Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 8

اتوار کا دن تھا۔ عین کسلمندی سے آنکھیں ملتی جمائی روک کر آئمہ اور اپنے مشترکہ کمرے سے نمو دار ہوئی اور بےدیہانی میں جاگنگ سے واپس آتے جہان سے ٹکرا گئی۔۔
جہان نے اسے سیدھا کھڑا کیا۔۔ نیند میں تو نہیں چل رہی تم۔۔؟ عین نے بغیر جواب دیے برا سا منہ بنایا۔۔
صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔۔ آئمہ کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔ عین کو کچن میں دیکھ کر مسکرائیں۔
یہ صبح صبح تمہارے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں۔۔؟
نانو ساری رات صحیح نیند نہیں آئی۔۔ جسم سارا اکڑ گیا ہے۔۔ سر بھی درد ہورہا ہے۔۔
چلو منہ ہاتھ دھو لو،، ناشتے کے بعد اچھی سی چائے پیتے ہیں،، سر درد بھاگ جائے گا۔
وہ سستی سے کچن شلف سے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔ جب وہ واپس آئی تو آئمہ ناشتہ ٹیبل پر لگا رہی تھیں۔۔ جہان پہلے سے ہی وہاں موجود تھا۔۔
عین نے اس کے ساتھ جگہ سنبهالی۔ جہان نے اسکی ناک دو انگلیوں میں دبا دی۔ تنگ آ کر عین نے اس کے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔
نانوووو بھائی تنگ کر رہے ہیں۔۔۔
جہان! نہ چھیڑو اسے۔۔۔ آئمہ نے گھوری ڈالی تو وہ مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔ اب آپ اس بندری کی کچھ زیادہ سائیڈ نہیں لیتیں۔۔؟
ہاں تو ۔۔۔ آپ جل رہے ہیں کیا۔۔؟ عین نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا تو جہان نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔۔ خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا گیا۔۔
عین نے برتن اٹھا کر سنک میں رکھے۔ دوپٹہ گلے سے نکال کر سائیڈ پر رکھا اور برتن دھونے میں مصروف ہو گئی۔۔
ہان بھائی اب آپ نے تنگ کیا تو میں آپ کے اوپر پانی پھینک دوں گی،، کچن میں آہٹ محسوس کر کے اس نے بغیر دیکھے کہا۔۔
اجی ہم دل و جان سے پٹنے کو بھی تیار ہیں۔۔ شرط یہ ہے کے مارنے والے آپ کے نازک ہاتھ ہوں۔۔ توصیف اسکو گہری نگاہ سے دیکھتا کہہ رہا تھا جو اس وقت وائٹ ہاف سلیوز شرٹ اور وائٹ ہی منی سکرٹ ٹائٹس میں ملبوس بالوں کو رف جوڑے میں باندھے ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
نانووووو ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی گھر میں گھس گیا ہے جلدی آئیں۔۔۔ اسے ناگواری سے دیکھ کر کندھے پر دوپٹہ ڈال کر اس نے چلا کر کہا تو آئمہ فوراً دوڑی چلی آئیں۔۔۔
کچن کے دروازے پر توصیف کو دیکھ کر انہوں نے بمشکل ناگواری چھپائی۔۔۔ خیر تھی اتنی صبح صبح آ گئے۔۔ اسے لیے وہ لاؤنج تک آئیں اور سنجیدگی سے پوچھا تو وہ كمینگی سے ہنسا۔۔
ارے آپ تو بھول ہی گئیں۔۔ پھر سے دوہرا دیتے ہیں۔۔ اس نازک بلبل پر میرا دل آ گیا ہے۔۔ اب آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ اسے میرے حوالے کر دیں۔۔ بھئی کبھی تو بياہنہ ہے نہ۔۔
تم اپنی بکواس بند رکھو میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ تم جیسے انسان سے میں اپنی بیٹی کا رشتہ ہرگز نہیں کروں گی۔۔ اور ابھی وہ بہت چھوٹی ہے۔۔ جہان کو ابھی اس بات کا نہیں پتہ۔ ورنہ تمہارا وہ حشر کرے گا کہ۔۔۔
