Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 2
شاہ ہاؤس میں عجیب تناؤ کی كیفیت تھی۔۔ شاہ میر سہمی نظروں سے ویر اور عدیل شاہ کے درمیان ہونے والی بحث سن رہا تھا۔۔
بابا آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ میری زندگی ہے،، میرے اپنے فیصلے ہیں۔ آپ کس طرح مجھ پر اس آوارہ لڑکی سے شادی کرنے کا دباؤ ڈال سکتے ہیں۔۔
باااااسس۔۔ عدیل شاہ کی گرجتی آواز پر ویر نے ہونٹ بھینچے۔ تمھیں اندازہ بھی ہے تم نے اس نیک بچی کے بارے میں کتنا گھٹیا لفظ بولا ہے۔ عدیل شاہ کی آواز بلند ہونے لگی۔۔۔
تو اس نیک بچی کو کسی اور کے پلے باندھیں،، میرے گلے کا ہار کیوں بنا رہے ہیں۔ جوابًا ویر نے انتہائی بدتمیزی سے کہا۔
عدیل شاہ کی آنکھوں میں تكلیف ابھری۔ ان کے تاثرات دیکھ کر میر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جسے اس نے آنکھیں جهپك کر اندر دھکیلا۔
تمہارا باپ ہوں میں،،، حق رکھتا ہوں تمہاری زندگی کے فیصلے کرنے کا۔۔ اس معصوم کے مرحوم والدین کو زبان دی تھی میں نے،،، تمہاری شادی تو وہیں ہوگی۔۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں کرتے تم یہ شادی۔۔۔
ویر نے غصے سے کھڑے ہوتے میز کو ٹھوکر ماری اور انتہائی غصے کی حالت میں گھر سے باہر نکل گیا،، یہ دیکھے بغیر کہ میز کی نوک عدیل شاہ کے گھٹنے کو زخمی کر گئی تھی۔۔۔
میر تڑپ کر ان کے پاس گیا۔ بابا آئی ایم سوری،، بھائی کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ ایسے ہرٹ نہ ہوں،، میر بھاگ کر فرسٹ ایڈ باكس لایا اور آئنٹمنٹ انکے گھٹنے پر لگانے لگا۔۔
عدیل شاہ نے جھک کر اسکا سر چوما۔ بیٹا میں ٹھیک ہوں۔ تم پریشان نہ ہو۔ میر نے محض سر ہلایا۔ لیکن دل میں ویر سے بےحد ناراض ہوا۔۔
عدیل شاہ کو کمرے میں چھوڑ کر وہ اداس سا لان کی طرف بڑھ گیا۔ کالے سیاہ بادل آسمان پر چھائے پھر سے برسنے کو بیتاب تھے۔۔
ماما ،، اداس آنکھوں سے آسمان کو دیکھتے اسنے سرگوشی میں پکارا۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے لڑھکا جسے اس نے بے دردی سے صاف کیا۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
انا، ابیحہ کے ہمراہ کلاس روم میں داخل ہوئی۔ وہ کوایجوکیشن میں پڑھتی تھی۔ آج وہ معمول سے تھوڑا لیٹ آئی تھی۔ ابیحہ کے برابر کرسی پر بیٹھتی وہ کلاس کے لڑکوں کی نظروں سے پزل ہوئی تھی۔۔۔
وہ اپنے یونیفارم کے دوپٹے کا ایک خاص انداز سے حجاب لے کر نقاب کرتی تھی۔ جو اس پر بہت جچتا تھا ۔ شاید اسی وجہ لوگ میری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ شکل تو میری اتنی پیاری نہیں۔ وہ یہی سوچا کرتی۔۔۔
اسنے “Functional English ” کی بک کھول کر مطلوبہ صفحہ نکالا اور سبق کو جلدی سے revise کرنے لگی۔ پروفیسر کسی اور سے سنتے یا نہ اس سے لازمی سنتے تھے ۔ اسلئے وہ اپنا سبق بہت اچھی طرح یاد کرتی تھی۔
جیسے تیسے یہ لیکچر گزرا۔ اگلا لیکچر فری تھا۔ انا میں ابھی آئی،، پرنسپل سے کالج ایونٹ کی بات کرنی تھی۔۔۔ ابیحہ کے کہنے پر اس نے محض سر ہلایا اور نقاب سے جهانكتی آنکھوں سے کلاس کا جائزہ لیا۔
