Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 11
ہم اسی آس پہ بگڑے ہیں کئی برسوں سے۔۔۔۔!!
تیرے ہاتھ لگیں گے تو سدهر جائیں گے۔۔۔۔!!
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد رات کو وہ تھکا تھکا سا اپنے کمرے میں داخل ہوا۔۔ آفس میں کام بہت بہت بڑھ گیا تھا۔۔
عدیل شاہ نے اب تمام زمہ داری شاہ ویر کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔۔ وہ سویرے ہی راحم کو عدیل شاہ کے حوالے کر کے شاہ میر کو كالج ڈراپ کرتے ہوئے آفس چلا جاتا تھا۔۔
گردن کو دائیں بائیں حرکت دے کر اس نے کوٹ اتارا اور بلیک ڈریس شرٹ کے اوپرے تین بٹن کھول دیے۔۔ نائٹ ڈریس نکال کر وہ شاور لینے کی غرض سے باتھ روم میں چلا گیا۔۔
شاور لے کر وہ ٹراؤزر میں ملبوس تولیے سے سر پونچھتا باہر نکلا ۔۔
ایک ہاتھ سے موبائل پکڑتے اس نے میر کو راحم کو لانے کا میسج کیا۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی میر راحم کو چھیڑتا نمودار ہو گیا۔۔
شاہ ویر کو شرٹ لیس دیکھ کر اس نے ہونٹ او شیپ میں گھماۓ۔۔۔
واہ کیا ڈولے شولے ہیں،، کیا باڈی ہے تبھی تو آپ کے پیچھے حسینوں کی لائن لگی رہتی ہے۔۔ کوئی نہی ہمارا بھی وقت آئے گا کیوں حم حم۔۔۔؟
راحم نے اسکے گال پر “چنڈ” کی صورت جواب دیا جیسے کہہ رہا ہو ہونہہ منہ دھو رکھو تمہارا وقت کبھی نہی آئے گا۔۔
میر نے فوراً اسے پٹخنے والے انداز میں زمین پر کھڑا کیا۔۔ بھائی یہ بچہ بلکل نہی ہے،، میں بتا رہا ہوں بڑی کوئی پہنچی ہوئی چیز ہے یہ۔۔۔
شاہ ویر نے ہنستے ہوئے راحم کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں میں سلیپر پکڑے اس کے پاس آرہا تھا۔۔
بابا جے دُوت مِیلو ماؤں آں۔۔۔؟ ( بابا یہ جوتا میرو کو ماروں )
نہ میرا چیمپ چاچو ہے،، بری بات۔۔ شاہ ویر نے اس کے گال کو چومتے ہوئے کہا۔۔
میر “چھوٹے ڈون” سے عزت افضائی ہونے کے بعد پیر پٹخ کر چلا گیا۔۔
راحم کو ہلکا سا نائٹ ڈریس پہنا کر اس نے بیڈ پر بٹھایا اور خود موبائل پر آئی نوٹیفکیشن چیک کرنے لگا۔۔
اسے موبائل میں مصروف پا کر راحم بیڈ پر الٹا لیٹ گیا اور آہستہ آہستہ كهسک کر نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
اہ ہا ۔۔۔ جو،، بش ۔۔۔ اس مشقت میں اسے سانس چڑھ گیا۔۔ اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ اسکا اوپرا آدھا دھڑ بیڈ پر تھا اور مُنّی سی ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹک رہی تھیں۔۔ بیچارہ تو پهنس گیا تھا۔۔
بڑی تگ و دو کے بعد وہ بیڈ شیٹ سمیت نیچے لڑھک گیا۔۔ زمین پر قدم لگتے ہی اس نے خوشی سے پوری بتیسی نکالی اور کمرے میں ادھر ادھر دورتا چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔
شاہ ویر نے گہری سانس کھینچتے اپنی “چلتی پھرتی بلا” کو دیکھا۔۔ بیڈ پر نیم دراز ہو کر اس نے راحم کو بلایا۔۔
راحم ادھر آؤ بابا پاس۔۔۔ لیکن وہ سنی ان سنی کر کے اپنے آپ میں گم رہا۔ ویر نے آنکھوں پر بازو رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔
خاموشی محسوس کر کے راحم اس کے پاس پہنچ کر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
بابا ،،، بش ،، اُپل ،، تھاؤ۔۔۔ ویر نے آنکھوں سے بازو ہٹایا تو اسے معصومیت سے اپنے آپ کو تکتا پایا۔۔
اس نے راحم کو اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا کر اپنے برہنہ سینے پر لٹا لیا۔۔ راحم از آ گڈ بوائے،، ویر نے اس کے گال کو زور سے سے چوما تو اس نے کھلکھلاتے ہوئے ویر کے سینے پر زور سے دانت گاڑ دیے۔۔
ویر نے فوراً اسے خود سے دور کیا۔۔۔چیمپ تمھارے ارادے تو واقعی خطرناک ہیں۔۔ کسی نے دیکھ لیا تو وہ کچھ اور ہی سمجھ لے گا۔۔
بڑبڑا کر وہ کروٹ کے بل لیٹا اور راحم کو لٹا کر اسکا سر اپنے پھولے مضبوط بازو پر رکھ دیا۔۔وہ اس کو تھپک کر سلانے کو کوشش کرنے لگا۔۔
بابا ۔۔۔ بابا تھو نا (بابا اٹھو نا ) ،، اس نے ویر کی داڑھی پر ہاتھ رکھا تو ویر نے اسکا ہاتھ چوم لیا۔۔ جی بابا کی جان ۔۔۔!
