Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Paigam Muhabbat) Episode 6

میر کو عائشہ کے پاس چھوڑ کے عدیل شاہ گھر آ گئے۔ کیوں کہ گھر میں اور کوئی عورت نہیں تھی اسلئے عدیل شاہ جلد از جلد آیا کا بندوبست کرنا چاہتے تھے۔۔
انہیں ویر پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔ کتنا غیرذمہ دار تھا وہ۔ ویر انہیں گھر کے لاؤنج میں ہی ٹہلتا ہوا مل گیا۔ ویر یہ کیا حرکت ہے؟؟ تمھیں اس وقت اپنی بیوی اور بیٹے کے پاس ہونا چاہیے تھا۔ اپنی اس حرکت سے تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟ کیا تمھیں ان کی کوئی پرواہ نہیں۔
ویر جو پہلے ہی بھرا بیٹھا تھا عدیل شاہ کے لفظوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وہ جو اتنے دن سے اندر ہی اندر جل رہا تھا آخر کار اس کا ضبط جواب دے گیا۔۔
آخر آپ چاھتے کیا ہیں مجھ سے اب اور کیا چاھتے ہیں،، آپ کی بات مان کر کرلی میں نے شادی،، اب کیا اس کے پیر دھو کے پیوں۔ تنگ آ گیا ہوں میں یہ ڈرامہ کرتے کرتے۔۔ مجھے تو آپ نے انسان سمجھا ہی نہیں۔ خیر مجھے تو آپ نے کبھی سمجھا ہی نہیں۔ ویر غصہ کرتا رہتا ہے،، ویر بدتمیز ہے،، ویر یہ ہے ویر وہ ہے،، یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ویر ایسا کیوں ہے۔ بس آپ کی بیوی نہیں مری تھی،، میری ماں تھی وہ۔ ان کے بعد کس طرح فراموش کر دیا آپ نے مجھے۔ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے کس قدر اکیلا ہو گیا تھا میں۔ تنگ آگیا ہوں میں سب کی باتیں سن سن کے۔ معاف کر دیں مجھے آپ سب لوگ۔۔ انکے سامنے ہاتھ جوڑ کے وہ غصے سے واک آؤٹ کر گیا۔۔۔
پیچھے عدیل شاہ کے چہرے پر افسوس ابھرا۔ کیا وہ اس کے ساتھ اتنی زیادتی کر بیٹھے تھے۔۔۔؟
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
اگلے دن عائشہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ عدیل شاہ نے ڈرائیور کو میر اور عائشہ کو لانے کے لئے روانہ کر دیا۔۔
آیا کا بندوبست ہو چکا تھا۔ مسلسل سر درد سے تنگ آ کر انہوں نے چولہے پر چائے کا پانی چڑھا دیا۔ کچن سے باہر آ کر انہوں نے افسوس سے ویر کے کمرے کے دروازے کو دیکھا جو کل رات سے بند تھا۔۔۔
ویر بغیر کسی سے بات کئے اپنے آپکو کمرے میں بند کر چکا تھا۔ عدیل شاہ کے لاکھ بلانے پر بھی باہر نہ نکلا۔
چند سیكنڈ ہی گزرے تھے کہ ڈرائیور ہانپتا ہوا انہیں اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ کیا ہوا خان تم اتنا گھبراۓ ہوئے کیوں ہو؟ تمھیں تو بی بی کو لینے بھیجا تھا۔ سب خیریت تو ہے۔۔؟
صاحب وہ۔۔ وہ چھوٹے صاحب اور بی بی جی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ شاہ میر صاحب چھوٹے صاحب کو پکڑے بی بی جی کے ساتھ سڑک پار کر کے گاڑی تک آ رہے تھے کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے انہیں ٹکر مار دی۔۔
عدیل شاہ کے دل کو دھکا لگا۔۔ انہیں جیسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا۔ ویر کے کمرے کا دروازہ کھلا اور اس نے طیش کے عالم میں ڈرائیور کا گریبان پکڑ لیا۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔۔ کہاں ہیں وہ تینوں؟؟ ڈرائیور گھگھیا گیا۔۔ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر میں انہیں اسی ہسپتال پہنچا دیا۔۔
جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑ کر وہ عدیل شاہ کو ساتھ لیے ہسپتال کے لیے روانہ ہوگیا۔ اس نے گاڑی کی سپیڈ خطرناک حد تک تیز کر لی۔
ضبط سے اسکا چہرہ سرخ پر چکا تھا۔ عدیل شاہ انکی سلامتی کی دعا کرنے لگے۔۔ ہسپتال پہنچ کر ویر آندھی کی طرح اندر داخل ہوا،، راستے میں وہ کئی لوگوں سے ٹکرایا،، عدیل شاہ ان سے معذرت کرتے تیزی سے اس کے پیچھے ہو لیے۔
ایکسکیوز می یہاں شاہ میر اور عائشہ نامی پیشنٹ کو لایا گیا ہے۔ وہ کس روم میں ہیں۔۔؟؟ کاؤنٹر پر پہنچ کر اس نے عجلت میں دريافت کیا۔۔
وہ مطلوبہ کمرے کے باہر پہنچے تو ڈاکٹر باہر نکلتا دکھائی دیا۔ آپ شاہ میر نامی پیشنٹ کے ساتھ ہیں۔۔؟
جی ان کی کنڈیشن کیسی ہے اب؟ عدیل شاہ نے بے چینی سے پوچھا تو ڈاکٹر نے ترحم بھری نگاہ سے انہیں دیکھا۔
شاہ میر کافی زخمی ہوا ہے۔ اسکی ٹانگ سے بہت خون بہ چکا تھا لیکن اب اسکی حالت قدرے بہتر ہے،، خطرے والی کوئی بات نہیں۔۔
ڈاکٹر میرے بیٹے کے ساتھ میری بہو اور پوتا بھی تھا۔۔۔وہ کیسے ہیں۔۔۔؟
بےبی بلکل ٹھیک ہے،، محض چند ہلکی سی خراشیں آئی ہیں۔۔
اور میری بہو۔۔۔؟ ڈاکٹر نے ایک سیكنڈ کے لیے انہیں دیکھا۔۔ آئی ایم سوری،، شی از نو مور۔۔۔۔
شاہ ویر ساکت کھڑا رہ گیا۔۔ زندگی نے اس کے چہرے پر بھرپور تمانچہ مارا تھا۔۔ عدیل شاہ کے آنسو روانی سے بہنے لگے۔۔ وہ جلدی سے کمرے میں داخل ہوئے جہاں میر پٹیوں میں جکڑا پڑا تھا۔۔
اپنے جان سے پیارے معصوم بیٹے کی حالت پر ان کا دل تڑپ گیا۔۔ ایكا ایكی انکی نگاہ راحم پر پڑی۔۔۔ کتنی خوشی سے انہوں نے اپنے پوتے کا نام تفویض کیا تھا۔۔
اسکی محرومی پر انکا دل بھر آیا۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے تھام کر سینے سے لگا لیا۔۔۔ ویر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا۔۔ عدیل شاہ نے فوراً اسکی طرف دیکھا۔۔ اس کی آنکھوں میں ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی۔۔۔
آگے بڑھ کر انہوں نے راحم کو ویر کے حوالے کر دیا۔۔۔ یہ تمہارا بیٹا ہے ویر،،، آج اسکی ماں بھی چلی گئی جیسے تمہاری ماں چلی گئی تھی،، تم اس کے ساتھ وہ سب نہ کرنا جو انجانے میں مجھ سے سرزد ہوگیا۔۔۔
ویر کی آنکھوں سے دو آنسو راحم کے چہرے پر گرے۔۔ راحم معصومیت سے اسے دیکھنے لگا،،، ویر نے جھک کر اسکا ماتھا چوم لیا۔۔۔
جونہی عدیل شاہ کے رشتے داروں تک یہ خبر پہنچی وہ ان کے گھر جمع ہونا شروع ہو گئے،، عدیل شاہ کی تو جیسے کمر ٹوٹ گئی تھی۔۔۔
شاہ ویر راحم کو آیا کے حوالے کرتے خاموشی سے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ میر بھی بستر پر پڑا تھا۔۔ انہیں عائشہ کے چلے جانے کا بہت غم تھا۔ ان کے کچھ عزیزوں نے ہی کفن دفن کا انتظام کیا۔۔۔
آخرکار وہ وقت بھی آ گیا جب ميت کو دفن کیا جانا تھا۔۔ میر کو جونہی ہوش آیا تو اس نے عدیل شاہ کو پکارا۔۔۔ لیکن کسی کو ہوش ہوتا تو جواب آتا۔۔۔
وہ ابھی چلنے کے قابل نہیں تھا۔۔ اسکے بار بار پکارنے پر کسی نے اندر جھانکا۔۔۔
باہر سے آوازیں کیوں آرہی ہیں اتنی۔۔ ؟؟میرے بابا کہاں ہیں ؟؟
بیٹا عدیل صاحب کی بہو کا انتقال ہو گیا ہے،،، میت کو دفنانے جا رہے ہیں۔۔۔ یہ سن کر میر اونچی آواز میں رونے لگا،، مجھے باہر لے چلو پلیز۔۔۔ بلکتے ہوئے اس نے کہا تو وہ شخص اسے سہارا دے کر میت کے پاس لے گیا۔۔۔
