Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigaam Muhabbat) Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigaam Muhabbat) Episode 24
رات کی تاریکی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔۔ آسمان کو دھندلی روشنی بخشتا چاند موسم کے تیور دیکھتا بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔
زوردار بجلی چمکی اور ساتھ ہی طوفانی بارش برسنے لگی۔۔ اچانک سب گھروں میں تاریكی چھا گئی۔۔ ایسے موقع پر بجلی ہمیشہ کی طرح دغا دے گئی تھی۔۔
اسکی آنکھ بارش کی تیز آواز سے کھلی۔۔ بارش کے قطرے کھڑکی سے ٹکراتے ایک خوشگوار آواز پیدا کر رہے تھے۔۔
آنکھ کھلنے پر بھی اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا رہا تو وہ آنکھوں کو دونوں ہاتھوں سے ملتی اٹھ بیٹھی۔۔
اندھیرے میں اسے عجیب خوف محسوس ہوا۔۔
ہان۔۔۔؟؟
اسے پکاڑتی وہ رو دینے کے قریب تھی۔۔
اسکی آواز پر فوراً فلیش لائٹ آن ہوئی۔۔
“میں یہی ہوں ادھر کھڑکی کے پاس۔۔”
آواز کے تعاقب میں اس نے دیکھا تو وہ صوفے پر نیم دراز لیپ ٹاپ گود میں رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔
وہ اپنے نائٹ سوٹ کو ٹھیک کرتی جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری اور دوڑ کر اسکی گود سے لیپ ٹاپ اٹھاتی پورے حق سے بیٹھتی اسکے سینے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئی۔۔۔
اسکا رخ جہان کی جانب تھا اطراف سے دونوں پاؤں نیچے زمین کو چھو رہے تھے ۔۔
وہ اس کے بازو پکڑ کر اپنی گردن کے گرد رکھتا اسکے گرد اپنے بازوؤں کا مضبوط حصار باندھتا اسے خود میں بھینچ گیا۔۔
وہ مندی آنکھوں سے اسے دیکھتی کسمسا کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔
ہان۔۔؟؟ اسکے گال پر ہاتھ رکھتی وہ اسے پکار گئی۔۔
ہممم ۔۔؟؟ وہ پوری توجہ سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“یہ کھڑکی کھول دیں۔۔” اسکی فرمائش پر جی حضوری کرتا وہ اسے تھامے ہی ذرا کا ذرا اٹھتا ایک ہاتھ سے کھڑکی کھول گیا۔۔
ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے اندر داخل ہوتے دونوں کو ایک خوش نما احساس میں مبتلا کر گئے۔۔
برستی بارش کی چند بوندیں دونوں کے چہرے پر پڑیں۔۔ نرم گرم چہرے پر بارش کی ٹھنڈی بوندیں پڑنے پر وہ آنکھیں بند کر گئی۔۔
وه اسکے قریب ہوتا اسکے چہرے پر چمکتے موتیوں کو لبوں سے چننے لگا۔۔
اسے موڈ میں آتے دیکھ کر وہ پٹ سے آنکھیں کھولتی اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ گئی۔۔
جہان نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے اپنے لبوں پر رکھے اسکے ہاتھ کو چوم لیا۔۔
آپ کو پتہ ہے میں بہت ڈر گئی تھی اندھیرے میں،، وہ اسکا دیهان بھٹکانے کو بولی۔۔
تمہیں جب بھی کبھی ڈر لگے تم اسی طرح میری گود میں آ جایا کرنا۔۔ وہ خمار بھرے لہجے میں بولتا اسکے گالوں پر گلال بکھیر گیا۔۔
وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھتی پھر نظر جھکا گئی۔۔ وہ اسکی نیلی گہری آنکھوں میں خود کو ڈوبتا محسوس کرنے لگا۔۔
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
وہ اسکے کان کی لو کو چوم کر سرگوشی کرتا اسکی جان ہلکان کر گیا۔۔
جانے کتنی دیر وہ اسکے حصار میں پڑی اسکی دھڑکنیں شمار کرتی رہی۔۔ اچانک اس کے دل میں بارش میں بھیگنے کا شوق پیدا ہوا۔۔
ہان بارش میں چلیں۔۔؟؟ وہ ایکسائٹڈ ہو کر بولی۔۔
بلکل نہیں بیمار ہو جاؤ گی۔۔ وہ فوراً انکار کر گیا۔۔
وه ناراض نظروں سے اسے دیکھتی اسکی گود سے اتر گئی۔۔ “آپ بلکل پیار نہیں کرتے مجھ سے۔۔” وہ بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھتی شکوہ کر گئی۔۔
یہ اچھی بلیک میلنگ ہے!!
