Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 12
میرے ساتھ رہنے کا،،
وعدہ تھوڑی کیا تھا۔۔۔!!
اور مجھ سے نکاح کا ،،
ارادہ تھوڑی کیا تھا۔۔!!
خدا تیرے چہرے پر یہ مسکراہٹ،،
ہمیشہ سلامت رکھے۔۔!!
غم میرے حصے کا تھا،،
کوئی آدھا تھوڑی کیا تھا۔۔۔!!
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””♥️♥️
اسکی آنکھوں سے آنسو مسلسل بےمول ہو کر گرتے گود میں دھری ہتھیلی کو بھگو رہے تھے۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل میں احمر کی تصویر کو دیکھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔
اس نے خالی ہاتھ کو مٹھی کی صورت بند کر لیا جو اب کانپنے لگا تھا۔۔
سب کو لگتا تھا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے لیکن وہ تو پل پل مر رہی تھی۔۔ یہ مرضِ محبت بڑھتا ہی جاتا ہے۔۔ اس پر صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ:
صبر بڑا دشوار طلب ،، چاہ بڑی کافر پسند ۔۔!!
یہ آتے آتے آتا ہے ،، یہ ہوتے ہوتے ہوتی ہے ۔۔!!
یا اللّه میں راضی اس درد پر۔۔ تو جس حال میں بھی رکھے میں راضی۔۔ نہیں چاہیے مجھے دنیا۔۔ تو مجھے ہدایت پر قائم رکھ۔۔ بیشک لوگ گمراہ ہیں۔۔ یہی لوگ خسارے میں ہیں۔۔ میں بھی تو انہیں گمراہوں میں سے تھی۔۔ تو نے مجھے نکال لیا اس تاریکی سے۔۔ اللّه لوگ کیوں نہیں سمجھتے ۔۔ سب ختم ہو جائے گا،، لوگ اتنے متكبر ہیں کیا کبھی مریں گے نہیں۔۔؟ دھوکہ دیتے ہیں کیا کبھی پوچھے نہیں جائیں گے۔۔؟ اللّه تعالیٰ میرا دل نہیں لگتا اس دنیا میں۔۔ لوگ بہت جھوٹے ہیں۔۔ مجھے اپنے پاس بلا لیں۔۔ میں نے آپ کے پاس آنا ہے۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی اپنے رب کو پکار رہی تھی۔۔
☀Million of souls are in darkness
But you are on “HIDAYAAH”☀
“اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے”
[Had We willed, We could have easily imposed Hidayat on every soul]
“لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پا چکی ہے”
[But My Word will come to pass]
“کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا”
[That I will surely fill up Hell with jins and humans all together]
“سو اب آگ کے مزے چکھو اس لیے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا”
[So taste ” punishment of neglecting the meeting of this day of yours”]
“آج ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا ہے”
[We “too” certainly will neglect you]
“اور جو کام تم کرتے تھے ان کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھو”
[And taste the torment of eternity for what you used to do!]
~ Quran | Surah As Sajda (13-14)
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
اس نے خود پر ترس کھا کر خود ہی،، خود کو تهپک کر اپنے آنسو پونچھے۔۔
اسکا دل بہت ہلکا ہو گیا تھا۔۔ دوسروں کے سامنے رونے سے دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے لیکن اللّه کے سامنے رونے سے دل کسی پھول کی پتی کی طرح ہلکا اور نرم ہوجاتا ہے۔۔
گہری سانس کھینچ کر وہ زمین سے اٹھ کھڑی ہوئی اور بیڈ کے ایک طرف رکھے میز پر رکھے پانی کے گلاس کو پکڑ کرگھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔۔
بسم اللّه سے شروع کر کے الحمدللّه پر ختم کرنا اس کی زندگی میں شامل ہو چکا تھا۔۔
پانی پی کر اس نے موبائل تھاما اور کال لوگ کھولا۔ سب سے اوپر شاہ ویر کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔
اس نے کال کا ارادہ ترک کر کے اس کے نمبر پر میسج بھیج دیا۔۔
السلام علیکم ! میں انا ہوں،، کیا میں راحم سے ملنے آ سکتی ہوں۔۔؟ میسج بھیجنے کے بعد اس نے موبائل بیڈ پر پھینک دیا اور برآمدے میں چلی آئی جہاں ابھی ایک اڑتی چڑیا آ کر بیٹھی تھی۔۔
انا نے نرم نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ اسے یہ معصوم پرندے بہت پسند تھے۔۔ اس نے برتن میں پانی بھرا اور آہستہ سے چڑیا کے پاس رکھ دیا۔۔۔
پرندوں کو دانہ پانی وہ صبح ہی ڈال دیتی تھی لیکن آج پانی رکھنا یاد نہ رہا تھا۔۔ اپنے قریب کسی کو پا کر چڑیا ڈر کر اڑ گئی۔۔
انا کے پیچھے ہٹتے ہی وہ دوبارہ آ گئی اور چونچ سے پانی پینے لگی۔۔ کتنی پیاری لگتی ہیں یہ چڑیاں،، ایک دوسرے سے باتیں کرتیں ادھر ادھر ٹہلتیں۔۔
آسودگی سے مسکرا کر وہ واپس پلٹ گئی۔۔ اب دنیا خوبصورت نظر آنے لگی تھی۔۔ جب دل کا موسم اچھا ہو جائے تو ہر چیز خوبصورت لگنے لگتی ہے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہیلو سر پلیز کم،، سیکرٹری شائستگی سے کہہ کر اسے لیے مین آفس کی طرف بڑھی جہاں میٹنگ ارینج کی گئی تھی۔۔
سب لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔ بلیک تھری پیس میں ملبوس مغرور تاثرات چہرے پر سجائے وہ بےنیازی سے چل پڑا۔۔
سیکرٹری ہڑبڑا کر اس کے پیچھے دوڑی۔۔ سر اس طرف،، اس کے ٹوکنے پر شاہ ویر نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔
Did I asked you to guide me??
اس کے کھردرے لہجے پر سیکرٹری کا حلق خشک ہوگیا۔۔
سس سوری سر۔۔ ویر اچٹتی نظر اس پر ڈال کر میٹنگ روم میں داخل ہوگیا۔۔ کمرے میں موجود کئی كمپنیوں کے اونرز اپنی سیكرٹریز سمیت موجود تھے۔ صرف وہ تھا جو اکیلا آیا تھا۔۔
اس کے داخل ہوتے ہی سب اپنی جگہ سے کھڑے ہو گۓ۔۔ کچھ ایسا ہی روب تھا اس کی شخصیت میں۔۔ اس نے سر کو خم دیا اور اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو گیا۔۔ میٹنگ کا آغاز ہوگیا۔۔
تقریباً ایک گھنٹہ میٹنگ چلتی رہی۔۔ وہ A & Co. کے ساتھ میٹنگ کا لیے یہاں آیا تھا۔۔ کچھ ہی وقت میں اسکی بھرپور محنت اور مہارت کی وجہ سے اس کا بزنس کی دنیا میں ایک نام بن چکا تھا۔۔
اس نے کھڑے ہو کر اپنے کوٹ کو سیدھا کیا جسکا مطلب تھا کہ میٹنگ برخاست ہو گئی ہے۔۔
مغرور چال چلتے وہ روم سے باہر نکلا تو اس کے پیچھے آتی سٹائلش سی لڑکی جو کسی کمپنی کی اونر تھی جان بوجھ کر اس سے ٹکرا گئی۔۔
اوہ آئی ایم ریلی ویری سوری ڈیئر ۔۔۔ اس نے ویر کے بازو کو تھام کر سہارا لیا اور ایک ادا سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔
ویر نے نفرت سے اسے دیکھ کر بازو جھٹکا۔۔
آئی لائک اِٹ۔۔۔ اس کے ناز سے کہنے پر ویر نے اسے طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھا۔۔
بٹ آئی رئیلی ڈونٹ لائک یوو۔۔ اس نے یو پر زور دے کر کہا اور بازو سے نادیدہ گرد جھاڑ کر بغیر اسے دیکھے تیز قدم اٹھاتا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔
ہم۔۔۔۔۔ اپنے آپ میں ایک “محفل “ہیں۔۔۔۔!!
جب چاہا سجا لی،، جب چاہا ” تخلیہ “۔۔۔!!
