Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 18

کتابوں کا ڈھیر اٹھائے وہ احتیاط سے چلتی اپنے اور جہان کے مشترکہ کمرے میں آئی۔۔ بیڈ پر نیم دراز جہان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر موبائل پر مصروف ہوگیا۔۔
اپنا نظرانداز کیا جانا عین کو تپا گیا۔۔ اس نے سلگ کر اسے دیکھا اور بیڈ پر قدرے زوردار آواز سے کتابیں پھینکیں ۔۔۔
جہان نے اسے دیکھ کر بھنویں اچکائیں۔۔ سرخ رنگ کی پرینٹڈ گھٹنوں سے اوپر تک آتی چنٹ فراق جس پر دیدہ زیب گلاب کے پھول بنے ہوئے تھے کے ساتھ جدید طرذ کی كیپری زیب تن کیے وہ ناک بھوں چڑھا کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہونہہ !! اس کے دیکھنے پر وہ ایک ادا سے مڑ گئی۔۔ گھٹنوں تک آتے کالے گھنگھریالے گیلے بالوں کو اس نے جھٹک کر کمر پر ڈالا تو پانی کی ننھی بوندیں جہان کے منہ پر گریں۔۔
جہان نے دانت پیس کر منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔ وہ کمال بے نیازی سے کھڑکی کے قریب آئی اور ذرا فاصلے پر رکھی رائٹنگ ٹیبل کو کھینچ کر دیوار سے لگایا۔۔
اس کے سامنے اس نے اپنی پسندیدہ صوفہ نما کرسی کو ٹکا دیا ۔۔ ایسے کہ یہاں بیٹھنے سے کھڑکی سے باہر کا منظر باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔۔
جہان ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے کروٹ کے بل لیٹا اسکی کاروائی فرصت سے ملاحظہ کررہا تھا۔۔
عین اسے نظر انداز کیے بیڈ تک آئی اور کتابیں اٹھا کر ترتیب کے ساتھ میز کے ایک کونے پر رکھ دیں۔۔ ان کے ساتھ اس نے ناولز کا ڈیڑھ لگا دیا۔۔
سب ترتیب دینے کے بعد اس نے سٹیشنری باكس دوسرے کونے پر رکھ دیا۔۔۔ اپنی کاروائی سے مطمئن ہو کر اس نے کالج بیگ سے اسئنمنٹ پیپر نکال کر باہر رکھے۔۔
بیگ میں اسکا ہاتھ ایک چیز پر پڑا۔۔ اس نے باہر نکالی تو وہ ایک بہت خوبصورت قلم تھا جس پر بہت خوبصورت ڈیزائن نقش ہوا تھا۔۔۔
اس نے مسکرا کر احتیاط سے اسے تھاما اور ہلکا سا چوم کر میز پر رکھا۔۔ جہان ذرا سا چونکا۔۔
یہ کس نے دیا ہے ؟ لگتا ہے بہت اسپیشل ہے۔۔ جہان کے پوچھنے پر عین مسکرائی،، اب آیا نہ مزہ۔۔
“جی بہت اسپیشل ہے یہ” میرے پروفیسر نے دیا ہے،، جہان کے ماتھے پر لكیر ابھری۔۔
اور آپ کو پتہ ہے وہ بہت بہت پیارے ہیں ۔۔۔ پورے کالج کی لڑکیوں کا کرش ہے ان پر ۔۔ انہوں نے سب کو چھوڑ کر مجھے یہ گفٹ دیا کیوں کہ میں ان کے بقول سب سے زیادہ بریلیئنٹ سٹوڈنٹ ہوں،،، وہ نان اسٹاپ بولتی جا رہی تھی۔۔
کون سے پروفیسر ہیں کوئی تصویر ہے تمهارے پاس؟ وہ اٹھ کر اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔۔
عین نے جلدی سے موبائل آن کیا اور گیلری کھول کر اسے ایک گروپ فوٹو دکھائی۔۔
ہمم بس ٹھیک ہے مجھے تو کچھ خاص نہیں لگا بندر کہیں کا۔۔۔ جہان کے جیلس ہونے پر عین نے بہت مشکل سے قہقہہ روکا۔۔
ایویں بندر!! اچھے خاصے ہینڈسم بندے کو آپ نے بندر بنا دیا ہے۔۔ اس کے خفگی سے کہنے پر جہان کو پتنگے لگ گئے۔۔
آئندہ تم “اس” سے کوئی گفٹ نہیں لو گی آئی سمجھ ؟
کیوں نہ لوں ویسے آپ کو کیوں فرق پڑ رہا ہے۔۔
چند سیکنڈ لگے تھے جہان کو اسکے سامنے نارمل ظاہر ہونے میں۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ کندھے اچکا کر اس نے دیوار میں نصب الماری سے ٹراؤزر کھینچ کر نکالا اور باتھ روم میں گھس گیا۔۔
