Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigaam Muhabbat) Episode 23

اے مایوس روح۔۔۔۔۔!!مہربانی کر کے مسکرائیں
(Oh sad soul..!! Please smile)
مسكرائیں۔۔۔!! کیوں کہ اللّه آپ کو دیکھ رہا ہے
(Smile..! Because Allah is watching you)
مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ اللّه آپ کے ساتھ ہے
(Smile..!! Because Allah is with you)
مسکرائیں۔۔!!کیوں کہ اللّه ہمیشہ آپ کی حفاظت کرنے والا ہے
(Smile..!! Because Allah is always protecting you)
مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ اللّه ہمیشہ آپ کو سنتا ہے
(Smile..!! because Allah is always listening to you)
مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ اللّه آپ سے محبّت کرتا ہے
(Smile..!! Because Allah loves you)
مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ یہ نیک اعمال میں شمار ہوتا ہے
(Smile..!! Because it is among good deeds)
مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ یہ (مسكرانا) سنت ہے
(Smile..!! Because its Sunnah)
………………………………………………………………
دھیمی دل کو چھوتی آواز کے جادو نے ہر شخص کو اپنے طلسم میں جکڑ رکھا تھا۔۔ سکرین کے اس پار موجود لوگ اس کے خاموش ہونے پر بے چین ہوئے۔۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ یہ دھیمی پرسکون آواز میٹھے الفاظ کی حلاوت سے ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھتی رہے۔۔
لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی وہ سكرین کے اس پار موجود سینکڑوں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز تھی۔۔ اس نے نقاب درست کرتے ہوئے ہونٹوں کو جنبش دی۔۔
“السلام علیکم !!”
سلام کے جواب میں کئی لوگوں کی ملی جلی آوازیں ابھریں۔۔
“نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ” یہ کیسے فروغ پاتے ہیں۔۔؟
اس کی دهیمی آواز گونجی۔۔ سب دم سادھے اسے سننے لگے۔۔
یہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ عقل اور انسانی ضمیر جسمانی خواہشات کے تابع ہوتا ہے۔۔ ایسے مرحلے میں “نفسِ اماره” گناہ کی طرف مائل کرتے ہوئے ہر عقلی اور اخلاقی حد کو پهلانگ جاتا ہے۔۔
انسان سوچتا ہے کہ یہ میرا نفس ہے جو مجھے برائی پر اکساتا ہے۔۔ یہاں یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ “نفسِ اماره” ہے جو انسان کو ہر ناجائز خواہش کی تكمیل پر اکساتا ہے۔۔
اب “نفسِ مطمئنہ” اسکے برعکس ہے،،، وہ چند سیکنڈ کے لئے رکی۔۔
ہم دونوں کی مثال ایسے لے سکتے ہیں جیسے ایک پنجرے میں “سیاہ کتا” جب کہ دوسرے پنجرے میں “سفید کتا” ہے۔۔
اگر آپ سیاہ کتے کو روز غذا دیں،، وہ جو بھی طلب کرے اسے اسکی خواہش سے بھی پہلے عطا کر دیں جب کہ سفید کتے کو آپ مہینوں کے لئے بھوکا رکھیں تو کون پھلے پھولے گا؟؟ کون زیادہ طاقتور ہوگا؟؟
صحیح،، سیاہ کتا!!
