Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 16
جونہی وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے عین کو جہان کی کہی باتیں یاد آنے لگیں۔۔ اس کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔
نہایت آہستگی سے اس نے جہان کے ہاتھ میں قید اپنا ہاتھ نکال لیا۔۔۔
جہان نے خاموشی سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔۔
ذرا آگے جا کر وہ لڑکھڑائی تو جہان نے اسے تھام لیا۔۔
دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر گویا ہوئی۔۔
تم روک سکتی ہو مجھے اپنے نزدیک آنے سے۔۔۔؟
اس کے دلکشی سے کہنے پر وہ سرخ پڑ گئی۔۔۔ اس نے چند سیکنڈ جہان کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اس کے سینے پر نرم ہاتھوں کے مکے برساتی زار و قطار رونے لگی۔۔
بہت برے ہیں آپ بہت برے ۔۔۔۔ وہ روتی ہوئی کہتی جا رہی تھی۔۔
جہان نے گہری سانس کھینچ کر اسکی کلائیاں پکڑیں۔۔
“جھوٹ بولا تھا میں نے ۔۔۔۔”
اس کے کہنے پر عین کی بھیگی نیلی آنکھوں میں حیرانگی ابھری۔۔
“کونسا جھوٹ۔۔۔؟” عین نے سپاٹ آواز میں کہا۔۔
یہی کہ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔
جہان کے کہنے پر اسے اپنے رگ و جاں میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا۔۔ لیکن بظاہر اس کا چہرہ سپاٹ رہا ۔۔۔
اس نے جہان کے ہاتھ سے اپنی کلائیاں چھڑائیں اور بغیر اس کی طرف دیکھے اپنے اور جہان کے مشترکہ کمرے میں چلی گئی ۔۔
میرے کپڑے تو نانو کے کمرے میں ہیں۔۔۔ یاد آنے پر وہ دوبارہ باہر آئی تو جہان اپنے زخموں کا جائزہ لے رہا تھا۔۔ عین کی آنکھوں میں نرم تاثر ابھرا۔۔
اس نے سوچا جلدی سے کپڑے بدل لے پھر اس کے زخموں کی مرہم پٹی کر دے گی۔۔ اس نے کمرے میں جا کر دروازه بند کر دیا۔۔
گہری نیلی ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراؤزر لے کر وہ باتھ روم میں گھس گئی۔۔ جلدی سے شاور لیکر کپڑے بدلتے وہ باہر نکلی۔۔ زخموں پر پانی پڑنے سے ان میں سے ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔
اس نے سر کی پچھلی جانب ہاتھ رکھا۔۔ سس تکلیف سے اس کے منہ سے سسكاری نکلی۔۔ اس نے آہستہ سے بال کھول کر انہیں سنوارا اور ڈھیلے جوڑے میں قید کر لیا۔۔
اب وہ پہلے سے قدرے بہتر لگ رہی تھی۔۔ جب وہ باہر آئی تو جہان کمرے میں جا چکا تھا ۔۔ اس نے جھجھک کر اندر قدم رکھا تو وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔۔
عین نے فرسٹ ایڈ باكس سے آئنٹمنٹ نكالی۔۔ وہ ذرا سا جھکی اور روئی کی مدد سے اس کے زخموں کو صاف کرنے لگی۔۔
زخم صاف کر کے اس نے مرہم لگائی اور جہاں ضرورت پڑی بینڈیج کردی۔۔ اس دوران جہان خاموشی سے لیٹا رہا۔۔ اسے اسکا فکر کرنا اچھا لگ رہا تھا۔۔
“سیدھے ہوں” ۔۔۔ اس نے نظر جھکا کر کہا تو جہان بغیر چوں چرا کیے سیدھا لیٹ گیا۔۔