اندر جا کر اس نے گہرا سانس لیا۔۔ اور پھر دیوار پر زور سے مکا مارا۔۔ شاور کھول کر وہ اس کے نیچے کھڑا ہوگیا۔۔ اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
کافی دیر بعد جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ خالی ٹراؤزر زیب تن کیے باہر نکلا۔۔ اس کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپک کر اسکے کسرتی سینے کو بھگو رہی تھیں۔۔
ادھر ادھر ٹہل کر سبق یاد کرتی عین نے اسے شرٹ لیس دیکھا تو فوراً آنکھوں کے آگے کتاب کرلی ۔۔ انتہائی بد تمیز ہیں آپ! وہ بند آنکھوں سے چلائی ۔۔
ابھی تو کوئی بدتمیزی کی ہی نہیں میں نے،، اس کے بلکل قریب سے آواز ابھری تو وہ بے ساختہ کتاب چہرے کے آگے سے ہٹا گئی۔۔
اسے اپنے اوپر جھکا دیکھ کر وہ چند قدم پیچھے ہٹی۔۔ اس سے پہلے کہ اسکا سر پیچھے موجود کھڑکی سے لگتا جہان نے اس کے سر کے پیچھے اپنا مضبوط ہاتھ رکھ لیا۔۔
عین نے نیلی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا اور گھبرا کر اس کے حصار سے نکلتی کرسی پر بیٹھ کر کتاب میز پر رکھتی اسائنمنٹ بنانے لگی۔۔
جہان کتنے لمحے یونہی کھڑا رہا ۔۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ “نیلی آنکھوں والی بلی” اسے یوں گھائل کرے گی۔۔
او ویکھ دا اے بُھل جاندا اے۔۔۔!!
اگلا بندہ ۔۔۔۔ رُل جاندا اے۔۔۔!!
سر جھٹک کر اس نے میز پر قدرے جھکی عین کو دیکھا۔۔ عین سے ہوتی اس کی نظر میز کے کونے میں رکھے ناولز پر پڑی۔۔
وہ ناولز کے ٹائٹلز پڑھنے لگا۔۔ تقریباً سب ہی رومینٹک تھے۔۔ تمہیں رومینٹک ناولز پسند ہیں۔۔ ؟
جی!! اس نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔
جہان نے گہری نظر اس پر ڈالی۔۔ رومینٹک ناولز پڑھنا زیادہ انٹرسٹنگ ہے یا رومینس کرنا؟ اس نے مسکراہٹ دبا کر استفسار کیا۔۔
مجھے کیا پتہ میں نے کونسا رومینس۔۔۔۔۔۔ اس کی ٹر ٹر کرتی زبان کو اچانک بریک لگا۔۔ اسکا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔
کمرے کی فضا میں جہان کا جاندار قہقہہ گونجا۔۔
اتنی دیر بعد اسے یوں ہںستے دیکھ کر عین بے خود سی اسے دیکھے گئی۔۔ کتنا وجیہہ لگتا تھا وہ ہنستے ہوئے۔۔
بڑھی سیاہ داڑھی میں چھپی جان لیوا مسکان، گہری دل میں اترتی دلکش آنکھیں، مغرور نقوش کا مالک وہ شاندار شخص اس کا تھا۔۔ ایک انوکھے احساس نے اس کے اندر بسیرا کر لیا۔۔ ایسا خوش نما احساس تو اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔
انت الحُبّ…!!
(تم محبت ہو..!! )
زیرا خندہ ات عشق است… !!
(کیونکہ تمہارا ہنسنا محبت ہے..!! )
بے ساختگی میں وہ کہہ گئی۔۔ احساس ہونے پر وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔۔
جہان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ کیا کہا ہے تم نے ؟
کک کچھ نہیں ! کچھ بھی تو نہیں ۔۔ اب سر اٹھانے کی غلطی اس نے نہ کی۔۔
نہ بتاؤ میں خود ڈھونڈ لوں گا اس کا مطلب۔۔ اس نے عین کے جھکے سر کو دیکھ کر کہا۔۔
“تم میری طرف دیکھ کر بات کیوں نہیں کر رہی؟”
آخر آپ کیا سننا چاہتے ہیں میرے منہ سے۔۔؟ پہلے شرٹ پہن کر آئیں آپ پھر بات کریں۔۔ اللّه اللّه کیسے میرے سامنے کھڑے ہیں۔۔ موٹے کہیں کے۔۔!
