Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 9
جہاں زاد !
اب نہ آنا۔۔
کوئی دوست داری کرنے !
میرا حالِ درد سننے۔۔
میری غم گساری کرنے !
کہ جو ذات پہ گراں تھا۔۔
وہ سمے گزر گیا ہے !
وہ جو دريائے فغاں تھا۔۔
تہہ جاں اتر گیا ہے !
تیری غفلتوں کے پیچھے۔۔
میرے دن بدل گئے ہیں !
سو یہ دوست داری کرنے۔۔
میری دل آزاری کرنے ۔۔
جہاں زاد !
اب نہ آنا ۔۔۔
“””””””””””””””♥️♥️
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے۔۔ کسی کی یادوں کے مینار کو پیچھے چھوڑے،، کسی کی گھٹی سسکیوں کو اپنے اندر قید کر کے،، کسی کو نئے جہان سے متعارف کر کے اور کسی کی کھلکھلاہٹوں کی بلائیں لیتے یہ گزرا وقت آنے والے خوشگوار دنوں کی نوید سنا رہا تھا۔۔
“شاہ ہاؤس” میں جھانکو تو وہاں ایک طوفانِ بدتمیزی مچا ہوا تھا۔۔ لاؤڈ سپیكر پر کوئی فاسٹ بیٹ سونگ لگا کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا۔۔
لاؤنج کی سیٹنگ تبدیل ہو چکی تھی۔۔ فرش پر قالین بچھا کر اس کے چاروں طرف نئے طرز کے صوفے رکھ دیے گئے تھے۔۔
جن کے درمیان کھڑا راحم پیمپر پہنے گانے کی دھن پر نچلے دھڑ کو دائیں بائیں ہلا رہا تھا۔۔
اس کے سامنے کھڑا لمبے سے قد کا لڑکا اس کے سامنے جھکا تالیاں پیٹتا اسے ناچنے پر اکسا رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ ہوٹنگ کرتا جاتا جس سے راحم اس کے بال پکڑ کر کھلکھلانے لگتا۔۔
اس نوجوان نے اپنے گردن تک آتے سٹائلش بالوں کو ہاتھ کی مدد سے سیٹ کیا اور خود بھی بھنگڑے ڈالنے لگا۔۔
او میلا حم حم ،، او میلا حم حم ۔۔۔
راحم کا نام بگاڑ کر اسے بڑا مزہ آتا تھا کیوں کہ وہ اس نام سے چڑتا تھا۔۔
مِیلو کِیلو۔۔۔۔ راحم اسکا نام بگاڑنے کے ساتھ اس کے چہرے پر ننھے ہاتھوں سے تھپڑ مارتا جا رہا تھا۔۔
بھائیییی۔۔۔ اپنی بلا کو سنبھالیں،، کسی دن میں نے اسے کوڑے میں پھینک دینا ہے۔۔۔ شاہ میر نے چلاتے ہوئے شاہ ویر سے کہا جو اوپن کچن میں ایپرن باندهے کھانا بنا رہا تھا۔۔
تم پر ہی گیا ہے،، بھگتو اب۔۔
میر نے صدمے سے کانوں کو ہاتھ لگائے،، اس بلا کا کوئی مقابلہ ہے۔۔؟ ابھی تو ڈیڑھ فٹ بھی نہیں ہے،، جب اگ لے گا تو پتہ نہیں کیا کرے گا۔۔
ویر نے مسکراہٹ دبا کر اپنے لاڈلے کو دیکھا جو ایک سال کا ہونے والا تھا۔۔ جب سے اس نے چلنا شروع کیا تھا سب کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔۔
عدیل شاہ اسے پکڑنے کے لیے جاتے تو وہ “نیواں نیواں” ہو کر بھاگ لیتا جسے بهاگنا تو بلکل نہیں کہتے۔۔ ہاہاہاہا۔۔
ننھی سی ٹانگوں سے وہ سہارا لے کر سارے گھر میں منڈلاتا رہتا۔۔ میر اور راحم کی بلکل نہیں لگتی تھی۔۔ دونوں ایک دوسرے کو تنگ کرنے سے بعض نہ آتے تھے۔۔
راحم نے سب سے پہلی اپنی توتلی زبان سے میر کا نام بگاڑ کر “مِیلُو” بولا تھا۔۔ میر تو اندر تک جل گیا تھا۔۔ پھر اس نے بابا کہنا سیکھا۔۔۔
اب بھی وہ توتلی زبان سے بابا کا ورد کرتا ہاتھ پاؤں گندے کر کے ویر کی ٹانگ سے لپٹا کھڑا تھا۔۔ با۔۔با ،، با۔۔با،، با با با با با ۔۔۔۔۔
جی بابا کی جان میرا چیمپ! ویر نے ایک ہاتھ سے اسے اٹھا لیا اور اس کے دونوں پھولے گلابی گالوں پر زور سے بوسہ دیا۔۔
