Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigaam Muhabbat) Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigaam Muhabbat) Episode 22
ٹک ٹک ٹک ٹک!!
ویرانے میں ہیل کی ٹک ٹک کی آواز نے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا۔۔ پنڈلی تک آتے سیاہ ڈھیلے کرتے کے ساتھ سیاہ جینز اور سرخ پینسل ہیل میں وہ تیز قدم اٹھاتی ایک سنسان عمارت میں داخل ہو گئی۔۔
آنکھوں پر گلاسز ٹکاتے اس نے ہاتھ سے چہرے پر موجود نقاب کو مزید درست کیا۔۔ اس کے مطلوبہ جگہ پہنچتے ہی اندر موجود وجود میں حرکت ہوئی۔۔
“کل تک کام ہو جانا چاہئے۔۔ اور یاد رہے کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔ اسے اتنا ذلیل کرنا کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نا رہے۔۔”
تنفر بھری نسوانی آواز ابھری۔۔
یہ لو! اس نے پھولا ہوا لفافہ بڑھایا تو پہلے سے موجود وجود نے لفافہ پکڑ لیا۔۔
“ہو جائے گا کام۔۔!!”
اسکی یقین دہانی پر نسوانی وجود ہیل سے ٹک ٹک کی آواز پیدا کرتا واپسی کے راستے چلا گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
تیل کی بوتل پکڑے وہ لاؤنج میں آئی اور دهپ سے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔ چلو بھئی آجاؤ میر!! اس نے لان کی طرف جاتے میر کو بلایا جو اسکے ہاتھ میں تیل کی بوتل دیکھتا منہ بنا گیا۔۔۔
چلو شاباش آؤ۔۔ بال بہت روکھے ہو گئے ہیں سب کے۔۔ اس نے “سب کے” پر زور دیتے ترچھی نظروں سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف عدیل شاہ اور ویر کو دیکھ کر کہا۔۔
میر اسکے سامنے نیچے قالین پر بیٹھ گیا۔۔ انا نے ہاتھ میں تھوڑا سا تیل ڈالا ہی تھا کہ اسکے بالوں کی مانگ نکالتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔
میر تمہارے سر میں جوئیں ہیں؟؟
اسکی حیرت بھری آواز پر وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا۔۔
کتنے لاپرواہ ہو تم ۔۔۔ اور یہ اتنے لمبے بال کس خوشی میں رکھے ہیں۔۔۔ غضب خدا کا!! اتنے لمبے بالوں کی آسانی سے چوٹی بن جائے گی۔۔ پتہ نہیں کیا اول جلول فیشن کرتے رهتے ہو۔۔ چلو اٹھو بال کٹوا کر آؤ۔۔
“اٹھو سنائی نہیں دے رہا تمہیں!!”