اتنے میں جہان ہاتھ میں کچھ پلاسٹک بیگز پکڑے گھر میں داخل ہوا۔۔ حیرت سے اپنے چچا زاد کو دیکھا اور بیگز کچن میں رکھتے اس سے مصافحہ کیا۔۔
لیجیے بھائی صاحب بھی آ گئے۔۔ اب ان کے سامنے ہی بات ہو جائے تو اچھا ہے۔۔ بات کرتے اس کی نظریں کچن کی طرف تھی۔ جہان نے کچھ نہ سمجھتے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو غصے سے مٹھی بھینچ لی۔۔
کچن میں عین نیچے جھکی فرش سے کچھ اٹھا رہی تھی جس سے اسکی ٹی شرٹ کمر سے تھوڑا سا کھسک کر اسکی کمر کا کچھ حصہ دکھا رہی تھی۔۔
عین ۔۔۔۔؟ جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔ جہان غصے سے دهاڑا تو توصیف ہڑبڑا گیا۔۔۔
عین جلدی سے کچن سے نکلتی کمرے میں گھس گئی۔۔
ہاں تو کیا کہہ رہے تھے تم۔۔؟ جہان نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
جہان یہ عین کا رشتہ مانگنے آیا ہے۔۔ ایک دفعہ پہلے بھی آیا تھا۔۔ میں نے منع بھی کیا لیکن یہ پھر آ گیا۔۔
جہان ضبط کھو کر اٹھا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا۔۔ بے غیرت انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر آنے کی۔۔ تم جیسے نشئی کے ساتھ میں اپنی بہن کا رشتہ کروں۔۔؟ جہان اس کے منہ پر دهاڑا تو توصیف نے بہت مشکل سے اپنا آپ اس سے چھڑایا۔۔
جہان مارپیٹ مسئلے کا حل نہیں ہے۔۔ آئمہ نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔ نانو آپ بیچ میں مت بولیں۔۔
جہان نے اسے دروازے کی طرف دھکا دیا اور کہا ” آئندہ اپنی شکل بھی نہ دکھانا ورنہ بھول جاؤں گا کہ تم میرے کچھ لگتے ہو۔۔”
سالے صاحب ویسے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی وہ آپ کی بہن کیسے ہوگئی۔۔؟ منہ سے کہہ دینے سے کوئی بہن تو نہیں بن جاتی نہ۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا دل اس پر آگیا ہے اس لیے آپ میری بات پر اس طرح بھڑک رہے ہیں۔۔ توصیف نے كمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا تو جہان نے ایک زوردار گھونسا اس کے جبڑے پر دے مارا۔۔
نکلو یہاں سے۔۔۔ جہان نے دھاڑتے ہوئے کہا اور اسے دروازے کی طرف دھکا دیا۔۔
یاد رکھوں گا میں یہ سب اور اگلی دفعہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آؤں گا۔۔ دیکھتا ہوں کیسے نہیں اسے میرے حوالے کرتے تم لوگ۔۔ بکتے ہوئے وہ نو دو گیارہ ہوگیا۔۔۔
واپس لاؤنج میں آ کر اس نے ناراضگی سے آئمہ کو دیکھا۔۔ آپ مجھے بتا نہیں سکتی تھیں جب وہ پہلی دفعہ آیا تھا۔۔ میں تب ہی اس کا منہ توڑ دیتا۔۔
ہان کیا فائدہ تمھیں بتانے کا۔۔؟ مارپیٹ سے مسئلے حل نہیں ہوا کرتے۔۔وہ عین کو خدانخواستہ کچھ کر ڈالے تو پھر۔۔؟ بیٹیوں کی عزت پر ایک بار حرف آ جائے تو ساری زندگی کے لیے اس کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔۔ تم ان باتوں کو نہیں سمجھتے۔۔
کم آن نانو کس دور میں رہ رہی ہیں آپ ۔۔؟ اچھا اب زیادہ پریشان نہ ہوں کچھ نہیں ہوگا۔۔
کیوں کچھ نہیں ہوگا۔۔؟ کل کلاں کو وہ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے آیا تو کیا عزت رہ جائے گئی ہماری اور عین۔۔؟ اسکے بارے میں سوچا وہ کس قدر متاثر ہوگی اس سب سے۔۔
