Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 21
اہم، اہم!!
آنکھوں پر لگے بیزوی گلاسز کو ناک پر صحیح طرح ٹکاتے وہ کھنکاری۔۔
جہان جو کھڑکی کے قریب دھرے صوفے پر نیم دراز ہلکی مسكان سجائے موبائل پر ٹائپنگ کر رہا تھا نے ذرا کی نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو لمبے بالوں کی چوٹی آگے کی طرف ڈالے کالی شلوار قمیض میں ہاتھوں میں ایک بک ،نوٹ بک اور پین پکڑے کھڑی تھی۔۔
اس نے ابرو اچکا کر پوچھا کہ کیا کام ہے۔۔؟
عین نے ہونٹ ایک طرف سے دانت میں دبا کر اسے دیکھا۔۔ یہ اتنا مسکرا کر کس سے بات کر رہے ہیں۔۔؟
اسنے معصومیت سے سوال کیا۔۔
دوست ہے ایک۔۔ کیوں؟
کہتے ہوئے اسنے موبائل اپنی طرف موڑ لیا۔۔
“آ کچھ نہیں ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔”
جہان نے اس کے خالص بیویوں کے سے شکی انداز کو دیکھا۔۔ وہ دن بدن اس کی ذات میں دلچسپی لینے لگی تھی لیکن خود ہی اس بات سے بے خبر تھی۔
یہ کچھ کویسچنز مجھے سمجھ نہیں آ رہے آپ سمجھا دیں گے۔۔؟؟ آتے تو ہیں نا کہیں جعلی ڈگری تو نہیں لی آپ نے ۔۔؟؟
میسنی شکل بنا کر اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی جس سے آتی خوشگوار ہوا نے اسکے چہرے پر لٹوں کو بكهیر دیا۔۔
جہان کی نظریں اس کی چٹیا سے الجھ گئیں جو اس کی بل کھاتی نازک کمر کو چومتی نیچے گر رہی تھی۔۔
یہ لیں سمجھا دیں اب جلدی سے کل ٹیسٹ ہے میرا اور مجھے یہ چیپٹر بلکل نہیں آتا۔۔ اس کے بے چارگی سے کہنے پر وہ کتاب کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
” یہ دیکھو بہت ایزی ہے یہ۔۔ سب پر ایک ہی فارمولا اپلائے ہوگا۔۔” وہ اسے سمجھانے لگا۔۔
ہوا سے کتاب کا کاغذ پلٹا تو وہ زرا قریب ہوتی جھکی کاغذ کے کونے پر اپنی انگلی رکھ گئی۔۔ اس سب میں وہ جہان کے بہت قریب آ گئی تھی۔۔
اس نے جہان کے جھکے سر کو دیکھا۔۔ بلا ارادہ وہ اسکے نقوش آنکھوں کے راستے حفظ کرنے لگی۔۔ دل کی خواہش پر اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی داڑھی کو انگلیوں سے چھوا۔۔
اپنے دیہان میں سمجھاتے جہان نے چونک کر اسے دیکھا تو اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔ نظریں جھکا کر وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔
جہان نے پین بند کر کے سائیڈ پر رکھا اور اس کی طرف رخ کر کے بیٹھ گیا۔۔ چند لمحے اسکی جھکی لامبی پلکوں کو دیکھنے کے بعد اس نے عین کا وہی ہاتھ تھاما اور اپنی داڑھی پر رکھ دیا۔۔ عین کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر گئے۔۔
ڈو یو اِن لَو وِد می۔۔؟ جہان نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کے اطراف میں بکھری لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا۔۔
