Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 4

دلہن کے خوبصورت جوڑے میں بیٹھی شاہ ویر کے انتظار میں وہ تھکنے لگی تھی۔۔ کمر سیدھی کرنے کی غرض سے وہ بیڈ پر نیم دراز ہوئی ہی تھی کہ شاہ ویر دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔
اسکا سرد انداز دیکھ کر عائشہ سہم گئی۔
ویر نے اسکی طرف دیکھے بغیر کوٹ اتار کر صوفے پر پٹخا۔
عدیل شاہ کی خوشی کی خاطر وہ ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کر چکا تھا۔ ان کے لئے وہ اس رشتے کو آگے بڑھانے کے لئے بھی تیار تھا لیکن اسکا دل بلکل خالی تھا۔ اس کے لئے یہ شادی محض ایک سمجھوتہ تھی۔۔
گہری سانس لے کر وہ کھڑا ہوا اور کپڑے بدلنے کی غرض سے چینجنگ روم میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا اور عائشہ کے سامنے بیٹھ کر اسکا گھونگٹ اٹھا دیا،،
دل میں کوئی جذبہ نہ ابھرا۔ یہ اپ کی منہ دکھائی،،، ایک نفیس سا لاكٹ خوبصورت پیکنگ میں اس کی طرف بڑھایا جسے اس نے مہندی لگے کانپتے ہاتھوں سے تھام لیا۔۔
دل اپنے محرم سے اپنے لئے محبت بھرے کلمات سننے کو بیتاب ہوا مگر اس نے کہا تو فقط اتنا کہ ” آپ چینج کر لیں۔ میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں”۔
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اٹھی لیکن ایک خیال آنے پر رک گئی،، وہ میرا سامان۔۔۔؟؟ اس نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔
وہ تو نیچے پڑا ہے۔ ایسا کریں میری كبرڈ کھول کر کچھ پہن لیں۔
وہ ہونق بنی اس کی طرف دیکھنے لگی تو ویر نے اٹھ کر اپنی قدرے چھوٹی بلیک شرٹ اور بلیک ہی ٹراؤزر اسے تھما دیا۔
اس کے جانے کے بعد ویر نے اپنی شرٹ اتاری اور بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔ عائشہ باتھروم کی لائٹ آف کرتی باہر نکلی تو شاہ ویر کو بغیر شرٹ کے دیکھ کر اسکے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی،، اس نے جلدی سے نظریں جھکائی۔
اسے ایک ہی جگہ پر جما دیکھ کر شاہ ویر نے اسکی طرف چہرہ موڑا۔ گھٹنوں کو چھوتی شرٹ کے بازو فولڈ کیے گئے تھے۔ ٹراؤزر کے پائنچے فولڈ کرنے کے باوجود پاؤں میں آ رہے تھے۔
ادھر آئیں،، شاہ ویر کو وہ بہت ڈری ہوئی لگی۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اسکے پاس گئی۔ ویر نے کمرے کی بتی بند کر دی۔۔
اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئی تو شاہ ویر کو بے حد قریب سوتے ہوئے پایا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے نرمی سے اسکی داڑھی پر ہاتھ رکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتی وہ شاور لینے چلی گئی۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
بھاؤ ۔۔۔ ایڑھیاں اونچی کر کے دبے قدموں کچن میں جاتی اعینہ نے دہل کر پیچھے دیکھا۔ اسے ڈرتا دیکھ کر جہان بہت محظوظ ہوا،، عین نے اسکے بازو پر دھموکا جڑا،، بھائی آپ نے میری جان ہی نکال دی تھی،، حد ہے۔۔
کیا ہورہا تھا۔۔؟ یہ چوروں کی طرح کچن میں کیوں گھسا جارہا ہے۔۔
شش آہستہ بھائی،، عین نے سر پیٹنے والے انداز میں کہا۔ نانو نے کچن میں میری چاکلیٹس چھپا دی ہیں،، وہی ڈھونڈنے جارہی ہوں۔
اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔
ہاں نہ۔۔ عین نے نیلی آنکھوں کو گھماتے ہوئے کہا۔
یہ بعد میں ڈھونڈتی رہنا،،چلو شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔
شاپنگ کا سن کر وہ بہت ایکسائٹڈ ہوئی۔ اوکے،، آپ رکیں میں ایک منٹ میں آئی۔۔
وہ شاپنگ مال میں کب سے سر کھپا رہے تھے۔ جو چیز جہان کو پسند آتی وہ عین کو پسند نہ آتی اور جو عین کو پسند آتی جہان اس پر ناک بھوں چڑھانے لگتا۔
نہیں بھائی باربی جیسے ڈریس چاہیے مجھے۔ اور منی کوٹس وغیرہ۔ میں آپ کو کیسے سمجھاؤں اب۔
دکاندار نے ان کی مشکل آسان کرتے ایسے بےشمار ڈریسز ان کے سامنے پھیلا دیے ۔ جہان کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔ اس نے بلیو جینز کی جیکٹ کے ساتھ میرون فلور لینتھ فراک سائیڈ پر رکھی۔ سفید، کالی، سرمئی رنگوں کے منی کوٹس، شرٹس اور جینز کے ساتھ پیک کرواۓ۔۔
اسکی نظر ایک بہت خوبصورت ہلکے گلابی رنگ کی باربی فراک پر پڑی جس کے نیٹ کے بازو پھولے ہوئے تھے جو کلائیوں سے تنگ ہو جاتے تھے۔ گھٹنوں تک آتی نیٹ کی پھولی فراک،، پرفیکٹ۔۔
جہان کے ریماركس پر عین نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسکی نیلی خوبصورت آنکھیں چمک اٹھی۔۔
ایکسکیوز می،، یہ بھی پیک کر دیں۔ ساری پےمنٹ کرنے کے بعد واپسی پر آئسکریم پیک کروائی اور هنستے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔
لاؤنج میں آئمہ کے ساتھ بیٹھی انا کو دیکھ کر جہان کی آنکھیں جگمگا اٹھیں۔ عین جلدی سے یہ سارے بیگز رکھ کر آؤ۔۔
السلام علیکم! بھاری آواز میں سلام کرتا وہ انا کے سامنے بیٹھ گیا۔
وعلیکم السلام ہان بھائی۔۔ کیسے ہیں آپ؟
جہان کا منہ تک کڑوا ہو گیا۔ آئمہ نے مسکراہٹ دبائی۔
ٹھیک ہوں۔ تم کیسی ہو؟؟ نرم نگاہوں سے اسے دیکھتے دريافت کیا۔۔
انا کے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکا۔ بعض سوال اتنے مشکل کیوں ہوتے ہیں اور ان کا جواب اس سے بھی مشکل؟؟
میں بھی ٹهیك ہوں،، بدوقت مسکراتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
آؤ عین رک کیوں گئی ہو۔۔؟ آئمہ نے پیار سے اسے بلایا اور اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ انا نے دلچسپی سے نیلی آنکھوں والی خوبصورت گڑیا کو دیکھا جو گلابی نازک ہونٹوں پر شرمیلی مسکان سجاۓ ہوئے تھی۔
یہ اعینہ ہے، میری پیاری بیٹی۔
آئمہ نے پیار سے اسکے پونی میں مقید لمبے گھنگھریالے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا۔ انا کو وہ سب کچھ بتا چکی تھیں۔
انا نے اس سے ہاتھ ملایا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔۔
عین،، میں اب سے تمہاری بڑی بہن ہوں۔ ٹھیک ہے کوئی بھی بات ہو مجھے بتانا اور مجھ سے ملنے آتی رہنا۔ اب تو میں بھی اکثر تم سے ملنے آتی رہونگی۔۔
آخر آنا تو تمھیں یہاں ہی ہے،، جہان کے بے دیهانی میں کہنے پر انا نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا۔
ہان کا مطلب ہے کہ عین اتنی پیاری ہے کہ جو بھی مل لے وہ بار بار ملنا چاہے گا۔ آئمہ نے بات سنبهالتے ہوئے کہا۔۔
ہاں یاد آیا جس کام کے لئے میں آئی تھی وہ تو بھول ہی گئی۔ انور چچا کے بڑے بیٹے کی شادی ہے۔ یہ کارڈ انہوں نے آپ کے لئے دیا تھا۔
