Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 7

تولیے سے بال پونچھ کر اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری چیزیں سمیٹیں۔۔ شرٹ پہنی اور آہستہ آہستہ بٹن بند کرنے لگا۔۔
کسی کی بہت شدت سے یاد آئی تھی۔ اداس مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اس نے عدیل شاہ کے کمرے کا رخ کیا جہاں میر آج کل رہ رہا تھا۔۔
اس کی تکلیف کے خیال سے عدیل شاہ نے اسے اپنے کمرے میں ہی شفٹ کر لیا تھا،، کھلے دروازے سے وہ اندر داخل ہوا تو میر نے اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔۔
اب ان آنکھوں میں ناراضگی نھیں تھی بلکہ اداسی نے ڈیرے جماۓ ہوئے تھے،، ویر ایک گھٹنا موڑ کر میر کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔
کیسی طبیعت ہے اب۔۔؟ ہممم،،، ویر نے نرمی سے پوچھا۔۔
آئی ایم سوری بھائی،، میں نے آپ سے بہت بدتمیزی کی تھی۔۔ میر نے اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہا تو ویر نے اسے اپنے مظبوط حصار میں لے لیا۔۔
اٹس اوکے۔۔ میں ناراض نہیں ہوں۔۔ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے کب تک زخم ٹھیک ہوں گے۔۔ اسے اپنے آپ سے الگ کرتے پوچھا۔۔
زخم کافی حد تک ٹھیک ہو چکے ہیں۔۔ ٹانگ میں درد ہے۔۔ ڈاکٹر نے کہا ہے تین چار دن تک چلنے کے قابل ہو جاؤں گا۔۔
آئی سی۔۔ اتنے میں عدیل شاہ کمرے میں داخل ہوئے،، ویر کو پہلے سے بہتر دیکھ کر انہیں دلی سکون پہنچا۔۔
پھر اچانک انہیں لاڈ صاحب کا خیال آیا۔۔ ویر راحم کہاں ہے۔۔؟ ویر کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔ اپنے “ایک فُٹ پِیس” کو تو وہ کمرے میں ہی بھول گیا تھا۔۔
بغیر کوئی جواب دیے وہ اپنے کمرے کی طرف دوڑا۔۔ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتے اسے زبردست ٹھوکر لگی،، بمشکل گرنے سے سنبهلتے وہ جلدی سے کمرے میں پہنچا۔۔
اور ادھر لاڈ صاحب بیڈ پر الٹے لیٹے کھلکھلا رہے تھے۔۔ ویر ہونق بنا اسے دیکھنے لگا جس میں کسی ہنںستے جن کی روح آ گئی تھی۔
“ایک فٹ” میں کوئی چیز ویز تو نہیں آ گئی۔۔؟ اس نے بےاختیار سوچا پھر اپنی سوچ پھر لعنت بھیجتے اس نے آرام سے اسے اٹھایا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔۔
راحم نے کھلکھلا کر اس کی گردن میں منہ چھپا لیا۔۔ ویر اسے دیوانہ وار چومنے لگا،، میرا ایک فٹ،، میرا چیمپ۔۔۔ ویر نے پیار سے اسے پکارا تو راحم نے رونے کے لیے مُنّے سے ہونٹ پھیلا لیے۔۔
نہیں نہیں،، ہش ہش! سوری یار میں نے تو ایسے ہی بول دیا،، لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔۔
لاڈ صاحب نے وہ رونا شروع کیا کہ ویر گڑبڑا گیا۔۔
وہ اس کو ہاتھ میں لیے پورے کمرے میں چکر لگانے لگا۔۔ کبھی یہاں سے وہاں اور کبھی وہاں سے یہاں۔۔ ابھے یار بس کردے میرے باپ،، ویر نے روہانسا ہو کر کہا لیکن وہ تو جیسے شرط لگا کر رویا تھا۔۔
لاڈ صاحب کے سریلے راگوں کی تاب نہ لاتے ہوئے عدیل شاہ فوراً کمرے میں داخل ہوئے لیکن ویر کی حالت دیکھ کر ان کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