بابا دو ،، بابا ۔۔۔ وہ ضد کرنے لگا۔۔
بیٹا صبح جائیں گے،، سو جاؤ شاباش۔۔۔ وہ اسے تهپکنے لگا تو راحم ضد میں آ کر رونے لگا۔۔ ویر نے آنکھیں مسل کر بے چارگی سے اسے دیکھا۔۔
اب اس وقت وہ کیسے اس انجان لڑکی کو ڈسٹرب کرتا۔۔؟
راحم جب کسی صورت بھی چپ نہ ہوا تو اس نے سٹرینجر کے نام سے سیو کیا نمبر نکالا اور ٹائپنگ کرنے لگا۔
Hi ! I’m Rahim’s Father…
Reply: Hi it’s Ana here..
Ana …?
Reply: Ana , Anabia is my full name..
Okay… Rahim wants to see you… I’m really very sorry for disturbing you..
Reply: no its fine… I’ll be at call after 5 minutes..
Thank You
Reply: You are Welcome..
ویر نے بیڈ کے وسط میں دو تکیے رکھ دیے اور راحم کو ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔۔ موبائل پر انا کی ویڈیو کال جگمگانے لگی۔۔
ویر نے ایک پل کو سوچتے سکرین ریكارڈر آن کر دیا تا کہ آئندہ تنگ کرنے پر وہ راحم کو یہی ویڈیو کال دکھا دے۔۔
کال کو یس کر کے اس نے موبائل راحم کو پکڑا دیا اور انا کے پردے کے خیال سے خود قدرے فاصلے پر لیٹ گیا تا کہ وہ ریلیکس ہو کر بات کر لے۔۔
راحم ٹکر ٹکر موبائل کی سکرین کو دیکھنے لگا جس پر انا کا چہرہ نمودار ہوا تھا۔۔
انا نے سرخ دوپٹہ دو انگلیوں سے نقاب کی صورت پکڑا ہوا تھا جس سے بس اس کی بھوری اداس آنکھیں جھانک رہی تھیں۔۔
راحم انا کو دیکھ کر بےطرح خوش ہوا۔۔ جسکا اظہار اس نے کھلکھلا کر کیا۔۔ آ جو، آ جو اِدَل ،، وہ ہاتھ کی انگلیوں کو اپنی طرف موڑ کر اسے اشارے سے بلانے لگا۔۔
انا کے چہرے پر مسراہٹ ابھری۔۔ راحم بابا کہاں ہیں۔۔۔؟؟ انا کی آواز ویر تک باخوبی پہنچ گئی۔۔ اس نے اوندھے لیٹے پٹ سے آنکھیں بند کر لیں۔۔
بابا شو ۔۔۔ (بابا سو گئے) ،، راحم نے سکرین کو ہونٹوں سے قریب کر کے چوم لیا۔۔ اس والہانہ پیار پر انا قربان ہو گئی۔۔
اس نے دوپٹہ چہرے سے ہٹا لیا۔۔ اب اس کا چہرہ قدرے واضح ہوا۔۔ سرخ دوپٹے سے بھوری سنہری لٹیں پهسل کر اس کے رخسار کو بوسہ دیتیں جنہیں وہ بار بار کان کے پیچھے اڑس رہی تھی۔۔ اسکے شفاف چہرے پر ایک خاص چمک تھی جس کا بھید ہر کوئی نہیں جان سکتا۔۔ اس نے گھنی پلكیں اٹھا کر راحم کو دیکھا اور دلکشی سے مسکرائی۔۔ اس کے گال پر ہلکا سا ڈمپل ابھر کر معدوم ہو گیا۔۔
کیشا ہے میلا پالا شا بےبی ۔۔۔؟؟ اس کے مخاطب کرنے پر راحم نے شرما کر ایک ہاتھ اپنی ایک آنکھ پر رکھ لیا جبکہ دوسری آنکھ سے وہ شرارت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی معصوم سی ادا پر انا ہنسنے لگی۔۔
اس کی کھلکھلاہٹ ویر نے بغور سنی جو خود بھی راحم کی حرکتیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔
آ میلے بےبی کو شما آ رئی ہے،، انا نے محظوظ ہو کر اسے دیکھا۔۔
آ دو پاش میلے ،، مِٹھَو دُو دا اِدَل ،، ( آ جاؤ میرے پاس ،، پاری دوں گا ادھر) راحم نے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