اسکی بڑبڑاہٹ جہان کے دل میں ٹھا کر کے لگی۔۔
کہاں سے موٹا لگتا ہوں میں تمہیں؟ اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کسرتی جسم کا جائزہ لیا۔۔ سکس پیکس ، بازو کے پھولے ہوئے مسلز۔۔ دراز قد کا مالک وہ ایک انتہائی پرکشش مرد تھا۔۔
ہنہ ۔۔! عین نے عینک نیچے کھسکا کر اسے سر تا پیر دیکھا ۔۔۔ شروع سے آخر تک موٹے ہی ہیں آپ ۔۔۔
عین کی بات پر جہان کو اپنے کان سے دھواں نكلتا محسوس ہوا۔۔ اسے اندازه نہیں ہوا کہ وہ لا پرواہی سے کتنی بڑی بات کہہ گئی تھی۔۔
اچھا اگر موٹا ہوں نہ تو پھر بھی تمہی نے برداشت کرنا ہے۔۔ اب کہ عین کے پسینے چھوٹے۔۔
اعوذ بالله پڑھ کر وہ کتابیں اٹھاتی نو دو گیارہ ہو گئی۔۔ اس کے اعوذ باللہ پڑھنے پر جہان کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بیٹا بات سنو ،، انا کچن کے کام سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں جا ہی رہی تھی کہ وقار نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔
انا دھڑکتے دل کے ساتھ ان کے پیچھے چل دی۔۔ آؤ بیٹا بیٹھو،، تم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔
جی بابا! انا نے کپكپاتے ہاتھوں کو گود میں رکھ لیا۔۔ اسکی حالت عجیب ہو رہی تھی۔۔
بیٹا تمہیں علم تو ہو ہی گیا ہوگا تمہارے لیے رشتہ آیا ہے۔۔ اچھے لوگ ہیں۔۔۔ جان پہچان کے ہیں۔ میں نے بہت سوچا ہے اس بارے میں لیکن میرے لئے تمہاری مرضی بھی اہم ہے۔۔
اتنی محبت پر انا کی آنکھوں میں آنسو چمکے،،، اسے لگا اسے اسکے پرانے بابا واپس مل گئے ہیں۔۔
ارے ارے یہ کیا ادھر آؤ رو کیوں رہا ہے ہمارا بیٹا، انہوں نے انا کو اپنے حصار میں لے لیا،، انا نے ان کے گرد بازو حمائل کر لئے۔۔
بابا جیسا آپ چاہیں میں آپ سے بہتر تو نہیں سوچ سکتی اپنے بارے میں،، اس نے فیصلہ قسمت کے حوالے کر دیا۔۔ اب جو ہو سو ہو۔۔۔
شاباش میرا بیٹا مجھے فخر ہے تم پر،، انہوں نے اس کا سر چوما تو وہ آسودگی سے مسکرا دی۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
نیم اندھیرے کمرے میں اس کے ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ تھی ایسی دل موہ لینے والی مسکراہٹ، جو کسی بہت اہم راز کو خود میں قید کیے ہوئے ہو۔۔
اس کا اللّه کی ذات پر “یقین کا سفر” کب شروع ہوا تھا۔۔؟ بند آنکھوں کے پردوں پر ایک منظر لہرایا۔
ایک چھوٹے سے کمرے میں کھڑکی سے دن کی روشنی اندر آتی اندر بیٹھے چار نفوس کو واضح کررہی تھی۔ وہ آٹھ سال کی چار بچیاں تھیں جو دنیا کی رونقوں سے پرے اپنی مختصر سی محفل سجائے ہوئے تھیں۔
