Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“چاچو کیا میں اندر آسکتا ہوں…..؟”
شہرام نے لائبریری کے دروازے سے جهانکتے ہوئے اجازت طلب کی حماد صاحب دیکھ کر مسکرائے
“ہاں آجاو میرے بچے…..”
انہوں نے چشمہ اتار کر کتاب میں رکها اور کتاب بند کرتے کتاب ٹیبل پر رکهی تهی شہرام انکے سامنے رکهی کرسی پر بیٹها تها
“چاچو آپ مجھ سے ناراض ہیں….؟”
اسنے انکے ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچها
“نہیں….”
انہوں نے نفی میں سر ہلایا تها
“چاچو آپ پلیز پریشان نہیں ہوں میں پریہان کو….”
“تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں میں جانتا ہوں تم میری بیٹی کا ہر کسی سے بڑه کر خیال رکهو گے…..”
انہون نے اسکی بات بیچ میں ٹوکتے ہوئے کہا تو وہ ہولے سے مسکرایا
“چاچو آپ اتنے دنوں سے خاموش خاموش سا ہیں……؟”
اسنے اتنے دنوں کی دل میں رکهی بات کہ ڈالی تهی
“پتر جی جو حالات ہوئے ہیں گهر میں خاموشی نے خودبخود ہی ڈیرہ ڈالا ہوا ہے….”
انہوں نے سنجیدگی سے کہا
“چاچو میں جانتا تها وشما کو شروع دن سے لیکن میں کوئی تماشا نہیں چاہتا تها بلکہ خود تنگ تها اسکے ڈراموں سے میں تنگ آگیا تها اور بتانا چاہتا تها لیکن اسنے خود ہی سب کهول دیا…..”
شہرام ایسا ہی تها حماد صاحب سے ہر بات شئیر کرلیتا تها
“مجھ سے زیادہ صدمہ بهائی صاحب کو ہوا ہے……”
انہوں نے افسوس سے کہا
چلو چهوڑو پتر تم بتاو…..”
انہوں نے اسکو افسردہ ہوتے دیکھ پوچها
“چاچو آپ نے کیوں نہیں مجهے چنا تها پریہان کیلیے…..؟”
اسنے ایک اور شکوہ کیا تها وہ حماد صاحب اچهی بتی سب بات کہ دیا کرتا تها ان میں شروع سے ہی کافی انڈرسٹینڈنگ تهی حماد صاحب مسکرائے
“پتر میں نے تو تمہیں چنا تها پر بهائی صاحب کو انکار نہیں کرسکتا تها….”
“ہاں ہاں بابا کو تو اپنے بیٹے کی محبت نظر نہیں آتی باقی دنیا جہان کی محبت کو ملاتے ہیں بس بیٹا انکا ہی سوتیلا ہے اور……”
“برخودار…..”
اسکی بات ابهی پوری بهی نہیں ہوئی تهی سعید صاحب کی آواز اسکو پیچهے سے سنائی دی اسنے ہڑبڑا کر پیچهے دیکها جہاں وہ خشمگین نظروں سے اسکو دیکھ رہے تهے شہرام نے صدمے سے حماد صاحب کو دیکها جو اپنی ہنسی چهپانے کی ناکام کوشش کررہے تهے
“چاچو آپ نے بهی نہیں بتایا….”
اسکی صدمے سے بهتی اواز گونجی
“پتر میرا تمہاری بات پر دهیان تها میں نے بهائی صاحب کو دیکها ہی نہیں….”
انہوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
سعید صاحب دهیرے سے چلتے ہوئے آگے ائے تو شہرام اپنی جگہ سے اٹها اور سعید صاحب ک بیٹهنے کی جگہ دی سعید صاحب شہرام کے کندهے پر ایک دهپ رسید کرتے ہوئے کرسی پر بیٹهے شہرام اپنے چاچو کو رونی شکل بنا کر دیکهتا کرسی کهینچ خر انکے پاس بیٹها تها

“ہاں تو برخودار کیا کہ رہے تهے دنیا جہان کی محبت نظر اتی ہے پر بیٹے کی نہیں…..”
انہوں نے شہرام گهورتے ہوئے کہا
“تو سہی ہی تو کہ رہا ہوں بابا آپکو کہاں نظر ائی تهی اپنے اکلوتے سپوت کی محبت….”
اسنے منہ بناتے ہوئے کہا
“اب مجهے کیا معلوم تها میرا سپوت دل میں محبت لئیے بیٹها ہے….”