اسکا برہنہ سینہ دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی۔۔ اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ دوبارہ نظریں اٹھاتی۔۔۔
کیا ہوا شرم آرہی ہے ۔۔۔؟؟ جہان نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔۔
نن نہیں تو مجھے کیوں آئے گی شرم ۔۔۔ عین نے دل کرا کر کے جواب دیا اور کانپتے ہاتھوں سے اسے کے سینے سے پر لگی خراشوں کو روئی کی مدد سے صاف کیا جن سے خون رس رس کر جم چکا تھا۔۔۔
جہان نے بلا ارادہ اسے کمر سے تھام کر جھکایا تو عین کے منہ سے سسكاری نکلی۔۔
کیا ہوا ۔۔۔؟ جہان فوراً اٹھ بیٹھا۔۔
کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔؟ چوٹ لگی ہے آپ کو ۔۔ لیٹ جائیں ۔۔ میں کر رہی ہوں نہ ۔۔۔۔
اس نے جہان کو ٹالنا چاہا۔۔
مس اعینہ میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔ اس کے سختی سے پوچھنے پر وہ نظر جھکا گئی۔۔مارا تھا انہوں نے،، بتایا تو تھا۔۔۔
جہان نے غصے سے مٹھی بھینچی۔۔ کاش وہ اس کے سامنے ہوتے تو وہ مار مار کر انکا بھر کس نکال دیتا۔۔
دکھاؤ مجھے۔۔! اس نے اسکی قمیض ہٹا کر دیکھنا چاہا تو عین نے اس کا ہاتھ روک دیا ۔۔
عین مجھے سختی پر مجبور نہ کرو ۔۔۔
میں نہیں دکھانا آپ کو ۔۔۔ وہ ضدی لہجے میں بولی۔
تم ۔۔۔ پاگل ہو ۔۔۔ میں بس زخم دیکھوں گا ۔۔۔ اور کچھ نہیں کروں گا ۔۔۔
اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔
آپ کا کیا پتہ ۔۔۔
عین نے زبان کے جوہر دکھائے جو اس کے دل پر ٹھا کر کے لگے،،، اس نے اپنی “پِدّی” بیوی کو دیکھ کر دانت پیسے۔۔
“تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آئے گی۔۔”
یہ ابھی پیار کی زبان تھی ۔۔؟ عین نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔
جہان نے اسکی اوور ایکٹنگ کو نظرانداز کر کے اسے گهسیٹ کر بیڈ پر لٹایا اور کمر سے قمیض کھسکا دی ۔۔
عین نے شرم سے منہ پر ہاتھ رکھ لئے۔۔
جہان نے اسے ایک نظر دیکھ کر کمر کا جائزہ لیا جہاں نیل پڑے ہوئے تھے۔۔ اس نے ایلو ویرا جیل پکڑی اور نرمی سے نشانوں پر لگانے لگا۔۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔! نہ کریں ۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔
عین بے ساختہ ہنسنے لگی۔۔
کیوں کیا ہوا ۔۔؟ جہان نے اسے حیرانی سے دیکھا،، لگتا ہے اسکا دماغ كهسک گیا ہے۔۔
گدگدی ہو رہی ہے ۔۔ نہ کریں ۔۔۔ عین نے آنکھوں سے نکلتے پانی کو ہاتھوں کی مدد سے صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اس کے بچوں کی طرح ہنسنے پر جہان بھی مسکرا دیا۔۔ اس نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ کر چینج کرنے کی غرض سے باتھروم چلا گیا۔۔
