Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 5

مہندی کا فنکشن رات دیر تک چلتا رہا۔ ڈانس گانے شور ہلا گُلا غرض ہر وہ چیز جو ایسے فنکشنز کا خاصہ ہوتی ہے سرانجام ہو چکی تھی۔ بے حیائی اپنے عروج پر تھی۔ شیطان کو ایسی محافل میں “مہمانِ خصوصی” کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
دو بجے کے قریب سب تھک ہار کر سونے چلے گئے۔ انا بھی اپنا لہنگا سنبھالے عین کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
اس کے نہ نہ کرنے کے باوجود اسکی کزنز اسے ڈانس کے لئے اپنے ساتھ گھسیٹ چکی تھیں لہٰذا اب اسکا انگ انگ درد کر رہا تھا۔
کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اسے نماز کا خیال آیا۔ بھئی شادی بياه ایک طرف،، نماز بھی تو ادا کرنی ہوتی ہے نہ،، شاید اس طرح ہم اپنے ضمیر کو مطمئن کرتے ہیں۔
وہ اتنا تھک چکی تھی کہ نماز پڑھے بغیر ہی سو گئی۔ ابھی اسے سوۓ ہوئے گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ اس کے چہرے پر بے چینی کے تاثرات نمودار ہوئے۔ لمحے میں وه پسینے میں نہا گئی۔۔۔
اس رات انا نے ایک خواب دیکھا جو اسے ساری زندگی کے لئے بدل کر رکھ دینے والا تھا،،،
خواب کچھ یوں تھا:
وہ ایک نہ معلوم سنسان سی جگہ پر چلتی جا رہی تھی۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ اس سنسان جگہ پر اکیلی نہیں تھی۔ اسکے پیچھے کسی کے قدموں کی چاپ ابھر رہی تھی۔۔۔
چلتے چلتے اس نے گردن موڑی،،! کسی کو موجود نہ پا کر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ کوئی نہ نظر آنے کے باوجود وہاں موجود تھا۔۔۔
اس نے انا کو آہستہ سے آگے کی طرف دھکیلا،،، بلاارادہ اس کے قدم ایک سمت کی جانب بڑھنے لگے۔ آگے جا کر ایک بہت گہری کھائی نے اس کا استقبال کیا۔۔۔۔
تب پہلی دفعہ اسے محسوس ہوا کہ وہ بہت اونچائی پر کھڑی تھی۔ اس مقام سے ایسی ویرانی ٹپک رہی تھی کہ اسے بےاختیار خوف محسوس ہوا۔۔۔
اسکا میرون لہنگا ہوا سے اڑنے لگا،،، تب اس نے اپنے کپڑوں پر غور کیا،،، اسکا پیٹ برهنہ تھا۔ چھوٹی سی کُرتی نے مشکل سے اسکے جسم کو ڈهانپ رکھا تھا۔۔۔
اچانک کسی غیبی طاقت نے اسے دهکہ دیا۔ ایک دل دہلا دینے والی چیخ کے ساتھ وہ کھائی میں گرتی چلی گئی۔ جیسے ہی وہ زمین پر گری اسکا سر پھٹ گیا اور کچھ ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ خون فوارے کی صورت اس کے سر سے نکلنے لگا لیکن اس سب کے باوجود اسکے حواس قائم تھے۔۔۔
اچانک اس کے سامنے کالے چغے میں دو انتہائی خوفناک مرد نمودار ہوئے۔ انکے چہرے سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔
ایک مرد نے گرم سلاخ اٹھائی اور اسے انا کی برہنہ کمر پر داغ دیا عین اسی مقام جہاں، جہان نے چھوا تھا،،، وه ایک کے بعد ایک سلاخ سے اسکی کمر کو داغنے لگے،،، انا کی دلخراش چیخیں اس ویرانے میں گونجنے لگیں۔
اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ پسینے میں نہائی وہ خوف سے لرزتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ اسکا دل بےتہاشہ دھڑک رہا تھا۔
ابھی وہ اس سے سنبهلی نہ تھی کہ رات کے سناٹے میں عجیب سی آواز گونجی۔ انا نے خوف سے کمرے کا چاروں طرف سے جائزہ لیا۔۔۔
ہلکی روشنی میں اسے عجیب سے ہیولے دکھائی دینے لگے۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے پاؤں کی جانب سے چادر اٹھائی اور سر تک اوڑھ کر چت لیٹ گئی۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ آوازیں بڑھتی گئیں۔ اچانک ایسی آواز ابھری جیسے کوئی پانی میں گرا ہو۔۔۔ انا خوف سے رونے لگی۔۔ مم مجھے معاف کر دیں اللّه تعالیٰ،، مم میں آئندہ کسی نامحرم کے پاس نہیں جاؤں گی،، میری مدد کریں،، وہ گرگرانے لگی۔۔۔
💕جو لوٹ آئیں تو کچھ کہنا نہیں
بس دیکھنا انہیں غور سے 💕
💕جنہیں راستوں میں خبر ہوئی
کہ یہ راستہ کوئی اور تھا 💕
تھوڑی دیر بعد آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ آہستہ آہستہ اس کا خوف زائل ہوگیا اور وہ ڈرتی ڈرتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
اور اللّه پاک فرماتے ہیں:
وَھُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَا کُنْتُمْ
(AND HE IS WITH YOU WHERE EVER YOU ARE ~ QURAN 57:4)
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ڈلیوری کے دن قریب تھے۔ عدیل شاہ اور میر نے عائشہ کو ہاتھ کا چھالا بنا رکھا تھا۔۔ اسے کسی کام کو ہاتھ لگانے نہ دیتے بلکہ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی خود کر لیتے۔ وہ جیسے اپنی پرانی روٹین میں واپس لوٹ گئے تھے۔
رات کا وقت تھا۔ تکلیف کے احساس سے عائشہ کی آنکھ کھلی۔۔
شاہ ویر ۔۔۔۔؟؟ اٹھیں شاہ ویر ۔۔ عائشہ انتہائی تکلیف کی حالت میں شاہ ویر کا بازو ہلانے لگی۔
شاہ ویر نے بمشکل درد کرتی آنکھوں کو ہلکا سا کھول کر اسے دیکھا جو بہت تکلیف میں لگ رہی تھی۔ شاہ ویر بہت درد ہورہا ہے۔۔۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ سسکنے لگی۔۔۔
شاہ ویر نے لمحے کی دیر کئے بغیر اسے سہارا دے کر اٹھایا اور گاڑی میں بٹھا کر قریبی ہسپتال میں لے گیا جہاں ڈاکٹر نے اسے بیٹا پیدا ہونے کی مبارکباد دی۔۔۔
شاہ ویر عجیب سی کیفیت میں گھیر گیا۔ عدیل شاہ کو فون پر مطلع کر کے وہ اپنے بیٹے کو دیکھے بغیر ہی ہسپتال سے باہر نکل گیا۔ اس وقت وہ ساری دنیا سے خفا لگتا تھا۔۔
عدیل شاہ، شاہ میر کے ہمراہ ہسپتال میں داخل ہوئے۔ نرس سے پوچھ کر وہ مطلوبہ وارڈ میں گئے جہاں ننھے سا مہمان دنیا جہاں سے بےخبر میٹھی نیند سو رہا تھا۔۔
فرطِ مسرت سے انکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پہلے انہوں نے عائشہ کے سر پر پیار دیا اور بیٹے کی مبارکباد دی جسے اس نے ہلکا سا مسکراتے قبول کیا۔۔۔
پھر انہوں نے اپنے ننھے سے پوتے کا منہ چوما۔ میر نے بھی اس کے دونوں گال چومے،، میر کی یہ حرکت لاڈ صاحب کو پسند نہیں آئی،، نتیجتًا وہ گلا پھاڑ کر رونے لگا۔۔۔
