Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 20

اذان کی پہلی آواز پر وہ بیدار ہو گئی۔۔ رات دیر سے سونے کی وجہ سے سر بھاری ہو رہا تھا۔۔ اسنے بہت مشکل سے درد کرتی آنکھوں کو ذرا کا ذرا کھولا۔۔ دل میں دوبارہ سونے کا خیال ابھرا۔۔
“الصلوٰۃ خیر من النوم”
(نماز نیند سے بہتر ہے۔۔!!)
اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔ ذہن بیدار ہوتے ہی اس نے آس پاس دیکھا۔۔ اپنا بازو آہستہ سے شاہ ویر کے نیچے سے نکال کر وہ اٹھ بیٹھی۔۔
دوپٹہ سر پر ڈال کر وہ وضو کے لئے غسل خانے چلی گئی۔۔ الحمدللّٰه! اسکا دل شکرگزار ہوا کہ اللّه نے اسے اپنے سامنے حاضر ہونے کی توفیق دی۔۔
چادر سے سر اور بازوؤں کو ہاتھوں تک ڈهانپ کر وہ اللّه کے حضور نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو گئی۔۔
شاہ ویر کی آنکھ مسلسل آتی دهیمی سی آواز پر کھلی۔۔۔عجب سوز تھا اس آواز میں۔۔ اس نے دائیں اوڑھ دیکھا تو اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔۔ اب اسے سمجھ آئی کہ وہ آواز کہاں سے آ رہی تھی۔۔
اس نے دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن وہ سو نہ پایا۔۔ لیٹے لیٹے وہ اسے نماز ادا کرتے دیکھنے لگا۔۔
انا نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔۔ اسکے آپس میں پیوست ہونٹوں پر دهیمی ملكوتی مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو شفاف موتیوں کی مانند گر رہے تھے۔۔
وه ٹرانس کی سی کیفیت میں اٹھا اور انا کے پاس جائے نماز کے قریب بیٹھ گیا۔۔ اسکی سرخ آنکھیں انا کے ہاتھ میں گرتے آنسوؤں سے الجھ گئیں۔۔
انا نے دعا مکمل کرتے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے۔۔ آنکھیں کھولتے ہی اسکی نگاہ شاہ ویر پر پڑی۔۔
آپ نماز نہیں پڑھیں گے۔۔؟
وہ بغیر کچھ بولے اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔ میں نے کب کی۔۔ پڑھنی چھوڑ ۔۔دی ہے۔۔ اب میں نہیں پڑھ سکتا۔۔ مجھے ۔۔مجھے ۔۔بہت ۔۔عجیب لگتا ہے۔۔ اتنی۔۔ دیر اللّه ۔۔سے دور ۔۔۔ رہا ہوں۔۔ اب ۔۔ کیسے ۔۔ سامنے ۔۔ جاؤں۔۔ اس نے انا کی گود میں سر چھپاتے اٹک اٹک کر کہا۔۔
انا نے نرمی سے اس کے بالوں کو سہلایا۔ شاہ ویر اللّه تعالیٰ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔ اس کے دھیمے لہجے میں کہے الفاظ پر شاہ ویر نے سر اٹھا کر بے يقینی سے اسے دیکھا۔۔
میرا ؟۔۔ میرا انتظار کر رہے ہیں۔۔؟
ہممم اللّه کو آپ کی واپسی کا انتظار ہے۔۔ اللّه تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔
مجھ سے محبت کرتے ہیں ؟
لہجے میں بے يقینی تھی۔۔
ہاں اللّه آپ سے اتنی محبّت کرتے ہیں کہ آپ بائی چانس مسلمان پیدا نہیں ہوئے بلکہ اللّه نے آپ کو چوز کیا۔ وہ آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ روز آپ کو پانچ بار اپنی طرف بلاتے ہیں۔۔ اللّه پاک ہر رات پہلے آسمان پر آ کر ہمارا انتظار کرتے ہیں کہ کب ہم اٹھیں۔ وہ ہماری نیند میں بھی ہمارے منتظر ہیں۔ پھر ہم کیوں نہیں جاتے۔۔؟؟
