکی بات پر پریہان گهبرائی تهی
شہرام نے آگے بڑھ کر اسکی آنکهوں ہر پٹی باندهی تهی
“شش-شہرام. …”
“ششش میری جان سرپرائیز ہے نہ….”
اسنے آگے جهک کر کان میں سرگوشی کی اور اسکو کندهوں سے تهامتا چلنے لگا کچھ قدم چلنے کے بعد رکا تها اور اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ رکها تها
“شہرام کہاں ہیں آپ…..؟”
اسکو ڈر لگ رہا تها شہرام کو بهی آس پاس نہ پاکر بولی اور پٹی کهولنے کیلیے ہاتھ بڑهائے جو شہرام بے تهام لیے
“بہت قریب تمہارے…..”
پیار سے کہتا اسکے دل کی دهڑکنیں مزید بڑها گیا تها اور اسنے پٹی کهولی پریہان نے جیسے ہی آنکهیں کهولیں سامنے کا منظر دیکھ دهنگ رہ گئی
“واو بہت خوبصورت…..”
بےاختیار منہ سے نکلا
کیونکہ سامنے ایک ٹیبل پر پهول ہی پهول تهے نیچے گهاس پر بهی پهول تهے اور مصنوعی سنو جہاں پہ ٹیبل تها وہاں پہ گررہی تهی ہوش تو تب ایا جب شہرام نے اسکو باہوں میں اٹهایا تها وہ تو شرم سے دہری ہی ہوگئی
“شش-شہرام پلیز اتا……”
“ششش……”
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے شہرام نے ٹوکا
اور اسکو لیتا ٹیبل کے پاس گیا وہاں جیسے ہی کهڑئے ہوئے بےشمار پهول ان پر گرنے لگے اسنے جهک کر اسکے ماتهے ہر لب رکهے اور گود سے نیچے اتارا اور جیب میں ہاتھ ڈال کر ناجانے کیا کیا کہ پهول گرنے کی رفتار مزید ہوئی پریہان کا ادهر دهیان نہ تها وہ تو اوپر گرتے پهولوں میں کهو سی گئی تهی

“آوو نا شادی کا کیک کاٹیں کیونکہ اگر میں کهویا تو تم مصیبت میں پڑ سکتی ہو….”
پیچهے سے کان میں سرگوشی کی تو وہ ڈر کر اچهلی شال شانوں سے ڈهلک کر نیچے گر چکی تهی اور ٹیبل پر دیکها جہاں بلیک فوریسٹ کیک پڑا تها جس پر “ایس اور کیو(Q)” لکها تها
“کیو کیا….؟”
اسکی توقع کے مطابق سوال تها شہرام دهیرے سے مسکرایا
“کیو مینز کوئین….کوئین اوف مائے ہارٹ…….”
اسنے ایک جزب سے کہا تها وہ دم سادهے اسکو دیکهنے لگی بےشک وہ آج اسکو مارنے کی کوئی کسر نہیں چهوڑ رہا تها
“چلو کاٹیں….”
اسنے ٹیبل سے چهرئی اٹها کر اسکو پکڑائی اور اسکے پیچهے کهڑا ہوکر ایک ہاتھ سے اسکی کمر سے پکڑا اور دوسرا ہاتھ اسکے ہاتھ کے اوپر رکھ کر چاقو پر گرفت مضبوط کی تهی
کیک کاٹنے کے بعد شہرام نے انگلی سے چاکلیٹ لیتے اسکی گال پر لگائی تهی اور آگے بڑھ خر اس چاکلیٹ کو ہونٹوں سے چنا تها پریہان نے سختی سے انکهیں میچیں تهیں دل ایسے تها جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا
“تم تو ابهی سے ہی گهبرا گئی شہرام کی جان…..”
اسنے پیچهے کهڑئے ہی آگے چہرے پر چهولتی کچھ لٹوں کو کان کے پیچهے کرتے ہوئے کان میں سرگوشی کی اور ہلکی سے بائیٹ کی کہ اسے منہ سے آہ نکلی اور زرا سی گردن گهما کر شہرام کو دیکها جو اسکے کندهے پر تهوڑی ٹکائے اسکو دیکھ رہا تها اسکے دیکهتے ہی شہرام نے ایک آنکھ دبائی تو پریہان نے فوراً چہرہ سیدها کیا وہ شرمائی سی گهبرائی سی سیدها اسکے دل میں اتر رہی تهی

