Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309

Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309

Last updated:

2.8(8 ratings)
Episodes
25
Views
582.9K
Status
Completed

About this novel

Ik Paigaam Muhabbat

By Hina Asad

اس نے ایک دفعہ پھر سے پڑھنے کی کوشش کی لیکن بے کار!!! وه کب سے پڑھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن سب کچھ سر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔۔
کل اسکا انگلش کا پیپر تھا۔۔ سب کچھ یاد کرنے کے باوجود اب ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کبھی پڑھا ہی نہیں۔۔ ٹینشن سے وہ رو دینے کو ہوئی۔۔
وه سویرے سویرے ہی پیپر کی تیاری کے لیے جاگ گئی تھی۔۔ کتاب میز پر پٹخ کر اس نے باورچی خانے کا رخ کیا۔۔
گلاس میں پانی انڈیل کر وه کھڑے کھڑے ہی پینے لگی۔۔ جہان جوگنگ سے واپس آیا تو کچن میں اسے کھڑا دیکھ کر یہیں آ گیا۔۔
واہ آج تو لوگ صبح صبح ہی جاگ گئے ہیں۔۔ اس کے ہاتھ سے گلاس پکڑتا وہ اسکا جوٹھا پانی پینے لگا۔۔
مجھے تنگ نہ کریں آپ میں پہلے ہی پریشان ہوں۔۔ اسکی آنکھوں کے گوشے بهیگ گئے۔۔
ارے۔۔ کیا ہوا ہے؟؟ وه سنجیدہ ہوگیا۔۔
کل پیپر ہے میرا اور مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہو رہا،، ایسے لگ رہا ہے سب کچھ بھول گیا ہے۔۔ اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔
اس میں رونے والی کیا بات ہے۔۔ آآ ایسا کرتے ہیں میں تمہیں پریپریشن کروا دیتا ہوں۔۔ آج ویسے بھی فری ہوں میں ۔۔ کیا خیال ہے۔۔؟؟
اس نے عین کے الجھے بال سنوارتے ہوئے کہا تو وہ امید سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ٹھیک ہے۔۔!! میں ناشتہ بنا لوں پھر شروع کرتے ہیں۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ اس کے سامنے کتاب رکھے بیٹھی تھی۔۔ اس نے الجھے بالوں کو ایک بار پھر سے گول مول کرتے جوڑے میں قید کر لیا۔۔
چلو ایسا کرو یہ “پندره مضمون” ہیں یہ یاد کرو پہلے،، تمہارے پاس آدھا گھنٹا ہے۔۔ اسے حکم دیتے وہ سکون سے پیچھے رکھے تکیے سے کمر ٹکا گیا۔۔
اسکی بات پر عین کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔ آدھے گھنٹے میں پندرہ مضمون؟؟
ہاں بلکل!! تم انہیں رٹے نہ لگاؤ بلکے انکے ٹاپک کو دیکھ کر ڈیٹیل ایک نظر دیکھ لو۔۔ کرنی تو سیلف رائٹنگ ہی ہے۔۔ اس نے ٹِپ دی۔۔
اوکے!! سر ہلا کر وه صوفے پر بیٹھ گئی اور وقت کو مد نظر رکھتی تمام مضامین کو ایک ایک نظر دیکھنے لگی۔۔
وقت مکمل ہوتے ہی ہان نے اس سے دو تین ٹاپک لکھوائے جو اس نے بلکل صحیح لکھے۔۔
ویری گڈ!! اب یہ سب چیپٹرز کے صرف آنسر کویسچنز یاد کرو۔۔۔ ایک گھنٹہ کافی ہے۔۔ چلو!!
