Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigam Muhabbat) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigam Muhabbat) Episode 14
کُل دس لوگ ہیں ۔۔ ہر ایک کے پاس بندوق ہے۔۔
جہان نے دور بین کی مدد سے دربار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔۔
وہ دونوں اس وقت دربار کے آس پاس قدرے اونچے مقام پر موجود تھے۔۔ یہاں ہونے کا مقصد اندر کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔۔
ویر نے اس سے دوربین لے کر آنکھوں سے لگائی۔۔
ہممم ۔۔ انکا ساتھی ایک کمرے کے باہر کھڑا پہرہ دے رہا ہے۔۔ ضرور وہاں کچھ ہے۔۔
جہان نے آنکھیں سکیڑیں۔۔
ہمیں دیوار پهلانگ کر اندر جانا ہوگا۔۔ پچھلی طرف سے ۔۔۔ باقی ہر طرف پہرا ہے۔۔
لیکن ایسے تو ہم نظروں میں بھی آ سکتے ہیں۔۔ ویر نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔۔
ہم میں سے کسی ایک کو انکی نظروں میں آنا ہوگا۔۔ ایسے ان کا دیهان بٹے گا۔۔ اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر دوسرا پوری ہوشیاری سے اندر محفوظ جگہ چھپ جائے گا ایسی جگہ جہاں سے دونوں ایک دوسرے سے اشارتاً بات کر سکیں۔۔
ہمم امپریسو مجھے تو لگ رہا ہے کہ تمہارا تعلق بھی کسی گینگ سے ہے۔۔ جہان نے تیکھی مسکراہٹ سے کہا۔۔
ویر کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ اس نے اسکی بات کا جواب دینا ہی ضروری نہ سمجھا۔۔
جہان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔ ہاں اب کلیجے میں کچھ ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔۔
ہوا کا زور تیز ہوا تو ویر نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔۔ سیاہ بادلوں نے آسمان کو پوری طرح ڈھک دیا تھا۔۔ ہلکے اندھیرے نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
بادل زوردار آواز سے گرجے اور بارش کی ایک بوند جہان کے ماتھے پر گری۔۔
آر یو ریڈی۔۔۔؟ ویر نے جہان کے آگے اپنا ہاتھ کیا۔۔
یس آئی ایم۔۔۔۔ اس نے ویر کے ہاتھ پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا۔۔ دونوں نے عزم سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور ڈھلان سے نیچے اترنے لگے۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
دور خلاؤں میں گھورتی انا یک دم چونکی۔۔ اس نے ویر کو دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔۔
فرطِ جذبات سے اس نے اپنے کانپتے ہونٹ بهینچے۔۔ بہت مشکل سے اس نے چہرے پر ابھرنے والے تاثر کو نارمل کیا۔۔
ویر نے زمین پر قدم رکھتے ہی اپنی قمیض میں موجود ہتھیاروں کو اندازے سے چیک کیا۔۔۔
جہان دیوار سے ذرا سا جھانک رہا تھا۔۔ اس نے ویر کو انگوٹھا دکھایا ۔۔۔
ویر نے سر کو خم دیا اور جان بوجھ کر کھمبے سے ٹکرا گیا۔۔ خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا تو نقاب پوش فوراً الرٹ ہوگئے۔۔۔
رابرٹ ۔۔۔! رائٹ ناؤ۔۔۔
یس سر۔۔۔۔!!