انویٹیشن کارڈ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔۔ عین کو بھی ضرور لائیے گا ساتھ۔ میں چلتی ہوں۔ کافی وقت ہوگیا ہے۔ بابا ناراض ہوں گے۔
وقار کو بھی ناراض ہونے کے علاوہ آتا کیا ہے۔۔ اپنی ماں کو سلام دینا میرا۔۔ آئمہ نے کہا تو وہ جانے کے لئے کھڑی ہو گئی۔
چلیں آپ کو گھر ڈراپ کر دوں۔ نہیں اٹس اوکے میں چلی جاؤں گی۔۔
میں بھی ڈراپ ہی کروں گا۔ کھا نہی جاؤں گا آپ کو۔
انا نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور آئمہ اور عین سے مل کر باہر نکل گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
میر دروازہ کھٹکھٹا کر ویر کے کمرے میں داخل ہوا،، وہ عائشہ کو دیکھ کر مسکرایا۔ جواباً وہ بھی مسکرائی۔
ویر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بالوں میں برش کر رہا تھا۔ بھائی بابا آپ دونوں کا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں۔۔
ہم تھوڑی دیر تک آتے ہیں۔ عائشہ نے نرمی سے کہا۔ میر کے جانے کے بعد وہ آہستہ سے ویر کے سامنے کھڑی ہو گئی اور اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی۔۔
میں کر لیتا ہوں،، ویر کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ نرمی سے اسے دیکھ کر مسکرائی۔
وہ پہلے دن سے ہی اس کا کھچا سا رویہ محسوس کررہی تھی۔ ہاں ایک بات پر وہ مطمئن تھی کہ وہ اس کے سارے حقوق پورے کر رہا تھا۔۔
ویر نے اسے دیکھا جو سرخ شلوار قمیض میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ کھلے بالوں کو دوپٹے سے ڈھانپتے وہ ویر کی ہمراہی میں ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی۔
السلام علیکم بابا،، سربراہی کرسی پر بیٹھے عدیل شاہ کو سلام کر کے وہ ویر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
چلو کھانا شروع کرو۔ عائشہ بیٹے آپ نے اب اپنا خاص دیهان رکھنا ہے اور زیادہ کام نہیں کرنا۔ اس حالت میں زیادہ سے زیادہ آرام ہی بہتر ہے۔ اور ویر تم بھی میری بیٹی کا خیال رکھا کرو۔
ویر نے سر جھکا کر مسکراتی اپنی بیوی کو دیکھا۔ جی بابا آپ پریشان نہ ہوں۔
میر گھر میں نئے آنے والے مہمان سے ملنے کے لئے بیتاب تھا۔۔
کھانا کھا کر وہ میر کے ساتھ مل کر ناشتے کے برتن سمیٹنے لگی۔ ان کی شادی کو دو ماہ ہو چکے تھے۔ شادی کے دو ہفتوں بعد ہی اسکی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ ویر فوراً اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا جہاں ڈاکٹر نے انہیں خوشخبری سنائی۔ جو ویر کے لئے تو خوشخبری بلکل نہیں تھی۔
وہ چاہ کر بھی اس سے محبت نہ کر سکا۔۔ زبردستی رشتے جوڑنے سے دل نہیں جڑا کرتے۔ اس کے رویے میں اتنی تبدیلی ضرور آئی تھی کہ وہ اسکا تھوڑا بہت خیال رکھنے لگا تھا اور عائشہ کے لئے یہی کافی تھا۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہان بھائی جلدی کریں انا آپی کی كالز آ رہی ہیں۔ دیر ہو رہی ہے۔۔ اعینہ لاؤنج میں کھڑی جہان کو کب سے آوازیں دے رہی تھی جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
آج جہان کے چچا زاد بھائی کی مہندی تھی۔ مہندی کا انتظام ان کی حویلی میں کیا گیا تھا۔ انا پہلے ہی حنا اور وقار کے ساتھ حویلی جا چکی تھی۔ عین اور جہان نے مہندی سے کچھ وقت پہلے حویلی پہنچنا تھا۔