میں آؤں گی آپ سے ملنے۔۔ راحم پارا بے بی ہے نہ ،، میری بات مانتا ہے نہ۔۔۔۔؟ انا کے استفسار پر راحم نے فوراً سر ہلایا۔۔
چلو شاباش لیٹ جاؤ اور شو جاؤ۔۔۔ راحم نے ضرورت سے زیادہ ہی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے موبائل کی سکرین ویر کی طرف کر دی،، بابا جے لو ،، اور خود فوراً لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔۔
سکرین پر ویر کو شرٹ لیس دیکھ کر انا کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔ دونوں کی نظریں ملی ہی تھیں کہ انا نے فوراً کال بند کر دی۔۔۔
ویر نے سٹپٹا کر شیطان کے “خالو” کو دیکھا جو مزے سے آنکھیں بند کیے سونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔۔
پھر اس نے موبائل پر چلتے سکرین ریکارڈر کو بند کر دیا اور بلا ارادہ گیلری کھول کر اس نے انا کی ویڈیو نکالی۔۔
چند لمحے وہ سکرین کو گھورتا رہا پھر اس نے آواز بند کر کے ویڈیو پلے کر دی۔۔
نیم وا آنکھوں سے اسنے انا کی آنکھوں کو دیکھا۔۔۔ آنکھوں سے ہوتی اس کی نظر اس کے گال میں پڑتے ڈمپل سے اسکے ہونٹوں پر گئیں۔۔۔
وہ کسی بات پر کھلکھلائی تھی۔۔ ہمم كیوٹ ہے،، اس نے دل میں تبصرہ کیا۔۔
اور معصوم بھی اور اداس بھی لگتی ہے۔۔ عجیب بھی ہے جیسے اپنے اندر گہرے راز چُھپاۓ ہوئے ہے۔۔۔
دل میں چلتے تبصروں کو بریک لگا کر اس نے ویڈیو بند کی اور موبائل سائیڈ پر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
چھن سے شرمندگی سے سرخ پڑتا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے اپنے آپ کو ڈپٹا اور نیند سے بوجھل آنکھیں بند كرلیں۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
عین ہڑبڑا کر اٹھ گئی۔۔ جہان نے اسکی نیلی سوجھی آنکھوں سے نظریں چرائیں۔۔ اسکے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان تھے۔۔
اٹھو یہاں سے،، گئی کیوں نہیں ابھی تک۔۔ عین اپنے زخمی ہاتھ کو کمر کے پیچھے چھپا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور خاموشی سے سر جھکاۓ اپنے پاؤں کو تکنے لگی۔۔
کیا چھپا رہی ہو ۔۔؟ اس نے تیوری چڑھا کر پوچھا تو عین نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا تو جہان نے نظریں چرائیں۔۔۔
دکھاؤ مجھے ،، اس نے عین کا ہاتھ پکڑ کر سامنے کیا جو بری طرح کچلا گیا تھا۔۔
ہونٹ بھینچ کر اس نے ہاتھ کا جائزہ لیا،، چلو اندر۔۔۔
عین نے اسکی طرف دیکھا،، اب برداشت کر لیں گے آپ۔۔؟
جہان نے غصے سے اسے دیکھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں رکھے صوفے پر پٹخنے کے انداز میں بٹھایا۔۔
عین کی آنکھوں میں نمی تیر گئی،،، وہ آنکھیں جهپک جھپک کر آنسو روکنے لگی۔۔
جہان فرسٹ ایڈ باكس لے کر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکے ہاتھ پر جما خون صاف کرنے لگا۔۔ عین بے دیہانی میں اسے دیکھے گئی۔۔
اجلی پیشانی پر بکھرے کالے بال ،، آنکھوں پر جھکی گھنی پلكیں،، مغرور ناک اور بھنچے ہوئے ہونٹ۔۔۔ داڑھی بڑھنے سے وہ پہلے سے بھی زیادہ وجیہہ اور مغرور لگنے لگا تھا۔۔
