Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 13
انا نے وائس نوٹ پلے کیا تو ویر کی بھاری آواز پر اس کا دل اچانک دھڑک اٹھا۔۔ اس نے پریشان ہو کر اپنے آپ کو ڈپٹا۔۔
مجھے مردوں کی بھاری آواز پسند ہے بس اس لیے ایسا ہوا اور تو کوئی بات نہیں۔۔اپنے آپ کو تسلی دے کر اس نے عبایا پہنا اور کمر پر لٹکتی بیلٹ کو ڈھیلا کر کے باندھ دیا۔۔
سیاہ حجاب کو اوڑھ کر اس نے چہرے کو نقاب سے ڈھکا۔۔ سیاہ نقاب میں اس کی بھوری گہری آنکھیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔۔
پاؤں میں سیاہ ہی جوگرز پہن کر اس نے پرس کاندھے پر ڈالا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
ماما میں اپنی دوست کے گھر جا رہی ہوں۔۔۔ تھوڑی دیر تک آ جاؤں گی۔۔
اچھا جلدی آ جانا اور دیہان سے جانا۔۔
حنا کی تاکید پر وہ سر ہلا کر گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
السلام علیکم !! آواز پر انا نے مڑ کر دیکھا تو ویر کو اپنے پیچھے دیکھ کر گڑبڑا گئی۔۔
وعلیکم السلام ! اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے جواب دیا تو ویر نے پزل ہوئی انا کو دیکھا۔۔
آپ اندر نہیں گئیں۔۔۔؟ میں نے بابا کو انفارم کر دیا تھا۔۔
نہیں وہ بس میں جا ہی رہی تھی۔۔
آئیں ،،، ویر کی ہمراہی میں وہ اندر داخل ہوئی تو اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔ گھر کو بہت قرینے سے ترتیب دیا گیا تھا۔۔
اچانک اسکی نظر میر پر پڑی جو راحم کو گدگدانے میں مصروف تھا۔۔ تُشِی کِنّے شونے او ،، میر نے اس کے گال کو زور سے چوم کر کہا تو راحم نے اس کے چہرے پر ننھے ہاتھوں سے تھپڑ مارا۔۔۔
یار اتنے چھوٹے سے ہاتھوں میں اتنی پاور کیسے لاتے ہو ۔۔؟
راحم نے اس کی طرف دیکھ کر منہ بنایا اور اسکی گود سے اتر کر بھاگا۔۔
فرش پر ایک جگہ ذرا سا پانی گرا تھا جو میر صاف کرنا بھول چکا تھا۔۔۔
او تیری رک جا میرے باپ۔۔۔
راحم کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے پانی میں گرا۔۔
ویر فوراً بڑھا اور راحم کو اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔
اسے کہتے ہیں “گئی بهینس واٹر میں ” میر کے تبصرے پر انا کی ہنسی گونجی۔۔۔
تب میر کو اسکی موجودگی کا احساس ہوا۔۔ وہ جهینپ گیا۔۔
السلام علیکم ! انا نے عدیل شاہ کو دیکھ کر سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام آؤ بیٹا بیٹھو۔۔ بہت اچھا لگا تمھیں یہاں دیکھ کر۔۔
انا سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔
یہ میرا بیٹا ہے ،، شاہ میر۔۔
ویر نے شاہ میر کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی جو انا کے سامنے زمانے بھر کا معصوم بنا بیٹھا تھا۔۔۔
بابا میں آتا ہوں۔۔۔ راحم کی طرف اشارہ کر کے وہ اوپر کی طرف جاتی سیڑھوں میں غائب ہوگیا۔۔
انا نے عدیل شاہ کو دیکھا جو اسکی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔ یا اللّه خیر ہو یہ اتنا مسکرا کیوں رہے ہیں مجھے دیکھ کر۔۔۔