اسی طرح وہ سارا دن اسکے بتائے طریقے کے مطابق پیپر کی تیاری کرتی رہی۔۔ رات کو وہ جلدی سو گئی تا کہ صبح جلدی اٹھ کر سب کچھ دوبارہ ایک نظر دیکھ لے۔۔
جہان سب کاموں سے فارغ ہوتا فریش ہو کر آیا اور نیند میں ڈوبی ہوئی عین کے برابر لیٹ کر اپنا رخ اسکی طرف کر گیا۔۔
اسکے معصوم نقوش کو نظروں سے حفظ کرتے اسکی نگاہ ہونٹ پر ٹکی بالوں کی ایک لٹ پر ٹھہر گئی۔۔ اسے ناجانے کیوں جیلسی محسوس ہوئی۔۔
انگلی کی پور سے اس نے نہایت آہستگی سے لٹ کو ہونٹ کے اوپر سے ہٹا دیا۔۔ وارفتگی سے اسکے لبوں کو تکتے وه جھکتا اپنے لبوں سے ہلکا سا چوم گیا۔۔ باری باری وہ اسکے باقی نقوش کو چومنے لگا۔۔
وہ نیند میں کسمساتی اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔۔ اسکی نیند خراب ہونے کے خیال سے وہ اپنے آپ کو مزید گستاخیاں کرنے سے بعض رکھ گیا۔۔ اس کے بازو کو پکڑ کر اپنے گرد حائل کرتے وہ اسے مکمل اپنے حصار میں لیتے آنکھیں موند گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہان پیچھے ہٹیں!! اللّه اتنا وقت ہو گیا۔۔ دیر سے آنکھ کھلنے پر وہ رو دینے کو ہوئی۔۔
جہان نے كسمسا کر آنکھیں ہلکی سی وا کیں۔ اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتا وہ سیدھا لیٹ گیا۔۔
وہ جلدی سے واش روم میں گھس گئی۔۔ لائٹ شیڈ كیپری شرٹ زیب تن کیے وہ عجلت میں باہر نکلی اور کتاب پکڑتی جلدی جلدی چکر لگاتی پڑھنے لگی۔۔
دو گھنٹوں بعد اسے کمرہ امتحان میں پہنچنا تھا۔۔
ہان اٹھ کر فریش ہوتا کچن میں چلا گیا۔۔ واپسی پر اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے میں انڈا اور بریڈ کے دو سلائس تھے۔۔
وہ بیڈ پر اس کے مقابل بیٹھ گیا۔۔ بریڈ کا ٹکڑا توڑ کر اس نے اعین کے سامنے کیا جو کتاب میں بری طرح غرق اسکی موجودگی سے بھی لا علم تھی۔۔
عین یہ کھا لو یار اتنی ٹینشن نہ لو بہت اچھا ہو گا پیپر۔۔ وه فکر مندی سے اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔
وه اسکا بڑھایا ہوا نوالہ منہ میں ڈالتی ساتھ ساتھ پڑھنے لگی۔۔
خالی برتن سائیڈ پر رکھتے وه ڈریسنگ سے برش اٹھا لایا اور اسکے جوڑے کو کھول دیا۔۔
عین نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اوں ہوں!! رہنے دیں۔۔ وہ عجلت میں بولی۔۔
میں کر رہا ہوں نہ!! کھڑے ہوئے ذرا سا جھکتے وہ اسکے گال پر بوسہ دے گیا۔۔
عین کے ماتھے کی شکنیں ختم ہو گئیں۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے کتاب سائیڈ پر رکھ دی۔۔ اب میں اسکو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی،، اف شدید سر درد ہورہا ہے۔۔ وہ نان سٹاپ بولنے لگی۔۔
ہلو نہیں سیدھی بیٹھو!! عین کے بار بار ہلنے سے بال اسکے ہاتھوں سے پهسل جاتے جس پر وہ جھنجهلا گیا۔۔
لمبے الجھے بالوں کو اچھی طرح سلجھا کر اس نے جیسے تیسے کر کے ڈھیلی پونی میں باندھ دیا۔۔ جو اسکی ساری کمر کو ڈهانپ گئی۔۔