عین سنبھل کر قدرے ایک طرف ہو کر لیٹ گئی۔۔ کمبل چہرے تک اوڑھ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔ آج کے دن کے بارے میں سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ویر کہاں تھے تم۔۔۔؟ میں کب سے فون کررہا ہوں ۔۔۔
عدیل شاہ جو لاؤنج میں پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے ویر کو دیکھ کر اس کی طرف لپکے۔۔ ان کے ذہن میں عجیب وسوسے آرہے تھے ۔۔ویر کو دیکھ کر انہوں نے شکر کا سانس لیا۔۔
ہاں وہ میرا فون کھو گیا ہے ۔۔۔ اس نے پینٹ کی جیب کو ٹٹولتے ہوئے کہا۔۔
یہ تم نے کیا حلیہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔ہوا کیا ہے کچھ بتاؤ گے بھی ۔۔۔؟ ان کے پریشانی سے استفسار کرنے پر ویر نے سخت درد کرتے سر کو انگلی سے مسلا۔۔
بابا میں ابھی صرف آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ویر نے اکتاہٹ سے کہا ۔۔۔
اوکے بعد میں بات کرتے ہیں ۔۔ وہ اسکا شانہ تهپتهپا کر چلے گئے۔۔
ویر نے راحم کا ہاتھ منہ دھلا کر اسکے کپڑے بدلے اور اسے بیڈ پر لٹا دیا۔۔ راحم اب اچھے بچوں کی طرح سوئے گا ۔۔ اوکے،، بابا ابھی آتے ہیں۔۔ اس کے دونوں گالوں کو باری باری چوم کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اگلی صبح وہ دیر سے بیدار ہوا۔۔ عدیل شاہ نے بھی شاہ میر کو اس کے آرام کے خیال سے اسے جگانے سے منع کر دیا تھا۔۔
کروٹ بدل کر اس نے ذرا کی ذرا آنکھیں کھولیں۔۔ راحم بستر پر موجود نہیں تھا۔۔ باہر سے اسکی کھلکھلاہٹوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔
رات جیسے تیسے بینڈیج کر کے اس نے پین کلرز لے لیں تھیں۔۔ اب درد قدرے کم ہوگیا تھا۔۔
وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھا۔۔ اس نے زوردار انگڑائی لی جس سے اسکا کسرتی سینا اور نمایاں ہوگیا۔۔
ٹراؤزر میں ملبوس وہ آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اسے اپنے کاندھوں پر انا کا لمس ابھی بھی محسوس ہورہا تھا۔۔
کل کتنی قریب تھی وہ اس کے۔۔ اس کے جاذب نظر نقوش کو اس نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔۔ اب بات صرف راحم کی نہیں تھی۔۔ اسکا اپنا دل بھی بےایمان ہونے لگا تھا۔۔
اس کے تیکھے مغرور نقوش میں دلکش مسکراہٹ نے رنگ پھیلاۓ۔۔۔
ٹھک ٹھک ۔۔۔۔ میں اندر آ گیا ہوں ۔۔۔ کوئی مسئلہ؟ ۔۔ میر بتیسی کی نمائش کرتے نمودار ہوا۔۔
ذرا پاس آؤ تو بتاؤں گا مسئلہ ہے یا نہیں۔۔۔ ویر نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔
اوکے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ۔۔ میر نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔۔
بابا نے بھیجا ہے کہ دیکھ آؤں آپ اٹھے یا نہیں ۔۔۔ لیکن یہاں تو آپ کسی حسینہ کی زلفوں کے خیالوں میں کھوۓ مسکرا رہے ہیں ۔۔۔ میر کے شرارت سے کہنے پر ویر نے دانت پیس کر اسے دیکھا ۔۔۔