نرمی سے ادا ہوئے گہرے لفظ شاہ ویر کے دل و دماغ میں نقش ہو گئے۔۔
اٹھیں نماز ادا کریں۔۔ اس نے جھک کر اسکا ماتھا چوما تو وہ اٹھ بیٹھا۔۔
چند منٹوں کے بعد وہ مسجد جا چکا تھا۔۔
وہ پرسکون سی تسبیح کے دانوں پر اللّه کی حمد بیاں کرتی کمرے سے باہر نکل آئی۔۔ ارد گرد کا جائزہ لیتی وہ لان میں نکل آئی جہاں عدیل شاہ پہلے سے موجود تھے۔۔
السلام علیکم بابا !! صبح بخیر۔۔!! وہ ان کے سامنے جا کر گویا ہوئی۔۔
وعلیکم السلام ! صبح بخیر میرا بیٹا۔۔ انہوں نے دوپٹے کے ہالے میں اسکا شفاف چہرہ دیکھ کر کہا۔۔
آئیں واک کرتے ہیں۔۔ ماشاءالله کتنی خوبصورت صبح ہے۔۔ اور لان میں تو یہ سب اور بھی اچھا لگ رہا ہے۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر انہیں بتانے لگی۔۔
عدیل شاہ دهیمی مسکان چہرے پر سجائے اسکے ساتھ قدم بڑھانے لگے۔۔ پتہ ہے مجھے بہت شوق تھا کہ ہمارے گھر میں بھی لان ہو،، پھولوں کی خوشبو اور ۔۔۔۔ خراماں خراماں چلتے وہ ایک دوسرے سے باتیں کرتے گرد و پیش سے بیگانہ ہو گئے۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اہم! بڑی دوستی ہو گئی ہے سسر بہو میں۔۔ جانے کب ویر ان کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔
سسر نا کہو میاں بیٹی کہو۔۔ عدیل شاہ پلٹ کر بولے تو وہ مسکرا دی۔۔
ویر نرم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ برخوردار تمہاری ہی ہے ذرا حوصلہ رکھو۔۔ انکے طنز پر ویر کا دلکش قہقہہ گونجا۔۔
انا نے وہاں سے جانے میں ہی عافيت سمجھی۔ اندر داخل ہوتے ہی اسکے کانوں میں راحم کی ریں ریں کی آواز پڑی۔۔
ایک کمرے سے میر راحم کو اٹھائے نیند میں جھولتا برآمد ہوا اور سامنے سے آتی انا کو تهما کر چہرے کے زاویے بگاڑتا واپس ہو لیا۔۔
ارے میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے؟ مما پاس ہے نا۔۔ اس نے اب پورے حق سے اسے سینے میں بهینچ لیا۔۔ بش بش چپ میرا بیٹا۔۔ وہ چکر لگاتی راحم کو تهپکنے لگی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ خاموش ہوگیا۔۔
انا نے اسکا چہرہ سامنے کیا۔ معصوم چہرے پر آنسوؤں کے نشان تھے۔۔ وہ بے ساختہ جھکی اور اسکے گالوں اور ماتھے کو نرمی سے چوم گئی ۔۔
اب میں آ گئی ہوں نا اب میں اپنے بیٹے کو رونے نہیں دوں گی۔۔
کوئی بیٹے کے باپ کو بھی پوچھ لے۔۔
ویر سر گوشی کرتا اسکے پاس سے گزر گیا۔
اس کی بات پر انا جھینپ گئی۔۔
بیٹا بھابھی اور وقار آنا چاہ رہے تھے ناشتہ لے کر لیکن میں نے انہیں منع کر دیا کہ اس تكلف کی ضرورت نہیں۔۔ ٹھیک کیا نا۔۔؟
انہوں نے اخبار تہہ کر کے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔۔
جی بابا آپ جیسا مناسب سمجھیں۔۔ اس نے فرمانبرداری سے جواب دیا۔۔
بابا ناشتے میں کیا بناؤں سب کے لئے۔۔؟؟ راحم کو کاندھے سے لگاتے اس نے کچن کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔۔
ارے ارے کوئی ضرورت نہیں تمہیں یہ کھانا وانا بنانے کی۔۔ ہم کیا ایک دن کی بياہی دلہن کو باورچی خانے میں گھسا دیں گے۔۔ہرگز نہیں! انہوں نے قطعی انداز میں کہا تو انا نے بے چارگی سے شاہ ویر کی جانب دیکھا جو کندھے اچکا گیا۔۔
ویر ناشتہ لے آیا ۔۔ میر کو اٹھانے کے بعد انا کچن سے برتن لے آئی البتہ برتن ڈھونڈنے میں اسے کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ اس دوران راحم اس سے ایک منٹ کے لئے بھی جدا نہ ہوا۔۔ میر کے آنے پر وہ راحم کو گود میں لے کر بیٹھ گئی۔۔
راحم بات بات پر کھلکھلا رہا تھا ۔۔ میرو جے میری ماما ہیں،، اب مجھے تنگ کیا تو تم کو جے ماریں گی، ہائے!!
بری بات بیٹا ،، چاچو ہیں۔۔ انا کے پیار سے سرزنش کرنے پر میر مسکرا دیا۔۔
چلو کوئی بندہ تو میری سائیڈ ہوا۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کر وہ چھوٹے موٹے کاموں میں مصروف ہو گئی۔۔ اس نے سوچا چند دن بعد گھر کی سیٹنگ بھی تبدیل کرے گی۔۔اب یہ اسکا گھر تھا تو یہ کام اسے ہی کرنے تھے۔۔
آج اس نے عدیل شاہ کے نہ نہ کرنے کے باوجود گھر کی تینوں الماریاں سیٹ کردی تھیں۔۔ شاہ ویر کی الماری سیٹ کرتے اسے کافی وقت لگ گیا۔۔
اس نے جگہ بنا کر اپنے کپڑے بھی الماری میں رکھ دیے۔۔ راحم کی چیزوں کو ترتیب دیتے شام ہو گئی۔۔
راحم آج الگ ہی موڈ میں تھا اس لئے سوائے انا کے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔
شاہ ویر انتظار ہی کرتا رہا کہ کب اس کے ساتھ تنہا وقت گزار نے کو ملے لیکن وہ مصروف رہی۔۔ رات کو وہ تھکی ہاری کمرے میں آئی تو ویر آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا ہوا تھا۔۔
اسکے کمرے میں داخل ہونے پر اسنے ہاتھ ہٹا کر دیکھا اور پھر سے ہاتھ رکھ گیا۔۔ انا نے راحم کو سلا کر بیڈ پر لٹا دیا۔ ایک شرمنده نظر ویر پر ڈال کر وہ آرام دہ لباس بدلنے چلی گئی۔
بھورے سلكی بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں باندھ کر وہ بیڈ پر اس کے قریب جھجھک کر بیٹھ گئی۔۔
ویر ۔۔؟؟ اس نے پكارا لیکن جواب ندارد۔۔
مجھے پتہ ہے آپ جاگ رہے ہیں۔۔ اس نے جھجھک کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھا اور اسکے چہرے سے ہٹا دیا۔۔
اس کو چھونے پر اسکا دل تیز دھڑکنے لگا تھا۔۔ مضبوط مردانہ ہاتھ جن کی نسیں ابھری ہوتی ہیں اسے بہت پسند تھے۔۔ شاہ ویر کے مضبوط بازوؤں کو دیکھ کر اسے عجیب سے تحفظ کا احساس ہوا۔۔
شاہ ویر نے اسے ایک نظر دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اسکی ناراضگی پر اسکا کیا رد عمل ہوتا ہے۔۔
انا کو آنکھوں میں آنسو جهلملانے لگے۔۔ آئی ایم سوری ویر! اس نے ویر کی داڑھی پر ہاتھ رکھ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔ مجھے نہیں پتہ آپ کیوں مجھ سے ناراض ہیں لیکن پھر بھی سوری! وہ بھرائی آواز میں بولی تو ویر زیادہ دیر اس سے ناراض نہ رہ سکا۔۔
اس نے اسے اپنی طرف جھکایا تو انا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیے۔۔ اسکی کمر میں بازو حائل کرتا وہ اسے شرمانے پر مجبور کر گیا۔۔