ہان!! وہ کھڑی ہوتی اس کے گرد بازو حائل کرتی سینے پر سر ٹکا گئی۔۔
جی جان!! اس کے لاڈ سے بولنے پر وہ جی جان سے قربان ہوا۔۔
مجھے تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے۔۔ پیپر اچھا ہو گا نہ؟؟ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
ہمم بہت اچھا ہوگا۔۔ وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتا اس کا سر چوم گیا۔۔
وہ سادگی سے مسکرا دی۔۔ چلیں میں شوز پہن لوں تب تک آپ بائیک سٹارٹ کریں۔۔ اس نے گلے میں سٹالر ڈال کر کہا۔۔
تم ایسے جاؤ گی ؟؟
کیوں کیا ہوا؟ وہ اپنی طرف دیکھ کر گویا ہوئی۔۔
“نہیں مجھے کوئی مسلہ نہیں لیکن اگر کسی نے تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔”
اس کے پر شدت لہجے پر اسکے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔۔ اس نے الماری سے شال نکالی اور اچھی طرح اوڑھتی اسکے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
نانو دعا کیجیے گا میرے لیے۔۔۔ وہ آئمہ سے ملتی عجلت میں باہر نکل گئی۔۔ آئمہ ارے ارے ہی کرتی رہ گئیں۔۔
وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے ان دونوں کے بارے میں سوچنے لگیں۔۔ ماشاءالله ایسا لگتا ہے ان دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔۔ اللّه میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔ وہ آسودگی سے مسکرا دیں۔۔

Episodes

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 1

آئیے آئیے جی جی “آپ”_ ہم آپ ہی سے مخاطب ہیں۔ ارے ادھر کدھر دیکھ رہے ہیں۔ حیران مت ہوں،،، سیدھے چلیے۔ آئیے ملواتے ہیں آپکو “شاہ ہاؤس” کے مكینوں سے۔
اس خوبصورت سے گھر کے دالان میں کرسی پر اخبار کا مطالعہ کرتے جو صاحب براجمان ہیں وہ اس گھر کے سربراه “عدیل شاہ” ہیں۔
ان کے عقب میں جھانکئے تو گھاس پر لیٹا آنکھوں کو چھوٹا کیے آسمان کو تکتا انکا چھوٹا لاڈلا سپوت ہے جو عمر میں پندرہ سال کا ہونے کے باوجود اپنے بابا کا چھوٹو شا بےبی ہے۔
اب تھوڑا دائیں طرف جانے والے راستے پر مُڑیں۔ جی “آپ” ہی سے مخاطب ہیں ہم۔۔۔
اجی آگے بڑھ کر سامنے والے کمروں میں جھانکئے لیکن یہ کیا کمرے تو خالی ہیں تو باقی مكین کہاں گئے؟
ٹھہریے،،، زیادہ سوچئے مت۔۔ اپنے بائیں طرف باورچی خانے میں جھانکئے۔۔ یہ پانی کی بوتل پٹخ کر منہ میں کچھ بڑبڑانے والے صاحب، عدیل شاہ کے بڑے سپوت “شاہ ویر” صاحب ہیں جنکا غصہ اکثر انکی ناک پر سوار رہ کر بیچاری ناک کو هلكان کرتا ہے۔
بدمزاج بھی انتہا کے ہیں۔ انکے ایسا ہونے کی بھی کچھ وجوہات ہیں۔ صبر رکھیے،، بتائیں گے،، سب بتائیں گے۔
یہ دو بیٹے ہی “عدیل شاہ” کی کل کائنات ہیں۔ زوجہ محترمہ اس “دیارِ فانی” سے کوچ کر چکی ہیں۔
