Ik Paigam Muhabbat By Hina Asad Readelle50309 (Ik Paigaam Muhabbat) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
(Ik Paigaam Muhabbat) Last Episode
کبھی اس طرح میرے ہمسفر..
سبھی چاہتیں میرے نام کر..!!
اگر ہو سکے تو کبھی کہیں..
میرے نام بھی کوئی شام کر!!
میرے دل کے سائے میں آ ذرا..
میری دھڑکنوں میں قیام کر..!!
یہ جو میرے لفظوں کے پُھول ہیں..
تیرے راستے کی یہ دُھول ہیں..!!
کبھی ان سے سن میری داستاں..
کبھی ان کے ساتھ کلام کر..!!
“””””””””””””””””””””””””♥️
آج کا دن اس کے لئے بہت عجیب رہا تھا۔۔ بی ایس سی کی كلاسز کا آغاز ہو چکا تھا۔۔ پورے کالج میں ٹاپ پوزیشن پر رہنے کی وجہ سے اسے تمام اساتذہ کی طرف سے خاص توجہ دی جا رہی تھی۔۔ لیکن اس کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا۔۔
عجیب بے زاری سی بےزاری تھی۔۔ آج ہان اسے کالج سے پک کرنے بھی نہیں آیا تھا جس پر وه اس سے خفا تھی۔۔ رکشے میں کلاس کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ وہ گھر آ گئی تھی۔۔
رکشے سے اترتے وقت سورج کی تیز کرنیں اس پر پڑتیں اسے شدید کوفت میں مبتلا کر گئیں۔۔
آج موسم کے تیور بھی اس کے مزاج کی طرح عجب انداز لئے ہوئے تھے۔۔ سورج کبھی کسی “بدتمیز عاشق” کی طرح پوری آب و تاب سے چمکتا اپنے پیار کی آگ اگلتی کرنیں نچھاور کرنے لگتا اور کبھی کسی ناول کی نئی نویلی ہیروئن کی طرح شرما کر غائب ہو جاتا۔۔
اس نے دروازه بجانے کے لئے ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا۔۔ اسے گھر کے مكینوں کی لاپرواہی پر نئے سرے سے غصہ آیا۔۔
دروازه زور سے بند کرتی وه بیگ کو زمین پر گھسیٹتی ہوئی اندر گئی۔۔ مکمل خاموشی نے اسکا استقبال کیا۔۔ وہ بغیر ادھر ادھر دیهان دیے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔ بیگ کو بیڈ پر ڈالتی وہ دهپ سے بیڈ پر گر گئی۔۔
لیٹے لیٹے اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی جس کے شیشے پر کاغذ کی ایک چٹ لگی ہوئی تھی۔ وه نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ بیٹھی۔
چٹ کو ہاتھ میں تھام کر اس نے دیکھا تو وہ ایک نوٹ تھا۔ وه غور سے پڑھنے لگی۔ “تمہاری الماری میں آف وہائٹ سوٹ رکھا ہے۔۔ شام کو پہن کر تیار ہو جانا۔ میرے جاننے والوں کے ہاں آج تم دونوں کی دعوت ہے۔۔”( آئمہ)
نوٹ پڑھ کر وہ واپس جا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔ لیٹے لیٹے اسکی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔۔ منظر دھندلا ہوا اور وہ گہری نیند کی وادیوں میں سفر کرتی حقیقی دنیا سے بے خبر ہو گئی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
جانے کتنے بجے تک وہ سوتی رہی۔۔ اس کی آنکھ کسی کے مسلسل ہلانے پر کھلی۔۔ مندی آنکھیں کھولتی اسکی آنکھوں کے سامنے آئمہ کا سراپا ظاہر ہوا۔۔
اٹھ جاؤ عین دن ڈھل گیا ہے اور اب تک تم سو رہی ہو۔ اٹھو شاباش!!