ہاہاہا چوری پکڑی گئی ۔۔۔ یا ہو ۔۔۔۔ میر نے ایک پیر دروازے سے اندر اور ایک پیر باہر رکھتے ہوئے گردن تک آتے سٹائلش بالوں کو جھٹک کر کہا۔۔
ویر اس کو پکڑنے کے لئے بھاگا تو وہ چھپاک سے وہاں سے غائب ہوگیا۔۔
سر جھٹک کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
کیسی لگ رہی ہے ۔۔؟ میر نے اپنے گردن تک آتے بالوں کو پونی میں باندھ کر داد لینے والے انداز میں عدیل شاہ کو دیکھا جو راحم کو آئس کریم کھلا رہے تھے۔۔
بلکل منحوس لگ رہے ہو ۔۔۔! انہوں نے منہ کے زاویے بگاڑ کر کہا۔۔ انکی بات پر راحم کھلکھلا دیا۔۔
دیکھا دیکھا کیسے کھی کھی کر رہا ہے یہ ۔۔۔ ٹڈا کہیں کا ۔۔۔ جل ککڑا۔۔
راحم سے اپنی بےعزتی برداشت نہ ہوئی۔۔
میرو آنٹی ۔۔۔۔ تالياں مار کر اچھلتا وہ اس انداز میں ہنسا کہ عدیل شاہ کے ساتھ ویر کا بھی قہقہہ گونجا جو ابھی فریش ہو کر آیا تھا۔۔
تو ہوگا آنٹی ۔۔۔ میر تو اسکے دیے خطاب پر جل بھن گیا۔۔ اس چھوٹے پیس نے تو میری جینڈر ہی بدل دی۔۔
اچانک وہ چالاکی سے مسکرایا ۔۔وہ راحم کے عین سامنے صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا۔۔ اس کو نظرانداز کر کے اس نے پاکٹ سے چاکلیٹ نكالی اور آرام سے اسکا ریپر اتارنے لگا۔۔ اس وقت وہ دنیا کا مصروف ترین انسان لگ رہا تھا۔۔
راحم نے اپنے مُنّے سے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔ ہمم یمی ۔۔۔۔ وہ عدیل شاہ کی گود سے اترا اور دوڑ کر میر کی ٹانگ سے لپٹ گیا۔۔
چاچو ۔۔۔؟ اس نے بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے کہا ۔۔ میر کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔۔ اتنی عزت اسے ہضم نہ ہوئی۔۔
کیا کہا تم نے چھوٹے پیکٹ ۔۔۔؟ اس نے آنکھیں سكیڑ کر پوچھا۔۔
چاچو دی (جی) ۔۔۔۔۔ !!
اس کی ناٹنکی دیکھ کر اسے سب سمجھ آ گیا۔چاچو یہ دو پھِل میں مِٹھو دوں دا۔۔۔ اس نے معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
میر نے اسے گود میں بٹھایا ۔۔ اچھا ایک شرط پر دوں گا یہ چاکلیٹ ۔۔۔ دادا کی پارٹی چھوڑ کر چاچو کی گینگ میں آ جاؤ ۔۔ مزے کریں گے۔۔
عدیل شاہ نے میر کی بات پر ناک سے مكهی اڑانے والے انداز میں اسے دیکھا،، جیسے کہہ رہے ہوں منہ دھو رکھو ایسا نہیں ہونے والا۔۔
تھیت اے،، دو ۔۔!!
راحم کے بولنے پر میر نے فاتحانہ نظروں سے انہیں دیکھا۔۔
یہ لو ۔۔۔ اس نے آدھی چاکلیٹ اسکی طرف بڑھائی تو راحم نے جهپٹ کر پوری چاکلیٹ پکڑ لی اور عدیل شاہ کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔
ہاہاہا میرا ببر شیر ۔۔ بہت اچھا کیا ۔۔۔ انہوں نے راحم کو دوبارہ گود میں بٹھا لیا ۔۔۔وہ مزے سے ٹانگیں ہلاتا چاکلیٹ کھانے لگا۔۔ ویر انکی شرارتوں پر خاموشی سے مسکرا رہا تھا۔۔
تم نے چیٹنگ کی ہے میرے ساتھ ۔۔؟ میر نے مصنوعی غصے سے کہا ۔۔
ہاں ۔۔۔!!