باس کے حکم پر ایک نقاب پوش جسکا نام رابرٹ تھا بندوق کی نال سیدھی کیے پچھلی جانب چلا گیا جہاں سے آواز ابھری تھی۔۔
ویر کو دیکھ کر اس نے بندوق اس پر تان لی۔۔
ویر نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے فوراً ہاتھ فضا میں بلند کر دیے۔۔
جہان نے اس کی ایکٹنگ کو سراہتے ابرو اٹھایا۔۔
رابرٹ احتیاط سے آگے بڑھا اور ویر کو کندهے سے پکڑ کر آگے دھکیلا۔۔ ایسے سلوک پر ویر نے دانت پیسے۔۔
سر دِس مین واز فاؤنڈ دیئر۔۔ (سر وہاں یہ شخص تھا )
رابرٹ نے اسے زمین پر دھکیل کر کہا۔۔
ویر نے زمین پر دونوں ہاتھ رکھ کر اپنے آپ کو زخمی ہونے سے بچایا۔۔
تم کون ہو بتاؤ ۔۔؟ ایجنسی کے آدمی ہو نا۔۔؟
مائیک نامی انکا سربراه ویر کی طرف جھکا اس سے استفسار کرنے لگا۔۔
نہیں میں ایجنسی کا آدمی نہیں ہوں۔۔
ویر نے پرسکون لہجے میں کہا۔۔
ایک زوردار گھونسا اس کے منہ پر لگا۔۔
گھونسا اتنا زوردار تھا کہ تکلیف سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔۔
لوگوں کے خوف و ہراس میں اضافہ ہوگیا۔۔ انا نے راحم کا چہرہ اپنی طرف موڑ لیا تا کہ وہ ویر کو دیکھ نہ سکے۔۔ اس کا دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ نجانے اب کیا ہونے والا تھا۔۔
ان سب کا دیہان بٹا دیکھ کر جہان دیوار سے اندر کود گیا اور وہاں نصب کھمبوں کی اوٹ میں ہو کر دبے قدموں آگے بڑھنے لگا۔۔ اس کا ہاتھ بیلٹ میں اڑسی ہوئی پسٹل پر تھا۔۔
بکواس کرتا ہے سالا ۔۔۔ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری خبر گیری کے لیے اپنا بندہ بھیجیں گے اور ہم سمجھ نہیں پائیں گے۔۔ الو نظر آتے ہیں کیا ہم تم کو ۔۔؟ مائیک نے اس کے منہ پر بوٹ کی زوردار ٹھوکر مارتے ہوئے کہا۔۔
ویر کمر کے بل جھک گیا۔۔ اس کے منہ سے خون بہنے لگا تھا۔۔
جھکے جھکے اس کی نظر سیاہ جوتوں پر پڑی۔۔ اس کا دل خوشی سے دھڑک اٹھا۔۔ مطلب وہ صحیح سلامت پہنچ چکا تھا۔۔
اس نے زمین پر دھری انگلیوں کی وکٹری بنائی۔۔ جہان نے اس کا اشارہ سمجھ کر کھمبے کی اوٹ میں ہو کر یکے بعد دیگرے تین فائر کیے۔۔
ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔۔ لوگ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔۔ ویر نے پھرتی سے گن نكالی اور مائیک کے منہ پر زوردار لات مار کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
نقاب پوشوں نے جواباً حملہ کر دیا۔۔ دربار گولیوں کی آواز سے گونجنے لگا۔۔
جہان نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے مائیک کی گردن میں بازو کا شکنجہ تنگ کیا اور پسٹل اس کے سر پر تان کر داڑھا۔۔
خبر دار اگر کسی نے ہم پر گولی چلائی تو میں اسکا بھیجا اڑا دوں گا۔۔
مائیک کے پسینے چھوٹ گئے۔۔ اس نے فوراً اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔۔ پهینک دو سب بندوقیں نیچے پھینک دو۔۔
اسکے آدمیوں نے حکم کی تكمیل کرتے ہتھیار ڈال دیے۔۔
ویر فوراً مجمع کی طرف بڑھا ۔۔ اٹھو نکلو یہاں سے سب۔۔ بھاگو ۔۔!! جلدی کرو ۔۔ وہ نظریں تیزی سے دوڑاتے راحم کو ڈھونڈنے لگا۔۔
لوگ گرتے پڑتے باہر کی طرف جانے والے راستے کو دوڑنے لگے۔