انہوں نے طنز کا تیر چلایا
“بابا آپ اپنے بیٹے کو نہ سمجھ سکے….”
اسنے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا
“پتر جی میں اب یہی معلوم کرتا پهرتا میرے پتر کا خون جوش ماررہا ہے کسی کی محبت میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا ہے بس تجهے گود میں بیٹهاتا پوچهتا رہتا پتر تسی کسے نال پیار ویار تے نئی کردے…..”
انہوں نے ایک اور طنز مارا تها تو شہرام نے رونی شکل بنا کر حماد صاحب کو دیکها جو ہنس رہے تهے
“ناکریں نہ بهائی صاحب میرے پیارے بهیتیجے کی بےعزتی…”
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تو شہرام نے معصوم سے شکل بنائی اب لائبریری میں مکمل خاموشی تهی
“وشما کی کوئی خبر….؟”
سعید صاحب نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا شہرام کے عصاب تنے تهے
“وہ اتنا کچھ کرگئی لیکن آپکو ابهی بهی اسی کی فکر ہے…..؟”
شہرام نے کڑوا گهونٹ بهرتے ہوئے کہا
“شہرام وہ میرے دل کا ٹکڑا ہے میں نے اپنے ہاتهوں سے اسکو پالا ہے میں اپنے مرحوم بهائی اور مرحومہ بهابهی کو کیا جواب دوں گا….”
انہوں نے خود کو نارمل رکهتے ہوئے کہا
“بابا وہ آپکے دل کا ٹکڑا ہے لیکن اسکے دل میں کیا تها وہ واضع آپکے سامنے ہے اور بڑئے ابو امی بهی آپکو قصور وار نہیں ٹهہرائیں گے اسکی کرتوت سبکے سامنے ہے وہ پیار کے لائق نہیں ہے….”
اسنے خود کے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا ورنہ وشما کا زکر اسکے حلق تک کو کڑوا کر چکا تها
“مجهے تکلیف ہوتی ہے شہرام مت کہا کرو اسکے لیے اتنے سخت الفاظ….”
انہوں نے دکه سے کہا تو شہرام نے ہونٹ بهینچے
“اگر مجهے معلوم ہوتا کہ وہ تم سے محبت….”
“بابا پلیز….”
شہرام بیچ میں بولا تها
“میں نےاپنے بهائی سے وعدہ کیا تها….”
انہوں نے ٹهنڈی اہ بهرتے ہوئے کہا
“وہ قابل نہیں میرے اور جو قابل ہے وہ میرے ساتھ ہے…..”
اسنے دوٹوک کہا تو سعید صاحب نے افسوس سے اسکو دیکها جو اسکا دل چیر رہا تها
“شہرام بس کردو…”
انہوں نے رخ موڑتے ہوئے کہا
“بهائی صاحب ہم بهی اس سے بہت کرتے تهے اب بهی کرتے ہیں لیکن اسنے کسی کا لحاظ نہیں رکها وہ مجهے غلط کاموں میں ملوث لگتی ہے….”
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تو سعید صاحب بهی ایک پک کیلیے سوچ میں ڈوبے
“کہیں وہ معارج…..”
اسنے بات ادهوری چهوڑی تهی
“شہرام میری بچی اب اتنی بهی بری نہیں ہے….”
انہوں نے گهورتے ہوئے کہا
“بابا مجهے یقین ہے وہ سب جان چکی ہے اور معارج….”
“اگر وہ معارج کے ساتھ ملوث ہوئی تو اسکو میں خود شوٹ کروں گا…..”
شہرام کی بات مکمل ہونے سے پہلے رامز دروازے کے پاس کهڑا بولا تها ان تینوں نے اسکو دیکها تها
وہ چلتا ہوا سعید صاحب کے قریب آیا اور نیچے بیٹهتا ہوا سر سعید صاحب کی گود میں رکها تها سعید صاحب ہولے سے مسکرائے
“چهوٹے ابو ہماری ہنستی کهیلتی زندگی کو اسنے تہس نہس کرنے میں کوئی کسر نہیں چهوڑی اگر وہ کسی بهی برئے کام میں ملوث ہوئی میں اسکو زندہ نہیں چهوڑوں گا……..”
اسکی بات پر خاموشی ہوئی تهی سعید صاحب نے سنجیدگی سے اسکے بالوں میں ہاتھ پهیرہ

“رامز بهائی آپ نے میرے بابا پر قبصہ کرلیا ہے……”
شہرام نے ماحول میں چهائی سنجیدگی ک ختم کرنے کیلیے مزاق میں کہا اور کامیاب بهی ہوگیا تها کیونکہ سب ہنسے تهے
“جی نہیں میں تو اپنے بابا پاس ہوں تم کیوں جیلس ہورہے ہو….”