اور یہ “سیاہ کتا” ،، “نفسِ اماره” ہے۔۔
اس کتے کی غذا کیا ہے۔۔؟؟
وہ سامعین سے دريافت کرنے لگی۔۔
جواباً گہری خاموشی چھا گئی۔۔ وہاں ہر کوئی اپنے ضمیر کی عدالت میں شرمنده بیٹھا تھا۔۔
اسکی غذا ہے “گانے” ،،”جھوٹ” ،، “حرام کاری” ،، “والدین کی عزت میں کمی کرنا” ،، “دھوکہ دینا” ،، “اساتذہ کی عزت نہ کرنا” ،، “پورن کی لت لگنا” ڈرگز،، گانے کی محافل جو آج اگر ہماری تقریبات پر نہ سجائی جائیں تو ہمیں “پینڈو” اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے۔۔ خصوصاً “پورن گرافی” نے نوجوان نسل کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔۔
اب ۔۔۔ اگر ہم اس “سیاہ کتے” یعنی “نفسِ اماره” کو بھوکا رکھیں اور “سفید کتے” کو کھانا دیں تو وہ طاقتور ہوگا،، مضبوط ہوگا۔۔
اور اس سفید کتے کی غذا کیا ہے۔۔؟؟ “نفسِ مطمئنہ” کی غذا کیا ہے؟؟
نماز ، قرآن، تہجد، خیرات، صدقات، اللّه کا ذکر، اللّه کی بات ماننا۔۔ اگر آپ اسے مضبوط نہیں کریں گے تو وہ سیاہ کتا نشونما پاتا آپ کو اپنا غلام بنا لے گا۔۔ وہ جو چاہے گا آپ کرتے چلے جائیں گے۔۔ اسلئے “نفسِ مطمئنہ” کو اسکی غذا فراہم کریں۔۔
اب کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ برائی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ گناہوں میں لتھرے ہوئے ہیں۔ اب ان کے لئے واپسی کی کوئی راہ نہیں۔ وہ اللّه سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ استغفار!!!
یہ مایوسی شیطان آپ کے دل میں ڈالتا ہے۔۔ آپ اللّه کی طرف ایک قدم بڑھا کر تو دیکھیں،، وہ آپ کو تھام لے گا ۔۔ آپ کے تمام گناہوں کے باوجود آپکو دھتکار نہیں ملے گی۔۔ بے شک اللّه آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔۔
سننے والی ہر آنکھ اشک بار تھی،،، لوگوں کی دبی دبی سسكياں خاموشی کا سینہ چیر رہی تھیں۔۔
اب ایک اہم مسئلے کی طرف آتے ہیں۔۔ “پورن گرافی!!” خصوصاً “نوجوان نسل” اس بری عادت میں مبتلا ہے۔۔ جو کوئی بھی اس میں مبتلا ہوتا ہے وہ پھر اس میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔۔
استغفار!! اس کے آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی اتنے نقصان ہیں کہ اگر آپ سنجیدگی سے غور کریں تو آپ اس عادت سے چھٹکارا پانے کی کم از کم کوشش ضرور کریں۔۔
اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتے۔۔ ان کو چاہیے کے اللّه سے ہدایت طلب کریں۔۔ بے شک ہدایت اسکو ہی ملتی ہے جسکا دل بدل جائے۔۔ اللّه اسے نہیں بدلا کرتا۔۔
آپ نماز کو باقاعدگی سے پڑھیں اور تنہا لمحات گزارنے سے گریز کریں۔ اسکے علاوہ آپ کثرت سے اللّه کا ذکر کریں۔۔ یقین کریں وہ آپ کو اس سب سے نکال دے گا۔۔
یہاں آج کا لیکچر ختم ہوتا ہے۔۔ اللّه مجھے اور آپ سب کو ہدایت دے اور اس ہدایت پر قائم رکھے۔۔ اگلے لیکچر میں حاضر ہوں گے۔۔ خدا حافظ!!
باریک نرم آواز میں وہ انہیں خدا حافظ کہتی لیپ ٹاپ کی سكرین نیچے کر گئی۔۔
زمین پر بچھے قالین پر بیٹھی دو گھنٹے تک لیکچر دینے کے بعد اس کی کمر اکڑ گئی تھی۔۔
اس نے آہستہ سے نقاب اتار کر دوپٹہ ڈھیلا کر کے لے لیا۔۔
سیدھی ہوتی اسکی نظر قدرے کونے میں زمین پر دو زانو بیٹھے شاہ ویر اور راحم پر گئی جو ناجانے کب سے وہاں بیٹھے تھے۔۔ اسے خوشگوار حیرت نے آن گھیرا۔۔
کیسے کر لیتی ہیں آپ یہ سب۔۔؟؟ ویر کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی۔۔
انا نے نرمی سے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
“اپنے ہر انداز سے آپ سامنے والے کو اپنا گرویده بنا لیتی ہیں۔۔”
راحم جو تب سے خاموش بیٹھا تھا،، نا سمجھی سے انہیں دیکھتا انا کی طرف بڑھا۔۔ سفید کاٹن کی شلوار قمیض میں سر پر سفید ہی ٹوپی ڈالے وہ لپک کر اسکی گود میں بیٹھ گیا۔۔
وہ بے اختیار ہوتی اسکا سر چوم گئی۔۔ “میرا بچہ!!”