اب اسی خاموشی سے باہر چلیے کیوں کہ یہاں اب جنگِ عظیم کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں۔ ہمیں گیا وقت سمجھ کر بھولیے گا مت۔ پھر ملیں گے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بابااااااااااا !! شاہ میر کے چیخنے پر عدیل شاہ نے رخ موڑ کر گھاس پر لیٹے اپنے لاڈلے سپوت کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔ جسکے چہرے پر گندی شرٹ اڑتی ہوئی آ کر گری اسکے معصوم چہرے کو بوسہ دے رہی تھی۔
اخبار میز پر رکھتے انہوں نے تنبیہی نظروں سے لان کے دہانے کھڑے شاہ ویر کو دیکھا۔ جو چہرے پر بیزاری کے تاثرات سجاۓ کھڑا تھا۔
ویر ۔۔۔؟ انہوں نے مزید گھوری سے نوازا تو ویر نے غصے سے شاہ میر کو دیکھا جو گھاس پر منہ پھلاۓ بیٹھا تھا۔۔
بابا۔۔۔؟ میر نے ناراض نظروں سے اپنے وجیهہ بھائی کو دیکھا جو بیزار نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
میرو ،، کب سے تمہیں بلا رہا ہوں۔ کان بند ہیں کیا تمھارے؟؟
کیا بھائی ،، اتوار کے دن بھی سکون سے نہیں بیٹھ سکتا اب انسان،،، عجیب مصیبت ہے۔۔
زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب پتہ ہے سب کام خود ہی کرنے ہیں تو زیادہ منہ بنانے کی ضرورت کیا ہے۔۔
عدیل شاہ نے گہری سانس لے کر اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا۔ جو بنیان ٹراؤزر میں ملبوس ہاتھ میں گیلے کپڑے اٹھاۓ ہوئے تھا جو غالبًا ابھی دھو کے آیا تھا۔
اسکا كسرتی جسم اسکے دراز قد پر بہت بھلا لگتا تھا۔ ویر نے بےدیهانی میں صابن لگے ہاتھ سے ماتھے پر بکھرے بال سمیٹے۔۔۔
صابن کی جھاگ نے اسکے بالوں کو عجیب مضحکہ خیز بنا دیا۔ احساس ہونے پر اسنے جهنجهلا کر اپنے ہاتھ کو دیکھا۔۔
عدیل شاہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔ میرو کو منہ چڑاتا دیکھ کر وہ پاؤں پٹختا ہوا گھر کے پچھلے حصے کی طرف چلا گیا۔
چلو میرو بیٹے ہم بھی کچھ خدمات انجام دیں۔ عدیل شاہ نے پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر موڑتے ہوئے کہا۔
میرو بھی منہ بناتا انکے پیچھے چل دیا۔
میر تم دُھلے کپڑوں کو ڈرائیر میں ڈال کر سکھاتے جاؤ۔۔ ویر نے مڑ کر عدیل شاہ کو دیکھا جو میر کو ہدایت دیتے دُھلے کپڑے تار پر ڈالنے لگے تھے۔
ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے وہ دوبارہ مشین سے کپڑے نکال کر دھونے لگا۔
ویر کی مسکراہٹ دیکھ کر میر کو شرارت سوجھی۔ بابا۔۔۔ ویسے ۔۔۔
ویر نے آنکھیں سكیڑ کر اسے دیکھا جو پٹاخے پھوڑنے سے باز نہ آتا تھا۔
بابا سنیں تو،،،
ہاں بولو۔۔ انہوں نے مصروف سے انداز میں کہا۔
بابا، ویر بھائی شادی کے بعد بھی ایسے ہی کپڑے دھویا کریں گے ؟ بھابھی کہیں گی سنیے جی ذرا یہ بچوں کے “کچھے” تو دھو دیں۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا ،،،، وہ دوہرا ہو کر ہنسنے لگا۔
اسے جیسے یہ سوچ کر ہی مزہ آیا تھا۔ عدیل شاہ نے ہاتھ میں پکڑا تولیہ اس کے منہ پر دے مارا۔ تهپ کی آواز کے ساتھ تولیہ اسکے منہ پر لگا۔