کیا ہوا ہے۔۔؟؟ اتنا کیوں رو رہا ہے ہمارا شیر۔۔۔۔ یہ تو آپ اپنے شیر سے خود ہی پوچھ لیں،، ویر نے عاجز آ کر کہا۔۔۔
تم نے اسکا ڈائیپر چیک کیا۔۔؟ جواباً ویر نے صدمے سے انہیں دیکھا۔۔ میں۔ ۔؟؟ میں ۔۔؟ میں اب یہ کام کروں گا۔۔۔ ؟؟
تو کیا ساتھ والی پڑوسن آ کر کرے گی۔۔۔؟ انہوں نے خاص طور پر اس پڑوسن کا حوالہ دیا جس سے ویر بہت چڑتا تھا۔۔
لاحول ولا قوت،،، ویر کا چہرہ ایسا ہوگیا جیسے کسی نے کڑوا بادام اس کے منہ میں ڈال دیا ہو۔۔ نہیں کہتے ہو تو بلا لیتا ہوں۔۔ عدیل شاہ نے شرارت سے کہا۔۔
ضرورت نہیں میں خود ہی کچھ کر لوں گا۔۔ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا کر عدیل شاہ یہ جا وہ جا۔۔
راحم کی مسلسل ریں ریں سے تنگ آ کر ویر نے غصے سے اسے گھورا تو وہ اور زیادہ رونے لگا۔۔ ویر نے میسنی سی شکل بنائی۔۔
سوری سوری میرا بے بی۔۔ ہش، بس چپ چپ ۔۔۔ویر نے اسے بیڈ پر لٹا کر اسکا ڈائپر اتارا تو یہ دیکھ کر اسے تسلی ہوئی کہ لاڈ صاحب نے کوئی “کسب” نہیں کیا تھا۔۔
ڈائپر اترنے کی دیر تھی کہ راحم خاموش ہو گیا اور ٹکر ٹکر ویر کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔ ویر نے بھی اطمینان کا سانس لیا کہ چلو چپ تو ہوا لیکن نہ جی لاڈ صاحب سے کہاں اس کا اطمینان دیکھا گیا اور بھرپور انگرائی لے کر انہوں نے “کام” کر دکھایا۔۔۔
جی جی وہی کام جو انہیں ڈائپر میں کرنا چاہیے تھا وہ قدرے جھکے شاہ ویر کے منہ پر دھار کی صورت انجام پا گیا۔۔
اپنے کار نامے سے راحم بہت خوش ہو کر قلقاریاں مارنے لگا۔۔ ویر نے صدمے سے اپنے آپ کو دیکھا۔۔ اس کا دل کیا ایک چماٹ اس ” ایک فٹ” کو لگاۓ لیکن پھر اسے کھلکھلاتے دیکھ کر وہ خود بھی ہنس دیا۔۔
واش روم جا کر اپنا حلیہ ٹھیک کیا اور راحم کو نیا ڈائپر باندھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ اللّه یہ خواتین اتنا مشکل کام کیسے کرتی ہیں،، تھک ہار کر اس نے نیٹ سے ڈائپر پہنانے کا طریقہ دیکھا اور کافی کوششوں کے بعد آخر وہ کامیاب ہو ہی گیا۔۔
گہرا سانس خارج کر کے وہ سیدھا ہونے ہی لگا تھا کہ راحم کی ننھی سی ٹانگ اس کی آنکھ میں جا لگی۔۔ اپنی ایک آنکھ پر ہاتھ رکھے اس نے ” ایک فُٹ ” کو گھورا۔۔
پھر اسکی آنکھیں شرارت سے چمكیں۔۔ اس نے راحم کا ننھا سا پاؤں پکڑ لیا اور انگلی کی پور سے اسکے پاؤں کے تلے کو گدگدانے لگا۔۔
اب لاڈ صاحب آۓ تھے قابو میں۔۔ ویر نے اسکا پاؤں چوما اور اسے اچھی طرح سے کور کر کے لان میں لے گیا جہاں عدیل شاہ اور شاہ میر پہلے سے بیٹھے تھے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے۔۔!!
اک روز تمھیں مانگ کر دیکھیں گے خدا سے۔۔!!
جب کچھ نہ ملا ہاتھ دعاؤں کو اٹھا کر۔۔!!
پھر ہاتھ اٹھانے ہی پڑے ہم کو دعا سے۔۔!!
دنیا بھی ملی ہے،،،غمِ دنیا بھی ملا ہے۔۔!!
وہ کیوں نہیں ملتا جسے مانگا تھا خدا سے۔۔!!
اے دل تو انہیں دیکھ کر کچھ ایسے تڑپنا۔۔!!
آجائے ہنسی ان کو جو بیٹھے ہیں خفا سے۔۔!!