انا عین کا ہاتھ تھامے تیزی سے ویر کی طرف بڑھی۔۔ راحم کو صحیح سلامت دیکھ کر ویر نے شکر کا سانس لیا۔
جہان جو مستعد سا مائیک پر گن تانے کھڑا تھا اچانک لڑکھڑا گیا۔۔ وہ ابھی سنبهل بھی نہ پایا تھا کہ اس کے سر پر بھرپور ضرب پڑی جس سے وہ حواس کھوتا زمین بوس ہوگیا۔۔
چند سیکنڈ میں صورتحال کا پانسا پلٹ گیا۔۔۔ صرف ذرا سی غلطی ان پر بھاری پڑی۔۔ ان کے مطابق وہ دس لوگ تھے لیکن اصل میں وہ گیارہ تھے۔۔
باہر صورتحال کو بگڑتا دیکھ کر وہ شخص اندر کہیں چھپ گیا تھا۔۔۔ اچانک اس نے تاک کر وار کیا جو ٹھیک نشانے پر لگا۔
نقاب پوشوں میں حرکت ہوئی اور انہوں نے تیزی سے بندوقیں تھام کر باہر نکلتے لوگوں پر فائر کر دیے۔۔
چند لوگ اپنی جان بچا کر بھاگ گئے جب کہ ان میں سے کچھ لوگ لقمہِ اجل بن گئے۔
ربرٹ نے ویر کو گردن سے پکڑ کر جھٹکا اور اسے پے در پے گھونسے مارنے لگا۔۔ اچانک پڑنے والی افتاد پر ویر بوکھلا گیا۔
رابڑٹ نے اسکے بازو کو موڑا اور صحن کے پچھلے جانب بنے تہہ خانے میں لے جانے لگا۔۔ ایک ساتھی نے بے ہوش ہوئے جہان کو کاندھے پر لاد کر اسکی تقلید کی۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
دوسرے دہشتگردوں نے باقی مانده لوگوں پر قابو پا لیا۔۔ انا کا دل دھاڑیں مار کر رونے کو چاہا۔۔ اس نے عین کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔۔
اللّه اب کیا ہوگا ۔۔؟ کیا کروں میں ؟ یہ سب کیا ہوگیا ۔۔ پلیز ہم سب کی حفاظت کریں۔۔
پریشانی سے سوچتے ہوئے سرعت سے ایک خیال اس کے ذہن کی سلیٹ پر نقش ہوا۔
عین اس کا دیہان رکھنا ۔۔۔ میں ابھی آئی۔۔ راحم کو اس کے حوالے کر کے وہ کھڑی ہو گئی۔۔۔
مجھے واشروم جانا ہے۔۔۔ اس نے التجائیہ لہجے میں کہا۔
رابرٹ نے مائیک کی طرف دیکھا۔۔۔
چلو ۔۔۔۔ کوئی ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے کرخت لہجے پر انا نے سوکھا حلق تر کیا۔
اس کی تقلید میں وہ قدرے کونے میں بنے باتھ روم تک آئی۔۔
کتنی دیر لگے گی ۔۔۔؟
بس پانچ منٹ۔۔۔ انا نے جلدی سے جواب دیا۔
اوکے ۔۔۔ اس کو جواب دے کر وہ قدرے دور جا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اس کے خیال میں ایک بالشت بھر چھوکری کیا کر سکتی تھی۔
انا نے اسے مڑتے دیکھ کر تیزی سے رخ بدلا۔
وہ نظر بچاتی تیزی سے تہہ خانے کی سیڑھیاں اترنے لگی۔
“ایک منٹ۔۔۔۔”
وہ ابھی آدھی سیڑھیاں ہی اتر سکی تھی کہ اس کی نظر ایک کمرے پر پڑی جسکے کھلے دروازے سے اسلحہ نظر آرہا تھا۔۔ اس نے چند سیكنڈ کی دیر کیے بغیر جو ہاتھ میں آیا اٹھا لیا اور تیزی سے تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر گئی
“دو منٹ ۔۔۔۔۔”
نیچے آ کر اس نے واحد کمرے میں جھانکا جہاں ویر اور جہان ادھ موۓ پڑے تھے۔۔۔ ان کے جسم شرٹ کی قید سے آزاد تھے۔۔ جس پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے۔۔ انہیں بری طرح پیٹا گیا تھا۔۔
وہ آنسو روکتی جلدی سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ ان کے پاس زمین پر بیٹھ کر وہ انہیں پکارنے لگی۔۔۔
ہان۔۔۔؟ شاہ ویر۔۔۔؟ اٹھیں ۔۔۔۔!