راحم اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔ ویر نے اسکے دونوں ہاتھ چوم لیے۔۔ اسے راحم کے ہاتھ بہت پسند تھے۔۔ ننھے سے گلابی نرم و ملائم ہاتھ۔۔
چولہا بند کر کے اس نے راحم کو سینے سے لگایا اور ٹیپ کھول کر ہاتھ دھونے لگا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
راحم کو نہلا کر ویر نے اسے کپڑے پہناۓ۔۔ بلیک شرٹ اور بلیک ہی پینٹ میں ننھا راحم نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔۔
ویر نے اس کے بال سیٹ کیے اور اسے لاؤنج میں تیار بیٹھے عدیل شاہ اور میر کے پاس چھوڑ کر خود چینج کرنے چلا گیا۔۔
آج موسم بے حد خوشگوار تھا۔۔ تیز ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں اس لیے انہوں نے آؤٹنگ کا پلین بنایا۔۔
آ جا میرا شیر اپنے دادُو کے پاس۔۔ عدیل شاہ نے اسے اچک کر گود میں بٹھا لیا۔۔
دااااا۔۔۔دوووو ۔۔۔ داا دا۔۔ راحم کی توتلی زبان میں گردان شروع ہو چکی تھی۔۔
بابا ۔۔۔! ہفتے کو کالج میں “کلچر فیسٹیول” ہے۔۔ آپ چلیں گے۔۔؟ اس سال آؤٹ سائیڈرز کو بھی آنے کی اجازت ہے۔۔
میر نے سٹائلش نیلی جینز کو ٹخنوں سے فولڈ کیا اور فلور لنتھ مرر میں اپنا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے عدیل شاہ سے استفسار کیا۔۔
دیکھیں گے موڈ بنا تو چلیں گے۔۔۔
بابا آ جائیے گا نا۔۔ میں نے بھی پرفارم کرنا ہے۔۔
اچھا چلو چلے جائیں گے۔ ہم بھی دیکھیں اپنے سپوت کے کارنامے۔۔۔
ارے ہمارے کارنامے تو ایک دنیا دیکھتی ہے۔۔ میر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک ادا سے کہا تو عدیل شاہ کا ہاتھ اپنے جوتے کم چپل کی طرف گیا۔۔
ارے بابا آپ کب اپنا یہ ” لائٹ ویٹ چِھتّر” بدلیں گے۔۔ ویسے وجہ کیا ہے جو آپ ہر دفعہ ایسی ہی چپل پہن کر کہیں بھی چل پڑتے ہیں۔۔ ؟
بیٹا میں نے یہ “لائٹ ویٹ چھتر” اس لیے رکھا ہوا ہے کبھی میرا کسی ایسے شخص سے سامنا ہو جائے جسے چھتر مارنے کا میرا دل کرے تو میں اسے یہ اڑا کر دے ماروں۔۔
لائٹ ویٹ کا یہ فائدہ ہے کہ سامنے والے کو چوٹ بھی نہیں پہنچے گی اور میری خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔۔
تو آپ کو کوئی ایسا ملا۔۔؟؟ میر نے ٹیڑھی نظروں سے انکی چپل کو دیکھتے ہوئے کہا اور آہستہ سے کھسکنے لگا۔۔
ہاں،،، میرے سامنے کھڑا ہے،، رکو ذرا انکا ہاتھ چپل تک گیا ہی تھا کے میر وہاں سے اڑنچھو ہو گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
دوپہر کا وقت تھا۔۔ آئمہ اپنے بستر پر لیٹیں آرام کر رہی تھیں جب کہ عین کمرے کے کونے میں رکھے اسٹڈی ٹیبل پر اپنی کتابیں پھیلاۓ بیٹھی تھی۔۔
ایف ایس سی کے پہلے سال میں اسکی سیكنڈ پوزیشن آئی تھی۔۔ اب دوسرے سال کا آغاز تھا۔۔
بے انتہا اسائنمنٹس، ٹیسٹ، اسٹڈی کمپیٹیشنز۔۔۔ اس سب میں اسے اپنی ہوش تک نہیں تھی۔۔ وہ دن رات پڑھتی رہتی تا کہ اس دفعہ پہلی پوزیشن پر آ سکے۔۔
ابھی بھی وہ گرے كیپری شرٹ میں ملبوس فزکس کی اسائنمنٹ بنانے میں بری طرح غرق تھی کہ دروازہ زور سے پیٹا جانے لگا۔۔
عین نے ڈر کر آئمہ کو دیکھا جو خود بھی دروازہ پیٹنے کی آواز سن کر اٹھ گئی تھیں۔۔
ایسا لگتا تھا کہ جو کوئی بھی تھا وہ دروازہ توڑ کر ہی دم لے گا۔۔