اسکی غصیلی آواز پر وہ چار و نا چار اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اسکی اچھی خاصی طبیعت ستھری ہونے پر ویر اور عدیل شاہ نے ہنسی دبائی۔۔
آپ دونوں کیا دانت نکال رہے ہیں۔۔ چلیں آئیں آپ بھی۔۔
وہ مصنوعی گھوری ڈال کر بولی۔۔
آ۔۔ مجھے تو کام ہے کچھ میں بعد میں لگوا لوں گا،، بابا آپ لگوا لیں ابھی۔۔ عدیل شاہ کو پهسا کر وہ نکل گیا۔۔
وہ کیا کرتے، چپ چاپ انا کی طرف دیکھنے لگے۔۔
انکی معصومیت پر انا کو ہنسی آئی۔۔ وہ انکے پاس جا کر کھڑی ہو گئی اور انکے بالوں میں تیل لگانے لگی۔۔ جب تک وہ سر میں مالش کر کے فارغ ہوئی عدیل شاہ غنودگی میں جا چکے تھے۔۔
اتنی دیر میں میر بھی آ چکا تھا۔۔ چھوٹے کٹے بالوں میں اب وہ قدرے بہتر لگ رہا تھا۔۔ انا نے اسے بٹھا کر پہلے اسکا سر دیکھنا شروع کیا۔۔
میر نے سر کھجایا تو اس نے میر کے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔۔
“دیکھ رہی ہوں نہ میں،، اب تمہارا ہاتھ بالوں تک نا آئے۔۔”
میر نے رونی صورت بنا کر خود کو اسکے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔۔ تقریباً دو گھنٹوں میں وہ اسکا سر صاف کر چکی تھی۔۔ اسکے بعد اس نے میر کے بالوں میں تیل لگا کر خوب مالش کی۔۔
“آپ بہت اچھی مالش کرتی ہیں ماما کی طرح” اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ مسکرا کر گویا ہوا۔۔
تم بھی بیٹے ہی ہو میرے!! اسکا ماتھا چوم کر وه اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
تھینک یو!! ہماری زندگی میں آنے کے لئے۔۔
وہ اس سے لپٹ گیا۔۔
انا نے مسکرا کر اسکی پیٹھ سہلائی۔۔ پلکوں کی جھری سے یہ منظر دیکھتے عدیل شاہ کے رگ و جاں میں سکون سرائیت کر گیا۔۔
بالاخر اب ان کا مکان “گھر” لگنے لگا تھا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
جی آنٹی کیسی ہیں آپ ؟؟ جی ہم سب ٹھیک ہیں۔۔ اللّه کا شکر ہے۔۔ خیریت تھی آپ نے آج اتنے دن بعد فون کیا۔۔ اچھا اچھا انا سے ملنے آنا چاہ رہی ہیں۔۔
اپنے نام پر کمرے کی چیزیں سمیٹتی انا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو نظروں میں اشارہ کرتا فون پر بات کرنے لگا۔۔
ٹھیک ہے ضرور آئیں آپکا اپنا گھر ہے۔ جی جی بابا کو انفارم کر دوں گا میں۔۔ اوکے سب کو سلام دیجیے گا۔۔ اللّه حافظ!!!
کال بند کر کے وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے بیڈ کے کنارے ٹک گیا۔۔
“وہ آنٹی یاسمین تھیں،، بابا کی منہ بولی بہن ہیں۔۔ پہلے ہمارے گھر کے آس پاس ہی رہتے تھے تو وہ اکثر آ کر گھر کے کام کر جاتی تھیں۔۔ بہت نائس ہیں۔۔ وہ آنا چاہ رہی ہیں تم سے ملنے۔۔”
وہ دھیمے لہجے میں انکی آمد کا مقصد بتانے لگا۔۔
اچھا صحیح!! تو کل کے لئے کیا بندوبست کروں پھر۔۔؟؟ وہ سوالیہ ہوئی۔
” آپ کو جو بہتر لگے۔۔”
وہ گویا ہوا تو انا کی نگاہ سائیڈ ٹیبل پر دھرے تیل پر گئی جو وہ رکھ کر بھول چکی تھی۔۔
اہاں!! یہ تو میں بھول ہی گئی۔۔ اب تو آپ بلکل فری ہیں۔۔
اسکی نگاہوں نے تعاقب میں دیکھتے ویر نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔ “ہم تو آپ کے رحم و کرم پر ہیں،، جو چاہیں کیجیے۔۔”
اس کے خالص عاشقانہ انداز پر وه مسکائی۔۔
وه تیل تھامے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی جو بیڈ پر بیٹھا سر اونچا کیے اسے تکنے میں مصروف تھا۔۔
انا نے اس کے سر پر تیل لگاتے ہوئے شرارت سے اسکی داڑھی پر بھی مل دیا۔۔
وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکے پیٹ کے ساتھ سر ٹکا گیا۔۔ اسکے اس انداز پر انا کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہوا۔۔
وہ اسکی کمر تھامے قمیض کے اوپر ہی اپنے لب رکھ گیا۔۔ وه بے اختیار اسے تھامتی گہرے سانس لینے لگی۔۔
و۔۔ ویر ۔۔۔!!