“اڑھائی منٹ۔۔۔۔”
جلدی کریں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔ دونوں کے وجود میں جنبش ہوئی۔۔ آنکھیں کھولتے وہ بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھے گئے۔۔
یقیناً قدرت انکا ساتھ دے رہی تھی ورنہ اب انہیں اپنے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔
انا نے ساتھ لائے اسلحہ میں سے چاقو پکڑا اور تیزی سے ان کے ہاتھ پر بندھی رسی کاٹی۔۔
“تین منٹ ۔۔۔۔”
میں اتنا ہی کر سکتی تھی۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔ اللّه آپ کی مدد کرے۔۔۔
وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی اور تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
چار منٹ ۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
رابرٹ نے وقت دیکھا ۔۔ پانچ منٹ ہونے والے تھے۔۔ اس نے اپنا رخ باتھ روم کی طرف کیا۔۔ اس نے احتیاتاً دائیں بائیں جھانکا ۔۔
وہ دروازے پر دستک دینے ہی لگا تھا کہ باتھ روم کا دروازه کھلا اور انا باہر نکلی۔۔
اسکا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔۔۔اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ وہاں سے صحیح سلامت واپس آ گئی تھی۔۔
آپی آپ کہاں گئی تھیں۔۔؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔ ہان کو لے گئے وہ لوگ ۔۔ سب میری وجہ سے ہوا ہے ،، نہ میں آتی اور نہ وہ ۔۔۔
شش ۔۔۔! ٹھیک ہیں وہ ،، میں ابھی ان کو دیکھ کر آئی ہوں ۔۔۔ انا نے سرگوشی میں کہا۔
عین کی آنکھوں کی بجھی جوت پھر سے جلنے لگی۔۔ سچ کہہ رہی ہیں آپ ؟ آپ ان تک پہنچیں کیسے ۔۔؟ اس نے بھی سرگوشی میں پوچھا۔۔
بعد میں بتاؤں گی۔۔ انا نے کہتے ہوئے راحم کو تھام لیا جو روتے روتے سو چکا تھا۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
رابرٹ ۔۔۔؟ مائیک نے خاموش بیٹھے رابرٹ کو پکارا جو عجیب سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔۔ اس کے جواب نہ دینے پر اس نے اسکا شانہ تهپتهپایا تو وہ ایک طرف کو لڑھک گیا۔۔ مائیک چونک گیا۔۔
اس نے باقی ساتھیوں پر نظریں دوڑائیں تو وہ سب بھی كهمبوں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔۔ ان کی آنکھوں کی پتلياں ایک ہی نکتے پر جمی ہوئی تھیں۔۔
اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر انہیں ہلایا تو سب ایک طرف کو لڑھکتے گئے۔۔
کسی انہونی کا احساس ہوتے اس نے بیلٹ پر بندوق نکالنے کے لیے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ایک گولی اسکی دائیں کنپٹی کو چھوتی بائیں سے نکل گئی۔۔ خون فوارے کی صورت اس کے سر سے نکلا اور وہ کٹی ڈال کی مانند زمین بوس ہوگیا۔۔