وہ جو دوہرا ہو کر ہنس رہا تھا توازن بگڑنے پر دھڑام سے نیچے گرا۔
اب کہ ویر کا قہقہہ گونجا تھا۔ عدیل شاہ نے شرارت سے ویر کو دیکھا جسکا چہرہ ہںسنے سے سرخ پر چکا تھا۔ سیاہ داڑھی سے ظاہر ہوتا ننھا سا ڈمپل اپنی ذرا سی جهلک دکھا کر شرماتے ہوۓ چھپ گیا۔
میر سے اپنی بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ اسنے ڈرائیر سے پینٹ کھینچ کر نکالی اور ویر کی طرف پھینکی جو اسکے منہ پر جا کر لگی۔
اب کہ عدیل شاہ کے منہ سے ہنسی کا فوارا ابلا۔ ویر نے کھڑے ہوتے صابن سے لتھڑے کپڑے میر کو کھینچ مارے۔
غلطی سے عدیل صاحب بیچ میں آ گئے اور یہ گئے سارے کپڑے انکے منہ پر۔۔۔۔ میر کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔ اب کہ عدیل شاہ بھی میدان میں اتر آئے۔
ویر نے اپنا بچاؤ کرتے بھاگنا چاہا لیکن میر نے اسے پاؤں سے پکڑ لیا جس سے ویر اسکے اوپر دھڑام سے گرا۔
میر اسے پیچھے ہٹاتا کھسکنے لگا لیکن عدیل صاحب نے صابن کی جھاگ دنوں کے منہ پر مل دی۔
اب ہوا “باقاعدہ جنگ” کا آغاز۔۔ یہ تو ہر “اتوار کی صبح” کا منظر تھا۔۔ بات بات پر نوک جھونک کرتے زندگی کو اپنے انداز سے جیتے اس گھر کے مكین ایک دوسرے کو کافی تھے۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
نانوووو۔۔۔ خوشی سے چہکتا وہ گھر کا بیرونی دروازہ کھولے آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوا۔۔
آئمہ بیگم نے دہل کر جہان کو دیکھا جسکا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا۔ تمیز نام کی کوئی چیز ہے تم میں ہان ۔ ایسے گھر میں داخل ہ۔۔۔۔۔۔
انکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ جہان نے آگے بڑھ کر انہیں گلے سے لگا لیا۔ نانو مجھے جاب مل گئی۔۔
یہ سن کر آئمہ بیگم بہت خوش ہوئیں۔ اللّه کا شکر ہے۔ انہوں نے اسکا ماتھا چوما۔ اللّه پاک تمھیں کامیاب کریں۔
جہان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔( کیا تم نے بہار میں کھلتے پھولوں کو دیکھا ہے ) نظر لگ جانے کے خوف سے آئمہ نے اسکے چہرے سے فوراً نظریں ہٹائیں۔
ایسی دلکش مسکراہٹ بھی کسی کی ہو سکتی ہے۔۔؟ ان کے دل نے بےاختیار نفی کی۔
میرا پیارا بیٹا،،، چلو شاباش نہا لو ،،، میں اپنے بیٹے کے لئے تب تک کھانا لگاتی ہوں۔ جہان فرمانبرداری سے سر ہلاتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
شاور لینے کے بعد وہ بغیر شرٹ کے باتھ روم سے باہر نکلا۔۔ آئینے کے سامنے آتے وہ نرمی سے اپنے سیاہ گھنے بالوں کو تولیے سے سکھانے لگا۔۔
اسکی سوچوں کا محور وہی تھی جو بہت چپکے سے اسکے دل میں آ سمائی تھی۔
میرے بارے میں جان کر اسکا ردعمل کیا ہوگا۔۔؟؟ یہ سوچ آتے ہی مسکراہٹ اسکے عنابی لبوں پر آنے کے لئے بیتاب ہوئی جسے اسنے ہونٹوں کے کنارے دبا لیا۔
وہ جب مسکراتا تھا تو اسکی آنکھیں بھی مسکراتی تھیں جو اسکے چہرے پر ایسی چمک پیدا کرتی تھیں کہ دیکھنے والا مسحور ہوجاتا تھا ۔۔