ایک طرف لڑکیاں جب کہ دوسری طرف لڑکے بیٹھتے تھے۔۔۔ لڑکیاں دنیا بھر کی داستانیں ایک دوسرے کو سنانے میں مصروف تھیں جب کہ لڑکوں نے کلاس میں طوفانِ بدتمیزی مچا رکھا تھا۔
اچانک اسکی نظر اپنے کلاس فیلو پر پڑی جو دهڑام سے کرسی سے نیچے گرا تھا اور اس کے اوپر اسکا دوست بیٹھا اسے اٹھنے نہیں دے رہا تھا۔
جیسے تیسے کر کے وہ کھڑا ہوا اور اپنے یونیفارم کی سفید شرٹ کو جھاڑا اور ایک سٹائل سے بال ٹھیک کئے۔۔۔
انا کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ اس نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلہ۔ “heighted boys” (لمبے قد کے لڑکے) اسکی کمزوری تھے اور بلاشبہ اسکا وہ کلاس فیلو چھ فٹ سے نکلتے قد کا مالک تھا۔۔
انا نے اپنے آپ کو ڈپٹا،،، اَسْتَغْفِرُاللّٰه ۔۔ یہ کیا ہورہا مجھے،، کتاب ہاتھ میں پکڑے وہ کلاس سے باہر نکل گئی لیکن اسکی نظریں احمر کے دوست محسوس کر چکے تھے تبھی اب اسے انا کے نام سے چھیڑ رہے تھے۔
اگلے دن انا وقت سے پہلے ہی کالج پہنچ گئی۔ وہ عمومًا جلد ہی آتی اور کالج کے گارڈن میں بیٹھ کر سبق دوہراتی۔
کلاس میں داخل ہوتے وقت اسکی نظر فرنٹ رو میں بیٹھے احمر پر پڑی تو اسکے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوگئی۔ یہ اتنی جلدی کالج میں کیا کررہا ہے؟ اسنے ابیحہ کے قریب جھکتے سرگوشی کی۔
مجھے کیا پتہ،، کہو تو پوچھ لوں ؟ ابیحہ کے شرارت سے کہنے پر انا نے ایک اسکی کمر میں دھموکا جڑا جسے احمر نے دیکھ لیا۔ انا خفت کے مارے سرخ پر گئی۔۔
انا دیکھو وہ یہاں ہی دیکھ رہا ہے۔۔ ابیحہ کے کہنے پر اسکے دل کی دھڑکن انتہائی تیز ہوگئی۔ اسنے ابیحہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ بیہ میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔ چلو ہم باہر چلتے ہیں۔۔
گھر آ کر انا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ جلدی سے کمرے میں آگئی ۔ حنا اسے بلاتی ہی رہ گئیں لیکن وہ یہ کہہ کر آگئی کہ “ماما میرے سر میں درد ہے ، پلیز کوئی ابھی میرے کمرے میں نہ آئے”
اسنے بیگ بیڈ پر پھینکا۔ یونیفارم بدل کر وضو کیا اور نماز میں رونے لگی۔۔ اللّه تعالٰی یہ کیا ہورہا ہے مجھے،، یہ غلط ہے،، میں کیوں اسے سوچنے لگی ہوں ،، مجھے پتہ ہے یہ راستہ ذلت کے سوا کچھ نہیں،، مجھے تکلیف ہی ملے گی۔ میں آپکو ناراض بھی نہی کرنا چاہتی۔۔
۔ پلیز میرے دل سے یہ خیالات نکال دیں۔۔ جب وہ خوب رو چکی تو آہستہ سے جاءِنماز تہہ کر کے رکھی اور صوفے پر نیم دراز ہو گئی۔
ہر انسان اپنے حصّے کی تکلیفیں کاٹتا ہے لیکن اس نے کم عمری میں ہی بہت کچھ برداشت کرلیا تھا ۔۔۔ غم انسان کو اللّه کے قریب کر دیتے ہیں۔ اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔ بچپن میں بابا سے بہت پیار ملا لیکن کاروباری پریشانیوں میں وہ اسے بلکل فراموش کر بیٹھے۔۔ ماما سے تو خیر اسے پیار پانے کی امید ہی نہیں تھی۔ انہوں نے تب اسکا ہاتھ جھٹکا تھا جب اسے ان کی بہت ضرورت تھی۔۔
