Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 19
عین میرے کپڑے دو۔۔۔ عین میرا جوتا نہیں مل رہا۔۔ یار میری واچ کہاں گئی۔۔؟ کمرے سے مسلسل جہان کی پکار پر تنگ آ کر اس نے برتن ٹھا کی آواز سے سنک میں رکھے اور کڑے تیوروں سے وہ اندر گئی۔۔
فنکشن میں وقت ہی کتنا رہ گیا تھا اور ابھی تک وہ برتن دھو رہی تھی۔۔اسے رونا آنے لگا۔۔
غصے سے اس نے الماری میں ہینگ کیا سیاہ کرتا پاجامہ نکالا،، نچلے خانے سے سیاہ پشاوری جوتا نکالا اور پٹخنے کے انداز میں صوفے پر رکھے۔۔
تیکھی نظروں سے اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی واچ کو ایک نظر دیکھا اور ایک نظر جہان کو۔۔
اس کے تیور دیکھ کر جہان چپ چاپ کپڑے پکڑ کر واش روم کی طرف کھسک گیا۔۔
اس نے کچن میں جا کر جلدی جلدی برتن دھوئے۔۔ شاور وہ پہلے ہی لے چکی تھی۔۔ آئمہ کے کمرے میں جا کر اس نے سیاہ پاؤں کو چھوتا انتہائی خوبصورت فراق زیب تن کیا جس کی باڈی پر خوبصورت سکے لٹک رہے تھے۔۔
اس نے جلدی سے چُوڑی دار بازوؤں کو ٹھیک کیا اور بال کھول کر ڈرائیر کی مدد سے خشک کرنے لگی۔۔ کرلی بالوں کو اس نے سٹریٹ کر لیا جس سے بال گھٹنوں سے بھی نیچے تک آنے لگے۔۔ برابر کٹے ہوئے سیاہ خوبصورت بال ناگن کی بل کھاتی کمر سے سیاہ چمکدار آبشار میں بدل گئے۔۔
اس نے آئینے میں دیکھ کر آنکھوں میں كاجل لگایا جس سے اسکی نیلی آنکھیں اور بھی نماياں ہو گئیں۔۔ ہلکے گلابی گالوں کو اس نے بلش آن کی مدد سے مزید سرخ کر دیا۔۔ ہونٹوں کو سرخ لپسٹک سے ہلکا سا رنگتے اس نے ہونٹ ہلکے سے مس کیے۔۔ مطمئن ہو کر وہ سیدھی ہوئی۔۔
عین جلدی کرو نہیں تو تمہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا میں۔۔ جہان کی جھنجهلائی ہوئی آواز پر عین کو پتنگے لگ گئے۔۔
پاؤں میں بلیک نازک سی ہیل پہن کر وہ دوپٹہ کاندھے پر ڈالے کچھ سخت کہنے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی کہ جہان کو دیکھ کر سارے الفاظ منہ میں رہ گئے۔۔
کسرتی جسم پر زیب تن سیاہ کرتے پاجامے کے ساتھ کاندھوں پر بل دے کر ڈالی سکن مردانہ شال۔۔ اس نے گھنے بالوں کو جیل کی مدد سے پیچھے کی طرف سیٹ کر رکھا تھا۔۔ بڑھی ہوئی داڑھی پہلے کی نسبت تراشیدہ نظر آرہی تھی۔۔ تیکھے مغرور نقوش سے اسے دیکھتا وہ اس کا دل دھڑکا گیا۔۔
کچھ یہی حال جہان کا ہوا۔۔ ہمیشہ سادہ رہنے والی سنگھار کیے اس کے سامنے آئی تو اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کر گئی۔۔ موقع کی نزاقت کو دیکھ کر اس نے دل کو ڈپٹ دیا۔۔
ہو گئی تیار۔۔؟ اس کی بھاری آواز پر عین چونکی۔۔
جی ہو گئی ہوں۔۔ اس نے بلا اراده کان پر ہاتھ رکھا،، ارے جھمکے تو میں نے پہنے ہی نہیں۔۔