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰♥️
وہ کھلی کھڑکی کے سامنے کھڑا خالی نظروں سے گھنے درختوں کو دیکھ رہا تھا جن کے پتے ہوا کے زور سے ہل رہے تھے۔۔
ایک پتہ ٹوٹ کر نیچے گرا۔۔ جہان کی نظروں نے اسکے ساتھ زمین تک سفر کیا۔۔ کسی راہگزر نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور اپنے دیہان میں گزر گیا۔۔
جہان کو اپنا آپ بلکل اس پتے جیسا لگا۔۔ جو پہلے ٹوٹا اور پھر کچل دیا گیا۔۔ اس کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی۔۔
اگر آپکا محبوب آپ کو رد کر دے تو اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی یہ جان کر ہوتی ہے کہ وہ کسی اور سے محبّت کرتا ہے۔۔ اسکا دل اپنی بےبسی پر خون کے آنسو رونے لگا۔۔
گیلی سانس اندر کھینچتے اس نے اپنی معمول سے بڑھی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کھڑکی کے پاس رکھے صوفے پر نیم دراز ہوگیا۔۔
تھوڑی دیر پہلے آئمہ اسے انا کے آنے کی اطلاع دے کر گئی تھیں جو جہان سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی۔۔ تو آخر اتنے دنوں بعد اس دشمنِ جاں کو میرا خیال آ ہی گیا۔۔
وہ ان کے بلانے پر بھی باہر نہیں گیا تھا۔۔ بہت مشکل سے خود پر ضبط کر رکھا تھا اگر اس کے سامنے جاتا تو شاید ضبط کھو دیتا،، وہ مزید اپنی محبت کی توہین نہیں چاہتا تھا۔۔
آئمہ نے انا کو بےچارگی سے دیکھا۔۔ انا انہیں سب کچھ بتا چکی تھی۔۔ آئمہ سمجھتی تھیں۔۔ ایسی باتوں پر انسان کا کہاں اختیار ہوا کرتا ہے۔۔وہ ہمیشہ کی طرح بہت محبت سے اس سے ملی تھیں۔۔۔
اب جب کہ وہ اتنی دیر سے لاؤنج میں بیٹھی جہان کا انتظار کر رہی تھی لیکن وہ تھا کہ آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
آئمہ سے اجازت لے کر اس نے جہان کے کمرے کی طرف قدم بڑھاۓ۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے دروازہ دھکیلا۔۔
جہان نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں وہ سیاہ عباۓ اور حجاب میں جھجھکی ہوئی کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔
وہ آہستہ سے اٹھ بیٹھا۔۔ انا جھجھکتی ہوئی اس کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جو سر جھکاۓ بیٹھا تھا۔۔
اس نے رف سی ٹی شرٹ ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔۔ بکھرے بالوں میں اسے وہ بہت ٹوٹا ہوا لگا۔۔ اتنا پیارا شخص یہ سب تو ڈیزرو نہیں کرتا اس نے اداسی سے سوچا۔۔
میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔ اٹک اٹک کر اس نے کہنا شروع کیا۔۔ مجھے آپ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔ میں نے آپ کو تھپڑ مار دیا،، مجھے ۔۔مجھے بہت برا لگتا ہے ابھی تک،، میں۔۔ میں آپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی لیکن میں کیا کروں۔۔۔؟ ایسا ۔۔۔ایسا کچھ بھی ممکن نہیں۔۔۔ لیکن ہم دوست بھی تو تھے۔۔ کیا اب۔۔اب۔۔ ہم۔۔ دوست۔۔ نہیں۔۔ ہیں۔۔؟؟ اس نے جھجھکتے ہوئے نظر جھکا کر کہا۔۔
جہان نے نظریں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔۔ انا نے خاموشی محسوس کر کے جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ جہان نے اسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتے بھاری آواز میں کہا
یونہی اک تہمت ہے دشمنوں سے ملتے ہیں۔۔۔۔!!!
دل کو زخم زیادہ تر دوستوں سے ملتے ہیں۔۔۔!!!