راحم نے سر زور سے ہلا کر ٹکا سا جواب دیا۔۔
تمہیں تو میں ۔۔۔۔ وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا اور اسے اٹھا کر گدگدانے لگا۔۔
راحم ہنسی سے دوہرا ہوگیا۔۔
میر نے اسے سر سے اوپر اٹھا کر کاندھوں پر بٹھایا اور لان کی طرف دوڑ گیا۔۔
عدیل شاہ انکی کھلکھلاہٹوں پر آسودگی سے مسکرا دیے۔۔ پھر انہوں نے اپنا رخ ویر کی طرف موڑا۔۔
اب بتا بھی چکو۔۔۔ ان کے استفسار پر ویر انہیں کل کے واقعے کے بارے میں بتانے لگا۔۔ خود کے زخمی ہونے کی بات وہ گول کر گیا۔۔
عدیل شاہ نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔۔ اللّه کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے تم سب کو اپنی امان میں رکھا ۔۔ مجھے اس بھلے آدمی سے ملوانا کبھی جس کی مدد سے تم کامیاب ہوئے۔۔
میں اسے جانتا تو نہیں ہوں ۔۔ نہ ہی موبائل نمبر لینا یاد رہا ۔۔ کبھی ملا تو ضرور ملواؤں گا۔۔ اس نے فرمانبرداری سے کہا۔۔
انا ٹھیک ہے ۔۔۔؟
انا کے نام پر اس نے اک خوبصورت احساس سے خود کو مہکتا محسوس کیا۔۔
وہ انجرڈ تھی بابا ۔۔۔ اس نے راحم کے لئے بہت تکلیف سہی ہے ۔۔ انفیکٹ اس کی مدد کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔ اس نے مجھے اپنا مقروض کر لیا ہے ۔۔۔ آپ نے صحیح کہا تھا کہ اس سے زیادہ راحم کو کوئی پیار نہیں کر سکتا۔۔ بابا عجیب لڑکی ہے وہ جو خود کی پروا نہیں کرتی اور دوسروں کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال لیتی ہے۔۔
وہ دھیمے لہجے میں کہتا گیا۔۔
عدیل شاہ اسے دیکھ کر مسکرا دیے۔۔
برخوردار تم پر بھی جادو چل گیا نہ اس کا۔۔!مجھے خوشی ہے کہ تم نے صحیح فیصلہ کیا۔۔
ویر گڑبڑا گیا۔۔۔نہیں تو ۔۔!! “میں نے کب ایسا کہا” ۔۔
باپ ہوں تمہارا ۔۔ گدھا نہ سمجھو مجھے ۔۔۔یہ بال دھوپ میں سفید نہیں ہو گئے۔۔ ایک دنیا دیکھی ہے۔۔ ان کے ڈپٹنے پر ویر سر جھکاۓ کان كهجانے لگا۔۔
چند دن صبر کرلو ۔۔۔ پھر جاؤں گا میں ان کے گھر ۔۔۔۔ انشااللہ سب خیر خیریت سے ہو جائے گا۔۔ میرے بیٹے کو کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے۔۔۔ اس کی کمر تهپتهپا کر وہ آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
ویر نے نیم دراز ہوتے آنکھیں موند لیں۔۔ بند آنکھوں کے آگے ایک دلکش سراپا جگمگانے لگا تھا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
سفید کوڑے کاغذ پر سیاہی کے دو قطرے گرے۔۔ قلم نے ان قطروں کو خوبصورت شکل میں ڈھال دیا ایسے کہ وہ خوش نما پھول نظر آنے لگے۔۔ خوبصورت تراشیدہ ہاتھوں نے قلم کو پھر سے تھاما۔۔ سفید کاغذ پر ابھرتے سیاہی مائل الفاظ موتیوں کی طرح دمکنے لگے۔۔
میرے پیارے اللّه !!
دل کرتا ہے ایک خط میں تیرے نام لکھوں۔۔!!
“اس میں خود کو مٹی یا پھر گمنام لکھوں”۔۔۔
تجھ کو بتاؤں اپنی تکلیف۔۔۔رنج و غم ۔۔۔!!
کچھ پسِ پرده لکھوں۔۔۔۔ کچھ سرِ عام لکھوں ۔۔!!
کبھی تجھ سے روٹھوں تو کبھی مناؤں تجھ کو ۔۔۔
کبھی خود کو کامیاب اور کبھی ناکام لکھوں۔۔!!
تجھ سے کہوں میرے رب !! “لوگ تکلیف دیتے ہیں”
تو کبھی لفظوں پہ یقین کرنے کا انجام لکھوں۔۔۔!!
کبھی خاموشی لکھوں،،، تو کبھی چیخ کر سناؤں تجھ کو!!
فقط لكهتی رہوں ،،، اور “صبح شام” لکھوں۔۔۔!!