ایک منٹ۔۔!! جہان کہہ کر چند قدم آگے بڑھا اور ہتھیلی اس کے سامنے کی جس میں سلور خوبصورت جھمکے دھرے ہوئے تھے۔۔
میرے لیے لائے ہیں آپ۔۔؟ اس کے بے تکے سوال پر جہان نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔ نہیں ساتھ والی پڑوسن کے لئے۔۔
لا کر تو دکھائیں میرے علاوہ کسی اور کے لئے،، آپ سمیت دونوں کو کِک مار کر میں نے “مریخ” پر پہنچا دینا ہے ۔۔۔
اول فول بول کر اس نے جھمکے پہنے اور جہان کو دیکھے بغیر دوپٹہ سر پر ڈالے باہر نکل گئی۔۔
آؤچ!! دروازے کے قریب اسکا پیر مڑا تو وہ لڑکھڑائی۔۔۔ جہان نے مسکراہٹ دبائی۔۔
ہونہہ!! ہنکارا بھر کر وہ دہلیز عبور کر گئی۔۔
یا اللّه کیا پیس مجھے دان کیا ہے آپ نے۔۔ آسمان کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں بولتا اس کے پیچھے چل دیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
انا کیا کر رہی ہو پیچھے کرو ہاتھ۔۔! ابیحہ نے اس کے ہاتھ پر تھپڑ مارا تو اس نے رونی صورت بنا کر عائزہ کو دیکھا۔۔
یار نہ کرو آج اس کا اسپیشل ڈے ہے اور تم اسے مار رہی ہو۔۔ عائزہ نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
تو اسکی حرکتیں بھی تو دیکھو۔ اتنی محنت سے بیوٹیشن نے تیار کیا ہے اور یہ میک اپ کا بیڑا غرق کر رہی ہے۔۔
اتنی الجھن ہو رہی ہے مجھے،، کبھی اتنا میک اپ نہیں کیا اور اس پاگل بیوٹیشن نے میرے منہ پر پینٹ کر دیا ہے۔۔ اللّه اتنے ہیوی ڈریس میں، میں سٹیج پر کیسے بیٹھوں گی اتنی دیر۔۔۔ اس نے دہائی دیتے ہوئے کہا۔۔
کہو تو تمہاری جگہ میں بیٹھ جاؤں؟ ابیحہ کی گوہر افشانی پر دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
دیکھو کیسی بے شرم دولہن ہے اپنے بياه پر کھی کھی کر رہی ہے ارے ہم تو اپنے زمانے میں اتنے شرمیلے ہوتے تھے کہ ایسے موقع پر کمبل میں چھپ کر بیٹھ جاتے تھے۔۔
ابیحہ نے بوڑھی بیبیوں کے انداز میں کہا تو انا اور عائزہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگیں۔۔
کیا ہورہا ہے لڑکیوں؟ ماشاءالله کسی کی نظر نہ لگے ۔۔ جهلملاتے سوٹ میں حنا ہال کے برائیڈل روم میں داخل ہوئیں تو انا کو دیکھ کر بے ساختہ ماشاءالله کہتیں اسکا سر چوم گئیں۔۔
آف وائٹ گھٹنوں سے اوپر آتی شرٹ جس پر لائٹ گولڈن کام ہوا تھا کے ساتھ آف وائٹ ہی پھولا ہوا شرارا پہنے بالوں کا درمیان کی مانگ نکال کر جوڑا کیے جس سے ایک لٹ نکال کر دائیں گال پر چھوڑ دی گئی تھی۔۔ گہری میرون لپسٹک سے سجے تراشیدہ ہونٹوں سے ناک میں پہنی نتھ مس ہو رہی تھی۔
مہندی لگے خوبصورت ہاتھوں سے اس نے دوپٹہ ٹھیک کیا تو اس کے ہاتھ میں پہنے سرخ گلابوں کے گجرے نماياں ہوئے۔۔۔ ان کی خوشبو اسے مسحور کر رہی تھی۔۔
ماشاءالله،، ماشاءالله!!