عین کو ریلیکس ہونے کا کہہ کر انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ بیرونی دروازہ کھولا۔۔
سلام خالہ جی۔۔ ہمیں خوش آمدید تو کہیے،، توصیف اپنے ماں باپ کے ساتھ نازل ہو چکا تھا۔۔
آئمہ کا دل بےاختیار گھبرانے لگا۔۔ چند مہینے سکون رہا تو انہیں لگا کہ اس نے اپنی ضد چھوڑ دی ہوگی۔۔ لیکن اب پھر وہ نازل ہوگیا تھا اور اس دفعہ اپنے ماں باپ کو بھی ساتھ لے آیا تھا۔۔
کیوں ہمیں دیکھ کر سانپ سونگھ گیا کیا۔۔؟ ارے اندر تو آنے دو۔۔۔ ہاتھ سے انکو ایک طرف ہٹا کر وہ اپنے ماں باپ سمیت اندر داخل ہوگیا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔؟ جب تمہیں ایک دفعہ کہہ دیا تو کیوں بار بار منہ اٹھا کر چلے آتے ہو۔۔ اور انور تم تو سمجھدار ہو اس کی فضول ضد میں اس کا ساتھ دے رہے ہو۔۔؟
دیکھیں ہمارے بیٹے کی یہ خواہش ہے اور اس میں کوئی برائی بھی تو نہیں۔۔
ہم عزت سے رشتہ مانگنے آئے ہیں۔۔ اچھے کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں۔۔ اور آپ کو کیا چاہیے۔۔؟
رخسانہ خاموش بیٹھیں انکا منہ تک رہی تھیں۔۔ اگر ان کی مرضی چلتی تو وہ اس وقت یہاں موجود نہ ہوتیں۔۔
شوہر اور بیٹے کے مجبور کرنے پر وہ یہاں آئی تھیں۔۔ بھلا وہ جانتی نہیں تھیں کہ ان کے نشہ کرنے والے بیکار بیٹے کو کون لڑکی دے گا۔۔
دیکھو انور میں کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی۔۔ تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے چلے جاؤ۔۔ میں اعینہ کا رشتہ کہیں اور طے کر چکی ہوں۔۔
دروازہ کے پیچھے سے جهانكتی عین نے جلدی سے جہان کا نمبر ملایا جو اس وقت آفس میں تھا۔۔
ہیلو ہان بھائی۔۔۔ نہیں خیریت نہیں ہے۔۔ وہ پھر آ گیا ہے۔۔ وہ توصیف،، اپنی ماما بابا کے ساتھ۔۔
نہیں نانو نے نہیں آنے دیا وہ زبردستی گھس گئے۔۔ اب باہر وہ بحث کر رہے ہیں نانو سے۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ جلدی آ جائیں۔۔ دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جسے سننے کے بعد اس نے کال بند کر دی۔۔
جہان تشویش سے اٹھا اور ایمرجنسی لیو لے کر جلدی سے گھر کے لیے روانہ ہوا۔۔
میرے پہنچنے تک بس کچھ نہ ہو۔۔ دل میں دعا کرتے اس نے بائیک گھر کے سامنے کھڑی کی اور تیزی سے ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔
جہان کو دیکھ کر پریشانی سے کچھ کہتیں آئمہ کے چہرے پر اطمینان چھا گیا۔۔
جب کہ توصیف کے چہرے پر خوف کا شائبہ تک نہ تھا البتہ انور صاحب تھوڑا گھبرا گئے تھے،،
کیوں کہ ان کے سامنے ہی ایک دفعہ جہان نے پانچ لڑکوں کو بری طرح پیٹا تھا جو لڑکیوں پر فقرے کس رہے تھے۔
وہ جانتے تھے کہ جہان غصے کا بہت تیز تھا خاص کر ایسے معملوں میں۔۔
توصیف اس بات سے ناواقف تھا۔۔ وه کچھ اس لیے بھی پرسکون تھا کہ اس کی جیكٹ کی جیب میں ریوالور پڑی تھی۔۔ جسکا علم اس کے ماں باپ کو بھی نہیں تھا۔۔
جہان اس کے قریب پہنچا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا۔۔
لگتا ہے پچھلی دفعہ کی مار تم بھولے نہیں۔۔
جہان چھوڑو اسے،، ہٹو پیچھے۔۔ انور صاحب، توصیف کو چھڑانے کے لیے بڑھے تو جہان نے غصے میں انہیں پیچھے کی طرف دھکا دیا جس سے وہ لڑکھڑا گئے۔۔