ان کے ہاتھ میں ایک ایک تسبیح تھی جس پر وہ اللّه کا کلام پڑھ رہی تھیں۔۔ تسبیح مکمل ہوئی تو اب سوال اٹھا کہ “دعا” کون مانگے گا۔
انا تم مانگ لو، ایک بچی گویا ہوئی۔۔ انا ذہن میں تشویش زدہ ہوئی۔ شام پڑ گئی تھی اور ابھی سکول کا کام بھی کرنا تھا۔ عام طور پر وہ اس وقت تک اپنا سکول کا سارا کام کر چکی ہوتی تھی۔۔
اس نے دل ہی دل میں پریشان ہوتے جیسے تیسے ٹوٹی پھوٹی دعا مانگی ویسی ہی دعا جیسی اس عمر میں عموماً بچے مانگا کرتے ہیں۔۔
گھر آتے تھوڑا وقت اور گزر گیا۔۔ اس نے جلدی سے بستہ پکڑا اور آسمان تلے بچھی چار پائی پر بیٹھ گئی۔۔
اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب سارے دن میں مکمل ہونے والا کام ایک گھنٹے میں مکمل ہوگیا۔۔ اس نے دوبارہ سبق دوہرایا جو اس کو پہلے کی نسبت زیادہ اچھی طرح ذہن نشین ہوگیا تھا۔ ہوم ورک کو دوبارہ چیک کر کے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔۔
اللّه تعالیٰ آپ نے کیا ہے نہ یہ۔۔ میں بہت خوش ہوں۔۔ خوشی سے اسکا چہرہ دممک رہا تھا۔۔ یہ خوشی اس بات کی تھی کہ اس نے اللّه تعالیٰ کی ذات کو پہلی بار اس انداز میں جانا تھا۔۔
اس سے پہلے وہ بس یہ سنتی اور پڑھتی آئی تھی کہ ہمارا رب “اللّه تعالیٰ” ہے اور اسکی عبادت فرض ہے۔۔ مگر یہ کسی نے نہیں بتایا تھا کہ اللّه بغیر کہے سن لیتا ہے، پریشانی دور کر دیتا ہے، جب وہ بغیر کہے سنتا اور مدد کرتا ہے تو کیا پکارنے پر خالی ہاتھ لوٹاۓ گا؟؟
اس نے نم آنکھیں آہستہ سے وا کیں۔۔ اللّه جی ہمیں یہ کیوں بتایا جاتا ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر اللّه سزا دے گا۔ یہ کام کرو گے تو اللّه گناہ دے گا۔ ہمیں یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ اللّه تم سے بہت محبّت کرتا ہے۔ ایسی محبّت جو کوئی کسی سے نہیں کر سکتا۔ ہمیں آپ سے محبت کرنا کیوں نہیں سکھایا جاتا۔ ایسی محبت جو ہمیں ہر گناہ سے دور کر دے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ آپ نے مجھے خود سے قریب کر لیا۔ اتنی محبّت کرتے ہیں آپ مجھ سے اور میں اب بھی نہ جانے کتنی دفعہ آپ کی نافرمانی کر جاتی ہوں۔۔ پھر بھی اتنی محبت کیوں کرتے ہیں آپ مجھ سے؟ سب مجھے چھوڑ دیتے ہیں بس آپ ہر پل میرے ساتھ رہتے ہیں۔۔
ایسی مہربان محبّت پر وہ بلکنے لگی۔۔ ضروری نہیں آنسو صرف تکلیف کے ہوں۔۔ کچھ آنسو تشکر کے بھی ہوا کرتے ہیں۔۔ اور جو آنسو اللّه کے لئے بہیں وہ “نایاب موتی” ہیں۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بیپ بیپ !! بیپ بیپ !!
