Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 17
انا ۔۔۔۔؟ حنا کی آواز پر اس نے تمام سوچوں کو جھٹک کر دروازے کی اوڑھ دیکھا جہاں وہ سوچتی نظروں سے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی تھیں۔۔
جی !! کیا ہوا ماما ۔۔۔۔؟ اس نے سادگی سے پوچھا۔۔
کوئی عدیل صاحب آئے ہیں۔۔۔ انہوں نے آنکھیں سكیڑ کر کہا۔۔
ان کے نام پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
کیوں ۔۔؟ وہ کیوں آئے ہیں ۔۔؟؟ اس نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا۔۔
تمہارے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئے ہیں،،، ان کے جواب پر وہ بجلی کی تیزی سے کھڑی ہوئی۔۔
اس خبر پر اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔۔
اسے لگا تھا کہ ویر نے محض مذاق میں وہ بات کہی تھی لیکن یہ تو ۔۔۔؟؟
تمہیں کچھ علم تھا کہ ایسا ہوگا ۔۔؟ حنا کے استفسار پر اس نے خاموش نظروں سے انہیں دیکھا،،، ماما اس سب میں میرا کوئی ہاتھ نہیں نہ ہی میں انہیں ٹھیک طرح جانتی ہوں۔۔ اگر آپ کو نہیں یقین کرنا تو میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔
اس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا۔۔۔ ایک وہ دور تھا جب وہ سب کو اپنی ذات کی صفائیاں دیتی رہتی تھی لیکن اب وہ اتنی مظبوط ہو چکی تھی کہ اسے فرق نہیں پڑتا تھا کسی بھی بات سے،، جس کو جو سوچنا ہے سوچتا رہے۔۔
میں تم پر شک تھوڑی کر رہی ہوں پاگل لڑکی ۔۔۔میں تو بس پوچھ رہی ہوں،، اچھا میں ان کو دیکھتی ہوں تمهارے بابا بھی آ گئے ہیں۔۔
ان کے جانے کے بعد اس نے تیزی سے موبائل پکڑا اور شاہ ویر کو کال ملائی۔۔۔ کڑے تیوروں سے وہ اسکے کال اٹھانے کا انتظار کرنے لگی۔۔
شاہ ویر جو میٹنگ میں مصروف تھا مسلسل فون کی روشن ہوتی سكرین کو دیکھ کر ایکسکیوزمی کہہ کر کال اٹینڈ کر گیا۔۔
دوسری طرف سے آتی تیز آواز پر اس نے منہ پر ہاتھ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔۔ فون کان سے لگائے ہوئے اس نے اپنے خاص آدمی کو اشارہ کیا۔۔ دو منٹ میں آفس خالی ہوگیا۔۔
جی اب بولئے ،، میں سن رہا ہوں،، اس نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
آپ انتہائی بد تمیز انسان ہیں۔۔ میں صرف راحم کی وجہ سے آئی تھی آپ کے گھر۔۔ آپ نہ جانے کیا سمجھ بیٹھے،، آپ۔۔۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر رشتہ بھیجنے کی۔۔؟ ہاں۔۔؟
وہ غصے سے ناک بھوں چڑھا کر بولی۔۔
اتنی عزت پر ویر نے گہری سانس لے کر ایک ہاتھ سے اپنا کندھا تهپتهپایا۔۔
ہمت تو بہت ہے مجھ میں۔۔۔ یہ آپ شادی کے بعد دیکھ ہی لیں گی،، اس نے کہہ کر نچلا لب دانتوں میں دبايا۔۔
اسکا مطلب سمجھ کر چند سیکنڈ کے لیے انا کی بولتی بند ہو گئی۔۔ اس نے فون کان سے ہٹا کر آگ اگلتا چہرہ تهپتهپایا۔۔
آپ کو شرم نہیں آتی مجھ سے ایسی بات کرتے،، میں۔۔۔۔
ویر نے اسکی بات کاٹ دی۔۔
نہیں اپنی فیوچر وائف سے کیسی شرم۔۔ اسے تپانے میں اسے بہت لطف آ رہا تھا۔۔ بائی دا وے مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنی تیکھی بھی ہیں۔۔ ویسے تیکھا ذائقہ پسند ہے مجھے۔۔
انتہائی بے شرم ہیں آپ ۔۔۔۔
یہ کہہ کر انا نے کھٹاک سے کال کاٹ دی۔۔
اسکا چہرہ لال ٹماٹرکی طرح ہورہا تھا۔۔ بدتمیز انسان!!