تیری اتنی ہمت میرے باپ کو دھکا دیتا ہے سالا* ابھی تیری ہیروپنتی نکالتا ہوں سالا حرا توصیف نے پوری قوت سے جہان کو دھکا دیا جس سے وہ اپنی جگہ سے تھوڑا سا پیچھے ہٹا۔۔
جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈال کر اس نے ریوالور نکالا اور جہان پر تان لیا۔۔
نانو اندر جائیں اور دروازہ بند کر لیں۔۔ جہان چیخا تو آئمہ روتی ہوئیں نفی میں سر ہلانے لگیں۔۔
تمھیں چھوڑ کر کیسے جاؤں۔۔۔
انور كمینگی سے مسکرا کر پیچھے کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔۔ انہوں نے توصیف کو روکنے کے لیے جاتی رخسانہ کو بازو سے پکڑ کر روک دیا۔۔
نانو آئی سیڈ گو۔۔ وہ دوبارہ چیخا تو آئمہ نہ چاہتے ہوئے بھی کمرے کی طرف بڑھیں جہاں عین آنکھیں میچے ڈری سہمی کھڑی تھی۔۔
وہ ابھی دروازے کے قریب پہنچی ہی تھیں کہ
توصیف نے انکا بازو پکڑ لیا۔۔
ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔ اس نے ریوالور ان پر تان لیا تا کہ جہان کو خوفزدہ کر سکے۔۔
اسکا دیہان ذرا سا ہٹا کہ جہان بجلی کی سی تیزی سے اس کے ریوالور تانے ہاتھ پر جھپٹا۔۔
توصیف نے ریوالور پر گرفت مضبوط کرلی۔۔ دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔۔ اسی کھینچا تانی میں ریوالور چل گیا۔۔
لاؤنج میں نصب ایل سی ڈی کی سکرین چھناکے سے ٹوٹ گئی،، جہان نے اسکے پیٹ میں گھٹنا مارا جس سے وہ دوہرا ہو گیا۔۔
اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر اس نے ریوالور جھپٹا اور اس کے منہ پر پے در پے گھونسے مارنے لگا،، مارتے مارتے اس کے ہاتھ کی جلد پھٹ گئی تھی اور خون نكلنے لگا تھا۔۔
سیدھا ہو کر اس نے ڈری ہوئی کھڑی آئمہ کو کمرے میں بھیج کر ریوالور اندر پھینکا اور دروازہ باہر سے بند کر دیا۔۔
واپس مڑتے اس نے ماتھے سے بکھرے بال ہٹاۓ اور نیچے گرے توصیف کو ٹھوکریں مارنے لگا۔۔
کہا تھا نہ کہ دوبارہ اپنی شکل بھی نہ دکھانا۔۔ اب کی بار تم اچھی طرح میری بات سمجھ جاؤ گے۔۔
جہان نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور دور دبکے کھڑے انور اور رخسانہ کی طرف دھکا دیا۔۔
آؤٹ ،، انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے اس نے درشتگی سے کہا۔۔
اسکے تنے ہوئے جبڑے اور لہو رنگ آنکھوں کو دیکھ کر انور خوفزدہ ہو گئے۔۔
توصیف کا بازو تھام کر وہ کھسکنے لگے کہ توصیف نے انکا ہاتھ جھٹک دیا۔۔
اے ایس پی مختیار کو تو جانتے ہو گے۔۔ اپنی پہچان کے بندے ہیں۔۔
چند گھنٹے،، صرف چند گھنٹے بعد میں دوبارہ آؤں گا۔۔
مجھے یہ ثابت کرتے کوئی مشکل نہیں ہوگی کہ میری ہونے والی بیوی کو تم لوگوں نے قید کر رکھا ہے۔۔
اور افسوس تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ وہ تمہاری بہن ہے۔۔ کیسے ثابت کرو گے۔۔؟
استہزا سے اسے دیکھ کر وہ لڑکھڑاتے قدموں سے دروازہ عبور کر گیا۔۔ انور اور رخسانہ بھی جلدی سے اس کے پیچھے ہو لیے۔۔
پہلی بار جہان کے چہرے پر تفکرات کے سائے منڈلانے لگے۔۔ اس اے ایس پی کی شہرت وہ بہت بار سن چکا تھا۔۔ اور یہ شہرت اچھے کے زمرے میں نہیں آتی تھی۔۔
قدم واپس موڑتے اس نے آئمہ کے کمرے کا دروازہ کھولا جو جانے کب سے دروازہ بجا رہی تھیں۔۔
اندر کمرے میں دونوں کی گفتگو کی آواز باآسانی پہنچ گئی تھی۔ عین کب سے روۓ جا رہی تھی۔۔