(منقول)
°•°•°•°•°•°°•°°•°•°•°•°•°•°•°
ہوا کے دوش پر اڑتی ایک آوارہ لٹ کو اس نے شہادت کی انگلی کی نوک سے کان کے پیچھے اڑسا۔۔
وہ قلم بند کرتی زمین سے باقی کاغذات اٹھانے کے لئے جھکی تو تیکھی ناک میں پہنی نوز پن پوری آب و تاب سے چمکی۔۔
اس کے چہرے کا سکون دیدنی تھا۔۔ سیڑھیوں سے اپنا سامان سمیٹ کر اس نے اندر جانے کے لئے قدم بڑھائے۔۔
مهندی لگے خوبصورت پیروں سے خراماں خراماں چلتی اپنے کمرے میں آئی اور ہاتھ میں پکڑے سامان کو الماری کے قدرے اونچے خانے میں رکھ دیا۔۔
سامان رکھ کر اس نے کمرے کی حالت کو درست کیا اور زمین پر بچھے قالین پر دیوار سے کمر ٹکا کر بیٹھتی گزرے واقعے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔
اس واقعے کو تین ہفتے گزر چکے تھے۔۔ بغیر کچھ چھپاۓ وہ حنا کو سب کچھ بتا چکی تھی۔۔۔ حنا کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اگر کسی کو اس واقعے کی خبر ہوگئی تو لوگ ان کا جینا حرام کر دیں گے۔۔
لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔ جانے کیسے یہ خبر باہر نکل گئی اور محلے والے چسکے لینے کے لیے ان کے گھر آ کر پوچھ گچھ کرنے لگے۔۔
انہوں نے کسی نہ کسی طرح بات گول مول کر کے انہیں بهگا تو دیا لیکن ان کی کہی ایک بات حنا کے ذہن میں اٹک گئی کہ “لڑکی کی عزت سفید چادر کی طرح ہوتی ہے جس پر لگا سیاہ داغ تو لوگوں کو نظر آ جاتا ہے لیکن پوری سفید چادر انہیں نظر نہیں آتی۔۔” بات گہری تھی اور کھری بھی ۔۔
انہیں انا کی شادی کی فکر ہونے لگی تھی۔۔ بھلا وہ لاکھ درست صحیح لیکن جس گھر کی بیٹی کے بارے میں کہانیاں مشہور ہونے لگیں وہاں بھلا کون رشتہ لے کر آتا ہے۔۔
خود کی ذات میں بھلا جتنی بھی خامیاں ہوں ،، کسی کی خامی سننے پر لوگ فوراً فرشتے بن کر کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔۔
انہوں نے وقار سے کچھ نہ چھپایا تھا۔۔ انا نے بلا جھجھک سب کچھ اپنے بابا کے سامنے دہرا دیا تھا۔۔ جب وہ غلط نہیں ہے تو جھوٹ کیوں بولے۔۔
جو لوگ اللّه کی ذات پر یقین کر کے سچ بولتے ہین تو چاہے وقتی طور پر انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے لیکن حقیقتاً وہ سرخرو ہو جاتے ہیں۔۔ اور جو لوگ جھوٹ بولتے جاتے ہیں وہ اپنے ہی گڑے جھوٹوں کے جال میں پھنستے جاتے ہیں ۔۔
وقار کو انا پر پورا یقین تھا۔۔ اس لئے انہوں نے اسے اسکی بہادری پر سراہا جس پر حنا نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ بیٹیوں کو اتنی بہادری مہنگی پڑ جاتی ہے۔۔ بات آئی گئی ہو گئی ۔۔
آج اتنے دن بعد اسے سب کچھ پھر یاد آرہا تھا۔۔ راحم کی اس سے انسیت اور ویر کے زو معانی الفاظ۔۔
انا ۔۔۔۔؟ حنا کی آواز پر اس نے تمام سوچوں کو جھٹک کر دروازے کی اوڑھ دیکھا جہاں وہ سوچتی نظروں سے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی تھیں۔۔
جی !! کیا ہوا ماما ۔۔۔۔؟ اس نے سادگی سے پوچھا۔۔
کوئی عدیل صاحب آئے ہیں۔۔۔ انہوں نے آنکھیں سكیڑ کر کہا۔۔
ان کے نام پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
کیوں ۔۔؟ وہ کیوں آئے ہیں ۔۔؟؟ اس نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا۔۔
تمہارے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئے ہیں ۔۔۔
ان کے جواب پر وہ بجلی کی تیزی سے کھڑی ہوئی۔۔