“آئی ڈونٹ نو!” عین نے سر جھکائے سرگوشی کی۔۔
جہان نے نرمی سے اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔۔ وه چند سیکنڈ بعد اسکے گرد نازک حصار باندھتی اس کی گردن میں منہ چھپا گئی۔۔ دونوں کے دل بے ہنگم دھڑکتے ان کی محبت کا اعلان کر رہے تھے لیکن ابھی اس محبت کا اقرار باقی تھا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
راحم نائیاں نائیاں کرے گا۔۔ اچھا پارا بچہ بنے گا نہ؟
باتھ روم کا دروازه آدھا کھولے وہ بکھرے بالوں کو ایک ہاتھ سے سنوارتے راحم کو باتھ ٹب میں بھرے نیم گرم پانی میں بٹھاتے ہوئے بولی۔۔
“نو!!” راحم نے چھوٹے سے ہونٹ باہر نکالتے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔۔ کیوں۔۔۔؟؟
جو اچھے بچے بنتے ہیں نہ ان کو اتنی زیادہ “چیجی” ملتی ہے۔۔۔ ہائے راحم کو تو نہی ملنی پھر۔۔ اور ٹوائز بھی۔۔ ہمم کارٹونز بھی دیکھنے کو ملتے لیکن راحم نے تو نہیں نہانہ پھر ہم یہ سب کسی اور کو دے دیں گے۔۔ ٹھیک ہے ؟؟
میں شاف (صاف) پارا شا بچہ ہوں نا۔۔ میں اچھا ہوں،، پارا شا کُووٹ (کیوٹ) بے بی۔۔
اس کی باتیں سن کر انا نے بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ روکی۔۔
آدھ کھلے دروازے سے جھانکتا ویر اپنی”چلتی پھرتی بلا” کی چالاکی پر سر ہلا کر واپس ہو لیا۔۔ وہ آفس کا کام کرتے کرتے ان کی گفتگو سن کر یہاں آیا تھا۔۔
آوو راحم کتنا اچھا ہے۔۔ ساتھ ہی انا نے شیمپو اسکے بالوں پر مل دیا۔۔ راحم ڈر کر آنکھیں بند کر گیا۔۔ ہینڈ شاور کی مدد سے اس نے راحم کے سر پر پانی ڈالا تو وہ اس سے لپٹ گیا۔۔
یہ بس بس ہو گیا۔۔ ارے راحم نے تو نہا بھی لیا۔۔ گڈ بوائے! اس نے زور سے اسکے گیلے ملائم سے گال چومے۔۔
چونکہ آج پہلی بار بغیر “ریں ریں” کے نہا کر اس نے بڑا “كارنامہ” کیا تھا اس لئے وہ اپنا یہ كارنامہ ابا حضور کو سنانے کے لئے اسی حالت میں باتھ روم سے باہر نکل گیا۔۔
ارے ! راحم واپس آؤ۔۔ انا نے خفت سے اسے دیکھ کر کہا۔۔ لیکن اس نے شاہ ویر کے پاس پہنچ کر ہی دم لیا۔۔۔ اس کی اتنی جرات پر شاہ ویر بھی شرمنده ہو گیا۔۔
بابا میں ۔۔۔۔
“راحم میں نے کیا کہا ہے واپس آؤ۔۔”
وہ جو جوش و خروش سے کچھ کہنے لگا تھا انا کی غصیلی آواز پر “انسان کا پتر” بنتا چپ چاپ واپس ہو لیا۔۔
انا نے اسے پکڑ کر اندر کھنچا اور دروازه بند کر دیا۔۔ راحم کتنی بری بات ہے ایسے باہر نہیں جاتے ۔۔ وہ اسکو نرمی سے سمجھاتی تولیے سے اسکے بال خشک کرنے لگی۔۔ راحم اسکی ہر بات کو غور سے سنتا تھا۔ اب بھی وہ خاموش سا اس کو سن رہا تھا۔۔
انا کو اس پر بے انتہا پیار آیا۔۔ اس کو تولیے میں لپیٹ کر اس نے بیڈ پر لا کر بٹھا دیا۔۔ تولیے میں لپٹا ننھا سا راحم اس وقت بہت ہی کیوٹ لگ رہا تھا۔۔