مجھے اب اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔۔ ماشاءالله جوان ہوگئی ہے۔۔ اور بات چاہے جتنی بھی کڑوی ہو حقیقت تو یہی ہے کہ وہ تمہاری سگی بہن نہیں ہے۔۔ کل کلاں کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو۔۔۔
جہان نے بےيقینی سے انہیں دیکھا۔۔ نانو آپ مجھ پر شک کر رہی ہیں۔۔؟؟
نہیں میری جان میں تم پر شک نہیں کر رہی۔۔ لیکن ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایسی باتوں پر لوگ جینا حرام کر دیتے ہیں۔۔ خیر میں کچھ سوچتی ہوں اس بارے میں کیا کرنا چاہئے۔۔
کمرے کے دروازے سے لگی کھڑی عین کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔ وہ بہت ڈر گئی تھی۔۔ کیا نانو مجھے یہاں سے کہیں اور بھیج دیں گی۔۔
جہان نے پرسوچ نظروں سے دروازے کی سمت دیکھا جہاں سے اس کا دوپٹہ نظر آرہا تھا۔۔
عین باہر آؤ۔۔ جہان کے بلانے پر وہ آنکھیں صاف کرتی آہستہ قدم اٹھاتی اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔
اس نے تمھیں کچھ کہا تو نہیں۔۔؟ عین نے نفی میں سر ہلایا اور پلکیں جھپک کر آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ جہان نے اسے دیکھ کر لب بھینچ لیے۔۔
پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ،، آئمہ نے اسے ساتھ لگایا تو وہ ان کے گرد بازو حمائل کرتی رو پڑی۔۔ نانو میں نے کہیں نہیں جانا آپ کو چھوڑ کر۔۔ پلیز مجھے کہیں مت بھیجیے گا۔۔
بس بس کس نے کہا ایسا۔۔ میں اپنی عین کو اپنے سے دور کیوں کروں گی۔۔ انہوں نے اسکا سر تهپکتے ہوئے کہا۔۔
چلو بس،، رونا دھونا ختم کرو۔۔۔ ایک بہت اچھی فنی مووی ریلیز ہوئی ہے۔۔ چلو دیکھتے ہیں۔۔ وہ عین کا بازو پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔۔
زمین پر بِچھے قالین پر انہوں نے دو تکیے دیوار کے ساتھ لگائے۔ جہان فریج سے کولڈ ڈرنک لے آیا۔ عین نے پلاسٹک بیگ سے کچھ سنیکس نکالے اور جلدی سے اپنی جگہ کشن رکھ کر بیٹھ گئی۔۔
جہان نے لیپ ٹاپ پر مووی پلے کی اور لائٹ آف کر کے اس کے برابر کشن پر بیٹھ گیا۔۔ کولڈ ڈرنک ہاتھ میں پکڑ کر وہ گھونٹ گھونٹ پینے لگے۔۔
عین نے لیپ ٹاپ کی سكرین کو دیکھتے جہان کے ہاتھ میں موجود چیٹوز کے پیکٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جہان نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔
عین نے بغیر اس کی طرف دیکھے ہاتھ کا مکا بنا کر اسے مارا جو اسکے منہ کی طرف جاتے ہاتھ پر لگا جس سے اس کے ہاتھ میں پکڑے چیٹوز منہ میں جانے کی بجاۓ ناک پر جا لگے۔۔
ہاہاہاہاہاہا،،، عین کی ہنسی چھوٹی۔۔ اب مزہ آیا ہنہ۔۔ اس نے پیکٹ جہان سے کھینچا اور مزے سے کھانے لگی۔۔
جہان منہ جھاڑ کر مووی کی طرف متوجہ ہوا۔۔ ہاہاہا،، یہ تو تم لگ رہی ہو۔۔ جہان نے چلتے منظر میں اڑے بالوں والی لڑکی کو دیکھ کر کہا۔۔ بجاۓ غصہ کرنے کے عین کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
بہت مشکل سے اس نے حلق میں پھنسی ڈرنک کو حلق سے نیچے اتارا۔۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو مذاق کا نشانہ بناتے “چپیریں” مارتے پاگلوں کی طرح ہنستے جا رہے تھے۔۔