آنکھیں بند کیے گہرے سانس لیتی ہلکی آواز میں وہ اسے پکار گئی۔۔
“جی ویر کی جان ، ویر کے دل کی دھڑکن!!” وہ اسے کمر سے تھامے ہی اپنی اوڑھ کھینچ کر بیٹھے بیٹھے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔ اس کے پیر زمین کو چھو رہے تھے۔۔
آ۔۔ کیا کر رہے ہیں یہ،، آئل لگا ہے میرے ہاتھ پر۔۔ وہ جھنجهلائی۔۔
وہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس پر سایہ فگن ہو گیا۔۔ انا نے تیزی سے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے کجا کہ وہ بیڈ کی چادر کو خراب کر دیتے۔۔
ہاتھ سر سے اوپر اٹھانے سے اسکے جسم کے نشیب و فراز اور بھی نماياں ہو گئے۔۔ اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ویر کی آنکھوں میں سرخ لكیر ابھری۔۔
آپ کی کمر کا سائز کیا ہے۔۔؟؟
وہ اس پر مزید جھکتے بھاری آواز میں گویا ہوا۔۔
“ت۔۔ تئیس!!” اپنے چہرے پر پڑتی اسکی گرم سانسوں سے ہلکان وہ حلق تر کرتے ہوئے بولی۔۔
اتنی پتلی کمر!! “واللہ آپ کی یہ پتلی کمر مجھے پاگل کرتی ہے۔۔”
وہ آنچ دیتے لہجے میں بولتے اسکی کمر پر ہاتھ پھیر گیا۔۔
و ویر ۔۔۔!! اسکی بے باک حرکتوں پر وہ رو دینے کو ہوئی۔۔
اپنے بے لگام ہوئے جذبات کو لگام ڈالتے وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے اوپر سے ہٹ گیا۔۔
وه سرخ چہرہ لیے آہستہ سے اٹھتی ہاتھ دھونے چلی گئی۔۔
“آخر کب تک؟؟ آخر کب تک آپ مجھ سے بھاگیں گی۔۔ آنا تو آپ کو میری طرف ہی ہے”۔۔
دلکشی سے مسکراتے وه بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔۔ اسکی داڑھی میں نماياں ہوتا ڈمپل ذرا کی ذرا جهلک دکھلاتا شرما کر چھپ گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اس نے ایک دفعہ پھر سے پڑھنے کی کوشش کی لیکن بے کار!!! وه کب سے پڑھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن سب کچھ سر کے اوپر سے گزر رہا تھا۔۔
کل اسکا انگلش کا پیپر تھا۔۔ سب کچھ یاد کرنے کے باوجود اب ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ کبھی پڑھا ہی نہیں۔۔ ٹینشن سے وہ رو دینے کو ہوئی۔۔
وه سویرے سویرے ہی پیپر کی تیاری کے لیے جاگ گئی تھی۔۔ کتاب میز پر پٹخ کر اس نے باورچی خانے کا رخ کیا۔۔
گلاس میں پانی انڈیل کر وه کھڑے کھڑے ہی پینے لگی۔۔ جہان جوگنگ سے واپس آیا تو کچن میں اسے کھڑا دیکھ کر یہیں آ گیا۔۔
واہ آج تو لوگ صبح صبح ہی جاگ گئے ہیں۔۔ اس کے ہاتھ سے گلاس پکڑتا وہ اسکا جوٹھا پانی پینے لگا۔۔
مجھے تنگ نہ کریں آپ میں پہلے ہی پریشان ہوں۔۔ اسکی آنکھوں کے گوشے بهیگ گئے۔۔
ارے۔۔ کیا ہوا ہے؟؟ وه سنجیدہ ہوگیا۔۔
کل پیپر ہے میرا اور مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہو رہا،، ایسے لگ رہا ہے سب کچھ بھول گیا ہے۔۔ اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔
اس میں رونے والی کیا بات ہے۔۔ آآ ایسا کرتے ہیں میں تمہیں پریپریشن کروا دیتا ہوں۔۔ آج ویسے بھی فری ہوں میں ۔۔ کیا خیال ہے۔۔؟؟
اس نے عین کے الجھے بال سنوارتے ہوئے کہا تو وہ امید سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ٹھیک ہے۔۔!! میں ناشتہ بنا لوں پھر شروع کرتے ہیں۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ اس کے سامنے کتاب رکھے بیٹھی تھی۔۔ اس نے الجھے بالوں کو ایک بار پھر سے گول مول کرتے جوڑے میں قید کر لیا۔۔
چلو ایسا کرو یہ “پندره مضمون” ہیں یہ یاد کرو پہلے،، تمہارے پاس آدھا گھنٹا ہے۔۔ اسے حکم دیتے وہ سکون سے پیچھے رکھے تکیے سے کمر ٹکا گیا۔۔
اسکی بات پر عین کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔ آدھے گھنٹے میں پندرہ مضمون؟؟
ہاں بلکل!! تم انہیں رٹے نہ لگاؤ بلکے انکے ٹاپک کو دیکھ کر ڈیٹیل ایک نظر دیکھ لو۔۔ کرنی تو سیلف رائٹنگ ہی ہے۔۔ اس نے ٹِپ دی۔۔
اوکے!! سر ہلا کر وه صوفے پر بیٹھ گئی اور وقت کو مد نظر رکھتی تمام مضامین کو ایک ایک نظر دیکھنے لگی۔۔
وقت مکمل ہوتے ہی ہان نے اس سے دو تین ٹاپک لکھوائے جو اس نے بلکل صحیح لکھے۔۔
ویری گڈ!! اب یہ سب چیپٹرز کے صرف آنسر کویسچنز یاد کرو۔۔۔ ایک گھنٹہ کافی ہے۔۔ چلو!!
اسی طرح وہ سارا دن اسکے بتائے طریقے کے مطابق پیپر کی تیاری کرتی رہی۔۔ رات کو وہ جلدی سو گئی تا کہ صبح جلدی اٹھ کر سب کچھ دوبارہ ایک نظر دیکھ لے۔۔
جہان سب کاموں سے فارغ ہوتا فریش ہو کر آیا اور نیند میں ڈوبی ہوئی عین کے برابر لیٹ کر اپنا رخ اسکی طرف کر گیا۔۔
اسکے معصوم نقوش کو نظروں سے حفظ کرتے اسکی نگاہ ہونٹ پر ٹکی بالوں کی ایک لٹ پر ٹھہر گئی۔۔ اسے ناجانے کیوں جیلسی محسوس ہوئی۔۔
انگلی کی پور سے اس نے نہایت آہستگی سے لٹ کو ہونٹ کے اوپر سے ہٹا دیا۔۔ وارفتگی سے اسکے لبوں کو تکتے وه جھکتا اپنے لبوں سے ہلکا سا چوم گیا۔۔ باری باری وہ اسکے باقی نقوش کو چومنے لگا۔۔
وہ نیند میں کسمساتی اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔۔ اسکی نیند خراب ہونے کے خیال سے وہ اپنے آپ کو مزید گستاخیاں کرنے سے بعض رکھ گیا۔۔ اس کے بازو کو پکڑ کر اپنے گرد حائل کرتے وہ اسے مکمل اپنے حصار میں لیتے آنکھیں موند گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہان پیچھے ہٹیں!! اللّه اتنا وقت ہو گیا۔۔ دیر سے آنکھ کھلنے پر وہ رو دینے کو ہوئی۔۔
جہان نے كسمسا کر آنکھیں ہلکی سی وا کیں۔ اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتا وہ سیدھا لیٹ گیا۔۔
وہ جلدی سے واش روم میں گھس گئی۔۔ لائٹ شیڈ كیپری شرٹ زیب تن کیے وہ عجلت میں باہر نکلی اور کتاب پکڑتی جلدی جلدی چکر لگاتی پڑھنے لگی۔۔
دو گھنٹوں بعد اسے کمرہ امتحان میں پہنچنا تھا۔۔