ہونے والے شوہر کو ایسے نہیں کہتے،، اندر سے آواز ابھری۔۔
چپ اے۔۔!! جهنجهلا کر بے دیهانی میں آگے بڑھتی وہ دیوار سے ٹکرا گئی۔۔ اف اللّه !!
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بہن اس تكلف کی کیا ضرورت تھی۔۔۔
حنا کو لوازمات کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے دیکھ کر عدیل شاہ بے ساختہ بول اٹھے۔۔
سر پر دوپٹہ اوڑھے یہ وضح دار خاتون انہیں بہت بهلی لگیں۔۔
ارے تكلف کی کیا بات ہے،، لیجئے نہ!! وقار بے تکلفی سے ان سے مخاطب ہوئے۔۔
حنا دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیں،، بڑی دوستی ہو گئی ہے آپ دونوں میں ۔۔۔
ان کی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔۔
بیگم یہ ہمارے دوست ہی ہیں۔۔ پچھلے سال جب ہمارا بزنس ڈوب رہا تھا تو انہی صاحب نے ہماری بہت مدد کی تھی ۔۔
اچھا اچھا ۔۔۔!! وقار کے بتانے پر حنا فوراً سنبهل کر بیٹھ گئیں۔۔
کیا پرانی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو۔۔ چھوڑو انہیں،، آج میں یہاں کسی اور مقصد سے حاضر ہوا ہوں۔۔ بہن سے مختصر بات ہوئی تھی،، ویسے ایک بات ہے کہ مجھے علم نہیں تھا یہاں میں تم سے ملوں گا۔۔
انکی بات پر وقار نے سوالیہ نظروں سے حنا کو دیکھا۔۔
وقار ہماری ہر بات تمہارے سامنے ہے۔۔۔ میں نے اپنے بیٹوں کی پرورش پر بہت محنت کی ہے۔۔ آج کے لڑکوں جیسی کوئی برائی ان میں نہیں پائی جاتی۔۔ سمجھ رہے ہو نہ ۔۔۔
ہاں ہاں !! بہت شریف بچے ہیں۔۔ انہوں نے سر ہلا کر تائید کی۔۔
آج میں یہاں اپنے بڑے بیٹے شاہ ویر کے لیے تمہاری بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا ہوں۔۔ عدیل شاہ نے انکے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہمم ہمم! شاہ ویر جو آجکل تمہارا بزنس سنبهال رہا ہے نہ۔۔۔؟
ہاں وہی۔۔۔ میں ایک بات پہلے ہی واضح کر دوں کہ شاہ ویر کی شادی ہو چکی ہے۔۔ پہلی بیوی ایک سال بعد ہی حادثے میں اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔۔ بیٹا ہے شاہ ویر کا ایک سال کا۔۔ میں کوئی بات تم سے چھپانا نہیں چاہتا۔۔ دیکھو یار مجھے علم ہے شادی شدہ مرد کو اپنی بیٹی دینا بہت مشکل امر ہے۔۔ لیکن میرا بیٹا بھی لاکھوں میں ایک ہے۔۔ آج بھی اس کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک رشتے ہیں لیکن میرے بیٹے کو تمهاری بیٹی کی “حیا” بھا گئی ہے۔۔ نہ یہ نہ سوچنا کہ انا کا اس سب میں کوئی ہاتھ ہے۔۔ وہ بہت معصوم اور پیاری لڑکی ہے۔۔
اس ساری بات میں پہلی دفعہ وقار ہلکا سا مسکراۓ۔۔ انہیں فخر تھا اپنی بیٹی پر۔۔
میں بہت امید سے یہاں آیا ہوں۔۔ میرے بیٹے نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا ہے۔۔۔ تم پر کوئی دباؤ نہیں ہے ۔۔ اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔۔
وقار نے انکے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔ میں سوچ کر بتاؤں گا۔۔۔ زندگی تو بچوں نے ہی بسر کرنی ہے۔۔
ان کے رسان سے کہنے پر عدیل شاہ کو ایک گونہ اطمینان ہوا۔۔
حنا پر سوچ نظروں سے وقار کو کھوجتی رہیں۔۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد عدیل شاہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ اب ہمیں اجازت دیں۔۔ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔ ان کو خدا حافظ کہہ کر وہ گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔۔
ان کے جانے کے بعد حنا وقار کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔ کیا سوچ رہے ہیں آپ۔۔؟
ہمم میں سوچ رہا ہوں رشتہ برا نہیں ہے۔۔ اچھے لوگ ہیں۔۔ لڑکا بھی دیکھا بھالا ہے۔۔۔بس اسکے شادی شدہ ہونے والی بات کچھ اچھی نہی لگی مجھے۔۔ اور ایک بیٹا بھی ہے اس کا۔۔ انہوں نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کہا۔۔
ایک دفعہ انا سے بھی پوچھ لیں۔۔ انہوں نے جھجھک کر کہا۔۔ دروازے کے پیچھے چھپ کر کھڑی انا نے تھوک نگلا۔۔ ان کے کھڑے ہوتے ہی وہ وہاں سے كهسک گئی۔۔
ہاں پوچھیں گے اپنی بیٹی سے بھی ہم۔۔ ہم زبردستی تھوڑی کریں گے۔۔ انکی بات پر حنا نے اطمینان کا سانس لیا۔۔
حنا جونہی انا کے کمرے کے سامنے گزرنے لگیں انا نے انہیں آواز دے کر روک لیا۔۔ ماما کیا کہہ رہے تھے پاپا۔۔؟ اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔۔
ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔ وہ سوچ کر ہی بتائیں گے۔۔
اچھا ۔۔۔ ماما آج میں عین سے ملنے چلی جاؤں۔۔؟ کافی دن ہو گئے ملاقات نہیں ہوئی۔۔ اس نے لجاجت سے کہا تو حنا کو مانتے ہی بنی۔۔
اچھا چلی جاؤ لیکن جلدی آ جانا۔۔
جی ماما ۔۔۔!! اجازت ملنے پر وہ خوش ہوتی فریش ہونے چلی گئی۔۔ چاکلیٹ براؤن چیک کیپری شرٹ میں ملبوس اس نے بال سنوارے اور عباۓ سے اپنا جسم ڈھک کر نقاب کرنے لگی ۔۔۔ ہینڈ بیگ پکڑ کر وہ موبائل اس میں ڈالتی خدا حافظ کہہ کر گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بابا کیا کہا انہوں نے ۔۔۔؟ عدیل شاہ کے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی میر ان سے چمٹ گیا۔۔
پرے ہٹو نالائق کہیں کے تم تو ایسے بے صبرے ہو رہے ہو جیسے تمہارے رشتے کی بات کرنے گایا تھا میں۔۔
انہوں نے شاہ ویر کا بڑھایا پانی کا گلاس تھامتے ہوئے کہا۔۔
شاہ میر شرما گیا۔۔ کیا بابا ابھی میری اتنی عمر تھوڑی ہے۔۔ میں تو ابھی چھوٹا سا بچہ ہوں۔۔
ہک ہا! تم جیسے بانس جیسے بچے ہونے لگے تو اس دنیا کا اللّه ہی مالک ہے۔۔
انکی بات پر میر کو پتنگے لگ گئے۔۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا تو ویر نے گھوری سے اسے خاموش کروا دیا۔۔
وہ جو وقار صاحب ہیں نہ اپنے جاننے والے۔۔؟ انہوں نے ویر کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔
جی جی جانتا ہوں میں انہیں۔۔
ان کی بیٹی ہے انا۔۔۔ انہوں نے اپنے تئیں دهماكا کیا۔۔
ویر نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔
عدیل شاہ اسکی حیرت سے محظوظ ہوئے۔۔
اچھا پھر ۔۔؟ جلدی بتائیں نا۔۔۔ میر نے بےصبری سے کہا۔۔
عدیل شاہ نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔ سوچ کر بتائیں گے وہ۔ انا سے بھی پوچھیں گے۔۔ امید تو اچھی ہے۔۔ انہوں نے ویر کا شانہ تھپتهپا کر کہا۔۔ ویر سر ہلا کر اپنے کمرے میں آگیا ۔۔
موبائل تھام کر اس نے انا کو کال ملائی۔۔۔ دل شرارت پر آماده ہوا۔۔ دوسری طرف سے موبائل بند ہونے کی اطلاع پر اس کے ارادوں پر پانی پھر گیا۔۔ بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹ کر وہ سوئے ہوئے راحم کے گرد حصار قائم کر گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اس نے ذرا سا اونچا ہو کر بیل بجائی۔۔ غالباً لائٹ گئی ہوئی تھی۔۔ پیچھے ہٹ کر اس نے ایک پل کو سوچا اور پھر پرس سے ڈپلیکیٹ چابی نکال کر دروازه کھول دیا۔۔ یہ چابی اسے جہان نے بنوا کر دی تھی تا کہ اسے کوئی پریشانی نہ ہو۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں عین کی چیخ و پکار پڑی۔۔ وہ سٹول پر کھڑی چلا رہی تھی۔۔۔ جہان زمین پر اس کے سامنے کھڑا سخت عاجز دکھائی دے رہا تھا۔۔
نیچے اترو عین! کھا نہیں جائے گا وہ تمہیں۔۔ جہان کے بولنے پر اس نے فوراً کافی بڑے سائز کے چوہے کو دیکھا جو ان سے قدرے فاصلے پر بڑے اطمینان سے بیٹھا لائیو شو دیکھ رہا تھا۔۔
کھا جائے گا وہ مجھے ،، مجھے پتہ ہے۔۔ اس نے تھوک نگل کر کہا۔۔
اسکی بات پر جہان کا دل سر پیٹنے کو چاہا۔۔ عین گر جاؤ گی نیچے ات۔۔۔۔ اس کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ عین کا پاؤں مڑا اور وہ توازن کھوتی نیچے گری۔۔
جہان نے فوراً اسے تھام لیا۔۔ چوہے صاحب دھڑام کی آواز سے بالاخر اٹھے اور داخلی دروازے کی طرف دوڑ لئے۔۔
اب کہ انا کی چیخیں بلند ہوئیں۔۔ عین بھی خوفزدہ ہوتی بغیر سوچے چیخنے لگی۔۔ اس نے جہاں کی گردن کے گرد پکڑ مضبوط کرلی جس سے اس کے ناخن اسکی گردن پر بری طرح چبھے۔۔
چپ!!! وہ داڑھا تو دونوں کی زبانوں کو بریک لگا۔۔ اللّه کہاں پھنس گیا میں دو عورتوں میں۔۔۔ اس نے عین کو پٹخنے والے انداز میں نیچے اتارا اور گردن گھما کر دروازے کی اوڑھ دیکھا جہاں انا شوز ریک پر ایک پیر رکھے کھڑی ہوئی تھی۔۔
سوری!! وہ فوراً نیچے پیر رکھ کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔۔۔
جہان نے اپنی اپنی جگہ شرمندہ کھڑی انا اور عین کو دیکھ کر اپنی گردن پر ہاتھ رکھا جہاں جلن ہونے لگی تھی۔۔۔
وہ نیل کٹر لے آیا اور عین کا ہاتھ کھینچ کر سامنے کیا۔۔
نہیں میں نہیں ۔۔۔۔ عین منمنائی تو جہان نے بری طرح اسے ڈپٹ دیا۔۔ چپ آواز نہ نکلے تمہاری۔۔
ایک ایک کر کے اس نے عین کے سارے ناخن کاٹ دیے۔۔ تب تک انا ان کے قریب آ گئی۔۔