وه کسلمندی سے اٹھ بیٹھی۔۔
فریش ہو کر تیار ہو جاؤ دعوت پر جانا ہے نوٹ پڑھ لیا تھا نہ ۔۔؟؟ وه اس کے پاس سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
جی پڑھ لیا تھا۔۔ وه اٹھتی ہوئی بولی۔۔
چلو ٹھیک ہے۔۔ وہ مسکرا کر کمرے سے باہر چلی گئیں۔۔
ان کے جانے کے بعد وہ الماری کھول کر اس کے سامنے کھڑی آف وہائٹ سوٹ تلاش کرنے لگی۔۔ اچانک اس کی نگاہ ایک انتہائی دیده زیب سوٹ پر ٹھہر گئی۔۔ اسکے ابرو ستائش میں اٹھے۔۔
سوٹ نکال کر اس نے باتھ روم کا رخ کیا۔۔ تازہ دم ہو کر وہ آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔ آف وہائٹ شفون کی پھولی ہوئی گھٹنوں تک آتی فراک کے ساتھ آف وہائٹ کیپری اس پر بہت جچی تھی۔۔
اس نے فراک پر بنے گلابی دیدہ زیب پھول کے ہم رنگ مصنوعی گلابی پھولوں کا نیکلیس ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھا کر پہنا جو آئمہ جاتے ہوئے رکھ گئی تھیں۔۔ نیكلیس کے سے چھوٹے ٹاپس کانوں میں پہن کر وه ذرا پیچھے ہٹتی آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے لگی ۔۔
ہمم نائس!! اپنے آپ کو سراہ کر اس نے بے بی پنک لپ گلوز اٹھا کر ہونٹوں پر لگایا۔۔ گلابی گالوں کو بلش آن سے مزید گلابی کرتی وه گھنگھریالے بالوں کو سنوار کر کمر پر ڈالتی کمرے سے باہر نکل آئی۔۔
اندھیرے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی وه شدید حیرت سے دو چار ہوئی۔۔ ابھی وہ کچھ سمجھ نہ پائی تھی کہ لائٹ اچانک آن ہو گئی۔۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو !! ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!! ہیپی برتھڈے ڈیئر اعینہ،، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!!
لاؤنج کی سیٹنگ ہی بدلی جا چکی تھی۔۔ فرش پر جا بجا رنگ برنگے غبارے بکھرے ہوئے تھے۔۔ دیواروں کو گلابی اور سفید غباروں اور دیدہ زیب پھولوں سے سجایا گیا تھا جس کے بیچوں بیچ وہ سب کھڑے اسے اس کی سالگرہ پر مبارک باد دے رہے تھے۔۔
اس نے ایک نظر سب پر دوڑائی۔۔ آئمہ، جہان، انا، شاہ ویر ، شاہ میر، راحم، حنا، وقار، عدیل شاہ۔۔ سب وہاں موجود تھے۔۔
سرپرائز!! انا کی چہکتی آواز پر وه ہنس دی۔۔
آگے بڑھ کر وہ ایک ایک کر کے سب سے ملی۔۔ الے راحم تو پہلے سے بھی پارا شا ہو گیا ہے۔۔ وہ اس کی نرم پھولے سے گال کھینچ کر گویا ہوئی۔۔
ویر نے جہان کی طرف ہلکا سا جھکتے سرگوشی کی۔ “کیوں ترسا رہے ہو بے چاری کو،، ایک آدھ بے بی دے دو اس کو”
اس کے بے باکی سے کہنے پر جہان نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔ ہاں بچے تو جیسے گوگل سے ڈاؤنلوڈ ہوتے ہیں نا۔۔ اور ایسی بچی کے ہوتے اور بچے سنبهال ہی نہ لوں۔۔
وہ عین کے نظرانداز کیے جانے پر تپا ہوا تھا جو سب سے مسکرا مسکرا کر ملتی اسے سرے سے نظرانداز کر گئی تھی۔۔
اس کے جلے کٹے انداز پر ویر نے بہت مشکل سے اپنا قہقہہ روکا۔۔
کنکھیوں سے ہان کو کڑھتا دیکھ کر وہ انا کے برابر کھڑے عدیل شاہ کے سامنے جھک کر پیار لے رہی تھی۔۔