رامز نے ہنستے ہوئے اسکو چڑایا
“اچها جی تو میں اپنے بابا کی گود میں سر رکھ لیتا ہوں…”
شہرام نے زبان چڑہاتے ہوئے حماد صاحب کی گود میں کرسی پر بیٹهے بیٹهے ہی سر رکها تها
پهر ایک آواز قہقے گونجے تهے
“امی چهوٹی امی…..”
انکو دروازے پر ایک اور اواز سنی جہاں احتشام کهڑا تها انہوں نے ناسمجهی سے دیکها
“دیکهیں نہ آکر میں نے کہا تها نہ میں سوتیلا ہوں….”
اسنے ناہونے والے آنسووں صاف کئیے تهے تو وہ چاروں کا قہقہ پهر گونجا تها
“ہاہاہاہاہا تو ہے ہی سوتیلا….”
شہرام نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
“کوئی نہیں جب کوئی نہ ہوگا دونوں فادرز میرے ہونگے…”
اسنے زبان چڑہائی تهی تو رامز اور شہرام نے ہنستے ہوئے سر ہلایا
“وہ کهانا لگ گیا ہے بڑئی امی نے بلانے کیلیے بهیجا تها آجائیں….”
اسنے مسکراتے ہوئے ادب سے کہا
“ہاں چلو….”
سعید صاحب اٹهے تهے
سعید صاحب اور حماد صاحب لائبریری سے باہر نکلے تهے کہ رامز احتشام کے پاس رکا
“یہ ساری چئیرز سیٹ کرکے آنا شاباش. .”
اسکے بالوں میں ہاتھ پهیرتا مسکراہٹ دباتا چلا گیا احتشام نے رونی شکل بنائی کیونکہ اسکو پہلے جانا تها پیچهے شہرام ہنسا تها اور اسکے بال بیگاڑئے تهے جانے لگا کہ احتشام نے اسکا ہاتھ پکڑا اسنے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے دیکها
“بهائی یہ آپ سیٹ کردو میں جارہا….”
یہ کہتا جهپاک سے باہر چلا گیا پیچهے شہرام بهی ہنستا ہوا چلا گیا کیونکہ رامز نے صرف احتشام کو تنگ کیا تها
………………………….
آبریش کو کوئی ناول لینا تها سو وہ گهر سے کچھ فاصلے پر موجود لائبریری میں آئی تهی ناول لے کر وہ اپنی گاڑی سے کچھ فاصلے پر تهی کہ کسی نے اسکا نام پکارا
“آبریش اپس سوری مسسز مصطفی….”
اسکے دوبارہ یوں پکارنے پر پلٹی تهی اور اسکے سامنے جینز شرٹ میں موجود سہی ہایٹ تهی بالوں کو پونی میں مقید کئیے گوری رنگت کافی خوبصورت تهی
“جی آپ کون…؟”
اسنے الجهتے ہوئے پوچهے
“میں نشا….”
اسنے ہاتھ میں پکڑا فون شرٹ کے اوپر پہنی جیکٹ میں ڈالا تها
“کون نشا…..؟”
یہ ابهی بهی نہ پہچانی تهی
“نشا علی…..”
“اوہہ شہرام اور مصطفی کی دوست….؟”
اسکو یاد آیا کیونکہ شہرام اور مصطفی اکثر اسکا زکر کیا کرتے تهے کیونکہ یہ انکی کالج کی دوست تهی
“یس شکر ہے تم نے پہچانا مسسز مصطفی…”
عجیب سا طنز تها جو آبریش سمجھ نہ سکی اور محض مسکرا دی
“کیسی ہیں آپ….؟”
آبریش نے مروتن پوچها تها
“میں ٹهیک اور مصطفی اور شہرام کی سناو….؟”
“وہ دونوں ٹهیک ہیں اور بہت جلد شہرام کا نکاح پریہان سے ہونے والا ہے….”
اسنے خوشی سے بتایا لیکن نشا کے چہرے کے تاثرات نوٹ نہ کرسکی
“اچها آو کچھ دیر بیٹهو….”
نشا نے بات پلٹتے ہوئے آبریش کو افر کی
“سوری بٹ شام ہونے والی ہے مجهے جانا ہے پهر کبهی ہم میں گے نہ….”
