Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 3
سنسان سڑک پر وہ بےتہاشہ بھاگتی جا رہی تھی۔ اندھادھند بھاگنے سے وہ کئی دفعہ گری تھی جس سے اس کی جینز جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔
آنکھوں میں بےانتہا خوف لئے اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہ آدمی مسلسل اسکا تعاقب کر رہے تھے۔
ہاتھ میں پکڑے بیگ کو اسنے لڑکھڑاتے ہوئے کندھے پر ڈالا اور اپنی رفتار تیز کرتی سامنے نظر آتی ایک گلی میں داخل ہو گئی۔
تعاقب کار اسکا پیچھا کرتے گلی میں داخل ہوئے لیکن سنسان گلی نے ان کا استقبال کیا۔ کسی زی روح کو نہ پاتے وہ بھاگتے ہوئے گلی کا دہانہ عبور کر گئے۔
ان کے جانے کا اطمینان کرتے وہ گہرا سانس لے کر سنسان پڑی عمارت سے باہر نکل آئی۔ اسکے گھٹنے سے خون رسنے لگا تھا۔۔ ہاتھوں پاؤں پر جا بجا خراشوں کے نشان تھے۔
روتے ہوئے اس نے سوجھے چہرے پر ہاتھ رکھا۔ ہونٹ کے کنارے سے بہتے خون کو صاف کرتے اس نے زمین پر رکھا چھوٹا سا بیگ پکڑا اور لڑکھڑاتے ہوئے ایک طرف چلنے لگی۔۔۔
اسکا کرتہ جگہ جگہ سے اس طرح پھٹا ہوا تھا جیسے اسے کھردری زمین پر گهسیٹا گیا ہو۔۔ بالاخر وہ ایک آباد علاقے میں داخل ہوگئی۔۔ اب اسکی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔۔۔
آگے بڑھ کر اسنے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کھو کھولو دروازہ کھولو۔۔ میری مدد کرو،،، اللّه کے واسطے دروازہ کھولو،،
رات کی خاموشی میں اسکی سسکیاں گونجنے لگیں۔ اسے ایک زوردار چکر آیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کے ہینڈل کو پکڑنا چاہا لیکن اسکی بصارت دھندلا گئی اور وہ توازن کھو کر گرتی چلی گئی۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
آج کا دن بے حد تھکا دینے والا تھا۔ آفس کے کام نے اسے بے حد تھکا دیا تھا۔ تھکا ہارا وہ گھر میں داخل ہوا۔ آج آئمہ اسکے استقبال کے لئے موجود نہیں تھیں۔
اپنا آفس بیگ کمرے میں رکھ کر اس نے ان کے کمرے کا رخ کیا۔ نانو ۔۔۔۔؟ اس نے دهیرے سے پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔۔۔ ان کے سونے کے خیال سے وہ دبے قدموں باہر نکل گیا۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے کپڑے بدلے۔ ڈھیلی سی بغیر بازو کے شرٹ اور ٹراؤزر زیب تن کی اور کمرے کی واحد کھڑکی کھول کر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔
موسم بےحد خوشگوار تھا۔ بادلوں کے ٹکڑوں نے آسمان کو ڈهانپ رکھا تھا،، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا۔ جہان نے مسرور ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔۔
اس کے گھنے کالے بال ماتھے پر بکھر گئے۔ اسکا کسرتی جسم ہلکی سی سفید شرٹ میں بہت نمایاں ہورہا تھا۔ اس نے سینے پر بازو باندھے اور آنکھیں موند لیں۔۔
بارش میں بھیگا دلکش سراپا چھم سے اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ پتہ نہیں کب اور کیسے وہ اسے اتنی اچھی لگنے لگی تھی کہ دل کو بےاختیار اس سے محبّت ہو گئی تھی۔۔
شاید تب جب وہ شرارتی آنکھوں سے ہونٹ کا کونہ دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ روکتی تھی۔ یا تب جب وہ اپنی نازک سی پتلی کمر پر ہاتھ رکھ کر تیوری چڑھائے غصے سے بول رہی ہوتی تھی۔۔۔
کسی کی سسکیوں کی آواز پر اسکی سوچوں کا ارتكاز ٹوٹا،،اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکا۔ کمرے کی بتی بھجا کر وہ بیڈ پر دراز ہوگیا۔