اف اف تف ہے ہم پر ۔۔ باس بھی ٹپک گیا ۔۔ اپن لوگ نکلتے ہیں نہیں تو یہ سالے کل کے لونڈے اپن کی بھی اوپر کی فلائٹ کروا دیں گے۔۔
وہ اول جلول حلیے میں باہر سے جھانکتے ہوئے اپنے ساتھی سے بولا۔۔۔ وہ “اوپر” سے ایک اہم پیغام لے کر آیا تھا لیکن یہاں تو کایا ہی پلٹ گئی تھی۔۔ رک تو ادھر ان سالوں کو ایسے ہی تو نہیں چھوڑیں گے۔۔ میں ابھی آیا۔۔
ویر اور جہان جلدی سے ان کے پاس پہنچے۔۔ تم ٹھیک ہو عین۔۔؟ عین کی آنکھیں چھلکنے کو بیتاب ہوئیں۔۔
ساتھ ہی اس کی نظر انا پر پڑی۔۔ انا کو دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا۔۔
جہان تم نکلو جلدی یہاں سے ۔۔ ابھی بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔۔ ویر نے راحم کو تھام کر کہا۔۔
جہان نے سر ہلا کر انا کی طرف دیکھا۔۔ تم ۔۔؟
ہاں میں جانتا ہوں ان کو ۔۔ میں ڈراپ کر دوں گا ۔۔
ویر کے کہنے پر جہان نے خاموشی سے انا کی اوڑھ دیکھا جو نظریں چرا گئی۔۔
چلو ۔۔۔! عین کا بازو تھام کر وہ جلدی سے باہر نکلا۔۔
چلیں آپ بھی ۔۔۔ جلدی کریں ۔۔
ویر تفكر سے انا کو دیکھ کر بولا ۔۔
اچانک بیپ بیپ کی آواز پر وہ چونکے۔۔
ایک خیال سرعت سے دونوں کے ذہن میں ابھرا۔۔
اوہ نو۔۔۔ جلدی کریں ۔۔ وہ راحم کو لئے باہر لپکا۔۔
انا کہاں ہے ۔۔؟
جہان کے پوچھنے پر اس نے سرعت سے پیچھے دیکھا ۔۔۔ اسکا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔
اسے پکڑو ۔۔۔ راحم کو عین کے حوالے کر کے وہ اندھا دھند دوڑ کر اندر گیا ۔۔
انا کہاں ہو تم ۔۔؟
وہ پوری قوت سے داڑھا۔۔
“مم مم ۔۔۔” ایک کمرے سے آواز ابھر کر معدوم ہو گئی۔۔
وہ دیوانہ وار دوڑ کر کمرے کے باہر پہنچا جسکا دروازه بند تھا۔۔ وہ اپنے پیر سے دروازے پر ٹھوکریں مارنے لگا۔۔
انا نے اپنے اوپر جھکے شخص کو پیچھے دهکا دیا۔۔۔
شاہ ویر ۔۔۔۔؟ وہ پوری قوت سے چیخی۔۔
اس شخص نے انا کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا اور اسکا عبایا اس کے بدن سے جدا کر دیا۔۔ وہ تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
ویر نے ایک بھرپور ٹھوکر دروازے پر ماری جس سے دروازه ٹوٹ گیا۔۔
وہ اندر آیا اور اس شخص کو انا کے اوپر سے ہٹا کر پیٹنے لگا۔۔۔ اسے ایک کونے میں دھکا دے کر وہ انا کی طرف مڑا۔۔
کم آن،،، سٹینڈ اپ ۔۔ اس نے اپنا ہاتھ انا کی طرف بڑھایا۔۔
انا نے آنسو بھری آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا۔۔ اس میں اٹھ کر چلنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔۔
جائیں ۔۔۔ جائیں یہاں سے ۔۔ وہ چیخی۔۔
ویر نے ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر اسے بازوؤں میں اٹھایا اور پوری رفتار سے اسے تھامے باہر کی اوڑھ بھاگا۔۔
اس کا قدم چوکھٹ سے باہر پڑا ہی تھا کہ ایک زور دار دھماکے کی آواز گونجی۔۔ ویر انا سمیت کئی فٹ دور جا گرا۔۔