ہان بھائی ۔۔۔۔؟؟
آگیا آگیا تم نے تو آسمان سر پر اٹھا لیا ہے بندری۔۔
وائٹ پینٹ شرٹ اور جوگرز میں ملبوس ہاتھ میں کپڑوں سے بھرا بیگ پکڑے وہ عجلت میں کمرے سے نکلا۔۔ نانو سے مل لیا۔۔؟
جی ان کو بتا آئی ہوں میں،، مل بھی لیا ہے۔ اپنی گھٹنوں تک آتی وائٹ فراک کو سیدھا کرتے اس نے جہان کا ہاتھ تھاما اور اس کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر حویلی کے لئے روانہ ہو گئی۔
آئمہ نے جہان کے اصرار پر بھی جانے سے معذرت کرلی تھی۔ ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی ۔۔ جہان نے بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا لیکن آئمہ نے کہا کہ اب اتنی بھی خراب نہیں۔ اور کسی کو تو جانا ہے نہ ۔۔ چار و ناچار وہ جانے کے لئے مان گیا۔ انا نے عین کو ساتھ لانے کی خاص تاكید کی تھی لہٰذا وہ بھی اس کے ساتھ جا رہی تھی۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں حویلی پہنچے۔ شاندار حویلی اپنی پوری آب و تاب سے سجی، روشنیوں میں نہائی آنے والوں کو خوشآمدید کہہ رہی تھی۔۔
جہان مہمانوں سے بھری حویلی میں بمشکل جگہ بناتا عین کا ہاتھ پکڑے چچا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
رخسانہ چچی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ملازم کی ہمراہی میں دوسری منزل پر موجود قدرے پرسکون کمرے میں بھیج دیا۔۔
ایک قطار میں بنے کمرے بلکل ایک جیسے لگتے تھے۔ ملازم کونے والے کمرے میں سامان رکھ کر چلا گیا۔
بھائی آئی ایم سو اکسائیٹڈ ۔۔ کتنا مزہ آۓ گا،، ارے انا آپی سے تو ملے ہی نہیں۔۔
اتنے میں انا انہیں ڈھونڈتی ہوئی یہیں آ گئی۔ السلام علیکم ! آخر کار آپ ہی گئے۔ اور جہان کا وعلیکم السلام سنے بغیر ہی عین کا ہاتھ پکڑتی جلدی میں کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
اسکو جہان سے ایک کمرہ چھوڑ کر اگلا کمرہ ملا تھا۔۔ درمیان والا کمرہ ڈریسنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔۔
عین چلو جلدی سے کپڑے بدلو۔ مہمان آ بھی گئے ہیں اور ہم ابھی تک تیار نہیں ہوئے۔ اس نے سوچا پہلے اسے تیار کر لے پھر آرام سے خود تیار ہو جائے گی۔۔
عین بلیک لہنگے کو بمشکل سنبهالتی باتھروم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ آپی یہ دیکھیں پاؤں میں آرہا ہے۔ میں تو گر جاؤں گی اس میں۔
ادھر آؤ میں ٹھیک کرتی ہوں۔ انا نے اسکا لہنگا اونچا کر کے پنز لگا دیں اور اسکی گولڈن کرتی کی ہک بند کی۔۔
پھر جلدی ہاتھ چلاتے اسے لائٹ سا میکپ کیا۔ کاجل کی باریک لكیر سے عین کی نیلی آنکھیں اور بھی خوبصورت لگنے لگیں۔ اسکے کالے لمبے بالوں کو سٹائلش سے جوڑے میں باندھ کر پھولوں سے بنی نازک بالیاں اس کے کان میں ڈال دیں۔
انا نے پیچھے ہٹ کر ایک بھرپور نظر سے اسکا سر تا پیر جائزہ لیا تو اسے عین پر بے انتہا پیار آیا۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی۔
انا نے آگے بڑھ کر اسکے گالوں کو چوم لیا۔ یار کتنی پیاری لگ رہی ہو تم۔ میں لڑکا ہوتی تو ضرور تم پر دل ہار جاتی۔ عین بلش کرنے لگی۔