اس نے گلا کھنکارا۔۔ آپ اکیلے رہتے ہیں یہاں،، آئی مِین کوئی لیڈی نہیں ہیں یھاں۔۔؟
نہیں بیٹا ہم باپ بیٹے ہی رہتے ہیں بس۔۔ عائشہ کی ڈیتھ کے بعد سے ایسا ہی ہے۔
عائشہ ۔۔۔؟ انا نے استفسار کیا۔۔
شاہ ویر کی بیوی۔۔ عدیل شاہ نے اداسی سے کہا۔۔
اوہ!! انا نے ترحم سے انہیں دیکھا۔۔۔
اتنے میں شاہ ویر راحم کے ساتھ سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔ دونوں بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس تھے۔۔ انا کے لئے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا کہ کون زیادہ پیارا لگ رہا ہے۔۔
ویر نے راحم کو انا کے پاس زمین پر کھڑا کیا اور خود اس کے بلکل سامنے براجمان ہوگیا۔۔
راحم فوراً خوش ہوتا انا سے لپٹ گیا۔۔ انا نے اسے پکڑ کر گود میں بٹھایا اور نقاب کے اوپر سے ہی اس کے نرم گالوں کو چوم لیا۔۔
کیشا ہے میلا بے بی۔۔؟ انا نے اپنی طرف سے آہستہ آواز میں کہا لیکن خاموشی کی وجہ سے وہ سب کو سنائی دی۔۔
عدیل شاہ اور ویر میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔ میر بغور ان دونوں کو دیکھ کر شرارت سے مسکرایا۔۔
میں تھیت اُوں ،، اِدل آؤ ۔۔۔ راحم نے انا کی گردن کے گرد دونوں بازو رکھے اور انا کے ڈھکے چہرے کو چوم لیا۔۔
ہممم مٹھی اے نہ ۔۔۔؟
انا نے جهینپ کر ویر کو دیکھا جس نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے منہ پر مٹھی کی صورت ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
میر،، آپی کو کمرے میں لے جاؤ ۔۔۔ انہیں خیال تھا کہ ان کے سامنے وہ کچھ بھی کھا پی نہیں سکے گی اور ایسے ہی وہ اسے جانے دینے والے نہیں تھے۔۔ اس لئے انہوں نے اسے ڈرائنگ روم میں لے جانے کا کہا۔۔
نہیں انکل میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔ انا نے سمجھ کر شائستگی سے انکار کیا۔۔
ایسے کیسے بیٹا۔۔۔کیا ہم اتنے ارضاں ہیں کہ آپ ہمیں خدمت کا موقع بھی نہیں دیں گی۔۔
ان کی بات پر انا شرمندہ ہو گئی۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے واقعی۔۔۔۔۔
بیٹے ضد نہیں کرتے۔۔ انکے پیار سے کہنے پر وہ میر کے ساتھ چلی گئی۔۔
آ جائیں۔۔۔ میر نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔۔
میر کے جانے کے بعد وہ بد دلی سے بیٹھی اور بغیر کسی دوسری چیز کو ہاتھ لگائے کولڈ ڈرنک کا گلاس پکڑ لیا۔۔
نقاب اتار کر وہ آہستہ آہستہ مشروب حلق سے نیچے انڈیلنے لگی۔۔
اچانک راحم زور زور سے رونے لگا ۔۔۔انا نے دہل کر دروازے کو دیکھا۔ اس نے اٹھ کر دروازے
سے باہر جھانکا تو ویر پریشانی سے راحم کو چپ کروا رہا تھا جو صوفے سے گر کر بری طرح رو رہا تھا۔۔
بس میرا بیٹا کچھ بھی نہیں ہوا،، راحم تو بہت بریو ہے۔۔۔
انا سے مزید برداشت نہ ہوا۔۔ لائیں مجھے دیں،، اسکی آواز پر ویر نے ایک لمحے کے لئے اسے دیکھا اور پھر راحم کو لئے روم میں آیا۔۔