ماما ۔۔؟؟ اللّه جی ہم سے پار کرتے ہیں نہ۔۔؟؟
اسے پورے لیکچر میں بس یہی بات سمجھ میں آئی۔۔
“ہاں بہت بہت بہت زیادہ۔۔” وہ نرمی سے اس کے ماتھے پر بکھرے بال سنوار کر گویا ہوئی۔۔
کتنا زیادہ۔۔۔؟؟ اتنا ۔۔؟ وہ اپنے ہاتھوں کو پورا کھولتا معصومیت سے پوچھنے لگا۔۔
اس سے بھی زیادہ میری جان!! وہ اسکا گال زور سے چومتی اسے اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔۔
اسکی دیکھا دیکھی ویر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ اس کے پاس گئی اور راحم کو اسکے حوالے کرتی نظر بچا کر اس کے گال پر بوسہ دے گئی۔۔
“کسی کو بہت شکایت تھی مجھ سے کہ میں بہت ظلم کرتی ہوں اس پہ۔۔”
اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ کہتی کمرے سے جا چکی تھی۔۔
ویر اپنے گال پر ہاتھ رکھے ساکن کھڑا تھا۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا اس پر جو ابھی سر زد ہوا تھا۔۔
اچانک اس کے ہونٹ مسكراہٹ میں ڈھلے۔۔ اسکا مطلب وہ۔۔۔۔؟؟
سرشاری سے سوچتا وہ راحم کو لئے اس کے پیچھے کمرے سے نکل گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
السلام علیکم ! وہ مسکرا کر سلام کرتی ان کے سامنے سر جھکا گئی۔۔
وعلیکم السلام !! یاسمین اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھ کر سامنے بیٹھے عدیل شاہ سے مخاطب ہوئیں۔۔
“ماشاءالله سے اب گھر سنبهالنے والی عورت بھی آ گئی ہے” پانی تو نہیں پوچھو گے۔۔؟؟
انا کا دل شرمندگی سے ڈوب مرنے کو چاہا۔ وہ تیزی سے کچن میں چلی گئی۔۔۔
عدیل شاہ نے الجھن سے ان کی طرف دیکھا۔۔ ان کا یہ انداز بلکل نیا تھا۔۔
یاسمین نے بغیر ظاہر کیے موبائل کا کیمرہ کھولا اور اس طرح اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا کہ سامنے کا سارا منظر صاف نظر آنے لگا۔۔
عدیل برا نہ ماننا لیکن تمہیں یہی لڑکی ملی تھی اپنی بہو بنانے کے لئے،، وہ حقارت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔۔
جوس اور دیگر لوازمات ان کے سامنے رکھتی انا کے ہاتھ کانپ گیے۔ توہین سے اسکا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔
انکی آواز سن کر ویر بھی لاؤنج میں آ گیا۔۔ اس کے ماتھے پر پڑے بل اسکے غصے میں ہونے کی چغلی کھا رہے تھے۔۔
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا؟؟ آپ پہلی بار اس سے مل رہی ہیں پھر کیسے ایسا کہہ سکتی ہیں؟
وہ ماتھے پر بل ڈال کر بولے۔۔
دیکھو عدیل میں تمہارا بھلا ہی سوچ رہی ہوں۔۔ تم اس سے رشتہ طے کرنے سے پہلے ایک دفعہ مجھے تو بتا دیتے۔۔ ایسی چالو لڑکی ہے یہ تمہارے بیٹے کو بھی پھانس لیا جیسے اس سے پہلے جانے کتنوں کو۔۔۔۔۔۔
“بسس !! ایک لفظ اور نہیں،، میں برداشت نہیں کروں گا۔۔” ویر درشتگی سے انگلی اٹھا کر بولا۔۔
اپنی کردار کشی پر وہ منہ پر ہاتھ رکھتی رونے لگی۔۔