شرٹ پہن کر بکھرے بال سنوارتے اسنے باورچی خانے کا رخ کیا جہاں رکھی چھوٹی میز پر آئمہ گرم کھانا رکھ رہی تھیں۔۔
مسکراتے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھا اور چھوٹے چھوٹے نوالے لیتا کھانا کھانے لگا۔ آئمہ اسکے سامنے بیٹھیں اسکے چہرے کو دیکھنے لگیں۔ کتنی معصومیت تھی اسکے چہرے پر۔۔ نظروں میں بےاختیار اس کی نظر اتاری۔
کیا ہوا نانو؟؟ آج آپکو زیادہ پیار نہیں آرہا مجھ پر ؟ شریر مسکان کے ساتھ اسنے پوچھا تو آئمہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔
وہ اپنی عمر سے بہت کم دکھائی دیتی تھیں اور عمر کے اس حصّے میں بھی خوبصورت تھیں۔ ہاں تو تمھیں مسئلہ کوئی ؟؟ جہان نے نفی میں سر ہلایا۔۔
انا کو بتایا تم نے جاب کا ؟؟ انا کے نام پر اسکی آنکھوں کی چمک بڑھی جسے آئمہ خوب سمجھتی تھیں۔۔
تھوڑی دیر تک وہیں جاؤں گا۔۔
تایا سے بھی مل لینا،، گلہ کر رہے تھے کہ پچھلی دفعہ بغیر ملے ہی چلے گئے تھے۔۔
جی مل لوں گا۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اک خواب نے آنکھیں کھولی ہیں^°•
•°کیا موڑ آیا ہے کہانی میں°•
وہ بھیگ رہی تھی بارش میں°•
~اور آگ لگی ہے پانی میں~
ہم پھر سے حاضر ہیں۔۔ کہیں آپ ہمیں بھول تو نہیں گئے؟؟ چلیں آپکو لے کر چلتے ہیں ایک نئے کردار کی طرف۔۔
گھر کے دروازے کو کیا ہونقوں کی طرح تک رہے ہیں،، اجی اندر چلئے،، بارش میں ساکت بیٹھی یہ دوشیزہ کون ہیں؟؟ انکا جائزہ لیجیئے،، ہم ابھی آتے ہیں۔
ایسی طوفانی بارش میں ایسی گہری خاموشی کے ساتھ وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ گہرے بھورے کمر تک آتے سلكی بال بارش کے پانی سے گیلے ہونے کی وجہ سے لٹوں کی صورت چہرے کے اطراف میں چپکے تھے۔
پانی کی ایک بوند اسکے ماتھے سے ہوتے اسکی تیکھی ناک میں پہنی نوز پن پر ٹھہری اور نیچے گر گئی۔
اسکے بھورے گلابی ہونٹ معصوم سی مسکراہٹ میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسکی بھوری آنکھوں میں ایک خاص تاثر تھا جو کبھی سرد ہوجاتا اور کبھی آنکھوں کو خوبصورتی بخشتا۔ اکثر ان آنکھوں میں کوئی تاثر ہی نہ ہوتا۔
وہ بہت خوبصورت نہیں تھی لیکن اسکی شخصیت میں عجیب جازبيت تھی جو مخالف صنف کو اپنی اوڑھ کھینچتی تھی۔
اہم اہمم ،، ہم پھر سے حاضر ھیں۔۔ انکو جانئے،، یہ “اَنا وقار” ہیں۔ جنکو اپنی ‘انا’ اور ‘وقار’ بہت ہی عزیز ہے۔ لیکن اس وقت یہ اتنی گم صم کیوں ہیں ؟؟ دور خلاؤں میں گھورتی انکی آنکھوں میں تو جهانكیے۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
یہ ایک “نویں جماعت” کے کمرے کا منظر تھا۔ اپنی جماعت کی دو قابل ترین لڑکیاں کرسی پر براجمان اپنی استانی کے سامنے روزمره کا سبق سنانے کی غرض سے کھڑی تھیں کہ يكلخت ان میں سے ایک کی ہنسی چھوٹی۔۔