اسکا دامن محبت سے خالی تھا کہ اللّه کی محبّت نے اسے سمیٹ لیا۔ کوئی اتنا پیار کسی سے کیسے کر سکتا ہے ؟؟ لیکن وہ تو اللّه پاک ہیں نہ ،، پیارے اللّه تعالیٰ ۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
سارا دن آوارہ گردی کرنے کے بعد شاہ ویر رات کو گھر واپس آیا اور خاموشی سے لاؤنج سے گزرنے لگا کہ صوفے پر نیم دراز عدیل شاہ نے اسے پکارا۔۔
میر نے اسکے ہاتھ پر بندهی پٹی کو خاموشی سے دیکھا اور نظروں کا زاويہ بدل لیا۔۔
ویر کھانا کھا لو ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے،، اسنے سرد لہجے میں کہا تو عدیل شاہ نے میر کو دیکھا۔۔ اسنے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہا ہو آپکو ہی شوق تھا انہیں منہ لگانے کا۔۔۔
ویر لاؤنج سے جانے لگا۔ ٹھہرو ویر بات کرنی ہے تم سے،، ویر نے لب بھینچے۔۔ مجھے آپ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی بابا۔۔۔
عدیل شاہ کو پھر سے غصہ آنے لگا۔ کیوں نہیں کرنی تم نے اس بارے میں بات،،، اب تو ضرور بات ہوگی اور اسی بارے میں ہو گی،،، انہوں نے بلند آواز سے کہا تو ویر کا سویا غصہ پھر جاگنے لگا۔۔۔
آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے،، سنا آپ نے،،
بھائییی ۔۔۔۔۔۔۔ میرے بابا سے اس طرح بات نہ کریں،، میر نے انگلی اٹھا کر درشتگی سے کہا۔ ٹھاہ۔۔۔۔۔!!! زناٹے دار تهپڑ کی آواز گونجی،،، میر کا چہرہ سپاٹ ہوگیا۔۔۔
کیا کہا تم نے؟ پھر کہو۔۔ اب تم مجھ سے ایسے بات کرو گے؟؟ ویر سرد تاثرات لئے اس سے پوچھ رہا تھا جس نے کبھی اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی۔۔
میں ۔ نے ۔ کہا ۔ میرے ۔ بابا ۔ سے ۔ اس ۔ طرح ۔ بات ۔ نہ کریں،، میر نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔۔۔ آپ غصے میں میز کو ٹھوکر مار کر چلے گئے یہ دیکھے بغیر کہ اس نے بابا کو زخمی کر دیا،، آپ ہمیشہ یہی تو کرتے ہیں۔۔۔
میر چپ کرو تم،، عدیل شاہ نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ غم و غصے سے بولتا جا رہا تھا۔ آپ ہمیشہ غصہ کرتے ہیں اور یہی کرتے رہتے ہیں۔ آپ کو پروا نہیں ہوتی کہ آپ کے رویے کسی کو کتنی تکلیف پہنچاتے ہیں۔ بابا نے ہمارے لئے کتنی تکلیفیں اٹھائی ہیں،، ہمیں اس مقام تک لائے،، اس لئے کہ ہم ان کے آگے کھڑے ہوجائیں،، ان سے بد تمیزی سے بات کریں،، شرم آنی چاہیے آپکو،،، غصے سے بولتے وہ هانپنے لگا تھا۔۔۔
عدیل شاہ لڑکھڑاتے ہوئے اس کے پاس آئے اور اسے بازو سے تھام کر اپنے کمرے میں لے گئے۔ ویر نے بہت خاموشی سے انہیں لڑکھڑا کر جاتے دیکھا۔ اس کے اندر سناٹے اترنے لگے۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
انا ان دنوں عجیب سی کیفیات کا شکار تھی۔ دل کو ہزار بار سمجھایا لیکن وہ تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا۔۔۔ اب پسندیدگی دونوں طرف سے تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ پسندیدگی بہت جلد محبّت میں بدلنے والی تھی،، اور محبت تو “کرب” کا دوسرا نام ہے نہ۔۔