دونوں بازو سر کے نیچے رکھے جس سے اسکے مسلز اور بھی نمایاں ہونے لگے۔ اچانک عجیب سی آواز ابھری۔ وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔
اس دفعہ یہ وہم ہر گز نہیں تھا۔ دبے قدموں سے باورچی خانے میں جا کر اسنے چاقو پکڑا اور آہستہ سے جا کر بیرونی دروازہ کھولا۔
اندھیرے میں اس نے غور سے دیکھا تو دروازہ کے عین سامنے ایک لڑکی گری ہوئی تھی۔ جس کے ساتھ اسکا بیگ الٹا گرا اپنی بےقدری پر رو رہا تھا۔
جہان نے نیچے جھک کر اسے سیدھا کیا۔ اٹھو ،، کون ہو تم؟؟ اس کے ہلانے پر بھی اس وجود میں جب جنبش نہ ہوئی تو اسے تشویش نے آ گھیرا۔۔
اس نے احتیاط سے اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا کر لاؤنج میں رکھے صوفے پر لٹایا۔ آئمہ کے کمرے میں جا کر انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔۔
وہ پریشانی سے باہر آئیں اور اسے اٹھانے کے جتن کرنے لگیں جو شکل سے چودہ پندرہ سال کی لگتی تھی۔۔
ہان،، فرسٹ ایڈ باكس لاؤ جلدی،، بچی بہت زخمی ہے۔۔ وہ جلدی سے باكس لایا اور آئمہ کے ساتھ اسکے ہاتھ پاؤں کے زخموں کو صاف کرنے لگا۔۔
پاؤں کا ناخن بہت بری طرح ٹوٹا ہوا تھا۔ ہان نے ضبط سے اسے دیکھا جسکا چہرہ بھی زخمی تھا۔۔
آئمہ کی نظر اسکے گھٹنے سے پھٹی جینز پر پڑا۔ جہاں سے خون رس رس کر جم چکا تھا۔ اب انہوں نے اسکے پورے جسم کا جائزہ لیا۔ اسکی شرٹ بھی جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی جس سے اسکا زخمی جسم واضح ہورہا تھا۔۔
جہان نے ان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو فوراً نظریں جھکا لیں۔
ہان،، اسے میرے کمرے میں لے جاؤ۔
اس نے آہستہ سے اس نازک سی جان کو انکے بستر پر لٹا دیا۔۔ نانو میں اسکا بیگ چیک کرتا ہوں شاید اس کے کپڑے ہوں بیگ میں۔۔
آئمہ اسکا گریز سمجھتیں آہستہ سے سر ہلا گئیں۔ جب وہ باہر نکلا تو انہوں نے اس کے جسم کو کپڑوں سے آزاد کیا اور اسکے زخموں پر مرہم لگانے لگیں۔
جہان نے دروازہ ناک کیا تو آئمہ نے ذرا سا دروازہ کھول کر اسکے ہاتھ سے کپڑے پکڑے اور دروازہ بند کر دیا۔ اسکے کپڑے بدلنے کے بعد انہوں نے جہان سے ڈاکٹر بلانے کو کہا۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر اس بچی کا چیک اپ کررہا تھا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ نقاہت اور خوف کی وجہ سے یہ بےہوش ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے اس نے کافی دیر سے کچھ نہی کھایا۔ کچھ دیر تک ہوش آ جائے گا۔ ان کے کھانے کا خیال رکھیں اور کھانے کے بعد یہ دوائیاں دیں ۔ ڈاکٹر نے ایک کاغذ سنجیده کھڑے جہان کی طرف بڑھایا جسے تھام کر وہ ان کے ساتھ ہی باہر نکل گیا۔
آئمہ نے انکے جانے کے بعد اس پر كمبل ٹھیک کیا اور خود بھی لیٹ گئیں۔ فجر کا وقت ہونے والا تھا۔ اب وہ نماز پڑھ کر ہی سونے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
جہان دوائیاں ان کو دے کر سونے کے لئے جا چکا تھا۔ اس سب میں وہ بےحد تھک چکا تھا۔ آئمہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو اسے ہلکا سا كسمساتے ہوئے دیکھا۔۔
وہ اسکے پاس جا کر بیٹھ گئیں۔ اسنے آہستہ سے آنکھیں کھولی۔ اسکی نیلی گہری آنکھیں دو اجنبی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ خوف سے وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔
کیا وہ لوگ اسے پھر سے قید کر چکے تھے۔۔
چھ۔چھوڑ دو مجھے ،، پلیز مجھے جانے دو۔۔
آئمہ اسکی بات سن کر حیران رہ گئیں۔ انہوں نے نرمی سے ہاتھ اسکی طرف بڑھاۓ۔ اس نے ڈر کر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لئے۔ لیکن چند لمحوں بعد ہی اسے اپنے گرد بے حد نرم گرفت محسوس ہوئی۔
آئمہ نے بہت پیار سے اسے گلے لگایا۔ سب ٹھیک ہے۔ تم محفوظ ہو،، کوئی کچھ نہیں کہے گا۔
اسکا خوف زائل ہوا تو وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ آئمہ نرمی سے اسکی کمر سہلانے لگیں۔
رونے کی آواز سن کر جہان آنکھیں ملتا ہوا انکے کمرے میں داخل ہوا۔ جہان کو دیکھ کر وہ آئمہ کے پیچھے چھپ گئی۔ یہ یہ ۔۔؟ اس نے سرگوشی کی۔
ڈرو نہیں یہ میرا نواسا ہے۔ یہی تمھیں گھر میں لے کر آیا تھا۔۔
جہان نے دوستانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا جو اب پہلے سے قدرے بہتر لگ رہی تھی۔ اس نے آئمہ کو آنکھ سے اشارہ کیا اور باہر نکل گیا۔
اسکا اشارہ سمجھ کر وہ اسے ساتھ لئے کچن میں آگئیں،، وہ ڈرتے ڈرتے اطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔
تم ادھر بیٹھو میں تم دونوں کے لئے ناشتہ بنا لوں۔ انہوں نے کچن کی کھڑکی جو باہر لان میں کھلتی تھی، کھول دی۔ سنہری صبح طلوع ہو چکی تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں خراماں خراماں کچن میں داخل ہونے لگیں،،
اس نے نظریں اٹھائی تو جہان پرسوچ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے دیکھنے پر دهیمی مسکان چہرے پر سجاتے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جسے اس نے جھجھکتے ہوئے تھام لیا۔۔
کیا نام ہے تمہارا۔۔؟ اس نے نرمی سے پوچھا۔
اعینہ (aina)۔۔ جوڑے سے نکلتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے اسنے کہا۔
پریٹی نیم لٹل گرل۔ اسکا مطلب کیا ہے؟؟
“خوبصورت آنکھوں والی” اسکے جواب پر جہان نے اسکی نیلی آنکھوں کو دیکھا۔ حزن لئے اداس نیلی آنکھیں۔ اسے یہ نیلی آنکھوں والی گڑیا بہت اچھی لگی۔
میرا نام جہان ہے۔ تم مجھے بھائی بلا سکتی ہو۔ اسکی بات پر اعینہ نے آنکھیں زور سے جهپك کر امڈ آنے والی نمی کو اندر دهكیلا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد آئمہ اسے لئے لاؤنج میں آ گئیں جہاں ہان بیٹھا انہی کا انتظار کر رہا تھا۔ دکھتے جسم کو سنبھالتے وہ آہستہ سے آئمہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔
کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ۔۔؟
جہان کی بات پر وہ خوفزدہ ہو کر رونے لگی۔ آئمہ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ دیکھو اعینہ اگر تم ہمیں کچھ بتاؤ گی نہیں تو ہم تمہاری مدد کیسے کریں گے؟
انہوں نے ہمدردی سے اسے دیکھا۔ اس چھوٹی لڑکی پر انہیں بہت ترس آیا۔ اعینہ نے اٹکتے ہوئے بتانا شروع کیا۔
میرے سوتیلے ابو میری امی کو بہت مارتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ۔۔ تکلیف سے لفظ ادا کرتے اسے دقت ہونے لگی ۔۔ ان انہوں نے امی کو اتنا مارا کہ وہ مر گئیں۔ وہ تكلیف سے سسکنے لگی۔۔
اسکی آنکھوں میں کرب دیکھ کر جہان ساکت رہ گیا۔ ابب ابو نے ۔۔ مجھے بھی بہت مارا۔ میں گھر سے بھاگ گئی کیوں کہ وہاں گندے انکل آتے تھے جو مجھے جج جان بوجھ کے ٹچ کرتے تھے۔
آئمہ نے بازو اس کے گرد پھیلا لیا۔ جہان نے غصے سے جبڑے بھنچے۔