انا کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت بہنے لگے۔۔ اپنی وجہ سے کسی کو اذیت میں دیکھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔
آپ ۔۔مجھے۔۔ بہت۔۔ برا ۔۔سمجھ۔۔ رہے ہوں گے۔۔ لیکن آپ۔ مجھے۔ نہیں سمجھ ۔ سکتے۔ آپ کی اذیت اب شروع ہوئی ہے لیکن میں تو یہ اذیت کب سے سہہ رہی ہوں۔۔ اس نے بلکتے ہوئے کہا۔۔
میں آپ کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی لیکن میں کیا کروں۔۔ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔۔ آپ کے لیے میں نہیں ہوں۔۔ مجھ سے بہت بہتر آپ کو مل جائے گی۔۔
بہتر چاہیے کسے ہے۔۔؟ جہان نے اسے ٹوک کر کہا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔۔ میں چاہتی تھی ہم پہلے کی طرح دوست بن جائیں لیکن اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔۔ اپنے آنسو پونچھ کر وہ کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔
جہان نے اسے روتے دیکھ کر زور سے دیوار پر مکا مارا۔۔ میں اسے کیسے رلا سکتا ہوں۔۔ اپنی محبّت کے ساتھ کوئی ایسا کرتا ہے۔۔۔ سر ہاتھوں میں تھامے اس نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
انا نے اچھی طرح اپنے آنسو صاف کئے اور خود کو نارمل ظاہر کرتی لاؤنج میں بیٹھی عین کے پاس بیٹھ گئی جو ابھی ابھی کالج سے آئی تھی۔ جہان نے کالج میں ایف ایس سی میں اسکا ایڈمیشن کروا دیا تھا۔۔ وہ ابھی ایف ایس سی کے پہلے سال میں تھی۔
سفید یونیفارم میں بالوں کی اونچی پونی کیے وہ تھکی ہوئی لگ رہی تھی،، السلام علیکم انا آپی۔۔ عین خوشی سے اس سے ملی۔۔
جواباً انا نے بھی گرم جوشی سے جواب دیا۔۔آئمہ نے پانی کا گلاس عین کو پکڑاتے انا کی سوجھی آنکھوں کو بغور دیکھا تو انا نظریں چرا گئی۔۔
ہو گئی بات۔۔؟ انہوں نے استفسار کیا تو انا نے جھوٹی مسکان چہرے پر سجاتے سر اثبات میں ہلایا۔۔
اتنے میں جہان کمرے سے نکلا اور عین کے برابر بیٹھ گیا۔۔ انا کو نظرانداز کر کے اس نے عین کو مخاطب کیا۔۔ کیسا رہا آج کا دن۔۔؟ کوئی پروبلم تو نہیں ہوئی۔۔؟
جواباً وہ اسے آج کی روداد سنانے لگی۔۔ انا نے اداس مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔ شاید وہ یہی سب ڈیزرو کرتی تھی۔۔
اچھا نانو اب میں چلتی ہوں۔۔
ارے اتنی جلدی کیا ہے میں کھانا بنا رہی ہوں کھا کر جانا،، آئمہ نے کچن سے جھانک کر خفگی سے کہا۔۔
نہیں پھر کبھی صحیح،، نرمی سے معذرت کرتی وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اچھا اگلی دفعہ کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔۔ ان سے مل کر وہ جانے لگی تو آئمہ نے کہا رکو ہان تمھیں چھوڑ آتا ہے۔۔
نہیں نانو وہ خود چلی جائے گی۔۔اسے میری ضرورت نہیں۔۔ جہان نے تلخی سے کہا تو انا آنکھیں جھپک کر آنسو روکتی تیزی سے نکل گئی۔۔
ہان یہ کیا تھا۔۔؟
کیا؟ میں نے کیا کیا۔۔؟؟ جہان نے بیگانگی سے کہا اور اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔۔ عین نے سوالیہ نظروں سے آئمہ کو دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ انہیں کیا ہوا۔۔ آئمہ نے بیچارگی سے کندھے اچکاۓ۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
رات کا وقت تھا۔۔ حنا اور وقار سونے جا چکے تھے۔۔ انا پانی کا جگ لینے کچن میں آئی تو ٹھا کی زوردار آواز گونجی۔۔