جب کوئی اس طرح منائے گا تو کون کافر ناراض رہ سکتا ہے۔۔ اسکے جوڑے کو کھول کر وہ بھاری آواز میں بولا۔۔
لیکن آپ ناراض کیوں تھے۔۔ وہ جاننے کے لئے بضد ہوئی۔۔
میں آپ کی اگنورنس برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔مجھے آپ کی پوری توجہ چاہیے۔۔ میں آپ کو ہر لمحہ اپنے قریب محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔ ویر کے پرشدت لہجے پر انا کپكپا گئی۔۔
کک کیوں۔۔؟؟ اس کے کپكپاتے ہونٹ ویر کی توجہ اپنی جانب مبزول کر گئے۔۔ اس نے دونوں کے مابین فاصلے کو ذرا سا سمیٹا۔۔ اتنا کہ دونوں کی سانسیں آپس میں الجھنے لگیں۔۔
“کیوں کہ محبّت ہو گئی ہے آپ سے۔۔”
بوجھل لہجے میں کہہ کر وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔
اسکے پہلے پرشدت لمس پر انا کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئیں۔۔ اس نے ویر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا لیکن وہ اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھتا ہونٹوں پر گرفت مزید سخت کر گیا۔۔
وہ اس کی پیٹھ پر ناخن مارنے لگی تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹا۔۔
مم ۔۔ میں ۔۔۔مر۔ ۔ ہا ۔۔ جاؤں ۔۔ گی۔۔
اس نے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔۔
اوں ہوں میں مرنے تھوڑی دوں گا آپ کو۔۔ اس کی ٹھوڑی کو چوم کر وہ اسے اپنے آپ میں بهینچ گیا۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
وہ اداس سی لاؤنج میں بیٹھی تھی۔۔ سامنے کتاب پڑی تھی لیکن اسکا ذرا دل نہیں چاہ رہا تھا پڑھنے کو۔۔
ہا! اتنے دن ہو گئے ہیں نانو کو گئے ہوئے۔۔ لگتا ہے انہیں میری ذرا یاد نہیں آ رہی۔۔ اس نے خفگی سے سوچا۔۔
جہان آج آفس سے لیٹ ہو گیا تھا۔۔ وہ اکیلی ادھر ادھر پھرتی رہی۔۔۔ تھک کر اس نے تند نظروں سے فون کی طرف دیکھا اور جهپٹنے والے انداز میں پکڑتے جہان کا نمبر ملایا۔۔
ہیلو!! دوسری طرف سے خاصے شور میں اس کی آواز ابھری۔۔
آج آپ کو گھر آنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے آپ باہر ہی رات گزارنا۔۔ اچھا !! وه غصے سے نتھنے پھلا کر بولی۔۔
لگتا ہے بیوی کا فون ہے۔۔ پیچھے سے کسی کی آواز ابھری اور ساتھ ہی قہقہہ گونجا۔۔
جہان نے خفت سے لاؤڈ سپیکر آف کیا اور قدرے دور ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔
ہاں کیا کہہ رہی تھی تم ۔؟؟ گھر نا آؤں آج ؟ مطلب تم مجھے خوشی سے کسی اور کے ساتھ رہنے کی اجازت دے رہی ہو۔۔ اس نے تپانے والے انداز میں کہا تو دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔۔
یہاں غصے سے عین کا برا حال تھا۔۔ اس نے غصے سے دیوار پر لات ماری۔۔ آؤچ !! اس نے رونی صورت بنا کر اپنا پیر پکڑ لیا۔۔
منہ بنا کر وہ سیدھی ہوئی اور تن فن کرتی اپنے کمرے میں جا کر ادھر ادھر چکر لگانے لگی۔۔