بابا۔۔۔؟؟ میر نے روتے ہوئے پکارا تو عدیل شاہ نے اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔۔۔ بس بیٹا ایسے نہیں روتے،،، میت کو تکلیف ہوگی۔۔۔ اسے چپ کروا کر انہوں نے کسی کو ویر کو بلانے بھیجا۔۔۔
سرخ انگارا آنکھوں اور ملگجے سے حلیے میں ویر آیا تو میت کو کاندھا دے کر اسکی منزل تک پہنچا دیا گیا۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ہان بھائی ۔۔۔۔؟ عین نے اندھیرے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے جہان کو پکارا مگر جواب ندارد۔۔۔
اندازے سے اس نے کمرے کی لائٹ جلائی تو جہان ایک کونے میں زمین پر گھٹنوں میں سر دیا بیٹھا نظر آیا۔۔۔
عین اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔۔ ہان بھائی آپ ایسے کیوں بیٹھے ہیں۔۔۔؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟
عین جاؤ یہاں سے۔۔۔ جہان نے سر اٹھائے بغیر بھاری آواز میں کہا۔۔ اسکی بھاری آواز اس کے رونے کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔
ہان بھائی کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔ پلیز مجھے بتائیں۔۔۔ مجھے بلکل اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ ۔عین نے روہانسی ہو کر جہان کے بازو پر ہاتھ رکھا۔۔
جاؤ یہاں سے تمھیں سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔؟؟ وہ سر اٹھاۓ داڑھا تو عین ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔۔ اسکی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہو رہی تھیں۔۔
جا کیوں نہی رہی نکلو میرے کمرے سے اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش بھی مت کرنا،، گیٹ آؤٹ۔۔۔
عین روتی ہوئی کمرے سے نکلی اور آئمہ سے ٹکرا گئی جو جہان کی آواز سن کر آئی تھیں۔۔
وہ جب سے شادی سے واپس آیا تھا تب سے انہیں وہ عجیب لگا تھا۔۔۔ ان کے پوچھنے پر اس نے تھکاوٹ کا بہانہ بنا دیا لیکن آئمہ کی تسلی نہیں ہوئی۔۔۔ وہ جانتی تھیں ضرور کچھ ہوا ہے۔۔۔
صبح سے وہ کمرے سے نہیں نکلا تھا۔۔ نانو میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے،، پلیز کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔۔ آئمہ اسے ناشتے کا پوچھنے گئیں تو جہان نے سنجیدگی سے کہا۔۔
اسکا موڈ دیکھ کر انہوں نے عین کو بھی اسے تنگ کرنے سے منع کردیا مبادا وہ اسے جھاڑ ہی نہ پلا دے اور یہی ہوا تھا۔۔۔
کیا ہوا عین۔۔؟ تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟
عین پرشکوہ نظروں سے انہیں دیکھتی بھاگتی ہوئی آئمہ اور اپنے مشترکہ کمرے میں چلی گئی۔۔۔
آئمہ پریشانی سے جہان کے کمرے میں داخل ہوئیں جہاں وہ زمین پر اکڑوں بیٹھا آنکھوں میں آنسو لیے ان کا دل چیر گیا۔۔
ہان میرے بچے یہ کیا حال بنایا ہوا ہے تم نے۔۔۔؟ تڑپ کر وہ اسکے پاس ہی زمین پر بیٹھ گئیں اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔
ہان میری جان کچھ بتاؤ تو کیا ہوا ہے،، مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ اپنے لاڈلے بیٹے جیسے نواسے کی ایسی حالت پر انکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔
جہان ان کی گود میں سر رکھ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔۔ آئمہ اسکے گرد ہاتھ پھیلاۓ خود بھی رونے لگیں،، ہان میرا بچہ چپ کر جاؤ۔۔ مجھے بتاؤ کیوں رو رہے ہو۔۔۔
لوکی رو رو پُچھن حال میرا۔۔۔۔!