آئمہ نے تفكر سے جہان کو دیکھا۔۔ ہان وہ تھوڑی دیر تک پھر آ جائے گا۔۔ دیکھو ،، میری بات غور سے سنو۔۔
میں جو بھی کہنے جا رہی ہوں اس وقت وہی بہتر ہے،، میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔
تم تم۔۔۔ جلدی سے مولوی کو بلا کر لاؤ۔۔ جاؤ جلدی۔۔۔
لیکن کیوں نانو۔۔ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔
میں کہہ رہی ہوں مولوی کو بلا کر لاؤ ابھی۔۔ابھی اور اسی وقت عین کا نکاح ہوگا۔۔
جہان نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔ کس کے ساتھ۔۔؟
“تمہارے ساتھ”۔۔۔۔ آئمہ نے زور دیتے ہوئے کہا۔۔
جہان کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔ کئی لمحے وہ بےيقینی سے انہیں دیکھتا رہا۔۔
اس کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا۔۔ عین بھی روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
کیا کہا آپ نے؟؟ آپ ہوش میں تو ہیں۔۔؟
جہان نے آواز کو اونچا ہونے سے روکا۔۔
جہان میں نے کہا کہ ابھی اور اسی وقت تمہارا اور عین کا نکاح ہوگا۔۔
نانو آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔؟ آپ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔؟ جہان کی آواز غم و غصے سے پھٹنے لگی۔۔ ابھی تو پچھلے زخم نہیں بھرے تھے۔۔
اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔۔
انکے کاندھے کے گرد دھرا اس کا ہاتھ بےجان ہو کر گر پڑا،، اس کی آنکھ سے ایک آنسو بےمول ہو کر گال پر پهسلتا چلا گیا۔۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ نانو اس کے ساتھ ایسا کریں گی۔۔
گھٹی گھٹی سسکیاں لیتی عین پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈال کر وہ غصے سے باہر نکل گیا۔۔
نانو آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں۔۔ آپ بہت ظلم کر رہی ہیں ۔۔۔
چپ کرو تم،، یہی تم دونوں کے لیے بہتر ہے۔۔ آج کے بچے بڑوں کو بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔۔ میں نے یونہی نہیں لے لیا یہ فیصلہ۔۔ بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے۔۔
اگر میری ذرا سی بھی پرواہ ہے تو خاموشی سے نکاح نامے پر دستخط کر دینا۔۔
عین نے بےبسی سے انہیں دیکھا اور ہتھیار ڈال دیے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
شیخوپورہ،، مقام “ہرن مینار”۔۔۔۔۔
پانی کے بیچ و بیچ پوری شان سے بنی “بارہ دری” کے سامنے کئی فٹ لمبی چوڑی سیڑھیوں پر وہ دونوں ہاتھ سفید پینٹ کی جیب میں ڈالے آنکھیں موندے ہوئے کھڑا تھا۔۔
اسکی سفید ہلکی شرٹ ہوا کے زور سے پھرپھرا رہی تھی۔۔ اوپر کے کھلے دو بٹن اس کے کسرتی سینے کو واضح کر رہے تھے۔۔
ہوا کا ایک شریر جھونکا آیا اور اس کے بالوں سے اٹھکیلیاں کرتا گزر گیا۔۔
دھیمی مسکان چہرے پر سجا کر اس نے ماتھے پر بکھرے بال سمیٹے۔۔
اسکے گال میں ہلکے سے ابھرتے ڈمپل پر وہاں موجود کئی لڑکیاں دل ہار گئیں۔۔
وہ ایسا ہی کچھ دلکش لگ رہا تھا۔۔ سب کی نظروں کو محسوس کرنے کے باوجود وہ لا تعلق کھڑا تھا۔۔
بھائی سنبهالیں اسے،، ناک میں دم کر دیا ہے اس چھوٹے پیکٹ نے۔۔ میر جھنجھلاتا ہوا نمودار ہوا اور راحم کو اسے تھما کر نو دو گیارہ ہو گیا۔۔