سب سے ملنے کے بعد وه ٹیبل پر رکھے کیک کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔ اس کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔ ریڈ ویلوٹ کیک پر ایک لڑکا لڑکی کی تصویر نقش کی گئی تھی جس میں لڑکا گھٹنے کے بل بیٹھا لڑکی کے سامنے گلاب کا پھول بڑھا رہا تھا۔۔
اچھا ہے نہ۔۔؟؟ ہان نے آرڈر کیا تھا۔۔ انا نے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔
عین کے تیور پل میں بدلے۔۔ ہمم اچھا ہے۔۔
بظاہر مسکرا کر اس نے دانت پر دانت جما کر ہان کی طرف دیکھا۔۔
کیک کاٹتے وقت اس نے چھری سے لڑکے کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو کاٹ دیا۔۔
او ہو ہو! لگتا ہے آج صاحب بہادر کی خیر نہیں۔۔ ویر مصنوعی سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔۔
“لگ تو مجھے بھی ایسا رہا ہے۔۔”جہان نے ٹھوڑی کھجا کر کہا تو دونوں کا قہقہہ گونجا۔۔
بڑے مزے آ رہے ہیں نا کمرے میں چلیں پھر بتاتی ہوں۔۔ عین نے سلگ کر ان دونوں کو دیکھا جن کی آنکھوں میں ہنستے ہنستے پانی آ گیا تھا۔۔
لگتا ہے بہت دوستی ہو گئی ہے دونوں میں۔۔ اس کے ہاتھ سے کیک کا ٹکڑا کھانے کے بعد انا نے رائے دی۔۔
آ ہاں! اچھی بات ہے پکی دوستی کر لیں۔۔ اب تو اکثر ان کو گھر بدر ہونے کے بعد اپنے دوست کے ہاں رہنا پڑے گا۔۔
عین کی جلی کٹی آواز پر انا نے مسکراہٹ دبائی۔ پاگل ایسے نہیں کہتے۔۔۔
جب سب کیک کھا چکے تو باری باری عین کو تحائف پیش کرنے لگے۔۔ آخر میں میر،، راحم کا ہاتھ تھامے اس کے سامنے آیا۔۔
باقی سب باتوں میں مشغول تھے اس لئے کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
ہنہ!! دونوں ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھیں گھما گئے۔۔ آرام سے ذرا تمہارا ڈیلا ہی نہ باہر آ جائے جس حساب سے گھما رہے ہو۔۔ عین نے اس پر طنز کیا۔۔
تم میری فکر نہ کرو چھپکلی کہیں کی۔۔ ویسے میں نے پہلا سوچا کہ چھپکلی کے لئے بہترین تحفہ چھپکلی ہی ہے لیکن پھر خیال آیا کہ چھپکلی دیکھ کر اپنے جنم دن پر کہیں تم اوپر کی ٹکٹ نا کروا لو۔۔۔ اس نے اسے تپانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔۔
تمہیں تو میں ۔۔۔۔ اس نے سب سے نظر بچا کر اس کے سر کے آگے کے کچھ بالوں کو دو انگلیوں میں پکڑ کر زور سے کھینچا اور فوراً انجان بنتی نیچے پنجوں کے بل بیٹھ کر راحم کا بڑھایا ہوا کیوٹ سا گفٹ لینے لگی۔۔ آآو تھینک یو سو مچ شونے!! وہ اسکا گال چوم کر بولی تو راحم شرما گیا۔۔۔
تم بدتمیز میرے بالوں کا بیڑا غرق کر دیا۔ اٹھو میرا گفٹ واپس دو چلو! تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ میں تمہیں گفٹ دوں۔۔ وه دانت پیس کر گویا ہوا۔۔
“ہمت ہے تو لے کر دکھاؤ چلغوزے” اسے نئے لقب سے نوازتی وہ اس کے بلکل سائیڈ سے گزر گئی لیکن جاتے جاتے اس کی کمر پر دھموکا جڑنا نہ بھولی۔
🌿🌿🌿🌿
کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وه راحم کو تھپک کر سلا رہی تھی کہ عدیل شاہ کی غصیلی آواز پر چونک کر سیدھی ہوئی۔۔
اللّه خیر کرے!! اس نے جلدی سے پیروں میں چپل اڑسی اور دوپٹہ سر پر ڈال کر باہر آئی جہاں عدیل شاہ غصے میں بھرے بیٹھے ویر کو سخت سست سنا رہے تھے۔۔