عدیل شاہ نے جلدی سے اسے گود میں بھر لیا۔ روتا بچہ اچانک خاموش ھوگیا اور ٹکر ٹکر انہیں دیکھنے لگا۔ اسکی سنہری کانچ جیسی آنکھیں تھیں۔ تیکھے نقوش اور اجلی رنگت شاہ ویر پر گئی تھی،، عائشہ سے اس نے بس آنکھوں کا رنگ چُرایا تھا۔
بابا یہ کیا بات ہوئی مجھے دیکھ کر یہ رونے لگ گیا۔ میر نے منہ بناتے شکوہ کیا۔۔
تم ہو ہی اتنے خوفناک کہ بیچارہ ڈر گیا۔۔۔! عدیل شاہ نے شرارت سے کہا تو بچہ ذرا سا مسکرایا۔۔۔
دیکھا بابا یہ کیسے مسکرا رہا ہے میری انسلٹ پر۔ اس نے تو ابھی سے مجھ سے مقابلے کرنے شروع کر دیے۔ اب میرا کیا ہوگا کالیا۔۔۔؟
عدیل شاہ نے اس کے سر پر چپت لگائی۔۔
ویر کہاں ہے ۔۔؟ یاد آنے پر انہوں نے عائشہ سے پوچھا جسنے لاعلمی سے انہیں دیکھا۔ مجھے جب سے ہوش آیا ہے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ یہ سن کر عدیل شاہ کو تشویش نے آ گھیرا۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بارات کی صبح انا جلد ہی بیدار ہو گئی۔ وہ رات کو آنے والے خواب اور واقعے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔
گم صم سی وہ اپنے آج کے لیے ہینگ کئے کپڑوں کو دیکھنے لگی۔ بلیک خوبصورت ریشمی
ساڑهی جو اس نے بہت شوق سے بنوائی تھی۔
بہتی آنکھوں کے ساتھ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔ اس نے ساتھ لائے کپڑوں میں سے سمپل سی بلیک کپری شرٹ نکالی اور پریس کروانے کے لئے ملازمہ کو دے دیا۔
بی بی جی کل تُسی بہُت وَديا ڈانس کیتا سی۔ انا گم صم سی خالی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ بغیر کوئی جواب دئے وہ خوش گپیوں میں مصروف مہمانوں کی طرف بڑھ گئی۔
رخسانہ چچی نے اسے دیکھا تو آواز دی۔۔ انا ٹھیک سے سو گئی تم ؟؟ انا کو کیا کچھ نہیں یاد آیا تھا۔
جی چچی ۔۔ مختصر سا جواب دے کر وہ قریب رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔
چلو اچھی بات ہے۔ تم یہی بیٹھو، تھوڑی دیر تک ناشتہ آ جائے گا۔ اعینہ اور جہان نہیں اٹھے ابھی۔۔۔؟؟
عین تو ابھی میرے والے کمرے میں سو رہی ہے۔ ہان بھائی کا نہیں پتہ۔
چلو میں دیکھتی ہوں۔ عجلت میں کہہ کر وہ باقی مہمانوں کو دیکھنے لگیں۔
بارات دوپہر کی تھی لہٰذا ناشتے کے بعد سب تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔عین کو تیار کرنے کے بعد انا خود بھی جلدی تیار ہو گئی۔
آج وہ کل کی نسبت بہت سادہ لگ رہی تھی۔ اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ بلیک سمپل لیکن خوبصورت کپری اور پورے بازوؤں کی شرٹ پر لائٹ براؤن سا میک اپ کیا گیا تھا۔
آئینے میں دیکھتے اس نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا اور سوٹ کے بلیک دوپٹے کا حجاب کرنے لگی۔
انا آپی آپ حجاب کیوں کرنے لگی ہیں۔۔؟ اتنی پیاری تو لگ رہی ہیں۔ پہلے آپ نے ساڑهی پہننے سے منع کیا اور اب یہ۔۔