عین جہان کے ساتھ نمو دار ہوئی اور انا سے لپٹ گئی۔۔ اللّه، کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔
اس کے تبصرے پر انا مسکرا دی۔۔
السلام علیکم ! جہان کے سلام کرنے پر سب نے اسے دیکھا۔۔۔
وعلیکم ! یہ کون ہیں؟ ابیحہ کے پوچھنے پر عائزہ نے اسے چٹکی کاٹی۔۔
میرے ہزبینڈ ہیں۔۔!! عین کے مسکرا کر کہنے پر ابیحہ کا صدمے سے منہ کھل گیا۔۔ بس میں ہی کسی کو نظر نہیں آتی۔۔ یہ ٹڈی سی لڑکیوں کو بھی کیا حسین بندے مل جاتے ہیں۔۔ میری باری کب آئے گی۔۔؟ اسے حقیقتاً صدمہ پہنچا تھا۔۔
ارے اداس کیوں ہو رہی ہیں اللّه کرے اگلا نمبر آپ کا ہو۔۔ عین نے شرارت سے کہا۔۔
ماں صدقے !! ابیحہ خوشی سے اٹھی اور عین کا ماتھا چوم کر بیبیوں کے انداز میں بولی۔۔۔ جہان سمیت سب کا قہقہہ گونجا۔۔
ہان بھائی اندر آ جائیں۔۔ انا کے بلانے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔ آپ لوگ بیٹھیں میں باہر ہوں۔۔ عین کو دیکھ کر کہتا وہ پلٹ گیا۔۔
اس کی نظر سب نے محسوس کی۔۔
اوہ ہو ۔۔۔!! ملی جلی آوازیں ابھری تو عین نے شرم سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔
انا بے حد نروس ہو رہی تھی۔۔۔یہ سب اتنا آناً فاناً ہوا تھا کہ اسے کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے سٹیج کی طرف لے جایا گیا۔۔ وہ گھونگھٹ نکالے نہایت آہستگی سے چل رہی تھی۔۔جب وہ سٹیج کے قریب پہنچی تو کیمرہ مین حرکت میں آ گئے۔۔
آف وائٹ کرتے پاجامے میں پیروں میں کھسہ پہنے شاہ ویر انا کی اوڑھ بڑھا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔ اس وقت وہ دونوں سب کی نگاہوں کا مرکز تھے۔۔ وقار اور عدیل شاہ ایک ساتھ کھڑے دونوں کی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو ہوئے۔۔
انا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے سامنے پھیلی مضبوط چوڑی ہتھیلی کو دیکھا۔۔ نوجوانوں کی ہوٹنگ پر ویر کے مغرور چہرے پر مسکراہٹ نے چھب دکھائی۔۔
بے حد نروس ہوتے اس نے اپنا کانپتا ٹھنڈا ہاتھ شاہ ویر کے ہاتھ میں رکھ دیا۔۔ اس نے انا کو سہارا دے کر سٹیج پر اپنے مقابل کھڑا کیا۔۔ البتہ ہاتھ اس نے ابھی تک نہ چھوڑا۔۔
کھچا کھچ کی کئی آوازیں ابھریں اور ان یادگار لمحات کو اپنے اندر محفوظ کرتی گئیں۔۔
آپ اتنی ٹھنڈی کیوں ہو رہی ہیں۔۔؟؟ اس کے قریب براجمان ہو کر اس نے سرگوشی کی تو انا کے دل کی دھڑکن یکلخت تیز ہو گئی۔۔۔
پتہ نہیں !! اس نے دهیمی آواز میں کہا۔۔۔
میں بتاؤں کیوں ہو رہی ہیں۔۔؟؟ شاہ ویر مسکرا کر بولا تو انا کا دل رونے کو چاہا۔۔
سٹیج پر راحم کا فوٹو شوٹ کرتا میر کھنکارا۔۔ اہم اہم اتنی بھی کیا جلدی برو، حوصلہ ، صبر، تحمل۔۔
ویر نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو “وہاٹ ایور”۔۔
کیوں تنگ کر رہے ہیں آپ مجھے۔۔؟؟
اسے رونے کے لیے تیار دیکھ کر شاہ ویر نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا مبادا وہ آنکھوں کے سمندر کو یہیں بہا دے۔۔
نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا۔۔ انا کی فرمائش پر محض نکاح کا فنکشن رکھا گیا تھا۔ بقول اس کے باقی سب فضولیات ہیں۔۔
سٹیج سے نیچے اترتی عین کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے جہان پر پڑی جو اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔
عین نے گھبرا کر نظروں کا رخ بدل لیا۔۔ آج اسے اپنی خیر نہیں لگ رہی تھی۔۔ جہان کی نظریں اسے جو پیغام دے رہی تھیں وہ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔۔
اسے وارن کرتی نظروں سے دیکھ کر وہ سٹیج کی طرف بڑھا تو عین وہاں سے کھسک گئی۔۔
جہان آگے بڑھ کر ویر سے ملا۔۔ ویر کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق ابھری۔۔ تم وہی ہو نہ ۔۔؟
اس نے حیران مسکراہٹ سے اسے دیکھا تو جہان دھیما سا مسکرا دیا۔۔
ہاں وہی ہوں،، جہان !! انا کا کزن ہوں۔۔ ویر مزید حیران ہوتا اس سے گرم جوشی سے بغل گیر ہوا۔۔ اس نے عدیل شاہ کو بھی جہان سے ملوایا۔۔ وہ بہت خوش ہوئے۔۔
کھانے کے بعد رخصتی کا شور اٹھا تو گھبراہٹ کے مارے انا کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔۔ شاہ ویر کی ہمراہی میں وہ گاڑی تک آئی۔۔ شاہ ویر نے چادر میں ڈھکی اپنی ملکیت کو پورے استحقاق سے دیکھا۔۔
گاڑی کے قریب کھڑی حنا آگے بڑھ کر اس سے ملیں تو اس کے ضبط کا بندهن ٹوٹ گیا۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ باری باری سب سے ملتے وہ آخر میں ابیحہ سے ملی۔۔
بس کر دے یار اتنا رو گی تو تمہارا پھیلا ہوا میک اپ دیکھ کر بھائی کی چیخیں نکل جانی ہیں۔۔
انا نے روتے روتے اس کی کمر میں دھموکا جڑا۔۔
آؤچ جنگلی عورت!!