عین اور جہان دوڑ کر ان کی طرف آئے۔۔ انا تکلیف ضبط کرتی زمین پر سیدھی لیٹ گئی۔۔
جہان نے ویر کو سہارا دے کر بٹھایا جسکا جسم بے حد زخمی ہو چکا تھا۔۔ زخمی وہ خود بھی تھا۔۔ شرٹ کی قید سے آزاد دونوں کے جسموں پر تشدد کے نشان تھے۔۔
آپی اٹھیں ۔۔۔۔ ایسے کیوں لیٹی ہیں۔۔۔
عین اسے دیکھ کر رونے لگی۔۔۔
ماما ۔۔۔۔؟؟ راحم کی معصوم پکار پر وہ ڈھیروں آنسو ضبط کرتی اٹھ بیٹھی۔۔
سس ۔۔ درد کی لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔۔
انا نے راحم کو تھام کر سینے میں بھینچ لیا۔۔ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتی۔۔؟ وہ ارد گرد سے بے نیاز سسکنے لگی۔۔
جہان ایک گہری نظر ویر پر ڈال کر عین کی طرف پلٹا۔۔ تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟
اور یہیں اسکا ضبط جواب دے گیا۔۔ وہ جہان کے برہنہ سینے سے لگی بلکنے لگی۔۔
مجھے مارا انہوں نے۔۔ سس سر پر بھی چچ چوٹ لگی ہے۔۔ وہ وہ بہت برے تھے۔۔ انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ۔۔۔وہ وہ ۔۔
وہ اس کے گرد بازو حائل کیے چہرہ اونچا کر کے اسے دیکھتی کرب سے بتانے لگی۔۔
جہان نے اس کے سوجھے گال کو ضبط سے دیکھا۔۔ ارد گرد کی پرواہ کیے بغیر اس نے نیچے جھک کر عین کے گال کو چوم لیا۔۔
عین جھجھک کر دور ہوئی۔۔
انا نے اچنبھے سے ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔
دل میں سر اٹھاتے سوالوں کو نظر انداز کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اب ہمیں چلنا چاہیے ۔۔ اس نے ویر کو دیکھ کر کہنا چاہا لیکن اسے شرٹ لیس دیکھ کر نظریں جھکا گئی۔۔
ہمم اوکے ۔۔ تھینکس تمہاری مدد کے لیے۔۔ ویر نے جہان سے مصافحہ کیا ۔۔
تھینکس ٹو یو ٹو ۔۔۔ ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وه عین کو لئے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
انا راحم کو سینے سے لگائے کھڑی تھی۔۔ لائیں مجھے پکڑا دیں میں جانتا ہوں آپ بھی زخمی ہیں۔۔
انا نے نظریں جھکاتے نفی میں سر ہلایا۔۔ وہ بغیر عباۓ اور نقاب کے اس کے سامنے بے حد شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔۔
مم میرا عبایا ۔۔۔۔
اس کے کہنے پر ویر بات سمجھ گیا۔۔
چلیں آگے جا کر شاید بندوبست ہو جائے۔۔
انا آہستہ آہستہ چلنے لگی۔۔ ویر اس کے پیچھے اس کے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر اپنے قدم رکھنے لگا۔۔
تھوڑی دور جا کر انہوں نے ایک مکان کا دروازه بجايا۔۔
ایک بوڑھی عورت نے دروازه کھولا۔۔ کون ۔۔؟
کیا آپ ہماری تھوڑی مدد کر سکتی ہیں ۔۔؟ ویر نے شائستگی سے کہا ۔۔
بوڑھی عورت نے دونوں کو سر تا پیر گھورا۔۔ یہ کون ہے ساتھ ۔۔۔؟ انہوں نے انا کی طرف اشارہ کیا۔۔