میں کھڑکھڑ ہساں کی دساں۔۔؟
روتے ہوئے اس نے انا سے ہونے والی گفتگو انہیں بتا دی۔۔ کیوں نانو۔۔۔؟ کیوں، مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا،،، وہ۔۔ وہ کسی اور سے محبّت کرتی ہے،، نانو مجھے سکون نہیں مل رہا۔۔ بہت تکلیف ہورہی ہے ادھر،، سر اٹھا کر اس نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
چھ فٹ سے نکلتا وہ مرد بچوں کی طرح رو رہا تھا۔۔ اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا،،، آئمہ اس کے چہرے کو جا بجا چومنے لگیں۔۔ بس میرا بچہ میں بات کروں گی انا سے۔۔۔ وقار سے بات کروں گی میں۔۔تم اتنی تکلیف نہ دو خود کو۔۔
جہان نے نفی میں سر ہلایا۔۔ آئمہ اسے بیڈ تک لائیں۔۔ جہان انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں اور جھک کر اسکا سر چوما۔۔۔ جہان نے آنکھیں بند كرلیں۔۔ آہستہ آہستہ پرسکون ہوتا وہ انکی گود میں سر رکھے ہی سو گیا۔۔۔
صورتحال یہ کہ زندگی سے بیزار ہوں۔۔!
مسئلہ یہ کہ دن بھی جوانی کے ہیں۔۔۔!
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
انا تین دن سے بخار میں تپ رہی تھی۔۔۔ حنا زندگی میں پہلی دفعہ اس کے لیے پریشان ہوئی تھیں۔۔ وہ بہت کم بیمار ہوتی تھی لیکن ایسا بیمار کبھی نہیں ہوئی تھی۔۔
وہ سوپ لے کر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں۔۔ اب ٹھیک ہو تم۔۔۔؟؟ زیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔۔ حنا کے استفسار پر اس نے نفی میں سے ہلایا اور اور تکیے سے ٹیک لگا کر آہستہ آہستہ سوپ پینے لگی۔۔۔ حنا مطمئن ہو کر چلی گئیں ۔۔
!!۔۔۔ہونے چاہیے کچھ ایسے
لوگ بھی زندگی میں۔۔۔!!
جب ان سے کہا جائے کہ
میں ٹھیک ہوں تو۔۔!
آگے سے جواب آئے کہ
اداکاری بعد میں کرنا پہلے مسئلہ بتاؤ،،۔۔!!
“جب ان سے کہا جائے کہ۔۔!
مجھے فرق نہیں پڑتا
میں بہادر ہوں تو
جواب آئے کہ مجھے پتہ ہے تمہاری بہادری کا
لیکن میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا”
کوئی ہونا چاہیے ۔۔!!
جسکو آنکھوں کو پڑھنا آتا ہو۔!!