پھر وہ شاہ ویر کی طرف مڑی۔۔ بھائی اپنا خیال رکھئے گا۔۔ سنجیدگی سے کہہ کر وہ سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔
ویر نے مسکراہٹ دبا کر انا کو دیکھا اور گاڑی کا دروازه کھول دیا۔۔ دونوں گاڑی میں بیٹھے تو ڈرائیور نے گاڑی چلا دی۔۔ ان کے جانے کے بعد باقی سب بھی اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
گھر پہنچ کر عین جلدی سے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔ اسکا اراده جلدی سے کپڑے بدل کر
سونے کا تھا۔۔
اس نے دوپٹہ بیڈ پر پھینک کر پیروں کو جوتوں کی قید سے آزاد کیا۔۔ اس نے باتھ روم کے دروازے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ جہان نے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
ڈریسنگ ٹیبل کے آگے آ کر اس نے عین کو اپنے سامنے کھڑا کیا ایسے کہ دونوں کا رخ آئینے کی طرف تھا۔۔
اس نے کرتے کے اوپرے دو بٹن کھول کر کلائی سے گھڑی اتاری اور قدرے جھک کر ڈریسنگ پر رکھی۔۔ اسکے جھکنے سے نظریں جھکا کر کھڑی عین پر دباؤ پڑا۔۔ اسکا دل حلق میں آ گیا۔۔
کیا کہا تھا میں نے ہمم ۔۔؟ اس کے بالوں کو ایک کاندھے پر ڈال کر اس نے اس کی کمر کو بازو کے حلقے میں لیا۔۔
عین کا دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا کہ جہان کو بھی اس کی آواز سنائی دی۔۔
کک کچھ بھی نہی ۔۔۔ کہا تھا ۔۔
تھوک نگل کر وہ گویا ہوئی۔۔
میرے بلانے پر آئی کیوں نہیں۔۔؟
وہ بوجھل آواز میں استفسار کرنے لگا۔۔
وہ وہ آنٹی ، ہاں آنٹی بلا رہی تھیں۔۔
جہان دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ کر اس کی گردن پر جھکا اور ہلکا سا کاٹ گیا۔۔
سس۔۔ اس کے لمس پر بے حال ہوتی عین نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ دیا۔۔
سس سوری۔۔ آ آئندہ۔۔ نہیں ۔۔ کروں گی۔۔ جہان نے اس پر ترس کھاتے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا۔۔
عین چھپاک سے وہاں سے بھاگی اور باتھروم میں گھس کر دروازه بند کر لیا۔۔ اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا جو تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔ گزرے لمحات یاد کرتے اس کے چہرے پر شرمیلی مسكان بکھر گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ویر کے آنے تک وہ بیڈ پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔ سائیڈ ٹیبل پر کھانا رکھا تھا جسے شدید بھوک کے باوجود اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔۔ اس کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی۔۔
کھڑاک کی آواز پر وہ مزید خود میں سمٹ گئی۔۔ ویر خوشبو میں نہایا ہوا اندر داخل ہوا اور آہستہ سے دروازہ بند کر گیا۔۔ پاؤں کو کھسے سے آزاد کر کے وہ انا کے سامنے براجمان ہو گیا۔۔
چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا اور پھر اس نے انا کا گھونگھٹ الٹ دیا۔۔ کئی لمحے وہ بے حس بیٹھا اسے دیکھے گیا۔۔
کوئی بیک وقت اتنا حسین اور معصوم کیسے ہو سکتا ہے۔۔