یہ بیوی ہے میری۔۔ اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا ۔۔ انا نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔ پھر شرم سے سر جھکا لیا۔۔
آؤ اندر ۔۔۔ انہیں راستہ دے کر وہ ایک طرف کھڑی ہو گئیں ۔۔
ایک کمرے میں انہیں بٹھا کر انہوں نے مدد کے بارے میں پوچھا۔۔
ہم ایک حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔۔ ہمیں آپ سے بس اتنی مدد چاہیے کہ آپ انہیں اوڑھنے کے لئے کوئی چادر دے دیں۔۔ ویر نے اسے ایک نظر دیکھ کر کہا۔۔
بوڑھی عورت جا کر چادر لے آئی۔۔ اور ایک شرٹ ویر کی طرف بڑھائی جو قدرے پرانی لگتی تھی۔۔
لو یہ تم بھی پہن لو ۔۔ میرے مرحوم خاوند کی ہے۔۔
ویر نے شکریہ ادا کر کے شرٹ پہن لی۔۔ تب تک انا بھی چادر اوڑھ چکی تھی۔۔
بہت شکریہ آپ کا ۔۔!! اب ہم چلتے ہیں۔۔
ویر کی تقلید میں انا بھی راحم کو تھامے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ہاں خیر سے جاؤ اور اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھتے تم ۔۔؟ کیسے سوکھی سڑی سی ہے۔۔ میاں کچھ خیال کرو ۔۔
جی ۔۔ ویر نے سر جھکا کر لبوں پر امڈ آنے والی مسكان کو چھپایا۔۔
انا اپنی عزت افزائی پر باہر نکل گئی۔۔
شاہ ویر نے ایک رکشہ روکا اور تینوں اس میں سوار ہو گئے۔۔
کیا ضرورت تھی ان سے جھوٹ بولنے کی ۔۔؟ انا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھ کر کہا ۔۔
ہمم تیکھی بھی ہے ۔۔۔ ویر نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔ کونسا جھوٹ ۔۔؟
انا کا پارا چڑھا۔۔ بیوی والا جھوٹ ۔۔۔ وہ سلگ کر بولی ۔۔
ایسا بھی کیا غلط ہے اگر ایسا ہو جائے ۔۔۔ ویر نے گھمبیر آواز میں کہا تو انا سرخ پڑ گئی۔۔
اس نے تیزی سے نظروں کا زاویہ موڑا۔۔ ویر نے محظوظ ہو کر اسے دیکھا ۔۔
بابا بابا ۔۔۔۔ ؟ راحم نے ویر کے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔
جی بابا کی جان ۔۔
بابا ،، انکل مالا ۔۔ ماما تو ۔۔۔ جول شے ۔۔۔ ( بابا انکل نے ماما کو مارا زور سے )۔۔۔
انا نے کرب سے آنکھیں بھینچیں۔۔
ویر نے دکھ سے اسے دیکھا ۔۔ آئی ایم سوری میں جلدی نہیں پہنچ سکا۔۔ میری وجہ سے۔ ۔۔
“نہیں آپ کا کیا قصور۔۔” انا نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔۔
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے راحم کی حفاظت کی ۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔۔ میں ۔۔۔
اس کی ضرورت نہیں وہ مجھے بھی بہت پیارا ہے ۔۔ اسے جواب دے کر اس نے رکشہ روکنے کا کہا ۔۔
بس یہیں اتار دیں۔۔ انگلی سے نقاب درست کر کے وہ رکشہ سے اتر کر ایک تنگ گلی میں غائب ہو گئی۔۔
چلو ۔۔۔ گہری سانس لے کر ویر نے رکشے والے کو چلنے کا کہا۔۔