کب تک بچو گے مجھ سے۔۔ میرال رانا ہوں،، آسان کام اور آسان لوگ مجھے پسند نہیں۔۔
ایک ادا سے گردن کو جھٹک کر اس نے کندھوں سے نیچے گرتے سلكی بالوں پر ہاتھ پھیرا اور مغرور چال چلتی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی زن سے بهگا کر لے گئی۔ پیچھے اسکا ڈرائیور ہکا بكا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
موبائل نے نیا پیغام آنے پر مطلع کیا تو ڈرائیو کرتے ہوئے ویر نے نوٹیفکیشن کو ٹچ کیا۔۔
انا کا پیغام کھل گیا جس میں وہ راحم سے ملنے کی خواہش ظاہر کر رہی تھی۔۔
شاہ ویر نے مسکراتی نظروں سے میسج پڑھا اور “شیور” ٹائپ کر کے سینڈ کر دیا۔۔
فوراً انا کا میسج چمکا جس میں وہ اسکا شکریہ ادا کر رہی تھی۔۔
اس کی ضرورت نہیں ،، بلکہ آپ جب بھی آنا چاہیں راحم سے ملنے آ سکتی ہیں۔ وائس نوٹ سینڈ کر کے اس نے موبائل،، فرنٹ سیٹ پر رکھ دیا اور گاڑی کی رفتار تیز کردی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
آئمہ کے جانے کے بعد عین کسلمندی سے اٹھی۔۔ اس نے اب تک یونیفارم تبدیل نہیں کیا تھا۔۔ اس نے دیوار میں نصب الماری سے ہلکی سبز گھیردار شلوار قمیض نكالی جس کی قمیض گھٹنوں سے اوپر تک آتی تھی۔۔
کپڑے استری کر کے وہ شاور لینے جانے لگی کہ اس نے سر پر ہاتھ مارا۔۔ ارے کھانا بنانا تو بھول ہی گئی میں ۔۔ اگر وہ جلدی آ گئے تو خوامخواہ ڈانٹنے کا بہانہ مل جائے گا۔۔
اس نے سوچا کہ کھانا بنا کر ایک ہی دفعہ فریش ہو لے گی۔۔ دوپٹہ کمرے میں پھینک کر اس نے کچن کا رخ کیا۔۔
فریج سے سبزیاں نکال کر اس نے سلیب پر رکھیں۔۔ اور چاولوں کو صاف کرنے کے بعد بھگو کر کر رکھ دیا۔۔ احتیاط سے سبزیاں اور دیگر ضروری چیزیں کاٹنے کے بعد وہ جلدی ہاتھ چلاتی کھانا تیار کرنے لگی۔۔
چاولوں کو دم دے کر کچن سے باہر چلی آئی۔۔ اسکا ارادہ ویج پلاؤ بنانے کا تھا۔۔ اب بس ان کو پسند آ جائے۔۔ پانچ منٹ بعد کھانا تیار کر کے وہ شاور لینے چلی گئی۔۔
شاور لینے کے بعد وہ آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔ ہلکا سبز رنگ اس پر بہت کھلا تھا ۔۔ اس طرز کا سوٹ اس نے پہلی بار زیب تن کیا تھا۔۔
گھٹنوں سے اوپر آتی تنگ قمیض میں اسکی نازک کمر نمایاں ہو رہی تھی۔۔ اس نے گھٹنوں تک آتے کالے سیاہ گھنگھریالے بالوں کو سلجها کر کمر پر کھلا چھوڑ دیا۔۔
ہاتھوں پاؤں پر لوشن لگا کر اس نے گلاسز آنکھوں پر ٹکاۓ اور کتاب لے کر لاؤنج میں بیٹھ گئی۔۔ وہ سبق یاد کرنے میں بری طرح غرق تھی کہ ڈَور بیل بجی۔۔
دوپٹے کو سینے پر پھیلا کر وہ اٹھی اور پوچھ کر دروازه کھول دیا۔۔ جہان تھکا سا اندر داخل ہوا اور بغیر اسے دیکھے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔ عین نے فکرمندی سے اسے دیکھا۔۔
پہلے کتنا خوش رہتے تھے ہان بھا ۔۔۔۔۔ اللّه میری زبان کٹ کیوں نہیں جاتی یہ بولتے،،، اب میرا بھی کونسا اتنا قصور ہے مجھ معصوم کو کیا پتہ تھا کہ “بھیّا” میرے “سئّیاں جی” بن جائیں گے۔۔
بغیر ان دونوں کے مابین رشتے کی نزاکت کو سمجھے وہ اول جلول سوچتی جا رہی تھی۔۔
گز بھر کے ریشمی دوپٹے کو بمشکل سنبهال کر وہ ناک کر کے جہان کے کمرے میں داخل ہوئی جہاں وہ شاور لے کر نکلا تولیہ سے منہ پونچھ رہا تھا۔۔
وہ۔۔ کھانا کب کھائیں گے آپ۔۔؟ اس نے جلدی سے پوچھا مبادا وہ اسے نظروں سے ہی نہ چبا جائے۔۔
نانو کہاں ہیں۔۔؟ جہان نے گہری نظر سے اسے دیکھ کر پوچھا جسکا دوپٹہ كندھے سے نیچے گرا اس کے نشیب و فراز کو نمایاں کر رہا تھا۔۔