بےبی پنک نیٹ کے پھولے شارٹ فراک میں لائٹ پنک میک اپ کئے اور کالے لمبے گھنگھریالے بالوں کو ماتھے سے ہلکا سا موڑ کر کمر پر کھلا چھوڑے وہ تیز تیز بولتی انا سے استفسار کرنے لگی۔
انا کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا۔ اتنا آسان ہوتا ہے کیا اپنے آپ کو بدلنا۔ اور پھر لوگ بغیر سوچے کچھ بھی کہہ دیتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ سامنے والے کے دل پر کیا بیت رہی ہے۔۔
عین میں نے حجاب شروع کردیا ہے۔۔ نو مور کویسچنز۔۔ ساتھ ہی اسے مزید بولنے سے منع کر دیا۔
اوکے میں ہان بھائی کو دیکھتی ہوں وہ تیار ہوئے یا نہیں۔ نیلی آنکھوں سے اسے دیکھتی سنجیدگی سے اسے کہہ کر اس نے جہان کے کمرے کا رخ کیا۔۔
ٹھک ٹھک۔۔۔ ہان بھائی میں آ جاؤں۔۔۔؟ دروازہ ہلکا سا کھٹکھٹا کر اس نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔۔
آ جاؤ عین،،
اس نے اندر آ کر جہان کو دیکھا جو میرون چیک پنٹ کوٹ میں تیار بے حد وجیہہ لگ رہا تھا۔
گھنے بالوں کو سنوار کر اس نے عین کو دیکھا جو اسکی لائی فراک میں بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔ پیاری لگ رہی ہو۔ جہان سے اسکا گال کھینچا تو عین نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔
جہان نے دلچسپی سے اس کے تاثرات دیکھے اور محظوظ ہو کر ہنس پڑا۔۔ انا تیار ہو گئی ۔۔۔؟؟ جی بھائی اور آپ کو پتہ انہوں نے آج بلکل سمپل ڈریس پہنا ہے اور حجاب بھی کیا ہے۔
جہان کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ کل انا کو سب کی نظروں کا مرکز بنا دیکھ کر اسکا دل چاہا تھا کہ اسے کہیں چھپا دے۔
جلدی کا شور مچاتے سب میرج ہال کی طرف روانہ ہو گئے۔ انا سارے فنکشن میں بہت بھجی بھجی سی رہی۔ ہر کوئی بہت حیرت سے اس کے پاس آتا اور حجاب کے بارے میں دريافت کرتا۔
انا کو بہت حیرت ہو رہی تھی۔ جب وہ بہت تیار ہو کر نامحرموں کے سامنے جاتی تھی تب کسی نے کچھ نہ کہا اور اب اس کے حجاب پر بولنے آ رہے تھے۔
انا شادی پر بھی حجاب۔۔؟ شادی پر حجاب کون لیتا۔۔۔؟ اور ایسے بہت سارے سوال۔۔ بد دل ہو کر وہ ہال کے قدرے تنہا کونے میں آ گئی۔
تھوڑی دیر بعد اسے جہان اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ انا کو مزید کوفت ہوئی۔
جہان اس کے سامنے یوں کھڑا ہوگیا کہ وہ اس کے چوڑے وجود کے آگے چھپ سی گئی۔ اس نے نرم نگاہوں سے انا کو دیکھا جو سادگی میں اس کے دل کو اور زیادہ بھا رہی تھی۔
انا ۔۔۔۔؟
جی ہان بھائی کوئی کام تھا آپ کو ؟؟ اس سے فاصلے پر ہوتے اسنے نظر جھکا کر جواب دیا۔
مجھ سے شادی کرو گی۔۔؟؟
انا نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ آپ آپکو شرم نہیں آتی اس طرح کی بات کرتے۔۔؟ میں آپ کو بھائی کہتی رہی اور آپ ایسی سوچ رکھتے ہیں میرے بارے میں۔ آئندہ اپنی شکل بھی نہ دکھائیے گا مجھے۔ غصے سے کانپتے اس نے کہا اور جہان کی ایک طرف سے گزر کر جانے لگی۔