پاس کھڑا میر تفكر سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ انا کے آنے پر وہ نا محسوس انداز میں کھسک کر اس کے قریب کھڑا ہو گیا۔
کیا ہوا ہے۔۔؟ وه آہستہ آواز میں بولی۔۔
آپی بات کوئی خاص نہیں ہے ۔۔ بابا کی طبیعت ذرا خراب ہے۔ اس لئے چڑچڑے ہو رہے ہیں۔۔
حد ہے میر! ان کی طبیعت خراب ہے اور تم اب مجھے بتا رہے ہو۔۔ وه میر کو خفگی سے دیکھ کر بولی۔۔
وہ بابا نے منع کیا تھا کہ آپ جانے سے منع کر دیتیں اور خود بھی نہ جاتیں۔۔ وہ اس چھپکلی کا برتھڈے سیلیبریشن خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔
انا افسوس سے اسے دیکھتی ان دونوں کے قریب کھڑی ہو گئی۔۔
حد ہے اتنے احمق ہو تم۔۔ وہ فائلز ان تک آج ہی پہنچانی تھیں لیکن تمہیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔۔
بابا کل بھجوا دوں گا کوئی اِشُو نہیں ہے ۔۔ ویر نے ان کی بات کاٹ کر انہیں ٹھنڈہ کرنا چاہا۔۔
نہیں ضرورت ہی کیا ہے۔۔ میں جو ہوں ان سیاپوں کے لئے۔۔ ایسی نكمی اولاد دے دی ہے اللّه نے مجھے۔۔ بولتے بولتے وه هانپنے لگے تھے۔۔ ان کو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان کو اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے۔۔
ویر کی آنکھوں میں دکھ ابھرا۔۔
بابا آئیں میرے ساتھ سب کو چھوڑیں میں تو آپ کی اچھی بیٹی ہوں نہ۔۔ آئیں شاباش! وہ انہیں چھوٹے بچے کی طرح بہلا کر بولی۔۔
اسے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں نرم تاثر ابھرا۔ وه ان کو کمرے میں چھوڑنے گئی۔۔ ان کو میڈیسن دے کر اس نے ان پر چادر اچھے سے ڈالی اور لائٹ بند کرتی دبے قدموں باہر نکل آئی۔۔
لاؤنج سے گزر کر وہ میر کے کمرے میں ایک نظر ڈالتی اپنے کمرے میں آئی۔۔ جہاں ویر سنجیده تاثرات لئے صوفے پر نیم دراز تھا۔۔ انا اس کی سمت بڑھنے ہی لگی تھی کہ راحم نیند میں رونے لگا۔۔ وه جلدی سے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر اسے ہلکا ہلکا تهپکنے لگی۔
ویر! بابا کی طبیعت نہیں ٹھیک اس لئے وه غصہ کر گئے ہیں آپ دل پر نہ لیں نہ،، وہ آہستہ آواز میں بولی۔
ویر کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ وه پھیکی مسكان چہرے پر سجا گیا۔”صحیح تو کہتے ہیں وه”
انا تو اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر تڑپ ہی گئی۔ ادھر آئیں ویر۔۔ آئیں نہ ۔۔! وه راحم کو تھپکتے ہوئے بے چارگی سے اسے دیکھ کر بولی۔۔
میری بات بھی نہیں مانیں گے آپ۔؟ اس کے پر شکوہ لہجے پر وہ اٹھ کر اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
وه اسے ذرا سا اپنی طرف کھینچتی ایک ہاتھ اسکی گردن کے گرد حائل کرتی اسے اپنے ساتھ لگا گئی۔
میرا بچہ !! اس کا سر چوم کر وہ لاڈ سے بولی تو ویر اسکے گرد بازو حائل کرتا حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
میں بچہ ہوں آپ کا ۔۔؟؟
“ہممم میرا چھوٹو شا پارا شا بچہ” وه اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر بولی۔۔ آجائیں میری گود میں نینی کرواؤں آپ کو۔۔ وه شرارت سے بولی۔
میں چھوٹا ہوں۔؟ یہ چھ فٹ کا مرد چھوٹا لگتا ہے آپ کو۔۔؟