کوئی تو ہونا چاہیے جس پر یقین ہو کہ
لڑکھڑانے پر تھام لے گا۔۔!!
“کوئی روح کا ساتھی ہونا چاہیے”
“کوئی تو ایسا ہونا چاہیے”۔۔۔!!
کمرے میں بیٹھی وہ بیزار ہونے لگی تو موبائل پکڑ کر برآمدے کی سیڑھوں میں بیٹھ گئی،، ٹھنڈی ہوا سے اسکے پورے بدن میں کپكپاہٹ دور گئی۔۔
ہوا سے اُڑتے بالوں کو چہرے سے ہٹاتے اس نے Whatsapp کھولا اور میسجز چیک کرنے لگی۔۔ عائزہ کا میسج پڑھ کر وہ عجیب سے انداز میں مسکرائی۔۔ وہ اسے سب کچھ بھول کر موو آن کرنے کا مشورہ دے رہی تھی۔۔
“جسٹ بی سٹرونگ اینڈ موو آن” یہ اس نے بہت سے لوگوں کے منہ سے سنا تھا موو آن انا موو آن،، کم آن ۔۔۔ کتنا آسان ہے کہنا،، ارے ایک بار اس سے تو پوچھیں جو کر رہا ہے “دل سے دماغ تک کا سفر “دل کہتا ہے اتنا کیا ،، دماغ کہتا ہے ارے چھوڑ۔۔ کتنا مشکل ہوتا ہے آنسوؤں کو چھپانا۔۔ یہ جو گلا بھرا باہر آنے کو بیتاب رہتا ہے لیکن کتنی آسانی سے ہم سہہ جاتے ہیں۔۔ یہ دن رات شام گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ یہ جو موو آن ہے،، ہوتا نہیں ہے،، کروانا پڑتا ہے اپنے آپ سے۔۔۔۔
تلخی سے مسکرا کر اس نے سر جھٹکا۔۔ وہ تو پہلے جیسا ہی ہوگا۔۔ زندگی سے بھرپور، میری زندگی اجاڑ کر ایسا مطمئن۔۔ پتہ نہیں کون کہتا ہے کہ محبّت ایک خوشنما احساس ہے یہ تو محض کرب کا دوسرا نام ہے۔۔
محبّت صرف ان کے لیے ایک خوبصورت احساس ہے جن کو یہ مل جاتی ہے۔۔۔ اور ویسے بھی نامحرم سے محبّت ہمیشہ تکلیف دیتی ہے۔ اپنی ہی نظروں میں رسوا کر دیتی ہے۔۔ اسی لیے اللّه تعالیٰ نے اپنے نفسوں اور نظروں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔۔۔ وہ اپنے آپ سے مخاطب ارد گرد سے بےخبر ہو گئی۔۔
اور انا تمیں پتہ ہے کہ۔۔۔۔۔
اللّه جانتا ہے کہ وہ شخص میرے حق میں ٹھیک نہیں تھا لیکن تمھیں اس سے اتنا لگاؤ تھا کہ تم اپنے آپ کو اس سے الگ نہیں کر پا رہی تھی تو اللّه نے اس کے ذریعے تمھیں تکلیف پہنچائی تا کہ تم خود ہی اس سے دور ہو جاؤ۔۔ اللّه تمھیں سزا نہیں دے رہا بلکہ بچا رہا ہے،، اس نے تم پر احسان کیا ہے اور اب تمھیں بہترین کے لیے تیار کر رہا ہے ۔۔
“اور يقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے سے بہتر ہے”
[And The Hereafter Is Better For You than The First (life)~• QURAN 93:4 ]
🌿🌿🌿🌿🌿🌿🌿
ویر خاموش سا اپنے کمرے میں لیٹا تھا۔۔ عدیل شاہ راحم کو اٹھاۓ اس کے کمرے میں آۓ۔۔ ویر؟؟ اس کے بیڈ کے کنارے بیٹھ کر انہوں نے پکارا تو ویر نے خالی نظروں سے انہیں دیکھا اور پھر دیوار کو تکنے لگا۔۔
عدیل شاہ نے ویر کے بال سنوارے اور جھک کر اسکا ماتھا چوما۔۔ ویر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔یہی اللّه کی مرضی تھی۔۔