شاہ ویر آپ بھی شاور لے لیں پھر ایک گھنٹے تک نكلنا بھی ہے۔۔ اس نے وقت دیکھتے ہوئے کہا۔۔ آج ان کی آئمہ کے ہاں دعوت تھی اور انا جانتی تھی آج اسکی اچھی درگت بننے والی تھی۔۔
ویر لیپ ٹاپ کھسکا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اکٹھے شاور نہ لے لیں کیا خیال ہے۔۔؟ اس کے قریب رکتا وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو انا نے خفت سے اسے دیکھا۔۔
بابا!! نو ! “بری بات۔۔۔۔”
راحم کے بولنے پر انا نے تنبیہی نظروں سے ویر کو دیکھا۔۔ اس کے سامنے ایسی باتیں نہ کیا کریں۔۔ وہ سمجھنے لگا ہے باتوں کو۔۔
مطلب اکیلے میں کر لیا کروں ایسی باتیں۔۔؟ خیر اکیلے میں پھر خالی باتیں تو نہیں ہوں گی۔۔ اس کے بےباقی سے کہنے پر انا کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا۔۔
اس نے ویر کو باتھروم کی طرف دھکیلا اور واپس مڑتی راحم کو کپڑے پہنانے لگی۔۔ کالی کاٹن کی شلوار قمیض پہنا کر اس نے راحم کے چھوٹے سے پاؤں میں براؤن سینڈل پہنائی۔۔ اس نے برش سے اسکے بالوں کو اس طرح سنوارا کہ وہ ماتھے پر سیدھے گرتے تھے۔۔
دوپٹہ اوڑھتی وہ بیڈ پر بیٹھے رہنے کی تلقین کرتی میر کو دیکھنے کے لئے گئی کہ وہ تیار ہوا ہے یا نہیں۔۔ عدیل شاہ معصروفيت کے سبب جانے سے معذرت کر چکے تھے۔۔
دروازه دھکیل کر وہ اندر داخل ہوئی تو وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔۔ میر طبیعت ٹھیک ہی تمہاری ۔۔؟
جی آپی ۔۔!!
وه سیدھا ہوتا اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔
انا نے اسکے ستے ہوئے چہرے کو تشویش سے دیکھا۔۔ بیٹا کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ ۔۔ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر وہ گویا ہوئی تو میر اسکی گود میں سر رکھ گیا۔۔ اسکے نین کٹورے آنسو بہانے لگے۔۔
ارے ارے یہ ہمارا میر تو نہیں ہے ۔۔ وہ تو دوسروں کو رلانا جانتا ہے۔۔ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی وہ اسے بہلانے لگی۔۔
میرا بیٹا مجھے بھی نہیں بتائے گا کہ کیا ہوا ہے ۔۔؟ اسکے پیار بھرے لہجے پر میر کو مزید رونا آیا۔۔
ماما کی یاد آ رہی ہے۔۔ گیلی سانس کھینچ کر وہ سیدھا ہو کر اپنے ہاتھوں کو تکنے لگا۔۔
ماما واپس تو نہیں آ سکتیں ۔۔ ایسے دکھی ہو گے تو انکو بھی تکلیف ہو گی ۔۔ میں تو ہوں نہ تمهارے پاس ۔۔۔ تم نے کوئی بھی بات کرنی ہو بلا جھجھک مجھ سے کرنا۔۔ کوئی کام ہو تو سب سے پہلے مجھے بتانا۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ ؟ میرے بیٹے کو اداس ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔آج سے ہم ایک پارٹی ہیں،، اوکے!!! شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بال بكهیرے۔۔
ڈن !! وه بھی ہلکا سا ہنس دیا۔۔