پڑھائی میں وہ اب بھی پہلے کی طرح سنجیدہ تھی لیکن اب اسکا بہت وقت اللّه کے ذکر ازکار کی بجائے اسکے ایک ادنیٰ بندے کی یاد میں گزرنے لگا۔۔۔
موبائل پر انسٹاگرام پر اپنی آئی ڈی لوگ ان کرتے اسکی نظر احمر نامی فرینڈ ریکویسٹ پر گئی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے ریکویسٹ قبول کر لی۔۔
ضمیر یاد دلا رہا تھا کہ یہ غلط ہے لیکن اس نے اس آواز کو خاموش کرا دیا ۔۔ دور بیٹھا شیطان اپنی کامیابی پر مسکرایا تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں موبائل کی سکرین پر احمر کا مسیج جگمگانے لگا۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے اسے رپلائے کیا۔ اس طرح دونوں میں بات چیت کا آغاز ہوا۔۔ اگلے چند دن کالج میں وہ اسکا سامنا کرنے سے جھجھکتی رہی،، لیکن آہستہ آہستہ یہ جھجھک بھی ختم ہو گئی۔۔۔
عائزہ نے اسے بہت دفعہ سمجھایا لیکن وہ کہتے ہیں نہ محبّت “اندھی” ہوتی ہے،، جب یہ نظر آتی ہے تو کچھ نظر نہی آتا۔۔
كالج سے آ کر اس نے موبائل پکڑا اور جلدی سے اسکے میسج چیک کرنے لگی۔۔ وہ کالج نہی آیا تھا جسکی وجہ سے وہ سارا دن بےچین رہی تھی۔۔
احمر آپ آج کالج کیوں نہیں آئے؟؟ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟؟
احمر : نہیں یار ، بخار ہے۔۔
اسکی تکلیف پر انا تڑپ اٹھی ۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے پاس پہنچ جاتی۔۔
انا : آپ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتے۔۔؟ پلیز میرے لئے اپنا خیال رکھا کریں۔
احمر : اوکے جان اور کوئی حکم؟
انا بےاختیار مسکرائی۔۔
احمر : آپ اتنا پیار کیوں کرتی ہو مجھ سے ؟؟
انا : مجھے خود نہیں پتہ،، میرا بس دل کرتا ہے کہ آپکو بہت سارا پیار کروں آپکا خیال رکھوں۔۔
احمر : اور اگر میں جھوٹا نکلا۔۔؟
انا : ایسا ممکن ہی نہیں ،، میرا دل نہیں مانتا۔۔۔کوئی آپ سے اتنا پیار کرے اور آپ اسے دھوکا دیں۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتا کوئی،، مجھے یقین نہی آتا۔۔
دوسری جانب خاموشی چھا گئی۔
انا : کیا ہوا ؟؟
احمر : کچھ نہیں۔۔ آپ سے ایک بات پوچھوں ؟؟
انا : جی ضرور ۔۔
احمر : آپکی ویسٹ کتنی ہے؟؟
اسکا میسج پڑھتے انا کی ہتھیلی بھیگ گئی۔ ایسی گفتگو تو اس نے کسی سے نہیں کی تھی۔ اور اتنی سنجیدہ بات کے درمیان اسکا یہ پوچھنا انا کو بہت عجیب لگا۔۔
جھجھکتے ہوئے اسنے میسج ٹائپ کیا ۔۔
انا : 23 ہے ۔۔
احمر : اتنی پتلی کمر۔۔۔ میں آپکی بھیجی تصویر میں آپکی کمر کو ہی دیکھ رہا ہوں۔۔ دل کر رہا ہے بار بار دیکھوں ۔۔
انا کو ایک عجیب سا احساس ہوا ۔۔ گھٹن بڑھنے لگی تو اس نے موبائل سوئچ آف کر دیا۔۔
جب انسان اللّه تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو بےسکونی تو ہوگی نا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