اسے مسلسل اپنے آپ کو تکتے پا کر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو عین نے نظریں جھکا لیں۔۔
کیا ہوا۔۔؟ کیا اب تمہارے دل میں میرے لیے فیلنگز آنے لگی ہیں۔۔؟ اسکے کاٹدار لہجے پر عین ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھے رونے لگی۔۔
رو رو کر اس کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا تو جہان نے سرد نظروں سے اسے دیکھا اور اس کے ہاتھ پر پٹی باندھنے لگا۔۔
اچانک عین کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی جو پٹی میں جکڑا ہوا تھا۔۔ توصیف کو مارنے سے اسکے ہاتھ کی جلد پھٹ گئی تھی۔۔
یہ کیا ہوا آپکو ۔۔۔؟ عین نے فکرمندی سے پوچھا
تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔؟
میں اس لیے پوچھ رہی ہوں کیونکہ۔۔۔!
کیونکہ۔۔۔؟ جہان نے اٹھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھا تو وہ بھی کھڑی ہو گئی۔۔
کیونکہ مجھے آپ کی فکر ہے،، عین نے سادگی سے کہا تو جہان کو پھر غصہ آنے لگا۔۔
تمھیں میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ اور یہ ڈرامے کسی اور کے سامنے کرنا جا کر ،، جہان سنگدلی سے کہہ کر مڑا ہی تھا کہ عین نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔
ایسا کیوں کر رہے ہیں آپ،، مجھے۔ تکلیف۔ ہو رہی ۔ ہے ۔۔۔
جہان اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔۔
اس نے آہستہ سے اپنے بازو سے اسکا ہاتھ ہٹایا اور خاموشی سے اسے بلکتے دیکھنے لگا۔۔
آپ پہلے تو ایسے نہیں تھے۔۔!
پہلے حالات بھی ایسے نہیں تھے۔۔ اور اب ،، جہان نے اس پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا۔۔
کیوں اب کیا ہے ۔۔؟ عین نے ضدی لہجے میں کہا تو جہان نے اسے کاندھے سے پکڑ کر قریب کیا ،،
اب میں تمہارا شوہر ہوں ۔۔ اس کی نیلی آنکھوں میں اپنی کالی آنکھیں گاڑ کر اس نے چبا کر کہا۔۔
عین فوراً جھجھک کر دور ہوئی۔۔
اب خود بھی سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو سکون برباد کر دیا ہے میرا۔۔۔ غصے سے بڑبڑا کر وہ بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا۔۔
میں کہاں سوؤں گی؟؟ عین نے جھجھک کر پوچھا۔۔
کیا اب تمہیں اپنے ساتھ سلاؤں میں۔۔۔؟ کمرے میں بہت جگہ ہے جہاں مرضی سو جاؤ اور اب تمہاری آواز نہ نکلے۔۔
چار و ناچار وہ ٹو سٹر صوفے پر سکڑ کر لیٹ گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اگلی صبح جب جہان کی آنکھ کھلی تو وہ کمر پکڑے رونی صورت بنائے بیٹھی تھی،، اس کا دوپٹہ صوفے سے نیچے لٹک رہا تھا۔۔
دوپٹے کی ہوش بھلاۓ وہ کمر کو دبا رہی تھی جو ساری رات ایک کروٹ لیٹنے سے اکڑ گئی تھی۔۔
جہان نیند کا خمار آنکھوں میں لیے اسے دیکھے گیا۔۔ خوبصورت لمبے بال ڈھیلے جوڑے کی صورت پشت پر گرے ہوئے تھے۔۔
ہوش کی دنیا میں واپس آتے اس نے عین کے کمسن حسن سے نگاہ ہٹائی اور ایک بھرپور انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا۔۔