جائے نماز تہہ کر کے رکھتے اس نے موبائل پکڑا جس پر شاہ ویر کا پیغام جگمگا رہا تھا۔۔ چہرے کو حجاب کی گرفت سے آزاد کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
اس نے میسج کھولا۔ کیا میں آپ کو کال کر سکتا ہوں۔۔؟؟
انا نے انگلی دانت میں دباتے سكرین کو دیکھا۔۔
جی نہیں ! ٹائپ کر کے اس نے سینڈ کا آپشن دبا دیا۔۔
اوکے! اسکا مطلب ہے کر سکتا ہوں۔۔ ساتھ ہی اس نے پوری بتیسی کی نمائش کرتی ایموجی سینڈ کردی۔۔
انا کو ہنسی بھی آ رہی تھی اور حیرت بھی ہو رہی تھی کہ اتنا سنجیده نظر آنے والا بندہ ایسی حرکتیں بھی کر سکتا ہے۔۔ آخر کیا چیز ہے یہ۔۔؟ وہ محض سوچ سکی۔۔
چیز نہیں ہوں میں ایک جیتا جاگتا معصوم سا بندہ ہوں۔۔ اس کے میسج پر انا بھونچکا رہ گئی۔۔ آپ کو کیسے پتہ میں نے ایسا سوچا؟
میسج فوراً سین ہوا۔۔
ہک ہا! در فٹے منہ انا!! اس نے تكا لگایا ہوگا تم نے كنفرم کر دیا۔۔
مجھے پتہ چل جاتا ہے آپ میرے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔۔ ایسے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ میرے لئے آسانی ہے لیکن آپ کے لیے مشکل ہو سکتی ہے شادی کے بعد۔۔
اسکا میسج پڑھتے اسے ایسا لگا جیسے وہ اس کی بات سے محظوظ ہوا ہو۔۔
ہائے اگر یہ واقعی میری سوچ پڑھ سکتا ہے تو میرا کیا ہوگیا۔۔ میں تو ایسا ویسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی۔۔
ان فضول سوچوں پر لعنت بھیج کر اس نے “کرارا” سا میسج لکھا جو یقیناً تیکھا پسند کرنے والے کو بہت تیکھا لگے گا۔۔
ہنہ!! اپنے کارنامے سے مطمئن ہو کر وہ بستر پر دراز ہو گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اہم اہم سر فرہاد کیندے ۔۔۔۔!!
اپنا نام سن کے ماڈرن سے سر فرہاد الرٹ ہو گئے۔۔
کی کیندے۔۔۔؟
حاضرین میں سے نوجوان لڑکوں کا بھرپور شور اٹھا۔۔
سر فرہاد کیندے میں ایڈا سوہنا کیوں آں ۔۔؟
آئے ہائے ہائے !!
لوکی ویکھ کے دُور و ای جاندے نس اے۔۔۔!
اے چنگی چس اے۔۔!!
میر کے ایک انداز سے بولنے پر حاضرین میں زبردست قہقہہ پڑا۔۔
شوخے ہوتے سر فرہاد شرمنده سے ہو گئے۔۔
اگلا شعر۔۔۔!! عرض کرتا ہوں ۔۔
ارشاد ارشاد ۔۔۔! شور بلند ہوا۔۔
سر افنان کیندے میرے وال نئی بن دے۔۔!! کنگھی پھیر پھیر جاندی گھس اے !!
اے چنگی چس اے۔۔!!
گراؤنڈ میں موجود تمام طالب علم ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے۔۔
گنجے سر افنان نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارد گرد دیکھتے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ سجا لی۔۔
آج میر ان سب پروفیسر سے گن گن کر بدلے لے رہا تھا جنہیں اس سے خدا واسطے کا بیر تھا۔۔
عدیل شاہ کی گود میں کھڑا راحم میر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اچھلنے لگا۔۔
بلیک پینٹ شرٹ میں شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے کلائی میں سمارٹ واچ پہنے وہ صنفِ مخالف کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔
برخوردار دل کے پھپھولے تو پھوڑ آئے وہاں اب آئندہ کے لیے اپنی خیر مناؤ ۔۔ عدیل شاہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔
ان کو تو اس سے بھی زیادہ ۔۔۔
اوں ہوں ! استاد ہیں۔۔ ایسے نہیں کہتے۔۔ اسکی بات کاٹ کر انہوں نے سرزنش کی۔۔
سوری ! منہ بنا کر اس نے راحم کو تھاما۔۔
فنکشن ختم ہوگیا تھا۔۔ سب اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔۔ ہاں چیمپ مزا آیا ۔۔؟
وہ عدیل شاہ کے ہمراہ کالج کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگا۔۔
ہمم ہمم مجا آیا، چیجو کھائی۔۔
راہ چلتی ایک ٹیچر نے راحم کا گال کھینچا تو وہ بات کرتا ہوا رک گیا اور شرما کر میر کی گردن میں منہ چھپا گیا۔۔
اس ٹیچر کا مدھم قہقہہ گونجا۔۔
“ہی از سو کیوٹ۔۔”
مس آپ کے سامنے ہی شرما رہا ہے ورنہ بہت بڑی چیز۔۔۔ آہ !!
راحم نے اس کی گردن پر دانت گاڑ دیے۔۔
کیا ہوا ؟ ان کے حیرت سے پوچھنے پر عدیل شاہ نے گہرا سانس بھرا۔۔
“وہی جو ہونا تھا”۔۔!