ہاں نہ بس میرا بچہ ہو آپ چھوٹا سا۔ مجھے نا بہت پیار آ رہا آپ پر۔۔ وہ اس کے دونوں گال کھینچ کر بولتی اسے آج حیرت کے جھٹکے دیے جا رہی تھی۔
وه اسے دیکھتا نفی میں سر ہلا گیا۔۔ اگر میں آپ کی گود میں بیٹھا نا تو آپ کی گود ٹوٹ جانی ہے۔ اسکی کم عقلی پر افسوس کرتا وه اسکے سینے پر سر رکھتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔
وه اسکے گرد دونوں بازو حائل کرتی مسکرا دی۔۔ بالاخر وه اسکا موڈ بدلنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ اس کا دل کچھ کھانے کو مچلنے لگا۔۔
سوچتے سوچتے اس کے دماغ میں تركیب آئی۔۔ ویر ۔۔؟ سو گئے ہیں۔۔؟
نہیں جان آپ کی اتنی قربت پر میں کیسے سو سکتا ہوں۔۔ اسکے سینے میں منہ چھپا کر بولتا وه اسکے دل کی دھڑکن تیز کر گیا۔۔
اچھا اٹھیں نا مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔ وه اسے پیچھے ہٹا کر بولی تو وه اٹھ بیٹھا۔۔
بھوک تو مجھے بھی بہت لگ رہی ہے کیوں نا ایک دوسرے کو ۔۔۔۔۔ انا نے اس کی بات کاٹ دی۔۔
میں کچن میں جا رہی ہوں یمی چیزی پازتا بنانے۔۔ اللّه سوچ کر ہی منہ میں پانی آ رہا ہے۔۔
ركیں میں بھی آتا ہوں۔۔ وه بھی اس کے ساتھ کچن میں آ گیا۔۔
وه مسکرا کر مطلوبہ سامان سلیب پر رکھنے لگی۔۔
کیا بات ہے کوئی بہت خوش ہے آج۔۔ وه اس کے سامنے سلیب پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
ہاں نہ ایک بہت خاص وجہ ہے۔۔ وه چمک کر بولی۔۔
ایک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے دونوں مل کر پاستا بنانے لگے۔۔ جب پاستا تیار ہوگیا تو کچن میں اشتہا انگیز خوشبو پھیل گئی۔۔
وہ ایک پلیٹ اور ایک چمچ پکڑ کر اس کے برابر سلیب پر بیٹھ گئی۔۔ پاستا پلیٹ میں ڈال کر دونوں کے درمیان رکھتی وه چمچ بھر کر اس کے منہ میں ڈال گئی۔۔
کیسا بنا ہے ۔۔؟ وہ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ کر بولی۔
بہت سوفٹ اور یمی بلکل آپ کی طرح۔۔ اس کی طرف جھکتے وه شرارت سے گویا ہوا۔۔
اللّه اللّه میں کیا ۔۔۔۔۔ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وه اسکے منہ میں وہی چمچ بھر کر ڈال گیا۔۔
اسی طرح انا ایک چمچ خود کھاتی اور دوسرا ویر کو کھلاتی۔۔ پاستا ختم ہونے پر دونوں کو پانی کی طلب ہوئی۔۔
اچانک انا کے ذہن میں کولڈ ڈرنک کا خیال آیا جو اس نے چھپا کر فریج میں رکھی تھی۔۔۔ عین اسی وقت ویر کے دماغ میں بھی یہی خیال آیا۔۔
دونوں بیک وقت فریج کی طرف دوڑے۔۔ انا فریج کے آگے دونوں بازو پھیلا کر کھڑی ہو گئی۔۔ ہر گز نہیں۔ پہلے مجھے خیال آیا تو وه میری ہے۔۔
بلکل غلط! پہلے مجھے خیال آیا۔۔ وه اسے ہٹانے کے لئے آگے بڑھا تو انا نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا۔۔
اگر آپ نے مجھے ہٹایا نہ تو میں ۔۔۔۔۔
تو کیا ۔۔۔؟؟ وہ اسک بے حد قریب کھڑے ہو کر اس کے پھیلے ہوئے دونوں بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھتا فریج سے لگا گیا۔۔
اچھا اس بات کو چھوڑیں یہ بتائیں آپ کے خوش ہونے کی وه خاص وجہ کیا ہے۔۔؟ وہ جاننے کے لئے بےتاب ہوتا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔
ایسے ہی بتا دوں کیا پہلے پیچھے ہٹیں۔۔
وه ذرا سا ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔
دراصل بات یہ ہے۔۔ کہ۔۔ مجھے ۔۔۔
وه ایک پل کو رکی۔۔
“مجھے ۔۔ محبّت ۔۔۔ ہو گئی ہے۔۔۔” اس کے کان میں سرگوشی کرتی وه ننگے پیر کچن سے باہر بھاگ گئی۔۔۔
ویر بھی تیزی سے اسکے پیچھے بھاگا۔۔ اس نے انا کا دوپٹہ پکڑ کر اسے روکنا چاہا تو وہ اپنا دوپٹہ اسکی طرف اچھال کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔
رکیں،، ایسے تو نہیں جانے دوں گا آپ کو۔۔ دروازے کے قریب اسے بازو سے پکڑ کر وه دیوار سے لگا گیا۔۔
ایک بار پھر سے کہیں،، وه اسکی طرف جھکتا اسکا اقرار سننے کے لئے بےتاب ہوا۔۔
“مجھے۔۔ شاہ ویر ۔۔ آپ سے محبت ہو گئی ہے۔۔” وه تیز دھڑکتے دل سے اسے اپنی محبت کا اقرار سونپتی اسکے پیروں پر پیر رکھتی اسکی گردن کے گرد بازو حائل کر گئی۔۔
آج آپ نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی دی ہے۔۔ میں آپ کو اپنی محبت کی بارش میں اس قدر بھگو دوں گا کہ آپ کو ہر سمت صرف میری محبت ہی نظر آئے گی۔۔۔
اسکے کان میں سرگوشی کرتا وه اسے بانہوں میں اٹھا کر کمرے کی سمت بڑھا۔۔ بالاخر محبت کا ایک باب مکمل ہوا۔۔
ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنور لوں!!
میرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اتار لوں!!
اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے بھی اذنِ قیام ہو!!
تو میں موتیوں کی دکان سے تری بالياں ترے ہار لوں!!
میں تمام دن کا تھکا ہوا تُو تمام شب کا جگا ہوا!!
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر ترے ساتھ شام گزار لوں!
(منقول)
🌿🌿🌿🌿🌿
عین اب دیکھ بھی چکو سست لڑکی، مجھے بھی کب سے اپنے ساتھ گھسیٹ رہی ہو۔۔ آئمہ اسے ڈپٹ کر بولیں جو کب سے لاؤنج کی صفائی میں جتی ہوئی تھی۔۔
اس نے سب تحائف زمین پر بچھے قالین پر رکھے اور خود ٹانگوں کی گرہ لگا کر دهپ سے نیچے بیٹھ گئی۔۔ دوپٹہ ایک طرف ڈال کر وہ آئمہ کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
کیا یار نانو اب میں اکیلے تھوڑی دیکھوں گی سارے گفٹس۔۔ آئیں نا۔۔ پیکنگ کھولیں میرے ساتھ۔۔
پیکنگ کھولنے کے بعد وه ایکسائٹڈ سی سب کے دیے گفٹس دیکھنے لگی۔۔
واؤ! آئی جسٹ لو دس واچ،، تھینک یو!! آئمہ کی طرف سے دی سمارٹ واچ اسے بے حد پسند آئی۔۔
باری باری وه سب تحائف دیکھنے لگی ۔۔ آخر میں اس کی نگاہ قدرے ایک طرف پڑے مستطیل ڈبے پر پڑی جس کی پیکنگ سب سے منفرد تھی۔۔
یہ کس نے دیا ہے ۔۔؟ اس نے الٹ پلٹ کر دیکھا لیکن کسی کا نام لکھا نظر نہیں آیا۔ آئمہ نے مسكان چھپائی۔۔ وه جانتی تھیں یہ تحفہ کس نے دیا ہے۔۔۔
پیکنگ کھول کر اس نے ڈبے کی ہک کو کھولا۔۔ اندر موجود نیکلیس کو دیکھ کر اس کی نیلی آنکھیں پھیل گئیں۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا۔۔
موتیوں کی باریک لڑی میں جڑے ننھے ہیروں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی زنجیروں کے ساتھ نیچے لٹکتے سنہری چاند اور تارے۔۔ ایسا منفرد نیکلیس اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔ ہیروں کی جگمگاہٹ آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔
“اوہ مائی گاڈ نانو ! اٹس ڈائمنڈ نیکلیس” اتنا ایکسپنسو گفٹ کس نے دیا ہے۔۔
مجھے کیا پتہ ہو۔۔ آئمہ لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے بولیں۔۔ اچھا چلو اب تم جاؤ کافی وقت ہو گیا ہے سو جاؤ۔۔ وه جمائی روکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں تو وه بھی باقی تحائف احتیاط سے میز پر رکھ کر نیکلیس ہاتھ میں تھامے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔
اسکا اراده اسے پہن کر دیکھنے کا تھا۔۔ نائٹ سوٹ میں ملبوس اس نے اپنے کمرے کا دروازه آہستہ سے کھولا۔۔
پہلا قدم اندر رکھتے ہی اس کو اپنے پیروں کے نیچے نرمی کا احساس ہوا۔۔ نتھنوں سے ٹکراتی گلاب کے پھولوں کی مسحور کن خوشبو نے اسے سامنے دیکھنے پر مجبور کر دیا۔۔
اس کی نگاہ نیم اندھیرے میں ٹمٹماتی موم بتیوں پر پڑی۔۔ دروازہ بند ہونے کی آواز پر وه پلٹی تو جہان دروازے کی چٹخنی چڑھا کر اس کی طرف پلٹتا سینے پر بازو باندھ کر فرصت سے اس کے تاثرات دیکھنے لگا۔۔
عین کو اس سب پر خواب کا گماں ہوا۔۔ وه تو سمجھی تھی کہ وه اسکی طرف سے لا پرواہ ہوا تھا۔۔ پل میں سارے گلے شکوے کمرے کی مہکتی فضا میں غائب ہو گئے ۔۔
کیسا لگا گفٹ۔۔؟ خاموشی کے در پر اپنی صدا بلند کرتا وه مبہم مسکراہٹ چہرے پر سجا کر گویا ہوا۔
عین کو اسکی آنکھوں کی جگمگاہٹ، ہیروں کو مات دیتی ہوئی معلوم ہوئی۔۔
اسکی نظریں نیکلیس پر مركوز پا کر اسے ایک پل لگا سمجھنے میں۔ تھ تھینک یو سو مچ بہت پریٹی گفٹ ہے۔۔ وه اس کے قریب رکتی اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر بولی۔۔
کیا میں۔۔۔؟؟ وہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا تو وه اسکا مطلب سمجھتی نیکلیس اسے تهما گئی۔۔
وه اسے لئے آئینے کے سامنے آیا تو اس نے آہستہ سے اپنی کمر پر بکھرے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے دائیں کندھے پر ڈال دیا۔۔
اس کے وجود کی خوشبو میں گہرا سانس بھرتا وه نیکلیس کی ہک بند کر کے آئینے میں دیکھنے لگا۔
آئینے میں دیکھتے دونوں کی نظروں کا ٹکراؤ ہوا۔۔ یہ نیکلیس بھی اپنی قسمت پر نازاں ہوگا۔۔ اس کے کان میں سرگوشی کرتا وه نرمی سے اسکی گردن چوم گیا۔۔
عین خود میں سمٹ گئی۔۔ پیچھے ہٹ کر وه الماری کی طرف گیا اور ایک خوبصورت پیکٹ اسکی طرف بڑھایا۔۔
یہ پہن کر آؤ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔
وه بغیر کوئی سوال کیے پیكٹ تھام کر باتھروم چلی گئی۔۔ آج دل بس اسکی ماننا چاہتا تھا ۔۔
اندر جا کر اس نے دروازہ بند کر کے پیكٹ کھولا تو اس میں میرون رنگ کی ریشمی ساڑھی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔
ساڑهی کا بلاؤز دیکھ کر اسکا چہرہ حیا سے سرخ پڑ گیا۔۔ دھڑک دھڑک کر پاگل کرتے دل کو اس نے ڈپٹ کر ساڑھی باندھی۔۔ بلاؤز اسکی کمر کو ڈھانپنے میں ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔۔
اس نے ساڑھی کا پلو اٹھا کر بائیں کندھے پر اکٹھا کر کے ٹکا دیا۔۔ ریشمی ساڑهی کو بمشکل سنبهال کر اس نے اپنے گھٹنوں تک آتے کالے بال کھول دیے جو اسکی پوری کمر کو ڈھانپ گئے۔۔