وہاں سے گزرتی آئمہ دونوں کو پاگلوں کی طرح ہنستا اور جھگڑتا دیکھ کر خود بھی ہنس دیں۔۔۔ لیکن پھر ان کے ماتھے پر گہری سوچ کی لكیریں چھا گئیں۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اب وہ اکثر كالج سے جلدی نکل جاتی تھی۔۔ پیپر سر پر تھے اس لیے کلاسز نہیں ہو رہی تھی۔۔ طالب علموں کی مرضی تھی کہ وہ کالج آئیں یا نہ۔۔
وہ پیپرز کی تیاری کے لیے تھوڑی دیر کے لیے چلی جاتی تھی۔۔ اور واپسی پر کالج کے قریب واقع پارک میں چلی جاتی۔۔ موسم خوشگوار ہوتا تھا۔۔ وہاں وہ ایک تنہا گوشے میں بیٹھ کر اسلامی بیان سنا کرتی تھی۔۔
اس کے دماغ کی بہت سی گرہیں کھلنے لگی تھیں۔۔ افسوس انا تم نے زندگی کے اتنے سال گمراہی میں گزار دیے۔۔
اس نے اپنے نقاب کو انگلی کی مدد سے درست کیا اور موبائل نکال کر یوٹیوب پر “youth club” سرچ کرنے لگی۔۔ یہ پانچ چھ افراد پر مشتمل ایک گروپ تھا جو لوگوں کو خصوصاً نوجوان نسل “youth” کو راہِ راست پر لانے کے لیے کوشاں تھے۔۔
وہ اسلامی حقائق اتنی خوبصورتی سے بیان کرتے کہ بات سننے والے کے دل میں اتر جاتی۔۔ اور ان کی کوششوں سے بالاخر بہت سے نوجوان بدلنے لگے تھے۔۔
حقیقتاً اللّه پاک لوگوں کو ہدایت دیتے ہیں لیکن اسکا وسیلا بھی اس کے تخلیق کیے بندے ہی بنتے ہیں۔۔
ایک دن “ٹک ٹاک” جیسے پلیٹ فارم پر سكرول کرتے اس کے سامنے “طٰہ ابن جلیل” کی ایک ویڈیو آئی جو “یوتھ کلب” ہی کے ایک ركن ہیں۔۔
وہ بہت انہماک سے ان کو سننے لگی۔۔ ان کا اندازِ بیاں اسے اس قدر بھایا کہ وہ باقاعدگی سے انہیں سننے لگی۔۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا اور وہ باقیوں کو بھی سننے لگی۔۔
خصوصاً محمد علی کی باتیں بہت موٹیویشنل ہوتیں۔۔ وہ بہت دھیمے انداز میں اپنا مدعا دوسروں تک پہنچا دیتے۔۔
اب بھی وہ اسی گروپ کے ایک ممبر کی ویڈیو کھولے ارد گرد سے بےخبر بیٹھی تھی۔۔ ویڈیو چلنے لگی تھی۔۔
قيامت کے دن ایک مسلمان کو لایا جائے گا ،، اس کے ننانوے صحیفے ہوں گے۔۔ جو گناہوں سے بھرے ہوں گے۔۔ حدیث میں ہے کہ” جب ان صحیفوں کو کھولا جائے گا تو جہاں تک بندے کی نگاہ جائے گی وہاں تک وہ صحیفے پہنچے ہوئے ہوں گے۔۔” اس کے اتنے گناہ ہوں گے۔۔ پھر اللّه تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے میرے بندے کیا تو انکار کرتا ہے کہ یہ گناہ تو نے نہیں کئے۔۔ کیا تجھے کوئی شک ہے۔۔؟ پھر بندہ کیا کرے گا۔۔ پھر اللّه پاک مزید فرمائیں گے کہ کیا میرے “لکھنے والوں” نے کوئی غلطی تو نہیں کر دی لکھنے میں۔۔؟ بندہ کہے گا آج میں گیا۔۔۔ وہ کہے گا کہ یہ سب میری ہی کرتوت ہے،، میں نے ہی کیا ہے۔۔ پھر اس سے کہا جائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے جو گناہ تو نے کیے یا تو نے کوئی ایک نیکی کی ہے۔۔؟ اس وقت بندہ اتنا پریشان ہوگا کہ اسے یاد نہیں آئے گا کہ اس نے کوی نیکی کی بھی ہے یا نہیں۔۔ اللّه اس کو یاد کروائیں گے کہ کیوں نہیں،، تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے جو تو نے دنیا میں کی تھی اور پھر اسے کہا جائے گا کہ دیکھ میرے بندے تجھ پر آج ظلم نہیں کیا جائے گا اور پھر کیا ہوگا،، ایک کارڈ نکالا جائے گا جس پر لکھا ہوگا “لا الہ الا اللّٰہ” پھر اللّه پاک فرمائیں گے میزان لگاؤ۔۔ آج وزن کیا جائے گا۔۔ ایک پلڑے میں اسکے ننانوے صحف رکھو اور دوسرے میں یہ کارڈ رکھو۔۔ بندہ پریشان ہوگا اور کہے گا اے میرے رب جہاں ننانوے گناہ سے بھرے صحیفے ہیں وہاں ایک کارڈ کیا کرے گا۔۔ اللّه فرمائیں گے کہ میزان سیٹ کرو۔۔ حدیث شریف میں ہے کہ نہ صرف کارڈ کا پلڑا بھاری ہوگا بلکہ وہ صحیفوں کو اڑا پهینکے گا۔ “سبحان اللّه” پھر اسے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ اور ایسا صرف تب ہوگا جب بندے نے دنیا میں “لا الہ الا اللّه” کو توبہ کے ساتھ جوڑا ہو گا۔۔ تو میرے بہن بھائیوں لا الا الا اللّه کو ہلکا مت لیں۔۔ توبہ کے دروازے کھلے ہیں۔۔اللّه آپ کا منتظر ہے۔۔ اللّه کی طرف لوٹ جائیں اس سے پہلے کہ موت آپ کو آ دبوچے۔۔
انا سسکیوں سے رونے لگی۔۔ کتنا مہربان ہے رب۔۔ اللّه انسان سی کتنی محبّت کرتا ہے۔۔ اور ہم کیا کرتے ہیں۔۔؟ اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔۔
کیا انسان کو اس دن سے خوف نہیں آتا کہ جب وہ سوئے گا اور جاگنے پر اپنے آپ کو مرا ہوا پائے گا۔۔ کیا قبر میں وہ کہہ سکے گا کہ میں نے فلاں حکم کو نہیں ماننا۔۔
تب بندہ گڑگڑاۓ گا فریاد کرے گا اے اللّه مجھے دنیا میں واپس بھیج دے بس کچھ وقت کے لیے۔۔ میں کبھی تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ میں اپنی زندگی سجدے میں پڑے گزار دوں گا لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔۔
لوگ کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا۔۔ جب قیامت کا وقت ہوگا تو دیکھا جائے گا۔۔؟ جب ہتھوڑے پڑیں گے تو دیکھا جائے گا۔۔؟ جب جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا تو دیکھا جائے گا۔۔؟
افسوس ہے ایسے لوگوں پر جنہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور پتہ ہے دنیا کیسے دھوکے میں ڈالتی ہے۔۔؟ جب انسان اللّه کو بھول کر دنیا کی رنگینیوں اور عیش و عشرت میں کھو جاتا ہے۔۔
کبھی سوچو تو صحیح کہ کیا تمہارے پاس ایسے عمال ہیں جو روزِ قیامت تمھیں اللّه کے غضب سے بچا سکیں۔۔ ابھی بھی وقت ہے لوٹ جاؤ۔۔ اللّه کو تمہاری واپسی کا انتظار ہے۔۔ وہ تمہارے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے گا جیسے تم نے کبھی کیے ہی نہیں۔۔
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
“میں تمہارے اندر ہوں تم کیوں نہیں دیکھتے”
[And In Yourself, Then Why You Not See]
اپنے بہتے آنسوؤں کو پونچھ کر اس نے تشکر سے آسمان کی جانب دیکھا۔۔ اسکے دل کے گرد جمی گرد ہٹنے لگی تھی۔ اسکے دل کا مرض بھی ختم ہونے لگا تھا۔ بالاخر سب ٹھیک ہونے لگا تھا۔۔
بیشک اللّه تو نے ہی مجھے ہدایت دی۔ میں تو کسی قابل نہیں تھی۔ مجھے ہدایت پر قائم رکھنا۔۔
موبائل کو پرس میں ڈال کر وہ اٹھی اور نظریں جھکاۓ پارک کے گیٹ سے نکلتی چلی گئی۔۔
اور بیشک اللّه جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔۔
میری رات دن میں چھپی چھپی۔۔!!
میرا دن چھپا کسی رات میں۔۔!!
میری زندگی اک راز ہے۔۔!!
کوئی راز ہے میری بات میں۔۔!!
میں جہاں کہیں بھی الجھ گئی۔۔!!
وہیں گرتے گرتے سنبهل گئی۔۔!!
مجھے ٹھوکروں سے پتہ چلا۔۔!!
میرا ہاتھ ہے کسی کے ہاتھ میں۔۔!!