بڑبڑا کر وہ اسکی طرف بڑھا۔۔
اچھا چلو لیکن بس تھوڑی دیر کے لیے۔۔ وہ خوشی سے اٹھتی اس سے لپٹ گئی۔۔
“جلدی چلیں ہلکی ہوجائے گی بارش” اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی وہ تیزی سے چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔
وہ اسکے بچکانہ انداز پر مسکرا کر نفی میں سر ہلا گیا۔۔
اللّه کتنی تیز بارش ہے!! وہ خوشی سے جھومنے لگی۔۔ چند سیکنڈ میں ہی وه بارش میں پوری طرح بھیگ چکے تھے۔۔
طوفانی بارش میں ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے دونوں کے وجود سے ٹکراتے سنسنی خیز لہر دوڑا گئے۔۔
تیز ہوا کا جھونکا آیا تو وہ کانپتی ہوئی جہان سے لپٹ گئی۔۔ وه اسکی کمر پر ہاتھ رکھتا اسے جھٹکے سے اوپر اٹھا گیا۔۔
کیا کہہ رہی تھی تم! میں پیار نہیں کرتا تم سے ہممم؟؟
اپنے لبوں کو اسکے گال سے مس کرتا وه دلکشی سے استفسار کرنے لگا۔۔
آ۔۔ آپ کے یہ انداز کسی دن مار ڈالیں۔۔۔۔۔۔۔ عین کے الفاظ حلق میں ہی رہ گئے۔۔
وہ پوری شدت سے اسکے بھیگے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے گیا۔۔ سانس اکھڑتا محسوس کر کے وه اسکے سینے پر ہاتھ مارنے لگی۔۔ لیکن آج اسکا اتنی آسانی سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہی تھا۔۔
وہ اسے اپنے بازوؤں میں بھرتا زمین پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتا اسکے لبوں کا جام پیتے مدہوش ہونے لگا۔۔
اسکا وجود ڈھیلا پڑتا محسوس کر کے وہ پیچھے ہٹتا اسکے چہرے پر بکھرے حیا کے رنگ دیکھنے لگا۔۔
“آئی ہیٹ یو!!” بکھری سانسوں کے درمیان بولتی وہ اس کے سینے پر مکے برسانے لگی۔۔
وہ خاموشی سے اسے تکتا یکدم اسے سائیڈ پر کرتے اٹھا اور نیچے جانے کے ارادے سے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا۔۔
وہ بوکھلا کر اس کے پیچھے بھاگتی اس کا ہاتھ تھام گئی۔۔
“کیا ہوا ہان۔۔؟؟”
اسکا رخ اپنی جانب موڑتی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔ اسکا جوڑا کھل کر اس کی کمر پر گرتا جہان کی توجہ کا مرکز بنا۔۔
گیلے بالوں کی لٹوں کو ہاتھ سے چھوتے وہ خاموشی سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔
یو ہیٹ میں۔۔؟؟
اسکے سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ بے اختیار اسکے قریب ہوتی اسکے گال پر ہاتھ رکھتی گویا ہوئی۔۔
“نو!! آئی ڈونٹ ہیٹ یو۔۔ آئی لو یو سو مچ !!”