اسنے ایک پیس اٹهایا اور اسکے منہ کے پاس کیا تو پریہان نے منہ کهولا اور شہرام نے اسکو تهوڑا سا کهلانے کے بعد تهوڑی سی بائیٹ خود بهی لی اور پهر واپس رکهنے کے بعد انگلی پر لگی چاکلیٹ اسنے اسکے سرخ لپسٹک لگے ہونٹوں پر لگائی تو پریہان فورا اچهل کر پیچهے ہوئی
“پپ-پلیز شہرام……”
اسنے انگلیاں مڑوڑیں تهیں پر شہرام اسکو سن کب رہا تها چاکلیٹ اور بلڈ ریڈ لپسٹک لگے ہونٹوں کو دیکھ رہا تها اور آگے ہوتا اسکو کمر سے پکڑ کر کهینچا تها جس سے وہ سیدها اسکے سینے سے الگی پریہان نے چہرہ اٹها کر اسکو دیکها اسکی آنکهیں بےپناہ محبت برسا رہیں تهی اسنے بے ساختہ ہاتھ آگے بڑها کر اسکی انکهوں پر ہاتھ رکها تها شہرام مسکرایا تها اور اپنی آنکهوں سے ہاتھ ہٹاٹا انکو لبوں سے چوما تها

“ڈر رہی ہو مجھ سے….؟”
اسنے انگوٹهے کی مدد سے اسکی گال سہلاتے ہوئے کہا تو پریہان نے چہرہ جهکایا پریہان خود اسکو دیکھ کر بہک رہی تهی وہ وہی کپڑوں میں موجود تها بس اسنے واسکٹ اتاری ہوئی تهی لیکن وہ سیدها اسکے دل پر وار کررہا تها

اسکو خاموش دیکھ کر شہرام نے اسکو چہرہ اٹهایا ایک ہاتھ کی انگلیاں بالوں میں پهنساتا دو دوسرے سے اسکی کمر کو کس کر پکڑئے اسکے ہونٹوں پر جهکا تها چاکلیٹ کو کهانے کے چکر میں وہ اسکی لپسٹک کا بهی ستیاناس کررہا تها اسنے سختی سے اسکے کڑتے کو مٹهیوں میں دبوچا تها پریہان کا سانس اب بند ہونے کو تها لیکن شہرام چهوڑنے کو تیار ہی نہ تها

پریہان نے اسکے کندهے کو جهنجهورا پر یہاں فرق کس کو پڑ رہا تها جب شہرام کو لگا پریہان کی گرفت ڈهیلی ہورہی ہے تو نرمی سے پیچهے ہوگیا
اسکے پیچهے ہوتی ہی پریہان لمبے لمبے سانس لینی لگی اور دوسری طرف منہ کرتی ماتهے پر ہاتھ رکهتی سانس لینے لگی شہرام نے اپنے ہونٹوں پر لگی اسکی لپسٹک کو انگوٹهے کی مدد سے صاف کیا تها اور پریہان کو بازو سے پکڑ کر کهینچا تو وہ پهر سے قریب ہوئی لیکن اب وہ شرافت سے اسکی پهیلی لپسٹک انگوٹهے کی مدد سے صاف کررہا تها اس دوران وہ مسلسل مسکرارہا تها اور پریہان نے سختی سے آنکهیں میچیں ہوئیں تهی

“چلو اب تم بهی ریسٹ کرلو ان بهاری زیورات اور لہنگے سے ازاد ہو جاو تهک گئی ہوگئی…..”
گلے میں بهاری ہار پهر جهمکے بهاری دوپٹہ اور پهر لہنگا دیکھ اسنے ترس کهاتے ہوئے کہا
تو وہ جلدی سے پیچهے ہوئی اور نیچے پڑئی شال اٹهائی اور پیچهے کی بنی سیڑهیاں چڑهنے لگی وہاں سے وہ جلدی کمرے میں پہنچ جاتی شہرام نے اسکی پشت کو دیکها اور تب تک دیکها جب تک وہ نظروں سے اوجهل نہ ہوگئی پهر اسنے ٹهنڈی چائے کا ایک گهونٹ بهرا اور پهر کیک کا وہ چهوٹا سا پیس اٹها کر کهایا پهر کیک اٹهاتا اندر کی طرف چل دیا باقی کام گل خان جو گهر کے باہر گاڑی میں موجود تها اسکے میسج کرتے ہی پیچهلے دروازے سے اندر آکر صاف کردے گا اب اسکا ارادہ بهی آرام کا تها