آج وہ پکا عہد کر کے آئی تھی کہ احمر کی طرف دیکھے گی بھی نہیں،، یہ سب غلط تھا ۔۔ آج وہ احمر سے صاف بات کرے گی۔۔ ہاں اس کے پاس صحیح راستہ تھا،، وہ اسے کیوں نہ اختیار کرے۔۔
ابیحہ کچھ دن سے اسکا بجھا رویہ نوٹ کر رہی تھی۔۔ انا سب ٹھیک ہو جائے گا،، وہ تم سے پیار کرتا ہے،، مان جائے گا ،، اور تم نے کوئی غلط حرکت بھی تو نہی کی۔۔ اپنی نازک جان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔۔
انا نے پیار سے اسے گلے لگا لیا۔۔ تم بہت اہم ہو میرے لئے بیہ۔۔
جانو آپ بھی نہ،، ابیحہ کے کہنے پر اسے بےاختیار ہسی آئی۔۔ پروفیسر کی گھوری پر وہ فوراً سیدھی ہو گئی۔۔
بیہ یار ویسے یہ سر بہت ٹھرکی ہیں۔ عجیب گندی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔۔
چھوڑ یار یہ گند تو ہر جگہ ہی ہے۔۔ برائی ہر جگہ پائی جاتی ہے۔۔ انسان تو وہ ہے جو اپنا اندر صاف رکھے ۔۔ جو اپنے آپ سے نہیں لڑ سکتا اس سے بڑا بزدل کوئی نہی۔
ابیحہ نے اسے سمجهاتے ہوئے کہا۔ انا کے اندر گہری خاموشی چھا گئی۔۔ میں ایسی تو نہی تھی۔ اسکی آنکھوں میں تکلیف ابھری جو سرخ لكیر کی صورت میں اسکی آنکھوں سے ظاہر ہونے لگی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
احمر میں نے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔
انا نے رات کو سب کے سو جانے کی تسلی کر کے احمر کو کال ملائی۔ اسکے کال اٹھاتے ہی انا نے کہا۔۔
جی جان آپ حکم کریں،، اسکے پیار سے کہنے پر انا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔ یہ سب بلکل بھی آسان نہیں تھا۔۔ یہ درد تو بس محبّت کرنے والے جانتے ہیں۔۔
احمر مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگتا۔۔ مطلب اس طرح چھپ کر بات کرنا،، میں چاہتی ہوں آپ اپنے گھر بات کریں۔
انا مجھ سے بڑے بہن بھائی ہیں ابھی،، ابھی کوئی میری بات نہیں سنے گا ۔۔
احمر آپ بات تو کریں۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ابھی شادی کر لیں۔ میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ ہماری بات فکس ہو جائے ۔۔
انا تم سمجھ کیوں نہیں رہی۔ ابھی یہ ممکن نہیں ۔۔ پانچ چھ سال انتظار کرلو۔ اسنے لاپرواهی سے کہا۔۔
انا کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔۔ بھلا بیٹیوں کے باپ بھی اتنا انتظار کرتے ہیں اور بھی مڈل کلاس فمیلیز کے۔ اس نے بے دردی سے آنسو صاف کیے۔۔
کیا وہ اسکے لئے کوئی راستہ نہیں نکال سکتا تھا۔۔ وہ جانتا تھا کہ اسکے بابا کبھی بھی اتنا انتظار نہیں کریں گے۔۔ شاید اسکی کوئی مجبوری ہو ۔۔۔ دل اسکے حق میں دلیل دینے کے لئے بیتاب ہوا۔ لیکن دماغ نے اسے خاموش کروا دیا۔۔
یہ دل ہی انسان کو اکثر کمزور فیصلوں پر مجبور کرتا ہے ۔ کبھی کبھی دماغ کی بھی مان لینی چاہیے۔۔ اسنے دماغ میں جمع تفریق کی۔۔
وہ اکثر شادی کے نام پر بیزاری ظاہر کرتا تھا۔ لیکن وہ اپنے دل کو جھوٹی تسلیاں دیتی رہی۔۔ یہ تو ہونا ہی تھا کبھی نہ کبھی۔۔ جو محبت کرتے ہیں وہ نکاح کرتے ہیں نہ کے سارا دن چیٹ پر محبّت کے دعوے کرتے ہیں۔۔