چلو شاباش اٹھو فریش ہو کے ریڈی ہو جاؤ۔۔ اور تمہارے بال کتنے روکھے ہو رہے ہیں۔۔ واپس آ کر ہیئر آئل لگاتی ہوں میں ۔۔ ایسے لگ رہا ہے گھونسلہ بنا ہوا ہے۔۔ تنقیدی نظروں سے اسے دیکھتی وہ شروع ہو گئی تھی۔۔
اسے بلانے کے لئے آتا ویر ان دونوں کو باتوں میں مصروف پا کر آسودگی سے مسکرا دیا۔۔ دن بدن وہ اسے مزید اپنا دیوانہ کرتی جا رہی تھی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ٹی پنک ٹشو کے شارٹ فراق كیپری میں ملبوس پیروں میں پنک ہی کھسہ پہنے وہ جلدی ہاتھ چلاتی گالوں پر گلال بکھیر رہی تھی۔۔ نیوڈ پنک لپ سٹک لبوں پر لگائے گلابی گالوں پر سایہ فگن گهنی پلکوں کو اٹھاتی وہ آنکھوں میں كاجل کی بریک لكیر لگاتی بھوری آنکھوں کو دو آتشہ کر گئی۔۔
شرٹ کا ٹوٹا بٹن ہاتھ میں تھامے وہ عجلت میں کمرے میں داخل ہوا لیکن اسے مصروف پا کر وہ واپس جانے ہی لگا تھا کہ انا نے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک دیا۔۔
آپ مجھے کہے بغیر کیوں جا رہے تھے۔۔؟ اس نے خفگی سے کہا اور اسے لئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ گئی۔۔ الماری کھولتے اس نے ایک باكس سے سوئی دھاگا نکالا اور دیہان سے سوئی میں دهاگا ڈال کر اس کی طرف بڑھی۔۔
بار بار چہرے پر آتے سٹریٹ بھورے بالوں کو اس نے کوفت سے پیچھے ہٹایا۔۔ ویر کو ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس نے بٹن ہاتھ میں تھاما۔۔
اس کے قریب ہوتی وہ مصروف سے انداز میں بٹن ٹانکنے لگی۔۔ ویر اسکے عارضوں پر سایہ فگن پلکوں کو دیوانگی سے تکنے لگا۔۔ پلکوں سے ہوتی اسکی نگاہ ہونٹوں کو حفظ کرتی اسکی پتلی گردن پر ابھری بیوٹی بون پر ٹک گئی۔۔
کب اس بندے پر ترس کھانے کا ارادہ ہے۔۔۔؟ وہ مسكین سی شکل بنا کر بولا تو انا کو ہنسی آ گئی۔۔
“بہت جلد” ایک ادا سے کہہ کر پیچھے ہٹتی وہ اسکا دل گھائل کر گئی۔۔
“اف !!!” اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تو انا نے بھنویں اچکائیں ۔۔
آپ کی یہی ادائیں بندہ نا چیز کو گھائل کرتی ہیں۔۔ اس کی طرف جھک کر وہ شرارت سے گویا ہوا۔۔
” ہٹیں بھی!!” دیر ہو رہی ہے۔۔
اچھا ،، تھینک یو!!
“یور ویلکم ہزبینڈ ڈیئریسٹ!!”
وہ مسکرائی تو اس کے گال میں ہلکا سا ڈمپل نمایاں ہوا۔۔
یو آر سو کیوٹ یار! دل کرتا ہے تمہیں کھا جاؤں۔۔ اس نے انا کے گال کھینچے۔۔
“چھی! گندے ایسی باتیں نہیں کرتے ۔۔”
اس نے شرارت بھری انکھوں سے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔
اہاں! میں کھا سکتا ہوں آپ کو ،، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اینڈ آئی ایم شیور کہ آپ بہت ٹیسٹی ہیں۔۔
اس نے ایک گہری نگاہ انا پر ڈالی۔۔
اس نے گڑبڑا کر ہینڈ بیگ پکڑا اور ” چلیں بھی اب ” کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہاۓ!!