ارے تم کیا مجھے چپ کرواؤ گے سچ سنا نہیں جا رہا تم سے۔۔ خوب جانتی ہوں میں ایسی لڑکیوں کو۔۔ ایسی بے غیرت اور بے حیا لڑکی ہے یہ میں تمھیں ثبوت بھی دکھا سکتی۔۔۔۔۔
“بسس !! چپ،، ورنہ میں آپ کے بڑے ہونے کا لحاظ بھی بھول جاؤں گا۔۔” وہ انکی طرف بڑھتا داڑھا۔۔
عدیل شاہ نے فوراً لپک کر اسے پیچھے ہٹایا۔۔
“میری بیوی کے بارے میں بکواس کررہی ہیں آپ،، جو نامحرموں سے پردہ کرتی ہے جو راہ چلتے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی میری باحیا بیوی کو بے حیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔”
وہ انکے منہ پر داڑھا۔۔ طیش سے اس اسکی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔۔ ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچے وہ غضبناک نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔
یاسمین اپنی اتنی توہین اور ویر کے تیور دیکھ کر اندر ہی اندر ڈر گئیں۔۔
“نکل جائیں یہاں سے اس سے پہلے کہ میں کچھ کر ڈالوں۔۔”
اس کے وارننگ دینے والے انداز پر وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کا کیمرہ بند کرتیں پرس ہاتھ میں پکڑ کر اٹھ کھڑی ہوئیں،،، انہوں نے یہاں سے جانے میں ہی عافيت سمجھی۔۔
“ستیاناس ہو منحوس ماری کا!! نا ہی کام ہوا اور رہی سہی عزت بھی گئی۔۔” انہوں نے كلس کر سوچا۔۔
“ایک منٹ!!”
وہ وہاں سے نکلنے ہی لگیں تھی کہ شاہ ویر کی آواز پر ٹھہر گئیں۔۔
وہ انہیں کیمرہ بند کرتے دیکھ چکا تھا۔۔ عجلت میں سر زد ہوئی غلطی انکے سر پڑ چکی تھی۔۔
یہ کیوں آن کیا تھا؟ ریکارڈ کررہی تھیں آپ سب۔۔؟؟
اس نے انکی طرف بڑھتے ان کے ہاتھ سے موبائل جهپٹنے کے انداز میں پکڑا۔۔ وہ ہکا بکا اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی رہ گئیں۔۔
ویر نے گیلری کھولی تو سامنے ہی وہ ویڈیو آ گئی۔۔
ہک ہا!! بھلا پاسورڈ ہی لگا دیتی موئے موبائل کو،،، وہ اپنے آپ کو کوسنے لگیں۔۔
بتائیں کس کے کہنے پر آپ نے یہ سب کیا ہے۔۔؟؟ جواب دیں!! وہ اپنے اشتعال پر قابو پاتے ہوئے بولا۔۔
کک کیا کہہ رہے ہو؟؟ اس کے پوچھنے پر انکا حلق سوکھ گیا۔۔
آپ کو ایسے میری بات سمجھ نہیں آئے گی۔۔ میں ابھی پولیس کو کال کرتا ہوں۔۔
اسکی دھمکی پر انہوں نے عدیل شاہ کی طرف دیکھا۔۔ عدیل منع کرو اسے،، مجھ پر الزام لگا رہا ہے۔۔ لیکن وہ منہ پھیر گئے۔۔
“رک۔۔ رکو ۔۔ میں بتاتی ہوں۔۔”
ویر جبڑے بھینچے انکی طرف متوجہ ہوا۔۔ کس کے کہنے پر کیا ہے۔۔؟؟
“میر۔۔میرال کے کہنے پر”
وه اپنی جان بچانے کو اسکا نام زبان پر لے آئیں۔۔
میرال رانا۔۔؟؟ ویر کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔ اسے اندازه نہیں تھا کہ وہ اتنی گری ہوئی حرکت کرے گی۔۔
اسکو تو میں نہیں چھوڑوں گا۔۔ وہ آندھی طوفان بنا سرخ آنکھوں سے موبائل کان سے لگاتا باہر نکل گیا۔۔ میری میٹنگ ارینج کرو میرال رانا کے ساتھ۔۔ کوئیک!!