وہ اپنے پیر اسکے پیروں پر رکھ کر ایڑھیاں اوپر اٹھاتی اسکے چہرے کو جابجا چومنے لگی۔۔
محبّت ہو گئی ہے آپ سے ،، آپ کے بغیر جینے کا تصور بھی میرے لیے محال ہے۔۔ اسکے کان میں سرگوشی کرتی وہ اس کی گردن میں منہ چھپا گئی ۔۔
عین کے اقرار محبت پر وہ سرشاری سے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر نیچے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
🌿🌿🌿
مما کیا ہوا ہے آپ کو۔۔؟؟
راحم اسے اداس دیکھ کر خود بھی اداس سا اسکے مقابل بیٹھ گیا۔۔
کچھ نہیں ہوا میری جان،، مما بلکل ٹھیک ہیں۔۔ وہ نا محسوس انداز میں آنکھ کے کونے پر ٹھہرا آنسو انگلی کی نوک سے صاف کرتی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔
“نو!! آپ جھوٹ بول رہی ہیں آپ سیڈ ہیں،، مجھے پتہ ہے،، میں کوئی چھوٹا بے بی تھوڑی ہوں” وہ بے اختیار خفا ہوا۔۔
ارے میری جان آپ ابھی بھی چھوٹو شا بے بی ہو،، وه اس کی بات سے محظوظ ہوئی۔۔
راحم نے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے بال ٹھیک کیے۔۔ نو مما میں اب بڑا ہو گیا ہوں،، وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
اسکی باتوں پر انا کو ہنسی آئی۔۔ چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھتے وہ اسے دیکھنے لگی جو اڑھائی سال کا ہو چکا تھا۔۔ وہ اپنی عمر کے بچوں سے زیادہ سمجهدار تھا اور ہر چیز پر بہت غور کرتا تھا۔۔
ہمم راحم تو اب بڑا ہوگیا ہے۔۔ اب سکول بھی جایا کرے گا۔۔ ہیں نا۔۔؟؟ وہ مسکراہٹ دبا کر گویا ہوئی۔۔
اسکے چہرے کی سنجیدگی پل میں اڑن چھو ہوئی۔۔
“آ۔۔ نہیں مما میں بہت اچھا بچا ہوں نہ اور اچھے بچے سکول نہیں جاتے۔۔”
وہ تفكر سے کہتے نفی میں سر ہلا گیا۔۔
وہ اسکی عجیب منطق پر حیران ہوئی۔۔ اچھاااا!! ایسی بات ہے تمہارے یہ خیالات تمہارے بابا کو بتاتی ہوں۔۔
وہ اسے شرارت سے مسکراتے دیکھ کر آنکھیں سكیڑ گئی۔۔
بھئی کون سے خیالات ہیں ہمارے شیر کے جو ہمیں نہیں پتہ۔۔؟؟ وہ اسکی بات اچکتا کمرے میں داخل ہوا۔۔
بابا کچھ بھی نہیں۔۔ منہ پر دونوں ہاتھ رکھتا وہ دوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
اسکے جاتے ہی وه ایک بار پھر سنجیدہ ہو گئی۔۔ سوچ سوچ کر اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔ آخر کون تھی وہ اور کیا چاہتی تھی۔۔؟؟
دوپہر کا منظر آنکھوں کے سامنے آتے اسکی آنکھیں پھر سے گیلی ہو گئیں۔۔ وہ پلکیں جهپک کر آنکھوں کی نمی چھپاتی خوامخواہ دراز میں رکھی چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی۔۔۔
کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ آپ اپنے آنسو مجھ سے چھپا سکتی ہیں۔۔ اس کے قریب رکتے وه اسکا رخ اپنی جانب موڑ گیا۔۔
وہ آہستہ سے پیچھے ہٹتی بیڈ کے کنارے ٹک گئی۔۔ وہ اسکے سامنے پنجوں کے بل زمین پر بیٹھا۔۔
“مجھے آپ پر پورا یقین ہے آپ خود کو تکلیف نہ دیں۔۔” اسکے ہاتھ تھامنے پر وہ بھیگی پلکیں اٹھاتی اسے دیکھنے لگی۔۔