مردانہ آواز پر عین نے ذرا سا دروازه کھول کر اسے سر تا پیر دیکھا۔۔ دیکھو انکل آج کوئی سالن نہیں ہے ہمارے پاس،، کل آنا شاباش!! کہہ کر اس نے ٹھا کی آواز سے دروازه بند کر دیا۔۔
میر اپنی بے عزتی پر تلملا گیا۔۔ میں سالن مانگنے والا لگتا ہوں۔۔ لائک سیریئسلی؟؟
پیچھے ہٹو تم!! ویر نے ہنسی چھپا کر اسے پیچھے ہٹاتے دروازه دوبارہ ناک کیا۔۔
نہیں ہنس لیں آپ،، خیر ہے!! میر خفگی سے گویا ہوا۔۔
میں نے کہا نا ۔۔۔۔۔ عین دوبارہ دروازہ کھولے غصے سے کہتے کہتے رکی۔۔۔ شاہ ویر بھائی آپ ۔۔؟؟ آئیں نا اندر۔۔
خوش اخلاقی سے مسکرا کر اس نے انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔۔
ویر مسکرا کر سر کو خم دیتا اندر چلا گیا۔۔ اسکے پیچھے داخل ہوتے میر کو اس نے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا۔۔
ہنہ !! اس کی طرف دیکھ کر نظریں گھماتا وہ ویر کے پیچھے چلا گیا۔۔
السلام علیکم ! “آپی کیسی ہیں آپ” ماشاءالله یہ گولو مولو شا بے بی کتنا کیوٹ ہے۔۔
اس کا حال پوچھتے ہوئے ساتھ ہی وہ راحم کا گال چوم گئی۔۔
وعلیکم السلام ! میں بلکل ٹھیک۔ تم ٹھیک ہو نہ؟ حال احوال پوچھتی وہ دونوں اندر گیسٹ روم کی جانب بڑھ گئیں۔۔
آئمہ نے خفگی سے انا کو دیکھا۔۔ یہ لڑکی کچھ دیکھی دیکھی لگ رہی ہے۔۔
انا نے ویر کے پہلو میں براجمان جہان کی طرف بے چارگی سے دیکھا۔۔ نانووو!! ان کے قریب بیٹھتی وہ ان کا ہاتھ تھام گئی۔۔ کافی دیر گلے شکوے چلتے رہے۔۔
راحم انا کی گود سے اتر کر روم میں ادھر ادھر چکر لگانے لگا۔۔
“او ٹڈے!!!”
میر نے راحم کا بازو پکڑ کر اسے خیالی جہاز اڑانے سے روکا تو لوازمات سرو کر کے واپس جاتی عین نے سب سے نظر بچا کر میر کے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔۔
تمہیں کیا تکلیف ہے اس سے “کدو”۔۔ پھرنے دو اسے۔۔
تم چپ کرو “چھپکلی” تم سے میں نے بات نہیں کی۔۔۔
عین کو تو پتنگے لگ گئے۔۔ تم کیا ہو بندر، الو، کریلے کے گندے چھلکے!! بولتے بولتے وہ ہانپ گئی۔۔
تم تم ۔۔!! میر نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“عین بیٹھ جاؤ” جہان نے اسے تنبیہی نظروں سے دیکھ کر کہا تو وہ هنكارا بھرتی راحم کو میر کی گرفت سے کھینچتے الگ تھلگ رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں!! ویر نے شرارت سے جہان کا کاندھا تھپتھپایا۔۔ جہان نے معصومیت سے اسے دیکھا۔۔ تم کیسے ہو؟؟
“الحمدللہ! شادی شدہ ہوں”
دونوں کا مشترکہ قہقہہ گونجا۔۔ خوشگوار گفتگو کے بعد کھانے کا دور چلا۔۔ رات دیر تک خوب محفل جمی رہی۔۔ جب وہ واپسی کے لئے کھڑے ہوئے تو عین راحم کو لئے انا کے پاس آئی جو اس سے کافی مانوس ہوگیا تھا۔۔
آپی میں اسے آج اپنے پاس رکھ لوں ۔۔؟ اس نے امید سے پوچھا۔۔
نہیں یار بہت تنگ کرے گا۔۔ اور اس کے بابا بھی اجازت نہیں دیں گے۔۔
عین نے مایوسی سے اسے دیکھا تو انا نے اسے ساتھ لگا کر تهپتهپایا۔۔ کوئی بات نہیں عین! میں پھر بھیج دوں گی راحم کو یہاں۔۔ اور تم بھی آتی رہنا ہان بھائی کے ساتھ۔۔
جی!!