ابو نے ایک دن مجھے زبردستی انکے ساتھ بھیج دیا۔ وہاں بہت سارے انکل تھے جو مجھے دیکھ کر گندی باتیں کر رہے تھے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
آئمہ کی آنکھوں میں نمی ابھری۔ میں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے بہت مارا اور گھ گھسیٹ کر واپس لائے۔ آئمہ اور جہان نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
پھر رات کو ایک آنٹی میرے پاس آئی ۔ انہوں نے مجھے وہاں سے بهگا دیا۔ انکل کو پتہ چل گیا ہوگا اس لئے میرے پیچھے کچھ آدمی لگ گئے۔
پھر پتہ نہیں کیسے میں ان سے بچ گئی۔ اور بھاگتے ہوئے یہاں آ گئی۔ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔
جہان آئمہ کی آنکھوں میں تحریر صاف پڑھ سکتا تھا۔ بہت نرم دل خاتون تھیں وہ۔ نانو جیسا آپ کو ٹھیک لگے ویسا کریں۔ جہان نے نرمی سے کہا تو آئمہ کو اس لمحے اس پر فخر محسوس ہوا۔
اعینہ ادھر دیکھو۔ میری جان ۔۔ کیا تم ہمارے ساتھ رہنا چاہو گی۔۔؟؟ اعینہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔ ایک پل کو سوچا ۔ اب وہ کہاں جا سکتی تھی۔ اثبات میں سر ہلاتے اس نے سر جھکا لیا۔۔
دیٹس لائق مائی گرل۔۔۔ جہان نے بشاشت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ آج آفس کے لئے تو لیٹ ہو ہی چکا تھا۔ جانے کا ارادہ کینسل کرتے آج کا دن گھر میں ھی گزارنے کا ارادہ کیا۔۔
دن یوں ہی گزرتے رہے۔ اعینہ کے زخم مندمل ہو چکے تھے۔ وہ آئمہ کے کمرے میں ہی رہتی تھی۔
شاور لے کر وہ باتھروم سے باہر نکلی اور تولیے سے اپنے بالوں کو اچھی طرح خشک کرنے لگی۔ بال خشک کر کے اس نے انہیں اچھی طرح سنوارا۔
کالے گھٹنوں تک آتے گھنگھریالے بال لہرا کر اسکی کمر سے نیچے گرے۔ اس نے اگلے آدھے بال اونچی پونی میں باندھے اور گلاسز اٹھا کر آنکھوں پر ٹکاۓ جو جہان نے اس کے سر درد کی شکایت پر اسکے چیک اپ کے بعد بنوا کر دیے تھے۔
بیزوی فریم لیس گلاسز اسکے چہرے پر بہت جچے تھے اور بقول جہان وہ پہلے سے زیادہ کیوٹ لگتی تھی۔ اس نے بلیو جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتی ریڈ فراک پہن رکھی تھی۔
چھوٹے سے سٹالر کو گلے میں رول کر کے ڈال رکھا تھا۔
جہان کے آفس سے آنے کا ٹائم تھا۔ آئمہ طبیعت خرابی کی وجہ سے آرام کر رہی تھیں۔
لاؤنج میں جا کر وہ اپنی پسندیدہ جگہ بیٹھ گئی جہاں سے ہوا براہِ راست اسکے جسم کو چھوتی اسے سکون بخشتی تھی۔ ہاتھ میں ناول پکڑے وہ اسے پڑھنے میں منہمک ہو گئی۔ شروع میں وہ بہت سنجیدہ رہتی تھی۔ لیکن جہان کی لاکھ کوششوں اور آئمہ کے پیار سے وہ پگھلنے لگی۔
جہان تھکا ہوا داخل ہوا اور گرنے کے انداز میں صوفے پر براجمان ہو گیا۔ اعینہ کچن میں جا کر پانی لے آئی۔
ہان بھائی ۔۔۔۔ اسنے آنکھیں موندے جہان کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔ جہان نے سیدھا ہو کر مسکراتے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا۔۔
ہاں بھئی میری گڑیا نے آج کیا کیا۔ اعینہ نے منہ بنایا۔ جہان نے مسکراہٹ دباتے اس کے کیوٹ تاثرات دیکھے۔
ہان بھائی میں بہت بور ہوتی ہوں گھر میں۔
چھلو بھئی اس کا بھی کچھ انتظام کرتے ہیں۔ مزید پڑھنا چاہو گی ؟؟
ضرور۔۔ اعینہ نے چمتی آنکھوں سے کہا اور موسم کا لطف لینے لان کی طرف بھاگ گئی۔ جہان نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا اور آرام کی غرض سے اپنے کمرے کا رخ کیا۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