انا نے فوراً راحم کو پکڑ لیا اور اسے چپ کروانے لگی۔۔ بس میرا بچہ ،، میری جان ،، اس نے راحم کو چوم کر سینے سے لگا لیا۔۔
اس کے سینے سے لگتے ہی وہ چپ ہوگیا۔۔ راحم کو پکڑے وہ صوفے پر بیٹھ گئی اور اسے گلاس میں سے پانی پلانے لگی۔۔
کا ہوا میری چھوٹی شی جان کو۔۔۔ کش نے مالا۔۔۔؟
جواباً راحم نے اس کے سینے میں پھر سے سر چھپا لیا۔۔ انا نے نرمی سے اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔۔
اپنے چہرے پر کسی کی نظریں محسوس کر کے اس نے سر اٹھایا تو ویر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
انا کو تب پہلی بار احساس ہوا کہ وہ بغیر نقاب کے ہے۔۔ اس نے فوراً چہرہ ڈھکا تو ویر کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔۔
لائیں مجھے پکڑا دیں ،، بہت معذرت کہ آپ کو تکلیف اٹھانی پڑی۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔
انا نے نظریں جھکا کر کہا اور راحم کو اس کے حوالے کیا۔۔
وہ کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ راحم نے اسکا دوپٹہ پکڑ لیا۔۔
ماما ۔۔۔۔؟
اسکی پکار پر انا اور ویر اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔۔
نہیں یہ سب نہیں ہونا چاہیے ۔۔ یہ۔۔ یہ غلط ہے۔۔ بغیر مڑ کر دیکھتے وہ تیزی سے دروازہ عبور کر گئی۔۔ راحم مسلسل اسے پکار رہا تھا۔۔ اس کی آنکھ کے گوشے بهیگ گئے۔۔
اچھا انکل میں چلتی ہوں۔۔ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔ عدیل شاہ نے اسے سر پر پیار دیا تو وہ خدا حافظ کہہ کر تیزی سے نکل گئی۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
میں اس حالت میں بھی تمهارے ساتھ بہت کچھ کر سکتا ہوں۔۔ آئی سمجھ۔۔؟ اسکے مطلب کو سمجھ کر عین سرخ کانوں کے ساتھ بجلی کی سپیڈ سے کمرے سے نکل گئی۔
تھوڑی دیر بعد وہ ایک باؤل میں كپڑا بگھو کر نمودار ہوئی۔۔ باؤل اور پین کلرز اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھیں اور بیڈ پر دراز جہان کے پاس بیٹھ گئی جو نیم غنودگی کی حالت میں تھا۔۔
اس نے جھک کر اسکے چہرے سے بازو ہٹایا جو بخار کی حدّت سے دہک رہا تھا۔۔
اس کے بال لہرا کر جہان کے کاندھے پر گرے۔۔
جہان نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا جو اس پر جھکی فکرمندی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
عین نے اپنا ٹھنڈا ہاتھ اسکی پیشانی پر رکھا تو اس نے سکون محسوس کرتے آنکھیں موند لیں۔۔
اس نے پٹی پانی میں بھگو کر جہان کے ماتھے پر رکھی اور پھر یہی عمل دوہرانے لگی۔۔
باہر رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔۔ چاند پراسرار سا مسکرا کر بادلوں کی اوٹ میں ہو گیا۔۔
عین نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکی۔۔
مسلسل ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے سے جہان کا بخار اب قدرے کم ہوگیا تھا۔۔
اس نے اسکے بکھرے بال سنوارے تو جہان نیند میں کسمسایا۔۔