اسنے سوری کرتے اپنی طرف سے آفر کی نشا کڑ کر ہی رہ گئی
“ٹهیک ہے اپنا نمبر دے دو….”
نشا نے فون نکالتے ہوئے کہا
تو آبریش نے نمبر دیا اور واپس گاڑی کی طرف پلٹی جہاں ڈرائیور اسکا انتظار کررہا تها اسکو آتا دیکھ اسنے پچهلا دروازہ کهولا تها اسکے بیٹهتے ہی ڈرائیور نے اپنی سیٹ سنبهالی تهی اور زن سے گاڑی لے گیا پیچهے دور تک نشا کہ نظروں نے تعاقب کیا تها آنکهوں میں حسد نفرت ناجانے کیا کیا تها

“مصطفی ہاتھ سے گیا تها تو سوچا شہرام کو اپنا کرلوں گی لیکن افسوس…..”
اسنے سوچتے ہوئے فون پر لکهے اسکے نمبر کو دیکها
“وہ دونوں میرے نہ ہوسکے تو کیا ہوا اگر آبریش خود مصطفی کو میرے حوالے کردے تو…..”
اسنے فقرہ ادهورا چهوڑا تها اور ہنسی تهی
“یہ کام تو بہت اچهے سے کرلیتی ہوں….”
خود سے کہتی لائبریری کی طرف مڑ گئی کیونکہ وہ آبریش کو دیکھ کرہی ائی تهی اسنے سکو لائیو تو نہ دیکها تها پر مصطفی سے اسنے اسکی پک دیکهی تهی
………………………….
“بهابهی آپ بازار جارہی ہیں….؟”
زرش کو تیار سا دیکھ اسنے پوچها
“ہاں چلو گئی….”
اسنے شرارت ست آفر کی کیونکہ جانتی تهی پریہان کو بازار جانے سے سخت چڑ تهی اور توقع کے مطابق اسنے گندہ سا منہ بنایا تها
“بهابهی آپ سعد کو چهوڑ جائیں پلیززز…”
اسنے کهلکهلاتے سعد کو دیکهتے ہوئے کہا
“اس میں پلیزز کی کیا بات ہے مجھ سے زیادہ تم لوگوں کا حق ہے رکه لو….”
اسنے سعد کو اسکو پکڑاتے ہوئے کہا جو بنا چوں چراں کئیے چلا گیا اور زرش ڈرائینگ روم میں سبکو خدا حافظ کہتی باہر ائی لیکن رامز کے بلانے پر رکی
“یار مت جاو آج میں پهر کبهی خود کے جاوں گا….”
اسنے پریشانی سے اسکا ہاتھ تهامتے ہوئے کیا
“کیوں کیا ہوا….؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“بس کچھ عجیب سی گهبراہٹ ہے….”
اسنے اپنی پریشانی بتائی
“ہاہاہاہا خوامخواہ پریشان ہورہے ہیں…”
اسنے اسکی بات مزاق میں اڑائی تهی تو رامز نے لب کچائے
“چلو ٹهیک ہے چلی جاو کیا یاد رکهو گی….”
اسنے اسکو زور سے سینے سے لگاتے ہوئے کہا اسکی فکر تو اپنی جگہ لیکن وہ پورے ایک مہینے بعد شاپنگ کیلیے تیار ہوئی تهی اور وہ اج روک کر اسکو اداس نہیں مرنا چاہتا تها چهوڑنے کو من نہ تها لیکن زرش خے ہوش دکانے پر کے وہ داخلہ دروازے کے بیچو بیچ کهڑئے ہیں تو رامز پیچهے ہوا
“سعد نہیں جارہا….؟”
اسنے اسکے سر پر موجود شال درست کرتے ہوئے کہا
“نہیں وہ پریہان نے رکه لیا ہے…”
اسنے مسکراتے ہوئے کہا
“اچها جاو دهیان سے جانا….”
یہ کہتا اسکی گال پر پیار کرتا چلا گیا کیونکہ لنچ اسکا آفس کے کسی ڈیلر کے ساتھ تها اور اسکو ابهی فائل کو بهی دیکهنا تها
………………………….
تقریباً شام کے چار بج گئے تهے کہ رامز آیا اور کاونچ میں ٹی وی لگا کر بیٹها
“زرش نہیں آئی….؟”
اسنے سامنے سعد سے کهیلتے آبریش اور پریہان سے پوچها
“نہیں بهائی….”
