Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 Last updated: 10 November 2025
No Download Link
Rate this Novel
Ik Paigaam Muhabbat
By Hina Asad
اس نے ایک دفعہ پھر سے پڑھنے کی کوشش کی لیکن بے کار!!! وه کب سے پڑھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن سب کچھ سر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔۔ کل اسکا انگلش کا پیپر تھا۔۔ سب کچھ یاد کرنے کے باوجود اب ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کبھی پڑھا ہی نہیں۔۔ ٹینشن سے وہ رو دینے کو ہوئی۔۔ وه سویرے سویرے ہی پیپر کی تیاری کے لیے جاگ گئی تھی۔۔ کتاب میز پر پٹخ کر اس نے باورچی خانے کا رخ کیا۔۔ گلاس میں پانی انڈیل کر وه کھڑے کھڑے ہی پینے لگی۔۔ جہان جوگنگ سے واپس آیا تو کچن میں اسے کھڑا دیکھ کر یہیں آ گیا۔۔ واہ آج تو لوگ صبح صبح ہی جاگ گئے ہیں۔۔ اس کے ہاتھ سے گلاس پکڑتا وہ اسکا جوٹھا پانی پینے لگا۔۔ مجھے تنگ نہ کریں آپ میں پہلے ہی پریشان ہوں۔۔ اسکی آنکھوں کے گوشے بهیگ گئے۔۔ ارے۔۔ کیا ہوا ہے؟؟ وه سنجیدہ ہوگیا۔۔ کل پیپر ہے میرا اور مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہو رہا،، ایسے لگ رہا ہے سب کچھ بھول گیا ہے۔۔ اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔ اس میں رونے والی کیا بات ہے۔۔ آآ ایسا کرتے ہیں میں تمہیں پریپریشن کروا دیتا ہوں۔۔ آج ویسے بھی فری ہوں میں ۔۔ کیا خیال ہے۔۔؟؟ اس نے عین کے الجھے بال سنوارتے ہوئے کہا تو وہ امید سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ٹھیک ہے۔۔!! میں ناشتہ بنا لوں پھر شروع کرتے ہیں۔۔ ایک گھنٹے بعد وہ اس کے سامنے کتاب رکھے بیٹھی تھی۔۔ اس نے الجھے بالوں کو ایک بار پھر سے گول مول کرتے جوڑے میں قید کر لیا۔۔ چلو ایسا کرو یہ "پندره مضمون" ہیں یہ یاد کرو پہلے،، تمہارے پاس آدھا گھنٹا ہے۔۔ اسے حکم دیتے وہ سکون سے پیچھے رکھے تکیے سے کمر ٹکا گیا۔۔ اسکی بات پر عین کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔ آدھے گھنٹے میں پندرہ مضمون؟؟ ہاں بلکل!! تم انہیں رٹے نہ لگاؤ بلکے انکے ٹاپک کو دیکھ کر ڈیٹیل ایک نظر دیکھ لو۔۔ کرنی تو سیلف رائٹنگ ہی ہے۔۔ اس نے ٹِپ دی۔۔ اوکے!! سر ہلا کر وه صوفے پر بیٹھ گئی اور وقت کو مد نظر رکھتی تمام مضامین کو ایک ایک نظر دیکھنے لگی۔۔ وقت مکمل ہوتے ہی ہان نے اس سے دو تین ٹاپک لکھوائے جو اس نے بلکل صحیح لکھے۔۔ ویری گڈ!! اب یہ سب چیپٹرز کے صرف آنسر کویسچنز یاد کرو۔۔۔ ایک گھنٹہ کافی ہے۔۔ چلو!! اسی طرح وہ سارا دن اسکے بتائے طریقے کے مطابق پیپر کی تیاری کرتی رہی۔۔ رات کو وہ جلدی سو گئی تا کہ صبح جلدی اٹھ کر سب کچھ دوبارہ ایک نظر دیکھ لے۔۔ جہان سب کاموں سے فارغ ہوتا فریش ہو کر آیا اور نیند میں ڈوبی ہوئی عین کے برابر لیٹ کر اپنا رخ اسکی طرف کر گیا۔۔ اسکے معصوم نقوش کو نظروں سے حفظ کرتے اسکی نگاہ ہونٹ پر ٹکی بالوں کی ایک لٹ پر ٹھہر گئی۔۔ اسے ناجانے کیوں جیلسی محسوس ہوئی۔۔ انگلی کی پور سے اس نے نہایت آہستگی سے لٹ کو ہونٹ کے اوپر سے ہٹا دیا۔۔ وارفتگی سے اسکے لبوں کو تکتے وه جھکتا اپنے لبوں سے ہلکا سا چوم گیا۔۔ باری باری وہ اسکے باقی نقوش کو چومنے لگا۔۔ وہ نیند میں کسمساتی اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔۔ اسکی نیند خراب ہونے کے خیال سے وہ اپنے آپ کو مزید گستاخیاں کرنے سے بعض رکھ گیا۔۔ اس کے بازو کو پکڑ کر اپنے گرد حائل کرتے وہ اسے مکمل اپنے حصار میں لیتے آنکھیں موند گیا۔۔ 🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿 ہان پیچھے ہٹیں!! اللّه اتنا وقت ہو گیا۔۔ دیر سے آنکھ کھلنے پر وہ رو دینے کو ہوئی۔۔ جہان نے كسمسا کر آنکھیں ہلکی سی وا کیں۔ اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتا وہ سیدھا لیٹ گیا۔۔ وہ جلدی سے واش روم میں گھس گئی۔۔ لائٹ شیڈ كیپری شرٹ زیب تن کیے وہ عجلت میں باہر نکلی اور کتاب پکڑتی جلدی جلدی چکر لگاتی پڑھنے لگی۔۔ دو گھنٹوں بعد اسے کمرہ امتحان میں پہنچنا تھا۔۔ ہان اٹھ کر فریش ہوتا کچن میں چلا گیا۔۔ واپسی پر اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے میں انڈا اور بریڈ کے دو سلائس تھے۔۔ وہ بیڈ پر اس کے مقابل بیٹھ گیا۔۔ بریڈ کا ٹکڑا توڑ کر اس نے اعین کے سامنے کیا جو کتاب میں بری طرح غرق اسکی موجودگی سے بھی لا علم تھی۔۔ عین یہ کھا لو یار اتنی ٹینشن نہ لو بہت اچھا ہو گا پیپر۔۔ وه فکر مندی سے اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔ وه اسکا بڑھایا ہوا نوالہ منہ میں ڈالتی ساتھ ساتھ پڑھنے لگی۔۔ خالی برتن سائیڈ پر رکھتے وه ڈریسنگ سے برش اٹھا لایا اور اسکے جوڑے کو کھول دیا۔۔ عین نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اوں ہوں!! رہنے دیں۔۔ وہ عجلت میں بولی۔۔ میں کر رہا ہوں نہ!! کھڑے ہوئے ذرا سا جھکتے وہ اسکے گال پر بوسہ دے گیا۔۔ عین کے ماتھے کی شکنیں ختم ہو گئیں۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے کتاب سائیڈ پر رکھ دی۔۔ اب میں اسکو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی،، اف شدید سر درد ہورہا ہے۔۔ وہ نان سٹاپ بولنے لگی۔۔ ہلو نہیں سیدھی بیٹھو!! عین کے بار بار ہلنے سے بال اسکے ہاتھوں سے پهسل جاتے جس پر وہ جھنجهلا گیا۔۔ لمبے الجھے بالوں کو اچھی طرح سلجھا کر اس نے جیسے تیسے کر کے ڈھیلی پونی میں باندھ دیا۔۔ جو اسکی ساری کمر کو ڈهانپ گئی۔۔ ہان!! وہ کھڑی ہوتی اس کے گرد بازو حائل کرتی سینے پر سر ٹکا گئی۔۔ جی جان!! اس کے لاڈ سے بولنے پر وہ جی جان سے قربان ہوا۔۔ مجھے تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے۔۔ پیپر اچھا ہو گا نہ؟؟ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ہمم بہت اچھا ہوگا۔۔ وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتا اس کا سر چوم گیا۔۔ وہ سادگی سے مسکرا دی۔۔ چلیں میں شوز پہن لوں تب تک آپ بائیک سٹارٹ کریں۔۔ اس نے گلے میں سٹالر ڈال کر کہا۔۔ تم ایسے جاؤ گی ؟؟ کیوں کیا ہوا؟ وہ اپنی طرف دیکھ کر گویا ہوئی۔۔ "نہیں مجھے کوئی مسلہ نہیں لیکن اگر کسی نے تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔" اس کے پر شدت لہجے پر اسکے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔۔ اس نے الماری سے شال نکالی اور اچھی طرح اوڑھتی اسکے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ نانو دعا کیجیے گا میرے لیے۔۔۔ وہ آئمہ سے ملتی عجلت میں باہر نکل گئی۔۔ آئمہ ارے ارے ہی کرتی رہ گئیں۔۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے ان دونوں کے بارے میں سوچنے لگیں۔۔ ماشاءالله ایسا لگتا ہے ان دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔۔ اللّه میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔ وہ آسودگی سے مسکرا دیں۔۔