عین پیچھے ہونے لگی کہ جہان نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اسے جھٹکے سے اپنے اوپر گرایا اور اپنے مضبوط بازوؤں میں قید کر کے کروٹ کے بل لیٹ گیا۔۔
عین کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا،،، شرم و حیا سے اسکا چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑ گیا۔۔
میں نے کہا تھا نہ جاؤ یہاں سے ،،، لیکن تم نہیں گئی۔۔؟ اس نے بوجھل آواز میں اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تو عین نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔
جہان نے اسکے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کو دیکھا،،، آنکھوں میں خمار لیے وہ اس پر جھکا۔۔
اس کے ہونٹ عین کے ہونٹوں سے ہلکے سے مس ہوئے ہی تھے کہ عین نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔۔
یہ ۔۔ یہ ۔۔کیا ۔۔کر ۔۔رہے ۔۔ہیں ۔۔آپ ۔۔ اس نے اسے پیچھے ہٹایا اور دھڑکتے دل سے بمشکل کپكپاتی واز میں کہا۔۔
جہان کے حواس آہستہ آہستہ بحال ہوئے تو اسے اپنی حرکت کا ادراک ہوا۔۔
اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے اور غصے سے عین کو دیکھا۔۔
عین نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ یہ آپ مجھے کیوں اب گھور رہے ہیں ،، یہ تو وہی بات ہوئی کہ “ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری”۔۔ آپ خود وہ ۔۔۔۔
کیا میں وہ ۔۔۔؟ ہاں ۔۔؟ جہان نے غصے سے اسے بازو سے گهسیٹ کر اپنے سامنے کیا۔۔
آپ ایسا کریں میرا بازو توڑ کر نہ اپنے پاس رکھ لیں۔۔ یہ لیں رکھ لیں ،، ویسے بھی جتنی دفعہ آپ مجھے ایسے کھینچ چکے ہیں اگلی دفعہ بازو آپ کے ہاتھ میں ہی آ جانا ہے۔۔ عین نے غصے سے نتھنے پھلا کر کہا تو جہان کا غصہ کہیں غائب ہوگیا۔۔
اس نے اسکے خوبصورت نقوش سے نظریں چرائیں اور بغیر کچھ کہے اس کی طرف سے رخ پھیر کر لیٹ گیا۔۔
ہنہ ۔۔۔ عین نے ہنکارا بھرا اور بیڈ کی دوسری سائیڈ لیٹ گئی۔۔
اس نے دوپٹہ گلے سے نکال کر تکیے کے ساتھ رکھا اور بلینکٹ کھینچ کر اپنے اوپر لے لیا۔۔
جہان نے فوراً گردن موڑ کر اسے دیکھا جو مزے سے اسکے بستر پر اسکا بلینکٹ کھینچ کر سونے کی تیاری کر رہی تھی۔۔
تم ۔۔ اٹھو یہاں سے ،،، چلو اترو۔۔۔
لیکن عین ڈھیٹ بنی لیٹی رہی۔۔
تمہیں سنائی نہیں دے رہا ۔۔ جہان نے دانت پیس کر اسے دیکھا اور بلینکٹ اس کے اوپر سے کھینچ لیا۔۔
عین غصے اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات سے اپنی قمیض ٹھیک کر کے اٹھی۔۔
آپ کو شرم نہیں آتی ایک معصوم نوجوان حسین لڑکی پر سے ایسے بلینکٹ کھینچتے،،، اس نے دانت کچکچا کر کہا۔۔ بس اسے کچا چبانے کی کسر باقی رہ گئی تھی۔۔
تو تم سے کس نے کہا کہ یہاں سو ۔۔ چلو اترو یہاں سے،، جہان کی تیوری چڑھی۔۔
کیوں جاؤں میں،، ایک تو اتنی دیر تک آپ کے لیے جاگتی رہی میں اور ویسے بھی اس کمرے پر آپ کا جتنا حق ہے اتنا ہی میرا بھی ہے کیوں کہ بیوی ہوں میں آپ کی،، آئی سمجھ۔۔۔؟