وہ کون ہے۔۔؟؟ ایسا کیوں کیا اس نے؟؟ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“ماضی میں ہماری کمپنی نے انکی کمپنی کے ساتھ کچھ ڈیلنگز کی تھیں۔۔ کمپنی کے اونر کی صحت کچھ خراب رہنے لگی تو انہوں نے اپنی بیٹی کو اپنی جگہ میٹنگز کے لیے بھیجنا شروع کر دیا تھا۔۔ اس طرح اس سے کبھی کبھی سامنا ہو جاتا تھا۔۔ اچانک اس۔۔۔”
اس نے اپنے آپ کو کوئی سخت لفظ کہنے سے روکا۔۔
“وہ مجھے حاصل کرنا چاہتی ہے اس لیے اس نے یہ سب کروایا تا کہ مجھے آپ سے بدظن کر سکے لیکن وه مجھے جانتی نہیں تھی۔۔ ویر ایک بار جس کو دل میں جگہ دے دے اسکے علاوہ کسی کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔۔ آج اس کو اچھی طرح اس کی اوقات بتا آیا ہوں۔۔ دوبارہ کبھی میرے راستے میں آنے کی جرات نہیں کرے گی۔۔”
آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی آپ کی نازک سی جان ہے۔۔ آخر میں وہ شرارت سے بولتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
انا جھینپ گئی۔۔
ویر نے چینج کرنے کی غرض سے شرٹ اتاری اور الماری سے ڈهیلی شرٹ ٹراؤزر نکال کر مڑا تو انا چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
یہ کیا ہے۔۔؟؟ اس کے قریب ٹھہرتی وہ اسکی گردن کو چھو کر بولی جہاں سرخ لپسٹک کا نشان چمک رہا تھا۔۔
“یہ کسی حسینہ کے نازک ہونٹوں کا لمس ہے!!” اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے وہ شرارت سے لب دبا گیا۔۔
انا کی تیوری چڑھی۔۔ کس نے کِس (kiss) کیا ہے آپ کو۔۔؟؟ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس چڑیل کا سر پھاڑ دیتی۔۔
بہت خوبصورت تھی وہ اور اس کے ہونٹ۔۔۔۔۔ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ گئی۔۔
ویر نے دلچسپی سے اسکے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا۔۔
آپ جیلس ہو رہی ہیں۔۔؟؟ محظوظ ہو کر کہتے وہ لب کا کونا دانتوں میں دبا گیا۔۔۔
ہاں ہو رہی ہوں جیلس،، میرے علاوہ کوئی بھی آپ کو کِس نہیں کر سکتا۔۔ آپ کے قریب آنے کا آپ کو چھونے کا حق صرف مجھے ہے۔۔ آئی سمجھ ۔۔؟؟ غصے سے نتھنے پھلا کر وہ اسے پیچھے دھکیل کر خفگی سے رخ بدل گئی۔۔
اسے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ ویر نے کسی لڑکی کو اپنے اتنے قریب آنے دیا۔۔
ارے سنو نا میری تیکھی مرچی!! وه اسکو جھٹکے سے اپنے سینے سے لگاتا اسکی گردن میں گہرے سانس لینے لگا۔۔
انا آنکھیں بند کرتی اسکے برہنہ سینے پر دونوں ہاتھ رکھ گئی۔۔
“میرال نے کیا تھا میری اجازت کے بغیر،، آپ کے علاوہ یہ حق میں نے کسی کو نہیں دیا۔۔ میں سر تا پا آپ کا ہوں۔۔ میری قربت کی حقدار صرف آپ ہیں۔۔”
بولتے ہوئے اسکے ہونٹ اس کی گردن کو چھو رہے تھے۔۔
ذرا سا پیچھے ہٹ کر وہ اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو فرصت سے دیکھنے لگا۔۔
اپنے چہرے کو مسلسل اسکی نظروں کے حصار میں پا کر وہ کانپتی پلکوں کو اوپر اٹھاتی اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی۔۔
“ایسے نا دیکھیں مجھے ،، مجھے شرم آتی ہے۔۔” شرمیلی مسكان چہرے پر سجاتی وہ اسکے سینے میں منہ چھپانے لگی۔۔
آپ کو نہیں تو کسی اور کو دیکھ لوں ایسے۔۔؟؟ اس کی بات پر وہ خفگی سے سیدھی ہوئی۔۔