ہان اٹھ کر فریش ہوتا کچن میں چلا گیا۔۔ واپسی پر اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے میں انڈا اور بریڈ کے دو سلائس تھے۔۔
وہ بیڈ پر اس کے مقابل بیٹھ گیا۔۔ بریڈ کا ٹکڑا توڑ کر اس نے اعین کے سامنے کیا جو کتاب میں بری طرح غرق اسکی موجودگی سے بھی لا علم تھی۔۔
عین یہ کھا لو یار اتنی ٹینشن نہ لو بہت اچھا ہو گا پیپر۔۔ وه فکر مندی سے اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔
وه اسکا بڑھایا ہوا نوالہ منہ میں ڈالتی ساتھ ساتھ پڑھنے لگی۔۔
خالی برتن سائیڈ پر رکھتے وه ڈریسنگ سے برش اٹھا لایا اور اسکے جوڑے کو کھول دیا۔۔
عین نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اوں ہوں!! رہنے دیں۔۔ وہ عجلت میں بولی۔۔
میں کر رہا ہوں نہ!! کھڑے ہوئے ذرا سا جھکتے وہ اسکے گال پر بوسہ دے گیا۔۔
عین کے ماتھے کی شکنیں ختم ہو گئیں۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے کتاب سائیڈ پر رکھ دی۔۔ اب میں اسکو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی،، اف شدید سر درد ہورہا ہے۔۔ وہ نان سٹاپ بولنے لگی۔۔
ہلو نہیں سیدھی بیٹھو!! عین کے بار بار ہلنے سے بال اسکے ہاتھوں سے پهسل جاتے جس پر وہ جھنجهلا گیا۔۔
لمبے الجھے بالوں کو اچھی طرح سلجھا کر اس نے جیسے تیسے کر کے ڈھیلی پونی میں باندھ دیا۔۔ جو اسکی ساری کمر کو ڈهانپ گئی۔۔
ہان!! وہ کھڑی ہوتی اس کے گرد بازو حائل کرتی سینے پر سر ٹکا گئی۔۔
جی جان!! اس کے لاڈ سے بولنے پر وہ جی جان سے قربان ہوا۔۔
مجھے تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے۔۔ پیپر اچھا ہو گا نہ؟؟ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
ہمم بہت اچھا ہوگا۔۔ وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھتا اس کا سر چوم گیا۔۔
وہ سادگی سے مسکرا دی۔۔ چلیں میں شوز پہن لوں تب تک آپ بائیک سٹارٹ کریں۔۔ اس نے گلے میں سٹالر ڈال کر کہا۔۔
تم ایسے جاؤ گی ؟؟
کیوں کیا ہوا؟ وہ اپنی طرف دیکھ کر گویا ہوئی۔۔
“نہیں مجھے کوئی مسلہ نہیں لیکن اگر کسی نے تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔”
اس کے پر شدت لہجے پر اسکے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔۔ اس نے الماری سے شال نکالی اور اچھی طرح اوڑھتی اسکے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
نانو دعا کیجیے گا میرے لیے۔۔۔ وہ آئمہ سے ملتی عجلت میں باہر نکل گئی۔۔ آئمہ ارے ارے ہی کرتی رہ گئیں۔۔
وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے ان دونوں کے بارے میں سوچنے لگیں۔۔ ماشاءالله ایسا لگتا ہے ان دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے۔۔ اللّه میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔ وہ آسودگی سے مسکرا دیں۔۔
🌿🌿