عین نے فوراً دوپٹہ کاندھے پر ڈال کر پھیلایا اور بغیر اسے دیکھے باہر نکل گئی۔۔
جہان بیزاری سے بستر سے نیچے اترا اور شاور لینے چلا گیا۔۔ شاور لے کر وہ جلدی جلدی آفس کے لیے تیار ہوا اور بغیر ناشتہ کیے روانہ ہو گیا۔۔
آئمہ اسے آوازیں ہی دیتی رہ گئیں لیکن مجال ہے کہ اس نے مڑ کر بھی دیکھا ہو۔۔
وہ افسردہ سی عین کے ساتھ ناشتہ کرنے لگیں۔۔ عین نے ان کی خوشی کی خاطر چند لقمے لیے اور پھر معذرت کرتی كالج کے لیے تیار ہونے چلی گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہاں نعیم میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔۔ سب کچھ تمهارے سامنے ہی ہے۔۔ میں نے ان دونوں کا بھلا ہی چاہا ہے۔۔
ابھی ہان بہت ناراض ہے مجھ سے۔۔ بات بھی نہیں کر رہا۔۔
ہاں ارم کی شادی کے لیے آؤں گی تو پندرہ بیس دن رہوں گی۔۔
مجھے بھی ملے کافی وقت ہو گیا ہے بس جہان کی وجہ سے نکلا نہیں جاتا تھا۔ اب اسکی بیوی ہے سنبهالے خود۔۔
ایسے دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔۔
اندر داخل ہوتی عین دروازے پر ہی رک گئی۔۔ آئمہ جو فون کال پر اپنے بڑے بیٹے سے بات کر رہی تھیں عین کو دیکھ کر اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔
ہاں ٹھیک ہے بس تم عباس کو بھیج دو میں اس کے ساتھ آ جاؤں گی۔۔ انہوں نے نعیم صاحب کے بڑے بیٹے کا نام لے کر کہا اور خدا حافظ کہہ کر کال بند کردی۔۔
نانو آپ کہاں جا رہی ہیں۔۔؟؟ مجھے پتہ ہے آپ ہان بھا۔۔۔ میرا مطلب ہے ان کی وجہ سے جا رہی ہیں۔۔؟
نہیں پگلی،، نعیم کی بیٹی کی شادی ہے ،، جانا ضروری ہے۔۔ اور میں کون سا ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں۔۔ آ جاؤں گی۔۔ آئمہ نے اسے پیار سے کہا تو وہ روہانسی ہو گئی۔۔
میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر۔۔ اس نے انکی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔۔
بس چند دن کی بات ہے اور ہان بھی تو ہے نہ ۔۔۔
ان کی تو بات ہی نہ کریں آپ کھڑوس کہیں کے،، ویسے سب پوچھیں گے نہیں کہ وہ کیوں نہیں آئے۔۔؟ عین کے منہ بنا کے کہنے پر آئمہ ہنس دیں۔۔
ہش پگلی ایسے نہیں کہتے شوہر کو۔۔ اور کام کا بہانہ کر دوں گی میں،، مجھے پتہ ہے وہ نہیں جائے گا ،، بہت ضدی ہے۔۔
نانو وہ شوہر کم ڈریکولا زیادہ لگتے ہیں،، مجھے تو ڈر لگتا ہے اب ان سے۔۔
چل پگلی ،، ٹھیک ہو جائے گا وہ،، بہت پیارا ہے میرا ہان ۔۔ بات کرتے کرتے ان کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی ۔۔
یہ کیا ہوا ہے ۔۔؟ انہوں نے پریشانی سے پوچھا تو عین بوکھلا گئی ۔۔
وہ ۔۔وہ غلطی سے دروازے میں آگیا تھا۔۔
کتنی لاپرواہ ہو تم خیال رکھا کرو اپنا اور اب اپنے بننے سنورنے پر توجہ دیا کرو۔۔ عورت کو گھر بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔۔ تم ابھی چھوٹی ہو اس لیے یہ باتیں سمجھا رہی ہوں۔۔ ٹھیک ہے ۔۔؟؟
انہوں نے پیار سے اسکے گال پر ہاتھ رکھا تو اس نے محض سر ہلا دیا۔۔