وہ اسکے بلکل سامنے ایک ہاتھ کمر پر ٹکا کر اور دوسرا ہاتھ نچا نچا کر بولتی ہوئی اسے حقیقی معنوں میں اپنی بیوی ہی لگی۔۔۔
اچھا تو سو پھر یہاں ہی تم ،،، جہان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور تکیہ دبوچ کر صوفے کی طرف بڑھا۔۔
کھی کھ کھی۔۔۔ عین نے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔۔
مجھ سے تو سویا نہیں گیا صوفے پر تو یہ اتنا بڑا جن کہاں سے پورا آۓ گا۔۔
اپنی زبان کے جوہر دکھا کر وہ كمبل میں دبک گئی۔۔ اس نے بتیسی نکال کر ہاتھ کی انگلیاں سامنے کیں،، ایک ، دو ، تین اور یہ بیڈ پر تکیہ پٹخنے کی آواز آئی۔۔
جہان بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا اور كمبل کھینچ کر اپنی طرف کیا۔۔
عین نے زور سے كمبل پکڑ لیا اور اپنے نیچے کر لیا۔۔ جہان کا ضبط اب کی بار جواب دے گیا۔۔
اس نے عین کو اپنی طرف کھینچا جس سے وہ كمبل سمیت اس کے سینے سے آ لگی۔۔
اس نے اسکی ٹانگوں پر اپنی ٹانگیں رکھ لیں اور اسے اپنے حصار میں لے کر آنکھیں موند گیا۔۔
عین بے حد کسمسائی لیکن جب آزاد ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آئی تو اس کے کندھے پر زور سے دانت گاڑے اور پٹ سے آنکھیں بند کر گئی۔۔
سس ،، جہان نے خونخوار نظروں سے اس جنگلی بلی کو دیکھا اور بدلے کے طور پر اپنا حصار اس کے گرد تنگ کردیا۔۔
اسی طرح نوک جھونک میں جانے کب دونوں نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اپنے بے حال ہوتے دل کو سنبهالتی وہ سڑک پر آئی اور ہاتھ دکھا کر رکشہ روکا۔۔
کہاں جانا ہے بی بی ۔۔؟
انا جواب دیے بغیر رکشے میں بیٹھ گئی۔۔
بھائی چلو میں بتا دوں گی کہاں اتارنا ہے۔۔
رکشے والے نے اسکی بھرائی آواز سن کر سامنے نصب شیشے سے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنے کاندھے پر کپڑا رکھ کر رکشہ چلا دیا۔۔
انا گود میں سر رکھ کر پھپھک پھپھک کر رو دی۔۔ پتہ نہیں کون کون سے غم یاد آنے لگے تھے۔۔
وہ مجھے ماما کیسے کہہ سکتا ہے۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا لیکن اللّه تعالیٰ میرا دل کیوں اس کی طرف ہمکتا ہے۔۔ کیوں مجھے راحم سے محبت ہو گئی ہے۔۔ کیوں مجھے وہ اپنا لگتا ہے۔۔ اللّه یہ مجھے کیا ہورہا ہے۔۔
گود سے سر اٹھا کر اس نے آنسو پونچھ کر باہر دیکھا۔۔ بھائی بس یہیں روک دیں۔۔
رکشے والے کو پیسے پکڑا کر وہ نیچے اتری اور بغیر ارد گرد کا ہوش کیے سیدھ میں چلنے لگی۔۔
ذہن کے پردے پر یادوں کے عکس منڈلا رہے تھے۔۔ وہ اس سے اظہارِ محبّت کررہا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو شفاف موتیوں کی مانند گرے اور سیاہ نقاب میں جذب ہو گئے۔۔
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
سب کے ہوتے ہوئے ایک روز وہ تنہا ہوگا۔۔۔!!!
پھر وہ ڈھونڈے گا ہمیں اور نہیں پائے گا وہ۔۔!!!
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
مقام : داتا دربار ۔۔ لاہور !