نانو چلی گئیں ہیں۔۔ عین کے لاپرواہی سے جواب دینے پر جہان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔ کہاں چلی گئی ہیں۔۔؟
آپ نے نانو کو ہرٹ کیا ہے اس لیے وہ آپ کے ماموں کے گھر چلی گئی ہیں۔۔
جہان نے پیشانی مسلی۔۔
اب کیا فائدہ افسوس کا،، جب وہ آپ کو بار بار بلا رہی تھیں تب تو آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔۔
اسکی گھوری پر عین کی ٹر ٹر کرتی زبان کو بریک لگا۔۔
چند سیكنڈ چپ رہنے کے بعد اسکی زبان میں پھر کھجلی ہوئی۔۔ اتنے دیر سے گھور رہے ہیں مجھے کیا بہت پیاری لگ رہی ہوں۔۔۔؟
عین نے آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے کہا تو جہان کا ضبط جواب دے گیا۔۔
ادھر آؤ تمہیں بتاؤں کیسی لگ رہی ہو اس وقت۔۔۔ وہ اس کی طرف بڑھا تو عین چھپاک سے باہر بھاگ گئی۔۔
پانچ منٹ بعد اس نے کھانا لگا دیا اور جہان کو آواز دی۔۔ وہ نقاہت سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔
عین حیران ہو رہی تھی کہ ابھی تک “کڑوے کریلے” نے کچھ کہا کیوں نہیں۔۔
تھوڑا سا کھانا کھانے کے بعد ہی اسکا دل خراب ہونے لگا تو وہ کرسی کھسکا کر کھڑا ہو گیا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
عین نے جلدی سے برتن سمیٹ کر دھوئے اور کھلے بالوں کو بل دے کر جوڑے میں باندھتی وه اس کے کمرے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اندر جائے یا نہ کہ جہان کے کراہنے کی آواز آئی۔۔
وہ جلدی سے اندر گئی تو دیکھا کہ جہان بیڈ پر اوندها لیٹا كراه رہا تھا۔۔
وہ اس کے سر پر پہنچ گئی،، اسنے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ سیدھا ہو گیا۔۔
کیا ہوا ہے ہان۔۔؟ عین کے فکرمندی سے پوچھنے پر جہان نے سرخ درد کرتی آنکھوں سے اسے دیکھا،، جاؤ یہاں سے۔۔
میں نہیں جا رہی۔۔ اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جو بخار سے تپ رہا تھا،، آپ کو تو بہت تیز بخار ہے ۔۔۔ ركیں میں میڈیسن دیکھتی ہوں۔۔
وہ فکرمندی سے کہتی مڑی ہی تھی کہ جہان نے زور سے اس کا بازو پکڑا جس سے اس کا توازن بگڑا اور وہ جہان کے اوپر آ گری۔۔
شرم سے اسکا چہرہ گلنار ہو گیا۔۔۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو جہان نے اس کی کوشش ناکام کردی۔۔
میں نے کہا نا جاؤ یہاں سے مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔۔۔ اس کی گرم سانسیں عین کے منہ پر پڑیں تو وہ ناک پھلا کر چلائی۔۔۔
چھوڑیں مجھے ،، اپنی گرم سانسوں سے مجھے جلانے کا ارادہ تو نہیں ہے آپ کا۔۔
جہان نے اس کی فضول بات پر ضبط سے اس کی طرف دیکھا مطلب کچھ بھی۔۔۔
تم سے میں نے کہا نہ جاؤ ۔۔
میں کیوں جاؤں اور زیادہ غصہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے اچھا اب آپ بیمار ہیں اور میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اس لیے میں جو مرضی کروں۔۔۔
جہان نے حیرت سے اس کی فراٹے بھرتی زبان کو دیکھا۔۔ میں اس حالت میں بھی تمهارے ساتھ بہت کچھ کر سکتا ہوں۔۔ آئی سمجھ۔۔؟
اسکے مطلب کو سمجھ کر عین سرخ کانوں کے ساتھ بجلی کی سپیڈ سے کمرے سے نکل گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ ایک باؤل میں كپڑا بگھو کر نمودار ہوئی۔۔ باؤل اور پین کلرز اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھیں اور بیڈ پر دراز جہان کے پاس بیٹھ گئی جو نیم غنودگی کی حالت میں تھا۔۔