جہان آہستہ سے چابی کی مدد سے دروازه کھول کر اندر داخل ہوا اور ادھر ادھر دیکھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔
ایک منٹ ! میں پہلے چینج کر لوں۔۔
عین خونخوار تاثرات سے اسکی طرف بڑھی تو جہان نے اسے روک دیا۔۔
آفس بیگ سائیڈ پر رکھتا وہ شوز اتار کر سلیپر پہنتا باتھ روم میں گھس گیا۔۔ نیلی جینز اور سفید ٹی شرٹ میں وہ باتھ روم سے نمو دار ہوا۔۔
اب کیوں آئے ہیں گھر۔۔ جائیں کسی۔۔ کسی ۔۔ “حسینہ” کے پاس ۔۔ اس نے حسینہ پر زور دے کر دانت کچکچا کر کہا۔۔
ہوا کیا ہے ۔۔؟؟ کچھ بتاؤ بھی۔۔ جہان نے اس کے خونخوار تاثرات دیکھ کر دریافت کیا۔۔
میں اتنا اکیلا محسوس کر رہی تھی خود کو۔۔ نانو بھی نہیں ہیں اور آپ ۔۔۔ آپ کی تو بات ہی نہیں کرنی میں نے ۔۔۔
آخر میں وہ پھر ناک بھوں چڑھا کر بولی۔۔
تو کیا تم مس کر رہی تھی مجھے ، ہممم ۔۔؟ اس نے اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا۔۔ ماتھے پر بکھرے بال اسکی وجاہت میں اضافہ کر رہے تھے۔۔
ہا ! توبہ،، خوش فہمی ہے آپ کی۔۔ کیوں مس کروں گی میں آپ کو۔۔ میں تو سوچ رہی تھی کہ اپنے پروفیسر کو کال کر لوں۔۔ اس نے تپانے والے انداز میں کہا تو جہان کا حلق تک کڑوا هو گیا۔۔
اس نے غصے سے اسکے تیز حرکت کرتے ہونٹوں کو دیکھا ۔۔ اسکی کہی بات نے اسکے دل میں آگ ہی لگا دی تھی۔۔
چپ بلکل چپ۔۔ خبردار اب ایک لفظ بھی بولی۔۔ لیکن وہ عین ہی کیا جو آسانی سے ہان کی بات مان لے۔۔
کیوں میں کیوں چپ رہوں ۔۔ میں تو ۔۔۔۔۔
یہی، یہی ،، اسی بات پر غصہ آتا ہے مجھے! اسکی بے تکی بات پر عین نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔
کس بات پر ۔۔؟
تمهارے تیز تیز بولنے پر ۔۔۔
جہان نے اسکی طرف قدرے جھک کر کہا۔۔
کیوں۔۔؟ عین نے سر اٹھا کر اپنے چھوٹے گلابی ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے کہا تو اس پر جھکے جہان کی آنکھوں میں خمار اترا۔۔
کیوں کہ جب تمھارے ہونٹ تیز تیز حرکت کرتے ہیں تو میرا دل کرتا ہے انکو اپنے ہونٹوں میں قید کر کے ساکن کر دوں۔۔
اسکے بوجھل لہجے پر عین کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔۔
اس نے پیچھے قدم لے کر بھاگنا چاہا تو ہان نے تیزی سے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔
چھوڑیں میرا ہاتھ ورنہ نانو کو بتاؤں گی۔۔ اسنے وارن کرنے والی نظروں سے کہا۔۔
مثلاً کیا بتاؤ گی ۔۔؟ وہ اس کی بات سے محظوظ ہوا۔۔
یہی ۔۔یہی کہ آپ مجھے تنگ کرتے ہیں۔۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
جہان نے گرفت مظبوط کرلی۔۔ وہ کہیں گی روز ایسا تنگ کیا کرو تا کہ چنوں منوں اس دنیا میں آئیں۔۔
اس کے بے باک لہجے پر وہ رو دینے کو ہوئی ۔۔
بہت ہی مطلب بہت ہی زیاده “۔۔۔۔۔” ہیں آپ۔۔!! اس نے ہونٹ پھیلا کر کہا۔۔
وہ کیا ۔۔؟ وہ مزید شرارت پر آماده ہوا۔۔
خالی جگہ خود پر کریں۔۔!! اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا تو جہان کا زبردست قہقہہ گونجا۔۔
مطلب “بہت رومینٹک” ہوں ۔۔
ہاااااان۔۔۔!!