السلام علیکم ! اس کے سلام پر جہان نے سر ہلایا۔۔۔ وعلیکم السلام ! جب کہ عین آگے بڑھ کر اس سے گلے ملی۔۔
کیسی ہیں آپ ؟؟ میں نے بہت مس کیا آپ کو۔۔اس نے اپنے “گنجے ہاتھوں” کو دیکھ کر شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔
آپ آجائیں اندر ۔۔ جہان کے طرز تخاطب پر انا کی آنکھوں میں دکھ ابھرا۔۔ اتنا تكلف ۔۔۔؟ اس نے سوالیہ نظروں سے جہان کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔۔
آؤ ۔۔!! وہ تینوں لاؤنج میں آ گئے۔۔۔ جہان ریفریشمنٹ کا سامان لانے چلا گیا۔۔ اس کے جاتے ہی انا کڑے تیوروں سے عین کی طرف مڑی۔۔ یہ کیا چل رہا ہے تم دونوں کے بیچ۔۔؟
اس کی بات پر عین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔ کیا انکو سب پتہ چل گیا۔۔؟
انا نے اس کے چہرے کی سرخی کو بغور دیکھا۔۔ کیا چھپا رہی ہو تم مجھ سے ۔۔؟ مجھ سے بھی باتیں چھپاؤ گی اب۔۔ ؟
نہیں آپی ایسی بات نہیں بس وہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا۔۔۔ مم میرا نکاح ہوگیا ہے ہان کے ساتھ۔۔
سچ ۔۔۔؟؟ اس کے بتانے پر وہ اتنی زور سے چیخی کہ عین دہل گئی۔۔
جج جی سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ عین اس کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر بوکھلا گئی۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا انا اتنا خوش کیوں ہو رہی ہے۔۔
یاااااررر آئی ایم سو سو ہیپی ۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا تمہارا اور ہان کا نکاح ہو گیا۔۔ وہ مان گئے ؟؟ میرا مطلب مشکل تو ہوئی ہوگی۔۔ وہ سب کچھ جاننے کے لیے بیتاب ہوئی۔۔
عین نے الف تا یے سب کچھ اسے بتا دیا۔۔
ہمم اچھا اچھا تبھی اس دن تم ان سے ۔۔۔۔۔ اہاں اب سمجھ آ رہا ہے سب ۔۔ اہم اہم ۔۔۔
آپی تنگ نہ کریں نہ ،، عین نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔
آلے آلے میلے بےبی کو شما آ رہی ہے۔۔؟ اس نے شرارت سے کہہ کر عین کو گلے لگا لیا۔۔ اللّه کرے تم دونوں بہت بہت خوش رہو ۔۔
اتنے میں جہان آ گیا۔۔ عین اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔۔ بیٹھ جائیں میں کاٹوں گی نہیں سچی! جہان وہاں سے جانے لگا تو انا بول اٹھی۔۔
گہرا سانس بھر کے وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔ انا اٹھ کر اس کے پاس گئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔۔
سوری!! اس نے ایک کارڈ اپنے چہرے کے آگے کیا جس پر بڑا سا سوری لکھا ہوا تھا۔۔
جہان نے بغیر کچھ کہے کارڈ تھام لیا۔۔
اس کے بعد انا نے ایک چاکلیٹ اس کی طرف بڑھائی جس پر “سوری انگری برڈ” لکھا ہوا تھا۔۔ ایک ہاتھ سے چاکلیٹ اس کی طرف بڑھاتے دوسرے ہاتھ سے اس نے کان پکڑ لیا۔۔
کچھ دیر سنجیدگی سے اسے دیکھنے کے بعد اس کے دیے خطاب پر وہ ہنس پڑا۔۔ اوکے !!