مجھے دیکھیں ایسے خبردار جو کسی اور کو ایسی نظروں سے دیکھا۔۔ منہ پھلا کر وہ اسکے بازو پر مکا مار گئی۔۔
“آہ!! یہاں لگا ہے سیدھا دل پر” وہ اسکی طرف جھکتے شرارت سے گویا ہوا۔۔
ہٹیں بھی!! اپنی مسکراہٹ چھپاتی وہ اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ قائم کر گئی۔۔
ہا!! تم کب سے یہاں کھڑے ہو۔۔؟؟ اپنے پیچھے راحم کو کھڑے پا کر وہ خفت سے گویا ہوئی۔۔
میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا سچی!! راحم نے فوراً آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔ ویر ڈھٹائی سے مسکرا دیا۔۔
دونوں باپ بیٹا ہی ایک جیسے ہیں،، بڑبڑاتی ہوئی وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
نیم اندھیرے میں وہ زمین پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔۔ کمرے کا زیرو واڈ کا بلب تاریکی کا سینہ چیرنے کے لئے ناکافی تھا۔۔
ملگجے لباس میں وہ ساکت بیٹھی ارد گرد سے بےنیاز تھی۔۔ جانے کتنے دنوں سے بالوں کو سلجھانے کا تكلف نہیں کیا گیا تھا۔۔
اچانک اس وجود میں ذرا سی جنبش ہوئی۔۔ اس کے دھیرے سے سر اٹھانے پر گال پر ٹھہرے آنسو اندھیرے میں موتیوں کی مانند چمکے۔۔
اس نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر گال سے نیچے لڑھکتے آنسو پونچھے۔۔ ہاتھ اوپر اٹھانے سے کلائی میں بندھی سفید پٹی نمایاں ہوئی۔۔
ایسا لگتا تھا وه وجود کسی حادثے کی زد میں آیا تھا۔۔ اس حادثے کے گہرے اثرات اسکی ذات کو مسخ کر چکے تھے۔۔
چند دن پہلے:
جب چند منٹ تک انتظار کرنے کے بعد بھی اسکے آفس کا دروازه نہ کھلا تو سیکرٹری ڈرتا ڈرتا ڈور ناک کرتا اندر داخل ہوا۔۔ میرال کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی اسکے آفس میں قدم دھرنے کی اجازت نہ تھی اس لئے سیکرٹری کا ڈر تو بجا تھا۔۔
جونہی وہ اندر گیا سامنے کا منظر اسکے اوسان خطا کر گیا۔ وہ زمین پر ایک طرف کو لڑھکی ہوئی تھی۔۔ کلائی سے خون قطرہ قطرہ نیچے گر رہا تھا۔۔ کمرے میں اسکے فون کی بیل کی آواز تواتر سے آ رہی تھی۔۔
اس نے گھبراہٹ پر قابو پا کر ہوش سے کام لیتے پہلے ایمبولنس کو کال کر کے بلایا اور پھر اپنے باس افتخار علی کو فون پر اسکی خودکشی کی کوشش کی اطلاع دی۔۔
آفس میں قہرام مچ گئی۔۔ لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔۔ ہر کوئی اسکی خودکشی کی وجہ جاننا چاہتا تھا۔ اسکے زندہ رہنے یا نہ رہنے سے کسی کو کوئی سروکار نہ تھا۔۔
یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔۔ ہر نیوز چینل پر اسکی خودکشی کی کوشش کی خبر آ چکی تھی۔۔ میڈیا کے ہجوم میں بمشکل جگہ بناتے وہ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہسپتال کی عمارت میں داخل ہوئے۔۔
ڈاکٹرز کے مطابق بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اسکا بچنا بہت مشکل تھا۔۔ پورا دن وہ جیسے سولی پر لٹکے رہے اور بالاخر اگلے دن ڈاکٹرز نے انہیں اسکی زندگی کی نوید سنائی۔۔
وه اس سے ملنے کے لئے گئے تو وہ بے ہوشی کی حالت میں تھی۔۔ اسکے چہرے کی ویرانی دیکھ کر ان کا دل بھر آیا۔۔