اس کے جاتے ہی عدیل شاہ انا کے پاس آ کھڑے ہوئے۔۔ بس میرا بیٹا ہمیں تم پر پورا یقین ہے۔ دل چھوٹا نہ کرو ۔۔
اور آپا!! وہ انکی طرف مڑے۔۔ آپ سے مجھے ایسی گری ہوئی حرکت کی امید نہیں تھی۔۔
وہ اپنی بے عزتی پر تلملاتی ہوئیں بڑبڑا کر گھر کی دہلیز عبور کر گئیں۔۔
بابا ویر ۔۔؟؟ انا اس کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوئی۔۔ بہت غصے میں گئے ہیں۔۔
کچھ نہیں ہوتا وہ سمجھدار ہے۔۔ تم پریشان نہ ہو۔۔ دیکھو راحم جاگ نہ گیا ہو۔۔ خوامخواہ اتنا تماشا کر کے چلی گئیں۔۔ وہ بڑبڑا کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
انا نے کنپٹی مسلتے اپنے کمرے کا رخ کیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
“سر میم بزی ہیں ابھی تھوڑی دیر ویٹ۔۔۔۔”
اسکی زبردست گھوری پر سیکرٹری گھگھیا گیا۔۔
اپنا منہ بند کرو اور دوسری طرف کا راستہ ناپو!! درشتگی سے اسے کہتا وہ بغیر ناک کیے اس کے پرسنل آفس میں داخل ہوا۔۔
سامنے کا منظر اسے اس عورت سے مزید متنفر کر گیا۔۔
وہ کھڑی ہوئی ٹیبل پر جھک کر کچھ لکھ رہی تھی۔۔ اسکا گہرا گلا اسکی زینت کو چھپانے کے لیے ناكافی تھا۔۔
سلیولیس بلیک گلیٹری شرٹ اور ٹائٹ بلیک جینز پہنے وہ اسکی سمت دیکھتی ایک ادا سے مسکرا کر سیدھی ہوئی۔۔
جونہی وہ سیدھی کھڑی ہوئی اس کی عریاں کمر نماياں ہوئی۔۔ سرخ لپ سٹک سے رنگے ہونٹوں پر سیٹی کی دھن بجاتی وہ ایک ادا سے چلتی اس تک آئی ۔۔
اس کے تیکھے نقوش کو پیاسی نظروں سے دیکھتی وہ اس کے قریب ہوتی اسکے اوپر سے ہاتھ گزار کر دروازه لاک کر گئی۔۔
ویر نے اسے خود سے دور دھکیلا۔۔
“ارے ڈارلنگ اتنے غصے میں کیوں۔۔۔۔۔” اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔
وہ خطرناک تیوروں سے اسکی گردن کو اپنے ہاتھ کے شکنجے میں لیتا دیوار سے لگا گیا۔۔
مجھ سے ۔۔۔ میری بیوی سے ۔۔ دور ۔۔رہو ۔۔ اس نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا۔۔
وہ اپنی گردن پر موجود اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرتی مسکرا دی۔۔ “مار دو نا مجھے!! ان مضبوط بانہوں کے حصار میں مرنا بھی قبول ہے میرال کو۔۔”
اٹک اٹک کر بولتی وہ اسکا دماغ گھما گئی۔۔ اس نے پوری قوت سے اسے زمین پر جھٹکا۔۔
وه توازن کھوتی زمین پر گری۔۔ آہ!! یو سٹوپڈ مین!! بٹ اٹس اوکے!! وہ ہاتھ جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
“آئی لو یور اٹھتیٹود مائی اینگری مین” وہ اسکےبے حد قریب ہوتی اسکی گردن پر اپنے تشنہ ہونٹ رکھ گئی۔۔
چٹاخ!!!