چلو اب تم نیچے جاؤ۔ میں تھوڑی دیر میں تیار ہو کر آتی ہوں۔ انا نے اس کا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
عین کے جانے کے بعد انا نے اپنا میرون رنگ کا نیٹ کا لہنگا کرتی پکڑی اور ساتھ والے کمرے میں جو ڈریسنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔
لائٹ بند کر کے اس نے میرون پاؤں کو چھوتا لہنگا زیب تن کیا۔ چھوٹی سی بمشکل کمر تک آتی بند کُرتی پہن کر اس نے کمر پر موجود زپ بند کرنی چاہی لیکن زپ بند ہونے کا نام ھی نہیں لے رہی تھی۔
غصے میں اس نے زور سے زپ کھنچی جو ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آ گئی۔ بلکل اسی وقت جہان ڈریسنگ روم سے ملحقہ چھوٹے سے کمرے سے باہر نکلا۔ کمرے میں اندھیرا دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا۔
اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کر کے انا اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔ جہان اپنی ہینگ کی ہوئی قمیض پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو کسی نرم وجود سے ٹکرایا۔
توازن کھو کر وہ انا سمیت زمین پر جا گرا۔ جلدی سے اٹھ کر اس نے لائٹ جلائی۔ جہان کو اپنے سامنے بغیر شرٹ کے دیکھ کر انا کا شرم سے برا حال ہوگیا۔۔
وہ برا پھنسی تھی۔۔ ٹوٹی زپ کے ساتھ وہ کمرے سے باہر بھی نہیں جا سکتی تھی۔ جہان نے فوراً قمیض پہنی اور دوپٹے سے بےنیاز زمین پر گری انا کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے خود پر کس طرح ضبط کیا تھا یہ بس وہی جانتا تھا۔
انا نے اس کا ہاتھ دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔ وہاٹ ہیپنڈ ؟؟ تم ٹھیک ہو ؟؟ انا نے بےبسی سے اسے دیکھا۔
میری شرٹ کی زپ ٹوٹ گئی ہے۔ آنکھوں میں آنسو لئے اس نے ہلكی سی آواز میں کہا۔ جہان نے مسکراہٹ دبائی۔
اب کیا ؟ کوئی دوسرا ڈریس لا دوں؟ انا نے نفی میں سر ہلایا۔
اگر آپ کسی کو بلا دیں تو وہ میری ہیلپ کر دے۔
انا سب اپنی تیاری میں مصروف ہیں۔ اچھا اٹھو تو صحیح۔۔ تمہارے پاس کوئی پن ہے؟؟
جی وہاں اس باكس میں ہیں۔ آپ کیا کرنے لگے ہیں؟؟
جہان نے دو سیفٹی پنز پکڑیں اور انا کے بلکل سامنے کھڑا ہو گیا۔ انا کو اس سے بے انتہا شرم محسوس ہوئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے غائب هو جاتی۔
جہان نے انا کو کمر سے پکڑ کر پاس کیا اور بیک گلے کو پنز لگا کر بند کر دیا۔ دونوں کے دل بے تہاشہ دھڑک رہے تھے۔
جہان کے پیچھے ہٹتے ہی انا بھاگتی ہوئی ڈریسنگ روم سے باہر نکل گئی۔ جہان نے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور گہرے سانس لینے لگا۔ یہ لڑکی تو ابھی سے اسکا نشہ بنتی جارہی تھی۔
اپنے کمرے میں آ کر انا نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔۔ اف ڈوب مرو انا تم۔ کیا ضرورت تھی وہاں بت بن کر کھڑے ہونے کی اور جہان بھائی کی نظریں اف،، کس طرح دیکھ رہے تھے وہ۔
جھرجھری لے کر وه جلدی سے تیار ہونے لگی۔ براۓ نام میک اپ کر کے اس نے اپنے بھورے بال سٹریٹ کر کے کمر پر ڈالے اور میرون نیٹ کا دوپٹہ گلے میں ڈال لیا۔۔
کانوں میں ایئررنگز ڈال کر وہ اپنے کمرے کا دروازہ لاک کر کے ہال کی طرف بڑھ گئی جہاں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