ایسی تو نہیں تھی میرال۔۔ سوکھے ہونٹوں پر جمی پپریاں، زرد رنگت پر آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے۔۔ وہ دو دنوں میں ہی صدیوں کی بیمار لگنے لگی۔۔
چند دن بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور تب سے وہ خاموش تھی۔۔ اسکی خاموشی تب ٹوٹی تھی جب اسکے دوست ہمدردی کی آڑ میں اسکے جذبات کا مذاق اڑانے چلے آئے تھے۔۔
“دفع ہو جاؤ سب،، میرا کسی سے کوئی واسطہ نہیں ہے چلے جاؤ سب” وہ چیختی چیختی ہانپنے لگی تھی۔۔
افتخار علی اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر گھٹ رہے تھے۔۔ انہوں نے سب سے معذرت کر کے وہاں سے جانے کے لیے کہہ دیا تھا۔۔ تب سے اس نے اپنے آپ کو کمرے میں قید کر لیا تھا۔۔
حال:
چرر کی ہلکی سی آواز سے دروازہ کھلا اور افتخار علی ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اندر داخل ہوئے۔۔
میرال بیٹا کب تک یوں اندھیرے میں بیٹھی رہو گی۔۔ میری جان اپنا نہیں تو اپنے بوڑھے باپ کا ہی کچھ خیال کرلو۔۔
جواباً وہ خاموشی سے زمین کو تکنے لگی۔۔
اچھا چلو کھانا کھاؤ میں اپنی بیٹی کو خود کھانا کھلاؤں گا۔۔ انہوں نے نوالا اسکے سامنے کیا۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اسکی کمزور سی آواز ابھری۔۔
بیٹا میرا کیا قصور ہے اس سب میں۔۔ نہ تم ٹھیک سے کھانا کھاتی ہو نہ مجھ سے بات کرتی ہو۔۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔
میرال بے چارگی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔ اس نے ان کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے نوالہ پکڑا اور دھیمے دهیمے کھانے لگی۔۔
“آئی ایم سوری ڈیڈ” بہت تنگ کرتی ہوں نہ آپ کو۔۔؟؟ وہ آنکھیں جهپکتی ان سے پوچھنے لگی۔۔
نہیں میرا بچا تم میری بہت اچھی بیٹی ہو۔۔ انہوں نے اسکا سر چوم کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿
ٹن ٹنا!! میر ٹائلوں والے فرش پر پاؤں گهسیٹ کر ایک سٹائل سے کچن میں داخل ہوا لیکن ذرا آگے فرش پر گرے پانی سے اسکا پاؤں پهسلا اور یہ گئی اس کی ساری ہیروپنتی ” واٹر ” میں۔۔
ہا!! راحم منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگا۔۔ “چاچو کم لگی ہے نہ۔۔؟؟ ایک دفعہ پھر گرو زور سے۔۔”
کھی کھی کھکھ۔۔۔۔ انا کی گھوری پر اسکی کھی کھی کو بریک لگا۔۔
بری بات جاؤ ادھر جا کر بیٹھو کپڑے خراب نا کر لینا۔۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے ماتھے پر آتے بال پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔۔
“میر اٹھو جلدی اور راحم کو لے کر باہر جاؤ۔۔ مجھے سخت غصہ آ رہا ہے تم دونوں پر یہ نہ ہو کہ کھانے کی جگہ تم دونوں کو ہی بھون دوں۔۔”
اسکی غصیلی آواز پر وہ دونوں “بندے کے پتر” بنتے شرافت سے کچن کے کونے میں پڑی چھوٹی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔۔ فلحال ان کا باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔
انا کے برابر کھڑے سلاد کاٹتے ویر نے ہاتھ روک کر چور نظروں سے دونوں بلاؤں کو دیکھا۔ انہیں آپس میں مصروف پا کر وہ دائیں طرف جھکتا انا کے گال پر بوسہ دے گیا۔۔