شاہ ویر نے اسے پیچھے دھکیلتے زوردار تمانچہ اس کے منہ پر دے مارا۔۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے ساکت کھڑی رہ گئی۔۔
“تم جیسی لڑکیوں پر میں تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔ ایسی ہزار لڑکیاں راستوں میں گری پڑی مل جاتی ہیں۔۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ میرے سامنے میری بیوی کی کردار کشی کروا کر تم مجھے اس سے متنفر کر دو گی۔۔ بہت بڑی بھول تھی تمہاری میرال رانا”
وہ تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
پوری دنیا بھی اکٹھی ہو کر اسکے خلاف بولے تب بھی میں اپنی بیوی پر بھروسہ کروں گا،،، اتنی شدت سے محبت کرتا ہوں میں اس سے۔۔
میرال کا دل کرچی کرچی ہوا۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکتا ہوا ٹھوڑی پر ٹھہرا اور پھر نیچے گر گیا۔۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ اسکا بڑھایا ہوا ہاتھ کوئی اس طرح جھٹک دے۔ آج اسکا غرور چھن سے ٹوٹا تھا۔۔
“آئندہ اپنا گندہ وجود مجھ سے دور رکھنا۔۔ تم جیسی لڑکی کو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں۔۔”
اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے نفرت میں ڈوبی آواز میں کہتا وہ وہاں سے واک آؤٹ کر گیا۔۔
اسکا سکتہ تب ٹوٹا جب وہ زوردار آواز سے دروازه بند کرتا جا چکا تھا۔۔
نہیں !! وہ پوری قوت سے چیختی میز پر رکھے کاغذات اور دیگر چیزوں کو ہاتھ مار کر نیچے گراتی جنونی کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔۔
چھناکے کی آواز سے ڈیکوریشن پیس زمین بوس ہو گئے۔۔
نہیں ایس۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔ وہ زمین پر بیٹھتی گھٹنوں میں سر دیتی زار و قطار رونے لگی۔۔
ایک خیال آنے پر اس نے تیزی سے سر اٹھایا۔ موبائل پکڑ کر ایک نمبر پر کال ملاتی وہ فون کان سے لگا گئی۔۔
دوسری طرف سے کال ریسیو کر لی گئی۔۔
بابا۔۔۔!! وہ بلکنے لگی۔۔ میرال ہار گئی آج،، بابا ہار گئی میرال۔۔ میں میں آپ سے سوری۔۔۔ آئی ایم سوری بابا۔۔ میرے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میں۔۔
رک رک کر بولتی وہ دوسری جانب موجود شخص کے وجود میں خوف کی سرد لہر دوڑا گئی۔۔
سپیكر سے مسلسل آواز ابھر رہی تھی لیکن وہ کال کاٹ گئی۔۔
اس نے دھندلی آنکھوں سے زمین پر چکنا چور ہوئے ڈیکوریشن پیس کو دیکھا۔۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے شیشے کے ایک ٹکڑے کو پکڑ لیا۔۔
کافی دیر تک وہ اسے ہاتھ میں تھامے بیٹھی رہی۔۔ اور پھر ۔۔۔۔۔ اس نے وہ ٹکڑا اپنی كلائی پر زور سے پھیر دیا۔۔
گاڑھا سرخ ماده کلائی سے نکل کر زمین پر گرنے لگا۔۔ وہ نیم وا آنکھوں سے زمین پر اکٹھے ہوتے سرخ خون کو دیکھنے لگی۔۔
نقاہت بڑھتی گئی اور بالاخر وہ ایک طرف کو لڑھک گئی۔۔