اس سے مل کر وہ الگ کھڑی ہو گئی۔۔
ان سب کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آئی اور ادھر ادھر چکر لگانے لگی۔۔
کال پر مصروف ہان نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کے اس کی طرف دیکھا۔۔
وہ اپنے آپ سے الجھتی پنک نائٹ ڈریس نکال کر باتھ روم میں چلی گئی۔۔
جہان نے وقت دیکھا تو بارہ بج رہے تھے۔۔ شاور وہ پہلے ہی لے چکا تھا۔۔ اپنے تن سے شرٹ جدا کر کے اس نے بغیر دیکھے صوفے کی اوڑھ پھینکی جو بیڈ کی طرف بڑھتی عین کے منہ پر جا لگی۔۔
کیا بد تمیزی ہے یہ۔۔؟؟ وہ جنگلی بلیوں کی طرح اس سے لڑنے پر آماده ہوئی۔۔
گرے ٹراؤزر میں ملبوس ہان نے شولہ جوالا بنی اپنی بیوی کو دیکھا۔۔ آ۔۔ تم راستے میں نہ آتی،، میں نے تو وہاں پھینکی تھی۔۔ اس نے آنکھ سے اشارہ کیا۔۔
اچھ۔۔۔۔۔۔ وہ لڑنے کا ارادہ ترک کرتی بیڈ کے ایک طرف ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئی۔۔ پنک نائٹ سوٹ میں کالے گھنگھریالے بالوں کو اونچے جوڑے میں باندھے وہ ناخن چباتے ہوئے سوچوں میں گم تھی۔۔
اس کے سامنے سے گزر کر سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس پکڑتے جہان نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے اسے دیکھا۔۔
کوئی پرابلم ہے؟ پانی پی کر گلاس سائیڈ میں رکھتے وہ اس کے سامنے کھڑا استفسار کرنے لگا۔۔
عین نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔ آپ جان بوجھ کر ایسے میرے سامنے آتے ہیں نہ تا کہ میں فلمی ہیروئن کی طرح شرما کر “دوپٹہ دانتوں میں دبا کم دانتوں سے کُتر” ہی جاؤں۔۔ لیکن میں نہ “مرحا” کے ناول کی ہیروئن ہوں۔۔ مجھے ہلکے میں نہیں لینا۔۔ اس نے دیدے نچا کر کہا۔۔
اسکی بے تکی بات پر جہان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ اچھا بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔؟؟ پریشان ہو؟
نہیں پریشان تو نہیں ہوں۔۔ میں بس ایک بات سوچ رہی تھی۔۔ آپ کو پتہ میں نے آپی سے راحم کو ادھر چھوڑ کر جانے کو کہا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی تھیں نا۔۔ میرا بہت دل کررہا تھا اس کے ساتھ کھیلنے کو۔۔اتنااااا زیادہ کیوٹ ہے وہ!!