اللّه اللّه!! وہ خفت سے اسے دیکھنے لگی۔۔ شکر تھا کہ ان دونوں نے نہیں دیکھا تھا۔۔
شرم کر لیں کچھ کہیں بھی شروع ہو جاتے ہیں۔۔ اس نے دانت کچکچا کر ہلکی آواز میں اسے گھرکا۔۔
ہائے! یہ بندہ کیا کرے آپ کے معاملے میں، میں بہت بے شرم ثابت ہوا ہوں۔۔ وہ آنکھ دبا کر شرارت سے گویا ہوا۔۔
آپ نا بس کیا کہوں میں اب ۔۔۔ آہ !! بے دیهانی میں پیاز کاٹتے چھری سے اس کی انگلی کٹ گئی۔۔
حد ہوتی ہے لا پرواہی کی،، وہ اس کا ہاتھ تھامتا اسکی انگلی پر اپنے ہونٹ رکھ گیا۔۔
چھی،، کیا کر رہے ہیں چھوڑیں۔۔ خون لگ گیا ہے آپ کے منہ پر۔۔ وہ ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔
یہ ذرا سا خون کیا ہے میں آپ کو پورا کا پورا پی سکتا ہوں۔۔
اہم اہم !! میر کو مصنوعی کھانسی کا دوڑا پرا۔۔ مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس نے انہیں دیکھا تو ویر کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔۔
انا کا شرم کے مارے برا حال ہو گیا۔۔ نکلو دونوں باہر ابھی تک گئے نہیں تم دونوں۔۔ وہ خفت چھپاتی غصے سے گویا ہوئی۔۔۔
جا رہے ہیں جا رہے ہیں۔۔ آؤ چیمپ ہم باہر چلتے ہیں،، وہ راحم کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔
“آپ لوگ کنٹینیو کریں۔۔”
ویر نے ہاتھ میں پکڑا کھیرا پوری قوت سے میر کی کمر کم کمرے پر دے مارا۔۔
“آہ! ظالم لوگ پہلے ملک بدر کیا اب پتھر برسا رہے ہیں ہم معصوموں پر۔۔”
وہ دہائی دیتا ہوا جلدی سے باہر چلا گیا مبادا اگلی دفعہ چپل ہی نہ آ جائے۔۔
عدیل شاہ کی دیکھا دیکھی ویر نے بھی “لائٹ ویٹ چپل” لے لی تھی۔۔ اس کے خیال میں یہ آئیڈیا برا نہیں تھا۔۔
چلیں آپ بھی باہر کچن کا ستیاناس کر دیا ہے آئندہ میں کسی کو اندر نہیں آنے د۔۔۔۔۔
ویر نے غصے سے بڑبڑاتی انا کو کاندھے سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا اور اسکے ہونٹوں کو پوری شدت سے اپنے ہونٹوں میں دبا گیا۔۔
انا نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے سلیب پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔۔
اتنا غصہ نہ کیا کریں ،، آپ کے غصے پر مجھے بہت پیار آتا ہے۔۔ اس کی تیکھی ناک کو ہاتھ سے ہلکا سا دباتا وہ اس کی نوز پن پر اپنے لب رکھ گیا۔۔
بہت بہت وہ ہیں آپ۔۔۔ وہ حیا آمیز سرخ چہرے سے اسے پیچھے دھکیل کر بولی۔۔
ویر کی نظریں اسکے سرخ کانپتے ہونٹوں پر ٹھہر گئیں۔۔
ہرگز نہیں چلیں باہر!! اس کی نظروں کا ارتكاز محسوس کر کے وہ اسے چمچہ دکھا کر بولی۔۔
ویر ہنستا ہوا اس کی طرف جھکا۔۔ کب تک بھاگیں گی آپ مجھ سے۔۔ اب آپ کی خیر نہیں ہے تیار كرلیں خود کو۔۔۔ مسکاتی نظروں سے اسے دیکھتے وہ کچن سے باہر چلا گیا۔۔
اس کے جاتے ہی اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا جو اسکی قربت کے خیال سے ہی تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔۔ اپنے آگ اگلتے چہرے کو تھپتهپاتے ہوئے وه کھانے پر اپنی توجہ مركوز کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