اس نے تمام باتیں بھلانے کا فیصلہ کر لیا۔۔
فرینڈز ۔۔؟؟ انا نے جوش سے ہاتھ اس کے آگے کیا۔۔
ہممم !! جہان اس کے بڑھے ہاتھ کو تھام کر دلکشی سے مسکرا دیا۔۔
انا فوراً سے اس کے برابر بیٹھ گئی اور چاکلیٹ واپس لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ جہان نے فوراً ہاتھ پیچھے کیا۔۔
او ہیلو !! یہ تو میری ہے نہ ۔۔
نہیں میری ہے یہ وہ تو بس منانے کے لئے دی تھی ۔۔ اس نے اچک کر چاکلیٹ پکڑنی چاہی۔۔
جہان نے ہاتھ مزید اوپر کر لیا۔۔
اب یہ میری ہوئی ،، عین دبے قدموں جہان کے پیچھے آ کھڑی ہوئی اور آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر چاکلیٹ چھین لی۔۔
ٹن ٹنا!! وہ کولڈ ڈرنک اور سنیکس میز پر رکھتی مزے سے چاکلیٹ کھول کر کھانے لگی۔۔۔
انا اور جہان نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر مسکرا پڑے۔۔
سو فائنلی آپ کی پھر فرینڈشپ ہو گئی۔۔ عین کے خوشی سے کہنے پر انا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
ویسے ہان بھائی تنگ تو نہیں کرتی یہ آپ کو ۔۔؟ انا کے پوچھنے پر جہان نے عین کو گہری نظر سے دیکھا۔۔ بےبی پنک كیپری شرٹ میں ملبوس وہ جہان کی نظروں سے اپنے آپ میں سمٹ گئی۔۔ گزری رات کے مناظر یاد آتے اس کے گال دہک گئے۔۔
بہت تنگ کرتی ہے ۔۔۔ لیکن میرے پاس بہت طریقے ہیں اسے سیٹ کرنے کے۔۔ اس کے بےباکی سے کہنے پر عین مزید سرخ ہوتی وہاں سے بھاگ گئی۔۔
کچھ بےشرم نہیں ہو گئے آپ ۔۔۔؟ اس کے شرارت سے کہنے پر ہان نے مسكراہٹ دبا کر گردن پر ہاتھ پھیرا۔۔
بے شرم کہتے ہوئے اسے “اپنا بے شرم بندہ” یاد آ گیا۔۔
ہاں یاد آیا وہ کون تھا ۔۔؟ انا اس کا اشارہ سمجھ گئ
ہان بھائی وہ اصل میں ایک دن پارک میں۔۔۔۔۔۔ اس نے مختصراً اسے ساری بات بتا دی۔۔۔ آپ جیسا سمجھ رہے تھے ویسا کچھ نہیں ہے ۔۔ میں صرف راحم کے لئے گئی تھی۔۔۔ بہت پیارا بچہ ہے وہ۔۔
ہمم اوکے تم ایسا کچھ نہیں سوچتی لیکن وہ بندہ تمہیں پسند کرتا ہے میں شیور ہوں۔۔ اس کے اندازے پر انا گڑبڑا گئی۔۔۔
جج جی پتہ نہیں۔۔
انا مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔۔ جہان کے نرمی سے پوچھنے پر انا کی آنکھوں میں الجھن ابھری ۔۔
اس نے انگلیاں چٹخا کر اسے دیکھا۔۔ وہ۔۔ شاہ ویر نے رشتہ بھیجا ہے۔۔!!
اوکے شاہ ویر نام ہے اس لڑکے کا۔۔؟
جی!!
تو تم کیا چاہتی ہو ؟؟
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ۔۔ میں راحم کے ساتھ رہنا بھی چاہتی ہوں اور یہ سب مجھے عجیب بھی لگ رہا ہے۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نہ!!
میرے لئے بہت مشکل ہے یہ۔۔ اس نے نم آنکھوں کو جهپکتے ہوئے کہا ۔۔۔
جہان نے نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔ دیکھو انا زندگی میں سب کچھ ویسا تو نہیں ہوتا جیسا ہم چاھتے ہیں۔۔ لیکن ٹرسٹ می جو ہوتا ہے وہ ہماری کی گئی خواہش سے بہت بہتر ہوتا ہے۔۔ ہمیں لگتا ہے کہ مشکل ہوگی لیکن ایک دفعہ قدم بڑھانے پر سب کچھ ٹھیک ہونے لگتا ہے۔۔ ماضی کو بھول جاؤ۔۔ اپنی طرف بڑھے مخلص ہاتھوں کو تھام لینا چاہئے۔۔ تم جو بھی فیصلہ کرو میں تمهارے ساتھ ہوں۔۔ ٹھیک ہے۔۔
وہ اسے بچے کی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے سمجھا رہا تھا۔۔ انا نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔
تھینک یو!!
اپنے پاس رکھو ۔۔ جہان نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا۔۔
انا ہنس پڑی۔۔ اچھا میں عین کو دیکھتی ہوں۔۔ پتہ نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا ۔۔۔
لڑکی او لڑکی!! وہ اسے آوازیں دیتی لاؤنج سے چلی گئی۔۔ جہان نے آسودہ سانس بھری۔۔ بالاخر دل پر دھڑا بوجھ ہٹ گیا تھا۔۔۔