تصور میں وہ ہونٹوں کو گول کر کے راحم کے گال پکڑتی حقیقتاً جہان کے گال کھینچ گئی۔۔
جہان نے اس کے چھوٹے گلابی ہونٹوں کو دیکھا اور پھر۔۔۔۔۔ وہ اس کو اپنے سینے سے لگاتے ایک ہاتھ اسکے سر کے نیچے رکھتے جب کہ دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر کو پکڑتے وہ پوری شدت سے اسکے ہونٹوں پر جھکتا اسکی جان ہلکان کر گیا۔۔
عین کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔۔ وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے دور ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ جہان اسے گرفت میں لئے بیڈ پر گر گیا۔۔ اپنے اوپر اس کا بوجھ برداشت نہ کرتے عین کا سانس بند ہونے لگا۔۔ وہ اس کی پیٹھ پر مکے مارنے لگی۔۔ بالاخر اپنے جذبات پر لگام ڈالتے وہ اس کے اوپر سے اٹھا۔۔ عین نے اپنے بے انتہا سرخ ہوئے ہونٹوں کو کھول کر گہرے سانس لینے لگی۔۔
سانس درست ہونے پر وہ اٹھ بیٹھی اور جہان کے برہنہ سینے پر مکے مارنے لگی۔۔بہت بہت۔ ۔۔۔ وہ ہیں آپ۔۔
جہان نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا۔۔ عین خاموشی سے اسکے سینے سے لگی بیٹھی رہی۔۔ آخر اس کی تان پھر وہیں پر ٹوٹی۔۔
ہان؟؟ سر اونچا کیے وه اسے پکار گئی۔۔
“جی جانِ ہان!!”
اس کے طرزِ تخاطب پر وہ اسے دیکھتی مسکرا دی۔۔۔
مجھے بےبی چاہیے۔۔ اس نے نیا شوشہ چھوڑدیا ۔۔
ابھی نہیں!! پہلے تمہاری پڑھائی مکمل ہو جائے۔۔ جہان نے اس کا گال چوم کر کہا۔۔
نہیں نا،، مجھے چاہیے اپنا بے بی۔۔۔ وہ بضد ہوئی۔۔
ابھی بہت چھوٹی ہو تم!! وہ اسکی گردن میں گہرا سانس بھر کر گویا ہوا۔۔
عین کسمسا کر اس کے حصار سے نکلی۔۔ کہاں سے چھوٹی ہوں میں؟؟ اسکے چہرے پر خفگی ہی خفگی تھی۔۔
جہان نے دوپٹے سے بےنیاز اس کے پر شباب وجود کو دیکھا جہاں چڑھتی جوانی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔۔ اس نے بہت مشکل سے اپنے آپ کو بہکنے سے روکا۔۔
سوچ لو میری قربت برداشت کر لو گی۔۔؟ ابھی ذرا سا چھونے سے تمہاری کیا حالت ہو گئی تھی۔۔۔اس نے کچھ دیر پہلے اسکے اکھڑتے سانس کی طرف اشارہ کیا۔۔
اسکے بے باک لہجے پر عین خود میں سمٹ گئی لیکن وہ اس کی آنکھوں میں ثبت تحریر پڑھ چکا تھا۔۔
بس کچھ دن!! پھر ہم اپنے رشتے کو آگے بڑھائیں گے۔۔ دلکشی سے کہتے وہ لائٹ بند کرتا اسکے برابر لیٹتا اسے تکنے لگا۔۔
اا۔۔ اے۔۔ ایسے ۔۔کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔؟؟
تمہیں نہیں پتا میں ایسے کیوں دیکھ رہا ہوں۔۔؟؟ جواباً وہ سوال کر گیا۔۔
نہیں !!
وہ سرے سے انکاری ہوئی۔۔
اب تم اتنی بھی بچی نہیں ہو،، یہ آج تمہیں قریب سے محسوس کرنے پر اندازه ہوا ہے۔۔
اسکی بےباکی پر وہ سمٹ کر رخ دوسری جانب موڑ گئی۔۔ جہان نے اس کے گرد بازو حائل کرتے آنکھیں موند لیں۔۔