اس کے لبوں سے ادا ہوئے الفاظ پر انا کی دھڑکنوں نے “دل کے دربار” میں رقص شروع کر دیا۔ اس نے کپكپاتے لبوں کو بھینچ لیا۔۔
شاہ ویر نے اسکے حنائی ہاتھ کو تھاما اور ڈائمنڈ کا بریسلیٹ اس کی کلائی میں ڈال دیا۔۔ انا نے ہاتھ کو ذرا سا اونچا کیا تو بریسلیٹ کے ساتھ لٹکتے موتی اور ستارے چمکنے لگے۔۔
بہت خوبصورت ہے۔۔ ہلکے سے لب وا کرتے اس نے اسکی پسند کو سراہا۔۔
آپ سے زیادہ نہیں!! ویر کی بوجھل آواز پر انا کو وقت کی نزاکت کا احساس ہوا۔۔ جانے کیا ہوا کہ اسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔
ارے یہ کیا۔۔؟ کیا ہوا ؟ کیوں رو رہی ہیں آپ۔۔؟ شاہ ویر بوکھلا گیا۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔
آپ کمفرٹیبل نہیں ہیں۔۔؟ شاہ ویر نے پوچھا تو انا نفی میں سر ہلا گئی۔۔
اٹس اوکے! کوئی بات نہیں۔۔ میں ایسا مرد نہیں ہوں جو زبردستی اپنے حقوق وصول کرے۔۔ جب آپ چاہیں گی ہم اپنے رشتے کو آگے بڑھا لیں گے۔۔
انا نے کچھ کہنا چاہا لیکن زبان نے ہلنے سے انکار کر دیا۔۔
چینج کر لیں ۔۔ نرمی سے کہہ کر وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔
انا کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔۔ کیا اس نے ویر کے ساتھ غلط کیا تھا ۔۔؟؟ شرارے کو مشکل سے سمیٹ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کونے میں رکھے بیگ سے اپنے لئے آرام ده كپڑے نکال کر وہ باتھ روم میں گھس گئی۔۔
چہرہ صاف کر کے جب وہ باہر نکلی تو شاہ ویر بغیر شرٹ کے بیڈ کے بیچوں بیچ لیٹا ہوا تھا۔۔ اس وقت انا کو اس سے بے حد حیا محسوس ہوئی۔۔
بالوں کو جوڑے کی قید سے آزاد کر کے اس نے ڈهیلی چوٹی میں مقید کر لیا۔۔ اب وہ بیڈ کی اوڑھ دیکھ کر انگلیاں چٹخانے لگی۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر وہ بیڈ کے قریب آ کر رک گئی۔۔
آ جائیں جھجھک کیوں رہی ہیں۔۔؟؟ شاہ ویر نے سیدھے ہو کر کہا تو انا کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ گیا۔۔
ویر نے اسکے چہرے کے بدلتے رنگ کو دلچسپی سے دیکھا۔۔ اسے اپنی جگہ جما دیکھ کر شاہ ویر نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔ وہ کٹی ڈال کی مانند ویر کے سینے پر آ گری۔۔
ویر نے کروٹ بدلی اور اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اس کی گردن میں گہرا سانس بھر گیا۔۔
انا نے زور سے آنکھیں میچ لیں۔۔
شرمیلی بھی ہیں آپ۔۔ اور کیا کیا ہیں آپ ؟ ہر بار نیا روپ دیکھنے کو ملتا ہے۔۔ اسکی بھاری آواز پر انا گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔
آ ۔آ ۔پ ۔۔نے ۔کہا تھا ۔کہ ابھی ۔ نہیں۔۔۔ انا نے اٹک کر کہا۔۔
مسز اب اتنا بھی اچھا نہیں ہوں میں۔۔ تھوڑی بہت گستاخی تو کر ہی سکتا ہوں۔۔ اس نے زور سے انا کا گال چوما تو وہ اس سے شرما کر اسی کی گردن میں منہ چھپا گئی۔۔
ویر کا قہقہہ گونجا۔۔ اسے مزید بھینچ کر اس نے سونے کے لئے آنکھیں موند لیں لیکن اب نیند بھی کس کافر کو آنے والی تھی۔۔