وہ سسکتی ہوئی چلتی جا رہی تھی ۔۔ پھر داتا سرکار کے دربار کے باہر وہ رک گئی۔۔
چند قدم بڑھا کر وہ رک گئی۔۔ اس نے اپنے پاؤں جوتوں سے آزاد کر دیے۔۔
ننگے پاؤں وہ چوکھٹ پھلانگ گئی۔۔
اس نے مزار پر فاتح پڑھی اور وہاں سے پیچھے صحن کی طرف چلی گئی جہاں قوال بیٹھے طبلے کی تھاپ پر قوالی بول رہے تھے۔۔
عجب سماں بندها تھا۔۔ پیر دھرنے کی جگہ نہ تھی۔۔ جونهی طبلے پر زور کی تھاپ پڑی لوگوں اونچی آوازوں میں قوالی کے بول بولتے انکا ساتھ دینے لگے۔۔
لجپال ،، لجپال ،، لجپال ،، لجپال
لجپال نبیﷺ میرے ،، لجپال نبیﷺ میرے
انا وہیں ایک کونے میں گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گئی۔۔ اسکی سسکیاں لوگوں کے شور میں دب سی گئیں۔۔
“لجپال نبیﷺ میرے ،،
درداں دی دوا دینااااا
جدو وقت نزع آئے اے ،،
جدو وقت نزع آئے اے
دامن دی ہوا دینا آ آ آ آ “
وہ بلک بلک کر رونے لگی۔۔ وہ آج اتنا چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی کہ اس کے اندر پلتے غم اور تکلیفیں ان آنسوؤں میں بہہ جائیں۔۔
ادھر دنیا ہے اور دنیا کے دھندے
اِدھر میرا خدا ہے اور میں ہوں۔۔!!
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو عین کو اپنے حصار میں پایا۔۔ اس نے جھٹکے سے اسے اپنے آپ سے دور کیا۔۔
گزری رات کے تمام مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے ۔۔
جھٹکنے سے عین کی آنکھ کھل گئی ۔۔ وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھی اور ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی جو سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔۔
کک کیا ہوا۔۔؟
یہ تو تم مجھے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے،، کیا کر رہی ہو تم میرے اتنے قریب۔۔؟ وہ اس کے منہ پر داڑھا۔۔
عین نے خوف سے آنکھیں میچ لیں۔
آ آ پ ۔نے۔ خو۔ خود ۔ مجھے ۔ یہاں سل ۔ سلايا تھا ۔۔ میں ۔ تو دور ۔ ہی لیٹی ۔ تھی۔۔۔ .
بکواس بند کرو اپنی ۔۔ دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے ۔۔ جب سے میری زندگی میں آئی ہو میرا سکون برباد کر دیا ہے،،، کاش اس رات میں نے تم پر ترس نہ کھایا ہوتا۔۔
عین کا دل کرچی کرچی ہوگیا،، اس نے آنسو سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔
ات اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔؟ اگر آپ چاہیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے ۔۔ میں اتنی بری تو نہیں ہوں،،، وہ سسکنے لگی۔۔
سوچنا بھی مت ایسا،، میں تم سے کوئی تعلق نہیں قائم کروں گا کیوں کہ میں کسی اور سے محبّت کرتا ہوں۔۔ یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو تم۔۔ زندگی عذاب بنا دی ہے ،، چلی کیوں نہیں جاتی میری زندگی سے تم ۔۔۔
اس کے دهواں دهواں چہرے پر نظر ڈال کر وہ غصے سے باہر نکل گیا۔۔
عین کا اٹھا ہاتھ نیچے گر گیا،، اس کی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ بہنے لگے۔۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے وا کیے لب بند کر لیے۔۔
اس نے سر کو نفی میں ہلایا۔۔ اسکے دماغ میں جہان کا کہا جملہ بار بار گونج رہا تھا۔۔ تم چلی کیوں نہیں جاتی،، تم چلی کیوں ۔۔۔۔۔۔
دوپٹہ گلے میں ڈال کر اس نے جوتا پہنا اور بغیر کچھ سوچے گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔
اب نہیں ،، نہیں اب آپ کی تکلیف کی وجہ نہیں بنوں گی۔۔ اللّه کرے مر جاؤں میں۔۔ کیوں زندہ ہوں اللّه میں۔۔ بلک بلک کر روتی وہ بغیر سمت کا تعین کیے چلتی جا رہی تھی۔۔
راہ چلتے لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگے لیکن وہ سب سے بے نیاز چلتی جا رہی تھی۔۔