مجھے عائشہ سے محبت نہیں ہوئی،، میں نے بہت کوشش کی تھی۔۔
ویر نے آہستہ سے کہا تو عدیل شاہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگے۔۔
لیکن مجھے اسکی عادت ہو گئی ہے،، اب میں اسکے بغیر کیسے رہوں گا۔۔؟
اسکی اداس نظریں اب تک دیوار پر مركوز تھیں۔۔
عدیل شاہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔ جانے والے چلے جاتے ہیں ویر۔۔ روکنے سے بھی نہیں رکتے۔۔ انسان کو جانے والوں کے پیچھے ان لوگوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جو انکی زندگی میں موجود ہیں۔۔ ان کا اشارہ راحم کی طرف تھا۔۔
ہر زخم اپنے وقت پر بھر جاتا ہے۔۔ تم سب میں اٹھو بیٹھو۔۔ راحم کا خیال رکھو۔۔ اس طرح درد ختم نہیں ہوتا لیکن توجہ ضرور بٹ جاتی ہے۔۔
یہ لو اب اپنے بیٹے کو خود سنبهالو ۔۔ آیا کو میں نے فارغ کر دیا ہے۔۔ بہت دن کمرے میں رہ لیا۔۔ میر کو بھی دیکھنے نہیں آئے تم۔۔ اس کا کیا قصور اس سب میں۔۔۔ چلو شاباش فریش ہو کے آجاؤ نیچے۔۔ راحم کو وہیں لِٹا کر وہ چلے گئے۔۔
ویر نے ایک نظر اپنے گول مٹول بیٹے پر ڈالی۔۔ جھک کر اسکے دونوں گال چومے تو وہ کھلکھلا دیا۔۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔احتیاط سے اسے بیڈ کے درمیان میں لِٹا کر اس کے گرد تکیے رکھ دیے اور خود شاور لینے چلا گیا۔۔۔
🌿🌿🌿🌿🌿🌿
عین اداس سی لان میں بیٹھی تھی۔۔ وہ لوگوں سے بہت توقعات نہیں رکھتی تھی۔۔ وہ لوگوں سے فاصلے پر رہنے والی سنجیده سی لڑکی تھی جس نے کم عمری میں ہی بہت کچھ سہہ لیا تھا۔۔
کل جہان نے جس طرح اسے ڈانٹا تھا اس کا دل بہت دکھا تھا۔۔ مجھے ان سے اتنی توقعات ہی نہیں رکھنی چاہیے تھیں۔ گال پر پهسلتے آنسو کو صاف کرتے اس نے اداسی سے سوچا۔۔
آہٹ محسوس کر کے اس نے جھکا سر اٹھایا تو جہان کان پکڑے اس کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھا تھا۔۔ سوری،،، چاکلیٹ اسکی طرف بڑھاتے اس نے معصومیت سے کہا۔۔۔
عین کی آنکھوں میں پھر سے آنسو جمع ہوگئے۔۔ سوری عین! اب کی بار اس نے ایک ٹیڈی بیئر اس کی طرف بڑھایا۔۔ عین نے صرف ایک نظر دیکھا اور نظروں کا زاويہ بدل لیا۔۔
سوری یار مجھے پتہ ہے کہ بہت برا ہوں میں لیکن اتنا بھی برا نہیں کہ تم مجھ سے بات ہی نہ کرو۔۔ جہان نے اداس مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو عین اس سے مزید ناراض نہ رہ سکی۔۔
آپ نے مجھ پر شاؤٹ کیا،،، ادھر سے شکوہ آیا۔۔
آئی ایم سوری،،، کان پکڑتے جواب آیا۔۔
میں اتنا ہرٹ ہوئی،،، پھر شکوہ ہوا۔۔۔
سوری بھائی کی جان آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔
پکا ؟؟ سوال ہوا۔۔
پکا ۔۔۔۔۔ جہان کی یقین دہانی پر وہ مسکرا دی۔۔