فون کال کب کی بند ہو چکی تھی۔ اس نے دل میں ایک عزم کیا۔۔
گہری سانس لے کر کانپتے ہاتھوں سے ٹائپ کرنا شروع کیا۔۔
احمر ہم آج کے بعد کبھی بات نہیں کریں گے۔ ہمارے پاس صحیح راستہ ہے۔ ۔ آپ ایسا نہیں چاھتے تو ٹھیک ہے ۔۔ اب میں آپ سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی۔۔ سینڈ کر کے وہ اسکے جواب کا بےصبری سے انتظار کرنے لگی۔۔
انا تم اب مجھ سے الگ ہونا چاہتی ہو اسلئے ایسا کر رہی ہو۔ میں نے سچی محبّت کی تھی۔ میں کیسے رہوں گا تمهارے بغیر،، تمہاری عادت ہوگئی ہے مجھے،۔ پلیز مت جاؤ۔۔
اسکا میسج پڑھ کر انا ہچکیوں سے رونے لگی۔۔ اللّه تعالیٰ میری مدد کریں۔۔ ایسی تکلیف تو کبھی محسوس نہی کی میں نے۔۔ جسکو اتنا پیار کیا ۔۔وہ کہہ رہا میرا دل بھر گیا اس سے ۔۔ جس کے لئے میں نے آپ کو ناراض کیا وہ مجھے یہ کہہ رہا ہے۔۔
تکلیف تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔۔ اسکا سانس بند ہونے لگا۔۔ چکراتے ہوئے وه زمین پر گر گئی۔۔ تھوڑی دیر بعد حواس بحال ہوئے تو وہ كانپتی ٹانگوں سے دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی۔
تھوڑی دیر بعد وه باتھ روم میں واش بیسن پر جھکی وضو کر رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ روتی جارہی تھی۔۔ بلکتے ہوئے اس نے جائےنماز بچھائی اور سجدے میں گر کر تڑپ تڑپ کر رونے لگی۔۔
اللّه،،، اللّه ،، وہ بار بار پکارتی جاتی۔ اللّه میں نے سب چھوڑا ۔۔ سب چھوڑ دیا میں نے آپ کے لئے۔۔ مجھے سیدھے راستے پر چلائیں۔ اپنے راستے پر اللّه تعالیٰ۔
مجھے شیطان کے گندے راستے پر نہیں چلنا ۔۔ اللّه پاک میں نے آپ کو کتنا ناراض کر دیا۔ مجھے معاف کر دیں ۔۔ مجھے معاف کردیں ۔۔ وہ بلک بلک کر فریاد کررہی تھی۔۔
تم نے کبھی ایک ماں کو دیکھا ہے جو بچے کو بلكتا دیکھ کر اسے اپنی آغوش میں چھپا لیتی ہے ۔۔ وہ تو پھر رب ہے۔۔ ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے والا۔۔ جب وہ تهامتا ہے تو انسان کبھی نہیں گرتا۔۔ کبھی تم نے سوچا ہے کہ اللّه تم سے کتنا پیار کرتا ہے۔۔ اتنا کہ جب تم ہر گناہ کر کے بھی اسکی طرف لوٹو گے تو وہ تمھیں برا نہیں کہے گا ۔۔ دنیا کی طرح رسوا نہیں کرے گا بلکہ تم پر مہربان ہوگا۔ تمھیں سمیٹ لے گا۔۔ تمھارے دل کو ایسا سکون دیگا جو تم نے کبھی محسوس نہیں کیا ہوگا۔ کیا تم نے اللّه کے لئے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کی ہے ؟؟
کہیں عشق سجدے میں گر گیا۔۔!!
کہیں عشق سجدے سے پھر گیا۔۔!!
کہیں عشق درسِ وفا بنا ۔۔!!
کہیں عشق حسنِ ادا بنا ۔۔!!
کہیں عشق نے سانپ سے ڈسوا دیا ۔۔!!
کہیں عشق نے نماز کو قضا کیا ۔۔!!
کہیں عشق سیفِ خدا بنا ۔۔!!
کہیں عشق شیرِ خدا بنا ۔۔!!
کہیں عشق طُور پر دیدار ہے۔۔!!
کہیں عشق ذبح کو تیار ہے۔۔!!
کہیں عشق نے بہکا دیا۔۔!!
کہیں عشق نے شاہِ مصر بنا دیا۔۔!!
کہیں عشق آنکھوں کا نور ہے۔۔!!
کہیں عشق کوہِ طُور ہے۔۔!!
کہیں عشق تُو ہی تُو ہے۔۔!!
کہیں عشق اللّه ھُو ہے۔۔!!