آہستہ سے دروازه کھول کر وه باہر نکلی۔۔ جہان شرٹ کی قید سے آزاد بیڈ پر اوندها لیٹا تھا۔۔ وه جلدی سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گئی۔۔ اس نے میرون لپسٹک اٹھائی اور لبوں پر سجا کر پلٹی۔۔
جہان آہٹ محسوس کر کے اٹھ بیٹھا۔۔ بیٹھتے ہی اس کی نظر ساڑهی سے جھانکتی اسکی بل کھاتی کمر پر پڑی۔ موم بتیوں کی روشنی میں اسکی دودھیا کمر دیکھ کر اسکی آنکھوں میں خمار اترا۔۔
وه چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک آئی۔ نظریں جھکا کر کھڑی اپنی ملكيت کو وه پورے حق سے دیکھنے لگا۔۔ عین کو اس کی نظریں اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہوئیں۔۔
جہان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا تو وه پوری کی پوری اس پر آ گری۔۔ وه فوراً کروٹ بدل کر اس پر سایہ فگن ہو گیا۔۔
اس سب میں عین کی ساڑھی کا پلو ڈھلک گیا تھا۔۔ اس کی اتنی قربت اور اس قدر رومانوی ماحول پر وه گہرے سانس لینے لگی۔۔
ابھی تو میں نے کچھ کیا بھی نہیں ابھی سے تمہارا سانس پھولنے لگا ہے۔۔ وه اسکے سینے کے زیرو و بم کو دیکھتا آنچ دیتے لهجے میں بول کر اسکی جان ہلکان کر گیا۔۔
اس کی لو دیتی نظروں کی تاب نہ لا کر وه اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی۔۔
اوں ہوں آج نہیں، آج میں تمہارے انگ انگ کو نظروں سے اس طرح چوموں گا کہ تم پھر خود سے بھی شرماتی پھرو گی۔۔ وه انگلی کی پور سے اسکا گال سہلا کر بولا۔۔
کچھ لفظ مجھے گر مل جائیں۔۔!
میں ان میں تجھے تحریر کروں!
اپنی ذات کے رنگ تجھ میں بھر کر!
تجھے پھر سے میں تعمیر کروں!
آنکھ میں تیرا عکس رکھ کے!
تجھے ہر لمس میں زنجیر کروں!
تو پلکوں پہ جو خواب بنے!
میں ان سب کی تعبیر کروں!
تیرے دل میں اپنی دھڑکن رکھ کے!
تری روح کو اپنی جاگیر کروں!
(منقول)
اس کے کان میں سرگوشی کرتا وه اس پر اپنے لفظوں کا جادو چلانے لگا۔۔ اس کی قربت اور لفظوں کی حدت پر ہلکان وہ رخ پلٹ گئی۔۔
اس کے رخ موڑنے پر وه دھیما سا ہنستا اس کے بال ایک طرف ڈال گیا۔ وه جھکا اور اسکی کمر کو چوم کر اسے سمٹنے پر مجبور کر گیا۔۔ ایک دوسرے کی قربت میں مدہوش وه دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گئے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
لا لا لا لا لا !!
سواگت ہے آپ کا “محبستان” میں۔۔ آہا! کیا خوب کہا ہم نے ۔۔ ہمیں جانتے تو ہیں نہ آپ ۔۔ اجی ہم پہلے بھی آپ سے مل چکے ہیں۔۔ کسی در کے باہر ، کسی کھوئی ہوئی یاد کے پس منظر میں۔۔ آئیے آپ بھی “محبستان” کی خوشنما وادیوں میں اتریں جہاں “اہلِ محبتاں” اپنی محبّت کے مینار تعمیر کیے محبوب کی زلفوں کے اسیر پڑے وادیِ محبتاں میں سکونت پزیر آپ کو “ایک پیغامِ محبت” دے رہے ہیں۔۔ کیا آپ وه پیغام جان پائے ہیں۔۔؟؟
یہ محبت کا ایک پیغام ہے
سمجھ سکو تو یہ گل و گلستاں ہے
چاہتوں کو تھامنے کا اک پيام ہے
ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہیں
ہاں جی آپ ہی کے نام ہے!!
(مرحا خان)