اوکے اوکے !! اسکے چلانے پر وہ پیچھے ہٹ گیا۔۔
کھانا ملے گا آج کہ نہیں ۔۔؟؟
اس کے معصومیت سے کہنے پر عین نظریں گھماتی باہر نکل گئی۔۔
ہا ! کتنے معصوم بن رہے ہیں جیسے میں تو جانتی ہی نہیں اور روز تو کھانا جیسے کوئی ہوتی سوتی دیتی ہے نا۔۔!! ہنہ !
اسکی بڑبڑاہٹ پر جہان مسکراہٹ دباتا اسکے پیچھے چل دیا۔۔ بیٹا اب چھیڑا ہے تو بھگتو بھی۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
نانووووو !! جہان کے ہمراہ آئمہ کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر کچن سے نکلتی عین خوشی سے چیختی ان سے لپٹ گئی۔۔ جانے پھر کیا ہوا وہ رونے لگی۔۔
ارے ارے کیا ہوا میری جان کو۔۔؟؟ اس کے گرد حصار باندھ کر وہ پیار بھرے لہجے میں پوچھنے لگیں۔۔
ان کے تھکے ہونے کا احساس کرتے وہ پیچھے ہٹی اور ایک پرشکوہ نگاہ جہان پر ڈال کر آئمہ کو لیے ان کے کمرے میں چلی گئی۔۔
نانو میں نے بہت مس کیا آپ کو ۔۔ ان کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر وہ انکے کاندھے پر سر ٹکا گئی۔۔
آئمہ تو نہال ہو گئیں۔۔ میں نے بھی بہت مس کیا تمہیں۔ وہ اسکا سر چوم کر گویا ہوئیں۔۔
نانو ہان نے مجھے ڈانٹا بہت بہت زیادہ ۔۔ اور ۔۔۔۔ وہ بغیر سوچے سمجھے انہیں ہر بات بتا گئی کہ کیسے وہ گھر سے گئی اور پھر جو جو ہوا۔۔ انا کی بابت بھی بتا دیا۔
آئمہ حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگیں۔۔ اتنا سب کچھ ہو گیا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو۔
غضب خدا کا اس نے غصے میں کچھ کہہ دیا تو تم منہ اٹھا کر چل دی۔۔ خدانخواستہ کچھ ہو جاتا تو۔۔؟ ان کا غصہ کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔۔
انا کی کلاس تو میں کل لوں گی۔۔ میں تو جیسے مریخ پر چلئ گئی تھی جو مجھے کچھ بتانا ضروری نہ سمجھا۔۔
ہان ۔۔؟ ہان ۔۔؟ اندر آؤ ۔۔ اسکے اندر آنے پر انہوں نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔
کیا ہوا ۔۔؟ اسے گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔
عین آئمہ کے پیچھے چھپ گئی۔۔
یہ کیا سن رہی ہوں میں۔۔؟ انہوں نے جہان کی کلاس لینی شروع کردی۔۔ عین کی بے وقوفی پر اس نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔ آئمہ کے قریب بیٹھ کر وہ انہیں وضاحت دینے لگا۔۔