ایک پل کے لیے تو جیسے اس کی جان ہی نکل گئی۔۔ اس نے لائٹ آف کی اور جلدی سے اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر دیا۔۔
باہر طوفانی بارش ہو رہی تھی۔۔ وقفے وقفے سے بادل خوفناک آواز سے گرجتے۔۔ انا نے زور سے بجتی کھڑکی کو جلدی سے بند کیا۔۔
بارش کی کچھ بوندیں اس کے چہرے پر گریں۔۔ اسے بارش بہت زیادہ پسند تھی لیکن رات کے اس پہر اتنی تیز بارش نے اسے خوفزدہ کر دیا۔۔
جلدی سے کمرے کا چھوٹا بلب جلا کر اس نے لائٹ بند کی اور چادر تان کر لیٹ گئی۔۔ آیات کا ورد کر کے اپنے اوپر پھونک ماری۔۔ جب سے وہ ڈرنے لگی تھی اس نے معمول بنا لیا تھا۔ وہ روز سونے سے پہلے کچھ قرآنی صورتیں اور آیات پڑھتی۔۔
وہ گہری نیند میں سو رہی تھی کہ اچانک اسکی آنکھ کھل گئی۔۔ اس نے وقت دیکھا تو گھڑی رات کے 2:00 بجا رہی تھی۔۔
آج پھر پورے دو بجے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔ ایسا پچھلے کئی دنوں سے ہورہا تھا۔۔ نیند اس کی آنکھوں سے ایسے اڑ گئی جیسے دوبارہ کبھی آئے گی ہی نہیں۔۔
اب وہ پہلے کی طرح اتنا ڈرتی نہیں تھی۔۔ وہ ان عجیب آوازوں کی عادی ہوتی جا رہی تھی۔۔ کبھی ایسی آواز ابھرتی جیسے کوئی سیڑھیاں چڑھ رہا ہو ۔۔ کبھی زور سے کچھ بجانے کی آواز آتی۔۔
ایسا تب ہوتا جب وہ جاگنے کے بعد دوبارہ سونے کی کوشش کرتی تو وہ آواز اسے پھر جگا دیتی۔۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی چاہتا تھا کہ وہ رات کے اس پہر جاگتی رہے۔۔
اس سب میں وہ اندر سے عجیب بےحس ہو گئی تھی۔۔ درد، تکلیف، خوف، بےرخی، دھوکہ سب،، کیا کچھ نہیں تھا جو وہ سہہ چکی تھی۔۔
اتنا سہنے کے بعد انسان اندر سے مضبوط اور بےحس ہوجاتا ہے اور وہ اکثر اپنے آپ سے کہتی کہ وہ “ڈِھیٹ” ہو گئی ہے۔۔
رات کے اس پہر جب سب نیند کی وادیوں میں گم ہوتے تھے۔۔۔ کون تھا اس کے ساتھ۔۔؟ کوئی بھی تو نہیں۔۔ کوئی بھی تو نہیں تھا اس کے پاس جب وہ خوف سے راتوں کو روتی تھی۔۔
بس ایک اللّه تھا جو ہر پل اس کے ساتھ تھا۔۔ خوف میں اسے حوصلہ دیتا۔۔ اس کے دل کو سکون دیتا۔۔ اب وہ بس اللّه پر یقین کرنے لگی تھی پہلے سے کہیں زیادہ۔۔
راتوں کو اپنے آپ کو کھوجتی رہتی اور اللّه سے باتیں کرتی۔۔ وہ اکثر سوچتی کہ ایک ہی وقت پر کیوں اسکی آنکھ کھلتی ہے۔۔ کچھ بھی تو بلاوجہ نہیں ہوتا۔۔
سوچوں میں گھری وہ میکانکی انداز میں اٹھی اور کمرے سے ملحقہ غسل خانے میں بیسن پر جھکی وضو کرنے لگی۔۔
“اللّهھم فاطر السمٰوٰت والعرض”
[Oh Allah, Creator of the Heaven and Earth]
اس نے بازو کہنیوں تک گیلے کیے ۔۔۔
“عالم الغیب والشہادت”
[Knower of the Unseen and Seen]
اب وہ جھکی اپنے پیروں پر پانی ڈال رہی تھی۔۔
“اشھد ان لا الہ الا اللہ”
[I bear Witness that none is Worthy of Worship Except You]
اب وہ گیلے چہرے کو خشک کر رہی تھی۔۔
“وحدہ لا شریک له”
[HE has no Partner]
اب وہ تہہ کیا جاۓ نماز کھول کر بچھا رہی تھی۔۔
“وَ انّ محمٌدﷺ عبدہ وَ رسول”
[And the Muhammad (S.A.W) is your Man and Messenger]
تہجد کی نیت کر کے اس نے ہاتھ سینے پر باندھے۔۔
“اعوذبک من شر نفسه و من شرالشیطان”
[I seek refuge in You from the Evil of my Soul and from the Evil from his Helpers]
اب وہ سجدہ کر رہی تھی۔۔۔
اور بےشک اللّه جسے چاہتا ہے توفیق دیتا ہے۔