پیار کرتا ہوں میں تم سے ڈیم اٹ۔۔ کوئی گناہ تو نہیں کیا جو تم ایسے بی ہیو کر رہی ہو۔۔؟ انا کو بازو سے پکڑ کر دیوار سے لگاتے اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔ آخر یہ لڑکی اس کے جذبات کیوں نہیں سمجھ رہی تھی۔
پیچھے ہٹیں۔۔۔ میں نے کہا پیچھے ہٹیں۔۔ اسکے بازو کو جھٹکتی وہ چلائی۔۔ شور ہونے کی وجہ سے کوئی بھی انکی آواز نہ سن سکا۔
جہان کی گرفت جیسے ہی ڈھیلی پڑی انا نے پیچھے ہٹتے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔۔
آئندہ میرے قریب آنے کی ہمت بھی مت کریے گا۔ بہتی آنکھوں سے وه اس کے منہ پر غرائی اور اپنے آنسو پونچھتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
جہان منہ پر ہاتھ رکھے ساکت کھڑا رہ گیا۔ ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا اور داڑھی میں جذب ہوگیا۔۔
میری آنکھوں میں اک چبھن سی ہے۔۔۔
ہاں کسی خواب کا تنکا ہوگا۔۔۔۔۔!
انا میری بات سنو۔۔۔ اپنے درد کو نظرانداز کرتے وہ اس کے پیچھے لپكا۔ محبّت سب سے پہلے عزتِ نفس ختم کرتی ہے۔
لیڈیز واشروم میں داخل ہوتی انا اس کی آواز پر رک گئی۔۔ اس کے دل میں درد اٹھا۔۔ وہ سب جانتی تھی کہ جہان اسے پسند کرتا ہے۔ لیکن وہ کیا کرتی جو خود کسی اور کی محبّت میں مبتلا پل پل مر رہی تھی وہ کسی اور کو کیا دے سکتی تھی۔۔
انا تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو۔۔ میری محبّت بہت پاک ہے۔ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔ پلیز مجھے غلط مت سمجھو۔
انا کو سینے میں شدید تکلیف کا احساس ہوا۔ ہاں وہ مجھ سے نکاح ہی تو نہیں کرنا چاہتا تھا اور میرے سامنے کھڑا یہ مرد جو مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے میں اسے کچھ نہی دے سکتی افسوس۔۔
ہان بھائی۔۔ میں ۔ کسی ۔ اور ۔ سے ۔ محبّت ۔ کرتی ۔ ہوں۔ میں ۔ آپ ۔ کو ۔ کچھ ۔ نہیں ۔ دے ۔سکتی۔ میرے ۔ جیسی ۔ محبت ۔ میں۔ ٹھکرائی ۔ لڑکی ۔ کسی ۔کو کچھ ۔ نہیں ۔ دے سکتی۔
اس نے بلکتے ہوئے کہا تو جہان ساکت رہ گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن سست ہو گئی۔ دو آنسو آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔ آخری نظر اپنی ناکام محبّت پر ڈالتے وہ تیز قدموں سے ہال سے نکل گیا۔
آئی ایم سوری ہان بھائی میں آپ کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔ لیکن میں کیا کروں ۔ آپ مجھ جیسی لڑکی ڈیزرو نہیں کرتے۔ بلکتی بلکتی وہ واشروم میں داخل ہوئی۔
وہاں پہلے سے موجود ایک لڑکی نے اسکی حالت دیکھی تو پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔۔ کیا آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟ انا نے اثبات میں سر ہلایا اور واش بیسن پر جھکی پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔
جہان آفس کے کام کا بہانہ کر کے عین کو لے کر واپسی کے لیے روانہ ہوگیا۔۔ انا کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے حنا اسے ساتھ لیے حویلی چلی گئیں۔