میڈم کو دیکھ کر اس نے ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کی لیکن ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
اسکے ساتھ کھڑی عائزہ بھی اب کی بار ہنسنے لگی۔ اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ دونوں پیٹ پکڑے ہنستی جارہی تھیں۔
میڈم نے پہلے کڑی نظروں سے انہیں دیکھا اور پھر وہ خود بھی مسکرانے لگیں۔
چلو دفع ہوجاؤ اپنی جگہ پر بدتمیزو۔۔
اگر انکی جگہ کوئی اور ہوتا تو يقینًا ڈانٹ کا شکار ہوتا لیکن وہ تو اپنی میڈم کی لاڈلی تھیں۔ اپنے ڈیسک تک واپس آنے تک وہ ہنستی رہی تھیں۔ اور باقی طالبعلم انہیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
منظر ہوا میں تحلیل ہوا۔ انا نے آہستگی سے آنکھیں جهپكی۔۔ وہ دن زندگی کے بہترین دن تھے۔ عائزہ اور ابیحہ کی سنگت میں گزرے سکول کے دن اسے بہت یاد آتے تھے۔۔
عائزہ نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا جب کہ وہ ابیحہ کے ساتھ کالج سے بی اے کررہی تھی۔ ابیحہ اسکے ساتھ ہی ہوتی تھی لیکن عائزہ کو وہ اکثر بہت یاد کرتی تھی۔۔
ان تینوں کی دوستی بہت پرانی تھی۔ ایسے پیارے دوست بھی کسی کے ہوا کرتے ہیں؟؟ اس معاملے میں بلاشبہ وہ بہت خوش قسمت تھی۔۔
بارش اب رک چکی تھی۔۔ وہ اندر جانے کی نیت سے کھڑی ہوئی،، اسکے کپڑے اسکے وجود سے چپکے ہوئے تھے،، اسنے ہاتھ کی مدد سے قمیض کو کمر سے الگ کیا جو اسکی کمر سے چپکی اسکی نہایت پتلی کمر کو اور بھی واضح کررہی تھی۔۔
اپنی قمیض سیدھی کرتی وہ جیسے ہی پلٹی تو اسکی نگاہ جہان پر پڑی جو سینے پر ہاتھ باندھے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
انا نے فورًا دوپٹہ پھیلا کر اپنے آپکو ڈھانپا۔
ہان بھائی آپ۔۔؟
وعلیکم السلام۔۔ جہان نے سنجیدگی سے کہا تو انا کے چہرے پر شرمندہ سی مسکراہٹ ابھری۔
میں تمھیں کچھ بتانے آیا تھا۔ انا جو اسکی نظروں سے پزل ہورہی تھی سواليہ نظروں سے اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔
مجھے جاب مل گئی ہے۔۔
سچ ہان بھائی،،، انا نے چہک کر کہا۔۔
ہمم بالکل سچ ۔۔
ہان بھائی میں بہت خوش ہوں۔ اللّه تعالٰی کا بہت بہت شکر ہے۔
اسکے “بھائی بھائی” کی تكرار پر اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔ انا تم مجھے بھائی نہ کہا کرو ۔۔ اسنے سنجیدگی سے کہا تو انا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔۔
ہان بھائی آپ میرے بھائی ہیں تو بھائی ہی کہوں گی نہ،،، عجیب باتیں کرتے ہیں آپ بھی۔ اسکا موڈ سخت آف ہو چکا تھا۔
وہ اسکی طرف دیکھے بغیر اندر کی جانب بڑھ گئی۔ جہان گہری سانس لیتے تیز قدموں سے بیرونی دروازہ عبور کر گیا۔

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

2.8 / 5 · 8 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Innocent Heroinelove story basedRomantic Love StorySecond Marriage Based