آبریش نے مسکرا کر جواب دیا سب لاونچ میں جمع خوش گپیوں میں مصروف تهے سوائے شہرام کے جو کسی بہت ضروری کام سے چلا گیا تها
“میرا دل عجیب سا ہی ہو رہا ہے…”
سعدیہ بیگم نے پاس بیٹهے سعید صاحب حماد صاحب اور شازیہ بیگم کو دیکهتے ہوئے دل لر ہاتھ رکهتے ہوئے کہا
“کیوں بهابهی….؟”
حماد صاحب نے پریشانی سے پوچها
“پتا نہیں…..”
انہوں نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا
“رکیں بهائی…..”
پریہان کی بات پر سب متوجہ ہوئے رامز جو چینل چینج کررہا تها پریہان کے کہنے پر رکا اور آواز کی

“آئیے ناظرین یہ دیکهتے چلیں کہ کراچی کہ مشہور شاپنگ مال میں بلاسٹ ہواہے جس سے بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دهو بیٹهے ہیں کچھ کو ڈهونڈا جارہا ہے ہماری پولیس مال میں موجود لوگوں کو تلاش کررہی ہے…”
وہ نیوز کاسٹر بہت سپیڈ سے بول رہی تهی
رامز نے سن اور آنکهوں میں انسووں لئیے بیٹهی پریہان کو دیکها
اور دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا جہاں وہ نیوز کاسٹر کہ رہی تهی
“اسکی مزید معلومات کیلیے آئیے ہم یہاں کے ایس پی شہرام ملک سے پوچهتے ہیں…”
یہ کہتے ہی کیمرہ شہرام کی طرف دیکها جو سبکو ہدایات دے رہا تها
“آپ کیا کہیں گے اس دهماکے کے بارے میں……؟”
“دیکهیں ہم کوشش کررہے ہیں….”
اسنے سامنے کهڑئے اسلم کو اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا
“آپ کیا کہیں گے یہ بلاسٹ کس نے کروایا ہوگا……؟”
اسکی بات پر شہرام نے اسکو گهورا تها
“ہم یہاں آپکو کام کرتے نظر ارہے ہیں نہ بجائے ہمیں ڈسٹرب کرنے کے مدد کریں اگر نہیں کرسکتے تو خاموش رہیں….”
شہرام نے چباتے ہوئے کہا اور علی کے بلانے پر اس طرف چلا گیا پیچهے وہ اپنا سا منہ لے کر گئی اور دوبارہ اپنی زبان کے جوہر دیکهانے لگی

“پریہان کیا ہوا….؟”
رامز نے الجهتے ہوئے پوچها
“بب-بهائی یی-یہ مم-مال تو وہ ہے جج-جس میں بب-بهابهی گئیں تهی….”
اسنے روتے ہوئے اٹکتے ہوئے کہتی سب پر بمب پهوڑا تها
“یہ کیا کہ رہی ہو تم پریہان…”
شازیہ بیگم کو پہلے ہوش آیا تها تو بولیں تهی
“مما میں سس-سہی کہ رہی ہوں مم-مجهے بتایا تها بب-بهابهی نے…..”
اسنے روتے ہوئے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا
“مصطفی شہرام وہی ہے فون کرو اسکو….”
سعدیہ بیگم نے دل پر ہاتھ رکهتے ہوئے کہا رامز بالکل ساکت بیٹها تها
مصطفی نے اثبات میں سرہلاتے شہرام کو فون لگایا جو پانچویں بیل پر اٹهایا تها
“شہرام تم مال میں ہو….؟”
“ہاں مصطفی…..”
پیچهے سے شور کی آوازیں آرہی تهیں
“شہرام بهابهی بهی اسی مال میں گئیں تهی….”
اسنے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
“واٹ….مصطفی یہ کیا کہ رہے ہو….”
شہرام پر جیسے لاوا گرا ہو
“ہاں پریہان نے کہا ہے کہ وہ اسکو بتا کر گئیں تهی……”
اسنے آخر میں پریہان کو دیکها جو سر ہاتهوں میں گرائے رورہی تهی
“میں دیکهتا ہوں مصطفی…..”
یہ کہتا فون بند کیا تها اور حارز کو آواز دی تهی
“یہ پک دیکهو اسکو ڈهونڈهنا ہے….”
اسنے رامز اور زرش کی شادی کی پک اسکو دیکهاتے ہوئے آنکهوں میں آئی نمی کو چهپاتے ہوئے کہا تو اسنے ایک نظر دیکهتے سر ہلاتا چلا گیا اور سبکو آرڈر دینے لگا
اور شہرام نے مٹهیاں بهینچی تهیں
“پلیز خدا بهابهی کو کچھ نہ ہو….”
کہتا ہوا وہاں چلا گیا جہاں احمد اسکو بلا رہا تها

ادهر سب اپنے اپنے تعلق کو کام میں لا رہے تهے کوئی کسی سے بات کرتا تو کوئی کسی سے سب مرد صبر کی انتہا پر تهے اور عورتوں کا رو کر برا حال تها آبریش سعدیہ بیگم اور شازیہ بیگم کو سنبهال رہی تهی جبکہ پریہان روتی ہوئی روتے ہوئے سعد کو بہلا رہی تهی جو کب سے رورہا تها رامز کی ضبط سے انکهیں سرخ ہوگئیں تهی

تقریباً دو گهنٹے بعد پریہان کا فون بجا تها جو آبریش نے اٹهایا تها
“پریہان….”
شہرام کی ٹوٹی سی اواز دی تهی
“ہاں شہرام بولو….”
آبریش کی طرف سب متوجہ ہوئے تهے
“آبر….”
اسنے رندهی ہوئی آواز سے کہا
“شہرام رورہے ہو….؟”
اسنے روتے ہوئے کہا اور جو اگے سے کہا گیا اس سے وہ اور رونے لگی
“بب-بولو نہ ابر کیا ہوا…؟”
رامز نے اسکے پاس بیٹهتے ہوئے پوچها
“شش-شہرام کہ رہا تها کہ سبکو نکال لیا ہے سبکی پہچان انکے گهر والوں نے کرلی تهی لیکن…..”
یہ کہ کر رکی تهی
“لیکن کیا آبر….؟”
احتشام نے تڑپ کر بولا
“آٹھ لوگوں کی شناخت باقی ہے جن میں سے پانچ عورتیں ہیں….”
یہ کہ رونے لگی رامز نے سختی سے انکهیں میچیں تهی
“پپ-پهر…..”
مصطفی کے الفاظ بهی ٹوٹے تهے
“رامز بهائی ک شناخت کرنی ہوگی کوئی ایسی چیز جو وہ انکو پہنے ہوئے دیکها تها…”
اسنے بامشکل بات مکمل کی تهی
اور پهر سب کے رونے کی آواز گونجی تهی
رامز نے آٹه کر پریہان کے ہاتھ میں موجود اپنے لخت جگر کو دیکها تها اور اسکو پریہان سے لیکر اٹهایا تها اور اسکو پیار کرنے لگا
“بابا بڑئے بابا ہمیں چلنا ہوگا اور احتشام انکے ساتھ رہنا….”
اسکے کہنے پر اسنے ہاں میں سرہلایا تو مصطفی نے رامز کے کندهے پر ہاتھ رکها جس سے وہ اسکی طرف متوجہ ہوا
“چلیں رامز….”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سرہلایا اور سعد کو پریہان کو پکڑا دیا اور باہر چلا گیا
………………………….
ہسپتال پہنچے تو سامنے ہی انکو چکر کاٹتا شہرام نظر آیا شہرام انکو دیکھ انکی طرف بڑها اسکو رامز کو دیکھ کر دل کو کچھ ہوا جو بکهرا سا تها اسنے آگے بڑه کر اسکو گلے لگایا کچھ دیر بعد پیچهے ہوا تو اسکی انکهیں نم تهی اسکی ہی نہیں سبکی نم تهیں

“حارز مردہ خانے کی طرف لیکر جاو….”
“چلیں…” حارز کہتا آگے بڑها تها اور پیچهے وہ مردہ قدم سے چلے تهے
رامز کانپتے ہاتهوں سے ان پانچ عورتوں کی لاشوں ک دیکھ رہا تها اسکی حالت غیر ہورہی تهی آخری مردہ سٹیچر کے پاس ایا تو رک گیا
“بهائی دیکهنا ہوگا…..”
اسکو یوں کهڑا پاکر اسنے کندهے پر ہاتھ رکها تها تو وہ لمبی سانس لیتا کانپتا ہاتھ آگے بڑهایا تها اور منہ سے کپڑا ہٹایا تها اور پهر دیکهنے کے بعد وہ سنبهل نہ سکا تها گرجاتا اگر بروقت شہرام نے نہ پکڑا ہوتا اور ادهر سعید صاحب کو بہت مشکل سنبهالا تها رامز کی انکهیں دهندهلائیں تهی